Tuesday, November 24, 2020
Home Urdu Short Stories Mera Naam o Nishan Mile | Episode 16

Mera Naam o Nishan Mile | Episode 16

کچھ دير بعد کھانے کی ٹرے تھامے وہ کمرے ميں آيا تو وہ کپڑے بدل چکی تھی۔
اور صوفے پہ ٹانگيں اوپر کئے کسی گہری سوچ ميں بيٹھی تھی۔
عام سا پرنٹڈ سوٹ اور ہم رنگ دوپٹہ شانے پر پڑا ہوا تھا۔ بالوں کو ڈھيلے سے جوڑے کی شکل دے رکھی تھی۔
دارم نے پہلی بار اسے يوں بنا سر پر دوپٹے لے فرصت سے ديکھا تھا۔ ورنہ جب بھی اس حليے ميں ديکھا۔ نظريں سرعت سے اسکے روپ سے ہٹا ليتا تھا۔ مگر آج وہ اسے يوں ديکھنے کا ہر حق رکھتا تھا۔
صوفے کے آگے چھوٹی سی شيشے کی ميز پڑی تھی۔ دارم نے ٹرے اس پر رکھی۔ وليہ نے چونک کر اسے ديکھا۔
پھر ٹانگيں صوفے سے لٹکا ليں۔
دارم اسکے قريب بيٹھا۔ وہ نا محسوس انداز ميں پيچھے کھسکی۔
“مجھے بھوک نہيں” بھاری لہجے ميں اس سے نظريں چرا کر بولی۔
“کبھی کبھی بھوک کے بغير بھی کھانا پڑتا ہے۔ کيونکہ يہ ضرورت ہے۔۔ چاہت نہيں” دارم نے پليٹ ميں تھوڑی سی بريانی نکال کر اسکی پليٹ ميں ڈالی۔۔ ساتھ سلاد اور رائتہ اور کباب رکھا۔
چمچ اور کانٹا رکھنے کے بعد پليٹ اسکے سامنے رکھی۔
وہ ويسے ہی ہاتھ پر ہاتھ دھرے بيٹھی رہی۔
“ميں کھلا دوں؟” اسکے کندھے کے ساتھ کندھا ٹکراتے۔۔۔ اس کا لہجہ گمبھير ہوا۔
وليہ يکدم اور کھسکی۔ دارم نے ہاتھ بڑھا کر اسے نزديک کرتے اسکی دور ہونے کی کوشش ترک کی۔
“ايسے دور ہوں گی۔ تو ميں ہر مصلحت بالاۓ تاک رکھ دوں گا۔” اس کا سرگوشی نما لہجہ وليہ کی ريڑھ کی ہڈی ميں سنسنی دوڑا گيا۔
“ہہ۔۔ ہا۔۔ ہاتھ چھوڑيں ۔۔ مم۔۔ ميں کھاتی ہوں” بے ترتيب سانسوں کو بمشکل ہموار کرتے وہ ہکلا کر بولی۔
“گڈ گرل” اس کا ہاتھ چھوڑ کر سيدھا ہو کر بيٹھا۔ اور دوسری پليٹ ميں اپنے لئے چاول اور باقی چيزيں رکھنے لگا۔
“ايک بات پوچھوں” کچھ دير خاموشی سے کھانے کے بعد وليہ کی آواز سنائ دی۔
“سو پوچھيں” محبت سے چور لہجے ميں بولا۔
“يقينا آپکے بہت سے رسورسز ہوں گے۔ کيا آپ اس کال کو ٹريس کروا سکتے ہيں جو اس دن فہد کو کی گئ تھی” وليہ کی بات پر منہ کی جانب چمچ لے جاتا اس کا ہاتھ تھما۔ رقابت کا شديد احساس جاگا۔
“آپ کو بہت دکھ ہے فہد کے ساتھ شادی نہ ہونے کا؟” چمچ واپس پليٹ ميں رکھ کر چہرہ موڑ کر اسکی جانب گہری سنجيدگی سے ديکھا۔ وليہ کا منہ اسکی بات پر کھل گيا۔
“ميری اس بات ميں يہ بات کہاں سے نکلتی ہے” وہ حيرت سے منہ کھولے اسے ديکھ رہی تھی۔
“وہ جس کسی نے بھی کيا۔۔ مجھے اب نہيں جاننا۔ آپ ميری ہيں ميرے لئے يہی کافی ہے۔ دوبارہ کسی کا نام يوں ميرے سامنے مت لينا۔۔ ميں اتنا اچھا بھی نہيں کہ اپنی بيوی کے منہ سے اسکے ايکس کا نام سن کر خاموش رہوں” دارم بات کو کس جانب لے گيا تھا وہ سمجھنے سے قاصر تھی۔ وہ تو بس يوں ہی پوچھنا چاہ رہی تھی تاکہ يہ گرہ کھلے۔
“فار يور کائنڈ انفارميشن۔۔ ميں نے اس کی تصوير تک نہيں ديکھی” وليہ نے چبا چبا کر کہا۔
“تو دکھ ہے؟” کھانے سے ہاتھ کھينچ کر کمر پيچھے صوفے کی پشت سے ٹکاتے ايک ہاتھ بھی اس پردھرا ايسے کہ وليہ اسکے بازو کے حلقے ميں آگئ۔
“جی نہيں” وہ چڑ کر بولی۔ کچھ دير پہلے کی تکليف دہ سوچيں۔ دارم کے ساتھ اسکی بيوی کی حييثيت سے ہونے والی تکليف سب کچھ معدوم ہوگيا تھا۔ وہ اسکے چڑنے پر ہولے سے مسکرايا۔ مگر يہ مسکراہٹ وليہ سے فورا ہی چھپا لی۔
“ہونا بھی نہيں چاہئے۔ مجھے تو کبھی غور سے ديکھا نہيں۔ اس ايکس کا بڑا دکھ ہو رہا ہے” پھر سے اسے چڑايا۔
“مجھے کسی کا دکھ نہيں ہورہا۔۔ اندازہ نہيں تھا کہ آپ شکی بھی ہوں گے” پليٹ ٹيبل پر پٹخنے والے اندازميں رکھی۔
“ابھی آپ نے مجھے جانا ہی کتنا ہے۔۔ “اسکے کندھے پر ہولے سے انگلياں پھيرتے وہ وليہ کو کنفيوز کررہا تھا۔
اس کے چہرے پر بکھرنے والی سرخی اسے مزہ دلا رہی تھی۔ وہ اب اسکی تھی۔ يہی احساس ہی بہت تھا۔
وہ يکدم اٹھ کر بيڈ کی جانب بڑھی۔ دارم نے اس کا بھاگنے والا انداز ديکھ کر مسکراہٹ دبائ۔
“مم۔۔ مجھے سونا ہے” بيڈ پر بيٹھتے اس نے دارم کی کچھ بولتی آنکھوں سے نظريں چرائيں۔
“ضرور” اسے مزيد تنگ کرنے کا ارادہ ملتوی کرکے وہ اٹھا انٹرکام پر ملازمہ کو کمرے ميں آںے کا کہا۔
کچھ دير بعد دروازے پر ناک کرکے ملازمہ اندر آئ اور ٹرے لے کر واپس چلی گئ۔
دارم دروازہ بند کرکے لاک کرتا۔ سائيڈ ٹيبل کے قريب گيا۔ دراز کھول کر اس ميں سے دوائ نکالی۔
سائيڈ ٹيبل پہ پڑے جگ سے پانی گلاس ميں انڈيلا۔ ايک گولی نکال کر وليہ کی جانب بڑھائ۔
“يہ کھا ليں۔۔ ذہنی تھکاوٹ ختم ہوگی۔” اسکی ہتھيلی پر گولی رکھ کر پانی کا گلاس بڑھايا۔
اس نے خاموشی سے گولی کھا لی۔ دارم نے کھڑکی کے پردے درست کئے۔ نائيٹ بلب آن کرکے لائيٹ آف کی وليہ سانس روکے ايسے ہی بيٹھی رہی۔ دل کی دھڑکن تيز ہو چکی تھی۔ رشتے کا احساس اب ہورہا تھا۔ دارم بيڈ کے دوسری جانب آکر بيٹھا۔
“ليٹ جائيں” اسے يوں ہی بيٹھے ديکھ کر نرم لہجے ميں کہا۔
وليہ نے جھجھکتے ہوۓ ٹانگيں اوپر بيڈ پر رکھيں۔
دارم نے اپنی جگہ پر ليٹ کر اس کا جھجھکنا پوری شدت سے محسوس کيا۔ پھر ہاتھ بڑھا کر اسے اپنے ساتھ لٹا کر بازو کے گھيرے ميں لیا۔
“اس رشتے کو آگے بڑھانے کی مرضی ميں آپ پر چھوڑتا ہوں۔۔” اسکے الفاظ وليہ کے دل کی تيز ہوتی دھڑکن پر پھوار بن کر برسے۔ ايک سکون سا رگ و پے ميں اتر آيا۔ ہولے سے اسکی جانب کروٹ ليتے۔۔ اسکے سينے پر کپکپاتا ہاتھ رکھا۔۔
دارم نے ايک بار پھر پيشانی کو محبت سے چھوا۔۔
“آپ سے محبت ۔۔ صرف آپ کو حاصل کرنے کے لئے نہيں کی۔۔ آپ کی روح تک رسائ حاصل کرنے کے لئے کی ہے۔۔ اسی لئے مجھ سے خوفزدہ مت ہونا۔۔ محبت زبردستی کی قائل نہيں ہوتی۔” محبت سے اپنے سينے پر رکھے اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھے وہ اسے اپنے لفظوں سے سيراب کررہا تھا۔
ايک ہاتھ ہولے سے اسکے بالوں ميں پھير رہا تھا۔
اسکے اعصاب اس گولی سے تو نہيں۔۔ہاں دارم کے الفاظ اور محبت بھرے لمس سے ضرور پرسکون ہوگۓ تھے۔ چند لمحوں ميں ہی وہ پرسکون ہو کر سوچکی تھی۔
دارم نے آہستہ سے اسے بازو کے حلقے سے نکال کر اس کا سر تکيے پر رکھا۔ کچھ دير اسکے خوبصورت چہرے کو يوں ہی ديکھتا رہا۔ پھر اسکے قريب ہوتے محبت بھرا لمس باری باری اسکی دونوں آنکھوں پر چھوڑا۔ اسکی جانب سے کروٹ لے لی۔
“ميں فرشتہ نہيں” خود سے مخاطب ہوتے۔۔ تھوڑا سا فاصلہ بڑھا کر ليٹا۔
___________________________
صبح جس لمحے اسکی آنکھ کھلی۔ دارم کی کروٹ وليہ کی ہی جانب تھی۔ خاموشی سے کتنے ہی لمحے وہ اسکے خوبرو چہرے کو دیکھتی رہی۔
ہاتھ بڑھا کر اسکے چہرے کی خوبصورتی کو اپنے پوروں سے محسوس کرنا چاہا۔ مگر پھر ہاتھ پيچھے کھينچ کر ايک گہری سانس بھری۔ اٹھ کر بيٹھتے اپنے بال لپيٹے۔ اور خاموشی سے بيڈ سے اتر کر کھڑکی کی جانب بڑھی۔ باہر صبح ابھی پوری طرح سے نہيں ہوئ تھی۔ گردن موڑ کر سامنے لگی گھڑی پر ٹائم ديکھا تو صبح کے چھ بجے تھے۔ اکتوبر کے اوائل دن تھے۔ اسی لئے باہر ہلکی ہلکی خنکی تھی۔ کھڑکی سے لان کا منظر صاف نظر آرہا تھا۔ يکدم اسے اندر گھٹن محسوس ہونے لگی۔
واش روم جاکر پہلے منہ ہاتھ دھويا۔ اور خاموشی سے کمرے سے باہر آگئ۔
دو بار اس گھر ميں آئ تھی اسی لئے گھر کے نقشے سے واقف تھی۔
سيڑھيوں سے نيچے اتری۔ ہر سو خاموشی تھی۔ وہ بھی اسی خاموشی سے باہر لان ميں آگئ۔
جابجا خوبصورت پھول پودے درخت لہلہا رہے تھے۔ خاموشی سے کتنی ہی دير وہ وہاں چکر لگاتی رہی۔
پھر تھک کر سامنے درخت کے نيچے لگے بينچ پر بيٹھ گئ۔
دروازے سے اندر آتے ياور نے حيرت سے اس وقت اسے لان ميں بيٹھے ديکھا۔
وہ اس وقت روزانہ واک پہ جاتے تھے۔ اور دارم جاگنگ پر۔۔ مگر آج وہ نہيں اٹھا۔ انہوں نے بھی ان دونوں کو ڈسٹرب کرنا مناسب نہيں سمجھا۔
اندر جانے کی بجاۓ وہ لان ميں ہی اس کے پاس آگۓ۔
وليہ نے قدموں کی چاپ محسوس بائيں جانب ديکھا۔
ياور کو اپنی جانب آتا دیکھ کر وہ تيزی سے کھڑی ہوئ۔
“ارے بيٹھو بيثھو” وہ اسے بوکھلاہٹ ميں کھڑے ہوتے ديکھ کر چہرے پر مسکراہٹ سجاۓ اسے بيٹھنے کا اشارہ کرنے لگے۔
“السلام عليکم انکل” وہ بيٹھتے ہوۓ بولی۔
“وعليکم سلام انکل نہيں ڈيڈی” وہ اسکی تصيح کرنے لگے۔
اس نے جھٹکے سے سر اٹھايا۔
“دارم کا ڈيڈی تو تمہارا بھی ڈيڈی” اس کی نظروں ميں چھپا سوال ديکھ کر وہ محبت سے بولے۔
“اتنی صبح کيوں اٹھ گئيں۔۔ دارم سويا ہوا ہے؟” انکے سوال پر وہ ہولے سے جی کر کے رہ گئ۔
“پہلے سوال کا جواب نہيں ملا” اسے ہنوز خاموش ديکھ کر انہوں نے بولنے پر اکسايا۔
“ميں روز اسی وقت اٹھتی ہوں۔ بس آج بھی آنکھ کھل گئ۔ دوبارہ نيند نہيں آئ تو سوچا يہاں آجاؤں۔۔ کتنا سکون ہے نا يہاں”اب کی بار اس نے تفصيل سے جواب ديا۔
“بيٹے سکون ہميں تب ہی محسوس ہوتا ہے جب وہ ہمارے اندر ہوتا ہے۔۔” انکی بات پر اس نے الجھ کر انکی جانب ديکھا
“جب ہم اندر سے بے چين ہوں تو کسی چيز ميں سکون نہيں ملتا۔۔ چاہے اردگرد مہيب خاموشی ہو اندر کا شور اس خاموشی کو محسوس نہيں کرنے ديتا” انکی بات پر اسے دارم کا رات کا رويہ ياد آيا۔
“تو کيا يہ سکون اس شخص کی مرہون منت تھا” اس نے خود سے سوال کيا۔
“ايک بات پوچھوں۔۔۔۔۔ ڈيڈی” جھجھکتے ہوۓ انہيں مخاطب کيا۔
“جی ميرا بيٹا ضرور” وہ چہرے پر نرم تاثرات لئے اسے ديکھ رہے تھے۔
“آپ نے دارم کو مجھ سے شادی پر کيوں سپورٹ کيا۔ ميں جانتی ہوں آنٹی اس حق ميں نہيں ہيں۔۔ ہے نا” ان سے سوال کرتے تصديق چاہی۔
“يہ ضروری نہيں ہوتا کہ ہمارے فيصلوں ميں ہر دفع ہمارے ساتھ جڑے لوگ ہمارا ساتھ ديں۔ ہر ايک کی اپنی سوچ ہوتی ہے۔ اور ہم اسکی سوچ کو نہ تو ٹھيک کرنے کا اختيار رکھتے ہيں نا ہميں کرنا چاہئيے۔ مجھے ان کی سوچ سے سروکار نہيں۔۔ ہاں ميں نے دارم کی آنکھوں ميں تمہارے لئے محبت بھانپ لی تھی۔۔ اور وہ ايسی محبت تھی جس ميں اميری غريبی۔۔ خوبصورتی۔۔ يا معوملی شکل۔۔ يہ سب باتيں معنی نہيں رکھتی۔۔ تو ميرے بيٹے ۔۔ ايسی محبت کی بہت قدر کرتے ہيں۔۔” وہ اپنے نرم لہجے ميں اسے سمجھا رہے تھے۔ وليہ کو اس لمحے اندازہ ہوا کہ لہجے کی يہ نرمی دارم نے ياور سے ورثے ميں لی ہے۔
“وہ تم سے بہت محبت کرتا ہے۔۔ جب جب وہ تمہيں ديکھتا ہے ايسا لگتا ہے کہ وہ اردگرد کی ہر چيز فراموش کرچکا ہے۔۔ بيٹے جو کچھ آپ کے ساتھ ہوا۔ اس ميں آپ کا کوئ قصور نہيں تھا۔۔ نہ ہے۔
آپ خود کو اس چيز سے باہر نکالو۔۔۔ اور يہ تبھی ممکن ہے۔ جب اپنے اردگرد کی محبتوں پر يقين کروگی۔ اور دنيا کو فيس کروگی۔” ان کی بات پر وہ سر جھکا گئ۔
“انسان خود کو بڑی جلدی اذيت ميں مبتلا کر ليتا ہے۔۔ لوگ شايد اسے اتنی جلدی اذيت نہيں ديتے جتنی جلدی وہ خود کو ديتا ہے۔۔ اور پتہ ہے کيسے؟” انکے سوال پر اس نے سر اٹھا کر ان کی جانب ديکھا۔
“خود ترسی سے۔۔۔ يہ بہت بڑی اذيت ہے۔ اور جب تک آپ خود اپنے آپ کو اس سے نکالنے کی نيت نہيں کرتے۔ کوئ دوسرا آپ کو اس سے نہيں نکال سکتا” وہ بڑے سبھاؤ سے اسے سمجھا رہے تھے۔
“آج اکيلے اکيلے واک پہ چلے گۓ” ياور کے کندھوں پر پڑنے والے دباؤ کے ساتھ دارم کی بشاش سی آواز انہيں بے حد بھلی لگی۔
وليہ جو ہاتھوں کو مروڑنے ميں مصروف تھی اسکی آواز پر چند لمحوں کے لئے ہاتھوں کی حرکت روکی۔
کچھ دير پہلے ہی اسکی آنکھ کھلی وليہ کو کمرے ميں نہ پا کر اس نے کھڑکی سے باہر لان ميں ديکھا۔ ياور اور وہ بينچ پر بيٹھے باتيں کرتے دکھائ دئيے۔ انہيں ديکھ کر وہ مسکرايا۔ اور پھر قدم باہر کی جانب بڑھاۓ۔
“ہمارے لئے چاۓ بنا ديں گی؟” وليہ سے مخاطب ہوتے وہ ان کے سامنے آيا۔
“جی” وہ جو پہلے ہی وہاں سے بھاگنے کے لئے پرتول رہی تھی فورا اٹھ کر اندر کی جانب بڑھی۔
“مطمئن ہو؟” وہ جو اندر جاتی وليہ کو ديکھ رہا تھا اور ياور اسے۔ ان کے سوال پر ايک جاندار مسکراہٹ اس کے لبوں پر کھلی۔
“بہت۔۔ اميد ہے وہ جلد ہی اس فيز سے باہر آجاۓ گی” اس نے مسکراتی نظر ان پر ڈالی۔
ان شاءاللہ”
“ممی نے رات ميں آپ سے کچھ کہا؟” يکدم اس کا چہرہ سنجيدہ ہوا۔ ياور کی بھی مسکراہٹ سمٹی۔
“اسے وقت لگے گا وليہ کو قبول کرنے ميں۔۔ اميد اچھی رکھنی چاہئيے” وہ اسے پريشان نہيں کرنا چاہتے تھے۔ کيونکہ رات ميں اس سب کو لے کر ان دونوں کے درميان کافی تلخی ہوئ تھی۔
“ميں کچھ اور سوچ رہا ہوں۔۔ خير پھر بات کرتا ہوں۔۔” کچھ کہتے کہتے وہ رکے۔ اسے لئے وہ اندر کی جانب چل دئیے۔
_____________________
ناشتے پہ وليہ کی صدف سے ملاقات ہوئ۔
“السلام عليکم آنٹی” وہ تينوں پہلے سے ڈائيننگ ٹيبل پر موجود تھے۔ صدف کا انتظار کررہے تھے۔
صدف نے بادل نخواستہ جواب ديتے دارم کے برابر ميں بيٹھی وليہ پر ايک اچٹتی نگاہ ڈالی۔
ياور اور دارم نے خاموشی سے صدف کا اکھڑا اکھڑا رويہ ديکھا۔
“اب اگر يہ ہمارے خاندان کا حصہ بن ہی گئ ہے تو کوئ ڈھنگ کے کپڑے بھی اسے دلوا دو” اسکے کپڑوں کو ديکھ کر انہوں نے دارم کو ديکھ کر طنز کيا۔
“ويسے تو يہ مجھے ہر حال ميں پياری لگتی ہيں۔۔ ليکن خير۔۔ آپ کا حکم سر آنکھوں پر تھوڑی دير تک شاپنگ کروا لاتا ہوں” ماں کی بات پر لمحہ بھر کو اس نے ان کی جانب ديکھا۔
پھر ساتھ بيٹھی وليہ کو بازو کے گھيرے ميں لے کر اسکے سر پر پيار کرتے ماں کو گويا چڑايا۔
وہ اس محبت بھرے نظارے کو ديکھ کر سلگ گئيں۔ اپنی طرف سے انہوں نے اسکی کم مائيگی پہ چوٹ کرکے دارم اور وليہ دونوں کو سنانا چاہا تھا۔
مگر سامنے بھی دارم تھا۔ وہ ماں کے وار اچھے سے جانتا تھا۔
اور وليہ۔۔
وہ تو سب کے سامنے اس محبت بھرے مظاہرے پر گنگ رہ گئ۔
دارم بنا ديکھے اسکی آنکھوں ميں چھپی حيرت اور اس کے شرم سے سرخ پڑتے چہرے سے واقف تھا۔
“ريسيپشن کا کيا کرنا ہے اب۔۔ آخر ہم يہ بات کب تک چھپائيں گے لوگوں سے” وہ مسلسل وليہ کو کچوکے لگا رہی تھيں۔
“چھپا تو ہم اب بھی نہيں رہے۔۔ نہ ہميں ضرورت ہے چھپانے کی۔ ميں تو ويسے بھی رات کو اپنے سب ملنے والوں اور رشتہ داروں کو ميسج کرچکا ہوں” ياور نے بڑے مزے سے ايک اور بم ان پر گرايا۔
“اور جہاں تک بات ہے ريسيپشن کی۔۔ بچے ذرا ريليکس ہوجائيں تو وہ بھی کرليں گے۔ ويسے بھی رات ہی صارم کو بتايا تھا۔ وہ دو ہفتوں تک آرہا ہے۔ کہہ رہا تھا ڈيڈی ميرے آنے پہ رکھئے گا” ان کی بات سن کر صدف کو تو گويا پتنگے ہی لگ گۓ۔
“واہ يہ بھی ٹھيک ہے۔۔ آپ سب تو ايک جانب ہيں۔۔ مجھے يہ بھی نہ بتاتے۔۔ جس دن ريسيپشن ہوتا۔۔ دعوت نامہ دکھا ديتے کہ تم بھی آجانا” وہ تڑخ کر بوليں۔
“جب تم خود کو اس گھر سے لاتعلق رکھو گی اور بچوں کے معمالات ميں دلچسپی لينے کی بجاۓ ان کے راستے کھوٹے کرو گی۔ تو يہی ہوگا” وہ نيپکن سے ہاتھ اور منہ صاف کرکے ٹيبل سے اٹھ چکے تھے۔ دارم کو ساتھ آنے کو کہا۔
وہ اس کا ہاتھ تھپتھپا کر اٹھ گيا۔
ان کے جاتے ہی صدف نے ايک کٹيلی نظر اس پر ڈالی۔ جو سر جھکاۓ چاۓ پی رہی تھی۔
“جب ريشم ميں ٹاٹ کا پيوند لگتا ہے تو ايسا ہی ہوتا ہے۔۔ گھر بکھرتے ہيں” وہ اسے سنا کر زور سے کرسی گھسيٹ کر اٹھ گئيں
يکدم اسے چاۓ بے حد کڑوی لگی۔ کپ ٹيبل پر رکھ کر وہ بمشکل آنسو پی گئ۔