Saturday, July 11, 2020
Home Urdu Short Stories Mera Naam o Nishan Mile | Episode 3

Mera Naam o Nishan Mile | Episode 3

وليہ کی دکان پر بھتہ خوری کی نيت سے آۓ تھے اور دلاور کو اچھا خاصا دھمکا کر گۓ ہيں۔
يہ کيسے ممکن تھا کہ سب کو پتہ چل جاتا اور سائرہ کو پتہ نہ چلتا۔
رات ميں جس وقت وليہ دکان بند کرکے واپس آئ۔ سائرہ اسے گھر کے داخلی دروازے سے اندر آتے ديکھ کر کچن سے نکل کر صحن ميں آئيں۔
“وليہ يہ ميں کيا سن رہی ہوں بيٹا” پريشان حال سائرہ کو ديیکھ کر لمحہ بھر کو وليہ حيران ہوئ۔
“کيا ہوا اماں؟” يمينہ اور مصطفی بھی پريشان سے چارپائ پر بيٹھے نظر آئے۔
“مجھے پتہ چلا ہے کہ کچھ لوگ بھتہ خوری کی نيت سے تيری دکان پر آئے تھے۔” سائرہ نے جيسے ہی اسے پريشانی کی وجہ بتائ وليہ ٹھنڈی سانس بھر کر رہ گئ۔
يمينہ اتنی دير ميں پانی لے کر آئ۔
وليہ نے چادر اور کندھے سے لٹکا بيگ اتار کر چارپائ پر رکھا۔
سائرہ کو نظر انداز کرکے وہ يمينہ سے پانی کا گلاس لے کر چاپائ پر بيٹھتے ايک ہی سانس ميں پی گئ۔
“وليہ ديکھ بہانا مت کرنا کوئ” سائرہ اسکی خاموشی کو جانتی تھيں کہ وہ اتنا وقت تبھی ليتی تھی جب اسے کوئ بہانا گڑھنا ہوتا تھا۔
“اماں ايسا نہيں ہے۔ آپ ادھر بيٹھيں” خالی گلاس يمينہ کو تھماتے اس نے سائرہ کا ہاتھ تھام کر اپنے پاس بٹھايا۔
“ديکھو اماں! گھر سے باہر کی دنيا آپ کو ہر قدم پر نگلنے کو تيار ہوتی ہے۔ بچتے وہی ہيں جو اس دنيا کے ساتھ اور اسکے مطابق اس دريا ميں بہتے جائيں۔ جس نے موجوں کا رخ اپنے مطابق موڑا وہاں پھر طوفان ہی آتا ہے اور ايسے طوفان دريا ميں موجود ہر چيز کو نگل جاتے ہيں۔ آپ يہ سمجھو کہ ميں بھی اب اس دريا ميں نکل کھڑی ہوئ ہون۔ اور مجھے اسکی موجوں کے ساتھ بہنا ہے۔
ايسے ميں مجھے اس کاساتھ دينا ہے۔ وہ بھتہ خور تب تک ہمارے خلاف نہيں ہوسکتے جب تک ہم انکی بات نہيں مانتے۔ اگر انکار کيا تو وہ ہميں نگل جائيں گے” وليہ نے بہت طريقے سے ماں کو سمجھانا چاہا۔
“تو بيٹا يہی تو کہہ رہی ہوں۔ تو۔۔ تو بس چھوڑ يہ سب۔ بند کر دکان۔ بيٹا ميری دنيا تم تينون ہی ہو۔ ميں برداشت نہيں کر پاؤں گی اگر تم تينوں ميں سے کسی کو بھی کچھ ہوا۔” سائرہ منہ پر ہاتھ رکھے رونے لگيں۔ کب سے ضبط کئے ہوۓ تھيں۔
“اماں۔۔ اماں۔۔ کچھ نہيں ہوتا۔ پليز آپ ايسے کريں گی تو ہمارا کيا ہوگا۔ مجھے آپ کے حوصلے اور ہمت کی ضرورت ہے۔ اگر آپ يوں ہار کر بيٹھ گئيں تو ميں کچھ نہيں کرپاؤں گی۔ اماں پيٹ پالنے کے لئے بہت کچھ ديکھنا پڑتا ہے۔ اور مجھے ان چند دنوں ميں اندازہ ہوگيا ہے۔ مگر ميں آپ ميں سے کسی کو اس دنيا کی جھلک نہيں دکھانا چاہتی۔
اماں پليز ميرا حوصلہ بنيں مجھے کمزور نہ کريں” وليہ سائرہ کو ساتھ لگاۓ اشکبار ہوئ ۔ وہ بھی اس واقعہ کے بعد سے اب تک اپنے آنسو اندر ہی اندر جمع کئ ہوۓ تھی۔ اب ماں کو سامنے ديکھ کر ضبط کھو گئ۔
“ميں آپ لوگون کے لئے مضبوط چٹان بننا چاہتی ہوں۔ بھربھری ريت کا ٹيلہ نہيں” کہاں سے اسے ايسی بڑی بڑی باتيں آگئيں تھيں۔ سائرہ نہيں جانتی تھيں۔ مگر سچ ہے کہ باپ کا سائبان اٹھتے ہی بچے بڑے ہوجاتے ہيں۔ سائرہ کو وليہ کی باتيں سن کر اندازہ ہوگيا تھا۔
“ٹھيک ہے۔ ميری جان مگر ايک وعدہ کر۔ کہيں بھی تجھے ذرا سا خود کو بھی تکليف پہنچنے کا شائبہ تک ہوا۔ تو يہ کاروبار بند کردے گی۔ وليہ تيری جان سے بڑھ کر ہماری بھوک مجھے عزيز نہيں” سائرہ نے آنسو پونچھتے۔ اس کا چہرہ ہاتھون ميں لے کر محبت سے چور لہجے ميں کہا۔
“ميں وعدہ کرتی ہوں اماں۔ اب کھانا کھلا دو۔۔ بہت بھوک لگی ہے” ماں کی ہمت بندھتے ديکھ کر اس نے بھی خود پر ضبط کرکے موضوع ہی بدل ڈالا۔
“ہاں ہاں۔۔۔ چل يمينہ کھانا لگا” سائرہ نے دوسری چارپائ پر بيثھی يمينہ کو پکارا۔
“جی اماں” وہ بھی ماں اور بہن کو روتا ديکھ کر پريشان تھی۔ آنسو اسکی بھی آنکھوں ميں رواں تھے۔ آنسو پونچھتے وہ اٹھی۔
________________________
“جی ڈيڈی ميں بس ممی کو لينے کے لئے نکل رہا ہوں۔ ہاں آپ دوسری گاڑی بھی بھجوا ديں۔ سامان ان کا اس پر آجاۓ گا۔ اور ميں ممی کو لے آؤں گا” گھڑی کی سوئيوں کو دو اور بارہ پر موجود ديکھ کر وہ تيزی سے سيٹ سے کھڑا ہوا۔ کورٹ کرسی کی پشت سے اٹھا کر پہنا۔ اسی اثناء ميں ياور کی اسکے موبائل پر کال آگئ۔
باپ سے بات کرتا ہوا وہ آفس سے نکل رہا تھا۔
جيسے ہی اپنے روم سے نکلا رياض صاحب جو لنچ کرنے ميں مصروف تھے دارم کو اپنی سيٹ کے پاس آتا ديکھ کر اٹھ کھڑے ہوۓ۔
“رياض صاحب ميں ائير پورٹ جارہا ہوں۔ کوئ ضروری کال آئے گی تو پليز آپ ہينڈل کر ليجئے گا دو ڈھائ گھنٹوں تک ميری واپسی ہوگی۔” رياض کو کام بتاتا ہوا وہ عجلت ميں بولا۔
“سر آپ کا لنچ۔ شہزاد تيار کر چکا ہے”
“نہيں ابھی ٹائم نہيں۔ شہزاد کو منع کرنا ياد ہی نہيں رہا۔ خير وہ آپ ديکھ ليجئے گا۔ ميں نکلتا ہوں” ہاتھ کے اشارے سے منع کرتے ہوۓ وہ تيزی سے باہر کی جانب بڑھا۔
_________________________
آج رش معمول سے زيادہ تھا يا پھر وليہ کو ہی محسوس ہورہا تھا۔
گيارہ بجے سے دکان پر دش بڑھتا جارہا تھا اور اسکے کام کرنے کی رفتار بھی۔ آج تو اسے لگ رہا تھا وہ شديد تھک جاۓ گی۔
کام زيادہ بڑھ گيا تو اس نے کچھ چيزيں ماں کو فون کرکے گھر سے بنانے کا کہا۔ تاکہ گاہک وقت پر اپنے مطلب کی چيز نہ ملنے پر خفا نہ ہوں۔
دلاور کو کال کرکے اس نے اپنے پاس آنے کا کہا۔
وہ پردہ ہٹا کر وليہ کے پاس آيا۔
“جی آپا؟”
“آج خير ہے رش کافی زيادہ ہے؟” وليہ نے کب سے دماغ ميں کلبلانے والا سوال پوچھا۔
“ہاں وہ آج کوئ جلوس ہے۔ تو بہت سے لوگ جو سڑک پر نکلے تھے وہ اب پھنس گۓ ہيں۔ ان کا نقصان ہے اور ہمارا فائدہ” دلاور نے مسکراتے ہوۓ وجہ بتائ۔
وليہ بھی مسکرائ۔
“اچھا ميں نے گھر سے کچھ چيزيں بنوا لی ہيں۔ تم کسی لڑکے کو بھيج کر منگوا لو۔ آج ضرورت سے زيادہ رش تھا تو مجھ سے اکيلے مينج نہيں ہوپايا۔” وليہ نےاسے کام بتايا۔
“لو۔ زبردست ہوگيا۔ ميں بس ابھی فخر کو بھيجتا ہوں” وہ جلدی سے کہہ کر واپس مڑا۔
___________________________
“باقر کيا مسئلہ ہے۔ يہ ٹريفک کيوں جام ہے يہاں؟” بيس منٹ ہو چکے تھے انہيں سڑک پر کھڑے نہ تو آگے سگنل تھا اور نہ ہی کوئ ناکہ کہ پھنسنے کی وجہ سمجھ آتی۔ دارم جلدی ائير پورٹ پہ پہچنا چاہتا تھا اور اتنی ہی دير ہورہی تھی۔ پورے دو ہفتوں بعد صدف واپس آرہی تھيں۔
دارم انہيں بہت مس کررہا تھا۔ وہ شروع سے ماں سے بہت قريب رہا تھا۔ اسی لئے ہميشہ ان کے ٹوررز پر جانے کے بعد وہ انہيں بہت مس کرتا تھا۔
تين بجے کی فلائيٹ تھی۔ وہ جو آدھے گھنٹے ميں پہنچنے کا سوچے ہوۓ تھا۔ بيس منٹ تو يہيں سڑک پر لگ گۓ تھے۔ اور اسکے علاوہ کوئ اور راستہ بھی نہيں تھا۔ جہاں سے ائير پورٹ جايا جاتا۔
“سر ميں باہر نکل کر ديکھتا ہوں” اسکے ڈرائيور نے باس کی پريشان آواز سن کر باہر جا کر لوگوں سے پوچھنے کا سوچا۔ اور اگلے ہی لمحے وہ باہر جاچکا تھا۔
کچھ دير بعد ايک دو لوگون سے بات کرکے وہ واپس گاڑی ميں آکر بيثھا۔
“سر آگے کوئ جلوس ہے۔ دو گھنٹے تک ہم يہاں سے نہيں نکل سکتے” اسکی بات پر دارم اچھا خاصا تپ گيا۔
“کيا مصيبت ہے” جھنجھلاہٹ عروج پر تھی۔
“يہاں سے واپس بھی نہيں نکل سکتے”دارم نے پيچھے مڑ کر اپنے پيچھے گاڑيوں کی لمبی قطار ديکھ کر سوا کيا يا خود سے مخاطب ہوا۔ باقر سمجھنے سے قاصر تھا۔
“نہيں سر بہت مشکل ہے” باقر نے بھی گردن موڑ کر پيچھے ديکھا اور مايوسی سے گويا ہوا۔
اب دو گھنٹے انہيں گاڑی ميں ہی بيثھنا تھا۔ دارم کو سوچ کر ہی کوفت شروع ہوگئ۔
“يار تم ايسا کرو يہاں کہيں سے کچھ کھا پی لو۔ ميری وجہ سے تمہارا لنچ بھی نکل گيا” دارم نے کھڑکی سے باہر ديکھتے ہوۓ کہا۔ اردگرد کافی سارے چھوٹے چھوٹے ہوٹل تھے۔
“سرآپ نے لنچ کر ليا تھا؟” باقر نے اسکی بات کے جواب ميں سوال کيا تھا۔
“نہيں يار۔ پر تم ميری ٹيشنش نہ لو۔ کچھ کھا لو”دارم نے سہولت سے انکار کيا۔ ساتھ ہی موبائل نکال کر کوئ نمبر ملاتے کان سے لگایا۔
باقر اسکے قطيعت بھرے انداز پر باہر نکلا۔ دائيں جانب بنے “مصطفی ہوٹل” کو ديکھ کر اسکے قدم اس ہوٹل کی جانب اٹھے۔
“جی ڈيڈی ميں يہاں ٹريفک ميں پھنس گيا ہوں۔ اور ابھی دو گھنٹے تک يہاں سے نکلنے کا کوئ چانس نہيں” اس نے ياور کو کال کی۔
“اوہ بيٹا کوئ بات نہيں۔ ڈرائيور اب تک ائير پورٹ پہنچ چکا ہوگا۔ تم کہاں پھنسے ہو؟” ياور اسکی بات سن کر پريشان ہوۓ۔ دارم نے جگہ کا نام بتايا۔
“چلو تم پريشان نہ ہو۔ اور پليز کچھ کھا لينا۔ اب اتنی دير خالی پيٹ مت رہنا۔ صبح تم نے ناشتہ بھی ڈھنگ سے نہيں کيا تھا” باپ کے لہجے ميں اپنے لئے
اتنی فکر ديکھ کر وہ مسکرايا۔
“جی ميں ديکھتا ہوں” الواداعی کلمات کے بعد اس نے کال بند کردی۔
وقت گزاری کو گاڑی ميں گانے لگا دئيے۔ کچھ ہی دير مين باقر گاڑی ميں آکر بيٹھا۔ اسکے ہاتھ ميں ڈسپازيبل لنچ باکس تھا۔ جس ميں بريانی تھی۔
باقر کے بيٹھتے ہی اشتہا انگيز خوشبو پوری گاڑی ميں پھيل گئ۔
اسے لگا اسکی بھوک چمک اٹھی ہو۔
“يار يہ کہاں سے لاۓ ہو؟” دارم سے جب رہا نہ گيا تو باقر سے پوچھا۔
باقر دو چمچ کھا چکا تھا نہيں تو وہی اسے دے ديتا۔
“سر ميں اور لا ديتا ہون” وہ جلدی سے بريانی کی پليٹ سائيڈ پر رکھ کر اترنے لگا۔
“ارے نہيں يار تم کھاؤ۔ کوئ سروس بوائۓ ہوگا ميں اس سے منگوا ليتا ہوں” دارم نے اسے اترنے سے منع کيا۔
“سر وہ مصطفی ہوٹل سے لی ہے۔ ميں وہاں کے سروس بواۓ کو آواز ديتا ہوں” اس نے فورا کھڑکی نيچے کرکے سامنے کھڑے ايک لڑکے کو اشارہ کيا۔ وہ تيزی سے گاڑی کی جانب آيا۔
“يار بريانی کی ايک اور پليٹ بھجوا دو” باقر نے لڑکے کے پاس آتے ہی آرڈر ديا۔
“جی صاحب ابھی لاتا ہوں” دارم نے اچٹتی نگاہ ہوٹل پر ڈالی۔ بند مٹھی ٹھوڑی کے نيچے رکھے ہوٹل کے باہر کے حصے سے ہوتی اسکی نظر جيسے ہی اندرونی حصے کی جانب پڑی وہ چونکا۔
دکان کے ايک جانب پردہ سا لگا کر الگ حصہ بنايا گيا تھا۔
ابھی وہ غور کرہی رہا تھا کہ پردہ ہٹا اور ايک لڑکی چادر اوڑھے بريانی کی پليٹ اسی لڑکے کو پکڑا رہی تھی جو ابھی ابھی باقر سے آرڈر لے کر گيا تھا۔
يکدم دارم کو احساس ہوا اس ہوٹل پر کوئ کک کچھ پکاتا نظر نہيں آرہا۔
تھوڑی دير بعد پھر پردہ ہٹا اور وہی لڑکی ايک اور لڑکے کو سموسوں کی پليٹوں سے بھری ٹرے پکڑاتی نظر آئ۔
کيا حزن تھا اس چہرے پر۔ عجيب سی نفاست تھی۔ دارم کچھ لمحے پلکيں جھپکاے اسے ديکھتا رہا۔ يہاں تک کہ پردہ پھر سے واپس نہيں گرگيا۔
اسی اثناء ميں دلاور بريانی کی پليٹ لے کر گاڑی کی جانب آيا۔
اس کی تيز نظر سے دارم کا ٹکٹکی باندھ کر وليہ کے حصے کی جانب ديکھنا اوجھل نہيں رہ سکا۔ يکدم اسکے چہرے کے زاويے تن گۓ۔
دارم نے اسے آتا ديکھ کر اپنی جانب کا شيشہ گرايا۔
جسے ہی دلاور اسے پليٹ پکڑا کر مڑنے لگا۔ دارم نے اسے آواز دی۔
“سنو” اسے پاس آنے کا اشارہ کيا۔
دلاور منہ بناتا اسکی گاڑی کے قريب آيا۔
“تمہارے ہوٹل ميں يہ سب کون پکاتا ہے؟” دارم کے سوال پر چند پل وہ اسے خشمگيں نظروں سے گھورتا رہا۔
“آم کھاؤ صاحب پيڑ مت گنو” وہ ہر لفظ چبا چبا کر بولا۔
“کيا وہ لڑکی پکاتی ہے يہاں؟” دارم نہيں جانتا تھا کہ وہ بے حد غلط بات غلط جگہ پوچھ رہا ہے۔
“بات سنو صاحب! يہ تمہارا پيسہ اور تمہاری سوچ تمہيں مبارک۔ ميری آپا کو ايسی ويسی نظر سے ديکھا تو آنکھيں يہيں نکال دوں گا۔ کھاؤ اور اپنا راستہ ناپو” دلاور غصے سے بپھر گيا۔ وليہ انکی عزت تھی۔
باقر اور دارم ہقا بقا اسکی دھمکی سن رہے تھے۔
دارم نے تو يونہی تجسس کے تحت پوچھا تھا وہ نہيں جانتا تھا کہ يہ اسکی سوسائٹی نہيں جہاں عورت کی عزت اور غيرت والی کوئ بات نہيں ہوتی۔ جگہ چھوٹی تھی مگر سوچ ان کی سوسائٹی سے کہيں بڑی تھی۔
“کيا بکواس کررہے ہو” باقر يکدم غصے ميں آيا۔ دارم نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے خاموش رہنے کا اشارہ کيا۔
“اٹس اوکے يار۔۔ معذرت بھائ۔ ميں نے يونہی پوچھا تھا۔ يقين جانو کوئ غلط نيت نہيں تھی۔ کھانا بہت لذيذ ہے۔ شکريہ” دارم نے جلدی سے بات سنبھالی۔
دلاور ہونہہ کرکے چلا گيا۔
دارم نے ايک بار پھر نادانستہ اس جگہ ديکھا۔ نجانے کيا سحر محسوس ہوا۔

I saw your face in a crowded place
And I don’t know what to do
‘Cause I’ll never be with you
گاڑی ميں بجتے گانے کے بول اور موقع اسے يکدم بالکل ايک سے لگے۔ دارم نے اب کی بار نظروں کو اس جانب جانے سے روکا۔
يہ کيا تھا؟ کيوں تھا؟ وہ تو بڑے عام سے حليے ميں موجود تھی۔ پھر ايسا کيا خاص تھا۔ دارم سمجھ نہ سکا۔