Mere Watan Ke Shahedo | Teen Auratien Teen Kahaniyan

2141
میں جب بھی جہاں بھی کسی فوجی بھائی کو دیکھتی ہوں تو میرا سر احترام و عقیدت سے جھک جاتا ہے۔ خواہ وہ کوئی سپاہی ہو یا افسر میرے لئے اتنے محترم ہیں کہ جی چاہتا ہے عقیدت کے سارے پھول ان پر نچھاور کردوں۔ میرے والد خود فوج میں ایک سپاہی تھے۔ وہ جب وردی پہن کر جاتے تو میرا دل خوشی سے معمور ہوجاتا۔ فوجی وردی میں وہ مجھے بہت اچھے لگتے تھے۔ والد صاحب کی تنخواہ بہت کم تھی۔ اسی وجہ سے ہم ایک عام سی زندگی گزار رہے تھے لیکن پرسکون اور مطمئن تھے۔ میں تیسری جماعت میں تھی اور بھائی اختر پہلی کا طالب علم تھا۔
ان دنوں ہم چھوٹے تھے جب پاک بھارت جنگ چھڑ گئی اور والد اپنے فرض کی ادائیگی کی خاطر بارڈر پر بھیج دیئے گئے۔ والدہ دن، رات ان کے اور وطن کی سلامتی کے لیے دعائوں میں مصروف رہا کرتی تھیں۔ ہم بچے تھے، حالات کی نزاکت کا کچھ پتا نہ تھا۔ والد صاحب کو پہلے کراچی بھیجا گیا پھر وہاں سے ہوائی جہاز میں مشرقی پاکستان چلے گئے۔ ان دنوں حالات اتنے سنگین تھے کہ لوگ مشرقی پاکستان کی سلامتی کے لیے دعائیں کرتے تھے۔ امی اور دادی ہر وقت ریڈیو پر خبریں سنتی رہتی تھیں۔
ایک دن میں اسکول سے گھر آئی تو دیکھا کہ محلے کی عورتیں جمع ہیں۔ دادی پتھر کی طرح گم صم بیٹھی تھیں اور امی چپکے چپکے رو رہی تھیں۔ چچی ان کو سنبھال رہی تھیں۔ میں کچھ سمجھدار تھی۔ قیاس کرلیا کہ والد صاحب کو شہادت نصیب ہوگئی ہے۔ لیکن مجھے رونا نہ آیا کیونکہ ہمیشہ والد صاحب سے سنا کرتی تھی کہ شہید مرتے نہیں، وہ زندہ رہتے ہیں اس لئے ان کی شہادت پر رونا نہیں چاہیے۔ امی کو بھی سب عورتیں صبر کی تلقین کررہی تھیں۔ سمجھا رہی تھیں کہ تم شہید کی بیوہ ہو، ہرگز آنسو نہ بہائو۔ اپنے بچوں کو بھی حوصلہ دو کہ وہ ایک شہید کے بچے ہیں۔ تب والدہ صبر کی چادر میں لپٹی رہیں یہاں تک کہ شوہر کے غم میں دھیمے دھیمے سلگتے ہوئے راکھ ہوگئیں۔
ایک دن اسکول سے ہم دونوں بہن، بھائی گھر آئے تو دروازے پر لوگوں کا ہجوم دیکھا۔ سمجھ میں نہ آیا کیا ہوا ہے۔ مجھے خیال آیا شاید دادی انتقال کرگئی ہیں مگر اندر قدم رکھتے ہی پتا چلا کہ دادی نہیں، امی جان رحلت کر گئی ہیں۔ سامنے چارپائی پر امی کا جسدخاکی سفید چادر سے ڈھکا ہوا تھا۔ یہ منظر دیکھ کر میں دادی سے لپٹ گئی اور ان کی گود میں گر کر بے ہوش ہوگئی۔
جب ہوش آیا تو امی کو دفنایا جا چکا تھا اور اختر میری چارپائی کے پاس بیٹھا رو رہا تھا۔ اسے روتا دیکھ کر میرا کلیجہ پھٹنے لگا۔ دادی نے کہا۔ رخسانہ! دیکھ اب نہیں رونا اور چھوٹے بھائی کو حوصلہ دینا ورنہ یہ بیچارا دکھ سے مر جائے گا۔ ان کے یہ الفاظ میرے دل پر تیر کی طرح لگے اور میں نے اپنے سارے آنسو پی لئے۔ بھائی کو گلے سے لگایا۔ اسے چپ کرانے لگی۔ تسلیاں دینے لگی کہ رونا نہیں۔ رو گے تو امی جان پھر تمہارے خواب میں نہیں آئیں گی۔ میں مگر روز ہی چھپ چھپ کر روتی تھی۔ امی میرے خواب میں آتیں۔ مجھے پیار کرتیں اور تسلی دیتیں کہ غمزدہ نہ رہا کرو، پڑھائی پر توجہ دو۔ سارے غم ختم ہوجائیں گے۔
والد کی وفات کے بعد وہ اکثر یہ جملے اپنی زندگی میں ہم سے کہا کرتی تھیں اور یہ الفاظ میرے دل پر نقش ہوچکے تھے۔ میں نے تہیہ کرلیا ماں کی یہ خواہش ضرور پوری کروں گی اور دل لگا کر پڑھوں گی مگر دنیا بڑی ظالم ہے۔ دادی کی وفات کے بعد چچا اور چچی نے ہم دونوں بہن، بھائی کو اسکول سے نکال کر گھر کے کاموں پر لگا دیا۔
چچا اور ابا کا مشترکہ ہوٹل تھا۔ والد ملازمت پر ہوتے تھے۔ چچا ہی یہ کاروبار سنبھالتے تھے۔ ان کی وفات کے بعد یہ ہوٹل چچا کا ہوگیا کیونکہ وہ ہمیں جو پال رہے تھے۔ اب ہم بن ماں، باپ کے رہ گئے تھے۔ چچا، چچی کی عنایتوں کے رہین منت تھے۔ وہی ہمارے ترکے اور ہمارے مالک تھے۔ انہوں نے اختر کو اپنے ہوٹل پر کام میں لگا دیا اور مجھے چچی نے گھر کی باندی بنا لیا۔
میں منہ اندھیرے اٹھتی، جانوروں کو چارہ ڈالتی، اپلے تھاپتی۔ پھر ناشتہ تیار کرکے رکھتی اور بکریوں کے ریوڑ کو چرانے نکل جاتی۔ صبح یہ کام کرتی تو اسکول جانا یاد آتا۔ میرے ساتھ کی لڑکیاں اسکول جارہی ہوتیں تو انہیں دیکھ کر میری آنکھوں میں آنسو آجاتے۔ روز و شب ایسے ہی گزرتے گئے اور ہم بہن، بھائی قسمت کے لکھے پر شاکر ہوگئے۔ رات کو دیر سے بھائی ہوٹل سے واپس آتا تو میں جاگ رہی ہوتی۔ اس کی تھکن دیکھ کر رو دیتی، تب وہ کہتا۔ آپا! روتی کیوں ہو۔ مجھے بڑا ہوجانے دو، پھر سب ٹھیک ہوجائے گا۔
ایک رات مجھے پیاس لگی، پانی پینے اٹھی تو چچا کے کمرے سے باتوں کی آواز سنائی دی، ٹھہر گئی۔ وہ سرگوشیوں میں کہہ رہے تھے کہ رخسانہ لڑکی ہے، اس کی شادی کردیں گے مگر لڑکے کا کیا ہوگا۔ اختر کا معاملہ کیسے حل کریں۔ کسی طرح اس سے چھٹکارا پانا ہے۔ مجھے لگا کہ وہ میرے بھائی سے جان چھڑانا چاہتے ہیں اور اسے کسی طرح ٹھکانے لگانے کا سوچ رہے ہیں۔ پیاس مر گئی، نیند بھی ختم ہوگئی۔ دبے قدموں میں اپنی چارپائی پر جاکر لیٹ گئی۔
رات بھر سو نہ سکی۔ صبح بھائی کو خبردار کیا کہ یہ تم سے جان چھڑانے کی سوچ رہے ہیں۔ بہتر ہے تم اب چچا کے ہوٹل نہ جایا کرو، وہاں بدمعاش آکر بیٹھتے ہیں۔ کسی دن چچا تمہیں ان کے حوالے نہ کردیں۔ تو پھر کیا کریں… کہاں جائیں… ہمیں چاہیے کہ چچا کا گھر چھوڑ دیں اور یہاں سے بھاگ جائیں۔ اگلے روز میں ہوٹل کی طرف گئی، بکریاں کھیت میں چھوڑ دیں۔ یہ وہ وقت تھا جب چچا دوپہر کو کھانا کھا کر تھوڑی دیر سوجاتا تھا اور ملازم لڑکے ہوٹل کی صفائی کرلیتے تھے۔
اختر کو میں نے دور سے دیکھا۔ وہ پانی کی بالٹی بھر کر لا رہا تھا اور ان لڑکوں کے ساتھ فرش دھو رہا تھا۔ ذرا آگے بڑھی تو اس نے مجھے دیکھ لیا اور بالٹی چھوڑ کر میری طرف آگیا۔ اس نے بتایا چچا ایک آدمی کے ساتھ چلا گیا ہے، ابھی تک واپس نہیں آیا ہے۔ میں نے کہا۔ یہ اچھا موقع ہے، نکلتے ہیں یہاں سے۔ یوں ہم بہن، بھائی نادانی میں اللہ کا نام لے کر ایک سمت چل پڑے۔ ہم ریلوے لائن کے ساتھ ساتھ چلتے گئے یہاں تک کہ اسٹیشن آگیا۔ وہاں چند گھنٹے ایک بینچ پر بیٹھے گزر گئے۔ اب واپس جانے کا حوصلہ نہ تھا کہ چچا بری طرح مارتے تھے۔ اسی سوچ میں شام سے رات ہوگئی کہ کہاں جائیں۔
بھوک سے برا حال ہورہا تھا۔ سردی بڑھ رہی تھی اور پیسے پاس نہیں تھے۔ بس کانوں میں سونے کی بالیاں تھیں اور بھائی کی جیب میں پانچ روپے پڑے تھے۔ میں نے بھائی کو اپنی چادر میں چھپا لیا۔ ریل ابھی تک نہیں آئی تھی۔ ہوا اتنی یخ تھی کہ بدن کو کاٹ رہی تھی اور ہم تھکن سے نڈھال تھے۔ پتا نہ تھا گاڑی کب آئے گی۔ آ بھی گئی تو ہم اس پر بیٹھ کر کہاں جائیں گے۔ ہمارے چھوٹے سے ذہن یہ سوال حل کرنے سے قاصر تھے۔ تھوڑی دیر گزری کہ ایک نوجوان فوجی وردی میں ملبوس ہمارے نزدیک آگیا۔ اس کے ہاتھ میں ایک کمبل، ایک بیگ اور کھانے کا ٹفن تھا۔ وہ برابر والی بینچ پر بیٹھ گیا اور ٹفن کھول کر کچھ کھانے کا ارادہ کیا تب اس کی ہم پر نظر پڑی۔ ہماری نگاہیں ٹفن پر لگی تھیں۔ سمجھ گیا کہ ہمیں بھوک لگی ہے تبھی پوچھا۔ بچو! کیا روٹی کھانی ہے؟ ہم چپ رہے۔ وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر ہمارے پاس آبیٹھا اور اختر کو کھانا نکال کر دے دیا پھر میری طرف دیکھا منی تم بھی کھا لو۔ میں کھانا لیتے ہوئے شرما رہی تھی۔ اس نے خود نہیں کھایا بلکہ اصرار کرکے اپنا کھانا ہمیں کھلا دیا۔ کسی کا کھانا اس طرح کھا لینا بری بات تھی، اس پر مجھے شرم آرہی تھی مگر بھوک نے مجبور کردیا تھا۔
جب ہم نے کھانا ختم
کرلیا، اس نے کہا۔ اب بتائو کون ہو اور یہاں اکیلے اس وقت کیوں بیٹھے ہو۔ اس سوال پر میری ہچکی بندھ گئی۔ تسلی رکھو، مجھے سب بتا دو تاکہ میں تمہاری مدد کرسکوں۔ تب میں نے اسے ساری بات بتا دی۔ اب تم کہاں جانا چاہتی ہو۔ اگر چاہو تو میں تمہیں تمہارے چچا کے پاس لئے چلتا ہوں؟
ہرگز نہیں۔ میں رونے لگی۔ ان کے گھر نہیں جانا۔ پھر کہاں جانا ہے۔ جہاں ہمیں کام مل جائے، رہنے کو جگہ مل جائے، کھانے کو روٹی مل جائے۔
یہ دنیا بری جگہ ہے۔ شکر کرو کہ اس وقت تمہاری ملاقات وطن کے ایک فوجی سے ہوگئی ہے۔ آپ کی طرح میرے ابو بھی وردی پہنتے تھے۔ وہ بھی فوجی تھے، شہید ہوگئے۔ یہ سن کر اس نوجوان کی آنکھیں آبدیدہ ہوگئیں۔ اس نے کہا۔ میں اسی گاڑی میں پنڈی جارہا ہوں جو ابھی آنے والی ہے۔ میرے ساتھ چلو۔ مجھے ڈیوٹی پر جانا ہے مگر میں تمہیں محفوظ جگہ ٹھہرا دوں گا اور پھر تمہارے لئے جو ہوسکا، کروں گا۔
وہ ہمیں لے کر پنڈی آگیا اور ایک ساتھی فوجی کے گھر اس کی فیملی کے ساتھ ٹھہرا دیا۔ خود اپنے افسر سے بات کی۔ کچھ گھنٹوں بعد افسر کی جیپ اور ڈرائیور ہمیں لینے آگئے۔ ان کی بیگم بہت اچھی تھیں۔ انہوں نے ہمیں کھانا کھلایا اور سمجھایا کہ ہم اپنے چچا کے پاس واپس چلے جائیں، وہ لوگ خود ان سے رابطہ کریں گے۔ انہوں نے چچا سے رابطہ کیا تو انہوں نے ہمیں اپنے ساتھ رکھنے سے انکار کردیاکہ کل پھر یہ بھاگ گئے تو کہاں ڈھونڈوں گا۔ ہم بھی ان کے پاس جانے پر راضی نہ ہوئے تو افسر کی بیگم نے ہمیں اپنے پاس رکھ لیا۔
ان کے بھی ہمارے جتنے بچے تھے جو اسکول جاتے تھے۔ عابدہ بیگم نے ہمیں اسکول میں داخل کرا دیا اور اپنے بچوں جیسا سمجھا بہت خیال رکھا۔ ہم یہاں خوش اور محفوظ تھے۔ انہوں نے ہمیں اپنانے کے لیے قانونی تقاضے بھی پورے کئے اور ہمیں ان کی صورت میں مہربان سرپرست مل گئے۔ کچھ عرصے بعد ہمیں یہی لگا کہ ہم اسی گھر میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ نوجوان فوجی جو ہمیں اسٹیشن پر ملا تھا، اس کا کسی جگہ تبادلہ ہوگیا، وہ پھر نہ آیا۔
وقت گزرتا رہا۔ میں نے میٹرک پاس کرلیا اور اختر نے پڑھائی جاری رکھی۔ صاحب اس کو فوج میں بھرتی کرانا چاہتے تھے۔ ایف ایس سی میں اختر نے اچھے نمبر لئے تو صاحب نے اس کی رہنمائی کی اور وہ کمیشن کے لیے سلیکٹ ہوگیا۔ وہ ایک شہید فوجی کا بیٹا تھا۔ ہر کوئی اس وجہ سے اختر سے پیار کرتا تھا اور اس کا خیال رکھا جاتا تھا۔
میری شادی بھی عابدہ بیگم نے اپنے ایک رشتے دار سے کرادی۔ وہ بہت اچھے لوگ تھے۔ پڑھے لکھے اور سلجھے ہوئے، یوں میں وقت پر اپنے گھر کی ہوگئی اور میرے شوہر بعد میں مجھے جدہ لے آئے۔ جب اختر کی ٹریننگ ختم ہوگئی تو وہ کیڈٹ سے افسر بن گیا۔ اس کی زندگی سنور گئی۔ وہ بہت نیک لڑکا تھا۔ اس کی شادی بھی ایک فوجی افسر کی بیٹی سے ہوگئی اور انہوں نے اس کو گھر داماد بنا لیا۔ یوں ہم دونوں بے آسرا بہن، بھائیوں کو اپنے گھر کی جنت مل گئی۔ جب مجھے اور اختر کو زندگی کی سب خوشیاں حاصل ہوگئیں تو بھی دل میں ایک کسک اور ایک خلش باقی رہی۔ وہ خلش یہ تھی کہ وہ اجنبی فوجی جو ریلوے اسٹیشن پر ملا تھا، جس نے ہمارا ہاتھ تھاما اور ہمیں اندھیرے سے روشنی میں لایاتھا، وہ کھو گیا۔ وہ صبح کے نور جیسا چمکتا ستارہ اور اپنے ماں، باپ کا فخر… جری اور باعزت بیٹا دوبارہ ہم سے نہ مل سکا۔ میں اکثر صاحب سے کہا کرتی تھی۔ انکل جی! آپ منور بھائی جان کا کھوج نکالئے، ان کو ہم سے ملوایئے۔ جس دن ان سے ملوں گی، گلاب کے پھول عقیدت سے ان کے قدموں پر رکھ دوں گی، ان کا شکریہ ادا کروں گی کہ اگر وہ نہ ملتے تو ہم رل گئے ہوتے۔ معاشرے کے برے لوگ ہمیں خاردار راستوں پر لے جاکر ہماری غیرتوں کے جنازے نکال چکے ہوتے۔
میری بات سن کر صاحب آبدیدہ ہوجاتے اور کہتے کہ بس! ان کے لیے دعا کیا کرو۔ ایک روز جبکہ میں نے صاحب کے آگے ہاتھ جوڑ کر منت کی کہ منور بھائی کو کسی طرح ہم سے ملادیں تو انہوں نے گلوگیر آواز میں کہا۔ میری بچی! گرچہ وہ فرشتہ صفت بھلائے جانے کے لائق نہیں پھر بھی بھلانا ہوگا۔ منور شہید ہوچکا ہے۔ وہ آسمانوں میں تو زندہ ہے مگر تم اس سے اس دنیا میں کبھی نہیں مل سکتیں۔
اس روز میں نے بڑی مشکل سے اپنے آنسو روکے کیونکہ ابا جان کی یہ بات یاد تھی کہ شہید مرتے نہیں اس لئے ان کی شہادت پر رونا نہیں چاہیے۔ میرا منور بھائی عظیم سپاہی بھی شہادت پا کر زندہ ہے۔ میں ان کے لئے دعا کرتی ہوں لیکن رونے کی اجازت نہیں۔ گرچہ دن، رات ان کی یاد میری آنکھوں سے آنسو بن کر ٹپکتی رہتی ہے۔ (ش۔ الف … کراچی)