Mere Khushi Ki Khatir | Teen Auratien Teen Kahaniyan

2698
کبھی تو خاندانی روایات بھی خون آشام ہوجاتی ہیں اورجہالت کے اندھیرے اولاد کے مستقبل کو تاریک کردیتے ہیں۔ علم کی مشعل ہاتھ میں رکھتے ہوئے بھی والد صاحب کا تعلیم یافتہ ہونا اس وقت کام نہ آیا جب انہوں نے برادری کے دبائو میں آکر میرا رشتہ اپنے کزن کے بیٹے سے اس وقت طے کر دیا جب میں صرف چھ برس کی تھی اور فرحان ابھی پیدا نہ ہوا تھا کہ دادا نے والد سے وعدہ لیا کہ جب نصیر خان کے ہاں اولادِ نرینہ ہوئی تو تم اس بچے سے میری پوتی زبیرا کا بیاہ کرنا۔
نصیر چچا کے ہاں چار بیٹیوں کے بعد اولادِ نرینہ پیدا ہوئی لیکن اس وقت تک میں بارہ برس کی ہوچکی تھی۔ دادا حیات تھے، انہوں نے اعلان کر دیا کہ نصیر خان کو وارث مل گیا ہے۔ لہٰذا ہم اپنے قول پر قائم ہیں، لیکن زبیرا کی شادی اس وقت فرحان سے ہوگی جب وہ بیس برس کا ہو گا۔
جب باشعور ہوگئی اور مجھے اس حقیقت کا علم ہوا کہ دشمنی ختم کرنے کی خاطر میری شادی فرحان سے ہونا طے پائی ہے۔ لیکن وہ ابھی ایک شیر خوار بچہ تھا۔ یقین کر لیا کہ میری اس کے ساتھ شادی نہیں ہو سکتی کیونکہ اس کے بڑے ہونے تک حالات بدل چکے ہوں گے۔
میری ایک خالہ گائوں میں رہتی تھیں، ان کے بیٹے کا نام ریحان تھا، جب بھی نانی کے گھر جاتی اس کے ساتھ خوب کھیلتی، ہم دونوں ہم عمر تھے۔ سو ہماری آپس میں خوب بنتی تھی، جب گھر واپس آنے لگتے وہ ضد کرتا کہ زبیرا تم ہمارے گھر رُک جائو۔ تب خالہ بھی امی سے اصرار کرتیں اُسے چھوڑ جائو میں دوچار دنوں بعد اسے پہنچا دوں گی۔
ان دنوں سولہ برس کی تھی، میٹرک کا امتحان دیا تھا کہ خالہ بیمار پڑ گئیں۔ امی انہیں علاج کی خاطر شہر لے آئیں۔ علاج کار گر نہ ہوا اور وہ چٹ پٹ ختم ہو گئیں۔ والدہ ان سے بہت پیار کرتی تھیں۔ انہیں دکھ ہوا، اس بات کا صدمہ زیادہ تھا کہ خالہ بیوگی کے بعد ماموں کے گھر رہتی تھیں تو ممانی کا رویہ، ریحان کے ساتھ اچھا نہ تھا۔ اندیشہ ہو گیا خالہ کے بعد یقیناً اس عورت کا سلوک ظالمانہ ہو جائے گا۔ نانی سے مشورے کے بعد امی نے بھانجے کو اپنے پاس رکھ لیا تاکہ وہ اچھی تعلیم حاصل کر لے اور ممانی کی چیرہ دستیوں سے بھی بچ جائے۔
وقت گزرتا رہا۔ میں نے میٹرک کے بعد تعلیم کو خیرباد کہہ دیا، جبکہ ریحان نے ایف اے کرلیا۔ اب ہم بڑے ہوگئے تھے۔ پہلے کی طرح گھل مل کر باتیں نہیں کرسکتے تھے۔ درمیان میں حجاب حائل ہو گیا تھا۔ ریحان بھی مجھ سے لئے دیئے رہنے لگا تھا۔ وہ سلجھی ہوئی طبیعت کا مالک تھا۔ ہمارے گھر کے سوا اس کے رہنے کا اور کوئی ٹھکانہ نہ تھا کیونکہ اس کے مرحوم والد کے گھر پر ماموں اور ممانی قابض تھے۔
ممانی ریحان کے والد کی سگی بہن تھیں، ان کی نظر ریحان کے باپ کی جائداد پر تھی۔ چاہتی تھیں کہ بھتیجا جائداد سے دور ہی رہے، تاہم ریحان کبھی کبھار گائوں جاتا تھا۔ مگر جب وہاں سے آتا ضرور روتا، اُسے اپنے والدین کی شدت سے یاد آتی تھی۔ ایسی کیفیت میں وہ مجھ سے باتیں کر کے اپنے دل کا غم ہلکا کرنے کی کوشش کرتا۔ تب میں ڈرتی کہ کہیں ابو اس سے بات کرنے پر معترض نہ ہوں، کیونکہ میری منگنی فرحان سے ہو چکی تھی اور وہ اپنی برادری کے سامنے جواب دہ تھے۔ انہیں اس معاہدے کی پابندی کرنی تھی جو دادا اپنی زندگی میں نصیر چچا سے کر گئے تھے۔ ابو کہیں ریحان کو گھر سے نکال نہ دیں۔ یہ خیال آتے ہی دعا کرتی کہ اس کے دل میں میرے لئے وہ جذبات پیدا نہ ہوں جو میں اس کے لئے اپنے دل میں رکھتی تھی۔
میرے سارے اندیشے اور فکریں صحیح ثابت ہوئیں۔ ریحان نے ایک روز روتے ہوئے مجھ سے کہا کہ میں تقدیر کے سامنے تو ہارتا آیا ہوں مگر میں تمہیں ہارنا نہیں چاہتا۔ تم میری محرومیوں کے زخموں پر کسی مرہم کی طرح ہو۔ اگر تمہیں مجھ سے دور کر دیا گیا تو میں بے موت مر جائوں گا۔
اس کی باتیں مجھے خوف زدہ کرگئیں۔ اس وقت ہم نانی کے کمرے میں بیٹھے ہوئے تھے اور نانی، امی کے ساتھ کچن میں کام کر رہی تھیں۔ سوچ رہی تھی کہ آج تک خیالوں میں، میں نے ریحان سے یہی باتیں کی تھیں، مگر آج وہ مجھ سے وہی باتیں روبرو کر رہا تھا۔ میرے آنچل میں بندھے سارے خواب، سرابوں کی دھند سے نکل کر حقیقت کے تپتے سورج تلے آکر جھلسنے لگے تھے۔
اب جبکہ اس کے دل کی بات مجھ پر واضح ہو گئی تو مجھے اس سے گریزاں ہو جانا چاہئے تھا، لیکن میں گھبرا رہی تھی کیونکہ بچپن سے ہی اس کو سہارا دیتی آئی تھی اور مجھے اب بھی اسے بکھرنے سے بچانا تھا۔ ریحان نے بارہا کہا کہ تم میری طاقت ہو اگر تم نے میرا ساتھ چھوڑ دیا تو میں بھی نہ رہوں گا۔ میں تبھی کچھ کر پائوں جب تک یہ یقین ساتھ رہے گا کہ تم میرے ساتھ ہو۔ میں اس کا جوش دیکھ کر کہتی کہ ریحان تم کسی پر تکیہ مت کرو بلکہ خود اپنی ذات پر انحصار کرو، انسان اگر اپنی قوتِ ارادی سے کام لے تو وہ دنیا سے ٹکر لے سکتا ہے۔ مضبوطی سے زمین پر پائوں جمائے رکھنے کے لئے انسان کو اپنی ہی ٹانگوں پر انحصار کرنا ہوتا ہے، بیساکھیوں پر نہیں۔ تمہیں یہ جنگ دنیا سے لڑنے سے قبل خود اپنے آپ سے بھی لڑنی پڑے گی۔ وہ میری ہر بات مانتا تھا۔ کہتا تھا ٹھیک ہے۔ اپنے نصیب کو اللہ کے رحم و کرم پر چھوڑتا ہوں لیکن اب یہ زندگی ایک صحرا جیسی لگتی ہے۔ آرزو رہتی ہے کہ اس سفر میں تمہارا ساتھ ہو۔
والد بظاہر ریحان سے شفقت بھرا سلوک کرتے تھے۔ چاہتے تھے کہ وہ ان کے گھر پر رہ کر تعلیم مکمل کرلے۔ بن ماں باپ کا لڑکا ہے ایسا نہ ہو کہ سر پر کسی بزرگ کا سایہ نہ ہونے کی وجہ سے بھٹک جائے۔
والد کی اس نیک نیتی کو سمجھتے ہوئے ان کی نیکی کو رائیگاں نہ کرنا چاہتی تھی اور ریحان کے احساسات کو بھی ٹھیس نہ پہچانا چاہتی تھی۔ ورنہ اس کی ہمت کی کمر ٹوٹ جاتی۔ میں عجب شش و پنج کی کیفیت میں تھی۔ دل کا جھکائو ریحان کی طرف، تو دھیان عقل کے تقاضوں میں الجھا رہتا۔ جی یہی چاہتا کہ اس بکھرتے شخص کو سمیٹ لوں۔
ریحان نے جب تعلیم مکمل کر لی تو والد صاحب نے اپنے ایک بااثر دوست سے کہہ کر اسے اچھی ملازمت دلادی، اب وہ خود کفیل تھا۔ گرچہ صاحب جائداد تھا لیکن ایسی جائداد کس کام کی جو دوسروں کے قبضے میں ہو اور اس کی آمدنی سے ریحان کو فائدہ حاصل نہ ہو۔
ریحان کی ملازمت سے نانی کو سکون حاصل ہوگیا۔ اب وہ اس کی شادی کی فکر میں تھیں، ادھر ماموں ممانی اسے صاحب جائداد ہونے کی وجہ سے اپنی بیٹی دینا چاہتے تھے جس جائداد پر وہ خود قابض تھے لیکن ریحان کو ان سے نفرت کی وجہ سے اس جائداد کی بھی پروا نہ تھی۔ وہ ملازمت پاکر خوش تھا کہ کسی کا دستِ نگر نہ رہا تھا۔
جب ممانی کو علم ہو کہ ریحان انجینئر بن گیا ہے اور ملازمت بھی مل گئی ہے تو وہ نانی کے پاس آئیں اور ان کی خوشامد کرنے لگیں کہ ریحان کو راضی کرو تاکہ وہ میری بیٹی سے شادی کر لے۔ نانی نے جواب دیا۔ یہ بات تمہیں اس کی کم سنی میں سوچنی چاہئے تھی جب وہ تمہارے گھر رہتا تھا، تم نے حسن سلوک سے کام نہ لیا۔ اب وہ کیونکر راضی ہوگا۔ اس کا دل تم لوگوں سے دور ہوچکا ہے۔ پھر بھی میں اُسے راضی کرنے کی کوشش کروں گی۔ تم ذرا صبر سے کام لو۔
ممانی کے ارادے کا ریحان کو علم ہوا تو اس نے نانی سے صاف کہہ دیا میں ہرگز ماموں کی بیٹی سے شادی نہیں کروں گا۔ بے شک وہ میری ساری جائداد لے لیں لیکن مجھے اپنی بیٹی سے شادی پر مجبور نہ کریں، ورنہ میں کہیں چلا گیا تو پھر کبھی لوٹ کر نہیں آئوں گا۔ اس کے اس جواب سے جہاں مجھے خوشی ہوئی وہاں دکھ بھی ہوا کہ وہ مجھ سے شادی نہیں کرسکتا تھا، جبکہ میں بھی ریحان سے شادی کرنا چاہتی تھی، لیکن ابو کے سامنے زبان کھولنے کی ہمت نہ تھی۔
فرحان بیس سال کا نہیں ہوا تھا، لیکن ابھی سے اس کے والدین اس کی اور میری شادی کا تقاضا کرنے لگے تھے، انہیں ڈر تھا کہ کہیں ابو اس معاہدے سے نہ پھر جائیں۔ اِدھر مجھے ڈر ہوا کہ نصیر چچا نے بہت دبائو ڈالا تو ابو مجبور ہوجائیں گے اور پچیس سال کی لڑکی کو تیرہ سال کے لڑکے سے بیاہ دیں گے۔
یہ رشتہ مجھے ہی نہیں امی اور بھائی کو بھی غیر موزوں لگتا تھا۔ اللہ جانے ابو کا چچا نصیر سے ایسا کیا لینا دینا تھا کہ وہ میری فرحان سے شادی پر مُصر تھے۔ شاید دل سے نہ چاہتے ہوں کیونکہ کوئی باپ بیٹی کو کنویں میں دھکا دے کر خوش نہیں ہوتا لیکن دیرینہ دشمنی کو مٹانے کے لئے ایسے فیصلے کر گزرتے ہیں۔
بچپن میں، بھائی اور میں ایک خاتون جنت بی بی سے سپارہ پڑھنے جاتے تھے جن کا گھر ہمارے مکان سے قریب ہی تھا۔ ایک دن وہ آگئیں تو میں نے دل کی بات ان سے کہہ دی۔ وہ بولیں تم فکر مت کرو، میں خود تمہارے ابو سے بات کرتی ہوں۔
اتفاق سے بھائی چھٹی پر گھر آئے ہوئے تھے۔ جب جنت بی بی آگئیں۔ انہوں نے پہلے میرے بھائی سے بات کی پھر دونوں نے والد صاحب کو سمجھایا کہ تمہاری بیٹی کی زندگی تباہ ہو جائے گی۔ اگر تم نے یہ بے جوڑ رشتہ باندھے رکھا۔ بہتر ہو گا کہ اس کی شادی ریحان سے کر دو۔ وہ بھی تمہارا عزیز ہے اور دیکھا بھالا لڑکا ہے، بلکہ تمہارے ہاتھوں کا پروردہ ہے۔ اس نے یتیمی دیکھی ہے صاحب جائداد ہے۔ اگر تمہارا داماد بن گیا تو اس کی وراثت بھی اسے مل جائے گی۔
پہلے تو ابو راضی نہ ہوئے پھر جانے کیسے انہوں نے اپنا فیصلہ بدل دیا اور جب نصیر چچا شادی کی تاریخ لینے آئے تو انہوں نے بتایا سمجھایا کہ میری بیٹی اس رشتے پر راضی نہیں ہے۔ وہ اس وقت 25سال کی ہو چکی ہے جب تک تمہارا بیٹا جوان ہوگا وہ سن رسیدہ ہو جائے گی، اگر آپ راضی ہوں تو میں اپنی پوتی کا رشتہ آپ کے لڑکے کو دے دوں گا۔
نصیر چچا راضی نہ ہوئے وہ ناراض ہو گئے اور برادری والوں سے مداخلت کی درخواست کی۔ لیکن برادری والوں نے نصیر چچا کا ساتھ نہ دیا اور وہ مایوس ہو کر بیٹھ گئے، مگر دل میں میرے والد سے عناد قائم کرلیا کہ جب بھی موقع ملا اس کی عہد شکنی کا بدلہ ضرور لیں گے۔
والد صاحب نے خاموشی اور سادگی سے میری شادی ریحان سے کر دی۔ امی اور نانی بہت خوش تھیں، میں ابو کے گھر سے ریحان کے گھر، اپنے ہی والد کی کوٹھی کی اینکسی میں آگئی۔ ریحان کی جانب سے بری، زیور کچھ نہ ملا لیکن مجھے اس کی پروا نہ تھی۔ میرے لئے اس کی رفاقت کسی زیور سے کم نہ تھی۔ وہی میرا سنگھار میرا گہنا تھا۔ ہم دونوں اپنی قسمت پر نازاں تھے لیکن میں اپنی خوشیوں سے خوفزدہ بھی تھی، کیونکہ گہری محبتوں کا انجام اکثر و بیشتر جدائی بھی ہوتا ہے۔ ایسی جدائی جو روح کا ناسور بن جاتی ہے۔
ایک روز ابو نے مجھے بلوا بھیجا میں نے کافی دنوں سے نہیں دیکھا تھا، انہیں، دیکھا تو دل کو سکون مل گیا۔ شام کو وہ گھر سے باہر گئے۔ کسی دوست کے ڈیرے پر دعوت تھی۔ ہمیں گھر میں ان کی واپسی کا انتظار تھا۔ رات کے بارہ بج چکے تھے اور وہ ابھی تک نہیں لوٹے تھے۔ ہم سبھی انتظار میں جاگ رہے تھے کہ درپہ دستک ہوئی، کسی نے آکر بتایا کہ آپ کے والد صاحب کو کسی دشمن نے گولی مار دی ہے، یہ خبر سن کر قدموں تلے سے زمین نکل گئی۔
صبح والد صاحب آگئے لیکن خود چل کر نہیں بلکہ دوسروں کے کندھوں پر سوار ہو کر۔ تبھی روتے روتے ریحان کی زبان سے یہ الفاظ نکلے کہ یا اللہ یہ کیسا امتحان ہے میں جس سے محبت کرتا ہوں۔ وہی بچھڑ جاتا ہے۔ انہیں ایسا کہتے دیکھ کر میں نے ان کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ کر اپنے رخسار پر رکھ دیا، جس پر آنسو بہہ رہے تھے جو اس بات کی گواہی دے رہے تھے کہ میں اب بھی ان کے ساتھ ہوں۔ ان سے بچھڑی نہیں ہوں۔
آج بھی سوچتی ہوں اللہ جانے چچا سے ہمارے دادا میرا رشتہ دے کر کون سی دشمنی ختم کرنا چاہتے تھے۔ لیکن والد سے بدلہ لے کر انہوں نے ایک بار پھر اپنے علاقے میں دشمنی کا بیج بو دیا، جہاں دشمنیاں نسل در نسل چلا کرتی ہیں۔ لیکن میں آج بھی اپنے پیارے ابو کی قرض دار ہوں، جنہوں نے میری خوشیوں کو اپنی زندگی پر ترجیح دے کر جان کا نذرانہ دے دیا اور میری سکھ بھری حیات پر آنچ نہ آنے دی۔ (ز…… فیصل آباد)