Mujhe Tum Per Fakhar Hai | Teen Auratien Teen Kahaniyan

704
میں سب سے بڑی تھی۔ میر ے بعد مریم کا نمبر تھا۔ خالہ زاد سے میری شادی ہوئی تو مہندی والے دن پھوپی نے فیصلہ کرلیا کہ وہ مریم کا رشتہ افتخار کے لیے لیں گی۔ شادی میں مریم بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔ افتخار نے بھی ماں کے فیصلہ پر خوشی کا اظہارکیا۔ ہم چاروں بہنوں میں بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مریم کو سب سے زیادہ حسن کی دولت سے نوازا تھا۔ میکے میں شادی کے بعد ہماری پہلی دعوت پھپھو نے کی اور اپنے فیصلہ سے آگاہ کیا۔
یہ تو ہماری خوش قسمتی ہے پھپھو کہ … آپ نے مریم کو بہو بنانے کا ارادہ کیا ہے۔ ورنہ یتیم لڑکیوں کو کب جلد اچھے رشتے ملتے ہیں۔ ان دنوں وہ زیادہ امیر نہ تھیں لیکن ہم سے خوشحال تھیں کیونکہ میرے والد کی وفات کو چھ برس سے زیادہ عرصہ گزر چکا تھا۔ مرحوم ایک سرکاری محکمے میں کلرک تھے۔ ان دنوں کلرک کی تنخواہ کم ہوا کرتی تھی اور ایمانداری کے سبب ہمارا گزارہ والد صاحب کی تنخواہ پر مشکل سے ہوتا تھا۔ بس سفید پوشی کا بھرم قائم تھا۔ لیکن کچھ پس انداز نہ کرسکے تھے۔ ابو کے بعد ہم نے کٹھن وقت دیکھا۔ مگر امی نے سفید پوشی کا بھرم قائم رکھا تھا۔ پھپھو نے جب مریم کا رشتہ مانگا تو امی خوش ہوگئیں۔
خیر سے مریم کی منگنی پھپھو کے بیٹے افتخار سے ہوگئی تو امی کی فکر میں کمی آئی۔ اب مطمئن تھیں، باقی دو چھوٹی بیٹیاں تو ابھی پڑھ رہی تھیں۔ ایک چھٹی اور دوسری ساتویں میں تھی۔ افتخار کا مستقبل روشن تھا۔ اس کا انجینئرنگ کا آخری سال تھا۔ امی سے کہا گیا تھا کہ جونہی ہمارا بیٹا سالانہ امتحان دے گا شادی کی تاریخ رکھ دیں گے۔
افتخار بھائی کے فائنل پیپرز ہوچکے۔ انہوں نے کہا… تھوڑا سا وقت اور چاہیے۔ اچھی نوکری ملنے کی جلد توقع ہے۔ ملازمت ملتے ہی شادیانے بجائیں گے۔ مریم کو اپنے منگیتر سے محبت ہوگئی تھی۔ امی چپکے چپکے تھوڑا بہت جہیز بنانے میں لگی تھیں۔ انہی دنوں افتخار کواچانک بیرون ملک جانے کا چانس مل گیا۔ وہ اس موقع کوگنوانا نہ چاہتا تھا اور مریم کو اس کی جدائی سے اندیشے ڈراتے تھے۔
ایسی کئی کہانیاں سن رکھی تھیں کہ لڑکا بیرون ملک گیا تو وہاں کا ہوکر رہ گیا۔ وہاں کسی اور سے شادی کرلی۔ منگیتر یا منکوحہ انتظار کی آگ میں جلتی رہ گئی۔ والدہ نے پھپھو سے بات کی وہ بولیں… ایک دفعہ جانے دیں۔ ایک سال بعد آئے گا تب تک اچھی تیاری کرلیں گے۔ ہم کوئی غیر نہیں کہ آپ کو ہم پر بھروسہ نہیں ہے۔ فکر نہ کرو بھابھی ایک سال تو پلک جھپکتے گزر جاتا ہے۔ میں زبان دے کر پھرنے والی نہیں۔
پھپھو کی تسلیوں پر امی نے اعتماد کر لیا۔ افتخار بیرون ملک چلا گیا اور میری بہن اس کے انتظار میں اپنے اندیشوں سے لڑنے کے لیے اکیلی رہ گئی۔ افتخار بھائی نے سعودی عربیہ جاتے ہی اپنے دوسرے بھائی کو بھی بلا لیا۔ اس کا ایک غیر ملکی کمپنی سے تین سال کا معاہدہ ہوگیا۔ دونوں بھائی خوب کما رہے تھے اور وہ تقریباً ساری کمائی گھر بھجوا رہے تھے۔ اس کمائی سے ان کے گھریلو حالات خوب سے خوب تر ہوتے چلے گئے۔
دولت سے انسان کی آزمائش ہوتی ہے۔ ان کے تو مزاج ہی ساتویں آسمان پر پہنچ گئے۔ اب جب پھپھو آتیں… اس قسم کی باتیں کرتیں فلاں نے بیٹی کو جہیز میں گاڑی، بنگلہ دیا ہے۔ لڑکی بھی ڈاکٹر ہے۔ لوگ سوچ سمجھ کر رشتے کرتے ہیں۔کبھی فرماتیں …ساس نندوں کو بھی زیور دیے جاتے ہیں۔ لڑکی والوں کی طرف سے میں ایک شادی میں گئی تو لڑکی والوں کی فراخ دلی پر حیران رہ گئی … ساس کو دس تولے کے کڑے اور ہر نند کو دو دو تولے کے دیے اور تمام رشتے داروں کو قیمتی جوڑے دیے۔ لوگ بڑی دھوم دھام سے بیٹیاں رخصت کرتے ہیں۔


امی ان کی باتیں سنتی تو دل تھام لیتیں۔ سوچتیں یہ ان کو کیا ہوتا جارہا ہے۔ کیا دولت آجانے سے انسانوں کے مزاج اتنے بدل جاتے ہیں… طرح طرح کی باتیں سن کر بھی امی خاموش تھیں۔ کہتی تھیں کہ دیکھتی ہوں کب بلی تھیلے سے باہر آتی ہے۔
آخرکار ان باتوں کا مقصد سمجھ میں آگیا۔ انہوں نے ایک امیر گھرانے کی لڑکی دیکھ رکھی تھی۔ اور اب کسی بہانے یہ رشتہ ختم کرنا چاہتی تھیں۔ وہ جب بھی آتیں ہر بار نئی آگ لگا جاتیں تاکہ بھاوج کا دل کسی طور برا ہوجائے۔
جب پھپھو آتیں میرا دل سناٹے میںآجاتا کہ جانے اب کیا کہنے آئی ہیں… امی بیچاری مقدور بھر ان کی خاطر مدارات کرتیں۔ عزت و تکریم میں بھی ہمارے گھر والے کوئی کسر نہ اٹھا رکھتے کہ ہوتا وہی ہے جو نصیب میں لکھا ہوتا ہے۔ ایک سال بعد افتخار گھر آگیا۔ پھپھو نے اس کا دل ہم سے پھیرنے کو اپنی طرف سے باتیں جڑیں کہ یہ لوگ عجیب شرطیں لگا رہے ہیں، شاید رشتہ نہیں دینا چاہ رہے … تب افتخار نے کہا کہ میں خود جاکر ممانی سے بات کرتا ہوں۔
افتخار کے تیور دیکھ کر پھپھو سہم گئیں۔ کہا کہ یہ بڑوں کا معاملہ ہے تم مجھ پر چھوڑ دو، میں خود سنبھال لوں گی، تمہیں ان سے بات کرنے کی ضرورت نہیں۔ تم معاملہ اور خراب کردو گے۔ اور ہم ہلکے پڑ جائیں گے۔ وہ اگر شرائط کی بات کررہی ہیں تو ہم بھی کچھ شرطیں لگا دیں گے۔ وہ خود ہی راہ راست پر آجائیں گے۔ اتنے عرصے منگنی رہی ہے اب رشتہ توڑنا کوئی مذاق تو نہیں ہے۔
افتخار ایک فرمانبردار بیٹا تھا۔ اس نے ماں سے زیادہ بات کرنے کی ضرورت محسوس نہ کی … وہ تو آیا ہی اسی واسطے تھا کہ اپنے وعدے کا پالن کرسکے۔ وہ اپنی منگیتر کو نہیں بھولا تھا۔
انہی دنوں امی جان سے مکان خالی کروا لیا گیا تو وہ ایک دوسرے محلے میں کرائے کے مکان میں شفٹ ہوگئیں۔ پرانے محلے میں ساری خواتین امی سے ہی کپڑے سلواتی تھیں۔ یہاں آکر مالی حالات دگرگوں ہوگئے۔ کسی سے بھی واقفیت نہ تھی۔
والد صاحب نے اپنی زندگی میں دو پلاٹ خریدے تھے جن کی قسطیں وہ تقریباً دس سال تک بھرتے رہے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ ایک پلاٹ کو فروخت کرکے دوسرے پر مکان تعمیر کرالیں گے۔ چھوٹے بھائی کا آخری تعلیمی سال تھا۔ امی کو انتظار تھا کہ وہ ملازمت پر لگے تو پھر ایک پلاٹ بیچ کر اس رقم سے دوسرے پر گھر تعمیر کرالیں گے۔
بیٹے کے مجبور کرنے پر پھپھو شادی کی تاریخ لینے آگئیں، ساتھ یہ بھی سنا گئیں کہ اب ہمارا سوسائٹی میں خاص مقام ہے۔ دیکھو لڑکی کو خالی ہاتھ نہ بھیج دینا ورنہ لوگ باتیں بنائیں گے… اور ساس نندوں کو بھی کچھ زیور دینا ہوگا ورنہ ہمارے مہمان ہنسیں گے کہ کن لوگوں میں رشتہ کردیا ہے۔
امی نے ان کی باتوں کو تحمل سے سنا۔ انہوں نے پائی پائی جوڑ کر مہمانوں کے لیے کھانے کا انتظام اور شادی کا خرچہ اکٹھا کیا تھا۔
امی نے ہم سے مشورہ کیا سوائے مریم کے … بھائی نے کہا۔ ماں میں منزل سے بہت قریب ہوں آپ فکر نہ کریں۔ ایک پلاٹ بیچ دیں اور پھپھو کی حیثیت کے مطابق مریم کی شادی کریں تاکہ ان کی جگ ہنسائی نہ ہو۔ جب میں کمانے لگوں گا… مکان کو تعمیر کرانے کی سبیل بھی نکل آئے گی۔ بیٹی کی زندگی اور خوشی کا معاملہ تھا۔ افتخار بہت اچھا لڑکا تھا۔ اس کا مستقبل تابناک تھا۔ والدہ نے کچھ غور و خوض کے بعد بھائی کو پلاٹ فروخت کرنے کی ہدایت کردی۔
بھائی نے بھاگ دوڑ کرکے پلاٹ کو اونے پونے بیچ دیا کہ مریم کی شادی کی تاریخ رکھی جاچکی تھی۔ والدہ نے پھپھو اور ان کی بیٹیوں کے لیے سونے کے ہلکے پھلکے زیور بھی بنوانے کو دے دیے۔ ان کا خیال تھا یہ سب کرکے بیٹی کے لیے زندگی بھر کی انمول خوشیاں خرید لیں گے۔ ادھر مریم ماں کی فضول خرچی پر سلگ رہی تھی تو ادھر افتخار کے فرشتوں کو بھی خبر نہ تھی کہ اس کی والدہ صاحبہ کیا گل کھلاتی پھر رہی ہیں۔ مریم مایوں کا ابٹن لگانے سے پہلے ہی زرد پڑ گئی… ڈھولک کی تھاپ پر اس کا دل یوں دھڑکتا تھا جیسے اسے اس کی آواز میں توپوں کی گھن گرج سنائی دیتی ہو۔
ہم سمجھ رہے تھے افتخار کو ساری حقیقت معلوم ہے۔ کیوں کہ اس کی ماں ایسا تاثر دے رہی تھی جیسے وہی اپنی ماں کو نئی نئی ہدایت دے کر ہمارے گھر بھیج رہا ہو۔ مریم کو بھی اب رہ رہ کر اس پر غصہ آرہا تھا … کہ یہ کیا ہم غریبوں کے ساتھ کیا جارہا ہے۔ کیا اپنے ایسا سلوک کرتے ہیں اپنوں کے ساتھ؟
مہندی والے دن پھپھو بڑی دھوم دھام سے اپنے مہمانوں کے ساتھ آگئیں۔ مہندی کی رسم سے قبل انہوں نے خاموشی سے امی کا ہاتھ پکڑا اور بولیں… بھابھی اسے پڑھ لو… پھر مہندی کی رسم شروع کرتے ہیں۔ امی نے کاغذ کھول کر پڑھا، یہ کچھ چیزوں کی فہرست تھی۔ فرنیچر،گاڑی اور ایک پلاٹ کا مطالبہ تھا۔
امی کے ہاتھ کانپنے لگے۔ منہ کھلا کا کھلا رہ گیا… آپ کا یہ بھاری مطالبہ میں کیسے پورا کرسکتی ہوں۔ آخر تمہیں ہوکیا گیا ہے۔ اگر یہ سب درکار تھا تو پہلے کہا ہوتا۔ تم ہماری مالی حالت سے واقف ہو اگر نہ دے سکتے تو رشتہ ختم کرلیتے۔ اب تو کارڈ بھی سب جگہ چلے گئے ہیں۔ اس وقت ایسا مطالبہ نہ کرو جو میں پورا نہ کرسکوں کیوں اپنی اور ہماری عزت سے کھیل رہی ہو۔
اگر یہ سب چیزیں نہیں ہوں گی تو بھی ہماری عزت میں کمی آئے گی۔ دیکھو بھابھی… مجھے معلوم ہے بھائی جان مرحوم نے اپنی زندگی میں دو پلاٹ خریدے تھے۔ وہ کس دن کے لیے رکھے ہیں۔ یہی وقت ہے اپنی عزت بنانے اور شان و شوکت دکھانے کا، ارے بھئی ان کو بیچ دو۔
شبو… ایک بیچ دیا ہے۔ تبھی شادی کے اخراجات پورے ہورہے ہیں۔ دوسرا کیسے بیچ دوں۔ اتنی جلدی کیوں کر بکے گا… کچھ تو خدا کا خوف کرو۔ قیمت لگوالو میںخرید لیتی ہوں۔ نہیں تو کار بعد میں دے دینا۔ فی الحال پلاٹ اور فرنیچر سے کام چلا لیں گے۔ ارے بھئی جو چیزیں دلہن لائے گی ان کو وہی استعمال کرے گی۔ ہمارے پاس پہلے اللہ کا دیا سب کچھ ہے توآپ لوگوں کی عزت بنانے والا معاملہ ہے۔ امی اس سے زیادہ نہ سن سکیں وہ پلنگ پر بیٹھ گئیں اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں۔ امی کو روتا پاکر میں ان کے پاس گئی۔ جب حال معلوم ہوا تو میں نے پھپھو سے کہا کہ آپ نے بہت کم وقت میں ہمیں امتحان میں ڈالا ہے بہرحال… آپ بیٹھیے تھوڑی دیر میں اپنے شوہر سے بات کرتی ہوں۔
مریم ایک طرف مایوں بیٹھی تھی۔ اس کی سہیلیاں پاس تھیں۔ میں نے ان کو ذرا دیر کے لیے کمرے سے باہر بھیج دیا کہ ضروری بات کرنی ہے۔ مریم کو بتایا کہ پھپھو پلاٹ ہتھیانا چاہتی ہیں۔ جہیز میں کوئی کام کی چیز نہیںہے بیٹی کو پلاٹ دے دو… تم کیا کہتی ہو، مریم کا زرد چہرہ غصہ سے سرخ ہوگیا۔ جانے اس کے بدن میں اس وقت کہاں سے خون آگیا تھا۔آخر انہوں نے کیا کہا ہے۔ انہوں نے کہا ہے تم نے پلاٹ بیچا ہے تو بیٹی کو ہرچیز دے کر
عزت سے رخصت کردو۔ اب تمہارے پاس روپے پیسے کی کمی نہیں ہے۔ عجب بات ہے، کیا اپنے مرحوم بھائی کی بیوہ کے ساتھ ایک نند ایسا سلوک کرسکتی ہے۔
یہ سن کر مریم نے دوپٹہ سر سے اتار پھینکا… بولی۔ میں کرتی ہوں جاکر پھپھو سے بات، نیت خراب تھی تو اس مرحلے تک کیوں پہنچایا، اب باراتیوں کے سامنے ہمیں بے عزت کرنا چاہتی ہیں۔ مریم کے خطرناک تیور دیکھ کر میں نے کہا تماشا نہ بنائو… ذرا صبر سے کام لو۔ مجھے تھوڑی سی مہلت دے دو۔ دوسرے کمرے میں آکر میں نے افتخار کو فون کیا، اس نے کہا کہ آپ فہرست کا کاغذ لے کر میرے پاس آجائیں، مجھے اس معاملے سے امی نے بے خبر رکھا ہے۔گاڑی گلی میں کھڑی تھی، ایک منٹ کو دولہا کے گھر جانا ہے۔ میں نے اپنے شوہر سے کہا۔ آدھ گھنٹے میں ہم افتخار کے سامنے بیٹھے تھے۔ اس نے کاغذ پر نظر ڈالی پھر قلم اور کاغذ نکالا اور میرے شوہر سے کہا۔ میں بولتا جاتا ہوں آپ لکھتے جائیے پھپھو جان… آپ کوبھاری فرنیچر، برتنوں کے سیٹ، ریفریجریٹر حتیٰ کہ کار تک جہیز میں مل جائے گی لیکن … میری بھی ایک شرط ہے۔ آپ کو ڈیفنس میں میرے لیے دوکنال کی کوٹھی خریدنا ہوگی جہاں میں اپنے بھاری جہیز کو سجائوں گی۔ اس گھر میں صرف میں اور افتخار رہیں گے اگر آپ کو میری فرمائش منظور نہیں تو پھر ہمیں بھی آپ کا مطالبہ منظور نہیں ہے… فقط مریم۔
افتخار نے کہا… یہ خط آپ امی کو دے دیجیے… آگے میں سنبھال لوں گا۔ یہ تحریر مریم کی طرف سے پھپھو کو پہنچی تو وہ چکرا گئیں۔ دوڑی ہوئی بیٹے کے پاس گئیں کہ دیکھو ان لوگوں کی شرافت … ایک تو غربت کے باوجود ہم ان کی لڑکی لے رہے ہیں اوپر سے ان کے ایسے نخرے، اتنی بڑی شرط لگا دی۔ افتخار نے آپے سے باہر ہوتی ماں کوتھاما۔ وہ بولا۔ آپ نے بھی تو ایک فہرست ممانی جان کو دی ہے۔ انہوں نے تو انکار نہیں کیا۔ ابھی باجی کے شوہر آئے تھے وہ کہہ گئے ہیں بیٹا جو فہرست تم نے بھجوائی ہے ہم سب اشیاء دے رہے ہیں فکر مت کریں۔ تو امی جان جب غریب ہوکر وہ اپنی عزت رکھ رہے ہیں تو ہم صاحب حیثیت ہوتے ہوئے ان کا ایک مطالبہ کیوں نہ مان لیں ہم اپنی یہ کوٹھی مریم کے نام کردیتے ہیں۔
ہرگز نہیں… کیا ہم کو دربدر کرنے کا ارادہ ہے۔
ٹھیک ہے تو پھر نہ ہم ان سے کچھ لیتے ہیں اور نہ انہیں کچھ دیتے ہیں۔ سادگی سے شادی ہوجانے دیجیے۔
مجھے سرے سے یہ رشتہ منظور نہیں ہے۔ ابھی جاکر اسے ختم کرنے کا اعلان کرتی ہوں، جب دروازے سے بارات لوٹ جائے گی تب دیکھتی ہوں کیسے کرتی ہے ہماری بھاوج مریم کی شادی… ہماری کیا جگ ہنسائی ہوگی جو ان کی ہوگی۔
رخصتی میں دو دن باقی ہیں امی جان۔ میں ہرگز ایسا نہ ہونے دوں گا۔
افتخار کے والد نے بھی بیٹے کا ساتھ دیا۔ بیگم… یہ ٹھیک کہہ رہا ہے۔ دنیا والوں کا نہیں، کم ازکم اپنے مرحوم بھائی کا خیال کرو۔ بیگم کیا ہوگیا ہے تمہیں، بیٹے کے سامنے پھپھو کوہار ماننا پڑگئی۔
نکاح مردانے میں مردوں کے درمیان ہوا۔ افتخار نے نکاح نامے پر یہ بھی لکھوا دیا کہ اگر خدانخواستہ لڑکی کو طلاق ہوگئی تو دولہا پچاس تولہ سونا اور کوٹھی لڑکی کو دے گا اور اگر اس گھر میں لڑکی کو کوئی جسمانی گزند پہنچا تو دلہن کے ورثا قانونی چارہ جوئی کے مجاز ہوں گے۔ اس شرط کا علم پھپھو کو بعد میں ہوا۔ وہ خوب چلائیں تو بیٹے نے کہا… اکثر جہیز نہ لانے پر سسرال میں بہو کے ساتھ انتقامی کارروائی کے واقعات سننے کو ملتے ہیں لہٰذا میں نے اس رحجان کی حوصلہ شکنی کی خاطر یہ لکھوا دیا ہے۔ یہ پھپھو کے لیے سخت توہین کا باعث تھا مگر اب صبر کا گھونٹ پینا ہی تھا۔ مریم کو بھی ہم نے سمجھا دیا کہ افتخار بے قصور ہے۔ اس کی نیت میں کوئی کھوٹ نہ تھا۔ پھوپھا کی سوچ بھی صحیح تھی، لہٰذا اب تم نے سسرال میں جاکر سب کے ساتھ عزت و اخلاق سے پیش آنا ہے۔ پھپھو کچھ کڑوی کسیلی کہیں تو درگزر کرنا۔ افتخار نے بھی اسے پہلے دن سمجھایا کہ بڑوں کی عزت کرنا لازم ہے۔ تمہاری فرمانبرداری اور تحمل نیکی بن کر تمہارے نصیب سنوارے گا۔ سچ کہا تھا افتخار نے، چند دن پھپھو کا منہ پھولا رہا… بعد میں انہیں احساس ہوگیا کہ وہ غلطی پر تھیں۔ مریم کو سینے سے لگا لیا۔ ایک پل اس کے بنا نہ رہ پاتی تھیں۔ کہتی تھیں کہ کتنی نادان تھی میں جو اتنی اچھی بچی کو ٹھکرا رہی تھی۔ میری آنکھوں پر لالچ کی پٹی بندھ گئی تھی۔ پھوپھا نے بھی افتخار سے کہا۔ شاباش بیٹے تم تعلیم یافتہ ہو اسی لیے انسانیت کے پاسدار ہو… مجھے تمہارے جیسے بیٹے کا باپ ہونے پر فخر ہے۔
یہ ایک تعلیم یافتہ نوجوان کی فراست تھی جس نے مریم جیسی محبت کرنے والی خوب سیرت لڑکی کی زندگی میں دکھوں کی بجائے خوشیاں بھردیں، ورنہ ہماری پھوپی نے توکوئی کسر نہ چھوڑی تھی۔ ( ک۔ ل…لاہور)