Saturday, August 8, 2020
Home Urdu Short Stories Mera Naam o Nishan Mile | Episode 8

Mera Naam o Nishan Mile | Episode 8

شام کا وقت تھا۔ وليہ چونکہ دارم کے گھر تھی لہذا دلاور نے سوچا کہ دکان شام ميں جلد بند کردے گا۔ اس نے بھی کسی ضروری کام سے جانا تھا اور وہ پہلے ہی وليہ کو بتا چکا تھا۔ وليہ کو بھی کوئ اعتراض نہيں تھا۔
ابھی وہ دکان پر سے سب چيزيں سميٹ رہا تھا کہ جماعت کا ايک بندہ دکان کے اندر داخل ہوا۔
دلاور نے اچٹتی نگاہ اس پر ڈالی اور اپنے کام مين مصروف رہا۔
وہ شخص اب دلاور کے قريب آچکا تھا۔
اسکے کندھے پر ہاتھ جمايا۔
“تيری بہن آجکل بڑی اونچی اڑان اڑ رہی ہے۔ باس کا حکم آيا ہے کہ اسے کہہ ذرا زمين پر ہی رہے۔۔۔ ورنہ ہميں پر کاٹنے بڑے اچھے سے آتے ہيں” اپنی کالی سرمے سے بھری آنکھوں کو نچاتے وہ دلاور کا خون خشک کررہا تھا۔
“ديکھو تمہيں بھتے سے غرض تھا ہم وہ دينے پر راضی ہوگۓ۔ اب ہم اپنی ذاتی زندگی ميں کيا کر رہے ہيں۔ تم لوگوں کو اس سے مطلب نہيں ہونا چاہئيے”
دلاور نے دل کڑا کرکے اپنا دفاع کيا۔
اسکے جواب پر اس شخص نے دلاور کے کندھے پر اپنی گرفت مضبوط کی۔
پان کی پيک اسکے پاؤں کے قريب پھينکتے۔۔ لال انگارہ آنکھوں سے دلاور کے ايسے ديکھا جيسے کچا چبا جائے گا۔
“تيری تو۔۔۔” اسکے کندھے کو زور سے جکڑا۔ دکان پر کام کرنے والے لڑکوں کو انکے درميان کچھ غير معمولی پن کا احساس ہوا۔ سب اسکے گرد گھيرا ڈالے کھڑے کڑی نظروں سے اب اس بندے کو ديکھ رہے تھے۔
جيسے آنکھوں سے اشارہ کررہے ہوں چھوڑو دلاور کو۔
اس نے ان سب کی جانب ديکھتے دلاور کو مارنے کا ارادہ ترک کيا۔
“ديکھ پيارے۔۔۔ تيری بہن پر تو اپنے باس کا دل آگيا ہے۔۔ ابے پريشان نہ ہو۔۔
اسے عزت بناۓ گا۔۔ بس تو يہ پيغام اسکی ماں کو دے ديو۔۔۔ آگے ہم جانيں اور ہمارا کام۔ اور ان اگر اسے ان بڑی گاڑيوں کا شوق ہے تو آج کے آج لائن لگا ديں گے۔
بس وہ ہماری لائن پہ آجائيں” آخر ميں ايک آنکھ دبا کر خباثت سے جو بات کا حوالہ وہ دے کر گيا دلاور کا خون کھول اٹھا۔ مگر کبھی جوش سے نہيں ہوش سے کام لينا تھا۔
اپنی بات کا اثر دلاور کے چہرے پر ديکھ کر بے ڈھنگا قہقہہ لگا کر سامنے پڑی ٹيبل کو ٹھوکر مار کر وہ وہاں سے جاچکا تھا۔
“بھائ آپ ٹھيک ہو” سب لڑکے دلاور کے گرد جمع تھے۔
“ہاں۔۔ ہاں۔۔ ميں ٹھيک ہوں” اس نے ان سب کو تو تسلی دلا دی۔ مگر وہ اندر سے اس لمحے بے حد پريشان تھا۔
اب اسکے لئے ناگزير ہوگيا تھا کہ وہ کسی بڑے کو اس سب کے بارے ميں باخبر نہ کرتا۔ دکان بند کرتے اس نے تہيہ کر ليا تھا کہ وہ آج رات اپنے باپ سے اس سب کا ذکر کرے گا۔
______________________
وہ تينوں اس وقت دارم کے گھر موجود تھے۔ وہ انہيں لئے گھر کے پچھلی جانب بنے لان کی طرف آيا۔
ايک ايک چيز سے انتہائ خوبصورتی ٹپک رہی تھی۔
“آپکے پيرنٹس گھر پہ نہيں” وليہ کو گھر ميں بے حد خاموشی لگی۔
“نہيں وہ دونوں اپنے اپنے کام ميں بزی ہوتے ہيں۔ ممی تو سوشل ورکرہيں اور ميرے فادر کا اپنا بزنس ہے۔ تو وہ دونوں اس وقت اپنے آفس ميں ہی ہوتے ہيں” وہ تفصيل سے وليہ کو بتا رہا تھا۔
“جی جناب تو يہ ميرا لان ہے۔ سب ارينجمنٹ يہيں پر ہوگا۔۔ ميں چارہا تھا ايک چاکليٹ فاؤنٹين يہاں پر ارينج کيا جاۓ۔ اور سيلڈ کا ٹيبل الگ سے يہاں سيٹ ہو” دارم نے دو مختلف جگہوں کی جانب اشارہ کيا۔ وليہ خاموشی سے ساری جگہ کا جائزہ لے رہی تھی۔ پھر ايک جانب جہاں وائيٹ ٹيلوپ لگا تھا اس طرف بڑھی۔
“چاکليٹ فاؤنٹيں اگر يہاں سيٹ کريں تو کيا خيال ہے۔۔ کيونکہ آپ جس جانب کہہ رہے ہيں۔ وہاں بيک گراؤنڈ مين سب ڈارک کلرز کے پھول ہيں۔ اور چاکليٹ کا کلر بھی ڈارک ہے تو وہ بيک گراؤنڈ دب جاۓ گا۔ وائيٹ ٹيلوپس کے اوپر وائٹ لائٹس لگا ديں۔ اور سامنے چاکليٹ فاؤنٹيں نصب کروا ديں تو دونوں ايک دوسرے کو کامپليمينٹ کريں گے۔ اور سيلڈ بار کو اگر اس لان امبريلا کے نيچے ارينج کرديں تو بڑا ٹريڈيشنل سا بار کا لک آئے گا” اس نے سامنے ہی ايک جانب موجود لان امبريلا کو ديکھ کر کہا۔
“ونڈرفل آئيڈيا۔۔ کيا خيال ہے شہزاد” دارم نے اسکی سوچ کو سراہا۔ اور ساتھ ہی شہزاد کو شامل گفتگو کيا۔
“باجی بہتر جانتی ہيں۔ يقينا صحيح کہہ رہی ہيں” شہزاد نے اسکی ہاں مين ہاں ملائ۔
“آپ ميں تو ايوينٹس کو ڈيکوريٹ کرنے کی سينس بھی موجود ہے” دارم نے صاف گوئ سے کہا۔
“چليں يہ تو ڈن ہوگيا۔ اور مينيو کی لسٹ آپکے پاس موجود ہے نا؟” دارم کے سوال پر اس نے اثبات ميں سر ہلايا۔
“چليں پھر آئيۓ تھوڑی سی آپ دونوں کی خاطر مدارت کرديں” دارم کی بات پر اس نے سہولت سے انکار کيا۔
“نہيں پليز۔ آپ اب ہميں گھر بھجوا ديں۔ ويسے بھی چاۓ تو آپکے آفس ميں پی لی تھی۔ اور ميں کھانے پينے کی اتنی شوقين نہيں۔ سو پليز آپ اب ہميں بھجواديں” وليہ نے رات کے سائے گہرے ہوتے ديکھے تو کہا۔
“پليز اس طرح اچھا نہيں لگتا”
“نہيں سر باجی ٹھيک کہہ رہی ہيں۔ بس اب ہم چلتے ہيں” شہزاد نے بھی سہولت سے منع کيا۔
“چلو پھر ميں چھوڑ آتا ہوں” دارم مان ہی گيا۔
“نہيں پليز آپ ڈرائيور سے کہہ کر ہميں بھجوا ديں۔ آپ اب کہاں ہميں اتنی دور چھوڑنے جائيں گے” وليہ کی بات پر وہ ہولے سے مسکرايا۔ اب اسے کيا بتاتا کچھ دير مزيد اسکی ہمراہی کے خیال سے ہی تو وہ يہ سب کہہ رہا ہے۔
“اٹس اوکے۔۔۔ آپ آئيے پليز” دارم کے قطعيت بھرے انداز پر وہ اب خاموش ہوگئ۔
____________________________
“آپا کيا ان کا گھر ۔۔ انکے فارم ہاؤس کی طرح ہی خوبصورت اور بڑا ہے؟” رات ميں وہ اور يمنہ جب ليٹی باتيں کر رہی تھيں۔ تب يکدم يمنہ نے پوچھا۔ وہ دارم کے بارے ميں سب کچھ يمنہ اور ماں کو بتا چکی تھی۔
“نہيں ميری جان۔ اتنا بڑا تو نہيں ہے۔ ہاں مگر کافی بڑا اور خوبصورت ہے” وليہ نے سادے سے لہجے ميں بتايا۔ اس کا اشتياق ديکھ کر وہ مسکراتے ہوۓ اسکے بالون ميں دھيرے سے انگلياں پھير رہی تھی۔ وہ اور يمنہ ايک ہی کمرے ميں سوتی تھيں۔ جبکہ سائرہ کے پاس مصطفی ہوتا تھا۔
“آپا اللہ نے اتنی ناانصافی والی تقسيم کيوں کررکھی ہے” اب کے يمنہ کے لہجے ميں مايوسی سی تھی۔
“ہشت۔۔ ايسے نہيں کہتے۔۔۔ ديکھو ميری شہزادی جيسے ٹيچر کے لئے سب اسٹوڈنٹ برابر ہوتے ہيں۔۔ مگر امتحان ميں جب ہم سوالون کے جواب لکھتے ہيں تو ہر اسٹوڈنٹ کے ايک جيسے نمبر نہيں آتے۔۔ کيا تب ہم استاد سے جا کر لڑتے ہيں کہ اسکے نمبر زيادہ کيوں اور ميرے کم کيوں۔۔۔ اسی لئے نا۔۔ کہ ہم جانتے ہيں کہ ہو سکتا ہے ہم نے جو جواب لکھا ہو وہ استاد کے معيار پر اس طرح پورا نہ اتر سکا ہو جيسے دوسرے اسٹوڈنٹ کا ہو۔ تو پھر اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس نے يہ تقسيم کيوں اور کسی لئے کر رکھی ہے۔
بس يہ ياد رکھو کہ کچھ لوگوں کو اللہ دے کر آزماتا ہے کہ وہ اسکی دی گئ نعمتوں اور پيسے کا استعمال کيسے کرتے ہيں۔ جبکہ کچھ کو نہ دے کر آزماتا ہے۔ کہ وہ اپنے معيار کی زندگی حاصل کرنے کے لئے صحيح راستے کا انتخاب کرتے ہيں يا غلط کا۔۔ سمجھ رہی ہو نا” وليہ کے پوچھنے پر يمنہ نے سر اثبات ميں ہلايا۔
“بس يہ ياد رکھنا ہے کہ ہم اللہ کے بتاۓ راستے کے مطابق جدوجہد کريں۔۔ اگر يہ جدوجہد زندگی سے نکل جاۓ نا۔ تو يمنہ۔۔ ہماری زندگیوں ميں بے سکونی بڑھ جاۓ۔ بڑے اور امير لوگوں ميں بے سکونی اسی لئے زيادہ ہوتی ہے۔ کہ ان کے پاس سب ہوتا ہے۔ کوئ مقصد اور اس کا حصول ايسا نہيں ہوتا جس کے لئے انہيں محنت کرنا پڑے۔ تو بس وہ اپنا پيسہ ادھر ادھر اڑاتے ہيں۔ اور بے سکونی سميٹتے ہيں۔” وليہ کی باتون کو وہ کسی حد تک سمجھ سکی تھی کسی حد تک نہيں۔
“آپا ۔۔ آپکے پاس ان کی تصوير ہے؟” يمنہ چند پل خاموش رہنے کے بعد ايک اور سوال اٹھا چکی تھی۔
“ميں کيوں ان کی تصوير رکھوں؟” يمنہ کے سوال پر يادداشت کے پردے پہ دو خوبصورت ۔ چمکتی آنکھيں لہرائيں۔۔
“کيا وہ بہت خوبصورت ہيں؟” يمنہ کی تسلی نہيں ہورہی تھی۔
“بہت کا تو مجھے نہيں پتہ ہاں خوبصورت ہيں۔۔ ويسے بھی جب فکر اور فاقہ نہ ہو تو انسان کے چہرے پر خوبصورتی آ ہی جاتی ہے” وليہ نے پھر بات کو گول کرنا چاہا۔
اب کی بار خوبصورت سی مسکراہٹ ياد آئ۔ وليہ نے خود کو سرزنش کی۔
“مگر ہم تو فکر اور فاقے ميں مبتلا رہتے ہيں۔ پھر بھی آپ کتنی پياری ہيں” يمنہ کی بات پر وہ لاجواب ہوگئ۔
“اچھا اب باتين بند کرو۔۔ اور سو جاؤ۔” وليہ نے اب کی بار اسے ڈپٹا۔
اسے ڈانٹ کر وہ کروٹ دوسری جانب کرکے سونے لگی۔ مگر آنکھيں بند کرتے ہی۔ کچھ دير پہلے دارم کے ساتھی گاڑی ميں گزرے لمحے ياد آۓ۔ وہ ان دونوں کو باہر ہی اتار کر چلا گيا تھا۔
حالانکہ اس نے کہا بھی تھا کہ وہ انکے گھر تک چھوڑ ديتا ہے۔ ليکن وليہ نے سہولت سے انکار کر ديا۔ اور پھر دارم نے اصرار نہيں کيا۔
وہ کچھ نہيں بھی کہتا تھا مگر جب جب وليہ کو ديکھتا تھا اسکی آنکھيں بہت سی ان کہی باتيں کر جاتی تھيں۔ جنہيں وليہ سننا اور سمجھنا نہيں چاہتی تھی۔
_____________________
“ابو آپ سے ايک ضروری بات کرنی ہے” دلاور رات ميں باپ کے آنے کا شدت سے منتظر تھا۔
رفيق جيسے ہی کھانا کھا کر فارغ ہوا۔ دلاور باپ کے پاس آکر بيٹھ گيا۔
“ہاں ہاں بيٹا کہو۔۔ کياہوا ہے؟” رفيق کو دلاور پريشان سا لگا۔
اسکے پوچھتے ہی دلاور شام کا واقعہ بتاتا چلا گيا۔
“يہ تو بہت پريشانی کی بات ہوگئ ہے” رفيق بھی سب سن کر پريشان ہوگيا۔
“وہ تم کيا نام ليتے ہو شہزاد کے باس کا؟” رفيق نے ذہن پر زور ڈالتے ہوۓ کہا۔
“دارم۔۔ سر دارم” دلاور نے جھٹ سے بتايا۔
“تم اس سے بات کرکے ديکھو۔ اب تو ويسے بھی تم لوگ اسکے لئے کام کرنے والے ہو۔ اور ويسے بھی اثر ورسوخ والا بندہ ہے شايد کچھ مدد کردے۔ ميرا تو خيال ہے کل ہی دکان بند کردو۔ يہ لوگ يہ کام چلنے نہيں ديں گے۔ تم اس سے بات کرو۔ اور صبح سائرہ بہن سے ميں خود بات کرتا ہوں۔ وليہ کا اب يوں دکان پر بيٹھنا خطرے سے خالی نہيں۔”
دلاور نے رفيق کی بات پر اثبات ميں سر ہلايا۔
“شہزاد کو فون کرکے ابھی بات کرو” رفيق کے کہنے پر دلاور نے شہزاد کو فون کرکے سب صورتحال بتائ۔
“ٹھيک ہے ميں سر سے بات کرکے ديکھتا ہوں” شہزاد کے کہنے پر دلاور کو مکمل تو نہيں مگر تھوڑی سی تسلی ہوئ۔
____________________
رات کے دس بجے تھے۔ شہزاد جانتا تھا کہ دارم اس وقت جاگ ہی رہا ہوگا۔ اس نے پہلے ميسج کيا۔
اسکے ميسج کے جواب ميں دارم نے خود ہی کال ملا دی۔
“کيا ہوا شہزاد خيريت ہے سب؟” دارم اس وقت اپنے کمرے ميں ہی نيم دراز سامنے مووجود ايل ای ڈی پر نيوز ديکھ رہا تھا کہ شہزاد کا ميسج” سر آپ جاگ رہے ہيں تو مجھے آپ سے کچھ ضروری بات کرنی ہے” چونکا۔
فورا سے پہلے اسے فون ملايا۔
“جی سر بس ہے بھی اور نہيں بھی۔”
“کيوں کيا ہوا ہے؟” اور دارم کے سوال پر وہ سب کچھ بتاتا چلا گيا۔
“ہمم۔ ميں نے اسی لئے وليہ کو اپنے پاس کام کرنے کی آفر کی تھی۔ مگر ميں انہيں يہ باور نہيں کروانا چاہتا تھا کہ ميں کس وجہ سے يہ سب کہہ رہا ہوں۔ خير ميرا کزن پوليس ميں ہے ميں کل نہ صرف اس سے بات کرتا ہوں۔ بلکہ ممی سے بھی کہتا ہوں کہ کسی لائر سے بات کريں۔ کافی سارے وکيل انکے جاننے والے ہيں۔ ان کا کچھ بندوبست کرتے ہيں تم نے اچھا کيا مجھے بتايا۔ اور دلاور کے والد کی بات بالکل صحيح ہے فی الحال وليہ کا دکان پر جانا بند کرواؤ۔
بلکہ ايک کام کرو۔ وليہ سے ابھی ڈسکس مت کرو۔ انکی امی سے بات کرلو۔ اور وليہ کو کہنا کل وہ تمہارے ساتھ ميرے آفس آئيں۔ ميں انہيں شاپ دکھا دوں گا۔ جہاں سے وہ اور تم سب اب ميرے ساتھ کام کروگے” دارم نے لمحوں ميں سب معاملہ سيٹ کرديا۔
“بلکہ دلاور کو بھی لے آنا” اسے يوں وليہ کو اکيلے بلانا ٹھيک نہيں لگا۔
“ٹھيک ہے سر بہت بہت شکريہ” شہزاد بے حد مشکور تھا۔
“اچھا بس۔۔ اپنا شکريہ اپنے پاس رکھو۔ اللہ حافظ” دارم نے اسے مصنوعی رعب سے کہا۔
ابھی وہ فون بند کرکے فارغ ہی ہوا تھا کہ صدف دروازہ ناک کرکے اندر آئيں۔
“اس وقت ميری کال آگئ تھی سوچا اس وقت تم سے بات کرلوں” صدف مسکراتے لہجے ميں کہتیں اسکے بيڈ پر ہی بيٹھ گئيں۔ وہ بھی سيدھا ہو کر ماں کے مقابل بيٹھا تھا۔
“تم اس بار اپنا اينول ڈنر کس سے ارينج کروا رہے ہو؟” صدف نے استفہاميہ لہجے مين پوچھا۔
“ممی جو ابھی لاسٹ ويک اينڈ ميرے فارم ہاؤس پر گئيں تھيں۔ انہی سے۔ ميں آج لايا تھا انہيں ايريا دکھانے تاکہ وہ اپنے حساب سے چيزيں ارينج کرنے کا سوچيں۔” دارم نے تفصيل بتائ۔
“مجھے بھی ملواؤ نہ اس بچی سے” وہ ماں کو پہلے ہی وليہ کے بارے ميں بتا چکی تھا۔ وہ اسکی باتيں سن کر پہلے سے ہی وليہ سے امپريسڈ تھيں۔
“جی ضرور۔۔ مجھے انہيں کے حوالے سے آپ سے کچھ بات کرنی ہے” دارم نے ٹہرے ہوۓ لہجے ميں کہا۔
“ہاں ہاں بتاؤ” وہ ہمہ تن گوش ہوئيں۔
“کچھ جماعت والے انکے پيچھے لگ گۓ ہيں ۔ پہلے تو انکی دکان پہ بھتہ خوری کے لئے آۓ پھر۔۔ اب وليہ کو ديکھ کر ان پر غلط نيت رکھے ہوۓ ہيں” دارم نے ڈھکے چھپے الفاظ ميں بتايا۔
“افف۔ حد ہے۔۔ ان گدھوں کی وجہ سے ہمارا معاشرہ اب تک جہالت سے ہی سر نہيں اٹھا سکا۔ تم فکر مت کرو۔ ميں بيرسٹر شمشاد سے بات کرکے ان پر کيس کرواؤں گی۔
کوئ طريقہ ہے يہ کسی کی غربت سے کھيلنا۔”
“جی ممی اسی لئے ميں چاہتا ہوں کہ ميں انکے ساتھ مل کر ايونٹس آرگنائز کرنے کا کام شروع کروں” اور پھر دارم نے اپنا ارادہ بتايا۔
“اچھی بات ہے۔ ہماری اين جی اوز کے تو بہت سے ايونٹس ہوتے ہيں۔ ميں اس لڑکی کے لئے بہت سارا کام لا سکتی ہوں۔” صدف بھی پرجوش ہوئيں۔
“تھينکس ماں” دارم نے محبت سے انہيں بازوؤں کے گھيرے ميں ليا۔
“نو پرابلم ميری جان” وہ محبت سے اسکے ساتھ لگيں۔