Saturday, April 13, 2024

Muhabbat Kay Chakar

ہمارے گھر کے بالکل سامنے ایک صاحب اپنے کنبے کے سمیت آباد ہوگئے تھے۔ ان کی چار لڑکیاں اور دولڑ کے تھے ۔ گھر کا سربراہ عمر رسیدہ اور ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچنے والا تھا بڑی تین بیٹیاں جواں سال جبکہ باقی بچے کم عمر تھے اور اسکول جاتے تھے۔ بڑی لڑکی کا نام دل آراء تھا ، جس نے آٹھویں کے بعد اسکول چھوڑ دیا تھا۔ اس سے بڑا ان کا بیٹا عالی، جو ایف اے پاس تھا اور صبح والد کے ساتھ کام پر چلا جاتا تھا۔ یہ دونوں رات گئے واپس آتے تھے۔ ان کی غیر موجودگی مین تینوں لڑکیاں دل آراء، مبینہ اور ساحره مکان کی چھت یا اپنے گھر کے بیرونی دروازے سے باری باری گلی میں جھانکتی نظر آتی تھیں۔ کچھ دنوں تک ان کا یہی طور رہا تو محلے کے نوجوانوں کو بھی سن گن ہو گئی اور چند دل پھینک آوارہ مزاج لڑکے ان کے مکان کے سامنے چکر لگانے لگے۔ لڑکیوں کی ماں گرچہ سیدھی سادی شریف خاتون تھی ۔ اپنی لڑکیوں کوان کے اس طرز عمل پر ٹوکتی ضرور تھی جبکہ لڑکیاں اس کو خاطر میں نہ لاتیں، اور گھر کے کام کو بھی ہاتھ نہ لگاتیں ، سوماں بیچاری سارا وقت کام میں ہی جتی رہتی تھی۔ اس کو تو سر کھجانے کی فرصت نہ ملتی۔ اتنے بڑے کنبے کا كهانا بنانا ، برتن دھونا، گھر کی دیکھ بھال اوپر سے صفائی ستھرائی غرض تمام کام ہی اس غریب نے اپنے سر لے رکھے تھے اور لڑکیاں دن بھر بیکار بیٹھی اوٹ پٹانگ رسالے پڑھتی تھیں۔ چند دنوں میں ہی چرچا ہونے لگا کہ دل آراء اور سبینہ نے محلے کے دو نوجوانوں سے شناسائی کرلی ہے اور اب یہ گھر والوں سے چوری چھپے ان سے رابطے میں ہیں۔ ان کو لڑکوں نے موبائل فون بھی دئیے تھے۔ گھر والے تو بے خبر تھے مگر لڑکوں کی زبانی یہ بات کھلی اور پھر ایک سے دوسرے کے ذریعے تمام محلے میں ان کی باتیں پھیلنے لگیں۔ لڑکیوں کا باپ جن کو محلے دار صوفی صاحب بلاتے تھے ، وہ بیچارا صوم و صلوٰة کا پابند اور نہایت نیک انسان تھا دوگنی محنت مشقت کرکے کنبے کا خرچہ بمشکل پورا کرپاتا تھا۔ اس نے خود پر زندگی کا ہر عیش و آرام حرام کرلیا تھا تاکہ اس کے بچے پڑھ لکھ جائیں اور معاشرے میں عزت کا مقام پائیں ۔ غریب آدمی کے پاس سوائے عزت کے اور ہوتا بھی کیا ہے ۔ چاچا صوفی غریب کو کیا خبر کہ جس عزت کی خاطر وہ اس بڑھا پے میں اپنی جان گهلا رہا ہے، اس کو اس کی بیٹیاں بے دردی سے خاک میں ملائے دے رہی ہیں۔ وہ اب محلے کے اوباشوں سے تحفوں اور موبائل فون کی خاطر پینگیں بڑھا چکی تھیں ۔ میں محلے کی لڑکیوں سے ان کے بارے طرح طرح کی اسٹوریاں سنتی تھی۔ ان لڑکیوں کو ہمارے یہاں آنے کی یوں بھی اجازت تھی کہ میری والدہ شام کو جب فارغ ہوتیں ایک دو گھنٹے ان بچیوں کو قرآن مجید پڑھاتیں اور سپاره بهی یاد کراتی تھیں ۔ یوں میرا باہر کی دنیا سے رابطہ رہتا تھا وگرنہ مجھ کو تو گھر سے باہر جائے یا محلے کے گھروں میںپھرنے کی قطعی اجازت نہ تھی۔ انسان کی فطرت ہے کہ جو معاملات مخفی ہوں ، ان کی ٹوہ میں رہتا ہے۔ میں صوفی صاحب کے گھر نہیں جاتی تھی لیکن ان کی لڑکیوں کو چھت پر چڑھا دیکھتی تھی۔ صحن میں جب بیٹھی ہوتی انہیں چھت کی منڈیر سے گلی میں جھانکتا پاتی۔ لگتا تھا   کہ سوائے تاک جھانک کے ان کو کوئی دوسرا کام نہیں ہے۔

یہ معاملہ چھ ماہ ہی چلا ہوگا کہ ان لڑکوں کو پولیس پکڑ کر لے گئی۔ سنا کہ انہوں نے محلے کی ایک دوکان سے موبائل چوری کئے تھے۔ اس ڈرامے کی بازگشت ابھی گونج رہی تھی کہ پڑوسیوں نے دیکھا، محلے کے ایک سبزی فروش کا لڑکا چاچا صوفی کے گھر کے سامنے چکر لگاتا نظر آتا ہے۔ میرے چھوٹے بھائی قمر نے بتایا۔ باجی بہرام چاچا صوفی کے گھر میں سبزی پھل فروٹ دینے آتا ہے، کچھ اور بھی خوردونوش کا سامان چاچا کی بیٹیاں اس سے منگواتی تھیں جب یہ سامان بہرام کے ذریعے تواتر سے دل آراء کے گھر سپلائی ہونے لگا تو لوگوں کے پھر سے کان کھڑے ہوگئے۔ اب ایک نہیں دو لڑکے ہمہ وقت ان کے گھر کے سامنے منڈلاتے نظر آتے۔ اس معاملے کو بھی سمجھنے میں دیر نہ لگی ، محلے والوں نے دانتوں میں انگلیاں داب لیں۔ صوفی صاحب کی شرافت کے سبب ابھی تک سبھی خاموش تماشائی بنے ہوئے تھے۔ کسی نے نہ تو کوئی نازیبابات ان لڑکیوں کے بارے کہی اور نہ صوفی صاحب کو ہی شکایت کر کے شرمندہ کیا۔ وہ چاہتے تھے، اپنے طور پر ان لڑکوں کو ہی سمجھا بجھا کر اس معاملے کو ختم کرا دیں۔ ہوا بھی ایسا ہی کہ دوتین معزز محلے دار سبزی فروش کے پاس گئے اور اس کو، اس کے لڑکے کے کرتوت سے آگاہ کیا کہ میاں تم کدھر رہتے ہو؟ اگر ایسے ہی معاملہ چلتا رہا تیری تو دکان بیٹھ جائے گی۔ بیچاره سبزی فروش یہ سن کر بوکھلا گیا۔ اسے علم ہی نہ تھا کہ اس کا لڑکا دکان کا مال اس بے دردی لٹا رہا ہے ۔ دوپہر کو جب وہ کھانا کھانے گھر جاتا، تو بہرام باپ کو دکان پر موجود نہ پاکر ہاتھ سیدھا کرلیتا۔ یوں تین ماہ بعد ہی یہ سلسلہ بھی ختم ہوا کیونکہ سبزی والے نے اپنے لڑکے کی خوب پٹائی کی اور اسے اس کے ماموں کے گاؤں بھجوا دیا۔ یہ قصہ بھی تمام ہوا، مگر جہاں دل آراء اور سبینہ سے ایسی چهو کریاں ہوں ، وہاں روز نت نئے قصے جنم لیتے ہی رہتے ہیں۔

انہوں نے اس کے بعد اگلے محلے میں قائم ایک سلائی سینٹر میں داخلہ لے لیا۔ دوماہ بھی نہ گزرے تھے کہ پتا چلا کہ پرانے لڑکوں کی چھٹی بو چکی ، ان کی جگہ نئے لڑکوں نے لے لی ہے کیونکہ یہ دوسرا محلہ مالی طور پر زیادہ خوشحال تھا۔ اب تمام خدمات یہ نئے پر ستار پوری کر رہے تھے ، پھل فروٹ خورد و نوش سے بھرے لفافے، ان کے ساتھ مہکتے ہوئے محبت نامے ، مراسلات کی ترسیل کا کام انہوںنے چھوٹی بہنوں کے سپرد کردیا کیونکہ موبائل چوری کے تھے ، لہذا ان کو انہوں نے نجانے کدھر غارت کردیاتھا جس محلے میں یہ بہنیں سلائی کڑھائی سیکھنے جاتی تھیں ، وہاں قریب ہی ایک مکان کرایے پر لگا ہوا تھا، جس میں دوسرے شہر یا قریبی گاؤں سے آئے لڑکے بہ غرض تعلیم رہتے تھے ، کیونکہ وہاں کالج نہ تھے، لہذا ان کو پڑھائی کے لئے یہاں داخلہ لینا پڑا تھا۔ جس مکان میں میرے بھائی کا دوست ستار رہتا تھا ، وہاں اس کے ساتھ چھ اور بهی نوجوان قیام پذیر تھے۔ یہ سب دوسرے علاقوں سے آئے ہوئے تھے ۔ ان میں سے تین طالب علم اور بقیہ تین ملازمت کی خاطر اس شہر میں رہ رہے تھے۔ اکٹھے رہنے سے وہ کرایے کی رقم تقسیم کر لیتے تھے، اس طرح ہر ایک کے حصے میں کم کرایہ پڑتا تھا۔ اسی طرح صفائی والے کو بھی مل جل کر تنخواہ دیتے تھے۔ یہ سب ہی متوسط طبقے سے تھے ۔ ستار نے میرے بھائی کو بتایا کہ اس کے ساتھیوں میں سے بھی کچھ ان لڑکیوں کی دوستی کے تمنائی تھے۔ اکثر دفتر سے آکر مکان کی چھت پر کسی بہانے چلے جاتے پھر ان لڑکیوں سے اشارے کنائے سے اپنی دلی ضرورت کا اظہار کرتے تھے۔ ان کو کافی دنوں   کی محنت کا ثمر ملا اور نظر التفات ادھر بھی ہوگئی۔ ان دونوں کو بھی دلی مراد حاصل ہوئی اور اب ان کی محبت پران چڑھنے لگی۔ ادھر سے بھی باقاعدگی سے جوابات بھیجے جانے لگے۔ ان لڑکیوں کی ڈیمانڈ تھی کہ ہمیں موبائل لے کر دو تا کہ رابطے ہو سکیں جبکہ طالب علموں کی جیپ اس کی اجازت نہ دیتی تهى، لهذا، خطوط ومراسلات سے فی الحال کام چلایا جارہا تھا۔ ان میں سے ایک لڑکا اپنے جذبات کا اظہار خوبصورت پیرائے میںنہیں کرسکتا تھا، لہٰذا یہ کام اس نے ستار کے سپرد کر دیا تھا۔ جو جواب آتا وه ستار کے ساتھ میرا بھائی بھی پڑھتا جواب بھی ستار کے قلم سے تحریر ہوتے تھے ۔ خطوط کے ساتھ ساتھ ادھر سے کچھ نذرانہ بھی روانہ کیا جاتا تھا . نذرانے کی وصولی کے بعد لڑکیوں کے خطوط میں بہت تعریفی کلمات ہوتے تھے اور لکھا ہوتا تھا کہ ہمارے دل کی تمنا پوری ہو گئی ہے، ہمیں ہمارے خوابوں کے شہزادے مل گئے ہیں ، اب ساری زندگی ساتھ نبھائیں گے ۔یہ سلسلہ بھی چند ماه چلا ۔ اس دوران ستار کے ذریعے ان لڑکیوں کی سلام ودعا میرے بھائی سے بھی ہو گئی۔ اس کے بعد دوسرے محلے کے چند اور نوجوان بھی اس سلسلے سے آگاہ ہوگئے تو بات چارسو پھیل گئی کہ یہ لڑکیاں صرف لوگوں کو لوٹنے کے لئے محبت کا ڈھونگ رچاتی ہیں اور غرض صرف تحفے اور کھانے پینے کی اشیا حاصل کرنے تک ہی محدود ہے جب یہ لڑکے ان کی فرمائشیں پورا کرنے سے قاصر رہتے ، تو یہ ان کو ٹھکرا کر کسی اور طرف مائل ہوجاتی تھیں۔

ان حقائق کو جاننے کے باجود منچلے نوجوان کسی کی نصیحت پر کان نہ دھرتے اور ان   کی محبت والفت میں گرفتار ہوجاتے۔ بھائی کا ایک ساتھی بھی ایک سال تک ساحرہ کی الفت کے چکر میں پھنسا رہا ، اپنی فیس کی رقم سے اسے تحفے لے کر دینے لگا ، تبھی کالج سے نام خارج ہو گیا۔ اگر ستار اور بھائی اس لڑکے کی بر وقت مدد نہ کرتے تو وہ امتحان دینے سے بھی رہ جاتا اور واپس گاؤں جانا پڑتا۔ دل آراء نے بہ یک وقت دولڑکوں سے دوستی کر رکھی تھی اور دونوں سے فرمائشی تحفے لیتی تھی۔ پہلے تو ان دونوں نے ایک دوسرے سے اس معاملے کو خفیہ رکھا۔ آخر بات عیاں ہو گئی تو دونوں کو صدمہ ہوا یہ دونوں روم میٹ بھی تھے۔ اب انہوں نے آپس میں صلاح و مشورہ کیا کہ ایسی چلتی پھرتی لڑکیوں کا کیا کرنا چاہیے ؟ کیا ان کو سبق نہ سکھانا چاہیے ، جو ہر کسی کو بے وقوف بناکر اپنا الو سیدھا کرتی ہیں۔ ایک دن ان لڑکوں نے اپنے باقی ساتھیوں کو بھی راز میں شامل کیا اور سب سے صلاح و مشورہ کیا کہ یہ لڑکیاں کب سے ہم کو بے وقوف بنا رہی ہیں تو کیوں نہ ہم بھی دانش مندی سے کام لیں اور ان کو سبق سکھائیں تاکہ ان کو دوبارہ اس محلے کے کسی نوجوان کو بے وقوف بنانے کی ہمت ہی نہ ہو۔ ابھی یہ منصوبہ بناہی رہے تھے کہ ایک دن اچانک ساحرہ کی چھوٹی بہن ان لڑکوں کے مکان میں گئی۔ اس وقت ستار وہاں اکیلا تھا۔ اس نے ایک پرچہ اس کو پکڑا دیا لکها تها صرف پچاس روپے دے دیجئے۔ بہت سخت ضرورت ہے۔ مہربانی ہوگی، کل واپس کردوں گی۔ ستار نے رقم کو معمولی سمجھتے ہوئے پیسے دے دئیے اور سوچنے لگا کہ چڑیا خود دام میں آگئی ۔ اب تک دوسروں پر التفات تھا ، اب مجھ پر بھی ہوگیا ہے۔ رقم دئیے ہوئے اسے تھوڑی دیر گزری تھی کہ ایک پرچہ اور آگیا۔ رقم کے لئے شکریہ تحریرتها- لكهاتها،

ہوسکے تو کوئی سستا سا فون ہی گفٹ کردیں، آپ سے باتیں کرنے کو بہت جی چاہتا ہے۔ اس کے ساتھ چند جواب طلب امور بهی تحریر تھے ۔ ستار نے اس رقعہ کا جواب محبت بھرے الفاظ میں لکھ کر بھجوا دیا۔ یہ بھی لکھا کہ جس لڑکے کو پہلے آپ خط لکھتی تھیں  اسے تو ایک حرف پیار بهرا لکھنا نہیں آتا۔ تمام خطوط میں ہی اس کی طرف سے لکھ کر بھجواتا تھا۔ ویسے بھی وہ بیچارا ایک غریب کسان کا بیٹا ہے ، جبکہ میری جیب اجازت دیتی ہے کہ آپ کی مہنگی فرمائشیں پوری کردوں۔ تو کہیے ، کیا خیال ہے ؟ بتادو کہ کون سا موبائل فون خرید کر بھجواوں؟ دوسرے روز سبینہ نے پھر ایک لیٹر بھجوایا ، جس میں ستار کی تعریف کے ساته فوراً دوستی کا ہاتھ فراغ دلی سے بڑھانے کی پیش کش درج تھی۔ اس خط میں بھی ایک عدد موبائل کی فوری فرمائش تھی ، جو ستار نے نیا خرید کر اسے بھجوا دیا۔ بس پھر کیا تھا، سلسلہ پکا ہوگیا۔ اس کی باتوں سے ظاہر ہوتاتھا کہ ستار کے سوا اسے آج تک کوئی معیاری اور من پسند چاہنے والا پہلے کبھی ملا ہی نہ تھا۔ وہ اسے اور موبائل فون دونوں کو پاکر بے حد مسرور تھی۔ ادھر یہ سلسلہ چل رہا تھا ادھر وہ یہ ساری سرگزشت اپنے اس دوست کو سنارہا تھا ، جو پولیس انسپکٹر تھا۔ اسی نے کہا کہ ان آوارہ لڑکیوں کو ایسا مزہ چکهانا چاہیے کہ عمر بھر اپنی خواہشات کی غلامی سے تائب ہوجائیں اور محبت کے جھوٹے کھیل نہ رچا پائیں۔ ایک روز ستار نے اصرار کرکے دل آراء اور سبینہ کو شام میں کمپنی باغ میں بلوایا وہ گھر سے سہیلی کی منگنی کا بہانہ کرکے خوب بن ٹھن کر آئی تھیں۔ ستار اور اس کا دوست باغ میں ٹہل کر ان کا انتظار کر رہے تھے۔ دونوں بہنیں آگئیں تو یہ دونوں ان کو تنہا تنہا، ایک طرف لے جاکر بیٹھ گئے شام گہری ہوتی ہوئی رات میں تبدیل ہوتی جاتی تھی اور دل آراء اور سبینہ کی بے چینی بھی بڑھتی جاتی تھی کہ ان کے والد اور بڑے بھائی کے گھر آنے کا وقت ہوگیا تھا مگر ستار اور اس کا دوست تھے کہ اٹھنے کا نام نہ لے رہے تھے بلکہ ان کو زیادہ مہنگے اور اچھے موبائل فون دینے کے سبز باغ دکھا رہے تھے یونہی ان لڑکیوں سے ٹال مٹول کرتے دونوں نے رات کے نو بجا دئیے ۔ تب وہ اٹھ کھڑی ہوئیں کہ اب بھی گھر نہ گئیں تو ابا اور بھائی کی مار پڑ جائے گی۔ اسی وقت اچانک چند پولیس والے جھاڑیوں سے نکلے اور دونوں بہنوں کو ساتھ لے چلے۔ ساتھ ان کے ستار کا انسپکٹر دوست بهی تها جواس منصوبے میں شریک تھا۔

دل آراء اور سبینہ پر الزام تھا کہ یہ رات کے وقت دو نوجوانوں سے غلط حرکات کرتے ہوئے پکڑی گئی ہیں۔ دونوں لڑکیوں کا رورو کر برا حال تھا لیکن انسپکٹر کسی طور ان کو چھوڑنے پر راضی نہ تھا۔ اس کا ایک ہی مطالبہ تھا کہ یا توہم سب کو خوش کردو یا پھر بدنامی کے لئے تیار ہوجاؤ۔ ان کا خیال غلط نکلا دونوں لڑکیاں کسی طور پر کسی غلط کام کے لئے راضی نہ ہوئیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ محلے بھر میں اس واقعہ سے بہت زیادہ بدنام ہوگئیں، اتنی زیادہ کہ ان کو محلے والوں نے نکال دیا۔ اس کے بعد ان کا رشتہ بھی کہیں نہ ہوسکا ضرور انہوں نے اس محبت کے جھوٹے چکروں سے توبہ کرلی ہوگی مگر ان نوجوانوں کی اس مذموم حرکت کے سبب بے چارے ماں باپ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہے تھے۔ گرچہ یہ نادان صرف ان لڑکیوں کو سبق پڑھانا چاہتے تھے، لیکن محلے کے اچھی سوچ رکھنے والوں کو ہمیشہ اس بات کا ملال رہا کہ ان بچیوں کا باپ تو نہایت شریف اور باعزت آدمی تھا ، جو حلال کی روزی اپنے بچوں کو کھلارہا تھا اور کبھی کسی سے رشوت نہ لیتا تھا، جس سبب اس کے گھر میں اکثر فاقے رہتے تھے اور لڑکیاں بھی شاید اسی وجہ سے برائی کی جانب مائل ہوئی تھیں کہ وہ اپنی چھوٹی چھوٹی خواہشات کو دباتے دباتے بے حال ہوگئی تھیں۔ بیٹیوں کے کرتوتوں کا علم باپ اور بھائی کو تو قطعی نہ تھا۔ ممکن ہے ماں کو کچھ علم ہو لیکن اس کے روکنے سے یہ نہ رکتی تھیں، تبھی ان کا یہ انجام ہوا کہ اتنی بدنامی ہوگئی۔ اس صدمے سے بیچارا باپ ہفتہ کے اندر اندر بارٹ اٹیک سے چل بسا۔ میں آج بھی ستار اور اس کے انسپکٹر دوست ہی کو چاچا صوفی صاحب کا قاتل سمجھتی ہوں اور دعا کرتی ہوں کہ خدا ان جیسے شریف باپوں کو ایسی بیٹیاں نہ دے ، اس سے تو بے اولاد رہ جانا بھلا ہے۔

Latest Posts

Related POSTS