Friday, July 12, 2024

Mera Qasoor Nahi

ہم دو ہی بہن بھائی تھے۔ بھائی مجھ سے دو برس بڑا تھا۔ جن دنوں میٹرک میں پڑھتی تھی۔ امی جان کا انتقال ہو گیا۔ دراصل وہ پہلے سے بیمار چلی آرہی تھی –  حالانکہ میں لائق طالبہ تھی لیکن غم میں ڈوبے دل و دماغ کے ساتھ امتحان میں شریک ہوئی تو حسب توقع نمبر نہ لے سکی تاہم میٹرک پاس کر لیا۔ ہم گاؤں میں رہا کرتے تھے۔ گرلز کالج قریبی شہر میں تھا۔ فاصلہ زیادہ نہ تھا۔ ہمارا گھر شاہراہ سے نزدیک تھا جہاں یہ پیدل پہنچ کر اڈے سے ویگن یا بس مل جاتی تھی جو دس پندرہ منٹ میں شہر میں اُتار دیتی۔ جہاں بس اسٹاپ سے چند قدم ہی گرلز کالج تھا۔ گویا گاؤں سے شہر اور پھر کالج تک فاصلہ بآسانی منٹوں میں طے ہو جاتا تھا۔ راستہ سہل ہوتو منزل کو پالینا آسان ہو جاتا ہے تبھی ہمارے گاؤں کی اکثر لڑکیاں میٹرک کے بعد شہر کے کالج پڑھنے کو جانے لگیں۔ یہ گورنمنٹ گرلز کالج تھا۔ تعلیمی اخراجات اور فیس بھی اُن دنوں برائے نام تھی۔ خوشی کی بات تھی کہ گاؤں میں خواتین اور لڑکیوں کو پڑھانے کا شعور بیدار ہو چکا تھا۔ مجھ کو بھی کالج پڑھانے کا عزم والدین نے ہی کیا تھا۔ شومئی قسمت امی اس جہانِ فانی سے رخصت ہو گئیں اور میرا اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا خواب ادھورا رہ گیا۔ چھٹیاں ختم ہوئیں رزلٹ آگیا ، داخلے شروع ہو گئے تب ابو نے خود جا کر کالج میں داخلہ دلوایا۔ میں بہت خوش تھی۔ میرے ساتھ محلے کی دو اور بھی لڑکیاں ، شمسہ اور حسنہ جاتی تھیں ۔ ہم باتیں کرتی جاتیں اور باتوں میں پتہ بھی نہ چلتا کہ گویا پلک جھپکتے اپنی منزل پر پہنچ جاتے۔

جن دنوں کالج جاتی بھائی اخلاق بھی شہر کے بوائز کالج جاتے تھے۔ والد صاحب نہر کے محکمے میں معمولی ملازم تھے۔ تینوں گھر سے چلے جاتے مکان کو تالا لگ جاتا۔ میں سب سے پہلے واپس آتی ، تالا کھولتی اور جلدی جلدی دو پہر کا کھانا بنانے لگتی تا کہ بھائی اور ابو کے واپس آجانے تک کھانا تیار ہو جائے ۔ اکثر ایسا ہوتا کہ اخلاق یا ابو جلدی آ جاتے کھانا تیار نہ کر پاتی تو وہ بھوک سے نڈھال ہو جاتے ۔ تب ابو کہتے۔ بیٹی تجھ کو کالج تو پڑھا رہا ہوں لیکن کشٹ اُٹھا رہا ہوں گھر کے سو کام ہوتے ہیں جو صرف گھر سنبھالنے والی ہی کر سکتی ہے۔ ابو کو کبھی کپڑے دُھلے ہوئے وقت پر نہ ملتے تو کبھی ناشتہ کئے بغیر دفتر جانا پڑ جاتا تھا۔ اُن کی ڈیوٹی ہی ایسی تھی کہ منہ اندھیرے گھر سے نکل جاتے تھے۔ پڑھائی کے ساتھ گھر کا تمام کام صفائی، کپڑوں کی دُھلائی برتن دھونا، تین وقت کھانا بنانا . غرض کتنے کام تھے اور میں اکیلی تھک جاتی تو اپنی پڑھائی پر توجہ نہ دے پاتی۔ جوں جوں امتحان کے دن نزدیک آتے میری حالت غیر ہوتی جاتی۔ بھائی اور ابو ہاتھ میں کھانا لینے کے عادی تھے، اور وہ گھر داری کے کسی کام میں ہاتھ نہیں بناتے تھے۔ اس کا گاؤں میں رواج ہی نہ تھا۔ گاؤں کی عورتیں کھیتوں میں مردوں کا ہاتھ ضرور بٹاتی تھیں لیکن مرد گھر کے کام کرنے کو اپنی تو ہین خیال کرتے تھے۔ ایک بار ابو بیمار پڑ گئے تو مجھے مجبورا کالج سے چھٹی کرنا پڑی۔ پیپر بھی پورے نہ دے سکی۔ تب بہت روئی ۔ شاید ابو نے اسی وجہ سے سوچا ہوگا کہ دوسری شادی ہی کر لوں اس طرح میرے گھر کا انتظام کرنے والی آجائے گی اور بچے بھی سکون سے پڑھ سکیں گے۔ انہوں نے ایک رشتہ دار عورت سے اپنی ضرورت کا تذکرہ کیا۔ اتفاق کہ اُس کی اپنی بیٹی مطلقہ ہوکر گھر بیٹھ گئ تھی۔ اس کا نام فائزہ تھا اور وہ ایک بیٹے کی ماں تھی۔ بیٹا میرے بھائی کی عمر کا تھا اور فائزہ ادھیڑ عمر کی تھی۔

والد صاحب زیادہ بوڑھے نہ تھے وہ بھی ادھیڑ عمر ہی تھے۔ دراصل گاؤں میں بچوں کی شادیاں کم سنی میں کر دینے کا رواج تھا۔ اس لئے ماں باپ جواں سال ہوتے کہ بچے بڑے ہو جاتے۔ بہر حال ابو کی قسمت میں شاید فائزہ ہی کو دوسری بیوی کا درجہ حاصل ہونا لکھا تھا۔ میرے فرسٹ ایئر کے سالانہ امتحان ختم ہوئے تو والد صاحب کی وہ نئی زوجہ بن کر آگئی۔ ہر سوتیلی ماں کی طرح شروع دنوں میں وہ ہمارے ساتھ بہت اچھی طرح پیش آتی رہی۔ اُس کا لڑکا بہرام نئی امی کی شادی کے شروع دنوں ننھیال میں رہا مگر پھر جب اُس کی نانی بیمار ہوگئی تو کھانا بنا کر دینے والا کوئی نہ رہا۔ والد صاحب سے کہہ کر اسے بھی وہ ہمارے گھر لے آئی اور بیٹھک اُس کے حوالے کر دی گئی۔ رفتہ رفتہ فائزہ نے ابو کو شیشے میں اُتار لیا۔ اب وہ ہر کام اس کی مرضی سے کرتے، میں نے محسوس کیا کہ وہ ہم بچوں سے بھی دور ہوئے جاتے ہیں۔ اب وہ کوشش کرتی کہ کام کم کرے اور حکم زیادہ چلائے۔ وہ گھر کا آدھے سے زیادہ کام مجھ سے کرانے لگی، میں خاموشی سے کر دیا کرتی کہ کہیں ابو سے جھوٹی شکایتیں کر کے کالج سے نہ ہٹوا دے مجھ پر تعلیم کے دروازے نہ بند کرا دے۔ اُس کا بیٹا  صرف تین جماعت پاس تھا۔ سارا دن بیٹھک میں لیٹا رہتا۔ کوئی کام نہ کرتا بلکہ خوب ڈٹ کر اچھا کھانا کھاتا اور راحت کی نیند سوتا جبکہ میرے بھائی کو ہی یہ عورت باہر کے سارے کام بتائی – جب اُس کی سختیاں حد سے بڑھیں تو میں نے کام سے انکار کرنا شروع کر دیا۔ سالانہ امتحان کی تیاری بھی تو کرنی تھی۔ اس پر نئی امی نے کہا۔ اگر گھر کا کام نہیں کروں گی تو کالج بھی نہیں جاؤ گی۔ اخلاق بھائی آڑے آگئے اور زبان کھولی کہ کالج تو میری بہن ہر حال میں جائے گی۔ یہ گریجویشن ضرور کرے گی۔ یہی ہماری امی مرحومہ کا خواب تھا۔ فائزہ نے عہد کر لیا کہ وہ ہماری ماں کا یہ خواب پورا نہ ہونے دے گی۔ اُس نے چپکے چپکے والد کے کان بھر نے شروع کر دیئے۔ نجانے کیا کیا کہتی تھی کہ ایک دن ابو نے یہ فیصلہ سنا دیا کہ رمشا اب کا لج نہیں جائے گی۔ ایف اے تک تعلیم کافی ہے۔ کیونکہ اب اس کی شادی کرنی ہے۔ یہ سنا تو ہم سکتے میں آگئے گویا کہ بھائی کی طرفدار پر مجھ کو تعلیم سے محروم کرنے کا سوچ لیا گیا۔ ظاہر ہے کہ گھرپر حکم تو ابو کا ہی چلتا تھا۔ وہ جو کہتے وہ کرتے بھی تھے۔ جب انہوں نے شادی کر دینے کی بات کی تو اخلاق بھائی کو فکر ہوگئی کہ کس سے یہ میری بہن کی شادی کرنے چلے ہیں۔

ایک روز ابو اور اخلاق بھائی ایک ہی چار پائی پر بیٹھے کھانا کھا رہے تھے، بھائی نے والد سے پوچھا۔ آپ رمشا کی شادی کا ارادہ رکھتے ہیں کیا کوئی لڑکا نظر میں ہے۔ ہاں ہے۔ لڑکا تو گھر میں موجود ہے۔ تمہاری نئی امی کا بیٹا، بہرام ۔ بہرام سے آپ رمشا کا رشتہ کریں گے؟ بھائی نے حیرت سے سوال کیا۔ کیوں اس میں کیا برائی ہے۔ رمشا وداع ہو کر اپنے ہی گھر میں رہے گی۔ اسے کہیں ہماری نظروں سے دور نہیں جانا پڑے گا۔ باہر والے نجانے کیا سلوک کریں پھر خاندان میں تو اس کے جوڑ کا کوئی اور رشتہ موجود نہیں ہے۔ آپ یہ بھی تو دیکھئے کہ رمشا اور بہرام کا جوڑ نہیں بنتا۔ ارے بیٹا کیوں نہیں بنتا۔ وہ اچھا لڑکا ہے سارا دن گھر میں موجود رہتا ہے کسی آوارہ گرد سے دوستی نہیں ہے اور آوارہ گردی بھی نہیں کرتا نشہ کرتا ہے اور نہ جوا کھیلتا ہے یہی برائیاں ہوتی ہیں آج کل کے لڑکوں میں وہ عمر رسیدہ بھی نہیں تمہارا ہم عمر ہے صحت مند ہے۔ کام دھندہ نہیں ہے نوکری بھی نہیں کرتا۔ بس یہی کمی ہے نا تو یہ برائیاں نہیں ہیں کام دھندہ میں کرادوں گا۔ ریٹائر ہوتے ہی ہم کوئی دکان وغیرہ کھول لیں گے۔ جس میں تم اور بہرام مل کر میرا ہاتھ بٹاؤ گے۔ نوکریاں آج کل کہاں ملتی ہیں۔ ہم تینوں اپنے کاروبار پر محنت کریں گے تو اللہ تعالی رزق دینے والا ہے۔ والد صاحب کی سوچ اپنی جگہ مثبت ہوگی لیکن یہ سودا ہم کو منظور نہ تھا۔ ہمارے ماموں دبئی کمانے گئے ہوئے تھے اور ان کی بیٹی سے بھائی کا رشتہ طے تھا۔ بدلے میں میرا رشتہ ماموں کے بیٹے سے ہونا تھا۔ یہ رشتے والدہ طے کر گئی تھیں اور ابو اب ہمارے بچپن میں طے کردہ ان رشتوں کو یکسر بھلا چکے تھے۔ ماموں کے ہاں رشتہ ہونے یا نہ ہونے کے معاملے میں بھی ہم دونوں بہن بھائی غیر یقینی کی کیفیت میں تھے۔ یہ رشتے ہوں یا نہ ہوں ہم کو کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کیونکہ ہم کو خود معلوم نہ تھا کہ ماموں اب ہمارے رشتے لینے میں دلچسپی رکھتے ہیں یا نہیں۔ امی کی وفات سے کئی برس پہلے وہ دبئی گئے تھے اور ابھی تک وہاں کام کر رہے تھے۔ انہوں نے کسی طور ہم لوگوں سے بھی رابطہ کیا اور نہ کوئی واسطہ رکھا تھا۔ ہمارا مسئلہ تو صرف یہ تھا کہ ہم بہن بھائی تعلیم مکمل کر لیں جبکہ نئی امی نہیں چاہتی تھیں۔ ان کا خاندان ان پڑھ تھا، بیٹے کو بھی ان پڑھ رکھا۔ ان کی نظروں میں تعلیم کی کوئی اہمیت نہ تھی۔ بھائی نے ماں کے آگے زبان کھولی تو وہ ہم سے شدید نفرت کرنے لگیں۔ میں نے بھی صاف کہہ دیا کہ آپ میری پڑھائی کی دشمن ہیں تو میں آپ کے بیٹے کو کیسے قبول کر سکتی ہوں۔ انہوں نے والد سے کہہ کر میرا کالج جانا بند کر دیا۔ تب ہم بہن بھائی نے اس خاتون کی منہ زوریوں سے تنگ آکر گھر چھوڑ دینے کا فیصلہ کر لیا۔

ادھر والد میرا نکاح بہرام سے کرانے کی تیاریوں میں لگے تھے تو اُدھر میں نے اخلاق بھائی کے کہنے پر بیگ تیار کر لیا جس میں چند جوڑے کپڑے اور ضرورت کی کچھ اشیاء تھیں۔ والد صاحب گھر پر نہ تھے۔ بھائی مجھے پیدل ہی بس اڈے لے آئے۔ بیگ انہوں نے کندھے پر اٹھالیا اور ہم شہر جانے والی بس میں سوار ہو گئے۔ شہر آ کر بھائی نے مجھے پہلے دن اپنے ایک کالج کے دوست کی فیملی کے ساتھ ٹھہرایا اور خود کرایہ کا مکان تلاش کرنے کو دوست کے ہمراہ نکل پڑے۔ خوش قسمتی سے اسی دوست کے گھر کے بہت قریب ایک چھوٹا سا دو کمروں اور ایک صحن پر مشتمل مکان کرائے کے لئے خالی تھا۔ شام تک ان کے والد کے توسط سے وہ گھر ہم کو کرائے پر مل گیا۔ دو چار دنوں کی بھاگ دوڑ کے بعد بھائی کو اچھی نوکری بھی شہر میں مل گئی۔ ہم کو سکون میسر آگیا۔ اب میں آسانی سے اپنی تعلیم کے دو سال مزید مکمل کر سکتی تھی۔ یوں میرے گریجویٹ ہو جانے کا امی مرحومہ کا خواب مکمل ہو جاتا۔ بھائی کے اس دوست کا نام عباس تھا۔ ان کی والدہ اور بہن بہت شفیق اور مہربان تھیں وہ میری خبر گیری کرتیں اور اکثر خیریت دریافت کرنے کو آجاتیں۔ مجھے یہاں سکون مل گیا۔ سوتیلی ماں کے جبر سے نجات حاصل ہوگئی۔ البتہ والد صاحب کو بتائے بغیر گھر سے چلے آنے کا قلق تو ہم دونوں کو تھا لیکن کیا کرتے ، ان کو بتاتے تو وہ بھی جبرا اپنی مرضی ہم پر مسلط کرتے جس سے ہماری زندگی برباد ہو جاتی۔ بتاتی چلوں کہ والد صاحب نے ہمارے آنے کے ایک ہفتہ بعد اخلاق بھائی کے دوست عباس کو فون کر کے ہمارے بارے معلومات لے لیں تو خاموش ہو کر بیٹھ گئے۔ جب میں نے بی اے پاس کر لیا، گھر کے نزدیکی اسکول میں ٹیچر کی ملازمت مل گئی۔ رقم کی مزید ضرورت تھی کرایہ مکان کے ادا کرنے کے بعد کچھ جنگی ترشی کے دن آجاتے تھے۔ سوچا بھائی کی تنخواہ کے ساتھ میری تنخواہ شامل ہو جائے گی تو ہمارا گزارا اچھے طریقے سے ہو جائے گا۔ یہ ماہ جون کی دو تاریخ تھی۔ میں اسکول پڑھا کر لوٹ رہی تھی۔ شدید گرمی سے مجھے برقعے میں گھبراہٹ ہونے لگی۔ تو چل رہی تھی، تپتی دوپہر تھی اور ابھی گرمیوں کی چھٹیاں ہونے میں دو چار روز باقی تھے۔

گرمی سے پسینہ پسینہ تھی۔ گھبرا کر نقاب کو الٹ دیا۔ ادھر ادھر دیکھا کوئی نظر نہ آیا پھر چکر سا آگیا، پاس ہی درخت کی چھاؤں تلے پناہ لینے کو قدم بڑھا دیئے۔ درخت کے تنے کا سہارا لے کر خود کو گرنے سے بچایا پھر آہستگی سے تنے سے پشت لگا کر زمین پر بیٹھ گئی۔ ذرا دیر کو آنکھیں بند کر لیں کیونکہ آنکھوں تلے اندھیرا سا چھانے لگا تھا اگر یوں رستے میں بیٹھ نہ جاتی تو گر جاتی۔ اب میں نیم بے ہوش کی بیٹھی تھی کہ کسی نے مخاطب کیا۔ آپ کو کیا ہوا ہے۔ طبیعت خراب ہے کیا ؟ اگر برانہ مانیں تو میں آپ کے گھر پہنچا دوں۔ میری طبیعت تو واقعی خراب تھی۔ بڑی مشکل سے خود کو سنبھالا۔ مجھے لو لگ گئی تھی۔ اس کو جواب دینے کے قابل بھی نہ تھی تبھی اس نے بازو سے پکڑ کر سہارا دیا اور مجھے آہستگی سے زمین پر لٹا دیا۔ سڑک سنسان اور چلچلاتی دھوپ وہ حیران پریشان کھڑا تھا کہ اب کیا کرے۔ اُس کا نام صادق تھا وہ اتفا ق وہاں سے گزر رہا تھا کہ مجھے درخت کا سہارا لے کر ڈولتے پایا اور میری طرف آگیا۔ چند لمحات ایسے ہی بیت گئے اُسے سامنے سے سڑک پر ایک تانگہ آتا دکھائی دیا۔ سبھی وہ اس کی طرف لپکا اور اشارے سے رُکنے کو کہا۔ کو چوان نے قریب آکر تا نگہ روک لیا اور وہ بھی تانگے سے اتر آیا۔ میں بے ہوش ہو چکی تھی دونوں نے نجانے کیسے مجھے تانگے میں لٹایا اور صادق اپنے گھر لایا۔ کوچوان کی مدد سے ہی وہ مجھے گھر کے اندر لا سکا تھا۔ جہاں اُس کی والدہ نے مجھے اپنے پلنگ پر لٹا دیا۔ منہ پر پانی کے چھکے مارے۔ پیاز کا عرق نتھنوں میں لگایا تھوڑی دیر بعد مجھے ہوش آگیا۔ صادق کی والدہ عارفہ بی بی نے میری بہت اچھی طرح دیکھ بھال کی ۔ گھریلو ٹوٹکے آزمائے اور دو گھنٹے کے بعد میری حالت سنبھل گئی۔ میں نے عارفہ بی بی کا شکر یہ ادا کیا۔ اُس نے کہا بی بی تیز دھوپ کی وجہ سے تم کولو لگی اور تم بے ہوش ہو گئیں تو صادق ایک تانگے والے کی مدد سے تم کو گھر لے آیا کیونکہ اسپتال کافی دور تھا اور اس چلچلاتی دھوپ میں وہ تانگے میں تم کو مزید سفر نہیں کرانا چاہتا تھا۔ ہم تو بہت گھبرا گئے تھے لیکن شکر ہے کہ اب تم ٹھیک ہو۔

گرمی کی شدت سے کبھی کبھی ایسا ہو جاتا ہے۔ یہ عام کی بات ہے۔ عارفہ بی بی نے میرے برقعے کے بٹن سامنے سے کھول دیئے تھے اور لٹا دیا تھا۔ اب میرے حواس خوب اچھی طرح بحال ہو گئے تھے۔ میں نے گھر جانے پر اسرار کیا- تب وہ نیک خاتون خود میرے ساتھ آئیں اور ماں بیٹا مجھے، میرے گھر چھوڑ گئے- بھائی ابھی تک ڈیوٹی سے نہیں لوٹا تھا۔ یہ دونوں تھوڑی دیر تک میرے پاس بیھٹے رہے- مختصراً میرا حال سنا کہ سوتیلی ماں کی وجہ سے ہم بہن بھائی یہاں اکیلے اقامت پذیر ہیں تو ہم سے ان کو ہمدردی ہو گئی۔ میں نے بتایا کہ فلاں اسکول میں ٹیچر ہوں اور پڑھا کر لوٹ رہی تھی کہ راستے میں طبیعت خراب ہوگئی۔ بہر حال اس روز تو وہ چلے گئے۔ لیکن دو دن بعد جبکہ موسم کی شدت کی وجہ سے اسکولوں میں گرمیوں کی چھٹیاں ہو گئیں اور میں اپنے گھر میں موجود تھی تقریبا صبح آٹھ بجے عارفہ بی بی اپنے بیٹے کے ہمراہ آگئیں۔ ذرا دیر بعد بھائی بھی آگئے ۔ وہ صادق سے ملے اور یوں ان میں جان پہچان ہوگئی۔ اب عارفہ بی بی جب موقع ملتا میرے پاس گھڑی دو گھڑی کو آجاتیں۔  صادق  کا تبادلہ فیصل آباد سے ہمارے شہر ہوا تھا۔ یہ مستقل یہاں رہنے والے نہ تھے اور ان کی عارضی سکونت تھی۔ میں نے محسوس کر لیا کہ ایک انجانی کشش صادق کو ہمارے گھر کی طرف کھینچتی تھی۔ وہ ماں کو مجبور کرتا کہ رمشا کے گھر چلو۔ وہ بیٹے کے دل کی تڑپ کو سمجھ گئی تھی کہ حسن کا جادو چل گیا ہے۔ یہ جادو تو سر چڑھ کر بولتا ہے۔ دو چار ملاقاتوں کے بعد عارفہ بی بی بھی اپنے بیٹے کے لیے مجھے پسند کرنے لگیں۔ لوگوں ایک روز جبکہ بھائی گھر پر تھا۔ عارفہ بی بی نے ہمت کر کے اخلاق سے اپنا مدعا بیان کر دیا۔ بھائی نے کہا کہ چند دن بعد سوچ کر جواب دوں گا۔ اسے میری شادی کی فکر تو تھی بہر حال، ان کے جانے کے بعد مجھ سے دریافت کیا کہ تمہاری کیا مرضی ہے؟ صادق گورنمنٹ ملازم ہے۔ پڑھا لکھا ہے۔ ماں بیٹا ہیں۔ زیادہ بڑا خاندان نہیں ہے۔ میں نے اثبات میں سر ہلا کر رضا مندی کا اظہار کر دیا۔ بھائی نے جان لیا کہ مجھے اس رشتے پر اعتراض نہیں ہے بلکہ اس میں میری پسند بھی شامل لگتی ہے۔ تب انہوں نے یہ سوچ کر میری منگنی صادق سے کرادی کہ بہن کے دامن میں خوشیوں کے پھول کیوں نہ ڈالوں۔ جب شادی ہونا ہوگی ہو جائے گی۔ شادی کی تاریخ ایک ماہ بعد پڑی۔ ہم چاہتے تھے کہ شادی میں ابو بھی شرکت کریں لیکن ان کو منانا بڑا مرحلہ تھا کیونکہ وہ تو ہر صورت مجھے بہرام سے ہی بیاہنا چاہتے تھے اور صلح کی بھی ان کی یہی شرط تھی جبکہ ہم بہن بھائی سوتیلی ماں کے تسلط سے نکلنا چاہتے تھے جو دن رات بک بک کر کے ہمار ا سکون خراب کرتی تھی۔ اُس کا بیٹا ان پڑھ  اور نکما تھا۔ ابو پر تو فائزہ کا جادو تھا جو ان کو کچھ نظر نہ آتا تھا۔

ان دنوں صادق اور میں نے نجانے کتنے حسین سپنے بن لئے تھے۔ صادق تو کلینڈر پر ایک ایک دن تاریخ کاٹ کر گھڑیاں گن رہا تھا لیکن بد قسمتی کہ ایک صبح جب وہ دفتر پہنچا اُس کی تبدیلی کے آرڈر آگئے، بہت افسردہ ہوا، عارفہ بی بی نے تسلی دی کہ تبادلہ ہو گیا ہے تو کیا ہوا۔ ہم دلہن کو رخصت کرا کر اپنے ساتھ لے جائیں گے۔ تم جہاں رہو گے رمشا تمہارے ساتھ وہاں ہی تو رہے گی۔ وہ نا چار شادی سے پندرہ روز قبل نئے شہر ڈیوٹی کی جو ائننگ دینے چلا گیا۔ دو ہفتوں بعد جب وہ واپس آیا تقدیر ہی بدل چکی تھی۔ اس دوران ابو ایک دن ماموں کے ساتھ ہمارے گھر شہر آگئے۔ ماموں نے ہم کو مجبور کیا کہ ساتھ چلو۔ میں بہرام سے رمشا کی شادی نہ ہونے دوں گا لیکن جہاں کہیں بھی رمشا کی شادی ہو گی اس میں والد کی شرکت ضروری ہے۔ باپ کے ہوتے بھائی کیسے ولی ہو سکتا ہے۔ میں بڑا ماموں ہوں ۔ تم دونوں کو میری بات مانی پڑے گی۔ بڑے ماموں مدت بعد دبئی سے آئے تھے۔ اماں مرحومہ ان سے بہت محبت کرتی تھیں۔ ان کا کہا کبھی نہ ٹالتی تھیں۔   ہماری مرحومہ ماں کا واسطہ دیا ہم نے والد سے اس اس شرط پر صلح کرلی کہ وہ میری شادی بہرام سے نہیں کریں گے۔ ہم ماموں کی کوششوں سے والد کے گھر آگئے۔ جہاں سوتیلی ماں نے بھی خندہ پیشانی سے استقبال کیا اور اپنے سابقہ رویے پر معذرت کی ۔ ہم نے بھی ان کو دل سے معاف کر دیا۔ خبر نہ تھی اندر اندر ماموں اور ابو نے چال چلی ہے۔ انہوں نے باہر باہر میرے بھائی اخلاق کو قائل کر لیا کہ والدہ کے طے کردہ بچپن کے رشتے کا پاس کیا جانا چاہئے۔ یوں میری شادی ماموں کے بیٹے فیصل سے ہوتی ہے اور اخلاق بھائی کو ماموں کی بیٹی زارا سے بیاہ کرنا ہوگا۔ زارا بڑی خوبصورت تھی۔ من مومنی گڑیا سی ۔ اخلاق بھائی کا ارادہ شاید اسی باعث کمزور پڑ گیا۔ پھر ماموں اور ان کا بیٹا  بہت زیادہ دولت بھی کما کر لائے تھے۔ اخلاق بھائی نے والد اور ماموں کے حکم کے آگے سر جھکا لیا اور میری منگنی یہ کہہ کر توڑ دی کہ نجانے صادق والے کیسے لوگ ہیں ۔ غیروں کا کیا اعتبار ہم نے تو ان کے خاندان اور پس منظر کی بھی کوئی تحقیق اور دیکھ پرکھ نہیں کی جبکہ ماموں ہمارے اپنے ہیں اور امی مرحومہ کے وعدے کا پالن کرنا ہے۔ ہم صادق سے منگی ختم کر رہے ہیں۔

میری شادی ماموں کے بیٹے سے کر دی گئی اور اخلاق کی دلہن زارا کو بنا دیا گیا۔ ابو نے وعدہ پورا کیا کہ میری شادی بہرام سے نہیں کی ۔ ظاہر ہے کہ فیصل بہرام سے بہر حال بہتر تھا۔ لیکن میرے بارے کسی نے نہیں سوچا کہ اس کے بھی تو کچھ خواب ، کچھ ارمان ہوں گے جو ظاہر ہے کہ دولت سے زیادہ قیمتی تھے میری ذات کے لیے، مگر ہم لڑکیوں کے کیا ارمان اور کیسے خواب؟ جو ہمارے وارثوں نے چاہا وہی ہو گیا۔ اخلاق بھائی تو میری صادق سے منگنی کو بھول بھال کر اپنی دولت مند بیوی کے ساتھ نئی زندگی کی رنگینیوں میں کھو گئے جو قیمتی سامان کے ساتھ جہیز میں مکان بھی لائی تھی۔ لیکن مجھے بدلے میں ممانی کے طعنے ہی سہنے پڑے کہ فقیر کی بیٹی کو ہم نے تو بس تین کپڑوں میں قبول کر لیا ہے حالانکہ میرے بیٹے کو امیر زادیوں کے رشتے بھی ملتے تھے ہم کو رشتوں کی کیا کمی تھی۔ مجھ پر جو بیتی سو بیتی اور میں نے ایک شریف لڑکی کی مانند نئے حالات سے سمجھوتہ کر لیا کیونکہ میرے بزرگوں کی خوشی اسی میں تھی۔ لیکن سنا ہے کہ صادق پر بہت بری بیتی ، جب وہ بیاہ کرنے کی پوری تیاری کے ساتھ شہر آیا تو پتہ چلا کہ بھائی چھٹی پر ہے۔ پھر وہ ہمارے کرائے کے مکان پر گیا۔ وہاں تالا تھا۔ عارفہ بی بی ، عباس بھائی کے گھر گئیں تب ان کی والدہ نے بھائی کا یہ پیغام ان کو دیا کہ آپ سمجھیں یہ رشتہ نہیں ہوسکتا وہ مگنی ختم کر گئے ہیں۔ جوڑا اور انگوٹھی بھی انہوں نے صادق کی والدہ کو یہ کہ کر لوٹا دی کہ جانے سے قبل اخلاق نے یہ آپ کی امانت ہم کو دی تھی کہ جب آپ آئیں تو ہم آپ کے حوالے کر دیں۔ سنا ہے کہ اس وقت ان کے گھر پر ہی صادق خوب پھوٹ پھوٹ کر رویا تھا کہ جانتا اگر اتنا بڑا دھوکا میرے ساتھ ہوگا تو لوٹ کر اس شہر میں واپس نہ آتا۔ شادی کو ایک دن باقی تھا اور ساری تیاری کر کے یہ ماں بیٹا اپنے چند قریبی رشتہ داروں کے ساتھ میری رخصتی لینے آئے تھے کہ منگنی کا سامان واپس مل گیا۔ خالہ نے بتایا تھا کہ اس بچارے پر تو قیامت بیت گئی تھی وہ بے حد افسردہ اور نڈھال ہمارے گھر سے گیا تھا۔ اپنے رب سے دعا کرتی ہوں کہ صادق مجھے معاف کر دے کیونکہ اس سارے قصے میں میرا کوئی قصور نہیں۔

Latest Posts

Related POSTS