Mohabbat Mit Tee Nahi | Teen Auratien Teen Kahaniyan

4436
سلطانہ یاد آتی ہے تو دل دُکھ کی انتہائی گہرائیوں میں ڈوب جاتا ہے۔ وہ کلاس میں ہر دلعزیز اور گھر بھر کی آنکھوں کا تارا تھی۔ امیر والدین کی بیٹی لیکن دل گداز رکھتی تھی۔ اپنے کالج کی کئی غریب طالبات کی چپکے چپکے مالی مدد کرتی رہتی۔ دل کی خوبصورتی کے ساتھ صورت کی خوبصورتی اپنی جگہ مگر سلطانہ کو پڑھائی سے شغف نہ تھا۔ اس کے والدین نے بھی ایف اے کے بعد کالج سے اٹھا لیا کہ پڑھائی کے بوجھ سے ہماری بیٹی کی صحت خراب ہو رہی ہے۔ سلطانہ کے ماں باپ کی اس سوچ پر مجھے حیرت تھی اور دکھ اس بات کا کہ اس جیسی اچھی لڑکی کا ساتھ چھوٹ گیا تھا۔ میرے لیے اب کلاس میں نئے سرے سے دوست بنانا مشکل تھا، کوئی ہم خیال ہو تبھی دوستی ہوتی ہے۔ میں خود کو اس کے بنِا تنہا تنہا محسوس کرنے لگی۔
بے شک اس نے کالج کو خیرباد کہہ دیا لیکن مجھ سے رابطہ رکھا۔ فون کرتی، کبھی خود ملنے آ جاتی۔ شاید وہ بھی میرے بغیر خود کو ادھورا محسوس کرتی تھی۔ جب آتی کوئی نئی بات سنا جاتی۔اس دفعہ آئی تو بتایا کہ کویت سے اس کے چچا اور ان کی فیملی ہمیشہ کے لیے آ گئی ہے اور وہ لوگ ان کے برابر والے گھر میں قیام پذیر ہوگئے ہیں۔ دراصل یہ گھر اس کے چچا کا ہی تھا جو مدت سے بند پڑا ہوا تھا۔
مجھے اس کے چچا کی فیملی سے کوئی دلچسپی نہ تھی لیکن جب اس نے بتایا کہ چچا کے بیٹے جہانگیر سے اس کی منگنی ہونے والی ہے تو اس کے ہونے والے جیون ساتھی کو دیکھنے کا اشتیاق ہو گیا۔
میں بہت کم سلطانہ کے گھر جایا کرتی تھی۔ کالج اور گھر کے کاموں سے ہی فرصت نہ ملتی تھی۔ وہ ہمیشہ سوال کرتی، تم ہمارے گھر کب آئو گی، تم تو آتی ہی نہیں ہو۔ اس بار جب سلطانہ نے یہ بات کہی۔ میں نے جواب دیا۔ آنے میں دقت سواری کی وجہ سے ہے، تم گاڑی بھیجو گی تو آجائوں گی۔ اس کی باچھیں کھل گئیں۔ اتوار کی صبح اس نے گاڑی بھجوا دی۔ امی سے اجازت لی اور سلطانہ کے گھر جا پہنچی۔ جونہی اس کے گھر میں قدم رکھا، سب سے پہلے ایک سرو قد نوجوان نے آگے بڑھ کر استقبال کیا۔ میں سمجھ گئی کہ یہ اس کا کویت والا کزن جہانگیر ہے جس سے عنقریب اس کی منگنی ہونے جا رہی ہے اور جسے دیکھنے کا ارمان لے کر آئی تھی، میں نے بغور اس کا جائزہ لیا۔ وہ صورت شکل کا اچھا لیکن شخصیت میں جانے کیا کمی رہ گئی تھی کہ اسے دیکھ کر مایوس ہو گئی۔
میری آواز سن کر سلطانہ اپنے کمرے سے نکل آئی۔ گرمجوشی سے ہاتھ پکڑ کر اپنے کمرے میں لے گئی۔ جہانگیر بھی سائے کی طرح ہمارے پیچھے چلا آیا اور الٹے سیدھے مذاق کرنے لگا۔ تبھی وہ میرے دل سے اتر گیا۔ سوچا سلطانہ جیسی باوقار لڑکی کیونکر اس اوچھی طبیعت کے شخص کے ساتھ گزارہ کرے گی۔ مجھے یہ رشتہ بالکل بے جوڑ لگا تھا۔
انہی دنوں سلطانہ کے بھائی کی شادی تھی۔ دعوت نامہ دیا اور وعدہ لیا کہ ضرور آنا۔ یہ ہونے والی بھابی اس کی کزن یعنی جہانگیر کی بہن تھی۔ شا دی کے دن سلطانہ سج دھج کر بہت اچھی لگ رہی تھی۔ میں نے نوٹ کیا کہ آج جہانگیر کو اپنے دل پر قابو نہیں رہا ہے۔ وہ بہانے بہانے سے اس کے آگے پیچھے گھوم رہا تھا۔ بار بار فوٹوگرافر کو پکڑ لاتا اور سلطانہ کے پاس کھڑا ہو کر اسے ہدایت دیتا ہماری تصویر بنائو۔ اس کی یہ حرکت اور کھلی۔ سلطانہ بھی بیزار نظر آنے لگی۔ شادی کا گھر تھا۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ جہانگیر کو دھتکار دے مگر وہ روہانسی ضرور ہو رہی تھی۔
میں نے کہا۔ یہ تو عجیب مخلوق ہے اور تیری اس کے ساتھ منگنی ہونے جا رہی ہے۔ مائنڈ کیا کرنا، بھئی یہ تو پاگل ہے عرصے سے بیرون ملک رہا ہے۔ تبھی اسے یہاں کی رِیت رواج کا شعور نہیں ہے۔ کچھ عرصے بعد سدھر جائے گا۔ میں سلطانہ کی اعلیٰ ظرفی کی معترف ہو گئی۔ شادی والے دن کوئی بدمزگی نہ ہونے دی کیونکہ اس کی نیت صاف تھی۔
شمسہ بھابی بن کر ان کے آنگن میں آبسی۔ سلطانہ کا بھائی اپنی دلہن کو پا کر بہت خوش تھا۔ بھائی اور بھابی کو خوش و خرم دیکھتی تو اپنی آئندہ زندگی کے بارے میں پُرامید ہو جاتی اور اچھی سوچوں کو اپنے سپنوں میں سجانے لگتی۔منگنی ہو گئی۔ سلطانہ خوش تھی کہ اس کی شادی شمسہ کے بھائی سے ہو رہی ہے جو اس کی پیاری بھابی تھی اور اس پر جان نچھاور کرتی تھی لیکن اس کا یہ خواب چکنا چور ہو گیا جب جہانگیر کی اوچھی طبیعت سے سلطانہ کے والد اور بھائی خار کھانے لگے۔
وہ صبح ہی ان کے گھر آ جاتا۔ باورچی خانے میں گھس جاتا اور سلطانہ کے پیچھے پیچھے پھرتا۔ جہانگیر کو اس بات کی بھی سمجھ نہ تھی کہ اس کی ایسی حرکتوں کو اس کی منگیتر کے گھر والے ناپسندیدہ نظروں سے دیکھتے ہیں۔ رفتہ رفتہ وہ اتنے بیزار ہوگئے کہ انہوں نے سلطانہ کو جہانگیر سے بیاہنے سے انکار کر دیا۔ یوں یہ منگنی ٹوٹ گئی۔ میری سہیلی کو اپنی منگنی کے ٹوٹنے کا ذرّہ بھر بھی ملال نہ ہوا۔ شاید اس کے دل کے نہاں خانوں میں بھی کہیں اپنے منگیتر سے ناپسندیدگی کے جذبوں نے جنم لے لیا تھا۔
اب پھر سے اندیشوں نے سر اٹھایا کہ غیر سے ناتا جوڑنے پر سلطانہ کو کہیں ناخوشگوار دن نہ دیکھنے پڑ جائیں لیکن یہ سارے اندیشے اور خوف اس وقت پس پشت چلے گئے جب اس کی خالہ اپنے بیٹے سالار کا رشتہ مانگنے آگئیں۔ سلطانہ نے سالار کو دیکھا، اسے وہ اپنے خوابوں کی تعبیر جیسا نظر آیا۔ اتنے عرصے بعد دیکھا تھا۔ وہ سنجیدہ اور مہذب تھا اور بہت سوچ سمجھ کر بات کرتا تھا۔ بس یہی ادا اس کی سلطانہ کو پسند آ گئی۔ وہ جس وضع کا شریک زندگی چاہ رہی تھی، سالار بالکل ویسا ہی تھا۔ اس کے ماں باپ نے بھی سالار کو پسند کیا اور خوشی خوشی ہاں کر دی۔ وہ دن بھی جلد آ گیا جب بھائیوں نے لاڈلی بہن کی ڈولی سجائی اور دلہن بنی ہوئی جگر گوشہ کو بابل نے دعا دے کر رخصت کیا۔ وہ اس وقت اس قدر حسین لگ رہی تھی جیسے کوئی اپسرا تھی یا آسمان سے حور اتر آئی تھی۔
پاکیزہ خیالی کا جو خزانہ اس کے دل میں دفن تھا، شاید یہ اسی کا نور تھا۔ جس نے بھی دلہن کا چہرہ دیکھا، بس دیکھتا ہی رہ گیا۔ ان میں جہانگیر بھی تھا۔ جب اس نے سلطانہ کا چہرہ دیکھا تو مجنوں ہو گیا۔ اس نے گھر جا کر شراب پی اور پھر شادی والے دن گھر آ کر بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔
اس وقت سلطانہ کی رخصتی ہو رہی تھی۔ جہانگیر کی بہن کو خدشہ ہوا کہ کہیں وہ آپے سے باہر ہو کر کوئی ایسی حرکت نہ کر دے جس سے تقریب میں بدمزگی پیدا ہو جائے۔ تبھی شمسہ نے بھائی کا بازو پکڑا اور اپنے کمرے میں لے گئی۔ کمرے کو باہر سے تالا لگا دیا۔ اس دم دولہا، دلہن کو رخصت کرکے لے جا رہا تھا۔ میں نے اس کی صورت دیکھی تو ششدر رہ گئی۔ وہ واقعی شہزادہ لگ رہا تھا۔ دونوں کی چاند سورج کی جوڑی تھی۔ اپنے خوبصورت خوابوں اور امنگوں کے ساتھ وہ پیا دیس سدھار گئی۔
اپنے خواب پلکوں میں چھپائے ہوئے وہ دولہا کا انتظار کرنے لگی۔ قدموں کی آہٹ ہوئی، اس کا دولہا کمرے میں آیا۔ آتے ہی اس نے پوچھا۔ سچ کہو سلطانہ، تمہارے کزن نے عین رخصتی کے وقت خودکشی کی کوشش کیوں کی۔ جب ہماری گاڑی چلی تھی، اسی وقت ایمبولینس آئی تھی اور وہ اسے اسپتال لے جا رہے تھے۔ اس کی ماں اور بہنیں رو رہی تھیں۔ سنا ہے ہمارے جاتے ہی وہاں بھگدڑ مچ گئی اور رشتے دار کہہ رہے تھے کہ وہ تم سے جدائی کا صدمہ نہیں سہہ پا رہا ہے۔
یہ باتیں اپنے دولہا کے منہ سے سن کر سلطانہ نے آنسوئوں کے بار سے جھکی پلکوں کو اٹھایا تو اس کے سارے خواب ایک ایک کر کے ٹوٹتے چلے گئے اور کرچیں روح میں اتر گئیں۔ یہ تو میں نے بھی دیکھا تھا کہ جب تمہاری بھابی جہانگیر کو لے کر کمرے میں جا رہی تھیں، اس کی حالت بہت خراب تھی۔ وہ تمہیں دلہن کے روپ میں دیکھ کر بری طرح رو رہا تھا۔
وہ مجھے بہن سمجھتا ہے اور جب بہن رخصت ہوتی ہے تو بھائی اس وقت رویا ہی کرتے ہیں۔ سلطانہ سے یہی جواب بن پڑا تو سالار نے طنزیہ لہجے میں کہا۔ اچھا! سابقہ منگیتر بعد میں بھائی بہن بن جاتے ہیں، یہ تو آج پتا چلا ہے۔ میں سمجھ رہا تھا کہ وہ اپنی محبت کو کسی دوسرے کی ہو جانے پر رو رہا ہے۔
اُف میرے خدا۔ سلطانہ نے سوچا، یہ شخص تو اس ہلکی طبیعت والے جہانگیر سے بھی گیا گزرا ہے۔ وہ جیسا بھی ہے معصوم تو ہے، اور یہ آدمی جو معتبر اور باوقار لگتا ہے، مجھے گھونگھٹ میں بیٹھی دلہن کو طعنے دیئے جا رہا ہے۔ اگر جہانگیر رویا یا زیادہ شراب پی کر اس کی حالت بگڑ گئی تو اس میں میرا کیا قصور۔ میں نے تو نہیں کہا کہ وہ ایسا کرے اور نہ ہی مجھے اس سے شادی کی آرزو تھی۔ تاہم اپنی صفائی میں اس نے کچھ نہ کہا۔ کیونکہ دکھ کی وجہ سے آنسوئوں نے اس کا گلا پکڑ لیا تھا۔ اسے افسوس تھا کہ سالار اس کی خوابوں کی تعبیر کے بالکل برعکس نکلا۔ وہ شکی آدمی تھا اور شک کی دراڑ نے پیار کے تاج محل کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔
کس نے اللہ جانے کیسی باتیں شادی والے دن دولہا کے گوش گزار کر دی ہیں۔ یہی سوچتے سوچتے بالآخر اسے نیند آ گئی۔
شادی کو ایک ماہ بیت گیا۔ سالار کے رویے سے سردمہری نہ گئی۔ دفتر سے آ کر وہ خاموشی سے لیٹ جاتا۔ سلطانہ منتظر ہوتی کہ وہ اسے پیار سے بلائے مگر وہ ایسا پتھر ہوگیا تھا جیسے سلطانہ اس کی زندگی میں آئی ہی نہ ہو۔ شادی سے قبل جو خوشی بھری امیدیں اپنے پلو سے باندھ کر اس گھر میں آئی تھی، سب دھری کی دھری رہ گئیں۔ وہ تو یوں گھر میں اِدھر سے اُدھر اکیلے پھرتا جیسے کوئی دوسرا اس نگری میں رہتا ہی نہ ہو۔
زندگی کی یہ پہلی چوٹ تھی جو سلطانہ کے دل پر لگی اور یہ چوٹ بہت گہری تھی۔ وہ اندر سے تڑپ کر رہ گئی۔ پھر بھی اپنے جیون ساتھی پر اپنی خوشی لٹانے کو تیار رہتی تھی۔ اس کے لبوں سے پیار بھرا ایک فقرہ سننے کے لیے ہمہ تن گوش ہوتی اور سالار جب بھی کوئی جملہ کہتا، ایسا سلگتا ہوا اور تیکھا کہ اس کے دل کے آرپار ہو جاتا تھا۔ جب سالار کے رشتے دار دلہن کو دیکھنے آتے، بے اختیار اس کی تعریف کرتے۔ ان کے جانے کے بعد وہ کہتا، مجھے تو تم میں ایسی کوئی بات نظر نہیں آتی، پتا نہیں لوگوں کی آنکھوں کو کیا ہو گیا ہے کہ جان دیتے ہیں۔ اس جواب کو سن کر اس کا دل کٹ کر رہ گیا۔ جی چاہا خوب روئے مگر میکے نہ گئی۔ اندیشہ تھا کہ وہاں گئی تو سب کے سامنے پھوٹ پھوٹ کر رو دے گی۔ اس نے اپنا گھر بسائے رکھنے کے لئے واپسی کے تمام راستے مسدود کر دیئے تھے۔ وہ یہ ضرور سوچتی تھی کہ جہانگیر کم ذہن سہی، اس کا دل تو سچا تھا اور اب میں یہ کس عذاب میں مبتلا ہوگئی ہوں۔ سارے دکھ دل میں اتار کر اب وہ یہی کہتی کہ سب کچھ سہوں گی مگر ماں باپ کو دکھ نہیں دوں گی۔
اس کی گود ہری ہوگئی۔ امید بندھی کہ اب سالار اس کو چاہنے لگے گا۔ اس مرحلے پر جیسے بھائی نے شمسہ بھابی کی نازبرداریاں شروع کر دی تھیں، وہ بھی اسے اہمیت دے گا لیکن سالار نے اس خوشخبری کو سن کر بھی ویسی ہی باتیں کیں جو دل کو ریزہ ریزہ کرتی تھیں۔ اللہ جانے کتنی غلط فہمیوں نے سالار کے دل کو جکڑا ہوا تھا کہ وہ بہانے بہانے سے اس کی تذلیل کرتا۔ حالانکہ سلطانہ نے جب سالار کو دیکھا تو اسے خود پسند کرلیا تھا۔ وہ جہانگیر سے تو ہرگز محبت نہ کرتی تھی۔
بیٹی نے جنم لیا۔ سلطانہ اسپتال اور سالار اپنے آفس میں تھا۔ سلطانہ کی والدہ نے داماد کو فون پر بتایا کہ تمہارے ہاں بیٹی ہوئی ہے، آ کر دیکھ جائو۔ جواب دیا۔ بیٹی کا منہ کیا دیکھوں جب اس کی ماں کا منہ ہی بھلا نہیں ہے۔ یہ سن کر سلطانہ کی والدہ نے دل تھام لیا کہ یہ کیسا شخص ہے جو پہلی اولاد کی خوشی کو بھی خوشی نہیں سمجھتا۔
بیٹی کو لے کر سلطانہ خود اسپتال سے گھر آ گئی۔ اس کی ساس دوسرے بیٹے کے گھر تھیں اکیلا گھر اسے ویرانہ لگتا تھا۔ جی چاہا کہ ابھی اسی وقت اس ویرانے کو چھوڑ کر چلی جائے لیکن اب وہ اکیلی نہ تھی۔ ننھی بچی کا بوجھ بھی ساتھ تھا۔
ایک سال بعد دوسری بیٹی نے جنم لیا تو سالار کا مزاج اور بھی برہم رہنے لگا۔ وہ اب گھر میں ٹکتا ہی نہ تھا، صرف رات گئے سونے آتا اور صبح دم تیار ہو کر نکل جاتا۔
شوہر کا دل جیتنے کی کوشش میں اس بیچاری لڑکی کا بالآخر حال خراب ہو گیا۔ لیکن اس کی عادت تھی کہ میکے بہت کم جاتی تھی، اس خوف سے کہ والدین اسے دکھی دیکھ کر دکھی نہ ہو جائیں۔ وہ ان سے یہی کہتی تھی کہ اپنے گھر میں بہت خوش ہے۔
شوہر کی بے رخی سہتے سہتے ایک دن اس کی ہمت جواب دے گئی تو سالار سے کہا کہ مجھے میکے چھوڑ آیئے۔ اسے یہ فرمائش بھی ناگوار گزری۔ جواب دیا والدین کے لیے جانا چاہتی ہو یا جہانگیر کی خاطر۔ سنا ہے وہ تمہاری جدائی اور یاد میں بیمار رہتا ہے۔ دو بیٹیوں کی ماں، شوہر کے اس طعنے کو سن کر بھی خاموش رہی۔ لیکن اللہ نے اس کے دل کی سنی اور اتفاق سے سلطانہ کے ابو بیٹی کے گھر آ گئے۔ اسے زرد اور کمزور دیکھ کر ان کا دل بجھ گیا اور اصرار کر کے ساتھ لے گئے۔ دو ننھی منی بچیوں کی دیکھ بھال نے اسے ہلکان کر دیا تھا۔
میں نے سنا سلطانہ میکے آئی ہوئی ہے تو اس سے ملنے گئی۔ تب اس نے ساری باتیں مجھے بتائیں اور کہا کہ میرے گھر والوں کو نہ بتانا کیونکہ میں نے انہیں کچھ نہیں بتایا ہے۔ امی ابو پریشان ہوجائیں گے۔ دل کی خوشی چہرے سے چھپ نہیں سکتی اور زندگی کے دکھ بھی صورت پر کندہ ہوجاتے ہیں۔ والدین بچے نہ تھے کہ کچھ نہ سمجھتے۔ انہوں نے سالار کو بلوایا اور کہا کہ اگر تم بیوی کو ٹھیک طرح سے نہیں رکھ سکتے تو طلاق دے دو۔ ہمیں اسے کھلانے کے لیے اللہ نے بہت دیا ہے، چاہو تو اپنی بیٹیاں لے جائو، چاہو تو چھوڑ جائو۔ سالار بچیوں کو نانا نانی کے حوالے کر گیا اور طلاق بھجوا دی۔
یہ تو بعد میں پتا چلا کہ وہ سرے سے سلطانہ سے شادی ہی نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اسے اپنی آفس سیکرٹری سے بیاہ رچانے کی آرزو تھی مگر والدین نہ مانے۔ سالار کو بہانہ چاہیے تھا، سو مل گیا۔ طلاق دے کر اس نے اپنی سیکرٹری سے شادی کر لی۔ چار سال بعد والدین کے دبائو میں آ کر سلطانہ کو بھی نکاح ثانی کرنا پڑا۔ اس کی شادی جہانگیر سے کر دی گئی۔ یوں جو بندھن پہلے بندھ جانا تھا وہ بعد میں بندھ گیا۔ شمسہ بھابی اور بھائی نے ہی سلطانہ کو بالآخر کسی طرح منا لیا۔
وہ سمجھ رہی تھی کہ اس پر ظلم ہو رہا ہے لیکن والدین، بھائی اور بھابی کو خوش دیکھنا چاہتی تھی۔ اللہ اگر چاہے تو تھوہر کے پودے میں شہد کا چھتہ لگا دے۔ وہ جس کو اوچھا اور ناپختہ ذہن سمجھتی رہی تھی، وہی جہانگیر اس کے گھائل دل کا مرہم ثابت ہوا۔ وہ اس سے سچی محبت کرتا تھا۔
سلطانہ کا دل جیتنے کے لیے اسے خوش رکھنے کے لیے اس کے کزن نے اتنی کوششیں کیں کہ بالآخر ایک روز سلطانہ کو اپنی وہ کیفیت اور سعی یاد آ گئی جب وہ سالار کا دل جیتنے کے لیے دن رات ہلکان ہوا کرتی تھی۔ جب کوئی کسی سے پیار کرتا ہے تو ایسی ہی کوششیں کرتا ہے اور وہی کرب و تکلیف سہتا ہے جو اس نے سہی تھی۔ تو کیوں نہ اس شخص کی میں قدر کروں جو میری قدر کرتا ہے اور کیوں نہ اس شخص کے ساتھ محبت بھرا سلوک کروں جو مجھ سے محبت کرتا ہے۔ یہ بات سلطانہ نے جب مجھے کہی تو اس کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے مگر میں اس کے آنسوئوں میں محبت کی خوشبو محسوس کر رہی تھی۔ ( ط۔و… ڈیرہ غازی خان)