Saturday, May 18, 2024

Mohbbat Ko Samujhna Mushkil | Teen Auratien Teen Kahaniyan

مجھے ادیبوں اور شاعروں سے بڑی عقیدت تھی۔ میں ان کی دل سے عزت کرتی تھی اور سنا کرتی تھی کہ وہ بہت حسّاس ہوتے ہیں۔ خبر نہ تھی کہ میری شادی تقدیر نے ایک ادیب سے لکھ دی ہے۔ یہ ایک خنک شام تھی، میں اپنے گھر کے لان میں ٹہل رہی تھی کہ ایک اجنبی شخص گیٹ سے لان میں آ گیا۔ اس کی نظر مجھ پر پڑی تو گھورنے لگا۔ مجھے اس کا یوں تکنا برا لگا۔ میں فوراً گھر کے اندر چلی گئی۔ بعد میں پتا چلا نئے پڑوسی ہیں اور ان کے والد میرے بابا کے دیرینہ دوست ہیں تب ہی یہ بے دھڑک آ گئے تھے۔
ان کا نام آفاق تھا۔ والد نے سب سے تعارف کرایا لیکن میں لمحہ بھر بھی سامنے نہ آئی، نہ ٹھہری۔ جلدی سے کمرے میں لوٹ آئی۔ اب جب بھی یہ حضرت آتے مجھے گھور کر دیکھتے، مجھے سخت الجھن ہوتی۔ ایک روز چڑ کر ان کو چِٹ پر لکھ بھیجا کہ محترم کسی لڑکی کو گھورنا تہذیب کے منافی ہے، آئندہ خیال رہے۔ یہ پرزہ ملازمہ لڑکی کے ہاتھ ان کو بھجوا دیا۔ خیال تھا کہ حضرت ادیب ہیں ضرور اپنی غلطی پر شرمندہ ہوں گے اور آئندہ یہ اندازِ دید ترک کر دیں گے۔ یہ میری غلط فہمی تھی۔ وہ چکنے گھڑے ثابت ہوئے اور زیادہ آنکھیں پھاڑ کر دیکھنے لگے۔ یہاں تک کہ میں ہی اس اندازِ جان لیوا کی عادی ہو گئی۔
اب یہ عالم کہ اگر کبھی میرے روئے روشن کو نہ گھورتے تو میں گھبرا کر آئینہ دیکھتی کہ آج کیا ہو گیا۔ کہیں میرے چہرے کے نقوش تو غائب نہیں ہو گئے یا پھر ایسا نہ ہو کہ میرے سینگ تو نہیں نکل آئے۔ جانے کیا ہوا کہ اب ان کے آنے پر ایک مدھم مسکراہٹ میرے لبوں پر پھیل جاتی جیسے ان گھورتی آنکھوں کے ساتھ ایک دلی تعلق جڑ گیا ہو۔ ایک روز ملازمہ نے ایک پرچہ لا کر دیا۔ لکھا تھا میں کل مزید پڑھنے کیلئے لاہور جا رہا ہوں۔ آئندہ تمہیں کوئی گھورنے والا نہیں رہے گا۔ سکون کی نیند سونا۔ میں دو سال سے پہلے نہیں آئوں گا۔
پرچے پر لکھے الفاظ کیا تھے، برقی قمقمے تھے جو دل میں روشن ہو گئے مگر تحریر آزردہ کرنے والی تھی۔ میری پلکیں بھیگ گئیں، بار بار اس تحریر کو پڑھ رہی تھی اور لگتا تھا کہ وقت مصیبت کی بھاری گھڑی کی مانند تھم گیا ہے۔ آخرکار یہ دو سال بیت گئے۔ وہ حسین اور یادگار دن بھی آ گیا جب آفاق کے والدین ابو سے میرا رشتہ طلب کرنے آ گئے۔ وہ مقابلے کا امتحان پاس کر کے آئے تھے۔ بھلا ایسے ہونہار نوجوان کیلئے رشتوں کی کیا کمی تھی مگر انہوں نے مجھے دیکھا تو ارادہ کر لیا تھا کہ اسی کو اپنی دلہن بنانا ہے۔ صحیح سنا تھا کہ ضد کے پکے ہیں۔
ہماری شادی ہو گئی۔ وہ مجھ سے بہت محبت کرتے تھے کہ جدائی کی ایک گھڑی قیامت لگتی تھی۔ شادی کے بعد ان کا تبادلہ لاہور ہو گیا اور ایک حویلی نما گھر رہنے کو مل گیا۔ ان کی مصروفیات بڑھ گئیں تو یہ بڑا سا گھر مجھ کو کھانے کو دوڑنے لگا۔
صبح کے گئے شام ڈھلے گھر لوٹتے۔ چند گھڑیاں آرام کر کے مطالعہ گاہ میں چلے جاتے اور صوفے پر نیم دراز ہو کر کتاب پڑھنے لگتے۔ کبھی قلم اور کاغذ لے کر بیٹھ جاتے۔ مجھے بہت کم وقت دے پاتے تھے۔ ہمارا معمول تھا کہ کھانا ساتھ کھاتے تھے، اگر یہ نہ کھاتے تو میں انتظار کرتی رہتی کہ جب آفاق کھائیں گے تب ہی میں بھی کھائوں گی۔ مجھ کو یہ خبر نہ تھی کہ ادیبوں کو بیویوں سے نہیں قلم، کاغذ اور کتابوں سے عشق ہوتا ہے اور یہ ساری دنیا سے الگ تھلگ بس اپنی دنیا میں ہی گم رہتے ہیں۔ تب ہی ادب تخلیق ہو پاتا ہے۔
یہ راز تو یہاں آ کر کھلا۔ کیسے بتائوں کہ کبھی کبھی لگتا کہ کتابیں ہی ان کے لیے سب کچھ ہیں، ان کی زندگی ہیں۔ اب میں خود کو اس گھر میں ایک فالتو ہستی سمجھنے لگی، کتابیں ان کی رفیق اور میری سوکن بن گئیں۔
ایک روز ہماری ساس لاہور سے ملنے آئیں۔ سفر کی تھکان سے ان کی طبیعت ناساز ہو گئی۔ آفاق دیر تک ماں کے قدموں میں بیٹھے رہے۔ میں نے بھی کافی تیمارداری کی اور اب مجھے بھوک ستانے لگی، مگر یہ اٹھنے کا نام نہ لیتے تھے۔ جب والدہ کے کمرے سے اٹھے میں جلدی سے کھانا لگوانے لگی مگر یہ اپنے مطالعے کے کمرے میں گھس گئے۔ بلانے گئی تو دیکھا کہ میز کرسی کے سامنے براجمان ہیں اور اپنے کسی مضمون کی تکمیل فرما رہے ہیں۔ پوچھا… کیا کر رہے ہیں، کھانا ٹھنڈا ہو رہا ہے، کیا کوئی اہم کام ہے؟ جواب میں ایک ضخیم کتاب اٹھا لی اور صفحے الٹنے لگے۔ بولے۔ اس میں سے کچھ اقتباس لکھنے تھے، وہی لکھ رہا ہوں۔
میں نے کتاب ان کے ہاتھ سے جھپٹ لی کہ بھوک سے بری حالت تھی۔ بعد میں لکھ لینا۔ ارے نہیں…چند سطریں لکھنی ہیں، یہ بعد کا کام نہیں ہے، ابھی پورا کرنا ہے۔
یہ سن کر میرے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ کتاب میں نے شیلف کی طرف اچھالی مگر وہ شیلف میں جانے کی بجائے ٹکرا کر فرش پر گر گئی۔ ان کو یہ حرکت بہت ناگوار گزری۔ بولے…اٹھائو اور ٹھیک جگہ پر رکھو۔ مجھے بھی غصّہ آ گیا۔ میں نے کہا نہیں رکھتی، خود اٹھا لو۔ انہوں نے تب لاچار جھک کر کتاب اٹھائی۔ تاسف سے چہرہ اتر گیا، گرنے سے کتاب کی جلد پھٹ گئی تھی۔
کتاب پھٹی ہے کوئی قیامت نہیں آئی۔ چھوڑیئے اسے اور چلیے مجھ کو بھوک لگی ہے۔ میں نے خالصتاً بیویوں والے لہجے میں حکم دیا۔
تم بڑی جاہل ہو۔ ایسا نہ سمجھتا تھا تم کو…وہ بپھر گئے۔ کیا کتابوں کو یوں پھینکتے ہیں۔ ہاں پھینکتے ہیں۔ آئندہ بھی پھینکوں گی، یہ میری سوکنیں بن گئی ہیں۔ یہ کہہ کر میز پر رکھی ایک اور کتاب کو اٹھا کر پٹخ دیا۔ ایسا کرنا بس قیامت ہو گیا۔ ان پر تو جیسے جنون طاری ہو گیا تھا۔
کتابیں، قلم دان، کاغذ، مضامین کے مسودے وہ ہر شے کو اس طرح پھینکنے لگے کہ سارا کمرا منتشر ہو گیا۔ میں ہکا بکا ان کو دیکھ رہی تھی۔ وہ بے قابو ہو چکے تھے۔ چاہتی تھی ذرا ٹھہریں تو منتشر چیزوں کو اٹھا کر رکھ دوں مگر ان کی آنکھوں سے نفرت اور غصّے کے شعلے نکلنے لگے تھے۔ مجھے لگا کہ وہ انسان نہیں کوئی اور مخلوق ہیں اور اب میں ان کا سامنا نہیں کر سکتی۔ میں خوفزدہ سی کمرے سے نکلی۔ ذرا دیر باہر رہی کہ پرسکون ہو جائیں تو سامنے جائوں۔ آدھے گھنٹے بعد دوبارہ گئی تو وہ نیم دراز مگر بہت نڈھال سے لیٹے ہوئے تھے۔ ان کے قریب کھڑی رہی پھر ڈرتے ڈرتے کہا… غصّہ تھوک دیجیے، چلیے کھانا کھا لیجیے۔
کھانا…کھانا…کھانا…کیا رٹ لگا رکھی ہے۔ تم جا کر کھا لو کھانا، مجھے بھوک نہیں ہے۔ شادی کے بعد ان کی یہ پہلی بے رخی مجھے اندر سے توڑ گئی۔ ہر لمحہ ایک ہتھوڑا بن کر لگ رہا تھا۔ وہ خاموش لیٹے تھے اور چپ کے یہ لمحے مجھ پر وار کرتے جاتے تھے۔ مزید کیا کہوں…میری ہمت جواب دے گئی۔ نڈھال سی ایک طرف اپنے بستر پر گر گئی۔ رات بھر ان کی طرف دیکھتی رہی۔ انہوں نے ایک بار بھی میری جانب نہیں دیکھا۔ آنکھیں موندے پڑے رہے حالانکہ جاگ رہے تھے۔
میری آنکھیں بھر آئیں۔ آنسو موتیوں کی طرح ڈھلکنے لگے۔ اتنی سی بات پر اس قدر غصّہ…سوچ بھی نہ سکتی تھی۔ جی چاہا چیخ کر روئوں مگر میری آواز جیسے میرے وجود میں گم ہو گئی۔ بس آنسو بہہ رہے تھے اور میں لحظہ لحظہ ٹوٹتی جا رہی تھی۔ برف کی سل کی طرح چٹختی جاتی تھی۔ لگتا تھا تھوڑی دیر باقی ہے ایک چھناکے سے بکھر جائوں گی۔
جانے کب صبح کاذب کے وقت آنکھ لگی۔ تھوڑی دیر بعد چونک کر اٹھ بیٹھی، دیکھا تو وہ کمرے میں موجود نہ تھے۔ سوچا ساس کے لیے چائے وغیرہ بنا کر دیکھتی ہوں، یہ کدھر گئے ہیں۔ اب خاموشی کا حصار توڑ ڈالوں گی کہ خاموشی کی وجہ سے مصیبت مزید سنگین ہو جاتی ہے۔ ساس کو کمرے میں ناشتہ کرانے کے بعد اپنے اور آفاق کے لیے ناشتہ میز پر لگا دیا۔ وہ نظر نہ آئے۔ شام تک بری طرح نڈھال ہو گئی جیسے میرا دماغ طوفان کی زد میں ہو۔ سانسیں اکھڑ گئی تھیں، سر چکرا رہا تھا، میں نے کل رات سے کچھ نہ کھایا تھا، ایک چائے کی پیالی کے سوا۔
شام کو وہ گھر آ گئے۔ میں سہمی سی کمرے میں بیٹھی تھی۔ سوچ کی اڑانیں جو دن بھر بھرتی رہی تھی اب ان کے پنکھ بھی کانپ رہے تھے۔ میں خلا میں ہچکولے کھانے لگی۔ تب ہی کیا دیکھتی ہوں کہ وہ کمرے میں آ گئے ہیں، لبوں پر ایک کھنچی ہوئی زہریلی لکیر ہے جس کا زہر میرے خون میں اترنے لگا۔ وہ مجھ سے بے نیاز،…اپنی کتابوں کی الماری کی طرف گئے۔ اپنے چہرے کے تنائو کو مجھ سے چھپانے کی کوشش کرتے ہوئے ان کی نظریں کمرے کی عقبی کھڑکی کی طرف تھیں۔
اچانک ہی کھڑکی سے باہر میں نے شعلے بلند ہوتے دیکھے۔ گھبرا کر اٹھی اور کھڑکی کے پاس گئی۔ ادھر کتابوں کا ڈھیر آگ کے شعلوں میں جل کر بھسم ہو رہا تھا۔ مطالعے کے کمرے کی طرف دوڑی، وہاں الماریاں کتابوں سے خالی تھیں۔ میز یا شیلف پر ایک پرزہ تک انہوں نے نہیں چھوڑا تھا۔ مجھ کو لگا جیسے میری ازدواجی زندگی کی چِتا جل رہی ہے۔
حلق سے چیخ نکلی مگر حلق میں اٹک گئی اور میں لڑکھڑا کر جہاں کھڑی تھی وہاں گر گئی۔ میرے گرنے کی آواز سن کر ملازمہ دوڑی آئی اور پھر آفاق کو خبر کی۔ اگلے دن جب آنکھ کھلی تو میں اسپتال میں تھی۔ ندامت سے بولے…مجھے معاف کر دو۔ شرمندہ ہوں، نہ جانے کیا ہو گیا تھا۔ جب گھر آئی تو ساس نے پیار سے ہاتھوں کو چوم کر کہا… دلہن خدا نے بچا لیا۔ تم امید سے تھیں۔ گرنے سے اگر کچھ ہو جاتا تو بہت نقصان ہوتا بیٹی… شاید تم کو چکر آ گیا تھا۔ ڈاکٹر نے یہی بتایا ہے آئندہ اپنا خیال رکھنا۔
ایک بات بتاتی چلوں کہ آفاق نے مجھے طلاق دینے کا ارادہ کر لیا تھا، مگر اسپتال میں چیک اَپ کے دوران جب یہ حقیقت سامنے آئی کہ میں امید سے ہوں تو انہوں نے ارادہ بدل دیا۔ گویا مجھے میرے ہونے والے بچّے نے طلاق کے صدمے سے بچا لیا تھا۔
آج یقین ہو گیا کہ مرد اپنے وسیع اختیارات استعمال کر کے کسی بھی وقت بدل سکتا ہے۔ عورت کو مرد کی محبت کا اعتبار ضرور کرنا چاہیے، مگر اندھا اعتماد نہیں کرنا چاہیے کیونکہ انسان کی محبت کو سمجھنا بہت مشکل ہے۔ (مسز اعجاز… کراچی)

Latest Posts

Related POSTS