Saturday, July 13, 2024

Muqadam Rishta

ان دنوں بڑے بھائی فراز پولیس میں ملازم تھے۔ ان کا تبادلہ ہمارے چک سے کچھ دور واقع گاؤں میں ہو گیا۔ وہاں ان کو کھانے پینے کی پریشانی تھی۔ وہ بازار کا کھانا نہیں کھا سکتے تھے، لہذا ہم اپنا چک چھوڑ کر وہاں آئے۔ وہاں ہمارے اور بھی رشتہ دار رہتے تھے، جن سے میں کبھی نہیں ملی تھی۔

ایک دن ایک نوجوان امی سے ملنے آیا۔ اُس کا نام اسد تھا۔ میں نے اُسے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ بڑی بہن نے تعارف کروایا۔ تابندہ ! اس سے ملو۔ یہ رشتے میں تمہارا بھانجا ہے۔ بھانجا ؟ میں نے حیرت سے پوچھا۔ ان دنوں میں پندرہ سولہ برس کی ہوں گی۔ ہاں، ہماری خالہ زاد بہن صفیہ کا بیٹا۔ میں نے تو اپنی خالہ زاد کو بھی کبھی نہیں دیکھا تھا کیونکہ وہ پہلے پنڈی میں رہا کرتی تھیں۔ بہرحال اس رشتہ کے سبب میں اس کی خالہ ہی بنتی تھی تبھی باجی نے اُس سے کہا۔ اسد تابندہ کو سلام کرو۔ مگر یہ تو مجھ سے چھوٹی ہیں ! تو کیا ہوا ؟ رشتے میں تو بڑی ہے۔ تب اس نے بڑی تعظیم سے مجھے سلام کیا۔ یہ ہماری پہلی ملاقات تھی ۔ شام تک وہ ہمارے گھر پر رہا، رات کا کھانا ہمارے ساتھ کھایا، پھر چلا گیا۔ اس سے میری دوسری ملاقات عجیب حالات میں ہوئی۔ اُس کا ایکسیڈنٹ ہو گیا تھا بہت چوٹیں آئیں، جن کے سبب وہ چل پھر نہیں سکتا تھا۔ باجی صوفیہ کا تو رو رو کر برا حال تھا۔ ہم سب گھر والے اُس کی عیادت کو گئے ۔ دو ماہ بعد وہ مکمل صحت یاب ہو گیا۔ اس کے بعد ایک بار اور میں اُن کے گھر گئی۔ اس وقت ان کے گھر میں کوئی نہ تھا، سوائے اسد کے۔ باجی کو یہ بات معلوم نہ تھی۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ میں بازار ہو کر آتی ہوں ، تب تک تم صوفیہ کے گھر، ان کی بیٹی سے گپ شپ کرو۔ اسد نے مجھے بتایا کہ سب لوگ شادی میں گئے ہوئے ہیں۔ تم اپنی باجی کا انتظار کرلو۔ اس کے بعد وہ اخبار پڑھنے میں محو ہو گیا۔ تھوڑی دیر گزری تھی کہ میرے بڑے بھائی فراز بھی وہاں آگئے۔ چونکہ تھانہ قریب تھا تو جانے کیا سوچ کر وہ ادھر آگئے تھے۔ یہاں مجھے اور اسد کو دیکھا تو ٹھٹھک گئے کہ گھر میں ہم دونوں کے سوا کوئی نہ تھا۔ پوچھا تم یہاں کیسے؟ میں نے بتایا کہ باجی چھوڑ کر گئی ہیں لیکن میری بات پر ان کو یقین نہ آیا تو اسد سے یہی سوال کیا۔ اس نے جواب دیا کہ مجھے خبر نہیں ہے۔ تابندہ نے یہی بتایا ہے، مگر میں نے آپ کی باجی کو نہیں دیکھا کیونکہ وہ اندر نہیں آئی تھیں۔ باہر سے چھوڑ کر چلی گئی ہوں گی۔ فراز بھائی نے اسے کچھ نہ کہا، مجھ سے بولے کہ چلو تم کو گھر چھوڑ دوں۔

تمام راستے وہ چپ رہے۔ گھر پہنچے تو باجی نہیں آئی تھیں ۔ وہ ڈیوٹی پر واپس چلے گئے لیکن یہ بات ان کے دل میں شبہے کا سبب بن گئی۔ ابھی وہ ڈیوٹی پر ہی تھے کہ باجی کے شوہر انہیں لینے آگئے اور وہ اپنے گھر چلی گئیں۔ فراز بھائی ان سے اپنی بات کی تصدیق نہ کر سکے۔ اصل بات یہ تھی کہ وہ مجھے بازار ساتھ لے جانا چاہتی تھیں، لیکن میری ایڑی میں درد ہورہا تھا۔ میں نے انہیں راستے میں ہی گھر واپس جانے کا کہا تھا۔ سامنے ہی صوفیہ باجی کا گھر تھا تبھی وہ مجھے ان کے گھر چھوڑ گئی تھیں۔ اس واقعہ کو دو دن گزرے ہوں گے کہ بھائی فراز نے اسد کو سیر پر چلنے کا کہا اور گاؤں سے دو میل دور ایک قبرستان کے پاس پارک میں جا کر بیٹھ گئے اور اسد کو خوب برا بھلا کہا۔ یہ بھی جتلایا کہ اگر تم میری بہن پر بری نظر رکھو گے تو میں یہ برداشت نہیں کروں گا۔ تم اس حرکت سے باز رہو، ورنہ مجھے سے برا کوئی نہ ہوگا۔ اس کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہ تھی۔ وہ خاموش بیٹھا رہا۔ ایسی بے تکی باتوں کا جواب کہاں تھا اس کے پاس؟ اگلے دن وہ ہمارے گھر آیا۔ شاید وہ امی یا باجی سے فراز کے بارے میں بات کرنا چاہتا تھا کہ مجھ بے خبر نے، اسے دیکھتے ہی پوچھا۔ کل تو تم نے بھائی کے ساتھ خوب سیر کی ہوگی؟ اس نے کوئی جواب نہ دیا اور پریشان سا واپس اپنے گھر چلا گیا لیکن وہ دل میں غمزدہ تھا، جیسے اس کے سینے میں آنسوؤں کا طوفان بھرا ہو۔ بہرحال کسی کو کچھ نہ بتا پانے کے سبب ، وہ اپنے گھر جا کر خوب رویا۔ گھر والوں نے رونے کا سبب پوچھا، تب بھی اس نے کچھ نہ بتایا۔ اسکول سے سرٹیفکیٹ لیا اور ماں سے کہا کہ میں گاؤں سے جانا چاہتا ہوں ۔ باجی صوفیہ پوچھتی رہ گئیں کہ کیوں اور کہاں جانا چاہتے ہو؟ شہر جانا چاہتا ہوں، یہاں کی پڑھائی معیاری نہیں ہے۔ ماں روکتی رہ گئی، مگر وہ کسی قریبی شہر جانے کی بجائے اپنے ایک دوست کے پاس کراچی پہنچ گیا۔ جاتے ہوئے وہ امی کے پاس آیا اور ان کو بتایا کہ میں گاؤں چھوڑ کر جا رہا ہوں ۔ میں بھی وہیں بیٹھی تھی۔ مجھے بھائی کے تیوروں سے شک ہو چکا تھا۔ میں نے پوچھا۔ اسد سچ بتاؤ! کسی وجہ سے پڑھائی اور گھر بار چھوڑ کر جا رہے ہو؟ امی کے کچن میں جاتے ہی اس نے مجھے سچ بتا دیا اور کہا۔ تابندہ! خدا گواہ ہے، خالہ ماں کی جگہ ہوتی ہے اور تم میری خالہ ہوتی ہو۔ بے شک رشتے کی ہی سہی، میں تم کو سگی خالہ کی طرح سمجھتا ہوں۔ اگر چہ تم عمر میں مجھ سے کافی چھوٹی ہو، مگر تمہارے بھائی نے مجھے اتنی بڑی بات کہہ دی ہے کہ میرے پیروں تلے سے زمین نکل گئی ہے۔ یہ ایسی بات ہے جس کو ابھی اسی وقت ختم ہو جانا چاہئے۔ اگر میں اس گاؤں میں رہا تو ممکن ہے، وہ دوبارہ ایسی بات منہ سے نکال دیں، کیونکہ شک بُرا ہوتا ہے۔ انسان کو مٹا دیتا ہے ممکن ہے، اس سے تمہاری بدنامی ہو جائے ، اس لئے میں جا رہا ہوں۔

میرے دل میں اس کی عزت دوگنی ہو گئی کیونکہ اس نے میری خاطر بڑی قربانی دی گی۔ ماں باپ بہن بھائی ، گھر بار چھوڑ کر وہ ایسی جگہ چلا گیا ، جہاں وہ بالکل اجنبی تھا۔ کراچی میں اس کا کوئی سہارا نہ تھا۔ جب انسان اپنے رب پہ بھروسہ کرتا ہے تو مالک دو جہاں اسے مایوس نہیں کرتا۔ وہاں دوست کے توسط سے اُسے ایک مل میں معمولی ملازمت مل گئی تھی۔ اسد کے جانے کے چھ ماہ بعد میرے والد صاحب اللہ کو پیارے ہو گئے۔ امی کو ان کا ایسا غم لگا کہ عدت کے دوران ہی وہ بھی بخار میں مبتلا ہو کر اللہ کو پیاری ہوگئیں۔ میرے امی ابو نے بہت پیار و محبت کے ساتھ اس طرح زندگی گزاری تھی کہ لوگ ان کی محبت کی مثال دیتے تھے۔ ان کے چلے جانے سے میں بالکل بے سہارا رہ گئی ۔ دو بھائی شادی شدہ تھے۔ ان کے لئے میرا وجود اتنا اہم نہ تھا۔ مجھ پر بڑا مشکل وقت آن پڑا تھا ۔ فراز بھائی ہی غیر شادی شدہ تھے۔ انہوں نے ایک عورت اغوا کی اور پنڈی جا کر اس سے بیاہ رچا لیا تھا۔ پہلے سب ساتھ رہتے تھے، والدین کی وفات کے بعد الگ الگ ہو گئے۔ آپس میں چیزیں تقسیم ہونے لگیں۔ میرے حصے کا سامان فراز بھائی کے کمرے میں چلا گیا۔ میرے لئے جو زیور بنا تھا وہ بھی فراز بھائی نے لے لیا تھا اور میں منہ دیکھتی رہ گئی۔ انہی دنوں سنا کہ اسد واپس آگیا ہے۔ وہ کراچی میں کچھ بیمار رہنے لگا تھا، اس لئے گھر آگیا۔ میں سوچتی تھی کہ میری وجہ سے اس غریب کو نجانے کیا کیا تکلیفیں برداشت کرنا پڑیں۔ اس کی بیماری کا سن کے سوچا کہ مجھے اس کی عیادت کے لئے جانا چاہئے ۔ اب تو وہ بات پرانی ہوگئی۔ بھائی بھی بیاہ رچا کر شانت ہو گئے تھے۔ بس یہی میری ملی تھی جس نے میری زندگی تباہ کردی۔ صوفیہ کے گھر میرا جانا کیا تھا کہ بھائی نے سب سے کہہ کہ میری بہن کے اسد کے ساتھ برے تعلقات ہیں۔ بھابھی نے بھی سب میں مشہور کر دیا کہ تابندہ عشق میں آپے سے باہر ہوئی جاتی ہے تبھی اسد کے آنے پر وہ اپنے قدم نہ روک سکی اور اس سے ملنے چلی گئی۔ فراز بھائی کی طرف سے اسد کو قتل کرنے کی دھمکیاں دی جانے لگیں۔ بات جب بہت بڑھی، تو اسد نے بیماری کے باوجود دوبارہ گھر سے جانے کی نیت کر لی ۔ اُدھر فراز بھائی نے بڑے دونوں بھائیوں کے ایسے کان بھرے کہ انہوں نے بغیر سوچے سمجھے اور مجھ سے پوچھے، آنا فانا میری شادی چچا زاد سے کر دی۔ شادی کی پہلی رات شوہر نے مجھ پر الزام لگایا کہ تم اسد کو چاہتی تھیں۔ میں نے اس کے ساتھ تمہارے غلط تعلقات کی باتیں سن رکھی ہیں۔ اگر اس میں صداقت ہوئی تو میں اس کو قتل کرادوں گا۔ اگر وہ کبھی بھولے سے بھی ادھر آیا تو میں اُسے جان سے مار ڈالوں گا۔ میں نے رو رو کر یقین دلایا کہ یہ جھوٹ ہے ، مگر میرے دولہا کو میری یقین نہ آیا۔ ساتویں روز جب میں میکے آئی تو چہار سو یہ داستان گرم تھی ۔ دولہا میاں نے نجانے کس کس سے فریاد کی تھی کہ ان کی دلہن کی شادی ان سے نہیں اسد سے ہونا چاہئے تھی۔ میں نے اس پر احتجاج کیا تو سات روز کی دلہن کو میاں نے اتنا مارا کہ بدن پر نیل پڑ گئے اور میں بے ہوش ہوگئی ۔ یہ خبر جب اسد کی امی کو ہوئی تو انہوں نے اسد سے کہا کہ تم کچھ دنوں کے لئے یہاں سے چلے جاؤ، کیونکہ کوئی ہے جو آگ کو اور بھڑکا رہا ہے۔ ناحق بچاری تابندہ پٹ رہی ہے۔ اس کی زندگی برباد کر کے رکھ دی ہے بدخواہوں نے ۔ اس کا بھائی شکی مزاج اور اس سے بڑھ کر اس کی بیوی ہے جو خود اپنے ماں باپ کے گھر سے بھاگ کر آئی ہے۔ یہ لوگ اس کے حصے کی ہر شے پر قابض ہونا چاہتے ہیں تا کہ تابندہ کبھی بھی اپنے حق کے لئے آواز نہ اٹھا سکے۔ اسد اپنے ماموں کے گھر چلا گیا، جہاں یہ باتیں پہلے ہی پہنچ چکی تھیں، اس کے ماموں نے اُسے رکھنے سے انکار کر دیا۔ وہ بیچارا گھر کا رہا، نہ گھاٹ کا۔

ایک روز میں بس اڈے پر اپنی بہن کے گھر جانے کے لئے سواری تلاش کر رہی تھی کہ اسد نے مجھے دیکھ لیا۔ وہ سامنے ہوٹل میں بیٹا کھانا کھ رہا تھا۔ مجھے دیکھ کر باہر آیا اور پوچھنے لگا کہ آپ کو سواری چاہئے؟ یہیں رکیے، میں کوئی ٹانگہ لاتا ہوں۔ اس پر میری آنکھوں سے آنسو نکل پڑے۔ وہ کہنے لگا۔ خالہ کوئی بات نہیں ، آپ کبھی میرے گھر نہ جانا۔ اس طرح آپ کی خوشیاں بچ سکتی ہیں کہ میں ملک سے ہی چلا جاؤں تو میں ہمیشہ کے لئے چلا جاؤں گا اور پھر کسی کو نظر نہ آؤں گا لیکن بدنصیبی پیچھے پڑ جائے تو کوئی کسی کونہیں بچا سکتا۔ جس لاری سے میں اسٹاپ پر اتری تھی ، اُس کا ڈرائیور اور کنڈیکٹر دونوں ہی میرے میاں کے واقف اور ایک گاؤں کے رہنے والے تھے۔ انہوں نے گاؤں میں جا کر کہ دیا کہ شجیع کی بیوی اسد سے ملنے بس اڈے گئی تھی، حالانکہ اسد تو اتفاقا مل گیا تھا۔ اس بات پر جہاں میرے شوہر نے مجھے زدو کوب کیا، وہاں فراز بھائی نے بھی جینا حرام کر ڈالا اور چند دوستوں کے ساتھ جا کر اسد سے ہاتھا پائی کی کہ وہ غریب مرتے مرتے بچا۔ ان حالات نے میرے دل میں اس قدر بغاوت کو جنم دیا کہ جی چاہتا تھا میں وہ اب میں کھلم کھلا اس سے ملوں اور وہ سب کر دکھاؤں، جس کے بارے میں سوچنا بھی گناہ سمجھتی تھی ۔ حالانکہ میرے دل میں کبھی اس کے لئے برا خیال نہ آیا تھا اور نہ اس نے مجھے بری نظر سے دیکھا تھا۔ صوفیہ باجی ان حالات سے پریشان ہوئی جاتی تھیں۔ مجھ سے ان کی حالت دیکھی نہ جاتی ۔ آخر میں نے یہ فیصلہ کیا کہ اب بزدلی کا طوق گلے سے اتار دوں گی اور نڈر بن کر حالات کا مقابلہ کروں گی۔ خود جا کر اسد کوگھر لاؤں گی اور ماں بیٹے کو ملادوں گی، جو شرافت میں در بہ در ہورہا تھا کہ فراز بھائی پولیس والے تھے اور وہ سب کی ایسی کی تیسی کر سکتے تھے۔ اب دیکھوں گی کہ کون میرا کیا بگاڑ سکتا ہے۔ جو بگاڑنا تھا یہ لوگ بگاڑ چکے۔ میرے پاس بچا ہی کیا تھا کہ میں ہر لمحہ ان کے خوف سے مرتی رہتی۔ میں نے صوفیہ باجی سے بات کی۔ انہوں نے مجھے سمجھا بجھا کر روک دیا اور کہا کہ میں خود اس کو لے آؤں گی۔ تم اپنے لئے دوزخ کو مزید نہ بھڑکاؤ ۔ انہوں نے اپنے بھائی کو تمام احوال کہا اور بیٹے کی بے گناہی کا یقین دلایا، تب ان کا دل موم ہو گیا اور وہ اسد کو منا کر گھر لے آئے۔ اسد کا گاؤں لوٹنا تھا کہ کہرام برپا ہو گیا۔ میرے لئے زندگی کا دائرہ تنگ اور مزید بدنامیوں کے باب کھل گئے۔ اس بربادی میں میری بھابھی نے بڑھ چڑھ کرحصہ لیا اور یہ الزام لگایا کہ تابندہ جو زیور لے گئی ہے، واپس کر دے، جبکہ زیور تو انہوں نے ہی رکھے ہوئے تھے۔ میرے شوہر کو یہ باور کرایا کہ ہم نے تو شادی کے دن زیور دے دیا تھا اس نے اسد کو دے دیا ہے ۔ اب بھلا میری بربادی میں کون سی کسر رہ گئی تھی ۔ یہ وہ عورت تھی جو خود تو گھر سے بھاگ کر آئی تھی اور اپنی بے قصور نند کو اور بے سہارا کرنے پر تلی ہوئی تھی۔ زیادہ دکھ کی بات تو یہ تھی کہ فراز بھائی پہلے دن سے اس خاردار درخت کو بونے میں ہر اول بنے تھے۔ میری اتنی بربادی کے باوجود شک کا کانٹا ان کے دل سے نہیں نکلا تھا۔ ظلم کی شاید کوئی حد نہیں ہوتی کہ مجھے پوری طرح برباد کرنے کے بعد بھی ان لوگوں کو چین نہ تھا۔ طرح طرح سے مجھے بھابھی نے تنگ کیا اور میرا سگا بھائی اُس کا بازو بنا رہا۔ ہر وقت رو رو کر اپنے خدا سے یہی دعا کرتی کہ خدارا فراز سا لالچی بھائی اور حوریہ جیسی بھابھی کسی کی نہ ہو، جنہوں نے ناحق مجھ ایسی بے ضرر کو گھر سے بے گھر کر دیا اور بے چارے اسد کو شہر بدر کر کے چھوڑا۔ اس پر بھی ان کو چین نہیں ملا۔

ایک دن کراچی سے اطلاع آئی کہ اسد اسپتال میں ہے اور شدید بیمار ہے۔ باجی صوفیہ تڑپ کر رہ گئیں۔ خط پر اسپتال کا پتا درج تھا۔ مجھے میری بڑی بہن نے بتایا تو میں فوراً باجی صوفیہ کے پاس گئی اور کہا کہ میں بھی آپ کے ساتھ چلوں گی۔ وہ بولیں۔ میاں نے الزام لگا کر نکالا ہے، بھابھی بھائی کے در پر پڑی ہو۔ اگرمیرے ساتھ گئیں تو پکی طلاق مل جائے گی۔ میں نے بھی کہہ دیا۔ ملتی ہے تو مل جائے ، ویسے بھی کون سی سے آباد ہوں۔ ایسی زندگی سے تو موت بہتر ہے۔ اب مجھے پروا نہیں جو کرنا ہے کر لیں۔ میں نے بھائی سے بھی نہ پوچھا اور باجی صوفیہ کے ساتھ کراچی چلی گئی۔ اسد کی حالت بہت خراب تھی۔ اس کے ساتھ کوئی اپنا نہ تھا۔ ایک دوست تھا ، وہ ڈیوٹی پر جاتا اور جب چھٹی ملتی آکر دیکھ جاتا ۔ ہمیں دو ماہ کراچی رہنا پڑا۔ جب اسد بالکل ٹھیک ہو گیا تو ہم واپس آئے۔ پتا چلا کہ میری طلاق کے نوٹس آئے رکھے ہیں۔ مجھے کوئی قلق نہ ہوا۔ بہت رو دھولی، ہاتھ پاؤں جوڑے، منتیں ، سب کر لیا مگر شوہر کے دل میں شک نے ایسا ڈیرا ڈالا کہ پھر نہ اُٹھایا۔ بھائی نے گھر میں رکھنے سے انکار کردیا ، دوسرے بھائی بھی ان کے ہم نوا ہو گئے۔ بہنیں اپنے گھروں کی تھیں ۔ اب کہاں جاتی ؟ دل نے کہا اور کر بغاوت۔ اس معاشرے میں عورت کا یہی مقدر ہے۔ سک سسک کر جیئے یا پھر بغاوت کرے تو اپنے ہی سڑک پر بٹھا دیتے ہیں۔ باجی صوفیہ واحد ہستی تھیں، جس نے اس وقت میرا ساتھ دیا اور مجھے اپنے گھر میں رکھا۔ بولیں۔ ناحق داغ تو انہوں نے لگا ہی دیا ہے۔ میری مانو تو جس کے ساتھ بدنامی لگائی ہے، اس کے ساتھ نکاح کر لو۔ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ میں نے منع کر دیا کہ جب اسد نے مجھے سگی خالہ کہا ہے اور میں نے دل سے اسے بھانجا مانا ہے تو ہرگز اس مقدس رشتے کو ختم نہیں کر سکتی۔ اسد نے بھی انکار کر دیا۔ سوال یہ تھا کہ طلاق تو مجھے اس کی وجہ سے ہوئی تھی۔ اب کہاں جاتی؟ یہ گھرانہ مجھے سہارا دینا چاہتا تھا ، سو، صوفیہ باجی نے اور راہ نکالی اور کہا کہ میرا چھوٹا لڑکا تمہارا ہم عمر ہے۔ بہتر ہے کہ میں فہد سے تمہارا نکاح کر دیتی ہوں۔ اس بات پر تم راضی ہو جاؤ، ورنہ تمہاری بے سہارا زندگی برباد ہو جائے گی، کیسے گزر بسر کرو گی ۔ انہوں نے فہد سے بات کی۔ وہ مجھے اپنانے پر رضامند ہو گیا۔ میں نے بھی بہت سوچنے کے بعد سپر ڈال دی۔ قسمت میں باجی صوفیہ کی بہو بننا اور فہد سے نکاح ہونا لکھا تھا، سو پورا ہو گیا۔ آج میں خوش حال جیون جی رہی ہوں۔ اسد اب بھی مجھے، بھابھی کی بجائے خالہ ہی کہہ کر بلاتے ہیں اور میری عزت کرتے ہیں۔ میں بھی ان کی عزت کرتی ہوں ۔ ہمارے درمیان احترام کا جو رشتہ پہلے دن سے تھا وہ آج بھی ہے اور یہ رشتہ ہم کو بہت مقدم ہے۔

Latest Posts

Related POSTS