Muqaddar | Episode 2

285
’’ہاں! مگر عام آدمی ایسا ہی ہوتا ہے۔ بھائی سے میں نے کہا تھا کہ وہ ان کا خیال رکھے، سختی اور احتیاط سے نہ صرف علاج کرائے بلکہ پابندی سے پرہیز کرائے۔ شاید وہ ایسا کرلیتا مگر ان کی عمر زبردستی نہیں بڑھائی جاسکتی۔ اب بھائی کا یہی مسئلہ ہے۔ اسے پیسے کی کوئی کمی نہیں مگر وہ بھی علاج اور پرہیز نہیں کرتا اور اس کے بچوں کے پاس وقت بالکل نہیں ہے کہ ان کی اپنی تفریحات انہیں وقت اور فرصت نہیں دیتی ہیں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ وہاں عام آدمی کو جو طبی سہولتیں سرکاری طور پر حاصل ہیں، وہ نہ ہونے کے برابر ہیں۔ وہ کسی بڑے نجی اسپتال جا نہیں سکتے۔ بڑی بڑی ڈگریوں والے بڑے نام کے ڈاکٹر، مریضوں کو اپنا مریض بنانے کے لئے، تاکہ کسی قصاب کی طرح اس کے گلے پر غیر محسوس انداز سے چھری پھیرتے رہیں، اس وقت تک جب تک اس کے جسم میں لہو کی ایک بوند تک نہ رہے۔ ہر سال ان کے پاس نئے ماڈل کی گاڑیاں اور اثاثوں میں اضافہ ہوتا رہے۔ بھائی نے مجھے ایک نامور ڈاکٹر کے بارے میں بتایا کہ سرکاری اسپتال میں وہ کتنی بدمزاجی اور ترش روی سے باری آنے پر ابا کو بڑے رسمی انداز اور بے دلی سے دیکھ تو لیتا جیسے ان پر احسان کررہا ہو۔ جب میرے کہنے پر بھائی اسے پرائیویٹ اسپتال میں لے گئے تو وہاں شام کو وہی ڈاکٹر صاحب تھے۔ بھائی نے بتایا کہ وہ وہاں ایسی خندہ پیشانی سے مسکرا کے ملا کہ بھائی حیران رہ گئے۔ صرف منہ مانگی فیس انسان کا رویہ خرید لیتا ہے اور پھر سرکاری اسپتالوں میں وارڈز کی حالت، اسٹاف کا رویہ اور اس سے بڑھ کر وہ دوائیں جو مفت میں دی جاتی ہیں، بیشتر جعلی اور غیر معیاری ہوتی ہیں جن کے متعلق اخبارات میں آئے دن چھپتا رہتا ہے۔‘‘
’’اب یہ تو حکومت کی بدانتظامی ہے… تم بھلا کیا کرسکتے ہو؟‘‘
’’یہ بات نہیں! کرنے والے کررہے ہیں، یہ آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔ یہ ڈاکٹر رفاہی اسپتالوں میں وقت یا برائے نام خرچ پر علاج کی سہولت فراہم کررہے ہیں۔ یہ بڑے نامور ڈاکٹر ہیں جو چاہیں تو یومیہ خاصی رقم کما سکتے ہیں، مگر دنیا سے ابھی انسانیت کا جنازہ نہیں اٹھا۔ ان کی بدولت اس پیشے کا تقدس قائم ہے۔‘‘
’’تو آپ بھی اس غرض اور مقصد سے پاکستان جانا چاہتے ہیں؟‘‘
’’کیا میرے وطن کا مجھ پر کوئی حق نہیں؟ کیا میں وطن اور قوم کا مقروض نہیں ہوں…؟‘‘
’’سرفراز! پاکستان کے حالات کا علم ہے نا تمہیں…؟‘‘
’’ہاں…! حالات ان کے لئے خراب ہیں جو سیاست کرتے ہیں یا اقتدار کے کھیل میں ملوث ہوتے ہیں، میرا ان سے کیا لینا دینا… کام کرنے والے اپنا کام کررہے ہیں۔‘‘
’’کیا ہم اپنے شہر میں رہ کر جی لیں گے؟ ہم جب آخری بار گئے تھے تو خود آپ ہی نے تو کہا تھا کہ معلوم نہیں کیسے جی لیتے ہیں لوگ یہاں…! پھر میرے لئے بھی نہ صرف مشکل بلکہ ناممکن ہوگا۔ میرا تو اب کوئی بھی نہیں ہے وہاں!‘‘ زیب النساء نے انہیں یاد دلایا۔
وہ زیب النساء کا ہاتھ بڑی محبت اور گرم جوشی سے تھام کر بولے۔ ’’ہم اپنے شہر نہ سہی اسلام آباد چلے جائیں گے، پنڈی میں رہیں گے۔ وہ پرسکون ہی نہیں بلکہ سرسبز اور چھوٹے شہر ہیں۔ مری، کاغان، سوات…! تم نے تو سب دیکھا ہے۔ یہاں ہم جس ریگ زار میں ہیں، ان کے مقابلے میں تو وہ جنت ہیں۔‘‘
’’تو کیا آپ نے یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ وہاں جاکر اسپتال بنائیں گے؟‘‘
’’اگر بنا سکا…! میں تنہا کیا کرسکتا ہوں اور صرف پیسے سے کچھ نہیں ہوتا۔ حکومت تو اتنا ہی کرسکتی ہے کہ اسپتال کے لئے زمین دے دے۔ آدمی نیت کرے تو مدد اللہ کرتا ہے۔‘‘
’’ٹھیک ہے سرفراز! میں آپ کے ساتھ ہوں۔‘‘ انہوں نے پریقین لہجے میں کہا۔
’’ایک اور بات ہے زیب النساء!‘‘
وہ سیدھی ہوکر بیٹھ گئیں اور ان کی آنکھوں میں جھانکتی ہوئی بولیں۔ ’’کہتے کیوں نہیں؟ تذبذب کس لئے ہورہا ہے؟‘‘
’’میرا خیال ہے کہ بچوں کو بھی ساتھ ہونا چاہئے۔‘‘ سرفراز نے کہا۔
وہ اس طرح چونکیں جیسے کرنٹ لگا ہو۔ ’’کیا…! لندن میں پڑھنے والے بچے اب پاکستان میں تعلیم حاصل کریں گے…؟ خدا کے لئے سرفراز! اپنی خواہش پر بچوں کا مستقبل تو قربان مت کرو… لوگ بچوں کو تعلیم کے لئے باہر بھیجتے ہیں، کتنے جتن کرکے کہ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوجائیں۔‘‘
’’کیا پاکستان میں اچھے اور معیاری اسکول، کالج نہیں ہیں؟ میں دراصل انہیں یہاں کے ماحول سے نکالنا چاہتا ہوں۔ بچے مغرب زدہ اور آزادانہ ماحول کے عادی ہوجاتے ہیں۔ معاشرتی، اخلاقی اور دینی طور پر یہاں کے لوگوں اور ہم میں زمین آسمان کا فرق ہے اور پھر وہ رشتوں کو بھول جاتے ہیں اور یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ وہ مسلمان ہیں، پاکستانی ہیں۔ وہ ماں، باپ کی ضرورت اور خدمت سے بے نیاز ہوجاتے ہیں۔ یہاں والدین اور بزرگوں کی خدمت اور اطاعت کا کوئی تصور نہیں ہے۔ وہ بوڑھے ماں، باپ کو اولڈ ہوم میں داخل کرا دیتے ہیں۔‘‘
’’یہ زیادتی ہے۔ آپ جذباتی باتیں کررہے ہیں اور آپ پرعمر کا اثر ہے کہ اب آپ کو مذہب، اخلاق اور وطن سب یاد آرہا ہے۔ بال کی کھال نکال رہے ہیں۔‘‘
’’کیا میں تمہیں بوڑھا لگ رہا ہوں؟‘‘ انہوں نے برہمی سے کہا۔ چند لمحے توقف کے بعد وہ پھر بولے۔ ’’میں سٹھیا نہیں گیا۔ ایک باپ کی حیثیت سے اولاد کی تربیت کا ذمہ دار ہوں۔ اگر آج مجھے احساس ہورہا ہے کہ بہت پیسہ کما لیا، اب نیکی بھی کمانی چاہئے تو تم مخالفت کیوں کررہی ہو؟ کتنی اور دولت چاہئے آخر تمہیں! بولو…؟‘‘
وہ سہم گئیں اور سینے میں خوف کی لہر اٹھی، کیونکہ ان کے شوہر نے کبھی ایسے لہجے میں بات نہیں کی تھی۔ وہ مفاہمانہ انداز میں بولیں۔ ’’مخالفت کا میں بھولے سے بھی نہیں سوچ سکتی سرفراز! میرے لئے تو سب کچھ آپ ہیں۔‘‘
دو مہینے بعد وہ اسی دنیا میں لوٹ گئے جہاں سے آئے تھے، حالانکہ یہ دنیا وہ نہیں تھی جسے وہ چھوڑ کر آئے تھے۔ ابتدا میں یہ ایک اور ہجرت تھی، شہر کی فضا میں جہاں ان کا بچپن سے جوانی تک کا وقت گزرا تھا۔ زیب النساء کے لئے ناموافق حالات میں بھی مانوسیت تھی۔ ماں، باپ اور بھائی، بہن نہ سہی ان کے کزن اور دور کے عزیز و اقارب اب بھی وہیں تھے۔ واپسی کا زیب النساء نے کبھی خواب میں بھی نہ سوچا تھا۔ انہیں ابتدا میں خاصی مشکلات کا سامنا رہا۔ اسلام آباد سرسبز اور بہتر ڈسپلن والا شہر تھا۔ انہوں نے عارضی طور پر جو مکان کرائے پر لیا، وہ اس گھر کے مقابلے میں چھوٹا تھا جسے وہ چھوڑ آئے تھے۔ تھوڑا سا فرنیچر، گھر کے لئے ایک ملازمہ جس کا شوہر ڈرائیور تھا مگر سرفراز ایک مشن لے کر آئے تھے۔ وہ بہت پرجوش اور سرگرم تھے۔ انہوں نے بچوں کے سامنے یہاں کی خوبصورتی اور پرسکون زندگی کا ایسا نقشہ کھینچا تھا کہ سال ختم ہونے کے بعد وہ اپنی تعلیم کا سلسلہ لندن کی بجائے اسلام آباد کے اسکول میں جاری رکھنے پر خوشی سے راضی ہوگئے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ باپ کا فیصلہ مانے بغیر چارہ نہیں۔ لڑکی نے البتہ مزاحمت کی کیونکہ اسے اندازہ تھا کہ پاکستان میں اسے وہ آزادی حاصل نہیں ہوگی جو لندن میں تھی۔
سرفراز کے فیصلے فوری اور اٹل ہوتے تھے۔ اچانک انہوں نے ایک دن جیسے شاہی فرمان جاری کردیا۔ ’’میں نے زمین دیکھ لی ہے۔ ہم اپنا نیا گھر چار کنال پر بنائیں گے۔‘‘
یہ سن کر وہ حیران رہ گئیں کیونکہ لندن میں ایسے ٹھاٹھ رئیسوں کے ہوتے تھے۔ ’’کیا کریں گے اتنے بڑے گھر میں رہائش اختیار کرکے…؟‘‘
وہ ہنس کر بولے۔ ’’ارے بھئی بچے بھی تو ساتھ رہیں گے اور پھر اس کا زیادہ حصہ لان، باغ، پالتو بطخ، ہرن اور فوارے بھی تو ہوں گے لیکن ایک بات اہم ہے۔ تمہیں یاد ہے میں نے لندن میں ایک جگہ دکھائی تھی ہارلے اسٹریٹ!‘‘
زیب النساء نے نفی میں سر ہلایا۔ ’’لیکن وہ بات تو بہت پرانی ہوگئی۔‘‘
’’وہاں سب ڈاکٹر ہی رہتے تھے۔ بڑے بڑے گھر اور ان کے پرائیویٹ کلینک…! یہاں بھی ایک ہارلے اسٹریٹ ہے، یاد آیا؟‘‘
’’نہیں! کیا وہاں بھی صرف ڈاکٹرز ہی رہتے ہیں؟‘‘
’’ہاں…! وہاں آباد ہونے والے سب ڈاکٹر ہیں اور انہوں نے طے کیا ہے کہ یہاں صرف ڈاکٹرز کو ہی رہنے کی اجازت ہوگی۔‘‘
لیکن یہاں کی ہارلے اسٹریٹ دیکھ کر زیب النساء کو سخت مایوسی ہوئی۔ انہوں نے اس کا جو تصور کیا تھا، وہ اس کے برعکس نکلی۔ ایک ویرانے میں لے جانے والی سڑک کے کنارے دس بارہ کوٹھیاں کھڑی تھیں اور ان کے سامنے لق و دق ناہموار میدان تھا۔ آس پاس کوئی بازار تھا اور نہ تفریح کی جگہ…! یہ ایک بے رونق اور غیرآباد جگہ تھی لیکن سرفراز نے یہاں رہائش گاہ بنانے کا فیصلہ کرلیا۔
جب پیسہ وافر ہو تو کسی بھی کام میں دشواری نہیں ہوتی۔ ٹھیکے دار نے آٹھ ماہ کا ٹارگٹ دیا لیکن ان کی کوٹھی کی تعمیر چھ ماہ سے قبل ہی مکمل ہوگئی تھی۔ اب زندگی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ دوسری کار خریدی گئی۔ اس کے لئے ڈرائیور رکھنا بھی لازمی تھا۔ دوسرا ڈرائیور بچوں کو اسکول لاتا لے جاتا تھا اور باقی وقت گھر میں موجود رہتا۔ چوکیدار پارٹ ٹائم مالی بن گیا۔ اس کا زیادہ وقت آرائش چمن میں گزرتا تھا۔ یہ معمول سرفراز کے سوا سب کے لئے بیزار کن اور اکتاہٹ کا باعث تھا لیکن کسی کے اختلاف یا احتجاج کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔
بیٹی نے سب سے زیادہ شور مچایا تھا۔ اسے اپنا کالج پسند نہ آیا تھا کہ کالج کی پرنسپل سخت مزاج تھی۔ گو پردہ لازمی نہیں تھا مگر سر پر دوپٹہ حجاب کی طرح ہونا ضروری تھا۔ بوائے فرینڈ کا یہاں کوئی تصور نہ تھا۔ ڈرائیور کو سرفراز کی سخت ہدایات تھیں کہ وہ اسے کہیں آنے جانے نہ دے۔
سرفراز نے دوسرے ڈاکٹرز سے رابطے کئے، حکومت سے زمین کی بات کی اور سرکاری افسران کے دفتروں کے چکر بھی لگائے مگر یہاں برطانیہ کی طرح کا قانون نہ تھا۔ یہاں سفارش سے زیادہ رشوت کا چلن تھا۔ اس کے بغیر جائز کام بھی نہیں ہوتے تھے۔ سرفراز سخت پریشان ہوئے لیکن وہ ان لوگوں میں سے نہیں تھے جو کسی چیز سے بددل ہوکر ہار مان لیتے ہیں۔ انہوں نے دل شکستہ ہوکر حوصلہ ہارنے کی بجائے اپنا مشن جاری رکھا۔
دن، رات کی دوڑ دھوپ، پریشانی، اعصابی دبائو اور فرسٹریشن میں وہ یہ بھول گئے کہ دل کا مرض ان کا خاندانی روگ ہے۔ باپ کے لئے عدم توجہی کا شکوہ کرنے والا خود اپنی صحت کا خیال نہ رکھ سکا۔ ایک رات سوتے میں انہیں اسٹروک ہوا۔ ایمبولینس کے آنے میں دیر لگتی، زیب النساء انہیں ڈرائیور کے ساتھ لے کر اسپتال پہنچیں لیکن وہ راستے ہی میں وفات پا چکے تھے۔
٭…٭…٭
اب زیب النساء کی زندگی کا کٹھن اور دشوار گزار دور شروع ہوا۔ یہاں بیوہ کا دوسری شادی کرنا گناہ کبیرہ جیسا تھا۔ انہیں جلد احساس ہوگیا کہ بقیہ زندگی تنہا وہ تمام ذمہ داریاں پوری کرتے گزارنا ہوگی جو سرفراز کے ہوتے ان کا مسئلہ نہ تھیں۔ بچوں اور گھر کے معاملات کو دیکھنا ان کے لئے ایک کھلا چیلنج تھا۔
ماں اور باپ کا دہرا کردار انتہائی صبرآزما اور اذیت ناک تھا۔ اکثر ان کا حوصلہ جواب دے جاتا۔ وہ راتوں کو سسک سسک کر روتی تھیں۔ سرفراز! تم مجھے کہاں لا کے تنہا چھوڑ گئے؟ ان کا رواں رواں فریاد کرتا تھا۔
فون کی گھنٹی بجی، ان کے خیالات کا سلسلہ ٹوٹ گیا۔ اکمل نے ریسیور اٹھایا جو کسی کام سے آیا تھا۔
’’جی سر…!میں بتا دیتا ہوں۔‘‘ اس نے جواب دیا اور ریسیور کریڈل پر رکھ کر ان سے مخاطب ہوا۔ ’’بیگم صاحبہ! آپ کو لنچ ڈاکٹر چوہدری نوازش کے ساتھ کرنا تھا۔ وہ انتظار کررہے ہیں۔‘‘
زیب النساء نے چونک کر فرش پر کھڑے آبنوسی لکڑی کے سات فٹ اونچے بگ بین جیسے کلاک کو دیکھا جس نے ڈھائی بجے کا اعلان کیا۔ سرفراز نے کتنے شوق سے یہ کلاک بنوایا تھا۔ انہوں نے ایک سرد آہ بھر کے سوچا۔
زیب النساء نے اپنے سراپے پر ایک نگاہ ڈالی اور دکھ سے سوچا۔ سرفراز اس کے سراپے کو دیکھ کر شوخی سے کہتے تھے کہ تم کبھی بوڑھی نہیں ہوگی، سدا جوان، شاداب اور دلکش رہو گی۔
دھوپ تیز تھی، ان کے بدن میں نیزے کی طرح چبھ رہی تھی۔ پھر وہ آہستہ آہستہ چلتی گیٹ تک گئیں۔ ڈاکٹر چوہدری نوازش دو بیڈ کی انیکسی میں اکیلا رہتا تھا۔ انہوں نے بڑا خوبصورت اور مغربی طرز کا گھر بنایا تھا۔ اسے اپنے دونوں بیٹوں کے سپرد کردیا تھا کہ جیسے چاہو رہو۔ وہ بذات خود اپنی زندگی میں کسی قسم کی مداخلت کا روادار نہیں تھا۔ اپنا ناشتہ خود بناتا تھا۔ بیٹوں کا کام کرنے والی ملازمہ اس کے برتن دھو جاتی، جھاڑو اور پونچھا بھی لگا جاتی تھی۔ انٹرکام پر وہ بیٹا، بہو کو بتا دیتا کہ اسے کس چیز کی ضرورت ہے۔ صبح سے دوپہر کے وقت وہ اخبار پڑھتے، بلند آواز میں موسیقی سنتے یا کوئی فلم دیکھنے میں گزرتا تھا۔ شام کو کوئی ان کا بھولا بھٹکا پرانا دوست یا مریض آجاتا، ورنہ وہ لان میں پوتے، پوتیوں کے ساتھ کرکٹ کھیلتے اور وہ دھما چوکڑی مچتی کہ آواز پڑوس میں زیب النساء تک پہنچتی تھی۔
’’اوہ بھئی زیبی! اتنی دیر…! میرا تو بھوک سے انتقال ہونے والا تھا۔ آج میں نے ایک نیا تجربہ کیا ہے۔‘‘ پھر وہ بڑی وضاحت سے نئی ڈش کی تفصیل بتانے لگے۔
’’سوری…! میں کچھ اَپ سیٹ تھی، اس لئے لنچ کا خیال نہ رہا۔‘‘ وہ بولیں۔
’’کیا اپنے بیٹے خورشید کی وجہ سے جو صبح صبح آدھمکا تھا؟‘‘ انہوں نے مسکرا کر کہا۔
وہ اس انکشاف پر حیران رہ گئیں۔ ان کا خیال تھا کہ وہ اس وقت ٹی وی دیکھنے میں مصروف ہوتے ہیں۔
’’اس بات کا علم آپ کو کیسے ہوا؟‘‘ انہوں نے پلکیں جھپکا کر پوچھا۔
’’میں نے اس کی گاڑی کو واپس جاتے دیکھا تھا اور وہ مسکرا بھی نہیں رہا تھا، چہرہ چقندر جیسا بنا ہوا تھا۔‘‘ وہ سنجیدہ سے بولے۔ ’’فار گیٹ خورشید… کھانا کھائو۔‘‘ انہوں نے ایک ڈش زیب النساء کی طرف سرکائی۔
’’کافی اچھا پکانے لگے ہیں اب آپ!‘‘ زیب النساء نے لقمہ لینے کے بعد اخلاقاً کہا۔
ان کے چہرے پر ایک عجیب سی افسردگی چھا گئی۔ وہ ایک سرد آہ بھر کے بولے۔ ’’مجھے پتا ہے کہ آپ میرا دل رکھنے کے لئے کہہ رہی ہیں زیبی…! حقیقت یہ ہے کہ میرے پاس اکمل جیسا خانساماں ہوتا تو کھانا بنانے کے چکر میں بھولے سے بھی نہ پڑتا۔ عادت خراب کردی تھی مرنے والی زوجہ نے…! اب یہ ایم ایس سی اور ڈاکٹر بہوئیں جو پکاتی ہیں، وہ روز کڑوی کسیلی دوا کی طرح حلق سے اتارنا میرے بس کی بات نہیں تھی۔ میں مجبوراً کچن میں جانے پر مجبور ہوگیا۔ یہ بہوئیں کچن میں نہیں بلکہ تقریبات اور باربی کیو میں دلچسپی لیتی ہیں۔‘‘
’’آپ ٹھیک کہتے ہیں۔ لڑکیاں اور عورتیں کچن سے دور ہوتی جارہی ہیں، جیسے وہ انہیں کاٹنے کو دوڑتا ہو۔‘‘
’’آدمی کوشش کرے تو سیکھ لیتا ہے۔ ساری بات شوق اور دلچسپی کی ہوتی ہے، مگر انہیں شوہر ملتے ہیں کاٹھ کے الو… اب جو بیاہ کر آتی ہیں، وہ شوہر سے کہتی ہیں کہ کھانا پکانے کے لئے خانساماں یا کوئی عورت رکھ لو۔ کچن میں جانے سے چہرے کا حسن، شادابی اور دلکشی متاثر ہوجائے گی۔ میں نے چھوڑ دیا تنقید کرنا۔ اپنی مرضی اور پسند کا پکوانے کے لئے… مہارانیاں کمرے سے بارہ بجے سے پہلے نکلتی نہیں تھیں اور ان کے شوہر ان کے ہاتھ کے ناشتے کی بجائے نوکروں کا بنایا کھا کر کام پر چلے جاتے ہیں۔ اولاد بھی مائوں کی بجائے نوکروں کے ہاتھوں پل رہی ہے۔ اب میں سکون سے ہوں۔‘‘
’’میں تو بری طرح ناکام ہوگئی ہوں، اس مہم میں، ساتھ رہ کر بھی کچھ نہیں کرسکی۔ پریشان کل بھی تھی، آج بھی پریشان اور فکرمند ہوں۔‘‘
’’اسی لئے آپ کو بریف کرتا رہتا ہوں کہ یہ پالیسی بالکل ٹھیک ہے۔ وقت کے ساتھ چلنا اور سمجھوتہ کرلینا نہ صرف دانشمندی بلکہ ایک طرح سے دوراندیشی ہے۔ سمپل سا فارمولا…! اپنی زندگی اپنی مرضی سے جیو۔ کسی سے کسی قسم کی کوئی توقعات وابستہ نہ کرو۔‘‘
وہ اٹھ کھڑی ہوئیں۔ سہ پہر کا وقت دونوں کے آرام کا ہوتا تھا۔
٭…٭…٭
طارق نے نصرت کمپلیکس کی چھٹی منزل کی کھڑکی سے دیکھا جو مغرب کی طرف کھلتی تھی اور سمندر کی بھیگی ہوئی نمکین ہوا جو یلغار کرتی اندر کسی آندھی کی طرح گھس آئی۔ دونوں جانب استادہ بلند عمارتوں نے جیسے ایک دیوار سی بنا رکھی تھی، جس کی تہہ میں بچھی ہوئی تارکول کی سڑک پر دونوں جانب آتی جاتی گاڑیوں کا نہ رکنے والا سلسلہ جاری تھا۔ دن کے مقابلے میں رات کو یہی سڑک تقریباً سنسان سی لگتی تھی۔ جب بینکوں کے ہیڈ آفس، انشورنس کمپنیاں اور کارپوریٹ فرموں کے دفاتر خالی ہوجاتے تھے اور اندھیروں میں ڈوبی عمارتیں یوں لگتی تھیں جیسے یہ کھنڈر ہوں اور ان کے کمروں میں جن، بھوتوں کا بسیرا ہو۔
اس نے کھڑکی زور سے بند کردی۔ وہ اس منظر کی یکسانیت سے بے زار اور متنفر تھا لیکن ایئرکنڈیشنڈ کمرے کو ہر طرف سے بند رکھنا ضروری تھا۔ خاصا کشادہ ہونے کے باوجود یہ آفس اسے زندان لگتا تھا۔ اس نے سوچ رکھا تھا کہ اپنا آفس بنائے گا تو اس میں پودے اور پھول ضرور ہوں گے جو موسم کے ساتھ ساتھ بدلتے رہیں گے۔ اس طرح تھکن کا احساس نہیں ہوگا۔
اس کی سیکرٹری نے بہار کے جھونکے کی طرح اندر آکر مطلع کیا۔ ’’سر! آپ کے مہمان تشریف لے آئے ہیں، کیا حکم ہے؟‘‘
’’اوکے…! انہیں اندر آنے دو اور ہاں! کافی بھیج دو۔‘‘ اس نے جواب دیا۔
’’رائٹ سر…!‘‘
وہ جس طرح خاموشی سے آئی تھی، اسی طرح غائب بھی ہوگئی۔
اندر آنے والا اس کا ہم عمر، خوش پوش اور جوان نظر آنے والا شخص تھا جو ایک بزنس کے معاملات طے کرنے آیا تھا۔
’’کیسے حال ہیں مسٹر کاشف مرزا! آپ کا دبئی کا دورہ کیسا رہا؟‘‘ اس نے پرجوش مصافحے کے بعد دریافت کیا۔
کاشف مرزا نے مسکرا کرکہا۔ ’’کاروباری اور نجی دونوں طرح سے کامیاب!‘‘
طارق ہنسا۔ ’’پہلے نجی کامیابی کی بات کرو۔‘‘
’’یار! اس دفعہ وہ مل گئی جو چند ڈراموں میں ہٹ ہوئی ہے، جبکہ ماڈلنگ میں ادھر سے ادھر خوار ہوتی پھرتی تھی… اب ہمارے ڈیزائنر وہاں خوب فیشن شو کررہے ہیں۔ کسی نے اسے اٹھا لیا۔ ایونٹ منیجر اپنا یار ہے، آج کل اس کے ساتھ ہے۔ اس نے میرے حوالے کردی کہ بیٹا کل یہ ہوا میں اونچی اڑنے لگی تو گھاس بھی نہیں ڈالے گی۔ تم سمجھتے ہو ان کی پی آر…؟‘‘
’’نہیں۔ میں بھولا بھالا، معصوم سا شوہر ہوں، بالکل کاٹھ کا الّو…!‘‘
سیکرٹری نے کسی ویٹرس کے انداز میں کافی کے دو مگ ان کے درمیان رکھے اور بڑی دلربائی سے پوچھا۔ ’’آپ کیسے ہیں؟‘‘
’’پتا نہیں… بائی دے وے میں تمہیں کیسا لگ رہا ہوں؟‘‘ کاشف مرزا نے شوخی سے کہا۔
وہ ہنستی مسکراتی واپس چلی گئی۔
’’یار…! تیری یہ سیکرٹری بہت اچھی ہے۔‘‘
’’تو پھر لے جا اپنے ساتھ! این او سی دیئے دیتا ہوں… دفتر کے کام کے علاوہ کافی اور سینڈ وچز بنانے میں بڑی مہارت رکھتی ہے۔ دو برس ہوگئے اسے میرے پاس…! اسے بدلنا چاہتا ہوں۔ یکسانیت سے اکتا گیا ہوں۔‘‘
’’چل ٹھیک ہے… اندھے کو کیا چاہئے، نیا ماڈل…! میری والی تیرے حوالے خوشی خوشی! وہ آٹھ برس پرانا ماڈل ہے۔‘‘ کاشف نے مسکراتے ہوئے کہا۔ اور پھر بزنس کی بات کرنے لگا۔
طارق اس کا منصوبہ سن کر خوشی سے بولا۔ ’’گڈ یار! کتنا وقت ہے؟‘‘
’’بس دو ہفتے…!‘‘ کاشف مرزا نے جواب دیا۔ ’’دیر کا کوئی فائدہ نہیں۔‘‘
طارق کی مسکراہٹ پھیکی پڑ گئی۔ ’’دو ہفتے بہت کم ہیں یار…! مجھے کچھ وقت درکار ہے۔‘‘
’’طارق…! قسمت صرف ایک بار موقع دیتی ہے۔ سنہری موقع باربار نہیں ملتا۔ دیر کی گنجائش قطعی نہیں… ٹائم از منی!‘‘
’’مجھے اندازہ ہے لیکن سارا مسئلہ سرمائے کا ہے۔ میں بھی سمجھتا ہوں کہ ایسا موقع پھر کبھی نہیں ملے گا۔‘‘
’’دیکھ یار! ایک تو معاملہ ہے دوستی کا… دوسرے پروفیشنل آدمی ہے تو جس پر میں ٹرسٹ کرسکتا ہوں۔ ورنہ یار…! کیپٹل کے ساتھ تو چوائس بہت ہیں۔‘‘
’’بالکل ہوں گی۔ مجھے اندازہ ہے تیرے تو ابا کے بزنس کی گڈول کام آگئی لیکن مجھے لون میں پرابلم ہے۔‘‘ طارق نے مایوسی سے کہا۔
’’بھائی…! تیری تو اماں چلتا پھرتا بینک ہے۔ اس کے صرف ایک دستخط کی تو بات ہے۔‘‘ کاشف مرزا نے مسکرا کر کہا۔
’’کیوں نہیں… بالکل! لیکن وہ قائل ہوں تب نا!‘‘ طارق سنجیدگی سے بولا۔
کاشف مرزا یکدم سے ہنس پڑا اور پھر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولا۔ ’’یار! ماں کو قائل کرنا بیٹے کے لئے کیا مشکل ہے۔‘‘
’’بس! وہ ذرا زمانہ شناس سمجھتی ہیں خود کو… ادھر ادھر کے کچھ لوگ ٹانگ اڑا رہے ہیں بس… یار! تو مجھے دوچار دن تو دے۔‘‘
’’اوکے…! آج کیا ہے۔ جمعرات… سنڈے کو فائنل میٹنگ رکھتے ہیں۔‘‘ کاشف مرزا جانے کے لئے اٹھ کھڑا ہوا۔
طارق نے بڑی گرم جوشی سے ہاتھ ملایا۔ ’’سنڈے…! میں تیرا انتظار کروں گا۔‘‘
کاشف مرزا کے جانے کے بعد وہ سوچتا رہا۔ اسے ایک آخری کوشش اور کرنی ہوگی۔ یہ خوش قسمتی سے ملنے والا چانس ضائع ہوگیا تو پھر پتا نہیں زندگی کیا دکھائے… کیا زندگی ایسے ہی ادھر سے ادھر بھٹکتے گزر جائے گی؟
طارق نے سب کچھ کرلیا تھا۔ وہ ایک مفاد پرست، خود غرض بن کر سب کے راستے کاٹتا، جائز ناجائز کی پروا کئے بغیر دن، رات ایک کرکے آگے نکلا تھا اور اب اس کے ماتحت اس کی عمر اور صلاحیت والے یا اس سے زیادہ پڑھے لکھے اور تجربہ کاروں کی ایک پوری ٹیم تھی، جس کی مجموعی کارکردگی اس کی ذمہ داری تھی۔
طارق کے اوپر ڈائریکٹر، ایگزیکٹو ڈائریکٹر، سی ای او وغیرہ تھے جو اس سے جواب طلبی کرتے تھے۔ نتیجہ یہ کہ دونوں طرف سے کھینچا جانے والا اسپرنگ ہوگیا تھا۔ ماتحتوں سے کام لینا آسان نہ تھا۔ سختی، نرمی کا توازن رکھنے کے باوجود ماتحت اسے پسند نہیں کرتے تھے اور وہ اوپر والوں کی خوشنودی کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا تھا۔
اور آگے بڑھتا بھی کیسے … وہ ڈائریکٹر بننے سے تو رہا۔ اس کی تنخواہ دو سے ڈھائی لاکھ ہوجائے گی پھر بھی اس کے معیار زندگی اور خواہشات کے مقابلے میں ہمیشہ ناکافی ہوگی لیکن بزنس کی بدولت مسلسل اضافہ ممکن ہے۔ اپنا بزنس! چھوٹا بڑا، اچھا برا، جائز، ناجائز! اس میں دن، رات ایک کردینے کا فائدہ خود کو ہوتا ہے لیکن اس کے لئے سرمایہ درکار ہے۔ وقت کم تھا اور اسے ہرگز ہرگز کسی قیمت یہ چانس نہیں گنوانا تھا۔
خوشبو کا جھونکا بن کے سیکرٹری اس کے سامنے آبیٹھی اور بولی۔ ’’اب کیا کرنا ہے سر…! کیا پروگرام ہے؟‘‘
وہ سنبھل گیا۔ اس سوال کے پیچھے اس کا مطلب کچھ اور تھا۔ اس نے کہا۔ ’’بس! میں انتظار کررہا تھا۔ دن میں کلائنٹ آیا تھا، اس کے ساتھ میٹنگ ہے۔‘‘
وہ کچھ مایوس ہوئی اور اس کے چہرے پر افسردگی کی گھٹا نمودار ہوئی۔ وہ ایک پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ حوصلہ افزا جواب کی توقع رکھتی تھی مثلاً جیسا تمہارا موڈ ہو یا واضح الفاظ میں… کیا خیال ہے ہوٹل چلیں؟
طارق کا موڈ اَپ سیٹ تھا۔ وہ کچھ فکرمند تھا۔ اس نے ساتھ بیٹھنے کے بعد پوچھا بھی تو طارق ٹال گیا۔ اسے راستے میں فلیٹ پر ڈراپ کرکے وہ گڈبائی کہے بغیر ہی نکل گیا۔
گھر میں داخل ہوتے ہی اس کا نازنین سے سامنا ہوا جو اپنی دانست میں اس کے لئے ویک اینڈ کی خصوصی پیشکش کے طور پر تیار تھی۔ طارق نے خود کو اینٹی کلائمکس کے لئے تیار کیا۔ وہ کوٹ کو صوفے پر ڈال کر بستر پر دراز ہوگیا۔
نازنین اس کے سرہانے آبیٹھی اور اس نے طارق کی آنکھوں میں جھانک کر کہا۔ ’’تم کچھ تھکے ہوئے ہو… چائے لائوں یا کافی…؟‘‘
’’کچھ نہیں۔ اچھا! کافی لے آئو۔‘‘ نازنین کو دھکیلنے کے بجائے دور کرنے کا یہ طریقہ بہتر تھا۔
وہ پانچ سات منٹ میں تیار کافی لے کر لوٹی تو وہ لباس تبدیل کرکے صوفے پر آبیٹھا تھا۔ وہ ٹی وی پر خبریں دیکھ رہا تھا۔ اس وقت بریکنگ نیوز بڑی سنسنی خیز تھی۔
نازنین کو مایوسی ہوئی۔ اس نے ایک لمبی سرد سانس بھری اور افسردگی سے بولی۔ ’’ہم مری تو جا سکتے ہیں؟ وہ زیادہ دور بھی تو نہیں ہے۔‘‘
طارق کو یاد آچکا تھا کہ اس نے کیا وعدہ کررکھا تھا۔ ’’سوری نازنین! ابھی ہم کہیں نہیں جاسکتے۔‘‘
’’چلو صبح سہی… ذرا جلدی نکل جائیں گے۔ تمہیں اٹھا دوں گی۔‘‘
طارق نے نفی میں سر ہلایا۔ ’’مری نہیں…! ہم امی کی طرف جائیں گے۔‘‘
نازنین کی مسکراہٹ کافور ہوگئی۔ ’’طارق! اس سیزن میں یہ ہمارا پہلا ٹرپ تھا۔‘‘
’’مجھے معلوم ہے لیکن بعض اوقات تفریح پر کام کو ترجیح
دینا ضروری ہوتا ہے۔‘‘
’’مجھے معلوم ہے کہ تم یہی کہو گے کہ کام زیادہ اہم ہے فیملی سے…!‘‘
طارق نے تیزی سے درمیان میں اس کی بات کاٹ کر کہا۔ ’’ہاں…! لڑنے کی ضرورت نہیں۔ سکون اور آرام سے بیٹھ کر میری بات سنو۔ میں چاہتا ہوں کہ تمہیں اور بچوں کو دبئی لے کر جائوں… یورپ کی سیاحت کرائوں۔‘‘
’’کب…؟ دس برس کے بعد…! میں کل کی بات کررہی تھی۔‘‘ نازنین نے ہتھیار ڈال دینا ہی بہتر سمجھا۔
’’کل ہم امی کی طرف جائیں گے۔‘‘ طارق نے دہرایا۔ ’’اور بچوں کے ساتھ ویک اینڈ وہیں گزاریں گے۔ میری بات دھیان سے سنو… تم میری شریک حیات ہو۔ کامیابی کے سفر میں تمہاری سپورٹ ضروری ہے تاکہ کل میں بھی کہہ سکوں کہ جس طرح ہر مرد کی کامیابی کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے، ویسے ہی میرے پیچھے میری پیاری نازنین کا ہاتھ تھا۔‘‘
اس کا یہ وار کارگر رہا۔ نازنین کا سخت رویہ موم کی طرح پگھل گیا۔ وہ بولی۔ ’’کیا میں نے قدم قدم پر تمہارا ساتھ نہیں دیا؟‘‘
’’اب ذرا دھیان سے میری بات سنو۔ مجھے ایک گولڈن چانس مل رہا ہے کم ازکم پانچ لاکھ روپے ماہانہ منافع یقینی ہے۔ نوکری میں تو یہ ناممکن ہے۔ ہوسکتا ہے کہ اس ماہ میں نوکری چھوڑ دوں اور ہم دبئی شفٹ ہوجائیں۔‘‘
’’دبئی…؟‘‘ نازنین کا چہرہ اک دم دمک اٹھا۔ ’’پھر سوچ کیا رہے ہو! نیک کام میں دیر کیسی…؟‘‘
’’نازنین! بزنس کا مطلب ہوتا ہے سرمایہ کاری…! پچاس لاکھ کی سرمایہ کاری!‘‘
’’پچاس لاکھ…! اتنی بڑی رقم کہاں سے آئے گی؟‘‘ نازنین کا چہرہ سوالیہ نشان بن گیا۔
’’ایک پارٹنر نے باپ کے کاروبار کی گڈول پر پچاس لاکھ روپے کا بینک سے لون لیا ہے، نقد کس کے پاس ہوتے ہیں۔‘‘
’’تو پھر ہمیں یہ پچاس لاکھ کی رقم کون دے گا؟‘‘ اس نے تذبذب سے سوال کیا۔
’’ہمیں یہ سرمایہ امی فراہم کرسکتی ہیں۔ تم فکر مند نہ ہو۔‘‘
’’کیا تم بھول رہے ہو کہ پہلے بھی وہ کھری کھری سنا چکی ہیں۔ وہ جتنا کرچکی ہیں، اس سے زیادہ کی امید مت رکھنا۔‘‘
’’اب اصل چیلنج یہی ہے، ان کا ارادہ بدلنا…! ہم جس حال میں ہیں نازنین! اس کے ذمہ دار ہم خود ہیں۔ خورشید بھائی تو پھر بھی فائدے میں رہے کہ ایک کینال کی کوٹھی ہتھیا لی، بچوں کے نام پر اور ہم کہاں رہنے پر مجبور ہیں؟ بے شک ہمارے دو بچے ہیں اور جگہ کا مسئلہ نہیں ہے مگر یہ جگہ جہاں یہ گھر ہے، پچاس برس پرانی آبادی میں ہے۔ نوکری میں کچھ بدلنے والا نہیں ہے۔ اگر اماں پچاس لاکھ فراہم کردیں۔‘‘
’’کیا وہ صاف نہیں بتا چکی ہیں کہ میرا بینک اکائونٹ دیکھ لو، وہاں اتنا ہے جتنا میری ضرورت کے لئے درکار ہے۔‘‘
’’اوہ…! نقد کون مانگ رہا ہے۔ وہ صرف گارنٹی دینے پر آمادہ ہوجائیں۔ دیکھو نا کم سے کم پانچ کروڑ کی وہ جگہ ہے جہاں وہ اکیلی رہتی ہیں۔ اس پراپرٹی پر وہ بآسانی لون لے سکتی ہیں، کسی بھی بینک سے چار کروڑ تک…! ہمیں ایک دو کروڑ نہیں صرف پچاس لاکھ کی ضرورت ہے۔‘‘
’’میں نے سنا ہے کہ خورشید بھائی نے بھی اتنے مانگے تھے لیکن کیا ہوا، ذلیل و خوار ہوکر واپس آئے۔‘‘ نازنین نے چوٹ کی۔
وہ بری طرح چونکا۔ ’’کس سے سنا تھا؟ کیا بھابھی نے بتایا…؟‘‘
’’بھابھی کی ایک سہیلی ہے جو میری بھی سہیلی ہے، اس نے بتایا تھا فون پر… انہوں نے کہا کہ قرضہ ادا نہ کیا تم نے تو بے گھر کیا جائے گا مجھے…!‘‘
’’ہونہہ…! کون بے گھر کرسکتا ہے؟ بالفرض محال ایسا ہو تو جگہ نیلام کی جاتی ہے، ورنہ ایسے ہی کوئی پانچ کی جگہ چار میں کھڑے کھڑے نقد اٹھاتا ہے۔ ایک کروڑ بینک کو دو، تین کروڑ میں بہترین کوٹھی ملتی ہے۔‘‘
’’اس کے لئے کان کو ہاتھ گھما کر پکڑنے کی کیا ضرورت ہے؟‘‘
’’ کیا مطلب…؟‘‘
’’مطلب یہ کہ کوٹھی پانچ کروڑ کی ہے۔ کیا پتا ساڑھے پانچ میں نکل جائے۔ پانچ بھی ملیں تو چار بچتے ہیں۔ بینک لون کو بیچ میں لانا کیوں ضروری ہے؟‘‘
’’دیکھو پہلی بات تو یہ کہ جائدادوں کے اتنے بڑے سودے یوں کھڑے کھڑے نہیں ہوتے۔ بینک کی بات میں اور پارٹنر دو ہفتوں میں طے کراسکتے ہیں لیکن نازنین! سارا مسئلہ یہی ہے کہ وہ جیتے جی اس جگہ کو فروخت کرنے کی بات نہیں کرتیں۔ کہتی ہیں کہ تمہاری چیز ہے، میرے بعد جو چاہے کرنا۔ ابا کی نشانی کو گلے سے لگائے بیٹھی ہیں۔‘‘
’’خودغرضی کی بھی انتہا ہوتی ہے۔‘‘ نازنین کا چہرہ تمتما گیا۔ ’’کیا جنم دینے والی ماں ایسی ہوتی ہے؟‘‘
’’ایسا مت کہو۔‘‘ طارق نے فوراً اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا کہ کہیں اس کی ماں کی شان میں گستاخانہ الفاظ کا فوارہ نہ ابل پڑے اور فضا میں تلخی اور ماحول میں بدمزگی پیدا ہوجائے۔ ’’ذرا ان کی جگہ خود کو رکھ کر دیکھو، اس عمر میں… کیا قصوروار ہم نہیں ہیں جو انہیں دوش دے رہی ہو؟‘‘
’’کیا قصور ہے ہمارا جو الزام دے رہے ہو؟‘‘ وہ تنک کر بولی۔ ’’کیا ہم نے ان کی رقم یا زیورات چرائے تھے؟‘‘
’’یہ بات نہیں… جب میں نے ان کی مرضی کے خلاف شادی کی تھی اور مجھ سے پہلے خورشید بھائی نے!‘‘
’’وہ اپنی مرضی تم پر زبردستی کیسے تھوپ سکتی تھیں اور تم نے بتایا کہ ایک ریٹائر سرکاری افسر کی نک چڑھی بیٹی تھی اور یوں رہتی تھی کہ جیسے کوئی ماڈل…! شرم و حیا اسے چھو کر نہیں گئی تھی۔ کیا میں نے ایک گھریلو لڑکی کی طرح گزارہ نہیں کیا؟‘‘
طارق نے جیسے اس کی بات سنی ہی نہیں۔ وہ بولا۔ ’’میں نے بھی ان کی زبردستی خوشی اور پسند کے آگے سر جھکانے سے انکار کردیا تھا، جس کا انہیں بڑا صدمہ ہوا کہ بیٹے نے ان کی خواہش اور ارمان پورا نہیں کیا۔ میں تمہیں دیوانگی کی حد تک چاہتا تھا۔ آج بھی تمہارے طلسم کا اسیر ہوں۔ میں نے اس جذباتی محبت کے آگے سر جھکانے سے انکار کردیا۔ اس لئے کہ یہ زندگی میری اپنی تھی۔ میرے اپنے خواب تھے، تم میری سب کچھ تھیں۔ محبت اور جنگ میں ہر بات جائز ہوتی ہے۔ میں نے طے کررکھا تھا بلکہ قسم کھائی ہوئی تھی کہ تمہیں ہر قیمت پر اپنا کر دم لوں گا اور پھر میں تمہیں اپنا کر ہی رہا، لیکن میں یہ بات کہے بغیر نہیں رہوں گا خرابی تم نے کی۔‘‘
’’کیا کہا… میں نے کی؟‘‘ وہ بھڑک اٹھی۔ ’’تمہاری امی نے فون کرکے مجھ سے کہا تھا کہ میرے بیٹے کے راستے سے ہٹ جائو، میں نے اس کے لئے ایک لڑکی پسند کررکھی ہے جسے میں اپنی بہو بنانا چاہتی ہوں۔ میں نے انہیں جواب دیا تھا کہ ہم دونوں بہت دور جا چکے ہیں، واپسی مشکل ہے۔ اگر اس نے شادی سے انکار کیا تو میں عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائوں گی۔‘‘
’’نہیں! یہ بات نہیں۔ تم نے اور بھابھی نے ہمارے سمجھانے کے باوجود محاذ بنا لیا تھا ان کے خلاف! ہر وقت کا فساد، ہر بات میں ضد…! کون سی ایسی بات اور معاملات تھے جہاں بدمزاجی نہیں دکھائی جاتی تھی۔ ان کی عزت اور احترام تک کا خیال نہیں کیا جاتا تھا۔‘‘
’’تو اور کیا کرتی میں… چوبیس گھنٹے اسی طرح ذلیل ہوتی رہتی جیسے میں زرخرید غلام ہوں۔ کھانا، پینا، اٹھنا، بیٹھنا ان کی مرضی سے کروں… کہیں آئوں، جائوں ان کی اجازت سے… پہنوں تو ان کی پسند کا! تم ساڑی پہنتی ہو تو شرم تو کرو تم بہو ہو، ماڈل یا فلمی اداکارہ نہیں۔ تم اس حالت میں اس لئے نکلتی ہو کہ لوگ تمہاری طرف متوجہ ہوں۔ یاد رکھو شریف گھروں کی بیٹیوں کو زیب نہیں دیتا ہے کہ کسی ماڈل، ایکٹریس کی طرح عریاں حالت میں نکلیں۔‘‘ وہ جیسے لڑنے پر اتر آئی تھی ۔
’’دیکھو… ہوا کا رخ دیکھ کر چلنا، مصلحت اور ڈپلومیسی بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ وہ آج کی نہیں بلکہ کل کی لگی بندھی ڈگر پر چلنے والی عورت ہیں۔ اس عمر کی عورت کو رعایت تو دینا پڑتی ہے۔‘‘
’’یہ رعایت کا مسئلہ نہیں تھا۔ ہر بیوہ عورت یہی کرتی ہے۔ احساس محرومیاں انہیں کسی زہریلے پھنکارتے ناگوں کی طرح ڈستی ہیں۔ وہ بھول جاتی ہیں کہ اپنے وقت میں زندگی کیسے گزاری… اولاد کا استحصال… احسان جتاتی تھیں ہر وقت کہ میں نے ماں کے ساتھ باپ بن کر پالا… زمانے کی کڑوی کسیلی اور زہر آلود باتیں اور طعنے سنے… اپنے ارمان اور خواب قربان کردیئے۔ اب اس کے بدلے میری غلامی کرو، بیوی کو میری نوکرانی بنا دو… یہ تم خود کہتے تھے یا نہیں؟ تم نہ چھوڑتے اپنی پیاری ماں کو جس نے تمہیں جنم دے کر تم پر احسان کیا… مجھے چھوڑ دیتے۔ حسین، نوجوان اور پرکشش لڑکیاں ایک ڈھونڈو دس مل جاتیں۔‘‘
’’ہشت…! یہ کیا فضول باتیں لے بیٹھیں۔ تم دن، رات روتی تھیں کہ میں اس گھر میں اب نہیں رہ سکتی۔ لعنت ہے اس محل پر! مجھے چھوٹا سا گھر چاہئے جہاں سکون ہو۔ میں کیا کرتا۔ مجھے بھی گھر میں سکون کی ضرورت تھی۔ تم پاس رہ کر دور ہوجاتی تھیں۔ دفتر میں مغز کھپا کے آئو تو گھر کی جنگ بھگتو۔ میں کیا کرتا…؟‘‘
’’تو اب کیا کرنا ہے بتائو؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’ڈرامہ اور کیا…! بلکہ جا کر ان کے پیر پکڑ لینا، معافی مانگ لینا۔ ان سے کہنا۔ غلطی ہوئی امی جان! سخت نادم ہیں ہم! آپ کے بغیر نہیں رہ سکتے۔ پوتوں کو آپ کی محبت اور شفقت چاہئے، وہ ہر وقت دادی… دادی کہتے رہتے ہیں۔‘‘
’’ویری گڈ…!‘‘ نازنین تلخی سے بولی تو اس کی آواز زہر میں بجھی ہوئی تھی۔ ’’تمہیں یقین ہے کہ ان کا پتھر دل موم ہوجائے گا اور وہ اتنی جذباتی ہوجائیں گی کہ فوراً تمہیں گلے لگا لیں گی اور اگلے دن تمہارے کہنے پر وہ گھر گروی رکھ کر کہیں گی کہ طارق بیٹے اور کیا چاہیے؟طارق کیا واقعی تم اتنے بے وقوف ہو یا اتنی احمق ہے تمہاری ماں بھی…؟ ان کو خود مختاری کے ساتھ اور اتھارٹی کے ساتھ جینے کی پٹی پڑھانے والا ہے ان کا پڑوسی ڈاکٹر چوہدری نوازش…!‘‘
اس سے پہلے کہ طارق اس کی بات کا کوئی جواب دیتا، فون بجنے لگا۔ اس نے کال ریسیو کی۔ ادھر خورشید تھا۔ وہ بولا۔ ’’جی بھائی…!‘‘
’’کہاں ہو؟ آفس میں، گھر پر یا کہیں اور…؟‘‘ خورشید نے پوچھا۔
’’گھر پر ہوں بھائی!‘‘ طارق نے جواب دیا۔ ’’کیا کوئی کام ہے؟‘‘
’’کیا تم نے دبئی میں شراکت داری پر کوئی بزنس کیا ہے جس کے لئے تمہیں پچاس لاکھ کا لون چاہئے؟‘‘
اس کا منہ حیرت سے کھلا رہ گیا۔ اسے اپنی سماعت پر فتور کا احساس ہوا۔ وہ حیرت سے بولا۔ ’’یہ بات آپ کو کس نے بتائی؟‘‘
’’تم ایسا کرو میری طرف آجائو، کھانا یہیں کھا لینا۔‘‘ خورشید نے اتنا کہہ کر رابطہ منقطع کردیا۔
٭…٭…٭
شیریں زندگی میں دوسری بار شدید طوفانی بحران سے دوچار تھی۔ ان بحرانوں کے درمیان بیس برس کا ایک طویل وقفہ حائل تھا۔ پہلا آغاز شباب کے اس دور میں آیا تھا جب جذبات طوفان بن جاتے ہیں لیکن اسے بلاخیز بنانے میں بغاوت کا ایک جذبہ بھی شامل تھا جو اس کے وجود میں یوں بڑھ رہا تھا جیسے پریشر ککر میں اسٹیم جمع ہونے لگے تو ایک حد کے بعد بم کی طرح پھٹ جاتا ہے اور ہر طرف تباہی پھیلا دیتا ہے۔ شیریں کے زخم مندمل ہوجانے کے باوجود اس کی یادوں کے قبرستان میںپھرتے وہ بھوت تھے جو کسی کو نظر نہیں آتے تھے۔
بلوغت کا دور، دہرا انقلاب لاتا ہے۔ اس عمر میں فریق ثانی کے لئے دلکشی، چاہنے اور چاہے جانے کے جذبات کسی سرکش طوفان کی طرح سر اٹھاتے ہیں۔ شیریں کے ساتھ کچھ انوکھا اور نیا تو نہیں ہوا تھا ،مگر اس کے اندر غصہ اپنے باپ اور کسی حد تک ماں کے خلاف بھرا ہوا تھا جو انہوں نے اپنے لئے سوچا، اس پر بچوں کا مستقبل قربان کردیا۔ حب الوطنی کا جذبہ باپ کے دل میں جاگا تھا۔ یہ جذبات تب سر اٹھاتے ہیں جب بڑھاپا جواب دینے لگتا ہے مگر اسے دنیا میں کمانے کے بعد اگلی دنیا کی فکر قبل از وقت پڑ گئی اور اس نے قانونی اختیار استعمال کرتے ہوئے سب بچوں کو عرش سے فرش پر بے رحمی سے پٹخ دیا۔
لوگ کتنی مشکل سے، کتنے جتن کرکے اپنے ملک سے برطانیہ، امریکا جاتے ہیں۔ کمانے کے لئے کتنے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں، یہ ان کا دل جانتا ہے۔ پھر واپس کون آتا ہے؟ بیرون ملک بچوں کو اچھی تعلیم کے لئے بھیجتے ہیں۔ وہ پہلا باپ تھا جس نے لندن میں پڑھنے والے بچوں کو پاکستان کے اسکولوں میں ڈال دیا تھا۔ بے شک یہ اسکول اچھے اور معیاری تھے لیکن اسکول کے بعد کالج، یونیورسٹی میں ہر طالب علم برابر تھا۔ (جاری ہے)