Friday, May 24, 2024

Millan | Episode 3

’’آج تو تم نے کمال کردیا ٹوبی! بہت خوب، زبردست۔‘‘
ٹوبی کو کچھ حوصلہ ہوا۔ ’’تماشائی بھی بہت اچھے تھے۔ مزاح کو سمجھنے اور لطف اندوز ہونے والے۔‘‘
’’یہ تو تمہاری انکساری ہے ورنہ تم میں بہت صلاحیتیں ہیں۔‘‘
’’شکریہ۔ کراسکو۔‘‘
’’تم بہت محنت سے اپنا شو تیار کرتے ہو۔‘‘ کراسکو بولا۔ پھر وہ حسبِ معمول اپنے ساتھیوں سے مخاطب ہوا۔ ’’کیا میں نے کہا ہے کہ ٹوبی جیسی محنت کوئی اور نہیں کرسکتا۔‘‘
دونوں نے بغیر کچھ بولے اثبات میں سروں کو جنبش دی۔
’’ہاں ٹوبی! مائیلو پریشان تھی کہ تم نے اسے فون تک نہیں کیا۔ میں نے اسے تسلی دی کہ تم اپنے شو میں مصروف تھے۔‘‘
’’ہاں یہی بات تھی۔‘‘ ٹوبی نے جلدی سے کہا۔ ’’مجھے خوشی ہے کہ تم یہ سب سمجھتے ہو۔‘‘
کراسکو مسکرایا۔ اس کے چربیلے چہرے میں دھنسی ہوئی آنکھیں سنجیدہ رہیں۔ ’’ہاں۔ میں سمجھتا ہوں لیکن میں اس بات کو نہیں سمجھا کہ تم نے فون کرکے یہ بھی معلوم نہیں کیا کہ شادی کا وقت کون سا ہے؟‘‘
’’میرا صبح فون کرنے کا ارادہ تھا۔‘‘ ٹوبی نے بات بنائی۔
کراسکو ہنسا۔ ’’کون سے شہر سے؟‘‘
ٹوبی دل ہی دل میں گھبرایا۔ پھر بولا۔ ’’تم کیسی باتیں کررہے ہو کراسکو؟‘‘
کراسکو نے ایک کڑی نگاہ اس پر ڈالی اور سنگین لہجے میں بولا۔ ’’تمہارے سوٹ کیس بند پڑے ہیں۔‘‘ اس نے ٹوبی کے گال پر چٹکی لی جیسے بچوں سے پیار کرتے ہیں۔ اور بولا۔ ’’میں نے تمہیں بتایا تھا نا۔ جو مائیلو کا دل دکھائے گا، میں اسے جان سے مار دوں گا۔‘‘
’’پلیز! میری بات سنو میں قسم کھاتا ہوں کہ میں…‘‘
’’تم اچھے بچے ہو مگر تھوڑے سے احمق ہو۔ میرا خیال ہے کہ فنکار اور بہت ذہین لوگوں کے ساتھ یہ مسئلہ ہمیشہ ہوتا ہے۔‘‘
ٹوبی ہونقوں کی طرح اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔ اس صورتحال سے وہ کیسے نکلے؟ کہاں چلا جائے۔ اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا۔
’’تم یقین کرو۔‘‘ کراسکو دوستانہ لہجے میں بولا۔ ’’میں تمہارا دوست اور خیرخواہ ہوں۔ میں نہیں چاہتا کہ تمہارے ساتھ کچھ بُرا ہو۔ میں مائیلو سے محبت کرتا ہوں۔ اگر تم درمیان میں نہ آجاتے تو ہم بہت جلد شادی کرنے والے تھے اور اب یہ بات دھیان سے سن لو کہ اگر تم نے میری بات پر توجہ نہیں دی تو تمہیں یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ میں کیا کرسکتا ہوں۔‘‘
ٹوبی نے کسی روبوٹ کی طرح سر اثبات میں ہلایا۔ وہ مبہوت کھڑا تھا۔
’’تمہارا کون سا بازو زیادہ مضبوط ہے؟‘‘ کراسکو نے پوچھا۔
’’دایاں بازو۔‘‘ ٹوبی بمشکل بولا۔ وہ سخت خوفزدہ تھا۔
کراسکو نے اثبات میں سر ہلایا اور دونوں ساتھیوں کی طرف پلٹ کر بولا۔ ’’توڑ دو۔‘‘
دونوں نے جانے کہاں سے لوہے کا ایک راڈ نکالا اور ٹوبی کو گھیر لیا۔
وہ خوف سے لرزنے لگا۔ ’’اوہ خدایا! تم ایسا نہیں کرسکتے۔‘‘
ان میں سے ایک شخص نے بڑے زور سے اس کے پیٹ پر وار کیا۔ ٹوبی درد سے دہرا ہوگیا۔ اگلے ہی لمحے لوہے کا مضبوط راڈ اس کے بازو کی ہڈی توڑ چکا تھا۔ ٹوبی فرش پر درد سے لوٹنے لگا۔ وہ چیخنا چاہتا تھا لیکن درد کی شدت کی وجہ سے اس کے حلق سے آواز نہیں نکل رہی تھی۔ اس نے آنسو بھری آنکھوں کے ساتھ دیکھا۔ کراسکو اس کے قریب کھڑا مسکراتے ہوئے اس کی حالت سے لطف اندوز ہورہا تھا۔
’’اب بتائو۔ سنو گے میری بات؟‘‘ اس نے نرم لہجے میں پوچھا۔
ٹوبی کے پاس اثبات میں جواب دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔
کراسکو کچھ دیر وہاں کھڑا رہا۔ ’’میں تمہیں اس وقت تک کچھ نہیں کہوں گا جب تک تم مائیلو کے ساتھ اچھا سلوک کرو گے۔ اگر اس نے کبھی مجھے بتایا کہ تم نے اس کا دل دکھایا ہے یا کوئی ایسی بات کی ہے جس سے وہ پریشان ہو تو تمہاری خیر نہیں۔ سمجھ گئے تم؟‘‘ اس نے اپنے جوتے کی نوک سے ٹوبی کے ٹوٹے ہوئے بازو پر ٹھوکر لگائی۔ ٹوبی درد کے مارے زور سے چیخا۔ ’’مجھے خوشی ہے کہ اب ہم ایک دوسرے کو اچھی طرح سمجھ گئے ہیں۔‘‘ پھر وہ مسکرایا۔ ’’اور ہاں۔ شادی کل ایک بجے ہے۔‘‘ کراسکو کی آواز ڈوب ابھر رہی تھی۔ ٹوبی مارے تکلیف کے بے ہوش ہو رہا تھا لیکن اسے معلوم تھا کہ اسے ہوش میں رہنا ہے تاکہ ان ظالم لوگوں سے رحم طلب کرسکے۔ وہ کرب کی شدید کیفیت میں بمشکل کہہ سکا۔ ’’خدا کے لیے میرا بازو…!‘‘
’’فکر مت کرو۔ ڈاکٹر یہاں پہنچنے والا ہے۔ وہ ٹھیک کردے گا اور تمہیں درد ختم کرنے والی دوائیں بھی دے دے گا۔ میرے بندے تمہیں لینے کے لیے یہاں پہنچ جائیں گے۔ تم تیار رہنا۔‘‘
ٹوبی زمین پر پڑا رہا جیسے کوئی خوفناک ڈرائونا خواب دیکھ رہا ہو۔ کراسکو اس کی طرف دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔ اس نے پھر اپنا پائوں اٹھایا اور ٹوبی کے ٹوٹے ہوئے بازو پر ٹھوکر لگائی۔
’’میں تیار ہوجائوں گا۔‘‘ ٹوبی کے ہونٹوں سے درد میں ڈوبے ہوئے لفظ ٹوٹ ٹوٹ کر بکھرے اور وہ بے ہوش ہوگیا۔
٭…٭…٭
شادی کی تقریب ایک بہت بڑے ہوٹل میں منعقد ہوئی جہاں آدھے سے زیادہ شہر اس شاندار تقریب میں مدعو تھا۔ کراسکو چونکہ خود ایک بڑے ہوٹل کا مالک تھا۔ اس لیے شہر کے تمام مشہور ہوٹلوں کے فنکار بھی یہاں موجود تھے۔ کراسکو اور اس کے دوسرے معزز دوست اپنے بہترین سوٹوں میں ملبوس تھے۔ کھانے کا بہترین انتظام تھا اور فنکار جگہ جگہ اپنے فن کا مظاہرہ کررہے تھے۔
سب لوگ دولہا سے ہمدردی کررہے تھے جو شادی سے صرف ایک دن پہلے سیڑھیوں سے گر کر اپنا بازو تڑوا بیٹھا تھا لیکن سب کا اس پر اتفاق تھا کہ وہ ایک بہت حسین جوڑا ہے اور شادی کی تقریب ایسی تھی جو شہر میں مدتوں یاد رکھی جائے گی۔
ٹوبی اپنے ہوش و حواس میں نہیں تھا۔ ڈاکٹر کی سکون آور دوائوں کی ایک بڑی مقدار لینے کی وجہ سے اس کا دماغ سن ہو رہا تھا۔ وہ کسی روبوٹ کی طرح شادی کی اس تقریب میں دولہا کا کردار ادا کر رہا تھا۔ جیسے جیسے ادویات کا اثر زائل ہورہا تھا۔ شدید درد آہستہ آہستہ واپس آرہا تھا۔
غصے اور نفرت سے ٹوبی کا بُرا حال ہو رہا تھا۔ اس کا دل چاہ رہا تھا کہ چیخ چیخ کر ہر ایک کو بتائے کہ اس کے ساتھ کیا ہوا ہے؟ کس ظالمانہ انداز میں اسے یہ شادی کرنے پر مجبور کیا گیا ہے۔ اس کا یہ حال کراسکو نے اس چوہیا کی خاطر کیا ہے جو دلہن بنی اس کے ساتھ کھڑی ہے۔
ٹوبی نے جب اپنی دلہن کی طرف دیکھا تو اسے وہ لڑکی یاد آگئی جس کا نام معلوم کرنے کی اس نے زحمت ہی نہیں کی تھی۔ چند دن کی دوستی کے بعد وہ اسے حسبِ معمول بھول گیا تھا لیکن یہ نہیں جانتا تھا کہ جس لڑکی کو وہ فراموش کرچکا ہے وہ اس کے لیے اتنی بڑی قیامت لے کر آرہی ہے۔ وہ ایک خوبصورت لڑکی تھی۔ شہد کی رنگت والے ریشمیں بالوں، متناسب جسم اور تیکھے نقوش والی جو اس کی مزاحیہ باتوں پر دوسروں سے زیادہ دیر تک ہنستی تھی۔ وہ جہاں جاتا تھا، وہ اس کے پیچھے ہوتی تھی۔
ایک بار ٹوبی نے اس سے کہا تھا۔ ’’تم نے مجھے اپنا دیوانہ بنا لیا ہے۔ کیا تم بھی مجھے پسند کرتی ہو؟‘‘
’’ہاں۔ کیوں نہیں۔‘‘ وہ بولی۔ ’’لیکن میرا ایک اور دوست بھی ہے۔‘‘
ٹوبی نے اس وقت اس کی باتوں پر دھیان نہیں دیا تھا۔ اگر اسے معلوم ہوتا کہ مائیلو کا دوست کتنا خطرناک آدمی ہے تو وہ اس کی طرف مڑ کر بھی نہ دیکھتا۔
’’مگر میں تم سے جتنی محبت کرتا ہوں۔ اتنی شاید کوئی نہیں کرسکتا۔ مجھے تم سے اسی وقت محبت ہوگئی تھی جب میں نے تمہیں پہلی مرتبہ دیکھا تھا۔‘‘
’’اوہ! کیا واقعی؟‘‘ وہ خوشی سے نہال ہوگئی۔
’’ہاں۔‘‘ ٹوبی نے ہنستے ہوئے کہا تھا۔
’’نہیں مجھے پھر ایک بار یقین دلائو۔‘‘ وہ بولی۔
’’ہاں۔ تمہاری قسم میں تم سے محبت کرتا ہوں۔‘‘ اس کا چہرہ خوشی سے گلابی ہوگیا۔ اس کی دلکش آنکھیں ستاروں کی طرح چمکنے لگیں۔ وہ ہنستی، لہراتی، خوشی سے کھلکھلاتی چلی گئی اور ٹوبی ہمیشہ کی طرح یہ سب بھول کر کسی اور حسینہ کو رجھانے میں مصروف ہوگیا۔
لیکن وہ یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اس کی یہ دل لگی اس کی جان کا آزار بن جائے گی۔ یہ دو چار دن کی جھوٹی محبت زندگی کا روگ بن جائے گی۔ یہ اس کے خواب و خیال میں بھی نہیں تھا۔
وہ مائیلو کو سفید عروسی لباس میں اپنی طرف آتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ وہ بہت اچھی لگ رہی تھی۔ اس کے گلابی لبوں پر ایک دلکش مسکراہٹ تھی لیکن ٹوبی کو وہ زہر لگ رہی تھی۔ وہ خود کو کوس رہا تھا۔ وہ اس دن کو کوس رہا تھا جس دن وہ پیدا ہوا تھا۔
کراسکو کی طرف سے انہیں ایک سجا سجایا گھر تحفے میں دیا گیا تھا لیکن ٹوبی کو یہ خوبصورت دلہن اور شاندار گھر ایک آنکھ نہیں بھا رہا تھا۔ اسے یوں لگ رہا تھا جیسے وہ قید خانے میں ہے اور اسے ہر حال میں اس قید خانے کی دیواریں توڑ کر باہر نکلنا ہے۔
وہ پہلے دن سے ہی اس زبردستی کی بیوی سے پیچھا چھڑانے کے لیے منصوبہ بندی کرنے لگا۔ کبھی سوچتا کہ وہ اسے اتنا تنگ کرے کہ وہ طلاق لینے پر مجبور ہوجائے۔ کبھی سوچتا کہ اس پر بے وفائی کا الزام لگا کر اسے طلاق دے دے یا خاموشی سے اسے چھوڑ کر بھاگ جائے تو کراسکو اپنا سر پیٹتا رہ جائے گا۔ لیکن جلد ہی اس پر واضح ہوگیا کہ یہ سب خیالِ خام ہیں۔ وہ کراسکو کے چنگل سے کبھی نہیں نکل سکتا۔ وہ دنیا کے جس کونے میں بھی ہوا، اسے تلاش کرلے گا۔ اس کے بعد اس کا جو حشر ہوگا، اس پر خود ہی اسے پچھتانا پڑے گا۔ وہ جس سے بات کرتا، جس سے کراسکو کے بارے میں پوچھتا، اس کے دل میں اس کا خوف گھر کرتا جاتا۔
یہ ایک عجیب بات تھی کہ اس شادی کے بعد ٹوبی کی مقبولیت میں اضافہ ہوا تھا۔ جب سے اس کی شادی ہوئی تھی اس کے اندر نفرت ہر وقت کھولتی رہتی تھی۔ جس کے نکاس کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ اسے جس انداز میں یہ شادی کرنے پر مجبور کیا گیا تھا، وہ اس کی ذلت کبھی نہیں بھلا سکتا تھا۔ اس کے اندر اتنا غصہ تھا کہ وہ مائیلو کو اپنے خالی ہاتھوں سے ہی قتل کرسکتا تھا حالانکہ مائیلو ایک محبت کرنے والی مثالی بیوی تھی۔
وہ اس سے شدید محبت کرتی تھی اور ہر وقت اس کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش میں لگی رہتی تھی۔ وہ اس کے لیے گھر کو سجاتی، اس کے لیے اچھے اچھے کھانے بناتی، اس کے لیے تیار ہوتی، ہر روز اس کے لیے ایک نیا اہتمام کرتی۔ لیکن ٹوبی کو اس کی یہ ادائیں بالکل نہیں بھاتی تھیں۔ جتنا وہ اس کے قریب آنے کی کوشش کرتی، اتنا ہی ٹوبی کی نفرت میں اضافہ ہوجاتا۔
وہ اس کے ساتھ نرمی کا برتائو کرنے پر مجبور تھا تاکہ کوئی ایسی بات نہ ہوجائے جو کراسکو جیسے بے رحم شخص کو حرکت میں لائے۔ لوہے کے راڈ سے اپنے بازو کے چکناچور ہونے کا درد اور اذیت وہ تمام زندگی نہیں بھول سکتا تھا۔ اسے کراسکو کی وہ دھمکی اچھی طرح یاد تھی۔ اس نے کہا تھا۔ ’’اگر تم نے مائیلو کا دل دکھایا تو…!‘‘
چونکہ ٹوبی اپنا غصہ اپنی بیوی پر نہیں نکال سکتا تھا تو اس نے اپنا غصہ تماشائیوں پر نکالنا شروع کردیا تھا۔ شو کے دوران اگر کوئی برتنوں اور چمچوں سے زیادہ آواز پیدا کرتا، کوئی واش روم جانے کے لیے اٹھتا یا آپس میں گفتگو میں لگ جاتا تو ٹوبی کا پارہ چڑھ جاتا۔
ٹوبی اپنی بڑی بڑی نیلی آنکھوں کو مزید کھول کر کچھ ایسے انداز میں اشارہ کرتا یا فقرہ کستا تو تماشائی اسے بہت پسند کرتے اور خوب قہقہے لگاتے۔ اس کا معصوم چہرہ اور اس کی تیز مزاحیہ زبان اس کی مقبولیت کو مزید بڑھاتی۔ وہ جس کا مذاق اڑاتا، جس پر فقرے کستا۔ وہ سب سے زیادہ محظوظ ہوتا۔ یہ ٹوبی کی ایک انفرادیت بن گئی تھی۔ جسے سب بہت پسند کرتے تھے۔ ٹوبی مزاحیہ پروگرام پیش کرنے والوں میں سرفہرست آگیا۔ اس کی مقبولیت میں ہر روز بے پناہ اضافہ ہوتا گیا۔
گھر کے قید خانے سے نجات کے لیے اس نے زیادہ سے زیادہ پروگرام کرنے شروع کردیے۔ لڑکیاں اس پر مرتی تھیں۔ وہ اس کی قربت حاصل کرنے کے لیے ہر وقت اس کے اردگرد منڈلاتی رہتیں لیکن ٹوبی میں ہمت نہیں تھی کہ کسی کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھ سکے۔ کراسکو کا خوف اس پر اس طرح مسلط تھا کہ وہ اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کہ کسی لڑکی کے ساتھ محبت کی پینگیں بڑھا سکے۔ وہ اپنی پرستار لڑکیوں سے شرماتے ہوئے کہتا۔ ’’میں اپنی بیوی سے بہت محبت کرتا ہوں۔‘‘
سب اس کے معترف تھے کہ وہ کتنا اچھا آدمی ہے کہ اپنی بیوی سے بے وفائی کا مرتکب نہیں ہونا چاہتا۔
ایک بار ٹوبی دس ہفتے کا دورہ کرکے واپس آیا تو ایئرپورٹ پر مائیلو اس کی منتظر تھی۔ خوشی سے اس کی آنکھیں چمک رہی تھیں۔ ’’اوہ ٹوبی ڈارلنگ! ہمارے یہاں ایک ننھا مہمان آنے والا ہے۔‘‘ اس نے مسرت سے نہال ہوتے ہوئے کہا۔
ٹوبی ساکت ہوکر اس کی طرف دیکھتا کا دیکھتا رہ گیا جبکہ مائیلو یہی سمجھی کہ یہ خوشی کا غیر معمولی اظہار ہے۔
’’یہ کتنی زبردست بات ہے کہ جب تم دورے پر ہوگے تو بچے کے ساتھ میرا دل لگا رہے گا۔ مجھے تنہائی کا احساس نہیں ہوگا۔ مجھے امید ہے کہ ہمارے ہاں بیٹا ہوگا تو وہ تمہارے ساتھ فٹ بال کلب جائے گا۔‘‘ وہ اس طرح کی باتیں کرتی جارہی تھی۔
لیکن ٹوبی کو ایسا لگ رہا تھا جیسے اس کی آواز کہیں بہت دور سے آرہی ہو۔ ٹوبی کا خیال تھا کہ مائیلو سے کبھی نہ کبھی چھٹکارا حاصل کر لے گا لیکن اس بچے کی وجہ سے معاملات کچھ الجھ سکتے تھے۔ مائیلو اس کا سہارا لے کر اسے کبھی نہیں چھوڑے گی۔
٭…٭…٭
بچے کی ولادت کرسمس کے قریب ہونے کی امید تھی۔ ٹوبی نے اپنا ایک لمبا ٹور رکھوا لیا۔ اسے اندیشہ تھا کہ کراسکو اس پر اعتراض کرے گا لیکن کسی نہ کسی طرح وہ اس مشکل مرحلے کو بھی طے کرگیا اور پھر جب وہ اسٹیج پر ہزاروں تماشائیوں کے سامنے پرفارم کر رہا تھا اور ہال داد و تحسین کے نعروں سے گونج رہا تھا تو وقفے میں اسے ایک پیغام دیا گیا کہ بچے کی ولادت کے دوران مائیلو چل بسی اور بچہ بھی زندہ نہیں رہا۔ ٹوبی نے اطمینان کا سانس لیا۔ اب وہ کراسکو کی قید سے باہر نکل آیا تھا۔
ٹوبی کامیابی کی سیڑھیاں چڑھتا جارہا تھا۔ کوئی ایسا نائٹ کلب، ہوٹل اور تھیٹر نہیں تھا جہاں اس نے شو نہ کیا ہو۔ وہ بچوں کے اسپتال، خیراتی پروگرام، فوجیوں کے لیے محاذ پر شو کرتا تھا۔ جو ہمیشہ کامیاب رہتے۔ اب ٹوبی کی کسی بھی پروگرام میں شرکت، اس پروگرام کی کامیابی کی ضمانت سمجھی جاتی تھی۔ تماشائی اس سے محبت کرتے تھے۔ وہ اسے دیکھتے ہی اپنی نشستوں پر کھڑے ہوجاتے اور دادوتحسین کے ڈونگرے برسانے لگتے۔
ٹوبی کی بے چین فطرت کو قرار نہیں تھا۔ وہ ہمیشہ خوب سے خوب تر کی تلاش میں رہتا۔ وہ اپنی بزنس پارٹیاں بدلتا رہتا تھا۔ یہی حال اس کا محبت کے معاملے میں تھا۔ وہ آج ایک لڑکی کے قریب ہوتا تو کل دوسری اس کی منظورِ نظر بن جاتی۔ پرسوں کسی اور لڑکی پر وہ مہربان ہوجاتا۔ لیکن مائیلو سے محبت کے تجربے کے بعد اتنا محتاط ہوگیا تھا کہ کسی لڑکی کو یہ یقین نہیں ہونے دیتا تھا کہ وہ واقعی اس سے محبت کرتا ہے۔
وہ ہر وقت اپنے پرستاروں میں گھرا رہتا تھا۔ جس میں بیشتر لڑکیاں ہی تھیں لیکن وہ اندر سے پھر بھی تنہا تھا۔ اس کے اندر تنہائی کا صحرا تھا۔ جسے پاٹنا اس کے بس کی بات نہیں تھی۔ وہ نمبر ون اسٹار بننا چاہتا تھا۔ اس نے یہ مقصد حاصل کرلیا تھا لیکن یہ غم اس کے اندر ہمیشہ تازہ رہتا تھا کہ اس کی کامیابی دیکھنے کے لیے اس کی ماں زندہ نہیں تھی۔ کاش وہ دیکھ سکتی کہ جو بات وہ اس وقت کہتی تھی، جب وہ چھوٹا سا بچہ تھا۔ کس طرح پوری ہوگئی تھی۔ وہ اپنی ماں کے چہرے پر مسکراہٹ نہیں دیکھ سکتا تھا۔ اس بات کا صدمہ ہمیشہ اسے رہتا تھا۔
ماں کی یادگاروں میں سے ایک یادگار اس کا باپ تھا جو بہت بیمار رہتا تھا۔ وہ بوڑھا اور کمزور ہوچکا تھا۔ اس کی واحد خوشی یہی تھی کہ ٹوبی کبھی کبھی اس سے ملنے آجاتا تھا۔ جب وہ آتا تو اسپتال کے مریض اور نرسیں اس کے گرد جمع ہوجاتی تھیں۔ سب اس کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش میں لگے رہتے۔
ایک میل نرس اس کے باپ کی وہیل چیئر دھکیلتا ہوا آیا۔ اس کے باپ نے ایک اچھا سوٹ پہن رکھا تھا کیونکہ آج اس سے اس کا مشہور بیٹا ملنے کے لیے آیا تھا۔
’’ہیلو۔ پاپا…‘‘ ٹوبی نے دور سے ہی پکارا۔
سب اس کے باپ کو رشک کی نگاہوں سے دیکھ رہے تھے۔ ٹوبی آگے بڑھا اور جھک کر اپنے باپ سے گلے ملا اور ہنستے ہوئے بولا۔ ’’یہ آپ کس کو دھوکا دے رہے ہیں۔ آپ تو اس بندے کو بڑے آرام سے وہیل چیئر پر گھما سکتے ہیں۔‘‘
اسپتال کے وہ ملازم اور مریض جو وہاں اکٹھا ہوگئے تھے کھلکھلا کر ہنس پڑے۔ سب ہی اسے دیکھ دیکھ کر خوش ہو رہے تھے کہ وہ اپنے دوستوں اور جاننے والوں کو بتائیں گے کہ انہوں نے ٹوبی کو بہت قریب سے دیکھا تھا۔ اس سے باتیں کی تھیں۔
ٹوبی اپنے شگفتہ فقروں اور مضحکہ خیز حرکتوں سے ان سب کو محظوظ کر رہا تھا۔ وہ کسی پر تبصرہ کرتا، کسی کا مذاق اڑاتا۔ کسی پر کوئی فقرہ کستا تو وہ سب اس کی ہر بات پر ہنستے، مسکراتے، قہقہے لگاتے۔
بالآخر ٹوبی نے معذرت خواہانہ لہجے میں کہا۔ ’’مجھے آپ جیسے تماشائی کبھی کبھی ملتے ہیں۔ جو اس طرح میری بات سے لطف اندوز ہوں۔ میں یہ بات آپ لوگوں سے کہنا تو نہیں چاہتا لیکن مجبوری ہے کیونکہ اب مجھے اپنے پاپا کے ساتھ کچھ وقت تنہائی میں گزارنا ہے۔ مجھے امید ہے کہ آپ مجھے اس کا موقع دیں گے۔‘‘
وہ ہنستے، مسکراتے ہوئے رخصت ہوگئے۔ ٹوبی اپنے باپ کے پاس کمرے میں اکیلا رہ گیا۔ ’’مجھے بہت خوشی ہے کہ تم آج آئے۔ میرے پاس ایک اچھی خبر بھی ہے۔ میرے ساتھ والے کمرے کا رہائشی ریلے کا کل انتقال ہوگیا۔‘‘
ٹوبی نے حیرت سے کہا۔ ’’یہ اچھی خبر ہے پاپا…؟‘‘
’’ہاں۔ کیونکہ وہ زندگی کی قید سے چھوٹ گیا ہے۔‘‘
ٹوبی چونکا۔ وہ اپنے باپ کا دکھ سمجھتا تھا جو اکثر بوڑھے والدین کا تھا لیکن ان کی اولاد اس کا سدباب نہیں کرسکتی تھی کیونکہ اپنی مصروفیت کی وجہ سے وہ انہیں اولڈ ہائوس یا اس قسم کے نرسنگ ہائوس میں داخل کرنے پر مجبور تھی۔
’’پاپا۔ میں جلدی جلدی آنے کی کوشش کروں گا۔‘‘ وہ باپ کو تسلی دے رہا تھا۔ لیکن وہ جانتا تھا کہ اس پر عمل کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ اس نے کچھ نقد رقم باپ کو دی۔ پھر نرسوں اور دیگر ملازمین کو بڑی فیاضی سے ٹپ دی اور ان سے بولا۔ ’’دیکھو پاپا کا اچھی طرح خیال رکھنا۔ مجھے اپنے پاپا کی بہت ضرورت ہے۔ بے شک وہ بوڑھے ہوگئے ہیں۔ مگر میرے لیے اہمیت رکھتے ہیں۔‘‘
وہ نرسنگ ہوم سے نکل آیا اور جیسے ہی دروازے سے باہر نکلا۔ وہ سب کچھ بھول گیا اور اس شو کے بارے میں سوچنے لگا جو اس رات کو پیش کرنے والا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ نرسنگ ہوم کے لوگ مہینوں اس کا تذکرہ کرتے رہیں گے اور اس کے دوبارہ آنے کا انتظار کریں گے۔
٭…٭…٭
ٹوبی کے لیے ہر راستہ کھلا تھا۔ اس کے دروازے پر خوش قسمتی کی دستک جاری تھی۔ وہ جس طرف نکل جاتا کامیابی اس کے قدم چومتی۔ اس نے ٹی وی پر ایک شو شروع کیا تو اس نے بھی مقبولیت کے ریکارڈ توڑ دیے۔ ٹوبی ایک روز ٹی وی شو کی ریکارڈنگ کے لیے گیا تو وہاں ایک نئی اداکارہ کاسل بھی موجود تھی۔ ٹوبی اسے دیکھ کر ٹھٹھکا۔ وہ اتنی حسین تھی کہ اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا تھا۔ ایک بار دیکھنے کے بعد اسے دوبارہ دیکھنا پڑتا تھا۔ وہ ایسا چہرہ تھا جس سے نگاہ ہٹانے کو جی نہیں چاہتا تھا۔
اس کی سنہری رنگت جس میں گلابی رنگ کی آمیزش تھی۔ اس کے لمبے ریشمیں سیاہ بال، اس کی دلکش بادامی آنکھیں اور متناسب جسم سبھی کچھ کشش انگیز تھے۔ ٹوبی نے دوسری لڑکیوں کے مقابلے میں اسے زیادہ کام دیا۔ پروگرام کے اختتام پر ٹوبی نے کاسل کو مخاطب کیا۔ ’’ڈریسنگ روم میں کافی پینے کے بارے میں کیا خیال ہے؟‘‘
’’شکریہ!‘‘ وہ مسکرا کر بولی۔
وہ چلی گئی تو ٹوبی نے اپنے منیجر سے کہا۔ ’’لڑکی کمال کی ہے۔ مجھے پسند آئی ہے۔‘‘
’’ہاں بہت خوبصورت ہے۔‘‘ منیجر بولا۔ وہ جانتا تھا کہ اس شو کے لیے لڑکیاں آتی رہتی تھیں۔ ان میں سے اکثر ٹوبی کی نگاہ میں آجاتیں۔ ان کے ساتھ دوستی چند ہی روز چلتی اور وہ پھر بھولی بسری داستان بن کر رہ جاتیں۔
’’اسے کھانے پر مدعو کرو۔‘‘ ٹوبی بولا۔
منیجر جانتا تھا کہ یہ ایک تجویز نہیں بلکہ حکم ہے۔ ٹوبی کا تمام اسٹاف گویا اس کی راجدھانی تھی جہاں اس کا حکم چلتا تھا۔ سرتابی کرنے والے کو فارغ ہونے میں زیادہ دیر نہیں لگتی تھی۔
’’ہاں۔ میں بندوبست کرتا ہوں۔‘‘ منیجر نے کہا اور اس ڈریسنگ روم کی طرف چلا گیا جسے خواتین آرٹسٹ استعمال کرتی تھیں۔ اس نے ایک بار دروازے پر دستک دی اور اندر چلا گیا۔
وہاں تقریباً درجن بھر لڑکیاں تھیں جن میں کوئی لباس تبدیل کر رہی تھی، کوئی اپنا میک اَپ اتارنے میں مصروف تھی اور کوئی اپنا سامان اپنے بیگ میں رکھ رہی تھی۔ کسی نے بھی اس کی طرف توجہ نہیں دی۔
منیجر نے کاسل کو مخاطب کیا۔ ’’تم نے آج بہت اچھی اداکاری کی۔‘‘
’’شکریہ!‘‘ وہ لاتعلقی سے بولی۔
’’تمہارے لیے ایک اچھی خبر ہے۔ مسٹر ٹوبی نے تمہیں کھانے پر بلایا ہے۔‘‘
کاسل نے اپنے سیاہ بالوں کو اپنی حسین لمبی انگلیوں سے سلجھاتے ہوئے کہا۔ ’’انہیں بتا دینا کہ میں بہت تھک گئی ہوں۔ میں آرام کرنا چاہتی ہوں۔‘‘ وہ اتنا کہہ کر بے نیازی سے آگے بڑھ گئی۔
کھانے پر کاسل کو نہ پا کر ٹوبی کا موڈ نہایت خراب ہوا۔ جب ڈائریکٹر نے ٹوبی سے پوچھا کہ وہ آرڈر کرنے کے لیے تیار ہے تو اس نے منیجر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تلخی سے کہا۔ ’’کچھ احمقوں کے لیے زبان کا آرڈر دے دو۔‘‘
میز پر موجود تمام اسٹاف نے قہقہہ لگایا لیکن ٹوبی مسکرایا تک نہیں۔ وہ درشتی سے بولا۔ ’’میں نے تم سے کہا تھا کہ اسے کوئی سنجیدہ چیز نہ بنائو۔ نہ ہی اس لڑکی کو خوف زدہ کرو۔ سادگی سے اسے کھانے پر مدعو کرلو۔‘‘
’’میں نے ایسا ہی کیا تھا لیکن وہ کہنے لگی کہ وہ بہت تھک گئی ہے۔ اس لیے…‘‘
’’دنیا میں کوئی لڑکی ایسی نہیں جو میرے ساتھ ڈنر نہ کرنے کے لیے تھکاوٹ کا عذر پیش کرے۔ تم نے یقیناً کوئی ایسی بات کردی ہوگی کہ وہ ہتھے سے اکھڑ گئی۔‘‘ ٹوبی کی آواز بلند ہوگئی۔ ساتھ والے لوگ ان کی طرف دیکھنے لگے۔ ٹوبی نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ’’یہ ہمارا الوداعی ڈنر ہے دوستو…!‘‘ اس نے منیجر کی طرف اشارہ کیا۔ ’’کیونکہ ہمارے منیجر نے اپنا دماغ چڑیا گھر کو عطیے میں دے دیا ہے۔‘‘
وہ لوگ قہقہے لگانے لگے۔ منیجر لارنس بھی اگرچہ مسکرانے کی کوشش کررہا تھا۔ لیکن میز کے نیچے وہ اپنے ہاتھوں کو ایک دوسرے میں الجھا کر خود پر قابو پا رہا تھا۔
ٹوبی نے اسی پر بس نہیں کیا۔ وہ اس کا مذاق اڑاتے ہوئے بولا۔ ’’تمہیں معلوم ہے کہ یہ کتنا بڑا احمق ہے کہ اس کے بارے میں بہت سے لطیفے مشہور ہیں۔‘‘
ان لوگوں کے علاوہ ہال میں موجود دوسرے لوگ بھی اس طرف متوجہ ہوگئے اور اپنی میزوں سے اٹھ کر ان کے گرد جمع ہونے لگے۔ ٹوبی نے اپنی آواز بلند کی۔ ’’میرا یہ منیجر لارنس مانا ہوا احمق ہے۔ جب یہ پیدا ہوا تھا تو اس کے والدین کے درمیان جھگڑا ہوگیا تھا۔ معلوم ہے کس بات پر…‘‘ بہت دیر تک ٹوبی اس کا مذاق اڑاتا رہا۔ لارنس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اٹھ کر چل دے اور پھر کبھی ٹوبی کو اپنی شکل نہ دکھائے۔
گھر آکر لارنس اپنے بستر پر لیٹا تو اس کا خون غصے سے کھول رہا تھا۔ اسے ٹوبی سے یہ امید نہیں تھی۔ ٹوبی کو یہاں تک لانے میں اس کا بڑا ہاتھ تھا لیکن ٹوبی نے ذرّہ برابر اس کی پروا نہیں کی تھی۔ وہ اس سے الگ ہونا چاہتا تھا۔ ہمیشہ کے لیے اس سے تعلق توڑ لینا چاہتا تھا لیکن وہ مجبور تھا۔ ٹوبی کی طرف سے اسے اچھی خاصی رقم مل رہی تھی۔ اس نے ہمیشہ عیش و عشرت میں زندگی گزاری تھی۔ کبھی بُرے وقت کے لیے کچھ بچا کر نہیں رکھا تھا۔ اگر وہ ٹوبی سے علیحدہ ہوا تو اسے واپس اس مقام تک پہنچنے کے لیے کافی جدوجہد کرنی پڑے گی۔ وہ عمر کے اس حصے میں تھا جب آدمی عیش و آرام کا عادی ہوجاتا ہے۔ اس کی ضرورتیں اس کی عزتِ نفس پر غالب آچکی تھیں۔ نہ جانے مستقبل میں اس کے لیے کیا تھا۔ وہ یہ سوچتے ہوئے بھی ڈرتا تھا۔
٭…٭…٭
عام طور پر جیسی کہ ٹوبی کی عادت تھی وہ کاسل جیسی لڑکیوں پر کبھی دوسری نگاہ بھی نہیں ڈالتا تھا۔ ایک سے ایک حسین لڑکی اس کی راہوں میں کھڑی رہتی تھی لیکن وہ اس کا عادی نہیں تھا کہ اسے کسی شے کے حاصل کرنے کی خواہش ہو اور وہ اس کی دسترس میں نہ آئے۔ اس لیے کاسل کے انکار نے اس کے اندر ایک ہلچل سی مچا دی۔ یہ لڑکی
کوئی نامور اداکارہ بھی نہیں تھی۔ وہ انکار کیوں کررہی تھی جبکہ ٹوبی کی نگاہِ التفات کو لڑکیاں ترستی تھیں۔
اس نے ایک مرتبہ پھر اسے ڈنر پر مدعو کیا مگر اس نے انکار کردیا۔ ٹوبی کو بہت بُرا لگا لیکن پھر اس نے اسے اپنے ذہن سے جھٹک دینے کی کوشش کی کہ وہ لڑکی خواہ مخواہ خود کو اہم بنانے کی کوشش کررہی ہے۔ جلد ہی وہ اس کے قدموں میں جھکی ہوگی۔ دوسری لڑکیوں کی طرح… لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ وہ الگ تھلگ اس کی پہنچ سے بہت دور رہی اسی لیے وہ اس کے دل کے قریب آگئی۔ وہ اس کا خیال دل سے نہیں نکال سکا۔
پھر اس نے ایک اور کوشش کرنے کی ٹھانی۔ اس نے اپنے اسسٹنٹ ڈائریکٹر سے کہا کہ وہ کاسل کو پھر اس کے شو میں بلائے اور اس کے لیے ایک کردار تخلیق کرے لیکن جب اسسٹنٹ نے اسے شو میں آنے کے لیے کہا تو اس نے معذرت کرلی کہ وہ کہیں اور شوٹنگ میں مصروف ہے۔ اس لیے وقت نہیں دے سکتی۔
ٹوبی نے مشتعل ہوکر کہا۔ ’’اس سے کہو کہ جہاں کہیں وہ کام کررہی ہے۔ اسے چھوڑ دے۔ ہم اسے کئی گنا زیادہ معاوضہ دیں گے۔ آخر اس لڑکی کے ساتھ کیا مسئلہ ہے؟‘‘
اسسٹنٹ نے پھر کاسل سے بات کی لیکن کاسل نے پھر انکار کردیا کہ وہ کسی شو کو درمیان سے نہیں چھوڑ سکتی۔
اسی شام ٹوبی نے خود اسے فون کیا۔ وہ ٹوبی جو کبھی کسی کو فون نہیں کرتا تھا۔ لیکن یہ لڑکی جیسے اس کی ضد بن گئی تھی۔ وہ بہت ملائم لہجے میں اس سے مخاطب ہوا۔ ’’کاسل یہ تمہارا ساتھی اداکار بچارہ ٹوبی بول رہا ہے۔‘‘
’’اوہ۔ ہیلو مسٹر ٹوبی۔‘‘ اس کا انداز پرسکون تھا۔
’’یہ مسٹر، وسٹر کیا ہے کاسل…‘‘ ٹوبی نے خوش مزاجی سے کہا۔ ’’تمہیں ٹینس میچ پسند ہیں۔ میرے پاس باکس کے دو ٹکٹ…‘‘
’’نہیں… مجھے نہیں پسند۔‘‘
’’مجھے بھی پسند نہیں۔‘‘ ٹوبی نے ہنس کر کہا۔ ’’میں نے تو ویسے ہی تمہاری پسند جاننے کے لیے پوچھا تھا۔ ہاں البتہ یہ ضرور بتائو کہ ہفتے کی شام میرے ساتھ ڈنر کرنے کے بارے میں کیا خیال ہے۔ میں نے ایک بہت اچھے شیف کو اپنے دوست کے گھر سے اغوا کیا ہے۔‘‘
’’سوری مسٹر ٹوبی! اس روز میری ایک اور ڈیٹ ہے۔‘‘ اس کی آواز میں ذرّہ برابر دلچسپی کا اظہار نہیں تھا۔
’’تو پھر تم کس دن فارغ ہوگی؟‘‘ ٹوبی نے خود پر بمشکل قابو پاکر کہا۔
’’میں ایک محنتی لڑکی ہوں۔ میرا دھیان اپنے کام میں رہتا ہے۔ میں بہت کم باہر جاتی ہوں۔ ویسے تمہاری اس نوازش کا شکریہ!‘‘ اور فون بند ہوگیا۔
ٹوبی تلملا کر رہ گیا۔ ایسا کبھی نہیں ہوا تھا کہ کسی نے یوں اس کا فون بند کردیا ہو۔ دنیا کی کوئی لڑکی ایسی نہیں تھی کہ جو ایک بار ٹوبی سے ملی ہو اور اس نے اس سے دوبارہ ملنے کے لیے سال بھر جوتیاں نہ چٹخائی ہوں اور یہ لڑکی خود کو نہ جانے کیا سمجھتی تھی کہ یوں اس کی مسلسل توہین پر توہین کیے جاتی تھی۔ ٹوبی کا رواں رواں غصے میں کھول رہا تھا اور چونکہ وہ یہ غصہ کاسل پر نہیں نکال سکتا تھا، اس لیے اس کے اردگرد جو بھی تھا۔ وہ اس کے غصے کے سیلِ رواں میں بہتا چلا جارہا تھا۔
’’اسکرپٹ پھسپھسا ہے۔ ڈائریکٹر احمق ہے۔ موسیقی خوفناک ہے۔ اداکار بودے ہیں۔‘‘ پھر اس نے دوسرے ڈائریکٹر کو بلایا۔ ’’ایڈی تم اس بے وقوف عورت کاسل کے بارے میں کیا جانتے ہو؟‘‘
’’کچھ خاص نہیں۔‘‘ وہ مستعدی سے بولا۔ وہ اتنا بے وقوف نہیں تھا کہ خود ہی اپنے جال میں پھنس جاتا۔ اس کے منہ سے نکلا ہوا ایک لفظ بھی اس کے لیے پھانسی کا پھندا بن سکتا تھا۔ جو ٹوبی ہر وقت اس کے سر پر لٹکائے رکھے گا۔
’’کیا اس کے دوسرے لوگوں کے ساتھ تعلقات ہیں؟‘‘ ٹوبی نے پوچھا۔
ایڈی اتنا ہوشیار یقیناً تھا کہ جلتی پر تیل نہ ڈالے۔ اس نے بڑے یقین سے کہا۔ ’’نہیں سر بالکل نہیں… اگر ایسی بات ہوتی تو ہمیں ضرور پتا ہوتا۔‘‘
’’لیکن تم پھر بھی پتا چلائو کہ اس کے کس کس کے ساتھ تعلقات ہیں۔ کیا اس کا کوئی گہرا دوست ہے جس کے ساتھ وہ وقت گزارتی ہو۔ باہر جاتی ہو؟‘‘
’’یس سر۔‘‘
مگر ٹوبی کو کسی کل چین نہیں تھا۔ ابھی صبح کے تین ہی بجے تھے کہ اس نے ایڈی کو فون کیا۔ ایڈی نے بمشکل آنکھیں کھولیں۔ لیکن جیسے ہی اس نے ٹوبی کا نمبر دیکھا۔ اس کی آنکھیں پوری طرح کھل گئیں۔ دوسری طرف سے ٹوبی نے بے صبری سے پوچھا۔ ’’تم نے کیا پتا چلایا ایڈی…‘‘
ایڈی گھبرا کر بستر پر اٹھ بیٹھا۔ کیا کہے، کیا نہ کہے… جو بھی کہتا وہ اسی کے گلے پڑنا تھا۔ لیکن کچھ نہ کچھ تو کہنا تھا۔
وہ بہت سوچ سوچ کر بولا۔ ’’سر۔ میں نے اپنے دوستوں سے بات کی ہے۔ وہ سب ہی اسے پسند کرتے ہیں۔ اسے خوشی سے کام دیتے ہیں۔ وہ وقت کی پابند اور ایک اچھی اداکارہ ہے۔‘‘ وہ جلدی جلدی بول رہا تھا کہ ٹوبی کو قائل کرسکے۔ ٹوبی اتنا بااختیار تھا کہ کوئی بھی اس سے دشمنی مول لینے کی غلطی نہیں کرسکتا تھا۔ ایڈی یہ سوچ کر ہی کانپ جاتا تھا کہ اگر ٹوبی کو پتا چل جائے کہ کاسل کو اس نے اسی شرط پر ٹوبی کے شو میں کام دیا تھا جو اکثر ڈائریکٹروں کی نئی اداکارائوں سے طے کی جاتی ہے تو نہ صرف اسے اس کی ملازمت سے برخاست کردیا جائے گا بلکہ اس کا اس شہر میں رہنا بھی محال ہوجائے گا۔
اس موضوع پر اس نے ٹوبی کی کمپنی کے تمام عہدیداروں سے بات کی تھی۔ سب ہی کے ساتھ یہی مسئلہ تھا۔ وہ کسی نہ کسی طرح کاسل کے ساتھ ملوث رہ چکے تھے۔ اس لیے سب نے مل کر یہی طے کیا کہ کاسل کے کردار کے بارے میں ٹوبی کو بالکل بے خبر رکھا جائے ورنہ سب کی شامت آسکتی تھی۔ اسی لیے ایڈی نے بڑے مضبوط لہجے میں اسے یقین دلاتے ہوئے کہا۔ ’’نہیں۔ اس کے بارے میں ایسی ویسی کوئی بات نہیں سنی۔ وہ اپنے کام سے کام رکھنے والی لڑکی ہے۔‘‘
ٹوبی کی آواز میں اطمینان کی جھلک نظر آئی۔ ’’ہاں۔ میرا بھی یہی اندازہ تھا۔ اچھا ایڈی میں نے تمہیں بے آرام تو نہیں کیا؟‘‘
’’نہیں۔ سر ایسی تو کوئی بات نہیں۔‘‘ ایڈی خوشامدانہ لہجے میں بولا۔
ٹوبی نے فون بند کردیا لیکن اس کے بعد ایڈی نہیں سو سکا۔ اسے باربار یہ خیال آتا رہا کہ اگر ٹوبی کو اصل صورتحال کا علم ہوگیا تو کیا ہوگا؟
پھر ٹوبی نے لارنس سے مشورہ لینے کی ٹھانی۔ اگرچہ ٹوبی اسے اب اپنا ذاتی ملازم سمجھنے لگا تھا اور اس سے وہی سلوک کرتا تھا جو عموماً ملازموں کے ساتھ روا رکھا جاتا ہے لیکن اسے یہ شعور یقیناً تھا کہ اس کی ان ساری کامیابیوں کے پیچھے لارنس کا ہاتھ تھا۔ اسے یہ بھی احساس تھا کہ لارنس اسے اپنے بچوں کی طرح چاہتا ہے۔ وہ اسے اچھا مشورہ دے گا۔
ایک پرسکون ریسٹورنٹ میں لارنس کے ساتھ بیٹھ کر ٹوبی نے اپنا مسئلہ چھیڑا۔ ’’لارنس…! میں تم سے ایک ضروری مشورہ کرنا چاہتا ہوں۔‘‘
’’ضرور۔ میں حاضر ہوں۔‘‘ لارنس اس کی اس توجہ سے مسرور ہوا۔
’’یہ ایک لڑکی کے بارے میں ہے۔‘‘ ٹوبی قدرے جھجک کر بولا۔
لارنس کو سمجھنے میں دیر نہیں لگی کیونکہ یہ بات آج کل ہر ایک کی زبان پر تھی۔ کئی مزاحیہ کالم اسی پر لکھے جارہے تھے۔ ایک کالم نگار نے تو یہ تک لکھ دیا تھا کہ یہ کیا ہوگیا کہ وہ جس پر لڑکیاں مرتی تھیں۔ وہ خود ایک لڑکی پر مر مٹا تھا لیکن لارنس نے خود کچھ کہنا مناسب نہیں سمجھا۔
خود ٹوبی نے ہی کہنا شروع کیا۔ ’’تمہیں وہ لڑکی کاسل یاد ہے جو میرے ایک شو میں آئی تھی۔‘‘
’’ہاں۔ مجھے یاد ہے۔ وہ پُرکشش لڑکی…! ہاں اس کے ساتھ کیا مسئلہ ہے؟‘‘
’’یہی۔ تو پتا نہیں چل رہا کہ اس کے ساتھ مسئلہ کیا ہے؟ یوں لگتا ہے۔ جیسے کسی نے اسے میرے خلاف بھڑکا دیا ہے۔ میں نے جب بھی اسے مدعو کیا۔ اس نے قبول نہیں کیا۔ یہ میرے لیے ناقابل برداشت بات ہے۔ عجیب سر پھری لڑکی ہے۔‘‘
’’تو تم اس کو باربار دعوت دینا چھوڑ کیوں نہیں دیتے؟‘‘
’’یہی تو سب سے بڑی مصیبت ہے کہ میں ایسا نہیں کرسکتا۔ یہ بات صرف تمہارے اور میرے درمیان رہے۔ میری زندگی میں ایسا کبھی نہیں ہوا، میرے ذہن میں اس کے علاوہ کچھ اور آتا ہی نہیں۔ میں ہر وقت اسی کے بارے میں سوچتا رہتا ہوں۔ کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کروں۔ وہ لڑکی میرے حواسوں پر سوار ہوگئی ہے۔‘‘
ایک لمحے کو لارنس کا دل چاہا کہ ٹوبی کو بتا دے کہ وہ لڑکی یہاں، وہاں ہر ایک کے ساتھ کیا کرتی پھرتی ہے۔ اس کے خوابوں کی شہزادی تھوڑا سا کام حاصل کرنے کے لیے کسی بھی ہدایتکار کا مطالبہ ماننے میں پس و پیش سے کام نہیں لیتی لیکن ٹوبی کو یہ بتانا خطرے سے خالی نہیں تھا۔ اسی لیے وہ کچھ سوچ کر بولا۔ ’’میرے ذہن میں ایک تجویز ہے۔ اگر وہ اداکاری کے بارے میں سنجیدہ ہے۔‘‘
’’ہاں۔ سنا ہے کہ وہ ایک بڑی اداکارہ بننے کی جدوجہد میں مصروف ہے۔‘‘
’’تو پھر ٹھیک ہے۔ تم یوں کرو کہ اسے مدعو کرو۔ اپنے گھر…‘‘
’’نہیں۔ وہ کبھی نہیں آئے گی۔‘‘ ٹوبی فوراً بولا۔
’’سنو تو…! تم اپنے گھر پر ایک پارٹی دو۔ اس میں انڈسٹری کے تمام ہدایتکاروں اور پروڈیوسروں کو مدعو کرو جو کاسل کو کچھ کام دے سکیں۔ ایسے لوگ جن سے کام حاصل کرنے کے لیے وہ مر رہی ہو۔ تم دیکھنا وہ دوڑی چلی آئے گی۔‘‘
ٹوبی قائل ہوگیا۔ اس نے صبر نہیں کیا اور اسی رات کاسل کا نمبر ملایا۔
’’کون بات کررہا ہے؟‘‘ ادھر سے پوچھا گیا۔
ٹوبی نے ہونٹ چبا لیے۔ ملک کا ہر فرد اس کی آواز پہچانتا تھا مگر یہ محترمہ فرما رہی تھیں کہ کون بات کررہا ہے۔ ’’میں ٹوبی ٹیمپل…!‘‘
’’اوہ… اچھا!‘‘ وہ لاتعلقی سے بولی۔
’’بات سنو کاسل! میں اپنے گھر پر ایک ڈنر کا اہتمام کررہا ہوں۔ بدھ کی رات اور میں…!‘‘ ٹوبی کو لگا کہ وہ انکار کے لیے کچھ کہنا ہی چاہتی ہے۔ لیکن اس نے اسے بولنے کا موقع نہیں دیا۔ وہ جلدی جلدی بولتا چلا گیا۔ ’’میں نے تمام نمایاں لوگوں کو مدعو کیا ہے۔‘‘ اس نے تمام مشہور شخصیتوں کے نام لینا شروع کیے اور پھر بولا۔ ’’میرا خیال ہے کہ تم ان لوگوں سے ملنا پسند کرو گی۔ کیا تم بدھ کو فارغ ہو؟‘‘ (جاری ہے)

Latest Posts

Related POSTS