Tuesday, November 24, 2020
Home Urdu Short Stories Mera Naam o Nishan Mile | Episode 14

Mera Naam o Nishan Mile | Episode 14

شہزاد اور دلاور مسلسل دارم سے رابطے ميں تھے۔
کچھ دير پہلے دارم نے فون کرکے بتايا تھا کہ وہ وليہ کی بازيابی کے لئے شمس کے فارم ہاؤس پہنچ چکے ہيں۔
“اسی لئے اس کی جلدی جلدی شادی کا بندوبست کررہی تھی۔ مگر يہ فرعون ہم جيسوں کو انسان نہيں کيڑے مکوڑے سمجھتے ہيں” يمنہ کے ساتھ لگی سائرہ مسلسل رو رہی تھيں۔
“آپا کو کچھ نہيں ہوگا اماں آپ پريشان نہ ہوں” يمنہ کا خود رو رو کر برا حال تھا۔
اسی اثناء ميں شہزاد کا فون بجا۔
“جی سر۔۔کيا۔۔ اوہ اللہ تيرا شکر ہے۔ ہم۔۔ ميں اور دلاور ابھی آرہے ہيں۔” شہزاد کی آواز ميں خوشی جھلکی تھی۔
“آپا مل گئيں ہيں۔ ابھی بے ہوش ہيں۔ سر انہيں لے کر ہاسپٹل گۓ ہيں۔ دلاور چلو۔۔ سر نے بلايا ہے” شہزاد فون بند کرکے عجلت ميں انہيں بتاتا ہوا۔ دلاور کو لئے بائيک کی چابی اٹھا کر دروازے کی جانب بڑھا۔
“اللہ تيرا شکر۔۔ ميری بچی ٹھيک ہو اب۔۔ اے اللہ اسکی عصمت محفوظ ہو” سائرہ آسمان کی جانب ديکھے مسلسل گرہ وزاری کر رہی تھيں۔
____________________
ہاسپٹل کے احاطے ميں گاڑی روکتے وہ اپنی جانب کا دروازہ کھول کر تيزی سے وليہ کی جانب آيا۔ اسے بازوؤں ميں اٹھاۓ وہ اندر کی جانب بھاگا۔
اس ہاسپٹل کی انتظاميہ اسے صدف کے حوالے سے بہت اچھی طرح جانتی تھی۔
“سر خيريت” ايک نرس اسے يوں ايک لڑکی کو اٹھاۓ بھاگ کر آتے ديکھ کر پوچھنے لگی۔
“ايمرجنسی کيس” دارم نے اسکی بات کا مختصر جواب ديا۔
“رکيے سر ميں اسٹريچر لاتی ہوں۔” وہ بھاگتی ہوئ ايک جانب سے اسٹريچر گھسيٹ لائ۔
“سر آپکی گاڑی کھلی ہے آپ بند کرکے آجائيے۔ ميں انہيں لے جاتی ہوں۔” اس نے فورا وہاں موجود وارڈ بوائز کو آواز لگا کر بلايا۔ دارم احتياط سے اسے اسٹريچر پر ڈال کر باہر کی جانب گيا۔ اسے وليہ کے علاوہ اس وقت کسی چيز کا ہوش نہيں تھا۔
گاڑی لاک کرکے وہ تيزی سے ايمرجنسی کی جانب بڑھا۔ جہاں ڈاکٹرز پہلے سے ہی وليہ کو چيک کرنے پہنچ چکے تھے۔
“خيريت بيٹا۔۔ يہ کون ہيں؟” ايک ڈاکٹر ايمرجنسی سے باہر آتے ہوۓ بولا۔
“سر ميری کزن ہيں۔کيسی طبيعت ہے۔۔ کيا ہوا ہے انہيں” دارم کو سمجھ نہيں آئ کہ کيا پوچھے۔
“يہ تو آپ مجھے بتائيں کے انہيں کيا ہوا ہے۔ انکی ايک بازو سے آستين کا کپڑا پھٹا ہوا ہے اور وہاں انگليوں کے نشان ہيں جيسے کسی نے تشدد کيا ہے” وہ دارم کو مشکوک نظروں سے ديکھ رہے تھے۔
“سر کچھ غلط لوگ انکے پيچھے پڑے تھے۔ بس انہيں سے بچا کر لايا ہوں” دارم نے نظريں جھکاۓ بات بنائ۔ وہ اسکی عزت پر اس سے زيادہ آنچ نہيں آنے دے سکتا تھا۔
“اوہ اللہ رحم کرے۔ بس بچی اسی ٹينشن کی وجہ سے بے ہوش ہوئ ہے۔ ميں نے سکون آور انجکشن لگا ديا ہے اسٹريس کم ہوگا تو تھوڑی دير مين ہوش ميں آجائيں گی” اسکی بات سن کر انکے چہرے کے تاثرات بہتر ہوۓ۔
“جی شکريہ” دارم ان سے ہاتھ ملايا۔
“آپ انہيں روم ميں شفٹ کرديں تو بہتر نہيں ہوگا” اسکی بات پر وہ سر اثبات ميں ہلا کر وليہ کو روم ميں شفٹ کروانے کا بندوبست کرنے لگے۔
دارم باہر ہی کھڑا تھا۔ دائيں جانب نظر کی تو دلاور اور شہزاد اپنی جانب آتے ہوۓ دکھائ دئيے۔
“کيسی ہيں آپا؟”دلاور نے اس سے ہاتھ ملاتے ہی تفکر سے پوچھا۔
“الحمداللہ بالکل ٹھيک ہيں۔ بس اسٹريس کی وجہ سے بے ہوش ہوگئيں تھيں۔” دارم نے دونوں کو تسلی دی۔
“وہ خبيث پکڑا گيا ہے؟” شہزاد نے جبڑے بھينچ کر کہا۔
“ہاں بروقت ہم پہنچ گۓ تھے۔ اسے حراست ميں لے ليا گيا ہے” دارم کی بات پر دونوں نے سکھ کا سانس ليا۔
“ايکسکيوزمی سر آپکی پيشنٹ کو روم ميں شفٹ کرديا ہے آپ لوگ وہاں جاسکتے ہيں”ايک نرس نے انکے قريب آتے دھيمے لہجے ميں کہا۔
“شکريہ” تينوں تيزی سے بڑھے۔ دلاور آگے تھا۔ شہزاد نے يکدم دارم کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے رکنے کا اشارہ کيا۔
“سر آپ سے کچھ بات کرنی ہے” شہزاد کی بات پر اس نے الجھ کر شہزاد کے پريشان چہرے کی جانب ديکھا۔
______________________________
“ہيلو صدف کيسی ہو؟” فون اٹھاتے ہی ڈاکٹر مبشرہ کی آواز دوسری جانب سے سنائ دی۔
“ہاں ميں بالکل ٹھيک تم سناؤ۔۔ آجکل کہاں بزی ہو” وہ خوشگوار لہجے ميں بوليں۔
“بس يار ہاسپٹل۔۔ اور ہاسپٹل سے گھر اور کيا مصروفيت ہونی ہے” وہ ابھی بھی مصروف سے ہی انداز ميں بوليں۔
“اچھا ميں نے ايک بات پوچھنی تھی” وہ رازدارانہ لہجے ميں بولی۔
“ہاں ہاں پوچھو” صدف نے بھی فورا ہامی بھری۔
“دارم اس وقت کہاں ہے؟” انکے سوال پر وہ يکدم چونکيں۔
“آفس ميں ہی ہوتا ہے کيوں خيريت؟”
“آفس ميں تو نہيں ہمارے ہاسپٹل ميں ہے۔ کسی لڑکی کو لے کر آيا ہے۔ لڑکی کی حالت بہت بکھری ہوئ سی تھی۔۔ تم۔۔ تم سمجھ رہی ہونا” مبشرہ نے جتنا سرسری انداز اپنايا تھا وہ چاہنے کے باوجود سرسری ہر گز نہيں تھا۔
“کيا مطلب۔۔ کيا کہنا چاہ رہی ہو تم۔۔ اور دارم تمہارے ہاسپٹل مين۔۔ نہيں نہيں تمہيں کوئ غلط فہمی ہوئ ہوگی” صدف الجھ کر رہ گئيں تھيں۔ پھر مبشرہ کو جھٹلايا۔
“خير ہے تو وہ دارم ہی۔ ميں تمہيں لڑکی کی تصوير بھيجتی ہوں۔ جوان لڑکا ہے دھيان رکھا کرو” وہ تو مزے سے تيلی لگا کر فون بند کرگئيں اور صدف حيران پريشان فون ہاتھ ميں لئے بيٹھی رہ گئيں۔
کچھ دير بعد واٹس ايپ پر جس لڑکی کی تصوير آئ وہ وليہ تھی۔ ہاسپٹل کے بيڈ پر وہ بے ہوش پڑی تھی۔ صدف بے يقين نظروں سے تصوير کو ديکھ رہی تھيں۔
“آپ کب آئيں؟” ياور اسثڈی روم سے نکل کر لاؤنج ميں آۓ جہاں صدف موبائل ہاتھ ميں لئے بے يقين نظروں سے کچھ ديکھ رہی تھيں۔
“صدف کيا ہوا ہے؟” انکے برابر بيٹھتے انہوں نے زور سے کہا۔
صدف نے چونک کر ياور کو ديکھا پھر موبائل کا رخ ياور کی جانب کيا۔
ياور نے ايک نظر موبائل کی جانب ديکھا جہاں وليہ کی تصوير تھی۔ يکدم وہ لب بھينچ گۓ۔ صدف نے بڑے غور سے انکے تاثرات ديکھے۔
“لگتا ہے کہ اس تصوير کے پيچھے چھپی کہانی سے آپ اچھی طرح واقف ہيں” صدف کے طنز پر وہ لب کاٹنے لگے۔
“آپ مصروف تھيں اسی لئے ميں آپ کو بتا نہيں سکا۔۔۔۔۔۔” اور پھر ياور نے سب بات انہيں کہہ سنائ سواۓ اس کے کہ دارم اسے پسند کرتا ہے۔
“تو دارم وہاں کيا کررہا ہے۔ پوليس کيس تھا تو پوليس ہينڈل کرتی” وہ چٹخ کر بوليں۔
“صدف کيا ہوگيا ہے۔ ہم اس بچی کو جانتے ہيں اسی لئے دارم اسکی مدد کے لئے پہنچا۔” صدف کی بات پر انہوں نے بمشکل اپنا لہجہ ہموار رکھا۔
“يہ صرف مدد ہے يا کچھ اور۔۔” انکی بات پر ايک بار پھر ياور کا چہرہ متغير ہوا۔
“ميری اطلاع کے مطابق صرف مدد ہے” انہوں نے بھی متوازن لہجہ اپنا کر جواب ديا۔
“يہ مدد ہی ہونی چاہئے” وہ ايک ايک لفظ پر زور دے کر بوليں۔ سائيڈ والے صوفے پہ موجود اپنا بيگ اٹھايا اور غصے سے اٹھ کر کمرے کی جانب بڑھيں۔
دارم نے انہيں سختی سے منع کيا ہوا تھا کہ صدف کو دارم کی وليہ کے لئے پسنديدگی کی رتی بھر بھی خبر نہ ملے۔
_____________________
جس لمحے اسے ہوش آيا شہزاد۔ دلاور اور دارم تينوں اسکے پاس موجود تھے۔ آنکھيں کھول کر انہيں ديکھتے۔ اس نے اٹھنے کی کوشش کی۔
“کيسی طبيعت ہے آپا” دلاور يکدم اسے اٹھتا ديکھ کر اسکے قريب آيا۔ وليہ نے تينوں سے نظريں چرائيں۔ اپنی چادرکو کھينچ کر کچھ اور اپنے گرد لپيٹا۔
“ٹھ۔۔ ٹھيک ہوں” دارم نے اسے نظريں چراتے ديکھ کر بڑی مشکل سے خود پر ضبط کيا۔
“مجھے گھر جانا ہے” وہ ٹانگيں لٹکا کر بيڈ پر بيٹھی۔
“پہلے ڈاکٹر کو چيک کرنے ديں۔ اگر آپ بالکل ٹھيک ہيں تو ہم گھر چلتے ہيں” دارم نے اسکے ارادے بھانپ کر فورا شہزاد کو اشارہ کيا جو ڈاکٹر کو بلانے بھاگا۔
وليہ نے اسکی بات پر کوئ جواب نہيں ديا۔ اس دارم سے شديد جھجھک محسوس ہورہی تھی۔ اپنی کچھ دير پہلے کی متوحش حالت ياد آئ جب وہ اسکے بازوؤں کے گھيرے ميں بکھری ہوئ تھی اور وہ اسے سميٹ رہا تھا۔
تھوڑی ہی دير ميں ڈاکٹر مبشرہ اندر آئيں۔ اسے اچھے سے چيک کيا۔
“آپ اپنا ٹيسٹ کروانا چاہئيں گی؟” انہيں ڈاکٹر ساجد نے وہی کہانی بتائ تھی جو دارم نے انہيں وليہ کے بارے ميں بتائ تھی۔
“کس بات کا ٹيسٹ؟” اس نے الجھ کر انکی جانب ديکھا۔
“ديکھو بيٹا ميں ڈاکٹر ہوں۔ اور جس حالت ميں آپ يہاں آئ تھی۔ شايد آپکے ساتھ زيادتی۔۔۔۔” انہوں نے بات ادھوری چھوڑی۔ دلاور۔۔ دارم اور شہزاد کی موجودگی ميں انکی اس بات کو سن کر اس کا دل کيا زمين پھٹے اور وہ اس ميں سما جاۓ۔
شہزاد اور دلاور نے يکدم نظريں چرائيں۔
“ايکسکيوزمی آنٹی۔ ميری پيشنٹ اس وقت ٹھيک نہيں ہيں۔ بہتر ہے کہ آپ سب چيزيں کلئير کروا ديں۔ ہم بہتر جانتے ہيں کہ کيا کروانا ہے اور کيا نہيں” دارم نے ان کی اس گھٹيا بات پر اپنے غصے کو بمشکل قابو کيا۔ وہ اسکی ماں کی دوست نہ ہوتيں تو وہ اچھی طرح انہيں سبق سکھاتا۔
“اور ايک بات اور۔۔۔ کوشش کريں کہ ڈاکٹری کے ساتھ انسانيت کی ٹريننگ بھی سيکھيں۔۔ تاکہ آپ کو معلوم ہو کہ اپنے پيشنٹ کو تکليف دہ لمحوں سے نکالنا کيسے ہے؟” دارم کے ٹہرے سرد لہجے پر وہ چپ کی چپ رہ گئيں پھر تيزی سے باہر نکليں۔
“شہزاد يہ چابی پکڑو۔ انہيں گاڑی ميں بٹھاؤ ميں بل کلئير کرکے آرہا ہوں” دارم نے فورا وليہ کو وہاں سے ہٹايا۔ اس کا زرد پڑتا چہرہ اس سے چھپا نہيں رہ سکا تھا۔ دلاور اور شہزاد کے سامنے وہ اس سے زيادہ فی الحال اسے حوصلہ اور تسلی نہيں دے سکتا تھا۔
________________________
تمام راستہ وہ سب خاموش ہی رہے۔۔ شہزاد دارم کے برابر بيٹھا تھا جبکہ دلاور وليہ کے ساتھ پيچھے موجود تھا۔
اسکے گھر کے سامنے گاڑی رکی۔ وہ تينوں وليہ کے ہمراہ گھر کے دروازے پر کھڑے تھے۔
شہزاد نے زور سے گيٹ بجايا۔
يمنہ نے جلدی سے دروازہ کھولا۔
دلاور نے وليہ کو ہاتھ کے اشارے سے اندر داخل ہونے کا کہا۔
جيسے ہی وہ اندر آئ ۔۔ سائرہ بھاگ کر اسکے پاس آئيں۔ محبت سے اسکے ايک ايک نقش کو چھو کر ديکھا اسے ساتھ لگاۓ بھينچا۔۔۔
“شکر اللہ کا ميری بچی واپس آگئ” وہ شدت گريہ سے رو رو کر بے حال ہوگئيں۔
“خالہ اندر چليں۔ سر آپ آئيے” دلاور نے ان دونوں کو پکڑ کر اندر کی جانب کيا اور مڑ کر دروازے ميں ايستادہ دارم کو ديکھ کر اندر آنے کا اشارہ کيا۔
“السلام عليکم” دارم نے اندر داخل ہوتے سائرہ کو سلام کيا۔
“وعليکم سلام۔ بيٹے بہت بہت شکريہ۔۔ تم نے آج ہماری بہت مدد کی” سائرہ اسکے سر پر محبت سے ہاتھ پھيرتیيں۔ اسے لئے بيٹھک والے کمرے ميں آئيں۔
يمنہ وليہ کو لئے دوسرے کمرے ميں جاچکی تھی۔
“بيٹا ميں کس منہ سے آپکا شکريہ ادا کروں” سائرہ نم آنکھوں سے اسے ديکھ کر بوليں جو نظريں نيچے کئے انکے سامنے والے صوفے پر براجمان تھا۔
“پليز آنٹی۔ آپ بار بار ايسے مت کہيں۔ ان شاءاللہ مجرم جلد ہی کيفر کردار تک پہنچے گا۔ ميں نے آپ کے گھر کے باہر مزيد سيکيورٹی بڑھا دی ہے۔ اول تو اب کوئ خطرہ نہيں ہوگا۔ اگر پھر بھی کوئ پريشانی والی بات ہو آپ پليز مجھے فورا کال کيجئے گا” دارم نے سہولت سے انہيں سمجھايا۔
“ميں اب چلتا ہوں۔ ايک دو دن تک ڈيڈی کے ساتھ آؤں گا” دارم کی بات پر انہوں نے کچھ چونک کر اسکی جانب ديکھا۔ کيا يہ کسی بات کا عنديہ تھا۔
“آپ۔۔ پليز وليہ کا خيال رکھئے گا۔ اور پليز ان سے فی الحال کسی قسم کی پوچھ گچھ مت کيجئے گا۔ ابھی انہيں نارمل ہونے ديں” دارم کی بات پر پھر سے وہ چونکی۔ وليہ کے ذکر پر اسکی آنکھوں ميں کيا کچھ نہيں تھا۔ انہيں احساس ہوا۔ انہوں نے وليہ کے ساتھ زيادتی کر دی ہے۔
“جی بيٹا۔” وہ بس اتنا ہی کہہ سکيں۔
“شہزاد اور دلاور۔۔ يار پليز تم لوگ ان کا خيال رکھنا۔ ميں بھی آتا جاتا رہوں گا” دارم کہتے ساتھ ہی اٹھ کھڑا ہوا۔
“آپ تھوڑی دير بيٹھتے بيٹا” اسے اٹھتے ديکھ کر وہ بوليں۔
“پھر ان شاءاللہ” کہتے ساتھ ہی وہ انکے آگے جھکا۔ سائرہ نے مجبت سے اس کا يہ انداز ديکھا اسکے سر پر پيار ديا۔
ان کے دل سے اس لمحے دارم کے لئے جو کدورتيں تھيں وہ زائل ہونے لگيں۔
ان کی بربادی کا سبب انہيں وہ نفيس شخص بالکل نہ لگا۔ نجانے کس بد بخت نے وہ فون کيا تھا جہاں سے وليہ کی بربادی شروع ہوئ تھی۔
وہ بس سوچ کر رہ گئيں
___________________________
جس لمحے وہ گھر آيا ياور اور صدف دونوں لاؤنج ميں موجود تھے۔ انکے درميان خاموشی دیکھ کر دارم کو کچھ انہونی کا احساس ہوا۔
“السلام عليکم” وہ ذہنی طور پر اس وقت اتنا منتشر تھا کہ لہجے ميں خوشگواريت نہيں لا سکا۔
“وعليکم سلام۔۔ تو تم نے بھی سوشل ورک شروع کرديا ہے”صدف کے کاٹ دار لہجے پر اس نے الجھی نظروں سے ماں کو اور پھر سواليہ نظروں سے باپ کو ديکھا۔
“صدف ۔۔ يہ طريقہ نہيں بات کرنے کا” انہوں نے بيوی کو ٹوکا۔
“آپ ايک منٹ چپ رہيں۔۔۔کيوں تم اس لڑکی کی اس قدر مدد کرتے پھر رہے ہو۔ پوچھ سکتی ہوں ميں” انکی بات سنتے وہ خاموش ہی رہا۔ انکے سامنے موجود صوفے پر دھپ سے بيٹھتے اس نے سر صوفے کی پشت سے ٹکايا۔
“نہيں ميں نے سوشل ورک شروع نہيں کيا۔” اب کی بار وہ سيدھا ہوا اور ماں کی غصے سے گھورتی آنکھوں کو ديکھ کر بولا۔
“تو پھر؟” وہ تڑخ کر بوليں۔
“پھر يہ کہ مجھے وليہ سے شادی کرنی ہے۔ ” اس نے تو بڑے آرام سے اپنی خواہش کا اظہار کيا تھا مگر صدف کو لگا اس نے کوئ بم پھوڑا ہے۔
“دماغ خراب ہے تمہارا” اب کی بار وہ غصے سے چلائيں۔
“کيوں شادی کرنے سے دماغ خراب ہوتا ہے” دارم ٹھنڈے لہجے ميں بولا۔ ياور اسے فون کرکے ڈاکٹر مبشرہ والا معاملہ بتا چکے تھے۔ اسی لئے وہ ذہنی طور پر خود کو صدف کے سوالوں کے جواب کے لئے تيار کرکے آيا تھا۔
“ديکھو بيٹا يہ کوئ کھيل تماشا نہيں ہے” اب کی بار ان کا لہجہ دھيمہ ہوا۔
“تو مين نے کب کہا ہے کہ شادی کھيل تماشا ہے۔ ميں بالکل سنجيدہ ہوں۔ اور بہت پہلے سے وليہ کو پسند کرتا ہوں۔ ميرے خیال ميں ايک سوشل ورکر کی حيثيت سے آپ کو خوش ہونا چاہئيے کہ آپ کا بيٹا اتنا نيک کام کررہا ہے” وہ بڑے تحمل سے ان کے ايک ايک سوال کا جواب دے رہا تھا۔
“ہاں ميں سوشل ورکر ہوں مگر اس کا يہ مطلب ہر گز نہيں کہ ايک ايسی لڑکی کو بہو بنا کر لے آؤں جو کسی کی زيادتی کا شکار ہو” انکی بات پر دارم نے مٹھياں بھينچيں۔۔
“اس کے ساتھ ايسا کچھ نہيں ہوا۔ بالفرض۔۔ خدا نہ کرے ہو بھی جاتا ميں تب بھی اسی سے شادی کرتا” اس نے اٹل لہجے ميں کہا۔
“تم پاگل ہوگۓ ہو۔۔ يہ بات تمہيں اس نے بتائ اور تم نے يقين کرليا” وہ درشت لہجے ميں بولتيں يکدم اپنی جگہ سے کھڑی ہوئيں۔ دارم بھی انکے سامنے کھڑا ہوگيا۔
“جی بالکل ويسے ہی جيسے صارم نے ايک غير مذہب کی لڑکی کو پسند کرکے شادی کی۔۔ اس نے کہا کہ وہ لڑکی اچھی ہے اور آپ نے بنا ديکھے يقين کرليا کہ وہ اچھی ہے۔ کيا تب آپ نے چھان بين کروائ کہ وہ کيسی ہے۔۔ وہاں کا تو معاشرہ ايسا ہے جہاں شادی ريليشن شپ کی ترجيحات ميں سب سے آخر ميں آتی ہے۔ وہاں تو بچے بھی شادی سے پہلے ہو جاتے ہيں۔ کيا تب آپ کو فکر نہيں ہوئ کہ آپ کے بيٹے سے پہلے وہ کس کس سے يہ تعلق بنا چکی ہے” دارم کے سرد لہجے پر صدف کا يکدم ہاتھ اٹھ گيا۔
“شٹ اپ”
“صدف”ياور غصے سے کھڑے ہوتے چلاۓ۔
“مجھے آپ ايسے ہزاروں تھپڑ مار ليں مجھے افسوس نہيں ہوگا۔ مگر آپ کے ڈبل اسٹينڈرڈ پہ بہت افسوس ہے۔ وہ غريب ہے اسکے ساتھ کسی نے اسکی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر کيا اسی لئے اس ميں آپ کو ہزاروں عيب نظر آگۓ۔ صارم کی بيوی امير تھی۔ اسی لئے وہ آپ کو بے عيب لگی۔ ممی آپ يہ سوشل ورک چھوڑ ديں۔ کيونکہ آپ بھی ويسی ہی سوشل ورکر ہيں جيسی اور عورتيں ہيں۔ ڈرائينگ رومز ميں بيٹھ کر زيادتی کا شکار ہونے والی لڑکيون کے لئے تو آپ لوگ سارا سارا دن بول سکتی ہيں۔ مگر انہيں اپنا نہيں سکتيں” دارم کے ٹوٹے بکھرے لہجے پر وہ لب بھينچ گئيں۔
“ڈيڈی آپ کو کوئ اعتراض” اب کی بار اس نے ياور کی جانب ديکھا۔ اسکی ويران آنکھيں ديکھ کر انہيں لگا ان کا دل کسی نے بڑی زور سے جکڑا ہے۔
“نہيں بيثے۔ نہ مجھے کل اعتراض تھا نہ آج ہے۔ ميں کل تمہارے ساتھ ان کے گھر جاؤن گا”انہوں نے اپنی رضامندی دی۔
“تمہيں کل چلنا ہوگا تو چلی چلنا۔ ورنہ تمہارے بغير بھی ميں اس کا نکاح کروا کر اپنی بچی کو گھر لے آؤں گا” ياور نے اپنا فيصلہ سنايا۔
صدف کوئ بھی جواب دئيے بنا کمرے کی جانب بڑھ گئيں۔
“تم دل چھوٹا مت کرو۔۔ ديکھو دارم ہم نے اپنی زندگياں گزار ليں ہيں۔ اور مجھے ايسے ماں باپ بہت برے لگتے ہيں جو اولاد پر اپنی مرضی تھوپتے ہيں۔ ميں نے کبھی ايسا نہيں کيا اور نہ کبھی کروں گا۔ تمہاری خوشی کے لئے جس حد تک جانا ہوا ميں جاؤں گا۔ اور جہاں تک بات تمہاری ماں کی ہے۔ تو يہی کہوں گا۔ ہم زندگی مين ہر کسی کو خوش نہيں کرسکتے۔ نہ ہم اسی لئے دنيا ميں آئے ہيں۔ اسکی بے وقوفی کو ميں بالکل بھی يہ کہہ کر جسٹيفائ نہيں کروں گا کہ وہ تمہاری ماں ہے تو اسکی بات ماننا تم پر فرض ہے۔ نہيں بيٹے۔ وہ غلط کر رہی ہے اور اس غلطی ميں ميں اس کا ساتھ دے کر تمہارے ساتھ زيادتی نہيں کروں گا۔
صرف اولاد کو ہی ماں باپ کے حوالے سے اللہ کے سامنے جواب دہ نہيں ہونا ہوگا۔ ہم والدين کو بھی جواب دہ ہونا پڑے گا۔ ہم کل ہی وليہ کے گھر جائيں گے۔
اب تم جا کر آرام کرو” وہ ہميشہ اسے ايسے ہی سميٹ لیتے تھے۔ وہ يکدم انکے گلے لگا۔
تھينک يوڈيڈي” محبت سے انہيں خود سے بھينچا۔
“اينی ٹائم مائ ڈئير” انہوں نے بھی اسی محبت بھرے انداز ميں اسے جواب ديا۔