Tuesday, October 3, 2023

Muhabbat kay Rishte

کوئی چوتھی بار آ کر فاطمہ نے کھڑکی سے باہر جھانکا تھا, اس مرتبہ بھی بالکل ویسا ہی منظر تھا جیسا پہلے تھا, ہاں البتہ سامنے کے دو گھر چھوڑ کر تیسرے گھر کے اگے رش لگا دیکھ کر اسے تجسس ہوا, یا اللہ اب ادھر کیا ہو رہا ہے- دیکھوں تو, اور کرسی گھسیٹ کر دیکھنے کو کھڑی ہو گئی, درمیان میں ڈھیروں ساگ پھیلائے وہ سب ارد گرد گھیرا ڈالے بیٹھی تھی – کچھ انہوں نے پالک اور ساگ کے گٹھے بنا رکھے تھے اور دوسری انہیں کاٹتی جا رہی تھیں – اپس میں ایک دوسرے کے ساتھ ہنسی مذاق اور خوشگپیوں میں مصروف  عورتیں اسے ذرا اچھی نہ لگیں  دیکھتے ہی دیکھتے چند منٹوں میں ساگ اور پالک کٹ گئی, تو نہ جانے وہ کتنی دیر ان کی بے فکری اور فارغ البالی پر کڑھتی رہی اگر اس کا چھ ماہ کا چھوٹا بچہ علی اٹھ کے رونے نہیں لگ جاتا – فاطمہ کا میکا اور سسرال دوسرے شہر میں تھے اور وہ خود بھی وہاں اپنے سسرال میں ہی رہ رہی تھی- سرمد کی جاب چونکہ ادھر تھی, اپنے ایک دوست کے ساتھ روم شیئر کر کے رہتا تھا, اور ہر ویک اینڈ پر گھر چلا جاتا- ابھی ایک ماہ پہلے ہی اس محلے میں گھر کرائے پر لے کر فاطمہ اور بچوں کو لے کر آ گیا تھا- علی سے بڑے تین سالہ امن کو بھی ادھر آ کر ہی سکول داخل کروایا تھا- گرچہ ابھی ان کے محلے میں کسی سے جان پہچان تو نہ تھی پھر بھی چند دنوں میں فاطمہ یہاں کی عورتوں اور بچوں سے اچھی خاصی بیزار ہو گئی- وجہ ہی کچھ ایسی تھی ,عورتیں دن چڑھے جو دھوپ سینکنے کو گھروں سے باہر نکلتی تو ساری دوپہر گلی میں ہی گزار دیتی- اپس میں خوشگپیاں کرتی سلائی سے لے کر سبزی کاٹنے اور مصالحہ پیسنے تک ان کے سارے کام گھر کے باہر گلی میں ہی انجام پاتے, جیسے ہی بچوں کے گھر واپس انے کا ٹائم ہوتا اندر چلی جاتی- اور پھر بچے شام کو سکول سے آ کر جب کھیلتے, تو خوب ہنگامہ رہتا ,جس سے فاطمہ کو خوب کوفت ہوتی ,ایک دن فاطمہ دوپہر میں بچوں کو سلانے جو لیٹی تو ساتھ میں اس کی خود بھی انکھ لگ گئی, ابھی چند ہی منٹ گزرے ہوں گے کہ باہر کی بیل سے اس کی انکھ کھل گئی ,ایسا لگتا تھا کوئی بیل پر ہاتھ رکھ کر اٹھانا بھول گیا ہے- خدایا خیر,   لگتا ہے کوئی افت آگئی ہے, اس نے بھاگ کر دروازہ کھلا تو سامنے ایک مسکین صورت محلے کا بچہ کھڑا تھا, اور اسے دیکھتے ہی سلام کرنے لگا ,کیا مسئلہ ہے- کیوں اس طرح سے بیل دے رہے ہو, بچوں کی اس حرکت پر اسے بے پناہ غصہ آیا, پھر سلام کا جواب کہاں دینا تھا بلکہ اکھڑے ہوئے لہجے میں بولی, بھاگ جاؤ یہاں سے, کسی کو کوئی بال نہیں ملے گا – اور اگر دوبارہ بال کے لیے بیل بجائی تو تمہاری پٹائی لگا دوں گی- اور خبردار اپنے گھر کے اگے کھیلو کسی نے آئندہ میری بیل بجائی تو بہت بری طرح پیش آؤں گی- سوری انٹی اپ ہمیں آج بال دے دیں دوبارہ آپ ہماری بال آئے بھی تو واپس نہ کیجئے گا- بچے منتیں کرتے رہے مگر وہ الٹا غصے میں انگارہ بنی اندر آگئی- وہ تو شکر ہے کہ امن اور علی ابھی تک گہری نیند سو رہے تھے, ورنہ شور سے اٹھتے تو امن کچی نیند سے جاگ جاتا تو فاطمہ کے لیے اسے چپ کروانا مشکل ہو جاتا – شام تک جا کر اس کا غصہ ٹھنڈا ہوا وہ بھی سرمد کے افس آنے کا ٹائم ہو چلا تھا تو اسے اپنا منہ ٹھیک کرنا پڑا ,یار کیا ہی مودب اور اچھے بچے ہیں, اس محلے کے- مجھے دیکھ کر فورا سلام کرتے ہیں- اتنی احترام سے پیش اتے ہیں, سچ میں میں تو حیران ہوتا ہوں, کہ اج کل کے زمانے میں جب انٹرنیٹ کے سوا کسی اور سے واسطہ بچے رکھنا ہی نہیں چاہتے, تو یہ کس قدر تہذیب یافتہ ہیں ,رات کا کھانا کھا کر بچوں سے کھیلتے ہوئے سرمد اسے بتا رہا تھا- لیکن برتن سمیٹ کر کچن میں جاتے ہوئے فاطمہ کو تو گویا بریک لگ گئی- چھوڑیں سرمد اپ بھی کن بچوں سے متاثر ہو رہے ہیں, جو سکول سے انے کے بعد سارا وقت باہر کھیلتے رہتے ہیں- خدا کی پناہ نہ ان کی ماؤں نے منع کرنا ہے ,خود گھروں میں ارام کرتی ہیں اور انہیں باہر نکال دیتی ہیں- چاہے یہ دوسروں کا جینا حرام کر رکھیں- بچوں کی تعریف کر کے سرمد نے گویا اس کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا تھا- تبھی اس نے دل کی بھڑاس نکالی- خیریت کوئی بات ہوئی ہے کیا, اتنا غصہ کیوں کر رہی ہو- سرمد کو اس نے ساری بات بتا دی- جس پر وہ کہنے لگا کہ فاطمہ تم بھی حد کرتی ہو- بچوں سے کیا مقابلہ, گیند دے دینی تھی, یوں ڈانٹ کر تم نے اچھا نہیں کیا- ہاں جیسے مجھے تو کوئی کام نہیں کہ میں ہر وقت بیل کے جواب میں بھاگتی رہوں, ان بدتمیز بچوں کو بال مل بھی جاتی تو انہوں نے چین نہیں لینے دینا تھا -لیکن دیکھو کل جب تمہارے بچے بھی اسی طرح کھیلیں گے تو کیا گلی کے باقی بچوں کی طرح تم انہیں بھی بال واپس نہیں کرو گی -جس پر وہ اچھل پڑی اور کہنے لگی ہائے سرمد یہ اپ کیا کہہ رہے ہیں ,اللہ نہ کرے , اتنے گندے ماحول میں کبھی بھی بھیجوں گی نہیں مجھے انہیں خراب کروانے کا کوئی شوق نہیں ,جس پر سرمد نے خاموش ہونے میں ہی عافیت جانی-

کیا بتاؤں اپ کو, سرمد نے اتنے عجیب سے علاقے میں گھر لیا ہے- جہاں کی عورتیں اور بچے گھر میں کم ہی ٹکتے ہیں- ہر وقت گلی میں رہتے ہیں- وہ پچھلے 20 منٹ سے مسلسل امی سے باتیں کر رہی تھی -اور موضوع گفتگو محلے کی عورتیں اور بچے ہی تھے -کس کے گھر کون آیا ہے کون گیا ہے ذرا بھی چھپا نہیں رہتا- ہر کوئی لفافے کے اندر پڑی تک چیز کو  بھانپ لیتا ہے- ہر وقت ماؤں اور بچوں نے تماشہ لگایا ہوتا ہے, امی اسے بار بار محلے میں سے کسی سے کوئی رابطہ نہ رکھنے کی تاکید کر رہی تھی- چھوڑو بیٹا تم نے کیا لینا دینا ہے- ان عورتوں سے تم بس اپنے بچوں پر توجہ دو اور کسی سے میل جوڑ بڑھانے کی ضرورت نہیں- امی توبہ کریں مجھے تو کوئی شوق نہیں, اللہ کا شکر ہے کہ میں بہت خوش ہوں اور اپنے گھر میں اتنی مصروف ہوں, کیونکہ مجھے کسی کے گھر جا کر دیکھنے کی ضرورت ہی نہیں کہ کون کیا کر رہا ہے- میں تو بس محلے میں نکلو اور کوئی سلام کرے تو میں تو جواب دیے بغیر ہی اگے چل پڑتی ہوں اس لیے کہ میں ان کے ساتھ کوئی تعلق ہی نہیں رکھنا چاہتی- امی کو خوب سنا کر اس کا دل ہلکا ہو گیا- تو اس کے بعد اس نے فون بند کر دیا -اج فاطمہ کی دوست فائزہ آئی ہوئی تھی اتنی مدت کے بعد جب  ملی تو بہت اچھا لگا- بچپن سے لے کر جوانی, شادی تک تمام ہی قصے ایک دوسرے نے سب بچوں کو بھی سنا ڈالے- اور فاطمہ نے تو نہ جانے کتنے کھانے بنا کر اپنی سہیلی کی خدمت مدارت کی- سچ  بہت اچھا لگا وعدہ کرو کہ تم بھی میرے گھر جلدی اؤ گی ,اور اسے رخصت ہوتے ہوئے اپنے گھر آنے کی دعوت بھی دے دی ,فاطمہ بس ایک بات کہوں تمہارا علاقہ اور محلے کا ماحول بڑا عجیب سا ہے ,یہاں لوگ بڑے بیکورڈ ہیں- مجھے لگتا ہے کہ تمہیں کسی اچھے جگہ پر گھر لینا چاہیے- خدا کی قسم میرے علاقے میں اتنے خوبصورت مکان ہیں تم جلدی وہاں شفٹ ہو جاؤ- پھر ایک پاس رہیں گے تو کوئی مسئلہ بھی نہیں ہوگا -ہاں تم ٹھیک کہہ رہی ہو میں بہت جلد اب اس علاقے سے جان چھڑا لوں گی فاطمہ کی سہیلی کہنے لگی ,ہماری سوسائٹی میں تو یہ حال ہے کہ جنازہ چلا بھی جائے تو کوئی جا کر خبر نہیں لیتا وہ اپنی سوسائٹی کی خوبیاں بتا رہی تھی کہ وہاں کتنی سیکیورٹی ہے اور وہاں پر کوئی کسی کو تنگ نہیں کرتا, ہر کوئی اپنی اپنی زندگی میں مگن رہتا ہے, بس ٹھیک ہے تم  بھائی کو منا لو- فاطمہ اس طرح  میری سوسائٹی میں آ جاؤ گی تو ہم دونوں فرینڈز ہر وقت ایک ساتھ  رہیں گی- چھٹی کا دن محلے میں خوب ہنگامہ لے کر اترتا تھا-

آج بھی ان منحوسوں نے ارد گرد کے محلے والوں کو دعوت عام دیکھ رہے دے رکھی تھی- تب ہی اس قدر باہر شور مچا ہوا تھا- سرمد سو کر اٹھا تھا بچے اپنے کھلونوں میں مصروف تھے -جبکہ علی واکر میں بیٹھا باہر اٹھتے شور سے خوش ہو کر تالیاں بجا رہا تھا- سرمد بیٹے کی طرف متوجہ ہوا اور کہنے لگا اپ بہت خوش ہیں- چلو اچھا ہے کہ میں اپ کو باہر بچوں کے ساتھ کھلا کر لاتا ہوں ,لیکن یہ سننا تھا کہ فاطمہ کو تو پتنگے لگ گئے ,اس نے کہا کہ ایسا ہرگز نہیں ہوگا , اپ ان بچوں کے ساتھ میرے بچوں کو کھلائیں گے, اس قدر فضول  لوگ ہیں- یہ لوگ میرے بچوں کے ساتھ کھیلنے کے قابل نہیں- سرمد کو بہت افسوس ہوا اس نے کہا کہ جب سے تم اس محلے میں آئی ہو ,ہر وقت اس کی برائیاں کرتی رہتی ہو ,جس پر وہ فورا بولی ہاں میں چاہتی ہوں کہ ہم کسی سوسائٹی میں موو ہو جائیں- اور اس بیک ورڈ محلے کو چھوڑ دیں- جس پر اس نے کہا کہ یہ بات اب دوبارہ زبان پر مت لانا فاطمہ-  وہ تو خواب سجائے بیٹھی تھی کہ بہت جلد وہ اپنی سہیلی  کی سوسائٹی میں موو ہو جائے گی- جہاں پر ہر طرف سکون اور امن اور چین ہوگا- کیونکہ سرمد اسے صاف صاف بتاتا ہے کہ ایک سال کا ایگریمنٹ ہے اور جتنا ایڈوانس میں نے اس گھر کے لیے بھر دیا ہے- اس گھر کو خوبصورت طریقے سے ڈیزائن کرنے اور تمہاری خواہش کے مطابق فرنیچر ڈالنے میں میری ساری سیونگ لگ گئی ہیں -اب ممکن نہیں کہ میں اس گھر کو ایک سال سے پہلے چھوڑ سکوں, جس پر فاطمہ جواب میں کہتی ہے کہ میرا گزارا اس  میں بہت مشکل ہے -اپ مجھے واپس امی کے پاس بھجوا دیں- کم از کم  سکون تو ہوگا- سرمد یہ بات سن کر اتنا دل برداشتہ ہوا کہ گھر سے باہر نکل جاتا ہے, بچے گھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آئیں انکل ہم اپ کے ساتھ  کھیلتے ہیں- کرکٹ کا تو اسے ویسے ہی جنون تھا ,خوب دو گھنٹے بچوں کے ساتھ کرکٹ کھیل کر اس کا موڈ بحال ہو گیا- لیکن اندر فاطمہ جلتی رہی گھر واپس آیا تو اس کا موڈ اچھا تھا- سچ مزہ آ گیا بچوں کے ساتھ کرکٹ کھیلی, ورنہ گھر سے افس اور افس سے گھر کے چکر میں بندے کو اور کچھ سوجھتا ہی نہیں ,اور جسم کا الگ بیڑا غرق ہو جاتا ہے- کچھ گھنٹے پہلے والی ناراضگی کو بھلا کر فاطمہ سے ایسے بات کر رہا تھا کہ جیسے کبھی کچھ ہوا ہی نہیں- اب تو سرمد نے ہر اتوار کو معمول بنا لیا کہ وہ بچوں کے ساتھ کرکٹ کھیلنا نہ بھولتا- اگر کسی وجہ سے وہ نہ جاتا تو بچے بلانے آ جاتے- فاطمہ اتنا ہی احتجاج کرتی لیکن وہ ہر بات ان سنی کر دیتا اس روز سرمد کو افس کے کام سے باہر جانا تھا -وہ تو صبح   سویرے نکل گیا -علی کو گھر میں بخار نے ان گھیرا- دوائی دی لیکن پھر بھی وہ چڑچڑا اور بے چین تھا, گھر کا کام بھی وہ نہ کر سکی اور پھر اسے اٹھائے اٹھائے پھرتی رہی- امن سکول سے گھر ایا تو فاطمہ نے اسے کھانا کھلایا اور سلانا چاہا- اور کچھ اس کو سلاتے سلاتے تھکن سے سو گئی- اج امن کا سونے کا دل نہ تھا ماں کو اور سوتے دیکھ کر وہ بیڈ سے اترا اور کمرے سے باہر نکل گیا- کچھ دیر تو ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر اپنے پرانے کھلونوں اور کاروں سے کھیلتا رہا ,اب اس کا رخ کچن کی طرف تھا- چولہے کے پاس رکھی ماچس  دیکھ کر اسے بہت خوشی ہوئی –  جسے فاطمہ اج کیبنٹ پہ رکھنا بھول گئی تھی- ماچس پکڑے وہ ساتھ والے کمرے میں گھس گیا اور پردے کے پیچھے چھپ کر بیٹھ کر لگا جلانے ایک ایک کر کے ساری تیلیاں – ہونا کیا تھا ایک  پردے پر جاگری جیسے ہی اس نے اگ پکڑی وہ خوفزدہ ہو کر بھاگا -اور ماں کی ڈانٹ سے بچنے کے لیے چھپنے کی جگہ تلاش کرنے لگا- اؤٹ …  اسی وقت باہر گلی میں شور اٹھا تھا – فیضان کی گیند پر حارث نے چھکا مارنے کی کوشش  کی- جو زوردار ہٹ ماری تھی تو گیند سیدھا جا کر فاطمہ کی چھت پر گری تھی- اب کھیل کے رول کے مطابق نہ صرف اؤٹ ہو چکا تھا- بلکہ اسے چھت پر  جا کر گیند اٹھانا تھی ویسے بھی تو فاطمہ نے انہیں گیند دینا نہیں تھی- اس لیے بچوں نے یہ رول بنا رکھا تھا -چلو  یار جلدی کرو بال لاؤ جا کر ہمیں گیم ختم کرنی ہے- ویسے بھی اکیڈمی کا ٹائم ہونے والا ہے- حارث کسے طرح کھڑکیوں سے لٹکتا اور گرلوں کو پکڑتا چھت پر پہنچا جوں ہی گیند اٹھانے کو جھکا – نیچے سے جلنے کی بو ائی, وہ تھوڑا سا اگے ہو کر دیکھنے لگا ,نیچے گلی کے ساتھ کمرے کی کھڑکی سے دھواں باہر کو آ رہا تھا – وہ گھبرا کر بچوں کی طرف ایا – باہر گلی میں جو کہ بال کے لانے کا انتظار کر رہے تھے- عمر فراز حسن لگتا ہے سرمد بھائی کے گھر اگ لگی ہوئی ہے – کھڑکی سے دھواں نکل رہا ہے – پتہ نہیں ہے انٹی کہاں ہے- جاؤ اپنے گھروں سے پانی لاؤ – اور عمر تم جلدی سے بیل کر کے انٹی کو بتاؤ- میں نیچے اتا ہوں ,حارث کے اتنا کہنے کی دیر تھی کہ گلی میں ایک دم کرسناٹا چھا گیا – بچے دوڑے کوئی ڈول پکڑ کر لایا, اور کوئی پانی کا کین-

لیکن اگ لگی   کیسے اسے یہ سمجھ میں نہ ایا- پھر اس نے اندر کی طرف دوڑ لگائی علی کو بغل میں دبائے ,وہ امن کو ڈھونڈ رہی تھی- لیکن امن کی اواز ا ہی نہ رہی تھی – اندر سے تو انٹی کوئی باہر نہیں ایا ہم نے چیک کر لیا ہے- تو پھر وہ کدھر چلا گیا ?اب وہ پورے گھر میں امن کو ڈھونڈ رہی تھی- بچے اگ بجھا رہے تھے -اسے کچھ ہوش نا تھا – انٹی  امن ڈرائینگ کے پردے کے پیچھے چھپ کر بیٹھا تھا – حارث نے اسے اٹھا کر فاطمہ کے سامنے  کر دیا -اسے صحیح  دیکھ کر اس کی چیخیں نکل گئی-  دھاڑیں مار مار کر بچوں کے ساتھ خود بھی رو رہی تھی – ادھر بچوں کی کوششوں سے اگ پر قابو پا لیا- پردے نے اگے پڑی لکڑی کے صوفے کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا – جس کی وجہ سے کالین کا بھی کچھ حصہ جل گیا-  دو بچوں نے اگ بجھانے کی کوشش میں اپنے ہاتھ بھی جلا لیے- بچے تو اگ بجھا کر واپس چلے گئے لیکن جب ان کی مائیں باری باری ا کر فاطمہ کو حوصلہ دے رہی تھی- کہ اللہ کا شکر ادا کرو بیٹا کہ کسی بڑے نقصان سے بچ گئی ہو, پریشان مت ہو ہم تمہارے ساتھ ہیں ,اور وہ اس کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھ رہی تھی -سرمد رات کو گھر پہنچا تو گھر کی حالت اور بیوی کے چہرے پر اڑتی ہوائیاں دیکھ کر رنجیدہ ہو گیا -سارا قصہ سنایا تو پھر سوئے ہوئے امن اور علی کو پیار کیا- اس کی انکھوں میں انسو تھے- اور وہ بار بار اللہ کا شکر ادا کر رہا تھا- اگلے دن افس ضرور گیا لیکن جلدی واپس آ گیا- اور کہا کہ میں  شرمندہ ہوں فاطمہ میں نے تمہاری بات نہیں مانی- اب ہم بہت جلد سوسائٹی میں گھر لے لیں گے- اگر تم لوگوں کو کل کچھ ہو جاتا تو میں  اپنے اپ کو کبھی معاف نہ کر پاتا- وہ انتہائی رنجیدہ تھا نہیں سرمد ایسا مت کہیں- ایسا نقصان یا پریشانی تو کہیں بھی ہو سکتی ہے- میں ابھی پراپرٹی ڈیلر کے پاس سے آ رہا ہوں اسے میں نے کہا , مجھے کسی اچھی سوسائٹی میں گھر دکھا دے-  اور مالک مکان سے بھی معاملات میں نمٹا ہی لوں گا – جیسے ہی گھر اچھا ملے گا ہم شفٹ ہو جائیں گے – بس اب میں نے فیصلہ کر لیا ہے-

 لیکن فاطمہ کے بدلے انداز دیکھ کر سرمد حیران رہ گیا کیونکہ اس نے اعلان کیا کہ اس محلے سے کہیں نہیں جاؤں گی- لیکن سرمد نے اسے کہا کہ میں تمہیں خوش دیکھنا چاہتا ہوں فاطمہ اور اب یہ فیصلہ میں نے دل اور دماغ سے کیا ہے- لیکن فاطمہ کی بات سن کر اج سرمد حیران رہ گیا- الحمدللہ میں اپ کے ساتھ بہت خوش ہوں سچ کہوں تو انسانیت اور پیار اور ہمدردی کا جو عملی مظاہرہ میں نے ان محلے والوں میں دیکھا ہے -وہ دنیا کے کسی اچھی سے اچھے سوسائٹی میں نہیں ملے گا-اگر بچے وقت پر نہ اتے تو شاید ہم تینوں اپ کے پاس نہ ہوتے- جس طرح انہوں نے بھاگ بھاگ کر اگ بجھائی -کچھ بچوں نے تو اپنے ہاتھ بھی جلا لیے اپنی پرواہ نہیں کی- پھر ان کی ماؤں نے آ کر جس طرح میری دل جوئی کی وہ  بولتی چلی گئی –  میں یہ سمجھ کیوں نہ سکی کہ اچھے انسانوں سے سوسائٹی بنتی ہے- جہاں پر دکھ سکھ بانٹے جاتے ہوں, صرف مکان سے تو کچھ بھی نہیں ہوتا- سرمد مجھے یہیں رہنا ہے اور اپنے بچوں کو بھی ان بچوں جیسا بنانا ہے- جو دوسروں کے کام انے کو ہر دم تیار رہتے ہیں, سرمد وہ تو پہلے دن سے ہی ان محلے والوں کا قدردان تھا ,جب یہاں کے  بچے بڑے سب مل کر اس کا سامان ٹرک سے نکلوا کر اندر رکھوا رہے تھے اور اسے اور کیا چاہیے تھا فاطمہ نے ان کے حق میں یہ فیصلہ دے دیا تھا -تو وہ دل ہی دل میں اللہ کا شکر ادا کر رہا تھا- تو پھر چلیں وہ علی کو اٹھاتے ہوئے کہنے لگی – کہاں.. بھئی جن بچوں نے اگ بجھانے میں اپنے ہاتھ جلائے ہیں چل کر ان کے حال پوچھیں. اور ان کے ماں باپ کا بھی شکریہ ادا کریں .ٹھیک ہے میں بھی تمہارے ساتھ چلتا ہوں .دونوں امن اور علی کی انگلی پکڑ کر خوشی خوشی محلے والوں کا شکریہ ادا کرنے  چلے گئے –

Latest Posts

Related POSTS