Millan | Episode 5

124
اگلے روز کاسل نے تمام نرسوں اور دیگر ماہرین کو فارغ کردیا۔ جب ڈاکٹر تک یہ خبر پہنچی تو اس نے فوری طور پر کاسل سے رابطہ کرکے کہا۔ ’’مسز ٹیمپل! آپ کو نرسوں کو فارغ نہیں کرنا چاہیے تھا۔ مسٹر ٹوبی کی حالت ایسی ہے کہ کسی کو ان کے ساتھ ہونا چاہیے۔‘‘
’’میں ٹوبی کے ساتھ رہوں گی۔‘‘
سب چلے گئے تھے۔ کاسل وہ کچھ کرنا چاہتی تھی جس کے بارے میں ڈاکٹروں نے کہہ دیا تھا کہ وہ ناممکن ہے۔ جب پہلی دفعہ اس نے ٹوبی کو بیڈ سے اٹھا کر وہیل چیئر پر بٹھایا تو یہ دیکھ کر خوف زدہ ہوگئی کہ اس کا وزن بہت کم ہوچکا تھا۔ کاسل نے وہ سب اسی طرح کرنا شروع کیا جیسا تھراپسٹ کرتا تھا۔
دوپہر کو وہ اسے بولنا سکھاتی۔ اپنے ہونٹوں کو اس شکل میں لائو۔ اب آواز نکالنے کی کوشش کرو۔ یہ ناممکن نہیں ہے۔ تم کوشش کرو گے تو بولنے لگو گے۔ وہ اس کا ساتھ دینے کی کوشش کرتا۔
وہ رات کو اس سے ڈھیروں باتیں کرتی۔ ’’ٹوبی۔ میں تمہاری ہوں۔ ہمارے درمیان محبت کا خوبصورت بندھن ہے۔ ہم کبھی جدا نہیں ہوں گے۔ تم بالکل ٹھیک ہوجائو گے۔ ہم پھر ہر جگہ ایک ساتھ ہوں گے۔‘‘ یہ سن کر ٹوبی کی نیلی آنکھیں چمک اٹھتیں۔ اس کی پلکیں بھیگ جاتیں اور وہ اپنے منہ سے کچھ آوازیں نکالنے کی کوشش کرتا جس کا کوئی مفہوم نہیں ہوتا تھا لیکن کاسل جانتی تھی کہ وہ اس کی تائید کررہا ہے۔
کاسل کی زندگی کا محور بس ٹوبی تھا۔ وہ صبح چھ بجے اٹھ جاتی۔ ٹوبی کو صاف ستھرا کرکے بستر کی چادریں بدلتی۔ ٹوبی کو پاؤڈر اور خوشبو لگاتی ۔ اس کی شیو کرتی، اس کے بال بناتی اور ساتھ ساتھ تبصرہ بھی کرتی جاتی۔ ’’دیکھو ٹوبی! واہ۔ تم کتنے خوبصورت لگ رہے ہو۔ تمہارے پرستار اگر تمہیں دیکھ لیں تو میری تائید کریں گے۔ تم بہت جلد اپنے پرستاروں کے درمیان ہو گے۔ ان کی داد و تحسین سے ہال کی چھت اُڑ جائے گی۔‘‘
اس کے بعد وہ ٹوبی کے لیے ناشتہ بناتی۔ ایسی چیزیں جو وہ چمچے کے ساتھ اس کے منہ میں ڈال سکے۔ وہ اسے بڑی محبت سے اس طرح ناشتہ کراتی جیسے چھوٹے بچوں کو کرایا جاتا ہے۔ وہ ہمہ وقت اس سے باتیں کرتی رہتی۔ اسے یقین دلاتی کہ وہ بہت جلد ٹھیک ہوجائے گا۔
’’تم ٹوبی ٹیمپل ہو۔ سب لوگ تم سے محبت کرتے ہیں۔ ہر ایک چاہتا ہے کہ تم ٹھیک ہوکر پھر فن کی دنیا میں واپس آئو۔ تمہارے پرستار تمہارا بے چینی سے انتظار کررہے ہیں۔ سب تمہارے لیے دعائیں کرتے ہیں۔ تمہیں بہت جلد بالکل ٹھیک ہوجانا ہے۔ اپنے پرستاروں اور میری خاطر۔‘‘
یوں کرتے کرتے ایک مشکل دن گزر جاتا اور دوسرا مشکلات سے بھرا دن طلوع ہوجاتا اور وہی تمام تھکا دینے والے معمولات شروع ہوجاتے۔ کاسل نے خود کو ان مشکلات سے مقابلہ کرنے کے لیے تیار کرلیا تھا۔ وہ ہر لمحہ اس کی ہمت بڑھاتی اور امید دلاتی تھی۔
دن پر دن گزرتے جارہے تھے۔ ہر رات امیدیں ٹوٹتیں اور صبح پھر تروتازہ ہوجاتیں، ایک نئے عزم اور ارادے کے ساتھ… لیکن اب اس کے رویّے میں سختی آتی جارہی تھی۔ وہ ٹوبی کے ساتھ تمام دن لگی رہتی تھی۔ جب ٹوبی اس کی بات ماننے سے انکار کرتا یا تھکن کی وجہ سے ہاتھ، پیر چھوڑ دیتا تو وہ اس کے منہ پر زور دار تھپڑ مارتی اور پاگلوں کی طرح کہتی۔ ’’دیکھو ہمیں اس بیماری کو شکست دینی ہے۔ ہمیں ان ڈاکٹروں کو غلط ثابت کرنا ہے۔ تم بالکل ٹھیک ہوجائو گے۔ تم بالکل ٹھیک ہوجائو گے۔‘‘
یہ ایک بہت تھکا دینے والا معمول تھا جس نے کاسل کو چور چور کردیا تھا۔ وہ خود کو مضبوط بنانے کی کوشش کرتی اور خود کو یقین دلاتی کہ وہ اپنے مقصد میں ضرور کامیاب ہوگی لیکن جب وہ رات کو سونے کے لیے لیٹتی تو نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور ہوتی۔ اس کے ذہن کے پردے پر ماضی کے وہ مناظر کسی فلم کی طرح چلنے لگتے۔ جب وہ خود کو دنیا کی خوش قسمت ترین عورت سمجھتی تھی۔ لوگ انہیں ’’سنہری جوڑا‘‘ کہتے تھے۔ ہر جگہ بڑے بڑے لوگ اس کی تعریف کرتے۔ اسے بتاتے کہ وہ کتنی خوبصورت ہے۔ وہ رات کی تنہائی میں تاریکی میں گھری اپنے حالات کے متعلق سوچتی رہتی۔ یہاں تک کہ صبح ہوجاتی اور وہ بمشکل خود کو روزمرہ کے معمول کے لیے بستر سے گھسیٹ کر اٹھاتی اور ایک مشکلوں سے بھرے دن کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہوجاتی۔
اسے یوں لگتا تھا جیسے دنیا نے اسے اور ٹوبی کو اچھوت سمجھ کر الگ تھلگ کردیا ہے۔ ان کی ساری دنیا بس اس گھر کی چار دیواری میں سمٹ آئی تھی۔ یہی کمرے، یہی درودیوار اور بیمار شخص… جس کی حالت میں کوئی تبدیلی نہیں آتی تھی اور دن گھسٹ گھسٹ کر گزر رہے تھے جو ہفتوں اور پھر مہینوں میں تبدیل ہورہے تھے۔
ٹوبی کی اب یہ حالت ہوگئی تھی کہ جب وہ کاسل کو اپنی جانب آتے ہوئے دیکھتا تو بے بسی سے رونے لگتا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اسے کاسل کا حکم ماننا ہوگا۔ اگر وہ اس کی ہدایت پر عمل نہیں کرے گا تو وہ اس کو سزا دے گی۔
ہر روز کاسل پہلے سے زیادہ بے رحم ہوتی جارہی تھی۔ وہ ٹوبی کو جبراً اپنے ہاتھ، پائوں ہلانے اور ورزش کرنے پر مجبور کرتی۔ یہاں تک کہ وہ ناقابل بیان اذیت میں مبتلا ہوجاتا۔ اس کے منہ سے کرب انگیز آوازیں نکلتیں۔ جیسے کہہ رہا ہو کہ کاسل! اب بس کردو لیکن وہ اپنی دھن میں لگی رہتی۔ وہ کہتی۔ ’’نہیں ٹوبی! ابھی نہیں۔ میں تمہیں ہرگز ہمت نہیں ہارنے دوں گی۔ ہمیں ان سب کو دکھانا ہوگا جو کہتے ہیں کہ تم ٹھیک نہیں ہوسکتے۔ تم ضرور ٹھیک ہوکر شو بزنس کی دنیا پر راج کرو گے۔‘‘
وہ ٹوبی کے ساتھ اتنی مصروف ہوگئی تھی کہ اس نے اپنا خیال رکھنا چھوڑ دیا تھا۔ اس کے لباس اس کے جسم پر لٹکنے لگے تھے۔ اس کا وزن کم ہوتا جارہا تھا۔ اس کا چہرہ کمزور اور زرد ہوگیا تھا۔ اس کے دلکش سیاہ ریشمیں بال عدم توجہ کے باعث بے رونق ہوگئے تھے۔ اس کے دن، رات محدود ہوکر رہ گئے تھے۔ ٹوبی کو صاف ستھرا کرنا، اسے کھانا کھلانا، ورزش کروانا، اس سے باتیں کرنا، اسے امید دلانا… اس میں وہ اتنی تھک کر چور ہوجاتی کہ وہیں کسی صوفے پر گر کر سوجاتی۔
اس کی آنکھ کھلی تو دن چڑھ آیا تھا۔ اس نے گھڑی پر نگاہ ڈالی۔ دوپہر ہوچکی تھی۔ نیند میں اسے وقت کا پتا ہی نہیں چلا تھا۔ ٹوبی کی صفائی ہوئی تھی نہ اس کا بستر تبدیل ہوا تھا اور نہ ہی اسے کھانا کھلایا تھا۔ وہ اپنے بستر پر بے بس پڑا یقیناً اس کا انتظار کررہا ہوگا۔ پریشان ہوگا۔ کاسل نے اٹھنے کی کوشش کی لیکن اسے لگا جیسے وہ اپنے جسم کو ذرا بھی حرکت نہیں دے سکتی۔ وہ اس قدر تھک چکی تھی کہ اس کے جسم نے اس کا حکم ماننے سے انکار کردیا تھا۔
وہ اپنے بستر پر پڑی ہوئی سوچ رہی تھی کہ ناکامی اس کا مقدر تھی۔ دن، رات کی یہ کوشش جو مہینوں پر محیط تھی۔ اس کا حاصل کچھ نہیں تھا۔ ٹوبی کی حالت میں تبدیلی کیا آتی۔ اس کے اپنے جسم نے اسے دھوکا دے دیا تھا۔ اس کے جسم میں طاقت نہیں رہی تھی کہ وہ ٹوبی کی حالت بدلنے کی کوشش کرتی۔ سب کچھ جیسے ختم ہوگیا تھا۔ وہ اسی ادھیڑ بن میں تھی کہ اسے کمرے کے دروازے پر کھٹکا محسوس ہوا۔ وہ چونکی۔ اس نے دروازے کی طرف دیکھا اور اس کی آنکھیں حیرت سے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ ٹوبی اپنا واکر تھامے ہوئے دروازے میں لڑکھڑاتے ہوئے قدموں کے ساتھ کھڑا تھا۔ اس کے منہ سے عجیب عجیب آوازیں نکل رہی تھیں جیسے کچھ کہنے کی کوشش کررہا ہو۔
کاسل بلند آواز سے سسکیاں لے لے کر رونے لگی۔ اسے خود پر قابو نہیں رہا تھا۔
اس دن کے بعد سے ٹوبی کی حالت میں حیرت انگیز تبدیلی آنے لگی۔ اسے اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ بہتر ہورہا ہے۔ وہ کاسل کے ساتھ تعاون کرنے لگا تھا۔ وہ اس کی خاطر جلد از جلد ٹھیک ہونا چاہتا تھا اسی لیے وہ اب اس کی سختی پر برہم نہیں ہوتا تھا۔ اپنی طاقت سے بڑھ کر ورزش کرنے میں لگا رہتا تھا۔ وہ اگر پہلے کاسل سے محبت کرتا تھا تو اب اس کی پرستش کرنے لگا تھا۔ وہ اس کی ہر بات دل و جان سے مانتا تھا۔
اب دونوں جیسے ایک ہی ذات بن چکے تھے۔ ان کے ذہن اور ان کے دماغ، ان کی روحیں ایک ہوچکی تھیں۔ ٹوبی کی زندگی اب کاسل کے ہاتھوں میں تھی۔ ٹوبی کو یقین تھا کہ وہی اس کی نجات دہندہ ہے۔ وہی اس کو بچا سکتی ہے۔ وہی اس کی طاقت ہے۔ دونوں کے درمیان ایک محبت بھری ہم آہنگی پیدا ہوچکی تھی۔ کاسل اس کے لیے تھی اور وہ کاسل کے لیے!
کاسل اس کی خوراک تبدیل کرتی رہتی۔ اس کی ورزشوں کو بدلتی رہتی۔ اب اس میں اتنی طاقت آچکی تھی کہ وہ اپنی واکر کے ساتھ لان کے کئی چکر لگا لیتا تھا۔ پھر اگلا مرحلہ آیا۔ واکر چھوڑ کر وہ چھڑی استعمال کرنے لگا اور اس کے بعد وہ خوشی کا لمحہ نمودار ہوا جب ٹوبی بغیر کسی سہارے کے چلنے لگا۔ اس روز انہوں نے موم بتیاں روشن کرکے خاص ڈنر کیا۔
جب کاسل کو پختہ یقین ہوگیا کہ اب یہ خبر عام کرنے میں کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہوگا تو اس نے ڈاکٹر کو فون کیا۔ ڈاکٹر اس کی آواز سنتے ہی فکرمندی سے بولا۔ ’’مسز ٹیمپل! میں تمہارے بارے میں بہت پریشان تھا۔ میں نے کئی مرتبہ فون کیا۔ پیغامات بھیجے لیکن کوئی جواب نہیں آیا۔ میں سمجھ رہا تھا کہ تم ٹوبی کو لے کر کہیں اور چلی گئی ہو۔ اچھا! مجھے بتائو کہ ٹوبی کیسا ہے؟‘‘
کاسل نے کوئی جواب دیے بغیر فون ٹوبی کو پکڑا دیا۔ ٹوبی بولا۔ ’’ڈاکٹر! تم خود آکر ٹوبی کو دیکھ لو۔‘‘
اور ڈاکٹر پر جیسے حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔ اس نے کاسل کو بتایا کہ یہ ایک ناقابل یقین کرشمہ ہے۔ لوگ اب بھی ٹوبی سے محبت کرتے ہیں۔ اس کے پرستاروں کے فون مجھے آتے رہتے ہیں۔ وہ ٹوبی کا حال جاننے کے لیے بے چین رہتے ہیں۔ ٹوبی کے ڈائریکٹر، اس کے آفس میں کام کرنے والے اور خاص کر لارنس فون کرتا رہتا ہے۔ کاسل کے دل میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ یہ جان کر کہ ٹوبی اب بھی سپر اسٹار تھا۔ عوام کے دل پر راج کرتا تھا اور وہ دونوں اب بھی ’’سنہری جوڑا‘‘ تھے۔
اس کے بعد کاسل نے فون کرکے ٹوبی کے ڈائریکٹر کو بلایا کہ وہ ٹوبی کی مزاج پرسی کرے۔ ڈائریکٹر آیا تو کاسل کو دیکھ کر حیران رہ گیا۔ وہ اپنی عمر سے دس سال بڑی نظر آرہی تھی۔ اس کی آنکھیں اندر دھنس چکی تھیں اور وہ ہڈیوں کا ڈھانچہ بن چکی تھی۔ اس کے چہرے کی رونق اور دلکشی قصۂ پارینہ بن چکی تھی۔
’’شکریہ! تم آئے۔ آئو ٹوبی سے مل لو۔‘‘ اس نے ایک طرف اشارہ کیا۔
ڈائریکٹر کا خیال تھا کہ وہ بے بسی سے بیڈ پر پڑا ہوگا لیکن وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ ٹوبی سوئمنگ پول کے کنارے ایک گدے پر نیم دراز تھا۔ وہ اسے دیکھ کر قدرے آہستگی سے اٹھا مگر اس کا توازن قائم تھا۔ اس کا چہرہ کھلا ہوا تھا اور وہ ہشاش بشاش محسوس ہورہا تھا۔ یوں لگتا تھا جیسے کسی نے جادو کی چھڑی گھما کر اس کی کایا پلٹ دی ہو۔ یوں لگتا تھا جیسے کاسل کی صحت و تندرستی ٹوبی میں منتقل ہوگئی تھی اور ٹوبی کی بیماری کاسل کے جسم و جان میں در آئی تھی۔
اس نے آگے بڑھ کر ڈائریکٹر سے ہاتھ ملایا۔ ’’تمہیں دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔‘‘
ڈائریکٹر اس سے لپٹ گیا۔ ’’او ٹوبی! تم نے ہمیں کتنا ڈرایا۔ تم تو اپنی عمر سے بھی کہیں کم لگ رہے ہو۔ حالانکہ سارا شہر تمہارا جنازہ پڑھنے کی تیاری کررہا تھا۔‘‘
’’ایسی امید رکھنے والے اپنی قبریں کھدوا لیں۔‘‘ وہ غصے سے بولا۔
’’کمال ہے۔ میڈیکل سائنس نے واقعی بہت ترقی کرلی ہے۔‘‘
’’کوئی میڈیکل سائنس نہیں۔ کوئی ڈاکٹر نہیں۔‘‘ ٹوبی نے پلٹ کر کاسل کی طرف دیکھا اور فخریہ انداز میں بولا۔ ’’یہ کرشمہ کاسل کا ہے۔ اس اکیلی نے مجھے اس قابل کردیا کہ آج میں اپنے پیروں پر کھڑا ہوں۔‘‘
ڈائریکٹر حیرت سے اس کی جانب تکنے لگا۔ وہ لااُبالی سی لڑکی اتنی باوفا اور مستقل مزاج بھی ہوسکتی ہے۔ وہ تصور بھی نہیں کرسکتا تھا۔ اس نے کاسل سے پوچھا۔ ’’اب تم لوگوں کا کیا پروگرام ہے؟ میرا خیال ہے کہ ٹوبی کو تھوڑا آرام کرنا چاہیے۔‘‘
’’نہیں! ہرگز نہیں۔ ٹوبی میں اتنی صلاحیتیں ہیں کہ وہ یوں بیکار نہیں بیٹھ سکتا۔ وہ اپنے پرستاروں کی دنیا میں پھر واپس جائے گا جو اس کا بے چینی سے انتظار کررہے ہیں۔‘‘
’’میں خود اپنی شوبزنس کی دنیا میں لوٹنے کے لیے تیار ہوں۔‘‘ ٹوبی نے اس کی ہاں میں ہاں ملائی۔
ڈائریکٹر کچھ ہچکچایا۔ ’’فی الحال کوئی ایسا پروجیکٹ نہیں جو فوراً سائن کیا جاسکے لیکن میں اب اس کا پورا خیال رکھوں گا۔‘‘
’’تمہارا کیا خیال ہے کہ ٹوبی کام نہیں کرسکے گا؟‘‘ کاسل نے کہا۔
’’نہیں۔ نہیں۔ ایسی کوئی بات نہیں۔‘‘ وہ جلدی سے بولا۔ لیکن کاسل اور ٹوبی دونوں جانتے تھے کہ وہ جھوٹی تسلیاں دے رہا ہے کیونکہ انڈسٹری میں کوئی اس اداکار پر پیسہ نہیں لگاتا تھا جس کے بارے میں یقین نہ ہو کہ وہ سارا پروجیکٹ مکمل کروا سکے گا۔
ڈائریکٹر جا چکا تھا اور وہ دونوں سوچ میں گم تھے۔ پھر ٹوبی نے سر اٹھا کر کہا۔ ’’میرا خیال ہے۔ ہمیں کوئی اچھا ایجنٹ تلاش کرنا چاہیے۔‘‘
’’نہیں۔ ہرگز نہیں۔‘‘ کاسل قطعی لہجے میں بولی۔ ’’ہم ان سے مانگنے نہیں جائیں گے۔ تم کوئی نئے اداکار نہیں ہو۔ تم ٹوبی ٹیمپل ہو۔ جسے دنیا مانتی ہے۔ وہ لوگ خود تمہارے پاس آئیں گے۔ تم دیکھنا۔‘‘
’’وہ کیسے؟‘‘ ٹوبی مایوسی سے بولا۔ ’’اب ہمارا دروازہ کوئی نہیں کھٹکھٹائے گا۔‘‘
’’وہ ہمارے دروازے پر قطار میں کھڑے ہوں گے۔ تم پہلے سے بہت بہتر ہو۔ میرے ذہن میں ایک تجویز ہے۔ ہم تمہارے لیے ’’ون مین شو‘‘ کا انتظام کریں گے۔‘‘
’’ون مین شو؟‘‘ اس نے حیرت سے دہرایا۔
’’ہاں۔ ون مین شو۔‘‘ کاسل پرجوش لہجے میں بولی۔ ’’میں یہاں سب سے بڑے تھیٹر میں تمہارا شو منعقد کروں گی۔ تم دیکھنا انڈسٹری کا ہر شخص آئے گا اور اس کے بعد وہ ہمارے دروازے پر کھڑے اپنی باری کا انتظار کررہے ہوں گے۔‘‘
٭…٭…٭
کاسل نے جیسا کہا تھا کر دکھایا۔ اس ’’ون مین شو‘‘ میں ٹوبی کا نام ہی کافی تھا۔ انڈسٹری کے سب بڑے لوگ دوڑے چلے آئے۔ ٹوبی کے پرستاروں کا ہجوم امڈ آیا۔ ہال کھچا کھچ بھر گیا۔ جب ٹوبی اور کاسل تھیٹر میں آئے تو ہال تالیوں اور نعروں سے گونج اٹھا۔ ٹوبی جیسے ان کے لیے مر کر زندہ ہوا تھا۔ وہ ان کی دنیا میں پھر واپس آگیا تھا۔ اپنے محبت کرنے والوں کے درمیان۔
تھیٹر کے اندر تماشائیوں کے ملے جلے جذبات تھے۔ کچھ ٹوبی کی محبت میں آگئے تھے۔ کچھ اس جستجو میں تھے کہ اب ٹوبی کی حالت کیسی ہے اور کچھ اپنے مرتے ہوئے ہیرو اور بجھتے ہوئے ستارے کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے آگئے تھے۔ کاسل نے اس شو کے تمام تر انتظامات کرنے میں جان لڑا دی تھی۔ اس نے بہترین لکھاریوں سے اسکرپٹ لکھوایا۔ نغمات تیار کرنے کے لیے اس نے ایوارڈ یافتہ لوگوں کو بک کیا۔ اسٹیج منیجر اور دوسرے لوگ کاسل نے چن چن کر اکٹھا کیے تھے کہ شو کامیاب رہے۔
لیکن ان سب لوگوں کی مہارت ایک طرف اور اس ’’ون مین شو‘‘ کے ہیرو کی مہارت ایک طرف۔ بالآخر ٹوبی کو ہی اسٹیج پر تنہا جانا تھا اور اسے اپنا آپ منوانا تھا۔ بالآخر وہ لمحہ آگیا جب پردہ اٹھا اور ٹوبی اپنی مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے مضبوط قدموں کے ساتھ اسٹیج پر آیا تو ہال میں اتنا سناٹا تھا کہ سوئی بھی گرتی تو آواز سنائی دیتی۔ لوگ جیسے سانس روکے ٹوبی کو اسٹیج پر نمودار ہوتے دیکھ رہے تھے۔
مگر یہ سناٹا ایک لمحے کے لیے تھا اس کے بعد ہال حاضرین کی داد و تحسین، نعروں، چیخوں اور تالیوں سے گونج اٹھا ۔ لوگ اپنی نشستوں سے کھڑے ہوگئے اور اس کا پرجوش استقبال تھا کہ ختم ہونے میں نہیں آرہا تھا۔ اور ٹوبی اسٹیج پر کھڑا اس انتظار میں تھا کہ کب ان محبت کرنے والوں کی محبتوں بھری آوازیں تھمیں تو وہ اپنے فن کا آغاز کرے۔
اور پھر ٹوبی نے جو پیش کیا۔ وہ بہترین تھا۔ خوبصورت تھا۔ طنز و مزاح سے بھرپور اور لطف و انبساط سے بھرا ہوا تھا۔ یوں لگ رہا تھا جیسے وہ شو بزنس سے کبھی الگ ہوا ہی نہیں تھا۔ تماشائیوں کا دل اس کی پرفارمنس سے نہیں بھر رہا تھا۔ ٹوبی اب بھی سپر اسٹار تھا بلکہ اس سے کچھ بڑھ کر تھا۔ وہ ایک زندہ جاوید لیجنڈ تھا۔
اگلے دن ہر ایک کی زبان اور پرنٹ میڈیا کی سرخیوں میں یہی بات تھی کہ ٹوبی ایک عظیم فنکار تھا۔ اس نے ان لوگوں کو بتا دیا تھا جنہوں نے اسے زندہ دفن کردیا تھا کہ اس کا جادو آج بھی سر چڑھ کر بول رہا تھا۔ وہ لوگ یقیناً خوش قسمت تھے جنہوں نے ایک عظیم فنکار کا یادگار شو دیکھا تھا جو کبھی بھلایا نہیں جاسکتا تھا۔
کاسل کا اندازہ درست ثابت ہوا تھا۔ ان کا فون مسلسل بج رہا تھا۔ دعوت نامے اور مبارکباد کے کارڈوں کا تانتا بندھا ہوا تھا۔ ان کے دروازے پر دستک بڑھتی جاتی تھی۔ ٹوبی نے اپنا شو کئی شہروں میں پیش کیا اور ہر جگہ اسے بھرپور پذیرائی ملی۔ لوگ اس کے دیوانے تھے۔ وہ ہر ایک کی پسند بن چکا تھا۔ اس کی پرانی فلمیں پھر سے سنیمائوں میں دکھائی جارہی تھیں۔ ٹی وی شو دہرائے جارہے تھے۔ بازاروں میں ٹوبی ٹیمپل کے ویڈیو گیم، ٹی شرٹ، مگ، کافی اور نہ جانے کیا کچھ ٹوبی کے نام اور اس کی تصویروں کے ساتھ بیچا جارہا تھا۔
ٹوبی نے کئی معاہدے سائن کیے۔ ٹی وی پر اس کا شو پھر سے شروع ہوگیا۔ کاسل کے لیے جیسے سورج ایک بار پھر طلوع ہوگیا تھا۔ اس کی زندگی کو اس نے اجالوں سے بھر دیا تھا۔ وہ بھی ایک حیران کردینے والی ہیروئن بن کر ابھری تھی۔ ٹوبی کے ساتھ اس کے بھی چرچے تھے کہ اس نے کس طرح تن تنہا ٹوبی کو نئی زندگی دے دی تھی۔ کاسل کی محبت کی کہانی ہر جگہ دلچسپی سے سنی جاتی تھی۔ اس بارے میں اس سے کثرت سے سوالات کیے جاتے تھے۔ دونوں کئی رسالوں کے سرورق پر جگمگا رہے تھے۔
ٹوبی نے مختلف ملکوں کے مشہور شہروں میں بھی پروگرام پیش کیے۔ اب وہ بین الاقوامی طور پر ہر جگہ جانا پہچانا اور پسندیدہ تھا۔ وہ آئے دن سفر میں رہتے تھے۔ ایک شہر سے دُوسرے شہر اور دُوسرے سے تیسرے۔ ان کی کامیابی کا سفر جاری تھا۔
ایک روز وہ کشتی پر ایک دُوسرے شہر جا رہے تھے۔ دِن روشن اورخُوبصورت تھا۔ عملے کے تقریباً درجن بھر لوگ سیلون میں بیٹھے مختلف کھیل کھیل رہے تھے۔ خوش گپیوں میں مشغول تھے۔ کاسل نے دیکھا کہ ان میں ٹوبی موجود نہیں۔ وہ اُسے دیکھتی ہوئی ڈیک پر آئی تو وہ ریلنگ پکڑے سمندر کی اَتھاہ وسعت کی طرف دیکھ رہا تھا۔ کاسل اس کے برابر آ کھڑی ہوئی۔ ’’تم ٹھیک تو ہو نا؟‘‘
’’ہاں۔ ہاں۔ میں ذرا لہروں کو دیکھ رہا تھا۔‘‘
’’یہ نظارہ بہت خوبصورت ہے۔ ہیں نا۔‘‘
’’لیکن ان لہروں میں شارک مچھلیاں بھی تو ہوتی ہیں۔‘‘ وہ کپکپی سی لے کر بولا۔ ’’میں اس طرح کی موت نہیں مرنا چاہتا۔ مجھے ہمیشہ ڈُوبنے سے بہت خوف آتا ہے۔‘‘
’’تمہیں کیا چیز پریشان کر رہی ہے؟‘‘ کاسل نے اس کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر پوچھا۔
وہ بے دِلی سے مسکرایا۔ ’’میں مرنا نہیں چاہتا۔ میں ایک بڑا ہیرو ہوں۔ میں ٹوبی ٹیمپل ہوں۔ جسے سب پہچانتے ہیں اور وہاں نہ جانے کیا ہوگا؟ تم جانتی ہو نا کہ میں دوزخ کسے کہتا ہوں۔ اس جگہ کو جہاں تماشائی نہ ہوں۔ جہاں حاضرین نہ ہوں۔‘‘
’’تم کیسی باتیں کر رہے ہو ٹوبی۔ اس طرح مت کہو۔‘‘ کاسل نے احتجاج کیا۔ ٹوبی کی باتوں سے کاسل کا دِل ڈُوبنے لگا تھا۔
ٹوبی اس کی جانب پلٹا اور مسکرایا۔ ’’نہیں۔ نہیں۔ میں ایسی کوئی بات نہیں کر رہا جس سے تمہیں دُکھ ہو۔ مجھے بات کرنی نہیں آتی۔ میں گفتگو کرنے میں اتنا اچھا نہیں ہوں۔ میں صرف مزاحیہ گفتگو کر سکتا ہوں۔ لطیفے سُنا سکتا ہوں۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ تمہیں کس طرح بتائوں کہ میں تمہارے بارے میں کیا محسوس کرتا ہوں۔ میں تمہیں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میں نے اس روز ہی جینا شروع کیا تھا۔ جس دن تم مجھ سے ملی تھیں۔‘‘ اُس نے اپنی بھیگی آنکھوں کو چھپانے کے لیے اپنا چہرہ دُوسری طرف کر لیا۔
حسب توقع ٹوبی کا شو بے حد کامیاب رہا۔ اُس نے شائقین کے دل موہ لیے۔ اسی ہال میں پچھلی سیٹ پر لارنس بھی بیٹھا ہوا تھا۔ وہ عرصہ ہوا انڈسٹری میں اپنی پہچان کھو چکا تھا۔ کوئی ایکٹر اور کوئی کمپنی اُسے ملازم رکھنے پر تیار نہیں تھی۔ اُس نے اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کے لیے کافی جدوجہد کی تھی لیکن اُسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اُسے ٹوبی ٹیمپل نے اپنے اسٹاف سے نکالا تھا۔ اس لیے کوئی بھی اُسے اپنے اسٹاف میں شامل نہیں کرنا چاہتا تھا۔ مجبوراً اُسے ایک جگہ ملازمت کرنی پڑی تھی۔ جہاں اس کی ہفتے بھر کی تنخواہ اتنی تھی جتنی وہ ایک شام میں دوستوں کے درمیان خرچ کر دیتا تھا۔
اس نئی ایجنسی میں کام کرنا لارنس کے لیے سوہانِ رُوح تھا۔ یہاں سب کے سب نوجوان تھے۔ کوئی بھی بندہ بیس بائیس سال سے زیادہ نہیں تھا۔ ان کے کلائنٹ زیادہ تر راک اسٹار تھے۔ ان کے لمبے بال، بے ترتیب داڑھیاں اور عجیب و غریب حلیے تھے۔ وہ جینز کی تنگ پتلونیں اور بغیر جرابوں کے ٹینس شوز پہنتے تھے۔ اپنے انداز سے وہ لارنس کو یہ احساس دلاتے رہتے تھے جیسے وہ ہزار سال کا بوڑھا ہے۔ وہ ایسی عجیب و غریب زبان استعمال کرتے تھے۔ جس کی لارنس کو سمجھ نہیں آتی تھی۔ وہ اُسے ڈیڈی اور بابا کہہ کر پکارتے تھے۔ ان کے رویّے میں اس کے لیے کوئی عزت نہیں تھی۔ لارنس کو اپنا ماضی یاد آتا۔ جب اس کا حکم چلتا تھا۔ اُسے عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا تو اس کا دل چاہتا کہ دھاڑیں مار مار کر روئے۔
ٹوبی ٹیمپل اس کی زندگی تھا۔ اُس نے ٹوبی کو سپر اسٹار بنایا تھا۔ وہ اُس سے اپنے بچوں کی طرح محبت کرتا تھا۔ اگر کاسل دونوں کے درمیان نہ آتی تو ٹوبی اس کے پاس ہوتا۔ اور اس کے وہی ٹھاٹھ ہوتے۔ اس کے ساتھ جو کچھ ہو رہا تھا۔ وہ اس کے لیے کاسل کو قصوروار ٹھہراتا تھا۔ ٹوبی اس کے ساتھ کبھی ایسا سلوک نہیں کر سکتا تھا۔ وہ اتنا احسان فراموش نہیں ہو سکتا تھا۔ اس کے ہر فعل کی ذمے دار کاسل تھی۔ اُس نے ان سب سے چُن چُن کر بدلے لیے تھے جنہوں نے کبھی اس کے ساتھ ناروا سلوک کیا تھا۔ لارنس بھی اس کے زیرِ عتاب آ گیا تھا کیونکہ اُس نے اُسے ٹوبی کے ساتھ شادی کرنے سے روکا تھا۔
لارنس کو اب بھی ٹوبی سے کوئی شکایت نہیں تھی۔ اُسے نفرت تھی تو کاسل سے۔ جس کی وجہ سے وہ کوڑی کوڑی کا محتاج ہو گیا تھا۔ وہ دُوسروں کی نگاہوں سے چُھپ کر پچھلی نشستوں پر بیٹھا، ان کا یہ شو دیکھ رہا تھا۔ کاسل ٹوبی کے ساتھ کھڑی فخریہ انداز میں سوالوں کے جواب دے رہی تھی۔
نزدیک ہی بیٹھے ہوئے ایک شخص نے کہا۔ ’’ٹوبی بہت خوش قسمت ہے کہ کاسل اس کے ہاتھ لگ گئی ہے۔ کیا زبردست عورت ہے۔‘‘
’’کیا واقعی؟‘‘ ساتھ والی کرسی پر بیٹھے ہوئے شخص نے دلچسپی سے پوچھا۔ ’’تمہیں کیسے معلوم؟‘‘
’’اُس نے فحش فلموں میں کام کیا ہے۔‘‘
لارنس چونکا اور اُس نے اُس شخص سے پوچھا۔ ’’کیا واقعی یہ حقیقت ہے۔ کیا وہ یہی کاسل تھی؟‘‘
وہ اَجنبی شخص پلٹ کر اس کی جانب متوجہ ہوا۔ ’’ہاں۔ ہاں کیوں نہیں۔ میں بہت اچھی طرح جانتا ہوں۔ وہ کاسل ہی تھی۔ لیکن وہ اس وقت ایک دُوسرا نام استعمال کرتی تھی۔ غالباً جوزفین۔‘‘ پھر اُس شخص نے لارنس کی طرف غور سے دیکھا۔ ’’او مسٹر… کبھی تم کلفٹن لارنس ہوا کرتے تھے۔ ہیں نا… میں نے تمہیں پہچان لیا ہے۔‘‘
لارنس کو اب اس کی پروا نہیں تھی کہ کوئی اُسے پہچانتا ہے یا نہیں۔ اس کے اندر بس ایک ہی جستجو، ایک ہی لگن تھی۔ اُسے کاسل کے ماضی کو تلاش کرنا تھا۔ وہ وہاں سے اُٹھ کر سیدھا اس مقام پر پہنچا۔ جہاں ایک عجیب دُنیا آباد تھی۔ اس جگہ کچھ خاص قوانین لاگو ہوتے تھے۔ یہاں چار سینما تھے جو ایک چار دیواری کے اندر تھے۔ اس کے علاوہ یہاں آدھی درجن کتابوں کی دُکانیں تھیں۔ درجنوں مساج سینٹر بھی تھے۔ جہاں خوبصورت لڑکیاں مساج کرتی تھیں۔
لارنس جب ایک سینما میں داخل ہوا تو وہاں درجنوں لوگ تاریکی میں بیٹھے فلم دیکھ رہے تھے۔ فلم شروع ہو چکی تھی۔ لارنس ایک سیٹ پر بیٹھ کر بہت توجہ سے فلم میں کام کرنے والی اداکاروں کو دیکھنے لگا کہ کاسل کا چہرہ کب نظر آتا ہے۔ اس فلم میں بہت سی لڑکیاں تھیں اور حیرت انگیز طور پر سب کی سب بہت حسین و دلکش تھیں لیکن ان میں کوئی کاسل نہیں تھی۔
لارنس بڑے صبر سے بیٹھا۔ دُوسری فلم چلنے کا انتظار کر رہا تھا۔ ایک یہی طریقہ تھا۔ جس سے وہ کاسل سے بدلا لے سکتا تھا۔
پھر اچانک سین بدلا اور کاسل اسکرین پر نمودار ہوئی۔ ایک بڑی اسکرین پر وہ بہت خوبصورت نظر آ رہی تھی۔ وہ کافی بدل چکی تھی۔ پہلے کے مقابلے میں آج کل
زیادہ اسمارٹ، دُبلی پتلی اور تہذیب یافتہ تھی۔ لارنس بڑی توجہ سے فلم دیکھ رہا تھا۔ اس کا بس نہیں چلتا تھا کہ ٹوبی کو سینما میں لے آئے تاکہ وہ اپنی چہیتی کے کرتوت اپنی آنکھوں سے دیکھ سکے۔
اداکاروں کے نام اسکرین پر نمودار ہونے لگے۔ وہ جوزفین کا نام دیکھ کر اپنی سیٹ سے اُٹھا اور ہال کے پچھلے حصے میں پراجیکشن بوتھ میں اُس نے جھانک کر دیکھا۔ ’’مسٹر! یہاں کسی کو آنے کی اجازت نہیں۔‘‘
’’لیکن مجھے اس فلم کا پرنٹ لازمی طور پر چاہیے۔‘‘
’’سوری مسٹر یہ فلمیں بکنے کے لیے نہیں ہیں۔‘‘ وہ رُکھائی سے بولا۔
’’میں تمہیں اس کے لیے ایک ہزار دوں گا۔ کسی کو اس کی کانوں کان خبر نہیں ہوگی۔‘‘ اس شخص نے نگاہ اُٹھا کر بھی اس کی طرف نہیں دیکھا۔ جب لارنس نے قیمت تین ہزار لگائی تو اُس نے لارنس کی طرف دیکھا اور بولا۔ ’’ادائیگی نقد ہوگی۔‘‘
’’بالکل نقد۔‘‘ لارنس نے اپنے بٹوے سے رقم نکال کر اس کی طرف بڑھائی۔
لارنس نے رات بڑی مشکل سے پہلو بدل بدل کر گزاری۔ صبح دس بجے وہ ٹوبی کے دروازے پر تھا۔ اس کی بغل میں وہ فلم موجود تھی۔ یہ فلم نہیں دھماکا خیز مواد تھا۔ جس سے کاسل کی زندگی میں طوفان آ سکتا تھا۔ وہ تباہ و برباد ہو سکتی تھی۔ لارنس نے دروازے کی گھنٹی بجائی۔
ملازم نے جھانکا تو لارنس نے اپنے نام بتایا۔
’’مجھے افسوس ہے مسٹر… اس وقت مسٹر ٹوبی یہاں نہیں ہیں۔‘‘
’’میں انتظار کر لیتا ہوں۔‘‘ لارنس نے بڑی آمادگی سے کہا۔
’’میرا خیال ہے کہ انتظار کرنے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ مسٹر اور مسز ٹوبی یہاں سے جا چکے ہیں۔‘‘
’’اوہ۔‘‘ لارنس کا سارا منصوبہ دھرا کا دھرا رہ گیا۔
٭…٭…٭
نئے ملکوں کے دورے کاسل اور ٹوبی کے لیے جیسے نئی زندگی تھے۔ ہر جگہ ان کا بہترین استقبال ہوتا اور ہر جگہ ٹوبی کے پروگرام بے حد کامیاب رہتے۔ شائقین ان پروگراموں کو دیکھنے کے لیے اس طرح ٹوٹ پڑتے کہ بالآخر پولیس کی مدد حاصل کرنی پڑتی۔
ٹوبی کے لیے سب کے دلوں میں محبت تھی۔ وہ اس کی معصوم صورت اور پُرلطف فقروں اور لطیفوں پر دل کھول کر ہنستے تھے۔ حالانکہ بعض اوقات وہ حاضرین میں سے بھی لوگوں کو طنز و مزاح کا نشانہ بناتا لیکن کوئی اس کا بُرا نہیں مانتا تھا۔ سب جانتے تھے کہ ٹوبی کا مقصد صرف ہنسانا ہے وہ کسی کی توہین نہیں کرنا چاہتا۔
ایک جگہ عوام پولیس کا گھیرائو توڑ کر سیکڑوں کی تعداد میں ان کی گاڑی پر ٹوٹ پڑے۔ ہر ایک کی زبان پر ’’ٹوبی… ٹوبی‘‘ تھا۔ ہر ایک ہاتھ میں قلم اور آٹوگراف بکس تھیں اور وہ ٹوبی سے آٹوگراف لینے کے لیے مرے جاتے تھے۔ وہ ٹوبی کو چھونا چاہتے تھے۔ پولیس بھی ان کے جوش و خروش کے سامنے بے بس تھی۔ کاسل کو ان لوگوں کا کوئی خوف نہیں تھا وہ سب اُسے خراج تحسین پیش کرنا چاہتے تھے کہ اُس نے ان کے محبوب فنکار کو پھر ایک بار ان کے درمیان اپنے فن کا مظاہرہ کرنے کے لیے نئی زندگی دی تھی۔
انہیں ایک مشہور شاپنگ سینٹر میں شاپنگ کرنے کی دعوت بھی دی گئی تھی۔ جہاں صرف اُونچی سوسائٹی کے لوگ ہی شاپنگ کرتے تھے۔ یہاں ان کے لیے خاص رعایت تھی۔ جس روز ٹوبی کا آخری شو تھا اُس دوپہر انہیں شاپنگ کے لیے جانا تھا۔ ٹوبی نے کاسل سے کہا۔ ’’تم اکیلی شاپنگ کے لیے چلی جائو۔ میں کچھ دیر آرام کرنا چاہتا ہوں۔‘‘
’’تم ٹھیک تو ہو ٹوبی۔‘‘ کاسل نے فکرمندی سے پوچھا۔
’’میں بالکل ٹھیک ہوں۔ بس ذرا سی تھکن ہے۔ اسی لیے آرام کرنا چاہتا ہوں۔ تب تک تم شاپنگ کر لینا۔‘‘ وہ بشاشت سے بولا۔
کاسل کچھ ہچکچائی۔ اس کی طرف غور سے دیکھتی ہوئی بولی۔ ’’میں اکیلی نہیں جانا چاہتی۔‘‘
’’تم جائو کاسل۔ شاپنگ تو ویسے بھی تمہارا شعبہ ہے۔ جائو اور سارا شہر خرید کر لے آئو۔‘‘
’’چلو ٹھیک ہے… تم آرام کر لو… میں جلدی آجائوں گی۔‘‘
٭…٭…٭
کاسل لابی سے گزر کر دروازے کی طرف جا رہی تھی کہ اُس نے ایک مردانہ آواز سنی۔ ’’جوزفین۔‘‘
کاسل ٹھٹھک گئی۔ یہ آواز شاید صدیوں بعد سُنائی دی تھی لیکن وہ اسے بخوبی پہچان سکتی تھی۔ ماضی کی ایک ایسی آواز جو اس کے دِل میں بستی تھی۔ ایک ایسی آواز جس نے
کتنے ہی زمانوں کا فاصلہ طے کر کے اُسے اس کے ماضی میں پہنچا دیا تھا۔ ڈیوڈ کیون جس کی تصویر اُس نے اپنی ڈائری میں چُھپا کر رکھی ہوئی تھی۔ وہ اس کی پہنچ سے باہر تھا لیکن جب بھی اس کا دل چاہتا وہ اُسے دیکھ تو سکتی تھی۔
اس کی ماں کپڑے سیتی تھی اور ڈیوڈ کا خاندان ایک محل نما گھر میں رہتا تھا۔ پھر وہ پڑھنے کے لیے دُوسرے شہر چلا گیا اور کاسل اپنی ماں کا مالی بوجھ کم کرنے کے لیے مختلف جگہوں پر چھوٹی چھوٹی ملازمتیں کرنے لگی۔
ان دنوں کاسل ایک ریسٹورنٹ میں ویٹریس کی ملازمت کر رہی تھی۔ جہاں لوگ اپنی گاڑیوں میں بھی آئس کریم، سوڈا اور جوسز منگوا لیتے تھے۔ کاسل ایک گاڑی والے کو آرڈر کی ٹرے پہنچا رہی تھی کہ ایک سفید گاڑی وہاں آ کر رُکی اور وہ اس کی طرف بڑھی۔
’’گڈ ایوننگ۔‘‘ وہ خوش اخلاقی سے بولی۔ ’’یہ مینو دیکھ لیجیے۔‘‘
’’ہیلو۔‘‘ یہ آواز ڈیوڈ کیون کی تھی۔ کاسل کا دل تیزی سے دھڑک اُٹھا۔ اُس نے نگاہ اُٹھا کر اس کی طرف دیکھا۔ وہ بالکل ویسا ہی تھا۔ اسمارٹ اور خوبصورت بلکہ اتنے سالوں بعد وہ اُسے اور زیادہ خوبصورت لگا تھا۔
اس کے ساتھ اگلی سیٹ پر سِسّی ٹاپنگ بیٹھی ہوئی تھی۔ اپنے قیمتی لباس میں وہ بہت حسین لگ رہی تھی۔
’’ہیلو جوزفین! اُف اتنی گرمی میں تم یہ کام کس طرح کر رہی ہو۔‘‘ سِسّی نے کہا۔
کاسل تلملا کر رہ گئی۔ وہ ایک غریب درزن کی بیٹی تھی۔ وہ ایئرکنڈیشنڈ اسپورٹ کار میں ڈیوڈ کے ساتھ کس طرح بیٹھ سکتی تھی۔
اُس نے نرم لہجے میں جواب دیا۔ ’’مجھے کچھ تو کرنا ہے نا۔‘‘
اُس نے دیکھا کہ ڈیوڈ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔ وہ دونوں چلے گئے لیکن ان کے جانے کے بعد بھی ان کے جملے کاسل کے کانوں میں گونجتے رہے… ڈیوڈ کا مسکراتا چہرہ اس کے دل کے نہاں خانوں سے نکل کر اس کی آنکھوں کے سامنے پھرتا رہا۔
وہ اس لڑکی کے ساتھ تھا جو معاشرتی مقام میں اس کے برابر تھی۔ یہ بھی بڑی بات تھی کہ اتنے عرصے بعد اُس نے اس غریب لڑکی کو یاد رکھا تھا جس کا نام جوزفین تھا۔
گھر آ کر بھی وہ اُسے ذہن سے نہیں نکال پائی تھی۔ صبح فون آیا اور نہ جانے کیوں ریسیور اُٹھانے سے پہلے یہ بات اس کے دل میں مچل رہی تھی کہ یہ فون کس کا ہو سکتا تھا۔ یہی خواب تو وہ رات بھر دیکھتی رہی تھی۔ وہ کہہ رہا تھا۔ ’’میں نے کافی عرصے بعد تمہیں دیکھا ہے۔ تم بڑی ہوگئی ہو اور بے حد حسین بھی۔‘‘
کاسل کا دل چاہ رہا تھا کہ خوشی سے مر جائے… یہ اس کے لیے ناقابل یقین تھا کہ ڈیوڈ نے اُسے ڈنر پر لے جانے کی پیش کش کی تھی۔ اس کا خواب اس طرح حقیقت بن جائے گا وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔
اس کے پاس جو سب سے اچھا لباس تھا۔ وہ اُسے پہن کر اپنے خوابوں کے شہزادے کے ساتھ ڈنر پر گئی تو اس کا اَنگ اَنگ خوشی سے ناچ رہا تھا۔ وہ اُسے ایک دُور دراز چھوٹے سے ریسٹورنٹ میں لے گیا۔ کاسل سمجھ رہی تھی کہ وہ چاہتا تھا کہ اس کی سوسائٹی کے لوگ اُسے جوزفین کے ساتھ نہ دیکھ پائیں۔ کاسل کو اس کی کوئی پروا نہیں تھی۔ وہ تو اس وقت کے ایک ایک لمحے کو سنبھال کر اپنے دل میں رکھ رہی تھی۔
مگر اگلی دفعہ ڈیوڈ اُسے ایک مشہور کلب میں لے گیا۔ جہاں ہر دُوسرا شخص اُسے جانتا تھا اور اکثر ان کی میز کے پاس رُک کر انہیں ہیلو کہہ رہا تھا۔ ڈیوڈ اس پر بالکل شرمندہ نہیں تھا کہ وہ ایک معمولی حیثیت کی لڑکی کے ساتھ سب کے درمیان بیٹھا ہے بلکہ وہ اس کے حُسن اور اس کی شخصیت کی خُوبصورتی پر فخر محسوس کر رہا تھا۔ کاسل خود کو کسی ملکہ کی طرح محسوس کر رہی تھی۔ جو اس اسمارٹ اور اُونچے خاندان والے نوجوان کے دل کی ملکہ تھی جسے ہر حسین لڑکی نے اپنے دل میں بسا رکھا تھا جسے شہر کی ہر لڑکی اپنے خوابوں کا شہزادہ سمجھتی تھی۔ (جاری ہے)