Saturday, May 18, 2024

Mohabbat | last Episode 4

’’تم پاگل ہوگئی ہو، کیوں کسی کا گھر خراب کرنا چاہتی ہو۔‘‘ بلقیس کے اوسان خطا ہورہے تھے۔
’’دوسری شادی جائز ہے۔گھر خراب نہیں ہوگا۔ پہلی بیوی کا حق تلف نہیں ہونے دوں گی۔ تم اسے تلاش کرو، تینوں کو تلاش کرو۔ میں دیکھتی ہوں کہ کون مجھ سے شادی کرنے کو تیار ہوگا اور اگر گلزار مل جائے تو میری خواہش پوری ہوجائے گی۔ میرے آنے تک جیسے بھی ممکن ہو، ان تینوں کو تلاش کرو۔‘‘ سائرہ نواب نے دوٹوک لہجے میں کہا اور رابطہ منقطع کردیا۔ بلقیس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ آئندہ کیا ہوگا۔ سائرہ نواب ایک ضدی لڑکی تھی۔ وہ جو ٹھان لیتی تھی، کرکے دم لیتی تھی۔
’’ارے بھئی کھانا لگ گیا ہے؟‘‘ گلزار پوچھتا ہوا کچن میں داخل ہوا۔
بلقیس نے جلدی سے موبائل فون ایک طرف رکھا اور سالن جگ میں ڈالنے لگی۔ گلزار واپس دونوں کے پاس چلا گیا تھا۔ اس وقت محبوب ٹیلیفون کے پاس پڑی ڈائری میں اپنا نام اور فون نمبر لکھ رہا تھا۔ صابر نے بھی اپنا نام اور فون نمبر لکھوا دیا تھا۔
’’تم دونوں کے نمبر میرے موبائل فون میں محفوظ ہیں، ڈائری میں لکھنے کی کیا ضرورت تھی؟‘‘ گلزار نے پوچھا۔
’’موبائل فون گر سکتا ہے، چوری ہوسکتا ہے۔ ڈائری محفوظ رہے گی اس لئے نمبر لکھ دیا ہے۔‘‘ محبوب نے جواب دینے کے بعد صابر سے پوچھا۔ ’’تمہارے موبائل فون پر کوئی کال تو نہیں آئی؟‘‘
صابر نے جلدی سے اپنا موبائل فون نکال کر دیکھا اور نفی میں گردن ہلا کر بولا۔ ’’کوئی کال نہیں آئی لیکن تمہیں کیوں فکر ہورہی ہے، میرے موبائل فون پر کال آنے کی؟‘‘
’’بس! ایسے ہی پوچھ لیا تھا۔‘‘ محبوب نے کہا اور سوچنے لگا کہ اس کی شکی مزاج بیوی نے ابھی تک صابر کو فون کیوں نہیں کیا۔
کچھ ہی دیر کے بعد وہ کھانے کی میز پر بیٹھے تھے۔ مزیدار کھانوں کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔ تینوں کی بھوک مزید جاگ گئی تھی۔ گلزار، محبوب اور صابر کی نگاہیں کھانے کی میز کا جائزہ لے رہی تھیں۔
بلقیس نے سائرہ نواب کی باتیں سن کر بے خیالی اور پریشانی کے عالم میں بہت غلط کردیا تھا۔ اس نے سالن جگ اور پانی ڈونگوں میں ڈال دیا تھا۔ تینوں کی حیرت یہ دیکھ کر بڑھتی جارہی تھی اور بلقیس کچن میں پریشان کھڑی سوچ رہی تھی کہ اپنے شوہر کو سائرہ نواب سے کیسے بچانا ہے۔ وہ جانتی تھی کہ گلزار موم کی طرح اس کے سامنے پگھل جائے گا۔
٭…٭…٭
رات گئے دوستوں کی محفل ختم ہوئی اور رخصت لینے سے قبل صابر نے مسکراتے ہوئے گلزار کے کان میں کہا۔ ’’آئندہ ہم بھی سالن جگ اور پانی ڈونگے میں ڈال کر مہمان کے سامنے رکھیں گے۔‘‘
’’مجھے لگتا ہے کہ اس کے انکل رفیق کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ پریشانی کی وجہ سے اس سے ایسا ہوگیا ہوگا۔‘‘ گلزار کھسیانا سا ہوکر بولا۔ محبوب اور صابر نے اجازت لی اور رخصت ہوگئے۔
صابر کیلئے گھر جانا کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ اس کی بیوی کچھ دیر پہلے ہی مشاعرے سے واپس آئی تھی اور اپنی غزلوں پر ملنے والی داد سے خیالوں ہی خیالوں میں لطف اندوز ہورہی تھی۔
محبوب کیلئے گھر جانا سوہان روح بن گیا تھا۔ جب وہ اپنے کمرے میں داخل ہوا تو اس کی بیوی کوثر بیڈ پر براجمان تھی۔ اس کی آنکھیں محبوب پر مرکوز تھیں۔ وہ جس طرف جارہا تھا، اسی طرف اس کی نگاہیں گھوم رہی تھیں۔ اس کے چہرے سے لگ رہا تھا کہ معاملہ بہت حد تک خراب ہے۔
محبوب نے کپڑے تبدیل کئے اور بیڈ پر ابھی بیٹھا ہی تھا کہ کوثر نے پوچھا۔ ’’کیسی رہی آپ کی دعوت…؟‘‘
’’بہت مزہ آیا۔ کئی سال بعد ہم پرانے دوست جمع ہوئے تو ڈھیروں ماضی کی باتیں ہوئیں اور ہنس ہنس کے برا حال ہوگیا۔‘‘ محبوب نے خوش ہوکر بتایا۔
’’دیکھنے میں کیسی ہے وہ…؟‘‘ کوثر نے اچانک سوال کیا۔
’’بہت اچھی!‘‘ جواب دیتے ہی محبوب نے چونک کر کوثر کی طرف دیکھا جس کی نگاہیں اس کے چہرے پر مرکوز تھیں۔ ’’کس کے بارے میں پوچھ رہی ہو؟‘‘
’’آپ کس کے بارے میں مجھے بتا رہے ہیں کہ وہ بہت اچھی ہے؟‘‘ کوثر نے الٹا سوال کردیا۔
’’میں تو گلزار کی بیوی کے بارے میں بتا رہا تھا۔ میں سمجھا تم اسی کے بارے میں پوچھ رہی ہو۔‘‘
’’بات کو گھمانے کی ضرورت نہیں۔ آپ اپنے دوستوں کے پاس نہیں بلکہ اپنی دوست کے پاس گئے تھے۔ آپ دونوں نے ایک ساتھ ڈنر کیا جبکہ مجھے یہ بتا کر گئے تھے کہ میں پرانے دوستوں کی طرف جارہا ہوں۔‘‘ کوثر کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔
’’یہ تم کیا کہہ رہی ہو؟‘‘ محبوب متحیر تھا۔
’’جو نمبر آپ نے دیا تھا، میں نے اس پر کال کی تو کسی لڑکی کی آواز سنائی دی تھی۔ اس نے بتایا کہ محبوب میرے سامنے بیٹھا ہے۔ ہماری چھ سال سے دوستی ہے اور ہم دونوں جلد شادی کرنے والے ہیں۔‘‘ کوثر نے ایک ہی سانس میں بتا دیا۔ محبوب کی حیرت لمحہ بہ لمحہ دوچند ہوتی جارہی تھی۔
اب محبوب کو کیا پتا تھا کہ اس کے بتائے ہوئے غلط نمبر پر جس لڑکی نے بات کی تھی، اس نے مزے لے لے کر کوثر سے بات کی تھی۔ کوثر اس سے شک میں لپٹے سوال کررہی تھی اور وہ لڑکی جواب دیتی ہوئی خوب ہنس رہی تھی۔ کوثر نے وقفے وقفے سے اسے تین فون کالز کی تھیں۔
ایک مرتبہ اس نے یہ بھی کہا تھا کہ محبوب اس وقت اس کے ڈیڈی کے ساتھ باتیں کررہا ہے۔
’’مجھے نہیں معلوم کہ تم کیا بول رہی ہو۔‘‘ محبوب نے کمبل کھینچا اور اسے اوپر لے کر لیٹ گیا۔ کوثر نے پوری قوت سے کمبل ہٹا کر اسے بٹھایا اور ساتھ وہ نمبر ملا دیا۔ تھوڑی دیر بعد دوسری طرف سے لڑکی کی آواز آئی تو کوثر نے اسپیکر آن کردیا۔
’’ہیلو… جی! وہ محبوب صاحب سے بات کرنی تھی۔‘‘ کوثر بولی۔
’’اب بات نہیں ہوسکتی کیونکہ وہ چلے گئے ہیں۔‘‘ دوسری طرف سے آواز آئی۔ لڑکی کی آواز سن کر محبوب کے اوسان خطا ہورہے تھے۔ پھر وہ لڑکی بولی۔ ’’ہم نے اتنی باتیں کی ہیں لیکن آپ نے یہ نہیں بتایا کہ آپ کا تعلق محبوب کے ساتھ کیا ہے؟‘‘
’’آپ نے یہ پوچھا ہی نہیں تھا۔‘‘ کوثر نے جواب دیا۔
’’اب بتا دیں کہ ان کے ساتھ آپ کا کیا تعلق ہے؟ کہیں میری طرح آپ بھی ان کی دوست تو نہیں ہیں؟‘‘ دوسری طرف سے لڑکی کی مسکراتی ہوئی آواز آئی۔
’’میں ان کی بیوی ہوں۔‘‘ کوثر نے بتایا۔
’’مجھے نیند آرہی ہے پھر بات ہوگی۔‘‘ یہ سنتے ہی دوسری طرف سے کوثر کوا لّو بنانے والی لڑکی نے فون بند کردیا۔ کوثر کی قہرآلود نگاہیں محبوب پر مرکوز تھیں اور محبوب کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا۔
’’سن لیا آپ نے! یہ ہے آپ کی دوست جس کے ساتھ آپ دوسری شادی کی پلاننگ کررہے ہیں جس کیلئے آپ نے مجھ سے جھوٹ بولا۔ میں اپنے میکے جارہی ہوں، ابھی اور اسی وقت!‘‘
’’تم پاگل ہوگئی ہو، اس وقت جائو گی؟ دیکھو میں اسے جانتا بھی نہیں ہوں۔‘‘ محبوب نے جلدی سے کہا۔
’’آپ نے یہ نہیں کہا کہ میں تمہیں جانے نہیں دوں گا۔ بس یہ کہہ دیا کہ اس وقت جائو گی؟ اس کا مطلب ہے آپ چاہتے ہیں کہ میں چلی جائوں۔ اب میں جاکر دکھائوں گی۔ میں یہاں نہیں رہوں گی۔‘‘ کوثر اپنی جگہ سے اٹھی۔ اس نے سوٹ کیس نکالا اور کپڑے رکھنے لگی۔
محبوب بیٹھا دیکھتا رہا۔ جب اس نے سوٹ کیس پیک کرلیا تو وہ محبوب کی طرف دیکھ کر بولی۔ ’’آپ جم کر بیٹھے ہوئے ہیں، ایک بار بھی میرا ہاتھ نہیں پکڑا…!‘‘
’’تمہارے جانے کا سن کر میں صدمے میں آگیا ہوں۔ میری سمجھ میں نہیں آرہا کہ کیا کروں۔‘‘ محبوب اس پریشانی میں تھا کہ وہ لڑکی کون ہے جس نے اس اعتماد سے اسے بتایا کہ محبوب جا چکا ہے اور دوسری بات یہ کہ کئی مہینوں سے کوثر اپنے میکے نہیں گئی تھی۔ محبوب چاہتا تھا کہ کچھ دن کیلئے کوثر میکے چلی جائے اور وہ سکون سے رہ سکے۔ اس طرح ہر
وقت کوثر کی آنکھوں کی صورت میں جو کیمرا مسلط رہتا ہے، اس سے کم ازکم نجات مل سکے۔
’’آپ کو کیا صدمہ…! آپ تو دوسری شادی کررہے ہیں، صدمے میں تو میں ہوں۔‘‘ کوثر نے گھڑی کی طرف دیکھا اور فیصلہ کرلیا کہ وہ کل سویرے ہی چلی جائے گی۔ کوثر تھوڑی دیر کے بعد بڑبڑاتی ہوئی لیٹ گئی۔ محبوب بڑی دیر تک سوچتا رہا۔ یہ صابر کی شرارت ہوسکتی ہے۔ کہیں وہی تو آواز بدل کے کوثر سے بات نہیں کررہاتھا؟ کیونکہ اس نے اسے صابر کا ہی نمبر دیا تھا۔
ان ہی سوچوں میں گم محبوب سو گیا۔ صبح جب اس کی آنکھ کھلی تو بستر خالی تھا۔ اس کی نگاہ سوٹ کیس کی طرف چلی گئی۔ وہ اپنی جگہ پر نہیں تھا۔ اس نے باہر نکل کر دیکھا کوثر جا چکی تھی۔
٭…٭…٭
بلقیس کے ہاتھوں کے طوطے اڑے ہوئے تھے۔ سائرہ نواب نے میسج کیا تھاکہ اس نے جس کیلئے دبئی کا سفر کیا اور پانچ سال تک وہاں بیٹھی رہی کیونکہ اس کے باپ نے کہا تھا کہ جب تک وہ لڑکا اپنے پیروں پر کھڑا نہیں ہوجاتا، تب تک وہ اس سے شادی نہیں کرے گا۔ وہ لڑکا محنت کرتا رہا۔ اس نے ایک مقام بنا لیا۔ پھر اس کی شادی اس سے ہوگئی اور تین سال کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ وہ ایک اور کمپنی میں جانے کیلئے پر تول رہا ہے اور اس کمپنی کے مالک کی سالی سے شادی کررہا ہے۔ یہ بات اختلاف کا باعث بنی اور سائرہ نواب نے اس سے طلاق لے لی۔ تب اس نے سوچا کہ اس سے اچھے تو وہ تین کبوتر تھے جو اسے ہر روز دیکھتے تھے اور اس سے بات کرنے کا کوئی نہ کوئی بہانہ تلاش کرتے تھے۔ بہتر ہے کہ اب وہ ان تینوں میں سے کسی کے ساتھ شادی کرلے۔ وہ اسے ساری زندگی خوش رکھیں گے اور اگر گلزار مل جائے تو اس کی زندگی ہی سنور جائے گی۔ سائرہ نواب نے یہ اعتراف بھی کیا کہ اسے اس بات کا احساس دیر سے ہوا۔ اگر وہ اپنے گھمنڈ میں نہ رہتی تو شاید ان میں سے ایک اس کا شوہر ہوتا اور اس کے ماتھے پر طلاق کا لیبل بھی نہ لگتا۔
بلقیس نے میسج پڑھ کر ڈیلیٹ کردیا تھا اور مزید پریشان ہوگئی تھی۔ اسے محبوب اور صابر کی کوئی فکر نہیں تھی۔ اسے تو یہ غم کھائے جارہا تھا کہ سائرہ نواب کی نظر اس کے شوہر گلزار پر ہے۔ اس کی پہلی ترجیح گلزار اور اس کے بعد محبوب اور صابر کی باری آتی تھی۔ اپنا شوہر بچانے کیلئے وہ محبوب اور صابر کی قربانی دینے کو تیار تھی لیکن سوال یہ پیدا ہوتا تھا کہ وہ گلزار کو کیسے بچائے اور ان دونوں کی کیسے قربانی دے؟
ایسا سوچتے ہوئے دوسرا دن ہوگیا۔ بلقیس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے، گلزار کو کہاں لے جائے کیونکہ سائرہ نواب ٹرین کے ذریعے سے کل دوپہر تک اس کے گھر پہنچ رہی تھی۔
گلزار دوپہر کے بعد گھر آگیا اور اس نے آتے ہی سب سے پہلے جوخبر سنائی، وہ بلقیس کیلئے کسی خوش خبری سے کم نہیں تھی۔
’’بلقیس! میرا سامان پیک کردو، میں اپنے باس کے ساتھ ٹور پر جارہا ہوں۔ کم ازکم ایک ہفتہ لگ جائے گا۔‘‘
یہ سنتے ہی بلقیس کی باچھیں کھل گئیں جیسے گلزار نے بتایا ہو کہ وہ دونوں دنیا گھومنے جارہے ہیں۔ اس ردعمل پر گلزار نے بلقیس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔ ’’پہلے تو تم سنتے ہی اداس ہوجاتی تھیں، آج اتنی خوش کیوں دکھائی دے رہی ہو؟‘‘
’’خوش کہاں ہوں۔ میں تو حیران ہوں کہ اچانک…!‘‘ بلقیس نے جلدی سے اپنی مسکراہٹ سمیٹی۔
’’اچانک باس نے کہا کہ تم میرے ساتھ چلو حالانکہ ان کا ارادہ کمپنی کے ایک دوسرے آدمی کے ساتھ جانے کا تھا۔ میں نے کہا ٹھیک ہے ،میں چلا چلتا ہوں۔‘‘ گلزار نے بتایا۔
’’کتنے دن کے بعد آئیں گے؟‘‘
’’کم ازکم سات دن لگ سکتے ہیں۔‘‘
’’سات دن بہت ہیں۔‘‘ بلقیس اتنا کہہ کر اس کا سامان پیک کرنے کمرے میں چلی گئی اور گلزار کھڑا سوچتا رہا کہ بلقیس کو کیا ہوگیا ہے۔
ایک گھنٹے کے اندر بلقیس نے اس کا سامان پیک کردیا۔ آفس سے دو بار فون آچکا تھا۔ کچھ دیر بعد گلزار کو لینے آفس سے گاڑی آگئی اور وہ سب سے مل کر چلا گیا۔
گلزار کے جاتے ہی بلقیس نے سکون کی سانس لی۔ اس کے مرجھائے ہوئے جسم میں جیسے توانائی آگئی۔ اب اسے کوئی ڈر نہیں تھا۔ اس نے کچھ دیر کے بعد سائرہ نواب کو فون کیا۔جونہی رابطہ ہوا، وہ بولی۔ ’’مبارک ہو…!‘‘
’’کس بات کی؟‘‘ دوسری طرف سے سائرہ نواب نے پوچھا۔
’’محبوب اور صابر مل گئے ہیں؟‘‘
’’اور گلزار…؟‘‘ بلقیس کا جملہ ابھی مکمل نہیں ہوا تھا کہ سائرہ نواب نے فوراً سوال کردیا۔
سائرہ نواب کا سوال سن کر بلقیس کا دل چاہا کہ اپنا فون اٹھا کر پٹخ دے لیکن وہ تحمل مزاجی سے بولی۔ ’’اس کا پتا نہیں چل رہا ہے۔‘‘
’’کسی طرح گلزار کو بھی تلاش کرلو۔ محبوب اور صابر کو پتا ہوگا کہ گلزار کہاں ہے۔‘‘ سائرہ نواب نے کہا تو بلقیس کے ذہن میں بھی یہ بات آگئی۔ اس نے تو یہ سوچا ہی نہیں تھا۔ سائرہ نواب نے اگر ان سے گلزار کے بارے میں دریافت کیا تو وہ فوراً بتا دیں گے کہ گلزار اس کا شوہر ہے۔
’’اچھا! میں بعد میں فون کرتی ہوں، میں ان سے بھی پوچھ لوں۔‘‘ بلقیس نے اتنا کہہ کر فون بند کردیا۔ اب وہ نئی الجھن میں گرفتار ہوگئی تھی۔
وہ ٹہلتے ہوئے سوچتی رہی پھر ایک دم اس کے دماغ میں ایک بات آئی اور وہ ڈائری اٹھا لائی جس میں انہوں نے اپنے نمبر لکھے تھے۔ بلقیس نے ایک لمحے کیلئے کچھ سوچا اور صابر کا نمبر ملایا۔
’’ہیلو…!‘‘ دوسری طرف سے صابر کی آواز آئی۔
’’میں بلقیس بول رہی ہوں۔‘‘
’’ارے بھابی! کیسی ہیں آپ؟‘‘ صابر جلدی سے بولا۔
’’میں بالکل ٹھیک ہوں، مجھے آپ سے ایک بہت ضروری بات کرنی ہے۔ آپ اس وقت میرے گھر آسکتے ہیں؟‘‘ بلقیس نے کہا۔
’’میں ابھی آجاتا ہوں۔‘‘
’’یہ خیال رہے کہ اس کا کسی کو پتا نہ چلے۔ بہت رازداری کی ضرورت ہے۔‘‘ بلقیس نے اتنا کہہ کر فون بند کردیا۔
ٹھیک چھبیس منٹ بعد صابر، بلقیس کے سامنے کرسی پر براجمان اس بات پر مضطرب تھا کہ بلقیس نے کیا بات کرنے کیلئے اسے یہاں بلایا ہے۔
’’میری اور سائرہ نواب میں صلح ہوگئی ہے اور وہ کل یہاں میرے گھر آرہی ہے۔‘‘ بلقیس نے تیزی سے اپنی بات مکمل کی۔
یہ سنتے ہی صابر کی آنکھیں چمک اٹھیں اور اس کا چہرہ خوشی سے تمتا اٹھا۔ ’’کک… کیا وہ واقعی آرہی ہے؟‘‘
’’میں سچ کہہ رہی ہوں سائرہ نواب نے جس سے شادی کی تھی، اس سے اس کی علیحدگی ہوگئی ہے۔ وہ چاہتی ہے کہ یہاں آکر دوسری شادی کرے۔ شادی کیلئے اس نے آپ کا اور محبوب کا نام لیا ہے۔‘‘ بلقیس نے بتایا۔
صابر کے دل میں سائرہ نواب کی محبت اس چراغ کی طرح روشن تھی جس کو روز بلاناغہ تیل دیا جاتا ہو۔ یہ سن کر اس کا منہ کھل گیا تھا، آنکھوں کی چمک دوچند ہوگئی تھی، دل میں پھلجھڑیاں پھوٹ رہی تھیں۔ دل اس طرح دھڑک رہا تھا جیسے ڈھول بج رہا ہو لیکن ایک کانٹا بھی چبھ گیا تھا۔ سائرہ نواب نے اس کے نام کے ساتھ محبوب کا بھی نام لیا تھا۔
’’آپ نے محبوب کو بھی بتا دیا ہے کہ وہ آرہی ہے؟‘‘ صابر نے یہ سوال بے چینی کے عالم میں کیا۔
’’ابھی صرف آپ کو بتا رہی ہوں۔ پھر محبوب بھائی کو بھی کال کروں گی۔‘‘
’’کوئی ضرورت نہیں ہے محبوب کو بتانے کی! آپ سائرہ نواب سے کہہ دیں کہ محبوب افریقہ چلا گیا ہے۔ اس نے وہاں تین شادیاں کررکھی ہیں اور اس کے چودہ بچے ہیں۔‘‘ صابر ایک دم جذباتی ہوکر بولا۔
’’ایک مسئلہ اور بھی ہے۔ اگر وہ گلزار کی تلاش میں نکل کھڑی ہوئی تو…؟‘‘ بلقیس نے اس کی طرف سوالیہ نگاہوں سے دیکھا۔
صابر سوچ میں پڑ گیا۔ ظاہر ہے کہ سائرہ نواب یہاں آرہی تھی اور اس گھر میں گلزار رہتا تھا۔ گلزار کے ہوتے ہوئے اس کی دال گل نہیں سکتی تھی۔
’’گلزار سات دن کیلئے شہر سے باہر ہے۔ ان سات دنوں میں آپ کوئی بھی چکر چلا کر اس سے شادی کرنا چاہیں تو کرلیں۔ گلزار کا ہم ذکر ہی نہیں


کریں گے۔ میں نے اسے کبھی یہ نہیں بتایا کہ میری شادی گلزار سے ہوئی ہے۔ میں فرضی نام جمال بتا دوں گی۔ آپ بھی یہی نام بتانا۔‘‘
’’یہ مسئلہ بھی حل ہوگیا۔‘‘ صابر ایک دم خوش ہوگیا۔
’’صابر بھائی! آپ شادی شدہ ہیں۔ آپ سائرہ نواب سے کیسے شادی کریں گے؟‘‘ بلقیس نے پوچھا۔
’’جس سے میری شادی ہوئی ہے، اس سے مجھے کبھی خوشی نہیں ملی۔ اس نے میری زندگی اجیرن کررکھی ہے۔ میں اسے آج ہی گھر سے چلتا کردوں گا۔‘‘
’’یہ زیادتی ہے۔ آپ اسے گھر سے نہ نکالیں۔ آپ کوئی اور راستہ بھی ڈھونڈ سکتے ہیں۔ سائرہ نواب سے شادی کرکے اسے الگ گھر میں رکھ سکتے ہیں۔‘‘ بلقیس چاہتی تھی کہ کسی طرح سے سائرہ نواب کی بلا اس کے سر سے ٹل جائے۔
’’آپ فکر نہ کریں، میں سب سنبھال لوں گا۔ آپ مجھے اپنا نمبر دیں۔ جیسے ہی سائرہ نواب آئے، مجھے بلا لیں۔‘‘
بلقیس اسے اپنا فون نمبر دینے کے بعد بولی۔ ’’میں کنفرم کرکے آپ کو آج ہی بتاتی ہوں کہ وہ کل کس وقت آرہی ہے‘‘
صابر چلا گیا۔ بلقیس کو اطمینان ہوا کہ صابر کی وجہ سے اس کے سر سے بلا ٹل جائے گی۔
٭…٭…٭
صابر نے گھر پہنچتے ہی شاکرہ کے ہاتھ سے اس کی ڈائری چھینی اور اسے پھاڑ کر ایک طرف پھینکتے ہوئے غصے سے بولا۔ ’’تمہاری اس شاعری نے میری زندگی اجیرن کردی ہے۔ اب میں تمہیں اور تمہاری شاعری کو برداشت نہیں کروں گا۔ تم ابھی اور اسی وقت گھر سے نکل جاؤ۔‘‘
شاکرہ نے اپنی پھٹی ہوئی ڈائری کی طرف دیکھا اور کرب ناک چہرے کے ساتھ اس نے وہ ڈائری اٹھائی اور اس کے صفحے سمیٹے اور بولی۔ ’’کیا ہوگیا ہے آپ کو…؟‘‘
’’میری برداشت ختم ہوگئی ہے۔ اب ہم ایک ساتھ نہیں رہ سکتے۔‘‘ صابر غصے سے کمرے میں گیا اور اس کی ساری کتابیں اٹھا کر کمرے سے باہر پھینک دیں۔ اس کا قلم فرش پر رکھ کر پیر مار کر توڑ دیا۔ شاکرہ کیلئے یہ سب ناقابل برداشت تھا۔ وہ آگے بڑھی اور اس نے صابر کو ایک طرف دھکا دے کر اپنا قلم اٹھایا اور ٹوٹے ہوئے قلم کو دیکھ کر اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔
صابر بپھرے ہوئے شیر کی طرح اٹھا اور دھاڑا۔ ’’تمہاری یہ جرأت کہ تم مجھے دھکا دو، اب تم یہاں نہیں رہ سکتیں۔‘‘
’’آپ نے میری تخلیق کو برباد کرنے کی کوشش کی۔ میرے قلم کو اپنے پیروں تلے روند ڈالا۔ میں خود یہاں نہیں رہوں گی۔‘‘ شاکرہ نے اپنا سامان پیک کیا اور آدھے گھنٹے کے بعد اس گھر میں صرف صابر رہ گیا تھا۔ شاکرہ روتی ہوئی چلی گئی تھی۔
صابر اس ادھ کھلے دروازے کی طرف دیکھ رہا تھا، جہاں سے ابھی شاکرہ باہر گئی تھی۔ اس نے پانی پیا اور موبائل فون سے بلقیس کا نمبر ملایا۔ جونہی رابطہ ہوا، وہ بولا۔ ’’جی بلقیس بھابی! سائرہ نواب سے رابطہ ہوا، کل کس وقت آرہی ہے وہ…؟‘‘ صابر چپ ہوکر سننے لگا اور پھر بولا۔ ’’وہ دس بجے آپ کی طرف آرہی ہے۔ میں ٹھیک گیارہ بجے آپ کے گھر پہنچ جائوں گا۔ مجھے سب یاد ہے آپ کے شوہر کا نام گلزار نہیں بلکہ جمال ہے… محبوب افریقہ چلا گیا ہے اور میںمیسر ہوں۔ وہ مجھ سے شادی کرکے بہت خوش رہے گی۔ آپ بے فکر ہوجائیں۔ میں باتوں باتوں میں سائرہ نواب کو اپنی طرف ایسا مائل کروں گا کہ وہ کل ہی مجھ سے نکاح کرلے گی۔‘‘ صابر خوشی سے بولا اور فون بند کردیا۔
صابر یہ بات نہیں جانتا تھا کہ ادھ کھلے دروازے کے باہر محبوب ہاتھ میں پھلوں کا شاپر لئے کھڑا ہے۔ وہ اس کی طرف آیا تھا۔ اس نے ایک نئی بات سن لی تھی۔ اس بات نے اس کے اندر ہلچل برپا کردی تھی۔ وہ بہت کچھ سمجھ گیا تھا اور کچھ نہیں سمجھا تھا۔ پہلے اس نے سوچا کہ وہ فوراً اندر جائے اور صابر سے ساری بات پوچھے پھر اس نے سوچا بہتر یہ ہے کہ وہ واپس چلا جائے۔ اس کے ہاتھ میں موجود پھل صابر کے نصیب میں نہیں ہیں۔ محبوب لوٹ گیا۔
٭…٭…٭
سائرہ نواب پندرہ سال بعد مزید پرکشش ہوکر دبئی سے واپس آئی تھی۔ دونوں خوش ہوکر ملیں۔
اچانک سائرہ نواب نے پوچھا۔ ’’تمہارا میاں جمال کہاں ہے، ذرا میں اس کی شکل تو دیکھوں کہ کیسا ہے؟‘‘
’’وہ تین چار دن کیلئے شہر سے باہر گئے ہیں۔ تم بتائو تمہیں اب ان تینوں میں سے کسی ایک کے ساتھ شادی کرنے کی کیا سوجھی؟‘‘
سائرہ نواب کے چہرے پر پہلی بار سنجیدگی آئی۔ وہ بولی۔ ’’جس کیلئے میں نے ملک چھوڑا، اس کا انتظار کیا، اسی نے مجھے دھوکا دیا۔ میں نے سوچا کہ اس سے بہتر تھا کہ میں ان تینوں میں سے کسی ایک کے ساتھ شادی کرلیتی۔ وہ کسی بھی موڑ پر بے وفائی نہ کرتے۔ وہ میرے دیوانے تھے اس لئے فیصلہ کیا کہ ان میں سے کسی ایک کے ساتھ شادی کرلوں اور خوش رہوں۔‘‘
’’تمہیں نہیں لگتا کہ تم زیادتی کرو گی کیونکہ ان کی بھی تو بیویاں ہوسکتی ہیں؟‘‘
’’میں کہہ چکی ہوں کہ میں نے فیصلہ کرلیا ہے۔ تین بیویاں بھی کسی کی ہوئیں تو چوتھی بیوی بننے کو تیار ہوں۔ وفا کیا ہوتی ہے، اس کی مجھے قدر آگئی ہے۔ میں دعا کرتی رہی کہ گلزار تمہارا شوہر ہو اور میں اس سے شادی کرلوں۔‘‘
’’گلزار تو کینیڈا چلا گیا ہے، اب اس کا کوئی اتا پتا نہیں ہے۔ محبوب افریقہ جا بسا ہے اور اس نے وہاں شادیاں کرلی ہیں۔ صابر کو میں نے تلاش کرلیا ہے۔ اس کی شادی شدہ زندگی ڈسٹرب ہے، اسے میں نے بلایا ہے۔‘‘
’’گلزار کینیڈا چلا گیا ہے، محبوب بھی نہیں…! صابر بھی خوبصورت تھا۔‘‘ سائرہ نواب بولی۔
’’وہ اب بھی خوبصورت ہے۔ تمہارے لئے اسے بڑی مشکل سے تلاش کیا ہے۔‘‘ بلقیس جلدی سے بولی۔
’’کب آرہا ہے وہ…؟‘‘
’’گیارہ بجے تک آجائے گا۔‘‘
’’پونے گیارہ ہوگئے ہیں، تم کھانا لگائو۔‘‘
اسی وقت بیل ہوئی تو دونوں نے ایک ساتھ دروازے کی طرف دیکھا۔ ’’لگتا ہے صابر آگیا ہے۔‘‘ سائرہ نواب مسکرائی۔
بلقیس نے اٹھ کر دروازہ کھولا۔ سامنے جو کھڑا تھا، اس کا چہرہ بڑے سے گلدستے کے پیچھے چھپا ہوا تھا۔ بلقیس نے راستہ چھوڑ دیا اور اندر آنے کیلئے کہا۔ اس کے خیال میں تھا کہ صابر ہے لیکن جب اندر جاکر آنے والے نے اپنے چہرے کے آگے سے گلدستہ ہٹایا تو وہ محبوب نکلا۔
’’ارے محبوب تم…؟‘‘ سائرہ نواب خوشی سے چلائی۔
’’شکر ہے کہ آپ نے پندرہ سال بعد سہی مجھے محبوب تو کہا۔‘‘ محبوب نے یہ کہتے ہوئے گلدستہ سائرہ نواب کی طرف بڑھا دیا۔ بلقیس ایک طرف کھڑی صابر کو دل ہی دل میں کوس رہی تھی۔ اس نے محبوب کو بھی بتا دیا تھا۔
’’آپ تو افریقہ چلے گئے تھے، اچانک کیسے آگئے؟‘‘ سائرہ نواب نے پوچھا۔
’’دیکھ لیجئے سائرہ نواب صاحبہ! کل بھی یہ خاکسار آپ کے راستے میں اس درخت کی لٹکتی ہوئی ٹہنی کی طرح تھا جس کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتا اور آج بھی یہ خاکسار آپ کیلئے افریقہ چھوڑ کر یہاں آگیا ہے۔‘‘
’’تم نے تو وہاں شادیاں بھی کی تھیں؟‘‘
’’ایک موٹی عورت سے شادی کی تھی اس لئے دیکھنے والوں کو لگتا تھا کہ میں نے کئی شادیاں کی ہیں لیکن اب سب کچھ ختم ہوچکا ہے۔‘‘ محبوب نے اپنے گھر کے اس منظر کو یاد کیا جب اس کی بیوی کوثر نے اس پر پھر شک کی بارش کی تو اس نے تلخ لہجے میں اس کو ڈانٹ دیا اور دونوں میں بحث شروع ہوگئی۔ پھر وہ بحث لڑائی کی شکل اختیار کرگئی اور اس نے اسے اتنا کچھ سنایا کہ وہ روتی ہوئی اپنے میکے چلی گئی۔
’’کاش! اسی طرح گلزار بھی آجائے۔‘‘ سائرہ نواب نے ایک آہ بھری۔
محبوب اتنا تو جانتا تھا کہ گلزار ایک مضبوط امیدوار ہے۔ ابھی اسے پوری بات کا بھی علم نہیں تھا اس لئے گلزار کا نام سن کر جیسے ہی اس نے عجیب سا منہ بنا کر کچھ کہنا چاہا، بلقیس آگے بڑھی اور محبوب سے بولی۔ ’’کھانا بالکل تیار ہے۔ آپ ہاتھ دھو لیں۔ میرے ساتھ آجائیں، میں آپ کو واش روم تک لے جاتی ہوں۔‘‘
محبوب ابھی واش روم تک پہنچا ہی تھا کہ بلقیس نے اسے بھی وہ سب کچھ بتا
جو اس نے صابر کو بتایا تھا۔ سب بتانے کے بعد بلقیس نے کہا۔ ’’تم دونوں میں سے جس نے سائرہ نواب سے شادی کرنی ہے، وہ کرلے۔ مجھے اعتراض نہیں ہے لیکن گلزار کا ذکر بیچ میں نہیں آنا چاہئے۔‘‘ بلقیس کو سائرہ نواب پر غصہ تھا جو دوسروں کا گھر برباد کرنے کیلئے آگئی تھی۔
’’صابر سے پہلے آپ کو مجھ سے بات کرنی چاہئے تھی۔ وہ ایک فضول آدمی ہے۔‘‘ محبوب بولا۔
’’ویسے تمہیں کیسے پتا چلا کہ سائرہ نواب آرہی ہے؟‘‘ بلقیس نے پوچھا۔
’’دل کو جب چاہ ہوتی ہے تو پتا چل جاتا ہے۔ آپ جائیں، میں ہاتھ دھو کر آیا۔‘‘ محبوب بولا۔
بلقیس چلی گئی۔ جب لائونج میں پہنچی تو وہاں کا منظر بدل گیا تھا۔ اس کی غیر موجودگی میں بیل پر سائرہ نواب نے دروازہ کھول دیا۔ سامنے صابر کھڑا تھا۔ صابر اتنا جذباتی ہوا کہ اس نے سائرہ نواب کے دونوں ہاتھ پکڑ کر کہا۔ ’’مجھے یقین تھا کہ آپ ایک دن ضرور آئیں گی۔‘‘
’’لیکن مجھے یہ یقین نہیں تھا کہ تم میرے یوں ہاتھ پکڑ لو گے۔‘‘ سائرہ نواب نے کہا۔ صابر نے فوراً اس کے ہاتھ چھوڑ دیئے۔ اسی اثنا میں محبوب بھی اندر آگیا اور دونوں کی جونہی آنکھیں چار ہوئیں، حیرت کے بم پھٹے۔ صابر نے سوالیہ نگاہوں سے بلقیس کی طرف دیکھا جیسے پوچھ رہا ہو کہ اسے کیوں بلایا ہے۔ بلقیس نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے اشارہ کیا کہ وہ خود بھی نہیں جانتی کہ یہ کیسے آگیا۔
’’ارے صابر! تم کیسے ہو؟ تمہاری بیوی، بچے ٹھیک ہیں؟‘‘ محبوب اس کی طرف بڑھا اور اسے اپنے گلے سے لگا لیا۔
’’تم یہاں کیسے پہنچے…؟‘‘ صابر نے اس کے کان میں سرگوشی کی اور اسی سرگوشی میں محبوب نے بتا دیا کہ اسے کیسے پتا چلا۔ یہ سن کر صابر کا دل چاہا کہ وہ اسی وقت اپنے آپ کو مرغا بنا لے۔
’’کاش! گلزار بھی آجائے۔‘‘ ایک بار پھر سائرہ نواب نے اپنے دل کی بات حسرت کے انداز میں لپیٹ کر ادا کی تو بلقیس کا دل چاہا وہ فوراً سائرہ نواب کا منہ نوچ لے جبکہ محبوب اور صابر کے دل پر بھی گلزار کا نام سن کر چھریاں سی چل گئی تھیں۔
’’کھانا ٹھنڈا ہورہا ہے۔‘‘ بلقیس نے کھانے کی طرف توجہ دلائی۔ وہ سب کھانے کی میز کی طرف بڑھے۔
٭…٭…٭
سائرہ نواب نے مزے سے کھانا کھایا۔ بلقیس یہ سوچ کر سالن کی پلیٹ میں ٹھونگے مارتی رہی کہ سائرہ نواب کرنے کیا آئی ہے اور کرکے کیا جائے گی۔ محبوب کی نگاہیں سائرہ نواب کے چہرے پر جمی رہیں جبکہ صابر کی کوشش تھی کہ سائرہ نواب کا اس سے پہلے کسی ڈش کی طرف ہاتھ بڑھے، وہ یکدم ڈش اٹھا کر اسے پیش کردے۔
کھانے سے فارغ ہوکر سبھی لائونج میں بیٹھ گئے۔ بلقیس چائے بنانے چلی گئی۔ سائرہ نواب نے پوچھا۔ ’’تم دونوں گلزار کے بارے میں جانتے ہو؟‘‘
’’بالکل جانتے ہیں۔‘‘ ایک دم محبوب اور صابر کے منہ سے نکلا اور بلقیس نے کچن سےسر نکال کر دونوں کو گھورا تو ایک ساتھ دونوں نے کہا۔ ’’وہ ہمارا دوست تھا، ہمارے ساتھ پڑھتا تھا اور اب جانے کہاں ہے۔‘‘
’’کینیڈا میں ہے وہ!‘‘ بلقیس نے جلدی سے بتایا اور کچن میں داخل ہوگئی۔
’’جانتے ہو میں کیوں آئی ہوں؟‘‘ سائرہ نواب نے پوچھا۔
’’آپ بتائیں!‘‘ صابر مسکرایا۔
’’میں یہاں شادی کرنے آئی ہوں۔ جس سے شادی کروں گی، اسے اپنے ساتھ دبئی لے جائوں گی۔ مجھے ایک اچھے شوہر کے ساتھ وفا کی بھی ضرورت ہے۔ بے وفائی کا زخم مجھے بری طرح لہولہان کر گیا ہے۔‘‘ سائرہ نواب نے کہا۔
’’میرے دل میں تو وفا کوٹ کوٹ کے بھری ہے۔‘‘
’’آپ کی شادی ہوگئی ہے؟‘‘ سائرہ نواب نے پوچھا۔
’’اس کی شادی ہوگئی ہے۔ اس کی ایک بیوی ہے اور یہ بیوی کے ساتھ بہت خوش ہے۔‘‘ صابر کی بجائے محبوب نے جواب دینا اپنا فرض سمجھا۔
’’ہم دونوں تو ایک دوسرے کے ساتھ خوش ہی نہیں ہیں۔ جب سے میری شادی ہوئی ہے، میری بیوی نے مجھ سے سیدھے منہ بات نہیں کی ہے۔‘‘ صابر یکدم پھٹ پڑا۔
’’اس نے آپ کے ساتھ سیدھے منہ بات کیوں نہیں کی؟‘‘ سائرہ نواب نے پوچھا۔
’’وہ ایک شاعرہ ہے۔ اسے مجھ سے زیادہ اپنی غزلوں اور نظموں سے پیار ہے۔‘‘ صابر نے کہا۔
’’وہ ایک شاعرہ ہے سوئٹ… ایک تخلیق کار ہے۔ کمال ہے آپ کو تو ان کی قدر کرنی چاہئے۔‘‘ سائرہ نواب مسکرائی۔
’’اسے میری قدر نہیں، میں اس کی کیوں قدر کروں؟ ویسے بھی وہ اپنے میکے چلی گئی ہے مجھے چھوڑ کے!‘‘
’’آپ کی شادی ہوگئی ہے؟‘‘ اس بار سائرہ نواب نے محبوب کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے پوچھا۔
’’ہوئی تو ہے لیکن ایسا ہی ہے جیسے نہیں ہوئی ہے۔‘‘ محبوب نے ایک آہ بھر کر جواب دیا۔
’’اس کا مطلب ہے کہ آپ بھی اپنی شادی سے خوش نہیں ہیں۔‘‘ سائرہ نواب بولی۔
’’دراصل میں چاہتا تھا کہ میری شادی آپ سے…! میرا مطلب ہے کہ آپ جیسی لڑکی سے ہو۔‘‘ محبوب کی زبان پھسلتے پھسلتے رہ گئی۔ اس دوران بلقیس چائے لے کر آگئی۔ سب نے اپنا اپنا کپ ٹرے سے اٹھا لیا۔
سائرہ نواب نے بھی اپنا کپ اٹھایا اور کھڑی ہوتی ہوئی بولی۔ ’’میں اپنے کمرے میں جارہی ہوں۔ کچھ دیر آرام کروں گی اور چار پانچ بجے اٹھوں گی۔‘‘ سائرہ نواب نے ان دونوں کی طرف ایک نظر بھی نہیں دیکھا۔ محبوب اور صابر متحیر نگاہوں سے اسے جاتےہوئے دیکھ رہے تھے۔ اس کی اس بے نیازی پر انہیں حیرت ہورہی تھی۔ بلقیس بھی حیران تھی۔ سائرہ نواب کمرے میں چلی گئی اور دروازہ بند کرلیا۔
’’یہ تو چلی گئی۔‘‘ محبوب نے بلقیس کی طرف دیکھا۔
’’اب میں کیا کروں؟‘‘ صابر کے لہجے میں تاسف تھا۔
’’تم دونوں کو بات ہی نہیں کرنی آتی۔ تم دونوں بات کرنے سے زیادہ ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے میں لگے رہے۔‘‘ بلقیس نے کہا۔
’’میری سمجھ میں نہیں آرہا کہ محبوب یہاں کیا کرنے آیا ہے؟‘‘ صابر نے محبوب کو گھورا۔
’’تم چاہتے تھے کہ اکیلے ہی سائرہ نواب کو لے اڑو۔‘‘ محبوب دانت پیس کر بولا۔
’’تم دونوں چپ ہوجائو۔ اس کے اس طرح جانے سے لگتا ہے کہ وہ تم دونوں کو مسترد کرکے چلی گئی ہے۔ اب مجھے گلزار کی فکر ہورہی ہے۔ اب یہ گلزار پر ڈورے ڈالے گی۔ اس کے دل و دماغ پر گلزار چھایا ہوا ہے۔‘‘
’’گلزار تو یہاں ہے ہی نہیں۔‘‘ صابر نے کہا۔
’’وہ کوئی پوری زندگی کیلئے تو اپنے باس کے ساتھ نہیں گیا، ایک ہفتے کیلئے گیا ہے۔ یہ یہاں سے نہ جائے اور گلزار آجائے تو پھر کیا ہوگا؟‘‘ بلقیس پریشان ہوگئی۔
صابر اور محبوب کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کریں۔ ایک انار سو بیمار تھے۔ دو بیماروں کو تو یہ فکر تھی کہ سائرہ نواب کا تیسرا بیمار ان کا ایک مضبوط حریف ہے۔ اس کی موجودگی میں ان کی سائرہ نواب کے آگے کوئی اہمیت نہیں ہوسکتی۔
بلقیس سوچتی رہی اور پھر دونوں سے مخاطب ہوئی۔ ’’آپ دونوں جائیں، مجھے کچھ سوچنے دیں۔‘‘
’’ہم کہاں جائیں؟‘‘ دونوں بیک وقت بولے۔
’’اپنے اپنے گھر جائیں۔‘‘
’’ہم اپنے گھر چلے گئے تو گلزار نہیں بچے گا۔ سائرہ نواب اسے آپ سے چھین لے گی۔‘‘ صابر نے اسے ڈرایا۔
’’گلزار کو میں بچا سکتا ہوں۔‘‘ محبوب نے یوں کہا جیسے سائرہ نواب اسی کیلئے آئی ہو۔ اس کی بات سن کر صابر نے اس کی طرف دیکھ کر یوں گھورا جیسے اس کی ناگوار بات نے اس کے پیٹ میں مروڑ کی کیفیت پیدا کردی ہو۔
’’تم دونوں ابھی جائو، میں سوچ کے تم دونوں کو فون کردوں گی۔‘‘ بلقیس کی پریشانی دوچند ہوتی جارہی تھی اور اس کا لہجہ بھی بگڑ رہا تھا۔ یہ دیکھ کر دونوں گھبرا گئے اور ایک دوسرے کا منہ تکتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے۔ ان کا دل تو نہیں چاہتا تھا لیکن مجبوراً انہیں گھر سے نکلنا پڑا۔ بلقیس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے۔
٭…٭…٭
دن کے ساڑھے چار بجے تھے جب گھر کے مین دروازے کے تالے میں چابی گھومی اور دروازہ کھلتے ہی کندھے سے بیگ لٹکائے جو اندر آیا، وہ


تھا۔
اس کی متلاشی نگاہیں دائیں بائیں گھوم رہی تھیں۔ وہ دبے پائوں آگے بڑھ رہا تھا کہ اچانک ایک طرف سے بلقیس نکلی اور اس کی نگاہ گلزار پر پڑی تو اس کے قدم وہیں منجمد ہوگئے۔ نگاہیں حیرت سے پھیل گئیں اور چہرہ یوں کھل گیا جیسے اس کے دونوں پیر کسی وزنی چیز کے نیچے آگئے ہوں۔
’’ہیلو…! میں آگیا۔‘‘ گلزار بولا۔
’’کیوں آگئے…؟‘‘ بلقیس کے منہ سے نکلا۔
’’میری اچانک طبیعت خراب ہوگئی تھی تو میں باس سے معذرت کرکے آگیا۔‘‘ گلزار کچھ اور آگے بڑھا اور اس کی نگاہیں مسلسل دائیں بائیں گھوم رہی تھیں۔ اب بے چاری بلقیس کیا جانے کہ جس وقت وہ کچن میں مصروف تھی، اس وقت اچانک سائرہ نواب نے اس کا موبائل فون اٹھا کر گلزار کا نمبر دیکھا اور اس کے نمبر پر اپنے موبائل فون سے کال کرکے اسے اطلاع کردی کہ وہ اس وقت اس کے گھر میں ہے۔ بس پھر کیا تھا، گلزار کے جسم میں بے چینی دوڑنے لگی تھی۔ اس نے اچانک اپنی طبیعت خراب کی اور باس سے اجازت لے کر تین گھنٹے کا سفر طے کرکے واپس آگیا۔ یہ گلزار ہی جانتا تھا کہ تین گھنٹے کی مسافت کتنی طویل تھی۔
سارے راستے وہ یہی سوچتا رہا کہ بلقیس تو کہتی تھی کہ اس سے اس کی ناراضی ہے اور پھر سائرہ نواب کے پاس اس کا نمبر کیسے آیا؟ ممکن ہے کہ بلقیس نے اسے دیا ہو۔ گلزار ایسی باتیں سوچتا رہا لیکن کسی بھی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچا۔
گھر میں داخل ہوتے ہی اب اس کی نگاہیں سائرہ نواب کو تلاش کررہی تھیں اور بلقیس کی جان نکل رہی تھی۔
’’تم سنائو تمہارا کیا حال ہے، ٹھیک تو ہو؟‘‘ گلزار نے بلند آواز سے بلقیس سے پوچھا۔ اس نے اپنی آواز اس لئے بلند رکھی تھی کہ سائرہ نواب اگر کسی کمرے میں ہے تو سن لے۔
’’آپ کو کسی نے بتایا ہے کہ میں بہری ہوگئی ہوں؟‘‘ بلقیس نے ایک دم سوال کیا۔ ’’آپ اتنی بلند آواز میں کیوں بول رہے ہیں؟‘‘
اس سے پہلے کہ گلزار کوئی جواب دیتا، کمرے کا دروازہ کھلا اور سائرہ نواب باہر نکلی۔ دونوں کی نظریں چار ہوئیں اور ایک طویل عرصے بعد سائرہ نواب کو اپنے سامنے دیکھ کر گلزار کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی۔ اس کو یونیورسٹی کا دور یاد آگیا جب وہ اس سے قریب ہونے کیلئے دن، رات منصوبہ بندی کیا کرتا تھا۔ آج وہ اس کے فلیٹ میں موجود تھی، اس کے سامنے کھڑی تھی اور دونوں کے درمیان محض چند فٹ کا فاصلہ تھا۔
بلقیس کو لگ رہا تھا کہ وہ بے ہوش ہوجائے گی۔ سائرہ نواب اب اس کا شوہر اس سے چھین لے گی پھر یکدم بلقیس نے اپنے ڈھیلے پڑتے اعصاب کو بحال کیا۔
’’سائرہ نواب! آپ تو اب بھی وہی یونیورسٹی والی لڑکی دکھائی دے رہی ہیں۔‘‘ گلزار نے کہا۔
’’اور آپ تو اب بھی ویسے ہی ہیں۔ وہی پرکشش شخصیت، وہی خوش لباسی، وہی مسکراہٹ…!‘‘
’’ابھی میں سفر سے آرہا ہوں، فریش ہوکر آپ کے سامنے آئوں گا تو آپ کو گلزار مزید نکھرا ہوا دکھائی دے گا۔‘‘ گلزار یہ بھول گیا کہ پاس ہی اس کی بیوی بھی کھڑی ہے جس نے یہ سن کر اس کی طرف گھور کر دیکھا تھا۔
ایک دم سائرہ نواب نے پوچھا۔ ’’ویسے ایک بات بتائیں آپ یہاں کیا کررہے ہیں؟‘‘
’’یہ میرا فلیٹ ہے۔‘‘ گلزار نے کہا۔
’’یہ تو بلقیس اور اس کے شوہر جمال کا فلیٹ ہے۔‘‘ سائرہ نواب نے آنکھیں گھمائیں۔ یہ سن کر گلزار نے مشکوک نگاہوں سے بلقیس کی طرف یوں دیکھا جیسے وہ پوچھ رہا ہو کہ جمال کب اور کیسے ان کے بیچ میں گھس آیا۔
’’سائرہ! میں تمہارے لئے کافی بناتی ہوں۔‘‘ بلقیس نے جلدی سے موضوع بدلنے کی کوشش کی۔
’’میں سمجھ گئی تم نے میرے کہنے پر گلزار کو بلایا ہے۔ میں بھول گئی تھی کہ میں نے تمہیں خود کہا تھا کہ گلزار کو بلانا لیکن گلزار تو یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ فلیٹ ان کا ہے اور تم کہتی ہو کہ تم یہاں جمال کے ساتھ رہتی ہو؟‘‘
’’یہ جمال کون ہے؟‘‘ گلزار نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے بلقیس کی طرف دیکھا۔
اس سے پہلے کہ بلقیس کوئی جواب دیتی، سائرہ نواب نے دروازے کی طرف دیکھا اور تیزی سے دروازے کے پاس جاکر ایک دم دروازہ کھول دیا۔ باہر دروازے کے ساتھ صابر اور محبوب کان لگائے کھڑے تھے۔ ان کو پتا نہیں چل سکا کہ دروازہ کھل گیا ہے۔
’’آپ دونوں بھی اندر تشریف لے آیئے۔‘‘ سائرہ نواب نے کہا تو دونوں نے چونک کر سائرہ نواب کی طرف دیکھا اور کھسیانی سے ہنسی ہنستے ہوئے اندر آگئے۔ سائرہ نواب نے دروازہ بند کردیا۔
سائرہ نواب نے گلزار، محبوب اور صابر کی طرف باری باری دیکھنے کے بعد کہا۔ ’’یہ وہ تین کبوتر ہیں جو یونیورسٹی میں مجھے پسند کرتے تھے اور ایک دوسرے کے دوست ہوکر ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچتے تھے۔ تینوں کو جرأت نہیں ہوئی یا پھر تینوں نے ایک دوسرے کو موقع نہیں دیا کہ یہ مجھ سے اظہار محبت کرسکتے۔‘‘
سائرہ نواب چپ ہوکر ان کی طرف دیکھنے لگی۔ محبوب کو یاد آیا کہ اس نے تو اپنی بائیک بیچ دی تھی اور گلزار نے اس کے جھوٹ کا پردہ فاش کردیا تھا اور اسے سائیکل پر یونیورسٹی بھیج دیا تھا۔ صابر کو بھی یاد تھا کہ اس نے سائرہ نواب کیلئے سوٹ خریدا تھا اور گلزار نے وہ سوٹ اس کی ماں کو دلا کر اطمینان کی سانس لی تھی جبکہ گلزار بھی نہیں بھولا تھا کہ دونوں دوستوں کو پھلانگ کر سائرہ نواب سے اظہار محبت کرنا چاہا تھا لیکن سائرہ نواب کسی مینا کی طرح اڑ کر دبئی کی فضائوں میں گم ہوگئی تھی۔
سائرہ نواب نے بلقیس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’گلزار کو میں نے فون کیا تھا، تمہارے موبائل فون سے اس کا نمبر لیا تھا۔ دیکھو یہ کیسے اڑتا ہوا یہاں پہنچ گیا۔‘‘
’’میں اڑتا ہوا بالکل نہیں آیا، میں نے وہاں سے ٹیکسی لی اور اس میں بیٹھ کر آیا ہوں۔‘‘ گلزار نے ضروری سمجھا کہ وہ سائرہ نواب کی غلط فہمی دور کردے۔
سائرہ نواب نے بلقیس کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر متانت سے کہا۔ ’’میں نے تم سے کہا تھا کہ میں نے اپنے شوہر سے علیحدگی اختیار کرلی ہے اور یہاں شادی کرنا چاہتی ہوں۔ شادی کروں گی تو ان تینوں میں سے کسی ایک کے ساتھ…! تم نے مجھ سے اپنا شوہر چھپا کر رکھا اس ڈر سے کہ کہیں میں گلزار کو تم سے چھین نہ لوں کیونکہ میں نے ہی تمہیں ایک دن کہا تھا کہ اگر مجھے شادی کرنی پڑی تو میں گلزار سے کروں گی۔ میری آمد کو تم نے اپنے لئے خطرہ جانا۔ تم نے کبھی یہ ظاہر نہیں کیا کہ تمہارا شوہر گلزار ہے۔ تم اس سے شادی کرنے کے بعد بھی ڈرتی رہیں کہ کہیں میں تم سے گلزار کو نہ چھین لوں۔ کیا میں ایسی دوست ہوں جو اپنی دوست کے گھر میں ڈاکا ڈالے گی۔‘‘
’’سائرہ نواب! دراصل…!‘‘ بلقیس نے کچھ کہنا چاہا۔
’’تم چپ رہو… مجھے بولنے دو۔ جانتی ہو کہ میں دبئی سے کیوں آئی ہوں؟‘‘ سائرہ نواب نے اس کی بات کاٹ کر کہا۔
’’آپ شادی کرنے آئی ہیں۔ گلزار اپنی بیوی کے ساتھ بہت خوش ہے، میری ہی لائف ڈسٹرب ہے۔‘‘ محبوب جلدی سے بولا۔
’’میری بیوی تو ایک سال سے اپنے میکے گئی ہوئی ہے۔‘‘ صابر نے کہا۔
’’ابھی تم مجھے بتا رہے تھے کہ تمہاری بیوی کا میسج آیا ہے اور وہ پوچھ رہی ہے کہ رات کو کیا پکائوں؟‘‘ محبوب نے بھی جھوٹ بولنے میں تغافل سے کام نہیں لیا۔
’’یہ بات میں نے کب کی؟‘‘ صابر تلملایا۔
’’تم دونوں چپ ہوجائو۔ میں یہاں شادی کرنے نہیں آئی۔ میں نے جھوٹ بولا تھا۔ مجھے یہ جاننے کا تجسس تھا کہ پندرہ سال کے بعد بھی تم تینوں اپنی اپنی بیویوں سے مخلص ہوگئے ہو یا اب بھی میرے لئے بے چین ہو…! میرے لئے بیویوں کو دھوکا دینے کو بھی تیار ہو… مجھے افسوس ہے کہ تم تینوں ماضی کی یکطرفہ محبت کو اپنے اپنے سینے میں دبائے، یادوں کا پانی دیتے رہتے ہو۔‘‘
گلزار، محبوب اور صابر ایک دوسرے سے نگاہیں چرانے لگے تھے۔ ان کےگمان میں بھی یہ بات نہیں تھی کہ ان کو سائرہ نواب سے
ایسا سننے کو ملے گا۔ سائرہ نواب نے اپنی گھڑی میں وقت دیکھا۔ اچانک اس کے موبائل فون پر بیل ہوئی۔ اس نے اپنے موبائل فون کی اسکرین دیکھی اور دروازے کی طرف چلی گئی۔ اس نے دروازہ کھولا تو ایک خوبصورت اور خوش پوش شخص کھڑا تھا۔ دونوں ایک دوسرے سے مسکرا کر ملے اور وہ اسے اندر لے آئی۔ وہ چاروں اس شخص کی طرف دیکھ رہے تھے۔
سائرہ نواب نے مسکرا کر بتایا۔ ’’میری اپنے شوہر سے علیحدگی نہیں ہوئی۔ یہ ہیں میرے پیارے اور وفادار شوہر!‘‘
اس انکشاف نے ان چاروں کو متحیر کردیا۔ گلزار، محبوب اور صابر کو محسوس ہوا کہ ان کے سینے کے اندر کوئی ایسی چیز ٹوٹی ہے جس کی آواز کانچ کے ٹوٹنے جیسی تھی۔ بلقیس کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی۔
سائرہ نواب ایک بار پھر ان تینوں کی طرف متوجہ ہوکر بولی۔ ’’اب میرا خیال دل سے نکال کے اپنی اپنی زندگی کو انجوائے کریں۔‘‘
گلزار کو اچانک فریش ہونا یاد آگیا اور وہ اپنے کمرے کی طرف چلا گیا۔ محبوب اور صابر بھی اجازت لے کر باہر نکل گئے۔
محبوب اور صابر وہاں سے سیدھے سسرال چلے گئے۔ محبوب کو اپنی بیوی کی شک بھری باتیں پیاری لگنے لگی تھیں اور صابر کو اپنی بیوی کی شہرت پر رشک آنے لگا تھا۔ دونوں سسرال کے گھر کے دروازوں پر کھڑے دستک دے رہے تھے اور اپنی بیوی کو واپس لے جانے کیلئے مضطرب تھے۔ (ختم شد)

Latest Posts

Related POSTS