Saturday, August 8, 2020
Home Urdu Short Stories Mera Naam o Nishan Mile | Episode 17

Mera Naam o Nishan Mile | Episode 17

ناشتے کے بعد وہ کمرے سے باہر نہيں نکلی۔ صدف کی باتيں بار بار اس کے دماغ ميں گھوم رہی تھيں۔۔
وہ وقت ياد آيا جب اس سب کے ہونے سے پہلے وہ ميٹھے لہجے ميں بولتی تھيں۔۔
کتنی اچھی لگتيں تھيں وہ اسے۔ وہ ہميشہ سوچتی تھی کہ اس کے پاس بھی بہت سے پيسے آۓ تو وہ بھی انہی کی طرح غريبوں کی مدد کرے گی۔ مگر اس اندازہ نہين تھا کہ يہ صرف دکھاوے کی مدد تھی۔
اندر سے وہ بھی اميری غريبی کے فرق ميں بری طرح جکڑی ہوئ تھيں۔
اس کی سوچوں کا رخ دارم کی آمد نے موڑا۔
“چليں۔۔ ميم۔۔ آپ کو شاپنگ کروا لائيں” اسکے قريب بيڈ پر بيٹھتے اس کا ہاتھ تھامنا چاہا۔
جسے وليہ نے فورا پيچھے کيا۔۔ صدف غلط تو نہيں کہہ رہی تھيں۔ وہ اس قابل نہيں تھی کہ ان کے اتنے اچھے دل والے بيٹے کی قسمت ميں لکھی جاتی۔
“مجھے نہيں جانا۔۔ ” وہ سہولت سے انکار کر گئ۔ اس کے لہجے کی اداسی دارم سے ڈھکی چھپی نہيں تھی۔
“کيا ہوا ہے؟” رات تک اسے دارم کی قربت سے مسئلہ نہيں تھا تو پھر اب۔۔ يقينا يہ صدف کے رويے کے بعد ہوا تھا۔
“بس مجھے نہيں جانا۔۔ مجھے دنيا کو نہيں ديکھنا۔۔ ان کی تمسخر اڑاتی نظريں مجھ سے برداشت نہيں ہوتيں۔۔” وہ بس رو دينے کو تھی۔
“وليہ ۔۔۔ آپ تو بہت بہادر تھی نا۔۔ مجھے تو اس وليہ سے محبت ہوئ تھی جو مردوں ميں شان سے کھڑی کام کرتی تھی۔ جو مردوں کی حريص نظروں کو اپنی جوتی کی نوک پر رکھتی تھی۔ جو اپنے حق کے لئے ڈٹ جاتی تھی۔ پھر يہ کيوں۔۔” اسے لمحہ لمحہ اس کا حوصلہ بڑھانا تھا۔ کچھ دير پہلے کی کہی ياور کی بات اسے ياد آئ۔
“بيٹے ابھی روز اس کا حوصلہ شکن ہو گا اور تمہيں روز اس کا حوصلہ بڑھانا پڑے گا۔ وہ جيسے جيسے لوگوں ميں جاۓ گی۔ وہ اسے طعنے ديں گے۔۔ مگر تمہيں اسے اتنی مضبوطی دينی ہے کہ وہ ان طعنوں سے ڈھے نہ جاۓ۔ اسے يہ اطمينان ہو کہ تم اسے تھامنے کو ہر پل تيار کھڑے ہو۔۔ وہ تم سے بھی روڈ ہو گی۔ مگر تمہيں برداشت کرنا ہوگا۔ لوگوں کے حوصلے توڑنا لمحوں کا کام ہے۔۔ مگر انہيں دوبارہ جوڑنے ميں دن۔۔۔ ہفتے۔۔ مہينے اور کبھی تو سال بھی لگ جاتے ہيں”
“ميں بہادر نہيں رہی۔۔ کيونکہ تب ميرا کردار صاف تھا۔ کوئ ميرے کردار پر انگلی اٹھانے والا نہيں تھا۔ اب جس کا دل کرے گا وہ ميرے کردار کو روند دے گا۔ ميں جواب ميں کچھ بھی نہيں کہہ سکوں گی” اس کے لہجے ميں کيا کچھ نہ تھا۔ تکليف۔۔ حسرت۔۔ اور شديد ترين دکھ۔
“اچھا اپنی امی سے تو ملنے چليں گی نا” دارم نے اس کے ارادے بھانپتے بات بدلی۔
وہ چند لمحے خاموش رہی۔ پھر آنسو پيتے ہاں ميں سر ہلايا۔
“اٹھيں پھر ريڈی ہوں” دارم کی بات پر اس نے پل بھر کو سر اٹھايا۔
“تيار ہو کر کيا کروں گی” اس کے لہجے ميں بے زاری تھی۔
“وہی جو ہر بيوی کرتی ہے۔۔ اپنے مياں کا دل خوش کرتی ہے۔۔ تعريف وصول کرتی ہے”وہ مزے سے اسے اٹھتے ديکھ کر بولا۔
“آپ کو بہت تجربہ ہے” وہ نہ چاہتے ہوۓ بھی اس سے اس طرح کی بحث ميں حصہ لے ليتی تھی۔ پتہ نہيں کيوں۔
“تجربہ نہيں مشاہدہ ہے” اس نے اپنی بات پر زور ديا۔
وليہ نے بيگ سے کپڑے نکال کر ابھی تک دارم کی الماری ميں نہيں رکھے تھے۔ اسے بيگ سے کپڑے نکالتے ديکھ کر دارم نے افسوس سے سر ہلايا۔
“آپ نے کيا ابھی واپس اپنی امی کے گھر جانا ہے؟” وليہ کپڑے نکال کر مڑتی اس کی بات کا مطلب سمجھنے سے قاصر تھی۔
“کيا مطلب؟” سواليہ نظروں سے اسے ديکھا
“اب آپ کو يہيں رہنا ہے ڈئير۔۔ تو اپنے کپڑے اس بيگ سے نکال کر ميری الماری ميں رکھ کر اس کو اپنے ہونے کا شرف بخشيں” دارم کی بات پر اس نے ايک خاموش نگاہ اس پر ڈالی۔
“اور اگر ميں آپ کی چيزوں اور جگہ پر حصے دار نہ بننا چاہوں” اپنی بات کا اثر اس کے چہرے پر ديکھا۔ جہاں اسکی بات سن کر اس کا چہرہ متغير ہوا۔ آہستہ سے چل کر وہ اسے مد مقابل آيا۔
“حصے دار تو آپ نکاح کے پيپرز پر سائن کرتے ہی بن گئيں تھيں۔ اس حصے پر اپنا حق نہ جتانا چاہئيں تو وہ الگ بات ہے۔۔ مگر اس کے علاوہ اگر کوئ فضول بات آپ کے دماغ ميں پک رہی ہے تو اسے ٹھيک کرنا مجھے آتا ہے۔ رات ميں بھی آپ کو باور کروايا تھا۔ اب پھر کہہ رہا ہوں۔۔ آپ کو اپنايا ہے تو يہ ساتھ مرتے دم تک نبھاؤں گا۔ مجھ سے دور ہونے يا اس رشتے کو ختم کرنے کا سوچنا بھی نہيں” اسکی آنکھون ميں جھانکتے وہ مضبوط لہجے ميں بولا۔
وليہ نے حيرت سے اسے ديکھا۔ وہ کيسے اس کی سوچ تک رسائ حاصل کرگيا۔
“ميں آپ کو ڈيزرو نہيں کرتی” سر جھکا کر وہ پھر دارم کا امتحان لے گئ۔
اسے کندھوں سے تھامتے اپنے نزديک کيا۔
“يہ آپ نہيں ميں نے ڈيسائيڈ کرنا تھا۔ اور يہ ڈيسائيڈ کرکے ہی آپ کو اپنی زندگی ميں شامل کيا ہے۔۔” محبت نے اب کی بار اسکے چہرے کو چھوا۔ اس نے پيچھے ہونا چاہا مگر دارم نے پھر سے يہ کوشش ناکام بنا دی۔
“يوں دور مت ہوا کريں۔۔ کيوں ميرا ضبط آزماتی ہيں” دارم کی بات پر اب کے اس نے خفا نظر اس پر ڈالی۔
“فضول باتيں نہيں کريں ميرے ساتھ” منہ پھلا کر بولتی وہ اس لمحے دارم کو اور بھی پياری لگی۔
“جائيں چينج کريں” خود پر بند باندھتے اس نے وليہ کے بازوؤں پر سے ہاتھ ہٹايا۔ وہ تيزی سے واش روم کی جانب بڑھی۔
_________________________
پيچ کلر کا ہلکے کام والا خوبصورت سا سوٹ پہنے وہ دارم کے ساتھ اسکی گاڑی کی فرنٹ سيٹ پر بيٹھی تھی۔ کن اکھيوں سے اسے ديکھا جو آسمانی شلوار قميض پہنے گاڑی چلا رہا تھا۔ يقينا اس کا لباس بہت قيمتی ہوگا۔ آج سے پہلے اسے اپنی کم مائيگی کا احساس اس بری طری نہيں ہوا تھا جتنا اب ہو رہا تھا۔
يقينا يہ صبح کی صدف کی باتوں کا اثر تھا۔
دارم نے ايک نظر خود کو ديکھتی وليہ پر ڈالی۔
اسکے ديکھتے ہی وليہ نے سرعت سے چہرہ موڑ ليا مگر وہ بھی نظروں کی چوری ديکھ چکا تھا۔ ہاتھ بڑھا کر اسٹيريو آن کيا۔
پھر وليہ کا ايک ہاتھ مضبوطی سے اپنے بائيں ہاتھ ميں تھاما اور دوسرے سے گاڑی چلاتا رہا۔ اس نے ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی مگر دوسری جانب گرفت مضبوط تھی۔
“آپ جتنا مجھ سے دور ہونے کی کوشش کريں گی ميں اتنا ہی قريب آؤں گا” ايک گہری نظر اس پر ڈالی۔
“آپ تنگ کررہے ہيں مجھے” وہ روہانسی لہجے ميں بولی۔
دارم نے ايک جاندار قہقہہ ہوا کے سپرد کيا۔
“بس اتنے سے ميں ہی آپ کی ہمت جواب دے گئ” اس کی بات کا مفہوم سمجھتے وليہ نے خاموش رہنا ہی مناسب سمجھا۔
o a molecule I belong to you,
You’re my galaxy, not a star.
Never doubt the impact you’ve had on me,
Know you’ve always been the best by far.
Already in love, you got back in touch, I just couldn’t turn you down
Already in love, you got back in touch, I just couldn’t turn you down
And you wanted a reason,
An escape route to leave him,
Was I selfish letting you choose,
When you had everything to lose?
اسٹيريو پہ گونجنے والی سنگر کی آواز اور الفاظ نے اسے اور بھی منجمد کيا
“اچھا نہ اب پيچھے نہيں ہوں گی۔۔ ہاتھ چھوڑ ديں ابھی” وہ بے چارگی سے بولی۔
“ديٹس مائ گرل” دارم نے اس کا سرد پڑتا ہاتھ چھوڑا۔
گھر کے باہر گاڑی روک کر وہ دونوں اترے۔
وليہ نے دروازہ بجايا۔ کل تک وہ اس گھر اور اس محلے ميں ذلت اور رسوائ سہہ رہی تھی۔ آج اسے گھر کے باہر کھڑا ديکھ کر کتنے ہی جاننے والے گلی ميں پھرتے حسرت بھری نگاہ سے ديکھ رہے تھے۔
تو يہ ہے پيسے کی طاقت۔۔ کل کی وہ کم مايہ آج سب کے لئے رشک کی حيثيت رکھتی تھی۔ اس نے تلخی سے اردگرد لوگوں کو ديکھا۔
دارم اسکے ساتھ سائے کی طرح کھڑا تھا۔
اور اس سائبان نے ہی اسے آج فرش سے عرش پر بٹھا ديا تھا۔
دروازہ کھلتے ہی دارم نے اسے اندر داخل ہونے کا اشارہ کيا۔
“اماں ديکھيں آپا اور دارم بھائ آئے ہيں۔” مصطفی اسے ديکھ کر خوشی سے چلايا۔
وليہ نے محبت سے بھائ کو پيار کيا۔
پھر دارم نے اسے ساتھ لگايا۔
سائرہ اور يمنہ تيزی سے کمرے سے نکل کر صحن ميں آئيں۔
“ماشاءاللہ ميرے بچے آئے ہيں” وليہ بڑھ کر ماں کے بازوؤں ميں سما گئ۔
ايسے لگا بے قرار دل کو سکون مل گيا ہے۔
اور اس کا شانت چہرہ ديکھ کر سکون تو سائرہ کو بھی مل گيا تھا۔ ورنہ وہ کل کی بہت پريشان تھيں۔ دارم محبت سے پہلے سائرہ سے ملا۔ پھر يمنہ کے سر پر ہاتھ پھيرا۔
“کيسی ہو لٹل گرل” محبت سے اس سے پوچھا۔
“بالکل ٹھيک دارم بھائ” وہ بھی خوشی سے پھولے نہيں سما رہی تھی۔
“اور بھئ۔۔ پڑھائ کيسی چل رہی ہے” مزے سے مصطفی کے کندھوں پر بازو دھرے اسے لئے وہ اسی کے کمرے کی جانب بڑھا۔
اس کے کمرے ميں جاتے تک وليہ نے اس پر سے نظر نہيں ہٹائ۔
کيسا ساحر تھا وہ يکدم سب کو اپنے سحر ميں جکڑ ليتا تھا۔ لگ ہی نہيں رہا تھا کہ کچھ دن پہلے وہ ان سب کے لئے انجان تھا۔
“تو خوش ہے وليہ” سائرہ نے دارم کے جاتے ہی اس سے پوچھا۔ وہ تينوں بھی يمنہ کے کمرے ميں آگئيں۔
“ہاں اماں بہت” اس نے نظريں چرا کر کہا۔ کہيں ماں آنکھوں ميں چھپا درد نہ جان جاۓ۔
“تم دونوں باتيں کرو۔ ميں کچھ چاۓ پانی کا بندوبست کرتی ہوں” سائرہ اٹھتے ہوۓ بوليں۔
“اماں بس چاۓ بنا ديں۔ ناشتہ دير سے کيا تھا۔ بس تھوڑی ہی دير بيٹھنا ہے” وہ جانتی تھی کہ سائرہ اپنی حيثيت سے بڑھ کر کرنے کی کوشش کريں گی۔ وہ انہيں اس تکليف ميں نہيں ڈالنا چاہتی تھی۔
“اچھا اچھا” وہ اسکی بات پہ سر ہلا کر کچن کی جانب بڑھيں۔
“افف آپا آج تمہيں اور دارم بھائ کو اکٹھے ديکھ کر مجھے بہت خوشی ہورہی ہے” يمنہ اسکے گلے لگ کر خوشی سے جگمگاتے لہجے ميں بولی۔
“تمہاری اس خوشی کے لئے ميں بہت تکليفوں سے گزری ہوں” اسکی خوشی کے برعکس وليہ کا لہجہ تھکا تھکا تھا۔
يمنہ نے پيچھے ہو کر اس کا چہرہ ديکھا۔
“تمہاری ساس اچھی نہيں نا” اس کی بات پر وہ استہزائيہ ہنسی۔
“وہ اچھی ماں ہيں۔۔ اور اچھی مائيں کبھی کبھی اچھی ساسيں نہيں ہوتيں۔ کيونکہ انہيں بيٹے کے لئے اپنی بہوئيں انکے معيار کی نہيں لگتيں۔۔ اور وہ حق پر ہيں” وليہ نے حقيقت پسندی سے کہا۔
“ايسے کيسے تم تو اتنی اچھی ہو۔۔ اور پہلے تو انہيں اچھی لگتی تھيں” يمنہ نے اسکی بات پر منہ پھلا کر کہا۔
“پہلے ميں صرف غريب تھی۔ مگر اب اغوا شدہ ہوں۔ غريب کو تو وہ شايد قبول کرليتيں۔ مگر اغوا شدہ کو قبول کرنا ہے کسی کے بس کی بات نہيں” وليہ کے جواب پر يمنہ کا دل سکڑا۔
“اچھا يہ بتاؤ۔۔ اماں زيادہ اداس تو نہيں تھيں” اس نے بات کا رخ موڑا۔
“ہاں تھيں تو۔۔ بس تمہاری ساس کے رويے سے ہی زيادہ پريشان تھيں” وہ صاف گوئ سے بولی۔
“اماں سے کہنا پريشان نہ ہوں۔۔ ڈيڈی اور دارم بہت اچھے ہيں” اس نے تسلی دی۔
“اچھا سنو۔۔ گھر کے خرچے کی فکر مت کرنا ميں کچھ دنوں ميں آنلائن کام شروع کرنے لگی ہوں۔ تم کسی کو مت بتانا۔”
“آپا وہ تو دارم بھائ نے کل اماں کو خرچے کے پيسے دے دئيے تھے۔ اور کہہ رہے تھے کہ اب سے اس گھر کی ذمہ داری ميری۔” يمنہ کی بات پر وہ ہکا بکا اسے ديکھتی رہ گئ۔
“نہيں تم اماں کو کہنا وہ پيسے وہ ہر گز اسعتمال نہيں کريں گی۔ ميں دوں گی۔۔ ويسے بھی ابھی اس سب سے پہلے ميں نے جو ايونٹ آرگنائز کئے تھے انکے کافی سارے پيسے پڑے ہيں۔۔ تم ميرا بيگ اماں کو دے دينا۔۔ اس ميں اتنے ہيں کہ چار پانچ ماہ تو آرام سے نکل جائيں گے۔ پھر ميں کچھ اور انتظام کروں گی” وہ فکرمند لہجے ميں بولی۔
وہ دارم کا مزيد احسان نہيں لينا چاہتی تھی۔۔ صدف کو پتہ چلتا تو ايک اور طعنہ ملتا۔
“آپا مجھے تم سے ايک بہت ضروری بات کرنی ہے۔۔ ديکھو پليز ڈانٹ لينا مار لينا مگر
خفا مت ہونا” يمنہ جھجھکتے ہوۓ بولی۔
وليہ اسکے انداز پر چونکی۔
“وہ آپا۔۔ وہ نا۔۔”
“وليہ بيٹا ادھر بيٹھک ميں آجا” اس سے پہلے کہ يمنہ کی بات پوری ہوتی سائرہ کی آواز پر وہ چپ کرگئ۔
“آئ اماں” وليہ نے اونچی ساری آواز دی۔
“بولو” وليہ نے اسے سواليہ نظروں سے ديکھا۔
“تم پہلے چل کر چاۓ پيو” يمنہ نے بات بدل دی۔
________________________
وہاں سے نکل کر دارم کا رخ کس جانب تھا وليہ کو نہيں معلوم تھا۔ وہ تو اسکے گھر کے راستوں سے ابھی ناواقف تھی۔
دارم خاموشی سے گاڑی چلا رہا تھا کہ اس کا فون گنگنايا۔
وائر ليس ہيڈ فونز اسکے کان ميں لگے ہوۓ تھے۔ فون کو آن کيا تو حاجرہ کی کچھ غصيلی اور کچھ چہکتی آواز سنائ دی۔
“يو چيٹر ۔۔ اتنی خاموشی سے شادی بھی کرلی اور کسی کو ہوا بھی نہيں لگنے دے” دوسری جانب وہ چلا رہی تھی اور دارم مسکرا رہا تھا۔
“آخر مل ہی گئ تمہيں تمہاری محبت” اسکے لہجے ميں بے حد خوشی پنہاں تھی۔ کيوں نہ ہوتی وہ دارم کی وليہ کے لئے محبت سے اچھے سے واقف تھی۔
“ہاں يار الحمداللہ” اسکے لہجے ميں بھی سرشاری تھی۔
“اتنی جلدی کی وجہ؟” حاجرہ کے سوال پر اسکے مسکراتے لب سکڑے۔
“بس يار کچھ ايمرجنسی تھی۔ اسی لئے اتنی جلدی ميں شادی ہوئ” وہ نہيں جانتی تھی کہ دارم کس سے بات کررہا ہے مگر اسکی اس بات پر وہ تکليف سے لب بھينچ کر رہ گئ۔
“چلو خير کوئ بات نہيں۔۔ ريسيپشن کب ہے” وہ دارم کی عادت سے واقف تھی جو بات وہ بتانا نہ چاہے اسے کريدا جائے تو وہ شديد غصہ ہوتا تھا۔ اسی لئے حاجرہ نے کريدا مناسب نہيں سمجھا۔
“دو ہفتے بعد صارم آرہا ہے۔ فيملی سميت۔ تو بس اسکے آنے پر رکھيں گے” موڑ کاٹتے اس نے بتايا۔
“وليہ تمہارے پاس ہے؟” اسکے سوال پر دارم نے ايک نظر اپنے ساتھ بيٹھی وليہ کو ديکھا جو نظارے ديکھنے ميں مگن تھی
“ہاں”
“ميری بات کرواؤ” وہ مصر ہوئ۔
“سوری ابھی کل ہماری شادی ہوئ ہے۔ اب تم لوگ بھيچ ميں ٹپک پڑو۔۔۔ مجھے اپنی بيوی کے ساتھ کچھ وقت انجوائے کرنے دو” وہ مزے سے دامن بچا گيا۔ جانتا تھا ابھی کسی کی ذرا سی بات بھی اسکے حوصلے ڈگمگا دے گی۔ بڑی مشکل سے وہ اسے صدف کی باتون کے اثر سے نکال پايا تھا۔
اس کی بات پر وليہ کے چہرے پر لالی بکھری۔
“دارم يو مين۔۔۔۔۔ اچھا جناب بيوی کے آتے ہی بدل گئے” وہ اسے صلواتيں دينے لگی
“ہاہاہا۔۔ اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں ميں” وہ کہان ہاتھ آنے والا تھا۔
“رات ميں بات کرواتا ہوں” اسے تسلی ديتے دارم نے فون بند کيا۔
ايک مال کے سامنے گاڑی روکتے ديکھ کر وليہ پر يکدم وحشت سوار ہوئ۔
“ميں نے آپ کو کہا تھا مجھے کچھ نہيں لينا” وہ خفگی بھری نظروں سے دارم کو ديکھ کر بولی۔
“اچھا۔۔ مجھے شايد سنائ کم دینے لگ گيا ہے۔۔ کل ہی ڈاکٹر کے پاس جاتا ہوں” وہ مصنوعی سنجيدگی سے بولا۔
“اب تو آگۓ ہيں۔۔ اب اتريں” اپنی جانب کا دروازہ کھولتے اسے بھی اترنے کا اشارہ کيا۔
“آپ خود ہی چلے جائيں۔۔ مجھے نہيں اترنا” وہ ہٹ دھرمی سے بولی۔
دارم نے گہری سانس کھينچی
“يہاں کوئ ايسا نہيں جو آپ کو جانتا ہو۔ لہذا کوئ آپ کو تمسخر بھری نظروں سے نہيں ديکھے گا۔ وليہ لوگوں کے پاس اتنا فالتو ٹائم نہيں ہوتا کہ وہ لوگوں کو دیکھتے اور ان کے بارے ميں تبصرے کرتے رہيں” اسے تحمل سے سمجھايا۔
“مجھے وحشت ہورہی ہے۔۔ ڈر لگ رہا ہے” اس کے اندر يہ کيسا خوف تھا۔
“ميں آپ کے ساتھ ہوں نا۔۔ اتريں شاباش” دارم نے پھر سے اسے سمجھايا۔
وہ نفی ميں سر ہلانے لگی۔
“وليہ” اب کی بار دارم نے آنکھيں دکھائيں۔
“اچھا اب ڈرائيں تو مت۔۔” اسے دارم کا رات والا روپ ياد آيا جب زور سے چلاتے اس نے وليہ کو جھنجھوڑا تھا۔ وہ اس کے غصے سے بہت ڈر گئ تھی۔
اب بھی ڈر کر جلدی سے گاڑی سے اتری۔
“بہت برے لگ رہے تھے ابھی آپ۔۔ آنکھيں دکھاتے” منہ پھلاۓ مزے سے اسکے ساتھ چلتے اس کا بازو تھامتے اسی کی برائياں کررہی تھی۔
“آپ بھی بہت بری لگتی ہيں يوں بے وجہ ڈرتی ہوئيں۔۔ بزدل سی وليہ سے مجھے بالکل محبت نہيں ہے” وہ بھی مزے سے اسکی برائياں اسی سے کر رہا تھا۔
“ابھی تو ايک دن ميں بری لگنے لگ گئ” وليہ نے چڑ کر جواب ديا۔
“ہاں نا۔۔ پيار تو دکھا ہی نہيں رات سے۔۔ کبھی رونا دھونا تو کبھی لڑنا۔۔” مسکراہٹ دباتے وہ پھر سے اسے چڑانے لگا۔
“خود تو بڑا پيار نچھاور کرديا ہے” غصے سے بولتے وہ کيا کہہ گئ۔ سمجھ تب آيا جب دارم کھل کر ہنسا۔۔
“ميں نے تو ممی اور ڈيڈی کے سامنے بھی پيار نچھاور کيا تھا ۔۔ آپ ہی لال ٹماٹر بن رہيں تھيں” دارم کا گمبھير لہجہ اس کی بولتی بند کرگيا۔
اسے پرواہ نہيں تھی اس لمحےکون اسے ديکھ رہا ہے۔ وہ کہاں آگئ ہے۔۔
اور يہ نوک جھونک ہی تو دارم نے اسکی زندگی کا حصہ بنانی تھی۔
اسے جواب دينے کی بجاۓ وہ تيزی سے ايک دکان ميں داخل ہوئ۔
پھر دارم نے اسے کيا کچھ دلا کر ديا وہ شمار نہيں کرپارہی تھی۔
“بس کر ديں ميں اب گر جاؤں گی کہيں” وہ تنگ پڑ گئ تھی مگر دارم پھرتے ہوۓ تنگ نہيں پڑا تھا۔
“لوگ غلط کہتے ہيں کہ مردوں کو دکان دکان پھرنے سے چڑ ہوتی ہے” وليہ نے اسکی مستقل مزاجی دیکھ کر چوٹ کی۔
“ہاں تو يہ آفر محدود مدت کے لئے ہے ۔۔ آئندہ آپ کو فکس ٹائم ملے گا اسی ميں شاپنگ کرنی ہوگی۔” وہ ہری جھنڈی دکھا کر بولا۔
“پھر تو ميں اپنے الفاظ واپس ليتی ہوں” وليہ نے جلدی سے بات بدلی۔
دارم مسکرا کر رہ گيا۔
“کچھ کھانا ہے؟” دارم کے پوچھنے پر اس نے نفی ميں سر ہلايا۔
“نہيں کہيں بيٹھ کر نہيں۔۔ يا تو گھر چليں يا پھر گاڑی ميں بيٹھ کر کچھ کھلا ديں” وہ واقعی ميں تھک گئ تھی۔
دارم اسے لئے گاڑی کی جانب بڑھا۔