Saturday, April 13, 2024

Mout Ka Waqt

ایک دن ایک سادہ دل آدمی حضرت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں حاضر تھا۔ اس کا چہرہ زرد تھا اور جسم پر کپکپی طاری تھی۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے پوچھا: اے بھائی! تجھے کیا ہوا؟ اس نے عرض کیا کہ یا حضرت! آج مجھ کو عزرائیل نظر آیا۔ اس نے مجھ پر ایسی غضب آلود نظر ڈالی کہ میرے ہوش و حواس گم ہو گئے۔ اب مجھے کسی کل چین نہیں پڑتا اور میرے غم کا یہی سبب ہے۔ حضرت سلیمان نے پوچھا کہ اچھا اب تو کیا چاہتا ہے ؟ اس نے عرض کیا کہ عالی جاہ! میری بس یہی التجا ہے کہ آپ ہوا کو حکم دیں کہ وہ مجھے فوراً ہندوستان میں چھوڑ آئے۔ شاید اسی طرح میری جان میں جان آئے۔ حضرت سلیمان نے اس وقت ہوا کو حکم دیا کہ اس شخص کو فی الفور ہندوستان پہنچادو۔ ہوا نے آپ کے حکم کی تعمیل کی۔ جونہی اس شخص نے سر زمین ہند پر قدم رکھا اس کی جان قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔

دوسرے دن عزرائیل حضرت سلیمان کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے اس سے پوچھا کہ تو نے اس مسلمان پر کل نگاہ غضب کیوں ڈالی تھی ؟ عزرائیل نے عرض کی: اے شاہ جہاں! مجھ کو حکم ہوا تھا کہ اس شخص کی جان ہندوستان میں فلاں وقت قبض کرلوں۔ لیکن میں اس کو یہاں دیکھ کر حیران ہو گیا۔ جب وہ آپ کی وساطت سے ہندوستان پہنچ گیا تو میں نے حکم الہی کے مطابق اس کی جان قبض کر لی۔

Latest Posts

Related POSTS