Saturday, August 8, 2020
Home Urdu Short Stories Mera Naam o Nishan Mile | Episode 4

Mera Naam o Nishan Mile | Episode 4

کيا بات ہے يار تم کچھ دنوں سے بہت پريشان سے لگ رہے ہو” کافی دن بعد دونوں کو فرصت سے ملنے کا موقع ملا تھا۔ ملتے تو روز تھے مگر بس سلام دعا اور پھر اپنے اپنے گھروں کو چلے جاتے تھے۔
“کچھ خاص نہيں۔ تم سناؤ تمہاری نوکری کيسی چل رہی ہے” وہ جو کسی گہری سوچ ميں تھا۔ شہزاد کی بات کو جھٹلا کر موضوع بدلا۔
“شکر ہے يار بہت اچھا کام چل رہا ہے۔ سر بہت خوش ہيں۔ اور تمہيں پتہ ہے انہوں نے مجھے بی اے کرنے کا کہا ہے۔ ميں نے پڑھائ پھر سے شروع کردی ہے۔ بلکہ کچھ سمجھ نہ آۓ تو سر يا باقی آفس کے لوگ مجھے پڑھا بھی ديتے ہيں۔” شہزاد پرجوش ہوا۔
“يار اميروں ميں بھی ايسے نيک لوگ بہت کم ہوتے ہيں” دلاور کی بات پر وہ سر ہلا کر رہ گيا۔
“ليکن ميں اب بھی يہی کہوں گا کہ تم بہتر ہے کہ اپنی پريشانی مجھ سے شئير کرلو۔ ميں حل نہ کرسکا تو ہوسکتا ہے کوئ بہتر مشورہ ہی دے دوں” چند لمحوں کی خاموشی کے بعد شہزاد نے پھر سے وہی موضوع چھيڑا۔
دلاور نے چند پل کچھ سوچا۔ پھر ٹھنڈی سانس بھری۔
“مجھے جماعت والوں کے ارادے کچھ ٹھيک نہيں لگ رہے۔ ہم بھتہ خوری کے لئے بھی مان گۓ ہيں۔ مگر کوئ نہ کوئ روز ہوٹل آکر بيٹھ جاتا ہے اور آپا کے مخصوص حصے کی جانب نظر لگا کر رکھتا ہے۔ يار مجھے آپا کی بہت فکر ہورہی ہے۔”دلاور کی بات سن کر شہزاد بھی پريشان ہوا۔ سب جانتے تھے کہ يہ جماعت والے حکومت کا کام کم اور غنڈوں والے کام زيادہ کرتے تھے۔
وہ يہ بھی جانتے تھے کہ وہ ان کا مقابلہ کسی صورت نہيں کرسکتے۔
“تم جانتے ہو۔۔ اللہ نے آپا کو بنايا بھی کتنا پيارا ہے۔” دلاور کے لہجے ميں بھائ جيسی فکر تھی۔ وہ سب ايک دوسرے کے لئے ايسے ہی پريشان ہو جاتے تھے۔ بچپن سے ايک دوسرے کو جانتے تھے۔
“ميرے ذہن ميں ايک آئيڈيا آيا ہے” شہزاد جو کچھ دير پہلے تک پريشان تھا يکدم جوش سے بولا۔
“بتاؤ” دلاور بھی متجسس ہوا۔
“ميرے باس کے بہت سے لنکس ہيں۔ يقينا وہ پوليس تک بھی پہنچ رکھتے ہوں گے۔ اور سب سے بڑھ کر انکی امی سوشل ورکر ہيں۔ کيوں نا ان سے بات کی جاۓ۔” شہزاد کی بات پر دلاور نے نفی ميں سر ہلايا۔
“نہيں يار۔ يہ سب بڑے آپس ميں ملے ہوتے ہيں۔ تمہارا کيا خيال ہے کہ يہ جو پوليس والے ہيں يہ اتنے ہی اچھے ہيں۔ ارے يہ جماعت والے جو اتنا ہمارے سروں پر ناچتے ہيں۔ انہی کی شہ پر ناچتے ہيں۔ انہوں نے بھی اپنے علاقے کے حوالے سے کميشن رکھے ہوتے ہيں” دلاور کی بات پر شہزاد کا سب جوش جھاگ بن کر بيٹھ گيا۔
“يار تمہاری بات ٹھيک ہے مگر کوشش کرنے ميں کيا حرج ہے۔ يہ زمانہ آپا جيسی لڑکيوں کو ہضم نہيں کرتا۔ يا تو نگل جاتا ہے يا اگل ديتا ہے۔ کيا ہم ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر تماشائ بنے تماشا ديکھتے رہيں گے۔ انکی نظر جس عورت پر پڑ جاۓ ہم سب جانتے ہيں کہ۔۔۔”
“پليز يار! اللہ انہيں اپنی حفاظت ميں رکھے” شہزاد کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی دلاور نے کاٹ دی۔ لہجے ميں خوف تھا۔
اسی خوف کی وجہ سے ہی وہ پريشان تھا۔
وليہ سے وہ ذکر نہيں کرسکتا تھا۔ وہ بيچاری پہلے ہی مصيبتوں کی ماری اور پريشان ہو جاتی۔
شہزاد خاموش ہوگيا مگر دل ميں پکا ارادہ کرليا کہ دارم سے بات کرکے رہے گا۔
_____________________________________
جب سے وہ چہرہ نظر ميں آيا تھا نجانے کيا بات تھی کہ وہ بھول نہيں پارہا تھا۔ مسلسل چند دن سے وہ اسے سوچے جارہا تھا۔ اس لڑکے نے اسے آپا کہا تھا۔ مگر وہ وہاں کام کيوں کررہی تھی۔
باہر کا ملک ہوتا تو کبھی وہ توجہ نہ ديتا وہاں مرد اور عورت کا کسی بھی طريقے سے کمانا عام بات تھی۔
مگر پاکستانی معاشرے ميں عورت کا يوں مردوں کے معاشرے ميں نکل کر کمانا عام بات نہيں تھی۔
آفس جاب عام ہوگئ تھی مگر دکان پر اور وہی بھی ايک لوکل ہوٹل ميں يہ سب کرنا عام بات نہيں تھی۔ يقينا مجبوری تھی۔
اور وہ مجبوری کيا تھی يہی بات اسے بے چين کررہی تھی۔
آج بھی وہ ايک ميل سامنے کھولے بيٹھا تھا۔ خود تو آفس ميں تھا مگر دل اور دماغ کہيں اور تھا۔ يکدم کمرے کے دروازے پر ناک ہوا۔
“مے آئ کم ان” ايک نسوانی آواز اور دلکش چہرہ دروازے ميں نمودار ہوۓ۔
“اوہ حاجرہ! واٹ آ پليزينٹ سرپرائز” آنے والی کو ديکھ کر وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔ ميز کے دوسری جانب جاتے دونوں نے گرمجوشی سے ہاتھ ملايا۔
“سوچا بہت بزی ہوگۓ ہو۔۔ تو کراچی آکر خود ہی مل لوں۔۔ تم نے تو پشاور نہ
آنے کی قسم کھا رکھی ہے” رائل بليو کلر کر ديدہ زيب سوٹ زيب تن کئے وہ ہميشہ کی طرح دمک رہی تھی۔
“کب آئ تم؟” وہ اسے لئے آفس کے صوفے کی جانب آيا۔ ہاتھ سے بيٹھنے کا اشارہ کيا۔
“بس کل ہی ہم سب پہنچے ہيں۔ پھوپھو سے ميں مل چکی ہوں۔ تمہارا پوچھا تو پتہ لگا جناب آج کل جلدی جاتے اور دير سے آتے ہيں۔ سوچا آفس ہی چل کر پکڑوں” ايک ہاتھ سے خوبصورت لمبے بالوں کو پيچھے کرتے وہ مسکراتے لہجے ميں بولی۔
دارم کے چہرے پر بھی مسکراہٹ مسلسل احاطہ کئے ہوۓ تھی۔ وہ سب کزنز آپس ميں بہت اچھے دوست تھے۔ حاجرہ اور شاکر تو تھے بھی اسکے ہم عمر اسی لئے ان سے بہت بنتی تھی۔
“اس کا مطلب ہے اگلے دنوں ميں ۔۔ ميں اور بھی بزی ہونے والا ہوں” سب کا سن کر وہ مسکراتے ہوۓ بولا۔
“جی بالکل۔۔ کيونکہ ہم سب کا ارادہ ايک دو دن کے لئے تمہيں چرانے کا ہے” حاجرہ کی بات پر اس نے ہلکا سا قہقہہ لگايا۔
“ويل ميں چوری ہونے کے لئے تيار ہوں” ہاتھ اٹھا کر اس نے جيسے گيو اپ کيا۔
“گڈ بوائے۔۔ تو بس اٹھو پھر اور سب سے مل کر پلين کرتے ہيں۔” وہ عجلت بھرے لہجے ميں بولی
“يار ابھی تو نہيں ميں لنچ آوورز ميں تم لوگوں کو جوائن کرتا ہوں۔ دودن کے سب کام ورکرز کے سپرد کرتے بھی تو وقت لگے گا۔۔ سو پليز کچھ گھنٹے دو”وہ ملتجی لہجے ميں بولا۔
“کچھ گھنٹے۔۔ ياد رکھنا۔۔” وہ اسے باور کرواتے لہجے ميں بولی۔
“ہاں ہاں کچھ گھنٹے۔” اس نے تصديق کی۔
“تمہاری بات پر يقين کرکے جارہی ہوں۔ جانتی ہوں کا کميٹڈ بندے ہو۔۔” وہ اسے جتا کر اٹھی۔
“يس آئ ايم۔۔ ميم” وہ ايک ہاتھ سينے پر رکھ کر مسکراتے ہوۓ بولا۔
“اوکے سی يو سون” وہ بھی جيسے آئ تھی ويسے ہی اٹھ کر چلی گئ۔
دارم بھی اپنی کرسی واپس سنبھالتے پوری طرح کام ميں مگن ہوگيا۔
گھنٹہ ہی گزرا تھا کہ دروازہ ناک ہوا۔
يس کی آواز پر شہزاد اندر داخل ہوا۔
“ہاں بھئ شہزاد کيا ہوا؟” دارم نے اسے ايک نظر ديکھ کر توجہ واپس ليپ ٹاپ پر مرکو‌ز کی۔
“سر وہ آپ سے کچھ ضروری بات کرنی ہے” شہزاد انگلياں آپس ميں الجھاۓ اسکی ميز کے قريب آتے جھجھکتے لہجے ميں بولا۔
“ہاں ہاں بيٹھو خيريت ہے۔۔ پريشان لگ رہے ہو” ايک نگاہ ميں ہی وہ شہزاد کی پريشانی بھانپ گيا تھا۔ مخاطب اس سے تھا مگر انگلياں مسلسل کی بورڈ پر چل رہی تھيں۔
“سر وہ ہمارے محلے ميں ايک آپا ہيں۔ انہوں نے ہميں ايف اے کا پڑھايا بھی ہے۔،۔” اور پھر شہزاد اسے وليہ کے بارے ميں سب بتاتا چلا گيا۔ اسکی بات سن کر دارم چونکا۔
“ان کے ہوٹل کا کيا نام ہے؟” دارم نے اب کی بار ليپ ٹاپ سائيڈ پر کرکے مکمل توجہ شہزاد پر دی۔
“سر ۔۔ مصطفی ہوٹل” شہزاد اسکے توجہ دينے پر تھوڑا پرجوش ہوا۔
دارم نے لمحہ بھر کو آنکھيں بند کرکے کھوليں۔ دونوں ہاتھ آپس ميں ملا کر مٹھی بنائ اور ہونٹوں کے قريب جمائ۔
وہ جس کے بارے ميں اتنے دنوں سے سوچ رہا تھا۔ اس کے بارے ميں جاننے کے لئے پريشان تھا۔ اسے اندازہ ہی نہيں تھا کہ اسکے قريب موجود ايک بندہ اسکے ماضی حال سب کے بارے ميں واقف ہے۔
گلا کھنکھار کر اس نے ہاتھ نيچے کئے۔
“يہ معاشرہ ايسا ہی ہے۔ عورت کی آزادی کی ہر سانس چھيننے والا۔ خير تم فکر مت کرو۔ ميں کوئ حل نکالتا ہوں۔ ميرے بہت سے پوليس مين جاننے والے ہيں۔ اور ہاں دلاور کو کہنا ہر پوليس والا ان غنڈوں کے ہاتھوں بکا نہيں ہوتا۔ کچھ کرتے ہيں۔” شہزاد نے سب گتھياں سلجھا دی تھيں۔
“بہت شکريہ سر ۔۔ مجھے اميد تھی کہ آپ ہی کچھ کرسکتے ہيں” شہزاد خوشی سے جھلملاتے لہجے ميں بولا۔
“نہيں يار ميں نہيں۔۔ وہ ۔۔ اوپر والا کرتا ہے۔ ہم تو بس وسيلہ بنتے ہيں” دارم نے اوپر کی جانب انگلی کرتے اسے باور کروايا۔
يکدم گھڑی پر نظر پڑی تو لنچ ٹائم ہونے والا تھا۔
“چلو تم کام کرو۔، مجھے ذرا ضروری کہين جانا ہے۔ ميں کچھ دنوں تک تمہيں تسلی بخش حل بتاؤں گا” شہزاد کو مطمئن کرکے وہ اپنی سيٹ سے اٹھا۔
“جی جی سر” شہزاد اسے اٹھتے ديکھ کر جلدی سے سيٹ سے اٹھا اور اسکے نکلنے سے پہلے خود اسکے کمرے سے باہر جا چکا تھا۔
_________________________
وہ سب اس وقت مشہور ہوٹل ميں بيٹھے لنچ کررہے تھے۔
“ہميں ہر تين ماہ بعد ايسی گيٹ ٹوگيدر رکھنی چاہئيے۔ کتنا ريفريشنگ لگ رہا ہے سب” طلحہ کی بات کی سب نے تائيد کی۔ وہ سب اپنی اپنی مصروفيات کو ترک کرکے مل بيٹھے تھے اور يہ پروگرام حاجرہ کا تھا۔
“تو بس اس پروگرام کو اور يادگار بنانے کے لئے ہم سب کل دارم کے فارم ہاؤس پر دو دن کے لئے جارہے ہيں۔” حاجرہ نے ايک اور پروگرام ترتيب ديا۔
“بالکل ۔۔ کل ہی چلتے ہيں” دارم نے فورا ہامی بھری۔
شاکر، طلحہ، فائقہ، فضا اور عالم بھی راضی ہوئے۔ فضا اور عالم کی چںد ماہ پہلے ہی شادی ہوئ تھی۔ باقی سب ابھی کنوارے ہی تھے۔
“ليکن پليز۔۔ ہميں تمہارے وہاں کے کک کے ہاتھ کا کھانا نہيں کھانا۔۔ کسی اور کا ارينج کرنا ہوگا۔” عالم نے بے چاری سی شکل بنا کر کہا۔
اسکی دہائ پر دارم کے ذہن کے پردوں پر چادر ميں لپٹا چہرہ چھم سے آيا۔
وہ جو اس کے پاس جانے کا بہانہ تلاش رہا تھا۔ اب اچھا بہانہ ملا تھا۔
“ميرے آفس کا ايک کک ہے اور اسکی بہن ہے۔ ميں ان سے بات کرتا ہوں۔ وہ مان گئے تو دو دن کے لئے انہيں لے جائيں گے۔” دارم کی بات پر سب نے سر ہلايا۔
______________________________
رات کا وقت تھا۔ وہ اپنے کمرے ميں بيڈ پر نيم دراز کتاب ہاتھ ميں پکڑے کيا پڑھ رہا تھا اسے نہيں معلوم۔ وہ مسلسل وليہ کو سوچے جارہا تھا۔ اگر اس نے انکار کرديا۔
کچھ سوچ کر پاس رکھا موبائل اٹھايا۔ شہزاد کے نمبر پر کال ملائ۔
“السلام عليکم! سر۔۔ خيريت” اس نے کبھی شہزاد کو اس وقت کال نہيں کی تھی۔ اس کا حيران ہونا بنتا تھا۔
“ہاں۔۔ اصل ميں ميرے کچھ کزنز آۓ ہوۓ ہيں۔ وہ ميرے فارم ہاؤس جانا چاہ رہے ہيں دو دن کے لئے۔ ويسے تو ميرے کک وہاں موجود ہيں۔ مگر انہيں انکے ہاتھ کا کھانا کچھ خاص پسند نہيں۔ تو ميں سوچ رہا تھا کہ تمہيں ساتھ لے چلوں اور۔۔ وہ تم جو اس لڑکی کا بتا رہے تھے۔ تمہارے محلے والی۔۔۔” دارم جان بوجھ کر وليہ کے لئے لہجے ميں سرسری پن لايا۔
“جی جی۔۔ وليہ باجی” شہزاد نے جلدی سے اسکا نام ليا۔
“ہاں ہاں۔۔ وہی۔ کيا وہ چل سکتی ہيں۔ ميں چاہ رہا تھا کہ ايک بار مجھے اسکے کھانوں کا اندازہ ہو جاتا تو ميں اس کے لئے کچھ اور سوچ رہا تھا” دارم نے لہجے کو حتی المقدور سرسری ہی رکھا۔
“جی جی سر۔۔ بلکہ ميں ايسا کرتا ہوں۔ آپ کو ان کا نمبر ديتا ہوں۔ آپ خود تفصيل سے بات کرليں۔ ” شہزاد اسکی شرافت سے واقف تھا اسی لئے فورا وليہ کا نمبر دينے کا فيصلہ کربيٹھا۔ پھر اسے اميد تھی کہ دارم اسکے لئے کچھ بہتر سوچ رکھتا ہوگا۔ وہ وليہ کے لئے يہ موقع ہاتھ سے جانے نہيں دينا چاہتا تھا۔ دکان ميں اسکے لئے بس خطرہ ہی خطرہ تھا۔
“تم ايسا کرو پہلے ايک بار ان سے اجازت لے لو۔ ميرے بارے ميں بتا دو۔ يہ نہ ہو کہ وہ برا مان جائيں۔ ” شہزاد کی باتوں سے اتنا تو اندازہ ہوگيا تھا کہ وليہ رکھ رکھاؤ والی ہے۔
“جی جی سر ميں ان سے پوچھ کر آپکو بتاتا ہوں” شہزاد کو بھی يہی مناسب لگا۔
“ٹھيک ہے ميں تمہارے ميسج کا انتظار کررہا ہوں۔ کيونکہ کل جانا ہے لہذا آج بات کرنا ضروری ہے”دارم نے سہولت سے کہا۔
“جی سر آپ بس دس منٹ انتظار کريں” شہزاد نے کہتے ساتھ ہی فون بند کرکے وليہ کو فون کيا۔
_______________________
وہ اس وقت بيٹھی کل کی چيزوں کی لسٹ تيار کررہی تھی۔ موبائل پر شہزاد کا نمبر ديکھ کر چونکی۔ وقت ديکھا تو رات کے ساڑھے نو کا وقت تھا۔ اس وقت تو وہ کبھی فون نہيں کرتا تھا۔
پريشان ہوتے فون اٹھايا۔
“کيا بات ہے؟ گھر ميں سب خير ہے؟” سلام دعا کرتے ساتھ ہی اس نے پريشانی سے استفسار کيا۔
“ہاں باجی۔۔ سب خير ہے۔ وہ آپ سے کچھ بات کرنی ہے۔ آپ مصروف تو نہيں” شہزاد کی بات پر وہ تھورا ريليکس ہوئ۔
“ارے نہيں کہو کيا بات ہے”
“ميرے باس اپنے کزنز کے ساتھ اپنے فارم ہاؤس جارہے ہيں۔ دو دن کے لئے انہيں کک چاہئيں۔ ميں نے کچھ دن پہلے آپکا ذکر کيا تھا ان سے تو وہ آپ کو اور مجھے لے کر جانا چاہتے ہيں۔” شہزاد کی بات پر وہ ٹھٹھکی۔
“تم نے ميرا ذکر ان سے کيوں کيا تھا؟” وليہ کے لہجے ميں ناگواری آئ۔
“آپ وہ بہت بڑے آدمی ہيں۔ ميں نے بھتہ خوروں کی وجہ سے اس نے ذکر کيا تھا۔ کہ وہ ہماری مدد کريں اور آپ کی ان سے جان چھڑوائيں۔” شہزاد کی بات پر وہ مسکراۓ بنا نہ رہ سکی۔ کس قدر وہ سب اس کا دھيان کرتے تھے۔
شہزاد نے اصل بات وليہ سے چھپائ۔ جس وجہ سے اس نے دارم سے اس کا ذکر کيا تھا۔
“ليکن ميں کيسے جاسکتی ہوں۔ دکان کو کون ديکھے گا۔” سائرہ جو وليہ کے لئے چاۓ لے کر آئ تھيں۔ اسکی بات سن کر ٹھٹھکيں۔
“اور ويسے بھی تمہارے باس ہيں ميرے لئے تو اجنبی ہيں” وليہ نے منع کرنا چاہا۔
“اجنبی ہيں مگر اعتبار کے بندے ہيں۔ اور ويسے بھی ميں آپکے ساتھ جاؤں گا۔ اکيلے تھوڑی بھيجوں گا۔ وہ آپ سے بات کرنا چاہ رہے ہيں۔ تفصيل بتانے کے لئے۔ آپ کہتی ہيں تو آپ کا نمبر دے دوں۔ اور جہاں تک دکان کی بات ہے وہ دلاور اور سائرہ خالہ سنبھال ليں گی۔ دو دن کی تو بات ہے۔ کيا پتہ يہ موقع آپکے لئے کوئ بہترين مستقبل لے آۓ” شہزاد کی بات پر وہ لمحہ بھر کو خاموش ہوئ۔
“اچھا ميں تمہيں سوچ کر بتاتی ہوں۔ اب پانچ منٹ تو دو” وليہ شش و پنج ميں پڑ گئ۔
“پليز باجی جلدی۔۔ انہوں نے کل نکلنا ہے” شہزاد نے التجائيہ انداز ميں کہا۔
“اچھا ميں دلاور سے تو بات کرلوں۔ پھر اماں سے پوچھ لوں” اسکی عجلت پہ وليہ کے ہاتھ پاؤں پھولے۔
“آپ خالہ سے بات کرو۔ دلاور کو ميں خود ہی قائل کرليتا ہوں” شہزاد نے فون بند کيا۔
سائرہ کی استفہاميہ نظريں وليہ کے چہرے کا طواف کر رہی تھين۔
“کيا ہوا” سائرہ اسکے پاس ہی اسکے بيڈ پر بيٹھ گئيں۔
وليہ نے ساری بات ماں کو بتائ۔
“بيٹے کبھی کبھی اللہ ہمارے لئے ايسی جگہوں سے سبب بنا ديتا ہے۔ جو ہمارے وہم وگمان ميں بھی نہيں ہوتے۔ کيا پتہ اس ايک موقع سے ايسے راستے تجھ پر کھليں۔ جن کے بارے ميں ہم ميں سے کسی کا گمان بھی نہ ہو۔ ورنہ کہاں يہ بڑے لوگ اور کہاں ہم۔۔ تو اس کے باس سے بات کر اور جا۔۔ شہزاد ہے تيرے ساتھ۔ يہاں کل کا کام ميں سنبھال ليتی ہوں۔ تو فکر نہ کر۔ اللہ کا نام لے کر چلی جا۔” سائرہ کی بات پر اس نے خاموشی سے سر ہلاکر شہزاد کو اپنے باس کو اتنا نمبر دينے کی رضامندی کا ميسج کيا۔
________________________
بيس منٹ گزر چکے تھے۔ دارم بے چينی سے انتظار کررہا تھا۔ ابھی وہ دوبارہ فون کرنے کا سوچ ہی رہا تھا۔ کہ شہزاد نے وليہ کا نام اور نمبر ميسج کيا۔
دارم کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ بکھری۔
پھر سنجيدہ ہو کر نمبر ملايا۔
تيسری ہی بيل پر دوسری جانب سے فون اٹھا ليا گيا۔
“السلام عليکم!” فون کے دوسری جانب نفيس سی آواز بالکل اسی کی طرح ابھری۔
“وعليکم سلام!” اس نے گلا کھنکھار کر جواب ديا۔
“ميں دارم ملک بات کررہا ہوں۔ شہزاد ميرے آفس ميں جاب کرتا ہے” دارم نے اپنا تعارف کروايا۔
“جی سر۔” مختصر جواب جبکہ دارم کو اسے سنتے رہنے کی خواہش جاگ رہی تھی۔
“ميرا خيال ہے شہزاد آپ سے ميرا آپ کا نمبر لينے کا مقصد ڈسکس کر چکا ہے۔ تو کيا آپ کل جاسکتی ہيں ميرے فارم ہاؤس پر۔ ان فيکٹ ميری تين فی ميل کزنز بھی ہيں۔ اور ہم بہت شريف سے لوگ ہيں۔ آپ کو کسی بھی قسم کی ان سيکيورٹی نہيں ہوگی۔ آپ ميری ذمہ داری ہيں۔ آپ کو پوری عزت و احترام سے وہاں رکھا جاۓ گا۔”دارم کی گھمبير آواز اور شائستہ لہجہ وليہ کے بے جد بھلا لگا۔ وہ نہيں جانتی تھی کہ اسکی عمر کيا ہے۔ نہ اسے اس سے مطلب تھا۔
“جی سر۔ بس مجھے يہی پريشانی تھی۔ خير آپ مجھے وقت بتا ديجئيے گا۔ مين اور شہزاد آجائيں گے” وليہ نے دھيمے لہجے ميں کہا۔
“نہيں آپ کو ضرورت نہيں آپ بس صبح گيارہ بجے تک تيار رہئيے گا۔ ميرا ڈرائيور آپ دونوں کو پک کرلےگا۔ اور آپ ميرا نمبر اپنی مدر کو دے سکتی ہيں۔
تاکہ وہ کانٹيکٹ کرنا چاہئيں تو کرليں” دارم کے اتنے فکرمند لہجے نے وليہ کو تھورا سا مطمئن کيا۔
“جی ضرور۔ ٹھيک ہے سر۔ آپ کا دو دن کا مينيو کيا ہوگا۔ مجھے تھوڑا سااندازہ ہو جاۓ تو آسانی ہوگی۔” وليہ نے پروفيشنل انداز ميں پوچھا۔
“باربی کيو ہی ہوگا۔ باقی ہم اتنی مشکل ڈشز نہيں کھاتے ميں زيادہ ديسی کھانے ہی پسند کرتا ہوں۔ تو آپ کو مشکل نہيں ہوگی” دارم نے پھر سے اسکی مشکل آسان کی۔
“جی سر بہتر” وليہ نے پھر مختصر جواب ديا۔ دارم کو اسکے اتنا مختصر بولنے پر چڑ ہوئ۔
پھر خيال آيا وہ کون سا اسے برسوں سے جانتی ہے۔ ان کے درميان تعلق ہی کيا ہے۔
“اوکے سر اللہ حافظ” وليہ نے دوسری جانب خاموشی محسوس کرکے فون بند کرنا مناسب سمجھا۔
“جی ۔۔ کل ملتے ہيں پھر۔ اللہ حافظ” دارم نے خود کو سرزنش کی اور فون بند کرديا۔ يہ کيا ہورہا تھا کيوں ہو رہا تھا۔ ابھی وہ دو دن اسکے علاوہ کچھ اور سوچنا نہيں چاہتا تھا۔ وہ دل پھينک تو ہرگز نہيں تھا۔ ورنہ ہزاروں لڑکياں اور ہزاروں موقع تھے۔ پھر يہ پہلی بار دل کس ڈگر پر چل پڑا تھا۔
اس نے وليہ کے نمبر کو ايک بار پھر ديکھا اور حيات کے نام سے سيو کرليا۔
پہلی بار ۔۔ زندگی ميں پہلی بار کسی کے لئے دل يوں اسے تنگ کرنے پہ تلا تھا۔