Muqaddar | Episode 1

437
چالیس برس کی شیریں نے قد آدم آئینے کے سامنے اپنے جھلملاتے آویزے اتارے اور پھر نہ جانے کیا خیال آنے پر پہن لئے۔ اس کی صراحی دار مرمریں گردن کے گرد لپٹا ستاروں کی طرح دمکتا ہوا ہار بھی مسکرانے لگا، جیسے وہ اس کے حسن کو سراہ رہا ہو۔
اس نے ڈنر کے لئے منتخب کئے گئے سیاہ لباس کی سلیولیس شرٹ کو دیکھا جو اس کے حسن کو دوبالا کررہی تھی۔
کیا چالیس برس کی عمر بھی کوئی عمر ہوتی ہے؟ اس نے آئینے میں اپنا ہوشربا عکس دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ابھی تو میں جوان ہوں۔‘‘
آئینے کے سامنے ہر زاویئے سے اپنے سراپے کو دیکھ کر داد وصول کرلی۔ آئینے نے اس سے کبھی جھوٹ نہیں بولا تھا۔ وہ سنتی آرہی تھی کہ آئینہ کبھی سچ نہیں بولتا۔ وہ بڑا جھوٹا، دھوکے باز، فریبی اور مکار ہے لیکن اس سے اس نے بھولے سے بھی جھوٹ نہیں بولا تھا۔ وہ اس پر اندھا اعتماد کرتی آئی تھی۔
وہ اپنے موبائل فون کو بند کرنا بھول گئی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ آج سنیچر ہے۔
بیڈ پرکسی لاوارث لاش کی طرح پڑے موبائل فون سے بے وقت کی راگنی چھڑی تو اس نے بیزاری سے کہا۔ ’’ہیلو…!‘‘
’’آپ سو گئی تھیں ماما…!‘‘ سات سمندر پار سے نسیم نے اپنی آواز میں محبت گھولتے ہوئے کہا۔
’’نسیم…! پاکستان میں رات کے دو بجے الّو جاگ رہے ہوتے ہیں۔‘‘ اس نے سپاٹ لہجے میں کہا۔ ’’ہیوسٹن میں دن کے دو بجے ہوں گے؟‘‘
’’الّو پر یاد آیا ماما!‘‘ وہ قہقہہ مار کر ہنسا۔ ’’اس کی فیملی کو کیا کہتے ہیں… الّی یا کچھ اور…؟‘‘
’’شٹ اَپ! تم اپنی ماں سے بات کررہے ہو۔‘‘ اس نے ڈانٹا۔ ’’کیسے فون کیا…! کیا پیسے چاہئیں؟‘‘
’’اوہ ماما! ڈونٹ بی سو ظالم…! ورنہ تاریخ میں کہیں آپ کو ہلاکو سے نہ تشبیہ دی جائے؟ کیا آپ نہیں جانتیں کہ میں ہر ویک اینڈ پر کال کرتا ہوں۔ شاید یہ بھول گئیں۔ آئی فیل سو لون لی۔‘‘
’’اس کا اندازہ میں کرسکتی ہوں۔ دیکھ نہیں سکتی تو کیا ہوا، سن تو سکتی ہوں۔‘‘
’’آج آپ اتنی خفا کیوں ہیں۔ تھک گئی ہیں یا بیمار ہیں؟‘‘
’’میں ٹھیک ہوں۔ سو گئی تھی، سر میں درد تھا۔‘‘ اس نے جواب دیا۔
’’کام بھی ایسا ہی ہے آپ کا… زندگی بھر پڑھتے رہو پھر پڑھنے کے بعد پڑھاتے رہو۔ لائیک اے ٹیپ ریکارڈر…!‘‘
’’تمہاری اسٹڈیز کیسی چل رہی ہیں؟‘‘ اس نے نسیم کی بات کاٹ دی۔
نسیم نے جیسے اس کی بات سنی ہی نہیں یا پھر وہ اس موضوع پر گفتگو کرنا نہیں چاہتا تھا۔ اس نے موضوع بدلا۔ ’’کیا آپ نے ویزے کے لئے اپلائی کیا… گو مشکل تو ہے ماما! مگر ناممکن نہیں… ہائر اسٹڈی میں آپ یہاں…!‘‘
’’نسیم…!‘‘وہ برہمی سے بولی۔ ’’کتنی بار بتا چکی ہوں کہ میں نہیں آسکتی۔ کوئی اور بات کرو، وجہ بھی تم جانتے ہو۔‘‘
’’اوکے ماما…! آج آپ کا موڈ بہت خراب ہے۔ پھر بات ہوگی۔‘‘ دوسری طرف سے لائن کاٹ دی گئی۔
وہ روشنی گل کرکے بستر پر دراز ہو کر چھت کو تکتی رہی، جو سنیما کے اسکرین کی طرح تاریک تھی۔ وہ جس حالت میں تھی، روشنی میں اپنے آپ کو دیکھنا بھی نہیں چاہتی تھی۔ اسے ایسا لگ رہا تھا کہ کمرے کی تمام کھڑکیاں بند ہیں، پردے کھنچے ہوئے ہیں، اس کے باوجود جانے کتنی نگاہیں اسے دیکھ رہی ہیں۔ گھپ اندھیرے نے اسے تلوار کی طرح نیام میں لے لیا۔
پھر اس نے گزری ہوئی شام کی وہ فلم چلا دی جو نہ صرف رومانی بلکہ سنسنی خیز بھی تھی اور اس کا ہر منظر جذباتی اور برما دینے والا تھا۔ رات نو بجے پروفیسر رستم خان کو اس نے لائونج میں بڑی بے چینی اور اضطرابی کیفیت میں سراپا انتظار پایا۔ ان پر کسی نوجوان لڑکے کی بے تابی کا گمان ہوتا تھا۔ وہ پچاس برس کی عمر کے ہوں گے۔ اپنے سفید اور چمک دار بالوں اور بھاری بدن کے ساتھ بے حد گریس فل پرسنالٹی بن گئے تھے۔ ڈارک بلیو عمدہ تراش کے سوٹ اور خوبصورت ٹائی میں ان کا گندمی رنگ اور مضبوط قامت انہیں مردانہ وجاہت عطا کررہی تھی۔
وہ مسکراتے ہوئے سحر زدہ انداز میں اس کی طرف بڑھے جیسے ان پر کوئی منتر پڑھ کر پھونک دیا گیا ہو اور آہستہ سے اس کا مرمریں گداز اور خوبصورت ہاتھ تھام لیا۔
حسب ضرورت انہوں نے شیریں کو اوپر سے نیچے اس طرح ناقدانہ نظروں اور مخمور انداز سے دیکھا جیسے پہلی بار دیکھ رہے ہوں۔ ’’اب بتائو جو تمہیں دیکھے گا، پھر وہ کسی اور طرف کیوں دیکھے گا؟‘‘
’’تھینک یو!‘‘ وہ خوش ہوکر مسکرائی۔ ’’مگر سب رستم خان تو نہیں ہیں جو شاعرانہ مزاج رکھتے ہوں۔‘‘
مغربی گوشے سے شہر کی ساکت و متحرک اور روشنیوں کے سیلاب کا منظر احساس دلاتا تھا کہ وہ عام لوگوں سے بہت بلند، الگ اور منفرد ہیں۔ اب اس میں کوئی نیا پن نہیں تھا، کیونکہ وہ چودھویں شب کے علاوہ بھی یہاں کئی بار آکر بیٹھ چکے تھے اور ایسا کوئی موضوع نہیں تھا جس پر بات نہ کرچکے ہوں۔ فیصلے کی گھڑی تھی کہ پھر بھی ٹل رہی تھی۔ رستم کی طرف سے تمام تصفیہ طلب امور پر شیریں کے اطمینان کے مطابق فیصلہ ہوچکا تھا کہ وہ اپنی پہلی بیوی کو صاف صاف بتا چکا تھا کہ دوسری شادی کررہا ہے۔
اس کی ایک شادی شدہ بیٹی دبئی میں تھی، دو بیٹے اس کے ساتھ تھے۔ ایک نے ایم بی اے کرنے کے بعد بینکوں سے مایوس ہوکر جو بہت کم تنخواہ اور کنٹریکٹ پر ملازمت دیتے تھے، ایک غیر ملکی پرائیویٹ کمپنی جوائن کرلی تھی۔ اس امید پر کہ قسمت نے ساتھ دیا تو اس کے لئے امریکا کا راستہ آسان ہوگا۔ دوسرا سول انجینئر بننے کے بعد بے روزگاری کی فرسٹریشن سے گزر رہا تھا۔ یہاں مزدور ہی راج بن جاتے تھے اور پھر بلڈر…! وہ خود ہی نقشہ بھی بنا دیتے تھے جو نیا گھر بنانے والے کو پسند آجائے … اور اس پر کسی لائسنس یافتہ سول انجینئر سے مہر لگوا کر پاس بھی کروا دیتے تھے۔
جب اس نے اپنی پہلی بیوی کو دوسری شادی کے بارے میں بتایا تو اس کا خیال تھا کہ وہ بھڑک اٹھے گی، طوفان آجائے گا، ایک ہنگامہ کھڑا کردے گی۔ اس کا گریبان پکڑ لے گی اور اپنے میکے والوں کو بلا لے گی۔ لیکن اس نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ وہ ایک حقیقت پسند، زمانہ شناس عورت تھی۔ اس نے پوچھا تھا۔ ’’آخر تم مجھ میں کیا کمی محسوس کررہے ہو؟ میں تین نوجوان بچوں کی ماں ہوکر بھی جوان نظر آتی ہوں۔ میں آج بھی پرکشش ہوں۔ تم نے مجھ سے محبت کی شادی کی تھی۔ میں نے تمہاری خاطر اپنے بھائی، بہنوں اور والدین کو چھوڑا تھا پھر تم دوسری عورت کی خاطر مجھے کیوں چھوڑ رہے ہو؟‘‘
اس نے اپنی بیوی کی کسی بات کا جواب نہیں دیا۔ اس نے خاموشی میں ہی عافیت سمجھی تھی۔ بیوی کا ایک ایک لفظ کسی زہریلے ڈنک کی طرح اس کے وجود پر لگا تھا۔ اس کی بیوی نے کوئی بات غلط نہیں کہی تھی۔ وہ آج بھی اس کے ساتھ بڑی محبت اور گرم جوشی سے پیش آتی تھی۔ وہ دوسری عورتوں کی طرح بہانے بازیاں نہیں کرتی تھی کہ بے حد تھکی ہوئی ہوں، بچوں نے مجھے نچا کر رکھ دیا، مجھے سونے دو۔
’’آج مجھے انتظار کی اذیت سے گزرنا پڑا۔‘‘ رستم نے کہا۔ ’’جان! کیسی ہے گاڑی…؟‘‘
وہ چونکی۔ اس نے جواب دیا۔ ’’جیسی نئی گاڑی ہوتی ہے۔‘‘
’’جس نے بھی دیکھا ہوگا، اس نے پسند کی ہوگی؟ تعریف کی ہوگی، کسی نے شک تو نہیں کیا؟‘‘
شیریں نے ایک گہری سانس لی اور اس کے چہرے پر نگاہیں جما کر بولی۔ ’’تقریباً سبھی نے پوچھا حتیٰ کہ پرنسپل نے بھی…اور پھر بڑے خلوص سے مبارکباد بھی دی۔ کوئی جل بھی گیا۔ شک کوئی کیسے کرتا؟ میں نے بتایا کہ ماں نے بالآخر میری بات مان لی۔ بتائو تم نے کیا کہا؟‘‘
’’کچھ نہیں! بیوی سے میں نے کہا تم اب کسی سرد لاش کی طرح ہوگئی ہو۔ میں تمہارے آرام کے لئے دوسری شادی کررہا ہوں۔ بیوی تو سمجھتی نہیں ایسی باتیں …اگر میں نے خفیہ شادی کرلی ہوتی تو وہ کیا کرتی… میں نے لڑکوں سے کہا کہ پرانی گاڑی پریشان کررہی تھی، یہ مجھے اچھی لگی۔ ظاہر ہے لڑکوں کی سمجھ میں نہیں آئی یہ بات، لہٰذا وہ کیا بولتے! چوائس میری اپنی ہے، تمہیں کوئی پرابلم تو نہیں ہوئی؟‘‘
’’پرابلم…؟ ابھی آتے ہوئے ایک ٹریفک سارجنٹ نے روکا تھا۔ کاغذات تمہارے نام پر تھے۔‘‘ اس نے اپنی لمبی پلکیں جھپکائیں اور نظریں جھکا کر بولی۔ ’’کیا کہتی …یہی کہ میرے شوہر کی ہے۔ یہ تو میں نہیں کہہ سکتی تھی کہ ہونے والے شوہر کی ہے۔‘‘
شیریں کی شرم سے جھکی پلکوں نے اسے ایسا حسین بنا دیا تھا کہ رستم کا دل قابو میں نہ رہا۔ وہ اس کے چہرے پر جھکے بغیر نہیں رہ سکا۔
وہ پیار بھری خفگی سے بولی۔ ’’توبہ ہے، ابھی میں تمہاری شرعی اور قانونی طور پر کہاں ہوئی ہوں۔‘‘
’’دیر تو تم کررہی ہو اس نیک کام میں، ورنہ یہ رشتہ کب کا پکا ہوچکا ہوتا۔‘‘ وہ اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بولا۔
’’رستم…! تم مرد ہو، اپنا ہر فیصلہ منوا سکتے ہو اور… بیوی مجبور ہے، اس کا ساتھ دینے والا کوئی نہیں ہوگا۔ مرد کی دوسری شادی نہ گناہ ہے اور نہ جرم…! شریعت نے مرد کو اجازت دے رکھی ہے، شاید خاندان والے بھی اسے سمجھائیں۔‘‘
رستم نے اقرار میں سر ہلایا۔ ’’خاندان بھی اب کیا ہے۔ ماں، باپ مرگئے۔ بھائی، بہن اپنے اپنے گھروں کے ہوگئے۔ یہ اس کی فطرت میں شامل ہے کہ مجازی خدا کے سامنے گستاخی نہ کرے۔ وہ بس روتی رہی اور اتنا پوچھا کہ میرا قصور کیا ہے؟ میں نے کہا کہ کوئی نہیں… میں آئندہ اپنی ذمہ داری نبھاتا رہوں گا۔ تمہیں کبھی شکایت کا موقع نہیں ملے گا۔‘‘
’’میرے بارے میں اسے کیا بتایا؟ یہ تو بتایا ہوگا کہ اس عمر میں مجھے لیلیٰ مجنوں والا عشق ہوا ہے؟‘‘ وہ زیرلب مسکرا کر بولی۔
’’میں نے کہا کہ ایک بے سہارا بیوہ ہے، کالج کی لیکچرر ہے۔ یہ گھر سوفیصد تمہارا رہے گا۔ میں نے اس محبت سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا۔ وہ بولی کہ یہ نہ کہو۔ پڑھی لکھی مل گئی ہے اپنے جیسی…! میں تو جاہل تھی، کسی کالج کی طالبہ نہیں تھی۔‘‘
’’اور بیٹوں نے کیا کہا، وہ یقیناً ماں کی طرف سے بولے ہوں گے؟‘‘
’’ہاں…! ایک زیادہ غصے میں تھا۔ کہنے لگا کہ آپ ظلم کررہے ہیں ہماری ماں پر… ہم آپ کے ساتھ ہرگز نہیں رہ سکتے۔ میں نے کہا کہ تم بالغ ہو اور خود مختار…! میں تمہارے کسی فیصلے کی راہ میں مزاحم نہیں ہوسکتا۔ جہاں دل چاہے رہو۔ آسان بات تھی جو ان کی سمجھ میں آگئی کہ وہ گھر سے جاسکتے ہیں لیکن مجھے نکالا نہیں جاسکتا لیکن جوان گرم خون ہے۔ ماں سے کہیں گے کہ آپ یہ گھر چھوڑ دیں، ہم کرائے کے کسی چھوٹے گھر میں رہ لیں گے مگر ماں ان کے ساتھ محل میں بھی نہیں جاسکتی شوہر کو چھوڑ کر…! نہ اس کی فطرت ہے نہ مزاج اور نہ تربیت…! رہی بیٹی تو وہ دبئی میں ہے اور وہاں سے خواب نگر جانے والی ہے، یعنی امریکا…! پرابلم کوئی نہیں تمہارے لئے اور نہ میرے لئے… ہم کسی اچھے علاقے میں کرائے کا لگژری فلیٹ لے لیں گے تاکہ خواب ناک ماحول میں رہیں۔ تم ڈر رہی ہو ابھی تک، بیٹے سے بات نہیں کی حالانکہ وہ امریکا میں عیش کررہا ہے اور اسے خاک بھی پروا نہیں ہوگی تمہاری… جو نوجوان لڑکے، لڑکیاں امریکا اور یورپ جاتے ہیں، ان کا خون سفید ہوجاتا ہے۔ وہ بے حس ہوکر وہاں کی رنگینیوں اور دلچسپیوں میں کھو جاتے ہیں اور لوٹ کر واپس آنے کی نہیں سوچتے ہیں۔ میں ان کے مزاج اور فطرت سے واقف ہوں، وہ لوٹ کر نہیں آئے گا۔‘‘
اس نے ایک گہری سانس لی اور اس کا چہرہ زرد اور سپاٹ ہوگیا۔ وہ بے بسی سے بولی۔ ’’مگر میری ماں تو ہے!‘‘
’’یس… اس پہاڑ کو سر کرنا تمہارا کام ہے، اس کے لئے کب تک سوچو گی آخر… اچھا چھوڑو یار! دیکھو یہ تو ہوسکتا ہے نا کہ تم صبح چلی جائو… رات ہوٹل میں گزارو!‘‘ اس نے تجویز دی۔
’’باربار ایک ہی بات کیوں کرتے ہو… جبکہ تم یہ بات اچھی طرح جانتے ہو کہ نئی نسل میں بے راہ روی کتنی تیزی سے بڑھتی جارہی ہے۔ کبھی کبھی تو میں یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتی ہوں کہ کاش! یہ کمپیوٹر، انٹرنیٹ اور موبائل فون ایجاد نہ ہوا ہوتا۔ یہ ایجاد جتنی اچھی ہے، اس سے کہیں زیادہ خراب ہے، اس نے لڑکوں سے زیادہ لڑکیوں کو بگاڑا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ادھر ایک لڑکی نے جنم لیا ادھر ماں، باپ نے اس کے ہاتھ میں موبائل تھما دیا۔ آج ہر لڑکی اور عورت کے ہاتھ میں موبائل نظر آتا ہے جیسے وہ اس کے بغیر ادھوری ہے۔ وہ شوہر اور ماں، باپ کے بغیر تو رہ سکتی ہے لیکن موبائل فون کے بغیر نہیں…! میرے علم میں ایسے واقعات ہیں کہ شوہروں نے بیویوں کو موبائل فون کی ممانعت کی تو وہ اس قدر برہم اور جذباتی ہوئیں کہ شوہروں سے علیحدگی لے لی۔ آج کی اسمارٹ لڑکیوں میں جن کے ہاتھوں میں اسمارٹ موبائل فون ہے، وہ کس قدر بے راہ روی کا شکار ہورہی ہیں۔ تم اس کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ تم جانتے ہو کہ کس قدر مشکل ہے کہ میں رات ہوٹل میں بسر کروں۔ میں گرلز ہاسٹل کی وارڈن ہوں۔ لڑکیوں کے کمروں میں اچانک چھاپے مارتی رہتی ہوں اور یہ دیکھتی رہتی ہوں کہ کون کیا کررہی ہے۔ دو لڑکیوں کو میں نے رنگے ہاتھوں پکڑا، دو بوائے فرینڈ بیڈ کے نیچے سے اس طرح برآمد کئے جیسے منشیات برآمد کی جاتی ہیں۔ موبائل پر ایس ایم ایس پڑھے تو میں حیرت زدہ ہوکر رہ گئی۔ ایسا لگا کہ یہ ایشیائی نہیں بلکہ امریکی یورپی لڑکیاں ہیں۔ یہ راستہ بھول کر انجانے راستے پر اندھا دھند چلی جارہی ہیں۔ انہیں کچھ خبر نہیں کہ ٹھوکر لگنے پر ان کے پاس آنسوئوں سے بھرا خزانہ ہوگا۔ انہیں پولیس کے حوالے کرنے اور گھر والوں کو ان کے ایس ایم ایس دکھانے کی دھمکی دے کر چھوڑ دیا۔ کچھ سے تو تحریری معافی نامہ لے لیا۔ میں جانتی ہوں کہ یہ باز آنے والی نہیں۔ ان کے کرتوت گنوائوں…! یہ چوکیدار کو ایک ایک ہزار کی رشوت دیتی ہیں، لڑکوں سے ملنے کے لئے…! مجھے بتائو کہ میں خود رات بھر اپنے کمرے سے کیسے غائب رہوں۔ یہ ممکن نہیں ہے،انہیں کھلی چھوٹ مل جائے گی۔‘‘
’’چھوڑ دو یہ ذمہ داری…! یہ اذیت ناک درد سری ہے۔‘‘ رستم نے مشورہ دیا۔
’’پھر میں کہاں جائوں…؟ کہیں اکیلی رہ سکتی ہوں میں کرائے کے فلیٹ میں…؟ ماں کو چھوڑو… کوئی اور رہنے دے گا مجھے…؟ کسی بدنیت کو علم ہوگا تو وہ رات کو آدھمکے گا۔‘‘
رستم کا چہرہ مایوسی کی تصویر بن گیا۔ وہ اس کی کسی بات کو جھٹلا نہیں سکتا تھا۔ پھر بھی وہ بولا۔ ’’گرمیوں کی چھٹیوں میں دو مہینے پڑے ہیں، پھر تم پنڈی چلی جائو گی۔‘‘
’’اس بار میں کوشش کرکے ماں کو منا کر ہی دم لوں گی۔ فکرمند اور پریشان نہ ہو، یہ تمہاری شیریں کا پرامس ہے۔‘‘
’’مجھے تمہاری بات اور وعدے پر اعتبار ہے۔‘‘ وہ بولا۔ ’’لیکن پہلے اپنے بیٹے سے تو این او سی لے لو۔‘‘
’’کیسی باتیں کرتے ہو؟ وہ ایک منٹ بھی نہیں لگائے گا فوراً سے پیشتر نانی کو فون کردے گا۔‘‘ وہ تشویش سے بولی۔
وہ پل صراط کے بیچ کھڑی تھی۔ حیران و پریشان…! اس کا دماغ کام نہیں کررہا تھا، کیونکہ یہ فیصلہ اس پر چھوڑ دیا گیا تھا وہ جنت میں رہے یا دوزخ میں…! محرومی اور تشنگی کی بے مقصد زندگی کس کرب ناک اذیت سے گزر رہی تھی۔ وہ کسی کٹی پتنگ کی مانند ہوکر رہ گئی تھی۔ کاش! اس نے ایک گہری سانس لی تو اس کے سینے میں سانسوں کا تلاطم ہچکولے کھانے لگا۔ اس نے دل میں سوچا۔ کاش! اس کے پیروں میں یہ سونے کی زنجیر نہ ہوتی۔
رستم نے اس کے ہاتھ کی پشت پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔ ’’کیا سوچ رہی ہو، اس قدر فکرمندی اور پریشانی سے؟ تمہارے چہرے پر افسردگی ابھر رہی ہے۔‘‘
’’کچھ نہیں!‘‘ وہ چونکی، اس نے خود کو سنبھالنے کی کوشش کی کہ بشرے اور آنکھوں سے رستم کو اس کے دلی احساسات کا اندازہ نہ ہو۔ ’’میرا خیال ہے میں چلتی ہوں۔ اس وقت میں ان ٹین ایجرز سے زیادہ گلٹی محسوس کررہی ہوں، جن پر میں اخلاقی پہریدار ہوں۔ خیر…! ایک بات اور وہ جو میری گاڑی تم نے لے لی ہے، اسے رکھنا اپنے پاس… وہ میرے ابو نے میری پیدائش پر خریدی تھی اور میری ماں کو ابا سے زیادہ عزیز ہے آج بھی!‘‘
اپنے جیتے جاگتے وجود سے نکلتی خواہش کی آگ جو اس نے خود بھڑکائی تھی، اب سرد پڑ رہی تھی اور خواب اسے بلا رہے تھے۔ خواب میں سب ممکن تھا۔ رستم کی قربت بھی…!
اپنی بزدلی پر اسے کوئی شک نہ تھا، مگر اپنی اس بے رحمی، خودغرضی اور ہمت پر حیران تھی کہ کس طرح وہ محض اپنی ضرورت پر پچیس برس وفادار رہنے والی ایک عورت کے جذبات کو بلڈوز کررہی تھی۔ اس کے شوہر پر قبضہ کرنا چاہتی تھی اور اسے جیتے جی بیوہ…! اور یہ بات آج سچ ثابت ہورہی تھی کہ عورت کا گھر عورت ہی اجاڑتی ہے۔
٭…٭…٭
زیب النساء بیگم ہر روز کی طرح فجر کی نماز پڑھ کر پھر سو گئی تھیں۔ جب ان کی آنکھ آٹھ بجے دوبارہ کھلی تو بستر کے سرہانے کی طرف کھلنے والی کھڑکی پر پڑے بھاری پردوں کے پیچھے کھڑکی کے شیشے روشن دکھائی دیئے۔ انہوں نے محسوس کیا کہ پرسکون نیند کے باوجود ان پر کچھ تکان سی غالب ہے۔ یوں جیسے جسم کا درجہ حرارت ایک دو ڈگری بڑھ گیا ہو۔ ایک ریموٹ سے انہوں نے بیڈ سائیڈ کی لائٹ جلائی پھر دوسرے سے اے سی آف کیا جو کمرے کو خاصا ٹھنڈا کرچکا تھا۔ شاید باہر کا موسم ابر آلود تھا۔
اگلے لمحے کھڑکی کھول کر دیکھنے پر ان کے خیال کی تصدیق ہوگئی۔ باہر آسمان ابرآلود تھا اور مری کی سمت سے بارش برسانے والے بادل بڑھتے چلے آرہے تھے جو کسی بھی لمحے برس سکتے تھے۔ تیز طوفانی ہوائوں کے تھپیڑوں سے درخت جھوم رہے تھے۔ پھر ایک بجلی کا کوندا سا لپکا تو بادل غصے سے غرایا۔ زیب النساء کا رواں رواں تازگی سے سرشار ہوگیا۔
گھنٹی بجا کر اکمل کو طلب کرنے کی بجائے انہوں نے غسل خانے کا رخ کیا۔ منہ دھو کر انہوں نے شب خوابی کا لباس تبدیل کیا۔ انہوں نے اکمل کو اس لئے نہیں بلایا تھا کہ وہ شب خوابی کے لباس میں تھیں۔ انہوں نے وارڈ روب سے ایک ہلکے زرد رنگ کا سوٹ منتخب کیا جو موسم کی مناسبت سے تھا۔ ان پر ہر رنگ کھلتا تھا۔ وہ اپنے آپ پر نازاں ہوتیں اور خود کو خوش قسمت سمجھتی تھیں کہ عمر کے ساتھ ان کے وزن میں زیادہ اضافہ نہیں ہوا تھا، جبکہ ان سے چھوٹی بیشتر خواتین اب گوشت اور چربی کے بے ہنگم چلتے پھرتے ڈھیر میں تبدیل ہوگئی تھیں۔ وہ آہ بھر کے انہیں دیکھتیں اور رشک بھرے لہجے میں کہتی تھیں کہ اللہ ان پر مہربان ہے، جبکہ وہ لاکھ احتیاط کریں۔ صرف ہوا اور پانی پر زندہ رہیں اور کتنی فاقہ کشی کیوں نہ کریں، تب بھی ان کا جسم پھیلتا، بھدااور بے کشش ہوتا جاتا تھا۔ ایک وہ تھیں کہ انہیں کچھ منع نہ تھا۔ وہ بڑی چاق و چوبند اور حسن کی مثال تھیں۔ انہیں سلمنگ سینٹر جانے کی ضرورت تھی اور نہ کسی ڈائٹ پلان کی…! ان کا چھریرا اور متناسب بدن اور ان کی ٹانگیں آج بھی بآسانی ہر جگہ لے جارہی تھیں۔
’’اکمل…!‘‘ انہوں نے برآمدے کی راکنگ چیئر پر بیٹھ کر آواز دی۔
اکمل نے کچن کی کھڑکی سے جھانکا اور جواب دیا۔ ’’بیڈ ٹی لا رہا ہوں بیگم صاحبہ…! بس ایک منٹ۔‘‘ ہوا میں خنکی کے ساتھ ساتھ تازگی اور فرحت بھی تھی۔ صبح دم ہونے والی ہلکی بارش نے لان پر شبنم کے موتی بکھیر دیئے تھے۔ سرسبز جھاڑیوں کے ساتھ کیاریوں میں موسم گرما کے سارے شوخ پھول مسکرا رہے تھے۔ آہستہ آہستہ جھولتے ہوئے انہوں نے چائے ختم کی اور پھر اخبار اٹھا کے گیٹ کے پاس چلی گئیں۔ ربر بینڈ میں لپٹے ہوئے اخبار کو تھام کر ساتھ ایک گیٹ سے دوسرے گیٹ کا فاصلہ پھولوں کا معائنہ کرتے طے کیا۔ مالی اور شوفر دونوں فرمانبردار اور فرض شناس تھے۔ ان دونوں کو اکمل ایک برس قبل لایا تھا۔
واپس راکنگ چیئر پر بیٹھ کر انہوں نے سرسری نظر اخبار کی سرخیوں پر ڈالی اور بیزار ہوکر اسے تپائی پر ڈال دیا۔
اخبار کو سطر سطر چاٹنے کا خبط سرفرازصاحب کو تھا کہ چائے کی پیالی سامنے ہو یا ناشتا…! بیوی کچھ بھی بول رہی ہو، وہ ہوں ہاں کرتے جاتے تھے اور کمال یہ تھا کہ یہ سب سنتے بھی تھے جبکہ ساری توجہ ان کی خبروں پر ہوتی تھی۔ اب وہ اس دنیا میں نہیں رہے تھے۔ تب بھی اخبار اسی طرح آرہا تھا۔ پڑھا جائے یا نہ پڑھا جائے…!
ایک آواز پر اکمل نے ناشتا ان کے سامنے میز پر چن دیا۔ جیسے اس کی عکاسی کرکے کسی کھانے پکانے کے رسالے میں بھیجنا ہو۔ انہی کا ہم عمر ہونے کے باوجود وہ نوجوانوں سے زیادہ مستعد تھا۔ اس کے کان زیب النساء کی آواز کا مطلب سمجھ لیتے تھے۔ وہ ان مزاج شناس اور زرخرید غلاموں جیسا فرمانبردار تھا کہ جائز، ناجائز سب سن لیتا تھا۔ یوں وہ بھی اس کی ہر ضرورت کا خیال رکھتی تھیں۔ دنیا میں وہ بھی اکیلا تھا۔ چنانچہ اس کی تنخواہ بینک اکائونٹ میں جمع ہوتی جارہی تھی۔ کھانا، کپڑا اور جوتے اسے بن مانگے مل جاتا تھا۔ وہ اس معاملے میں بڑا خوش نصیب تھا۔
جب اکمل ناشتے کے برتن اٹھانے آیا تو زیب النساء نے کہا۔ ’’دیکھو ڈاکٹر صاحب کو بتائو کہ مجھے بخار سا محسوس ہورہا ہے۔‘‘
’’آپ نے تھرما میٹر سے چیک کیا بیگم صاحبہ…؟‘‘
’’وہ خود دیکھ لیں گے۔‘‘ زیب النساء نے چڑ کر کہا۔ ’’وہ کس مرض کی دوا ہیں؟ کیا میں خود ڈاکٹر بن کر بخار چیک کرلوں؟‘‘
پڑوس میں رہنے والے ڈاکٹر چوہدری نوازش، اکمل کے فون کرنے پر کوئی دس منٹ بعد طلوع ہوئے تو ان کے چہرے پر بڑی شادابی تھی۔ بہتّر برس کی عمر میں ان کی اچھی صحت کا راز ایک منظم زندگی تھی۔ وقت پر سونا جاگنا، کم کھانا اور کام…! سرخ پولو شرٹ اور کریم کلر کی پتلون میں وہ اسمارٹ لگ رہے تھے۔ انہوں نے پیشہ ورانہ مسکراہٹ کے ساتھ زیب النساء کے ماتھے پر ہاتھ رکھا اور پھر نبض دیکھی۔ ’’لگتا تو نہیں… لیکن میں پھر بھی چیک کئے لیتا ہوں۔‘‘
انہوں نے بیگ سے تھرما میٹر نکال کر زیب النساء کے منہ میں لگایا اور ایک لمحے کے بعد اعلان کردیا۔ ’’کچھ نہیں ہے۔ وہم مت کیا کریں۔‘‘ اور پھر وہ ان کے سامنے والی کرسی پر براجمان ہوگئے۔ ’’آج موسم کس قدر سہانا اور خوشگوار ہے لیکن آپ کا موڈ خراب کیوں ہے؟‘‘
’’یہ آپ کا وہم ہے۔‘‘ زیب النساء نے یہ کہہ کر اکمل کو آواز دی۔ وہ چائے کی ٹرے لئے نمودار ہوا۔
’’نہیں…! یہ جو سارا دن آپ ڈپریشن طاری کرنے والے زنانہ سیاست کے ڈرامے دیکھتی ہیں، یہ اس کا اثر ہے اور ہاں! میں نے دو فلمیں دی تھیں آپ کو…!‘‘
’’دیکھ لیں… بور…! میں نے کہا تھا کہ نئی فلمیں لائیں۔‘‘
’’او مائی گاڈ…! یہ مار دھاڑ، چیخ پکار اور ناچ گانے والی فلمیں کیسے ہضم کرلیتی ہیں آپ؟‘‘
’’جیسے آپ یہ روتی، دھوتی آرٹ موویز ہضم کرلیتے ہیں۔‘‘ وہ ہنس کر بولیں۔
ڈاکٹر چوہدری نوازش نے چائے ختم کی اور بولے۔ ’’گھر سے نکلا کریں، یونہی ہر وقت مت بیٹھی رہا کریں۔‘‘
’’خدا کے لئے اپنا یہ لیکچر پھر مت شروع کردینا۔ میں بالکل ٹھیک ہوں… میں ہفتے میں دو بار اپنا اسکول دیکھنے جاتی ہوں، ایک بار دوائیں اور پھل لے کر اسپتال…! ہماری ہفتہ وار میٹنگ ہوتی ہے ہر پیر کو… میرا سوشل حلقہ بہت ہے سمجھے…! آپ جو سارا دن کمرے میں بند کتابوں میں غرق رہتے ہو یا فلموں میں…؟‘‘
’’میرا کمرا ایک دفاعی حصار ہے۔ کسی کی بک بک نہیں سنتا اور نہ ہی صورت دیکھتا ہوں۔‘‘ وہ اک دم ہنس پڑے۔
ایک بچے نے درمیانی دیوار کے اوپر سے سر نکالا اور چیخ کر بولا۔ ’’دادا جان! جلدی آئیں… پھر سے جنگ شروع ہوگئی ہے۔ ممی اور ڈیڈی خوف ناک انداز میں لڑ رہے ہیں۔‘‘
ڈاکٹر چوہدری نوازش فوراً ہی ایک جھٹکے سے اٹھ کھڑے ہوئے۔ ان کے جاتے ہی خورشید آگیا۔ حسب معمول وہ اکیلا ہی تھا اور وہ اندازہ کرسکتی تھیں کہ وہ بچوں کو اسکول چھوڑ کر کسی غرض سے یہاں آیا ہوگا۔ سلام کرکے بیٹھ جانے کے بعد وہ میز پر رکھی مختلف سائز کی شیشیاں دیکھ کر مسکرائے بغیر نہ رہ سکا۔ پھر بولا۔ ’’امی جان…! اب آپ کی طبیعت کیسی ہے؟ فائن…!‘‘
’’کیسی لگ رہی ہوں؟‘‘ زیب النساء نے الٹا سوال کیا۔
’’اس خبطی ڈاکٹر چوہدری نوازش کو ضرور کمیشن ملتا ہوگا۔ ایک درجن ملٹی وٹامن گولیاں اور سپلیمنٹ کھانے پر لگا دیا ہے آپ کو! یہ ڈاکٹر لٹیرے ہوتے ہیں۔‘‘
’’اس میں تمہارا تو کوئی نقصان نہیں۔ تم سے خرید کر لانے کو تو نہیں کہتی، میں خود خریدتی ہوں۔‘‘
’’اور آپ کو یقین ہے کہ آپ سو برس جی لیں گی۔ یہ سو برس کی ناول نگار نے بھی ایسا ہی دعویٰ کیا تھا نا؟‘‘
زیب النساء بے اختیار مسکرا دیں۔ ’’وہ ننانوے برس زندہ رہی تھی۔ یہ بھی ایک ریکارڈ ہے، کرکٹ کے
ایسے کھلاڑیوں کی اکثریت جو ننانوے رن پر دھڑن تختہ ہوتے رہے ہیں۔‘‘
’’زندگی اور موت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے پیاری امی جان!‘‘
’’وہ جو ننانوے رن پر آئوٹ ہوتے رہے ہیں، وہ بائولر کے ہاتھ میں تھا؟‘‘
’’ڈپریشن نے انہیں سو رنز مکمل کرنے نہیں دیئے۔ وہ صبر اور تحمل سے کام لیتے، جلد بازی نہ دکھاتے تو سنچری کرلیتے۔‘‘
’’یہ ٹھیک ہے پیارے بیٹے…! لیکن مجھے بتائو کہ دنیا بھر کے ترقی یافتہ ممالک میں انسان کی اوسط عمر کیوں بڑھتی جارہی ہے۔ جاپان میں ستر سے اوپر ہے اور اسے وہ ننانوے کرلیں گے، یہ دعویٰ ہے ان کا!‘‘
’’وہ لمبی عمر جیتے ہیں تو زندگی سے لطف بھی اٹھاتے ہیں نا۔‘‘
’’تمہیں کیا معلوم کہ میں زندگی سے کتنا لطف اٹھا رہی ہوں، اپنے طریقے سے…!‘‘
وہ اک دم سنجیدہ ہوگیا اور طنزیہ انداز میں بولا۔ ’’اکیلی چار کنال کے اس گھر میں ایک بڈھے کھڑوس نوکر کے ساتھ…؟ کیا آپ کو علم ہے کہ لوگ کتنی باتیں کرتے ہیں؟‘‘
زیب النساء کا حوصلہ جواب دے گیا۔ وہ تنک کر بولیں۔ ’’کیا میں کچھ نہیں جانتی…؟ سب جانتی ہوں کہ وہ کون لوگ ہیں۔ کیا تم مجھے اس وقت یہی بتانے آئے ہو؟‘‘
خورشید سنبھل گیا اور محتاط ہوکر بولا۔ ’’سوری امی جان! اس عمر میں لوگ پوتے، پوتیوں سے خوشی پاتے ہیں۔‘‘
’’کیا میں یہ نہیں چاہتی تھی بیٹا! اوروں کو دیکھتی ہوں تو مجھے ان پر رشک آتا ہے اور میرا احساس محرومی بڑھ جاتا ہے۔ میں بے حد جذباتی ہوجاتی ہوں مگر جو قسمت میں نہ ہو، وہ کہاں نصیب ہوتا ہے؟‘‘ انہوں نے افسردگی سے کہا۔
’’کیا یہ حقیقت نہیں ہے امی جان! آپ نے خود سے اپنے آپ کو تنہا کیا ہے…؟ قصوروار کیا آپ نہیں ہیں؟ ایک بیٹی ہے آپ کی، وہ لاہور میں اکیلی نوکری کررہی ہے، بیوہ ہونے کے باوجود…!‘‘
’’اسے اپنی آزادی اور خودمختاری زیادہ عزیز ہے اور اس لئے میں اس کی خودمختاری میں دخل نہیں دیتی۔ ویسے بھی اسے سمجھانا بھینس کے آگے بین بجانے کے مترادف ہے۔ خورشید…! میں نے ایک ماں کی حیثیت سے اپنی ہر ذمہ داری پوری کی۔ سب کو اعلیٰ تعلیم دلوائی جس کی وجہ سے آج سب باعزت اور خوشحال زندگی گزار رہے ہیں۔ سب کی شادی بھی کردی، رہنے کو گھر بھی فراہم کردیئے اور ان کی پسند کی گاڑیاں بھی دلوا دیں۔ کبھی کسی چیز کی کمی نہیں ہونےدی۔ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ میں اپنی جھولی لے کر خوشیوں کی بھیک مانگنے پوتے، پوتیوں کے پاس جائوں؟‘‘
’’وہ آتے تو ہیں آپ کے پاس…!‘‘ خورشید دبے لہجے میں بولا۔
زیب النساء کے چہرے پر سختی آگئی اور وہ بولیں تو ان کے لہجے میں طنز تھا۔ ’’ہاں! مجھے اس سے کب انکار ہے لیکن کیوں اور کس لئے، تم نے یہ بات سوچی۔ عید پر عیدی لینے اور سالگرہ پر گفٹ لینے اور پاس ہونے پر انعام لینے ورنہ ایک برس کے تین سو پینسٹھ دنوں میں ایک فون کال تک نہیں کرتے۔ ان کے سر کی قسم کھا کر بتائو کیا نانا، نانی اور خالہ، ماموں سے بھی ان کا اتنا ہی تعلق ہے؟‘‘
’’مگر امی جان…! آپ نے خود ہی تو انہیں اپنے سے دور کیا ہے؟‘‘
’’ہاں…! اس لئے کہ میں نے تمہاری شادی کی تھی، اپنی عزت کا سودا نہیں کیا تھا۔ بہوئوں کو اس لئے گھر میں نہیں لائی کہ وہ میری خدمت کرنے کی بجائے مجھے ذلیل کریں۔ تم رہو ان کے فرمانبردار اور زن مرید بن کر تاکہ اس طرح وہ بھی خوش رہیں۔ لڑکیاں شادی کے بعد چاہتی ہیں کہ سسرال کی جھنجھٹ نہ رہے۔ ایک آزاد، خودمختار اور خواب ناک زندگی سسرال کے بغیر ہی مل سکتی ہے۔ میں ان کی صورت تک دیکھنے کی رودار نہیں ہوں۔ وہ بھی خوش ہیں، میں بھی بڑے سکون سے ہوں۔ وہ سب اپنی اپنی زندگی اپنی مرضی سے جی رہی ہیں۔‘‘
’’آپ ایک موقع اور دیں۔ ہم سب آپ کی خدمت کرنا چاہتے ہیں، آپ کو خوش رکھنا چاہتے ہیں۔‘‘ خورشید نے کہا۔
زیب النساء نے بڑے تحمل سے نفی میں سر ہلا کر کہا۔ ’’یہ غلطی میں دوسری بار ہرگز نہیں کروں گی بیٹے…! یہ تو پیروں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہوگا۔ کسی دانا کا قول ہے کہ کسی کو ایک بار آزمانے کے بعد دوسری بار آزمانہ زندگی کی سب سے بڑی غلطی اور حماقت ہوتی ہے۔ بہرحال تم فکر مت کرو، میں بہت خوش مطمئن اور آسودہ زندگی گزار رہی ہوں۔ اگر میری بہوئوں کو ساس کی خدمت کرنا ہوتی تو وہ کبھی گھر کی چوکھٹ پار نہ کرتیں۔ وہ حسین، جوان اور پرکشش ہیں۔ ان کے دل کیسے ہیں، یہ ان کے چہروں پر آجاتا ہے۔ وہ الگ رہ کر نہ صرف خوش رہتی ہیں بلکہ دعا بھی مانگتی رہتی ہیں کہ خدا کرے بھولے سے بھی ساس کا سایہ نہ پڑے اور ہاں! چھوڑو ان لاحاصل باتوں کو! بتائو کس لئے آئے ہو؟ ضرورت ہے کسی چیز کی تو بتائو؟ تمہیں دو بیڈ کا گھر چھوٹا پڑتا تھا، میں نے ایک کنال والا تین بیڈ کا گھر اچھے علاقے میں خرید کے دے دیا۔ طارق بزنس کرنا چاہتا تھا، اس کی دکان کے لئے سرمایہ فراہم کردیا۔ وہ اچھی چل رہی ہے۔ اس کے دو بچے ہیں، انہیں گرین ٹائون والا دس مرلے کا گھر کافی ہے۔ بس! اور کچھ نہیں کروں گی میں…! یہ کان کھول کر سن لو۔‘‘
خورشید احساس ذلت سے مشتعل ہوکر اٹھا۔ اسے ایسا لگا کہ ماں نے اس کے منہ پر تھپڑ رسید کیا ہو۔ وہ قدرے تلخی سے بولا۔ ’’ابو ہوتے تو یہ نہ ہوتا۔‘‘
وہ بھی تلخی سے ہنسیں اور پھر استہزائیہ انداز سے کہا۔ ’’پھر میرا دیا ہوا یہ سب نہ ہوتا جو آج تمہارے پاس ہے۔‘‘
پھر وہ خورشید کو پیر پٹختا غصے سے کانپتا اور سرخ چہرہ لئے گاڑی ریورس کرتا دیکھنے لگی تھیں۔ بیٹے کی سانسیں اس طرح پھول رہی تھیں جیسے وہ دور سے بھاگتا ہوا آیا ہو۔ جو بات وہ کہنے آیا تھا، ہو نہیں سکی۔ تنائو کی فضا میں بڑی تلخی گھل گئی تھی۔ انہیں اس کے غصے کی کوئی پروا نہیں رہی تھی۔
زیب النساء نے گھڑی دیکھی اس ڈرامے کی ’’ری پیٹ‘‘ ٹیلی کاسٹ کا وقت ہوگیا تھا جو رات کو ادھورا رہ گیا تھا، ان کی ایک دیرینہ سہیلی کا ٹیلیفون آجانے کی وجہ سے! ڈرامہ دیکھ کر ان کا ڈپریشن بڑھ گیا تھا۔ وہ عین ٹی وی کے اوپر لگی سرفراز کی تصویر جو زندگی سے بھرپور مسکراہٹ والی تھی، کو ستائش بھری نظروں سے دیکھتی رہتی تھیں۔ انہوں نے چند ساعتوں کے لئے بھی نگاہیں نہیں ہٹائیں اور ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے ان کی مسکراہٹ دل جوئی کررہی ہو جس سے قلب کو طمانیت سی محسوس ہورہی ہو۔ حالات جیسے بھی ہوتے، سرفراز ہوتے تو انہیں یوں مصنوعی سہاروں کی ضرورت نہ پڑتی۔ قدرت بھی کیسی ستم ظریف ہے۔ اتنا سب کچھ دے دیا اور جو سب کچھ تھا، اسے اٹھا لیا۔
باہر ٹریفک کا شور ایک دم بڑھ گیا تھا۔ یہ حسب معمول تھا۔ یہ وقت اسکولوں کی چھٹی کا تھا۔ بچوں کو لانے لے جانے والی وین، بسیں اور پرائیویٹ گاڑیاں ایک ہی وقت میں نکلتی تھیں، اس لئے ٹریفک کا جام ہوجانا یقینی اور لازمی تھا، پھر ہارن ایسے بجائے جاتے تھے جیسے بگل جنگ بجایا جارہا ہو۔ اس وقت گھر سے نکلنا کسی بھی عذاب سے کم نہیں ہوتا تھا۔ کان کے پردے پھٹتے ہوئے محسوس ہوتے تھے۔ اس پوری سڑک پر اب انگلش میڈیم اسکولز کا قبضہ ہوچکا تھا۔
ان اسکولوں کے کیمپس بہت بڑے تھے جو انہوں نے پرانے اور خستہ گھر گرا کر تعمیر کئے تھے۔ باقی ایک یا دو کنال کے گھروں سے کام چلا رہے تھے۔ چونکہ انگلش میڈیم اسکولز منافع بخش کاروبار بن گئے تھے۔ اس لئے سڑک کے دائیں بائیں والی بغلی گلیاں بھی ان اسکولوں سے بھر گئی تھیں۔ یہ سلسلہ خاصا دراز ہوگیا تھا۔
کیسا وقت تھا جب وہ اپنا شاندار ہنی مون گزار کر پاکستان لوٹے تھے۔ ان کا نشہ ایک عرصے تک اترنے کا نام نہیں لیتا تھا۔ یہ جوانی کا نشہ تھا۔ ان کے شوہر کہتے تھے جوانی کا سا نشہ کسی اور چیز میں نہیں ہوتا۔
شادی کے فوراً بعد وہ اپنے شوہر کے ساتھ لندن چلی گئی تھیں، جہاں وہ کسی اسپتال میں ہائوس جاب کے ساتھ ایف سی آر کررہے تھے۔ ہارٹ اسپیشلسٹ بن جانے کے بعد ان کے حالات پہلے جیسے سخت اور پریشان کن نہیں رہے تھے۔ نہ تنگدستی تھی، نہ مالی پریشانیاں اور احساس محرومیاں رہی تھیں۔ ان کے شوہر کو بیرون ملک میں ایک اسپتال میں بہت اچھی تنخواہ اور بے شمار مراعات کے ساتھ ملازمت مل گئی تھی اور وہ ترقی کرتے کرتے اپنے شعبے کے سربراہ بن گئے تھے۔ انہوں نے نہ صرف کروڑوں کمائے بلکہ لاکھوں بچائے بھی تھے۔ جب شیخ اور شہزادے صحت یاب ہوکر جاتے، انہیں سیکڑوں، ہزاروں کی رقم، ہیرے اور نوادرات انعام و اکرام میں دے جاتے تھے۔ ان کے پاس بے پناہ مال جمع ہوتا گیا۔
وہ اسپتال میں ملازمت کے دوران ایک برس میں کبھی لندن، پیرس، سوئٹزرلینڈ اور کبھی امریکا کا چکر لگا آتے۔ ان کے بچے بھی لندن میں زیرتعلیم تھے اور وہیں ہاسٹل میں رہتے تھے۔
ان کی زندگی میں عیش ہی عیش تھا اور ان کے شوہر نہیں عاشق زار تھے۔ ان کے گہرے اور بے تکلف دوست مذاق اڑاتے تھے کہ یار اب تو ختم کرو یہ سچی محبت کا ڈرامہ! مگر وہ ڈرامہ کہاں تھا، ایک ٹھوس حقیقت تھی جسے جھٹلایا نہیں جاسکتا تھا۔ ان کے شوہر کی اس محبت کا راز یہ تھا کہ وہ نہ صرف سولہ برس کی دوشیزہ دکھائی دیتی تھیں، بلکہ ان سے ٹوٹ کر محبت کرتی تھیں۔ اگر یکطرفہ محبت ہوتی تو یہ بات نہ ہوتی۔ وہ ان سے کہتے رہتے تھے کہ تم یقیناً کوئی ساحرہ ہو جو تم نے اپنے طلسم میں اسیر کررکھا ہے۔ اگر ان کے سرتاج چاہتے تو اس ملازمت کو جاری رکھتے جو سونے کی کان سے کسی طرح کم نہیں تھی یا برطانیہ کی شہریت حاصل کرلیتے اور لندن ہی میں مستقل سکونت اختیار کرلیتے مگر اچانک اور غیر متوقع طور پر ان پر حب الوطنی کا دورہ پڑا۔
ایک دن انہوں نے اپنے شوہر کو سوچ اور فکرمندی میں گم پایا تو پوچھا۔ ’’کیا بات ہے۔ آپ کو میں نے کبھی اس قدر پریشان اور افسردہ نہیں دیکھا؟‘‘
’’نہیں…! اللہ کا بڑا کرم ہے اور احسان ہے۔‘‘ وہ جیسے جبراً مسکرائے۔ ’’پریشانی بھلا کس بات کی ہوسکتی ہے؟‘‘
’’آپ کچھ چھپا رہے ہیں۔ میں کئی دن سے دیکھ رہی ہوں آپ کسی گہری سوچ میں غلطاں رہتے ہیں۔‘‘
’’یہ ٹھیک ہے۔ میں سوچتا ہوں …! کیا میرا بس یہی کام ہے؟ پیسہ کمانا، مزید پیسہ کمانا…؟ جو خرچ نہ ہو تو میں اسے عیاشی میں لٹائوں؟ بزنس کلاس میں سفر کروں اور سیون اسٹارز ہوٹلوں میں قیام کروں؟‘‘
’’یہ تو خوشی کی بات ہے۔ لوگ کماتے ہیں تو دل کھول کر خرچ بھی کرتے ہیں بلکہ کرنا بھی چاہئے۔‘‘ وہ ہنس کر بولیں۔
’’جب میں ڈاکٹر بنا تھا وہ دن میری زندگی کا سب سے یادگار دن تھا۔ اس دن کی طرح جس دن تم میری زندگی میں چپکے سے بہار بن کر آئی تھیں۔ وہ دن اور سہاگ کی پہلی رات جسے میں بھلا سکا اور نہ ہی کبھی بھلا سکتا ہوں۔‘‘ انہوں نے اپنی بات جاری رکھی تھی۔ ’’ہاں! تو میں یہ کہہ رہا تھا کہ سب کی طرح میں نے بھی ایک حلف اٹھایا تھا کہ دکھی انسانیت کی بےغرض خدمت کروں گا، جیسا سب اٹھاتے ہیں۔‘‘
’’یہ تو آپ کر ہی رہے ہیں۔ اللہ نے آپ کے ہاتھ میں شفا دی ہے اور کتنے مریض شفایاب ہوئے ہیں۔‘‘
انہوں نے ایک گہری سانس لی تو ان کے چہرے پر ایک گھٹا سی چھا گئی۔ وہ بولے۔ ’’یہ سب میں نے بلامعاوضہ نہیں کیا بلکہ بہت بھاری بلکہ منہ مانگی رقم لے کر کیا اور وہ عام لوگ نہیں تھے، وہ سب دولت مند تھے۔ عام آدمی تو مجھ سے مشورہ کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ تمہیں یاد ہے میرے ابا کو جب ہارٹ اٹیک ہوا تو بھائی انہیں ایک سرکاری اسپتال میں لے گئے تھے۔ جب میں پہنچا تو اس انتہائی نگہداشت کے وارڈ کی حالت دیکھ کر حیران رہ گیا اور انہیں بائی پاس کے لئے فوراً ایک نجی اسپتال لے گیا مگر تب تک دیر ہوچکی تھی۔‘‘
’’دیر تو خود انہوں نے کی تھی۔ انہیں بلڈ پریشر تھا لیکن وہ چیک نہیں کرواتے تھے اور جب انہوں نے ٹیسٹ کروائے تو رپورٹس کتنی خراب تھیں۔ تم نے کہا تھا ان سے کہ باقاعدہ علاج اور پرہیز کریں، پیسہ بھی بھیجا تھا مگر انہوں نے کچھ نہیں کیا۔‘‘ (جاری ہے)