Saturday, August 8, 2020
Home Urdu Short Stories Mera Naam o Nishan Mile | Episode 15

Mera Naam o Nishan Mile | Episode 15

“اگر وہ شخص حوالات سے باہر آيا۔ تو صفی يہ جان لينا کے ميں پھر کسی بھی قانون کو کچھ نہيں سمجھوں گا۔ اسکے سينے ميں گولياں ميں خود اتاروں گا” رات کے پہر اپنے کمرے کی بالکونی ميں کھڑا وہ صفی سے فون پر بات کررہا تھا۔
“تم فکر مت کرو۔ اسکے خلاف اتنے کيسيز کھول دئيے ہيں کہ وہ کسی صورت باہر آہ ہی نہيں سکتا۔ ليکن اسے ہاسپٹل صرف اسی لئے رکھا ہے کہ اس کا ٹريٹمنٹ ہو رہا ہے۔” صفی کی بات پر وہ بس ہنکارا بن کر رہ گيا۔
“ويسے ايک بات ہے بھابھی بہت جلالی ہيں۔ اب تو بچ کر رہنا” اس کا موڈ بحال کرنے کے لئے صفی نے خوشگوار سا مذاق کيا۔ وليہ کا ذکر سنتے ہی اسکے ہونٹوں پر مسکراہٹ دوڑ گئ۔
“عورت کو اتنا ہی نڈر ہونا چاہئيے۔ اس کی يہی بہادری مجھے پسند ہے۔ وہ کسی حال ميں کم ہی خوفزدہ ہوتی ہے۔” دارم کا موڈ واقعی بدل چکا تھا۔
“بہت بری طرح شمس کا چہرہ بگڑا ہے” صفی کچھ دير پہلے ہی اس ديکھ کر آيا تھا۔ اسکے چہرے کی بگڑی حالت ياد کرکے وہ جھرجھری لے کر رہ گيا۔
“ايسوں کے ساتھ اس سے بھی برا ہونا چاہئيے” دارم دانت بھينچ کر بولا۔
“بے شک۔۔ پھر ميں کل آپ کا گواہ بن کر آسکتا ہوں”دارم اسے نکاح کے بارے ميں بتا چکا تھا۔
“جی جناب۔۔ آپ کی کل بھی مجھے اشد ضرورت ہے” دارم خوشگوار لہجے ميں بولا۔
“تو ہميشہ ہم سب کے لئے انسپريشن ہی رہا ہے۔ اب بھی نمبر لے گيا ہے” صفی کے لہجے مين اسکے لئے فخر اور محبت تھی۔
“اچھا اب بس۔۔۔ مجھے ساتويں آسمان پر بٹھانے کی ضرورت نہيں۔۔” وہ ہنس پڑا اسے کيا بتاتا وليہ اسکے لئے کيا تھی۔
“آنٹی کا موڈ ٹھيک ہوا ہے؟” اس نے تشويش سے پوچھا۔
“نہيں ليکن مجھے اميد ہے ٹھيک ہو جائيں گيں” اس کے لہجے ميں اميد تھی۔
“ان شاءاللہ۔ چل ملتے ہيں پھر کل شام کو” صفی نے الوداعيہ کلمات کہہ کر فون بند کرديا۔
ابھی وہ اندر جانے کا سوچ ہی رہا تھا کہ ايک بار پھر فون گنگنايا۔
آنے والی کال ديکھ کر اس کے چہرے پر بڑی خفيف سی مسکراہٹ بکھری۔
“ميں تو اميد کررہا تھا آپ کی جانب سے کال کل ہی آجاۓ گی۔ ليکن اچھا لگا آپ نے ايک پورا دن اس بارے ميں سوچا” دارم کا لہجہ بشاش تھا۔
“آپ کل نہيں آئيں گے” دوسری جانب سے کہے جانے الفاظ پر اب کی بار وہ کھل کر مسکرايا۔
“بتا رہی ہيں يا پوچھ رہی ہيں؟” وليہ کو اس لمحے اس کا ہشاش بشاش لہجہ کھل رہا تھا۔
“ميں آپ کو بتا رہی ہوں۔ کہ کل ميرے گھر آنے کی غلطی مت کيجئے گا۔۔ کيوں آپ نے انکل کو مجھ سے بات کرنے کے لئے بھيجا” وہ غصے سے بھری بيٹھی تھی۔
“ميں نے انہيں ہر گز نہيں کہا تھا کہ وہ آپ سے ڈائريکٹ يہ سب بات کريں” دارم کا لہجہ اب کی بار سنجيدہ ہوا۔
“آپ انکار کر ديں بس” وہ ہٹيلے لہجے ميں بولی۔
“سوری آپ کی يہ خواہش ميں پوری نہيں کرسکتا۔۔ جب آپ کے انکل آپ سے يہ بات کرنے آۓ تھے تب آپ انہيں انکار کر ديتيں” بڑے مزے سے وہ بال اس کے کوٹ ميں پھينک چکا تھا۔
“مجھے آپ سے شادی کا شوق نہيں چڑھا جو ميں انکار کروں” وہ چڑ کے بولی۔
“چليں پھر جسے شوق چڑھا ہے اسے تو اپنا کام پورا کرنے ديں” وليہ اسکے اطمينان پر اور بھی چڑ رہی تھی۔
“يہ آپکی حماقت ہے” وہ کسی طرح اسے اس سب سے دستبردار ہونے کے لئے منا لينا چاہتی تھی۔
“يہ آپکی غلط فہمی ہے” اس برجستہ جواب پر وليہ کو گاڑی ميں ہونے والی گفتگو ياد آئ وہ تب بھی اپنی بات سے پيچھے نہيں ہٹا تھا۔
“ميں کل کچھ کھا لوں گی” اس نے دھمکی دی۔
“بالکل ضرور کھائيے گا۔ جو نکاح کے لڈو ہم لے کر آئيں گے۔ آپ وہ شوق سے کھائيے گا۔ ميں ہر گز منع نہيں کروں گا” اس کا شرارتی لہجہ وليہ کو ايک آنکھ نہيں بھا رہا تھا۔
“آپ سمجھ کيوں نہيں رہے۔۔ آپ مجھے ايک دوزخ سے نکال کر دوسرے دوزخ ميں لے جارہے ہيں” وہ بے بسی سے بولی۔
” کوئ بات نہيں اس دوزخ ميں آپ اکيلی ہيں۔۔ اس دوزخ ميں ميں ہر پل آپ کے ساتھ رہ کر اسکی آگ بجھانے کی پوری کوشش کروں گا” اس نے غصے سے فون بند کرديا۔
دارم نے فون ہاتھ ميں لئے آنکھوں کے سامنے کيا۔ چند پل وہ پرسوچ انداز ميں وہيں کھڑا رہا۔ اسے نارمل ہونے ميں ابھی بہت وقت چاہئيے تھا اور تب تک دارم کو اسکی ہر بات کو ہنس کر سہنا تھا۔
__________________________
وليہ کے گھر کے لئے نکلنے سے پہلے وہ صدف کے پاس آيا۔
“ميری کوئ بھی خوشی آپ کے بغير ادھوری ہے۔ آپ کيسے سوچ سکتی ہيں کہ اپنی زندگی کے اس اہم لمحے کو ميں آپ کے بغير گزاروں گا۔” ياور تيار کھڑے شيشے کے سامنے بال بنا رہے تھے جس وقت وہ دروازہ ناک کرکے اندر آيا۔ صدف سادہ حليے ميں ناراض سی بيڈ پر بيٹھی تھيں۔
“يہ تمہاری خوشی ہوگی۔ ميرے لئے يہ خوشی کا باعث نہيں” وہ جو ان کے سامنے بيڈ پر ايک آس لئے بيٹھا تھا کہ وہ شايد مان جائيں۔ مگر ان کا وہی انداز ديکھ کر مايوس سا ہوگيا۔
“تمہارے ڈيڈی ہيں نا تمہارے ساتھ ميری کيا ضرورت ہے تمہيں” وہ ايک ناراض نظر ياور پہ ڈال کر بوليں۔
“بچوں کو اتنا ہی اپنے ماتحت رکھنا چاہئيے کہ وہ بغاوت پر نہ اتريں۔۔” برش ڈريسنگ پر رکھ کر کف کے بٹن درست کرتے ہوۓ وہ سنجيدہ نظر صدف پر ڈال کر بولے۔
“ميں نے اب انہيں ماتحت کيا ہے۔ اس نے اور صارم نے ہميشہ جو چاہا وہ مانا ہے” وہ حيرت سے بوليں۔
“تو پھر اب کس لئے يہ سب واويلا کررہی ہو” ياور کی آواز بلند ہوئ۔
“وہ غريب نہ ہوتی تو تمہيں قابل قبول ہوتی۔۔ ويسے تو تم اسکی تعريفيں کرتی نہيں تھکتيں تھيں۔” وہ بھنويں سکيڑ کر بولے۔
“اس طرح تو ميں ہزاروں لڑکيوں کی تعريفيں کرتی ہوں” انہوں نے نظريں چرائيں۔
“بات کو طول مت دو۔ چلنا ہے تو چلو” ياور نے بات سميٹی۔
“پليز ممی” وہ بھی مصر ہوا۔
“تمہيں يہ سب کرتے يہ کيوں نظر نہيں آرہا کہ لوگ کيا کيا نہيں کہيں گے۔ ميرا ايک سرکل ہے” وہ اس کے ارادے متنزلزل کرنا چاہتی تھيں۔
“تمہيں وہ سرکل عزيز ہے۔ مگر اپنی اولاد نہيں۔” ياور نے ملامتی نظروں سے انہيں ديکھا۔
“چھوڑ دو دارم۔۔۔ تم اٹھو” سفيد شلوار قميض ميں ملبوس انہوں نے اپنے خوبرو بيٹے کو ديکھا۔
“ممی آپ کچھ مت کرئيے گا۔ بس صرف شامل ہوجائيں” وہ پھر آس بھرے لہجے مين بولا۔
“ميں وہاں صرف تماشائ کی حيثيت سے جاؤں گی۔ مجھے کسی سے خوش اخلاقی سے پيش آنے کا مت کہنا” وہ جس نے کبھی ضد نہيں کی تھی۔ نجانے اس لڑکی کے پيچھے اتنا ضدی کيوں ہوگيا تھا۔
ايک نظر اسے ديکھ کر وہ ان پر احسان کرنے والے انداز ميں اٹھيں۔ غصے سے وارڈروب سے کپڑے نکال کر ڈريسنگ روم ميں چلی گئيں۔
“ٹھیک ہوجاۓ گی” اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر انہوں نے اسے پھر سے تسلی دی۔ وہ محض سر ہلا کر رہ گيا۔
___________________
وہ لوگ پہنچنے والے تو اور وہ ابھی تک سرجھاڑ منہ پھاڑ بيٹھی تھی۔ دارم نے صبح ہی ڈرائيور کے ہاتھ سفيد خوبصورت سا سوٹ اسکے لئے بھجوا ديا تھا۔
سائرہ گھنٹے سے اسکی منتيں کررہی تھيں مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوئ۔
“آپ ميرا گلہ گھونٹ ديں۔ مگر ميں يہ شادی نہيں کروں گی” پلنگ کی پشت کے ساتھ ٹيک لگاۓ ٹانگيں سينے کے ساتھ لگاۓ۔ وہ سامنے کسی غير مرئ نقطے کو دیکھتے ہوئ بولی۔
“کيوں ميری زندگی کو مشکل بنا رہی ہو۔۔” سائرہ رونے والی تھيں۔
“اماں يہ اس اچھے انسان کے ساتھ زيادتی ہے”
“بيٹا وہ خوشی سے تمہيں قبول کررہا ہے۔” سائرہ نے اسے قائل کرنا چاہا۔
“يہ خوشی چند دنوں ميں ختم ہوجاۓ گی۔ جب ہر کوئ انہيں ايک اغواکار لڑکی سے شادی کرنے پر طعنے دے گا” وہ اسہزائيہ ہنسی۔
“ميری بربادی تو اسی دن سے شروع ہوگئ تھی جس دن وہ منحوس فون کال والا مسئلہ اٹھا تھا۔ نجانے وہ کون ہے۔۔ اللہ کرے اسکے ساتھ زندگی ميں کبھی اچھا نہ ہو” اندر آتی يمنہ نے بڑے کرب سے بہن کو ديکھا۔
“تم اس وقت سب کچھ چھوڑو اور بس اٹھ کر تيار ہوجاؤ۔۔يہ ديکھ۔۔ ميرے ہاتھ جڑے ہيں تيرے آگے” سائرہ کو اور کوئ حل نہ ملا۔
“آپ ہر بار ايسے ہی کرتی ہيں ميرے ساتھ۔۔ تب فہد کی بار بھی آپ نے ميرے ساتھ يہی کيا تھا۔۔ اور اب بھی يہی ہتھيار آزما رہی ہيں۔۔” وہ چٹخ کر بولی۔
“تو کيا کروں۔۔ کيسے مانے گی تو” وہ بھی چلا اٹھيں۔
“آج تو وہ اپنی خوشی سے اس در پہ آيا ہے۔ اسکے جانے کے بعد کوئ نہيں آئے گا” انہوں نے اسے حقيقت کا آئينہ دکھايا۔
“مت آئے کوئ مجھے فرق نہيں پڑتا۔” وہ ہٹ دھرم لہجے ميں بولی۔
“وليہ تو ايسی تو نہيں تھی ۔۔۔” سائرہ بے بسی سے بوليں۔
“پہلے ميں داغدار بھی تو نہيں تھی اماں” وہ آنسو بھری آںکھوں سے ماں کو ديکھ کر بولی
انہوں نے بڑھ کر اسے خود ميں بھينچ ليا۔
“تو داغدار نہيں ہے” وہ اسے يقين دلا رہی تھيں يا خود کو۔
“کس کس کو يقين دلائيں گے ہم”وہ ان کے شانے سے سر اٹھا کر بولی۔
“دارم بھائ کو اس يقين کی ضرورت نہيں” کب کی خاموش کھڑی يمنہ بولی۔
“اٹھ جاؤ آپا بس کردو” وہ بھی اسکے قريب آتی بولی۔
وہ گہرا سانس بھر کر کھڑی ہوئ۔
____________________
نکاح کے پيپرز پر سائن کرتے اس کا بس نہيں چل رہا تھا کہ انہيں آگ لگا دیتی۔
صدف آ تو گئيں تھيں۔ مگر سلام دعا کے بعد کسی سے مخاطب ہونا ضروری نہيں سمجھا۔ سائرہ کو تو اول انکی آمد کی اميد نہيں تھی۔ مگر صدف کے روکھے رويے کا انہيں دکھ نہيں تھا۔
دلاور اور شہزاد کے گھر والے موجود تھے۔
اسکے علاوہ سائرہ نے کسی کو نہيں بلايا۔ وہ نہيں چاہتی تھيں کہ محلے کے اور لوگ آکر انکی خوشی کو برباد کريں۔
چاۓ کے ساتھ چند لوازمات رکھے تھے۔
نکاح کے بعد ياور وليہ کے پاس آۓ۔
“بہت شکريہ بيٹے ميرا مان رکھنے کا” سفيد شرٹ۔ چوڑی دار پاجامے اور دوپٹہ سر پر رکھے۔ بمشکل اس نے لپ اسٹک لگا رکھی تھی۔ اس روپ ميں بھی وہ بے حد پياری لگ رہی تھی۔
وليہ بس سر جھکاۓ بيٹھی رہی۔
“بہن اب رخصتی کريں” اسکے کمرے سے نکلتے وہ سائرہ سے مخاطب ہوۓ۔
انکے ہمراہ ياور کے ہی چند دوست اور رشتے داروں ميں صرف صفی تھا۔ باقی کسی کو انہوں نے نہيں بلايا تھا
ياور کے کہتے ہی يمنہ وليہ پر چادر ڈال کر اسے اپنے ساتھ لئے کمرے سے باہر آئ۔
صدف پہلے ہی گاڑی ميں جا کر بيٹھ چکی تھيں۔
“بھائ صاحب کوئ اونچ نيچ ہو جاۓ تو معاف کردی جئے گا” سائرہ آنسو صاف کرتے ہوۓ بوليں۔ وہ سب اس لمحے صحن ميں کھڑے تھے۔
دارم نے ايک اچٹتی نظر چادر ميں چھپی وليہ پر ڈالی۔
“بيٹی بنا کر لے جارہا ہوں۔ کوئ شکايت ہوئ بھی تو آپ تک بات نہيں آئے گی۔ ہم خود ہی حل کر ليں گے” ياور خوشگوار لہجے ميں بولے۔
“بہت شکريہ” دارم بھی سب سے مل کر وليہ کا ہاتھ تھام کر اپنی گاڑی کی جانب بڑھا۔
اس کا سرد کپکپاتا ہاتھ دارم کے گرم ہاتھ ميں اور بھی کپکپا رہا تھا۔
__________________
گھر آتے ہی ياور نے کام کرنے والی ملازماؤں کو وليہ کو دارم کے کمرے ميں پہنچانے کا کہا۔
صدف پہلے ہی اپنے کمرے ميں جا چکی تھيں۔
دارم لاؤنج ميں موجود صوفے پر بيٹھا ہاتھ آپس ميں باندھے نجانے کيا سوچ رہا تھا۔
“پريشان کيوں ہو؟” ياور اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسکے قريب بيٹھے۔
“نہيں پريشان نہيں ہوں۔۔” وہ انکی جانب مسکرا کر ديکھنے لگا۔
“ہونا بھی نہيں۔۔ تمہيں ابھی اسے نارمل زندگی کی جانب لانا ہے۔۔ باقی دنيا کيا کہہ رہی ہے کيا سوچ رہی ہے۔ بھول جاؤ۔ صرف يہ ياد رکھو کہ اللہ کے بعد اگر وہ کسی پر اعتماد بحال کرکے زندگی کی جانب لوٹے گی تو وہ صرف تم ہوگے۔۔ اسکے لئے خود کو مضبوط رکھو” ياور کی ہر بات اسکے دل ميں اتر رہی تھی۔
“ڈيڈی تھينک يو سومچ” وہ تشکر سے لبريز لہجے ميں بولا۔
“اٹھو جاؤ اب اسکے پاس” اسکا کندھا دبا کر وہ بھی اسکے پاس سے اٹھ کھڑے ہوۓ۔
وہ بھی اٹھ کر کمرے کی جانب بڑھا۔
______________________
وليہ چادر اتار کر بيڈ پر رکھ چکی تھی۔ آنسو سے بھری آنکھيں اٹھا کر کمرے کو ديکھا۔
ہاں اس نے خواہش کی تھی يہاں اسی حيثيت سے آنے کی مگر ان حالات ميں نہيں۔۔
بيڈ سے ٹانگيں نيچے لٹکاۓ وہ خاموش بيٹھی بس فرش کو گھورے جارہی تھی۔ آنسو چہرے پر متواتر بہہ رہے تھے۔
سائرہ نے اسے ايک بيگ ديا تھا جس ميں چند کپڑے تھے۔ اور کچھ ضرورت کا سامان
وہ ابھی اٹھ کر ان کپڑوں سے پيچھا چھڑانا چاہتی تھی جو اسے اپنے جسم پر کيڑے کی طرح کاٹتے محسوس ہورہے تھے کہ دروازہ کھول کر دارم کمرے ميں آچکا تھا۔
وليہ نے سر اٹھا کر اسے نہيں ديکھا۔ خاموشی سے اٹھ کر اس بيگ کی جانب بڑھی۔ وہ اسے بری طرح اگنور کرنا چاہتی تھی۔
دارم نے اسکے متورم چہرے کو نظر بھر کر ديکھا۔ وہ جو کل تک اسکے آنسو نہيں پونچھ سکتا تھا۔
اب اس کا محرم بن کر اسکے ہر درد کا مداوا کسی سے بھی پہلے کر سکتا تھا۔
دروازے کے لاک کی آواز سن کر وليہ کے ہاتھ کپکپاۓ۔
مگر اس نے پھر بھی سر اٹھا کر نہيں ديکھا۔
صوفے پر موجود بيگ سے کپڑے نکالنے ميں مصروف رہی۔ جب اپنے کندھے پر دارم کا ہاتھ محسوس ہوا۔
اب کی بار وہ اسے اگنور نہيں کرسکی۔
اس کا ہاتھ غصے سے جھٹک کر آنسو سے لبريز آنکھوں سے اسے ديکھا۔
“کيوں انکار نہيں کيا آپ نے کيوں؟” وہ چٹخ کر بولی
“کيونکہ مجھے يہ نہيں کرنا تھا” دارم نے مضبوط لہجے ميں کہا۔
“کيا ملے گا آپ کو مجھ سے شادی کرکے۔۔ داغدار ہوں ميں۔۔۔ سنا آپ نے داغدار۔۔۔۔” وہ چلا کر بولی
“آپ کے ساتھ ايسا کچھ نہيں ہوا جانتی ہونا آپ” دارم نے اپنے الفاظ پر زور دے کر کہا
“يہ ميں جانتی ہون ۔۔۔ آپ جانتے ہيں۔۔ مگر دنيا نہيں جانتی۔۔ وہاں سے عزت بچا کر نکلی تھی يہ نہيں معلوم تھا کہ دنيا داغدار بنا کر چھوڑے گی۔ کہا تھا نا مار ديں مجھے۔۔۔ نہيں مارا آپ نے۔۔
ديکھيں۔۔ ديکھيں يہاں۔۔” وہ اپنے ہذيانی انداز ميں اس سے پرے ہٹتے اپنے دامن پر ہاتھ رکھتے ہوۓ بولی
“يہاں بھی داغ ہے۔۔ يہاں بھی داغ ہے ادھر ادھر ہر جگہ داغدار ہے” وہ اپنے چہرے۔۔ بازو۔۔ ہاتھ کندھے۔ ہر جگہ کو ہاتھ سے رگڑتے ہوۓ وحشت سے بولی۔
“اس دنيا نے مجھے داغدار کرديا ہے۔۔ بتائيں۔ کوئ جواز ہے ميرے پاس زندہ رہنے کا۔ کس کس کا منہ بند کريں گے۔ کس کو ميری صفائ ميں يہ بتائيں گے کہ ميرے ساتھ وہاں کچھ نہيں ہوا تھا۔
کاش يہ سب پتہ ہوتا تو ايک چاقو ميں اپنے سينے پہ بھی مار کر وہيں مر جاتی” روتے روتے وہ وہيں زمين پر بيثھ گئ۔
دارم اسکے قريب بيٹھ کر اسے خود ميں بھينچ گيا۔ اسکی متحوش حالت ديکھ کر وہ خود پر ضبط نہيں کرپا رہا تھا۔
“لڑکی عزت لٹا دے تو بھی وہ بری۔۔ وہ عزت بچا لے تو بھی وہ بری۔۔ کہ کسی کے پاس چند گھنٹے گزار آئ ہے۔۔ ميں کيسے دنيا کو دکھاؤں ميں پاک ہوں” اسکے کندھے سے لگی وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
“وليہ ہميں دنيا کی ضرورت نہيں” دارم نے اسے خود ميں بھينچ کر بے بسی سے کہا۔
“مت ليں ميرا نام۔۔ جانتے ہيں۔ اس کا مطلب پاک صاف ہے۔۔ يہ تو وليوں کے نام ہوتے ہيں نہ۔۔ ميں تو ولی نہيں ۔۔ مجھ پر تو اندر باہر سے اس دنيا نے گند ليپ کرديا ہے” اسکا بازو تھامے سر اٹھا کر روتے ہوۓ کرلائ۔
“مجھے دنيا کی پرواہ نہيں ہے۔۔ مجھے صرف آپ سے غرض ہے۔۔ مت خود کو ايسے کہو” وہ کرب سے بولا۔۔ اس کا لفظ لفظ اسے تکليف سے دوچار کررہا تھا۔
“مت ہاتھ لگائيں آپ بھی داغدار ہو جائيں گے” اسکے حصار سے نکلنے کی کوشش کرتے وہ درد سے بولی
“سٹاپ اٹ وليہ۔۔ خبردار جو اب ايسا ايک بھی لفظ کہا” وہ غصے سے اسکے کندھوں کو جھٹکا دے کر بولا
وليہ اس کا جارحانہ انداز ديکھ کر ساکت ہوئ۔
“ميری وليہ بالکل پاک صاف ہے۔ اور اسکے لئے مجھے کسی کے سرٹيفيکيٹ کی ضرورت نہيں۔ خاموش سے کپڑے چينج کرو۔۔ ميں آپ کے لئے کچھ کھانے کو لاتا ہوں۔ اور اب ايک بار بھی اپنے لئے ايسے اذيت بھرے لفظ استعمال کئے تو ميں بہت بری طرح پيش آؤں گا” اسکی آنکھوں ميں اتری بے يقينی کو سنجيدگی سے ديکھتے وہ اسے بہت کچھ باور کروا رہا تھا۔
“ميں ہر داغ مٹا دوں گا”اسکی پيشانی پر محبت سے لبريز پہلی مہر ثبت کرکے بولا۔
وليہ کا جنون يکدم تھما۔
“اٹھو۔۔ چینج کرو اور اچھے سے منہ ہاتھ دھو۔ کچھ کھانے کے لئے لاتا ہوں” خود کھڑا ہوا پھر ہاتھ پکڑ کر اسے بھی فرش سے اٹھايا۔ کپڑے اسکے ہاتھ ميں تھما کر وہ کمرے سے باہر نکلا۔