Muqaddar | Episode 4

437
’’یعنی تم بیرون ملک میں اچھے کنٹیکٹ رکھتے ہو؟ پرنس وسیم! تم جولی کے ساتھ ایک اچھی ٹیم بنا سکتے ہو۔ پاکستان سے میں گارمنٹس اور لیدر گڈز منگواتا ہوں، پھر انہیں یہاں کے مشہور و معروف برانڈز بنا کر باہر بھیج دیتا ہوں۔ وہاں وہ چیز دس گنا سے سو گنا قیمت میں نکل جاتی ہے۔ کیا اس میں کچھ ناجائز ہے؟‘‘
وسیم چونکا۔ ’’بالکل نہیں…! اگر بیچنے والا اور خریدنے والا دونوں مطمئن ہوں۔‘‘
٭…٭…٭
رستم خان نے انگلش میں ایم اے کیا ہی تھا کہ اسے لیکچرر شپ مل گئی۔ اس کی تقرری میں اس کے باپ فیروز خان کے اثر و رسوخ کا بہت دخل تھا، ورنہ اس جیسے جانے کتنے اسکولوں یا ٹیوشن سینٹرز میں پڑھا رہے تھے۔ فیروز خان کوئی دولت مند شخص نہیں تھا مگر اس کے ایک سیاسی فیملی سے اچھے مراسم تھے۔ اگر افغانستان پر روس کا تسلط نہ ہوا ہوتا تو شاید وہ بیٹوں کے لئے غیر معمولی اثاثے چھوڑ جاتا۔
شیریں واش روم سے نکلی تو وہ بدستور اپنے خیالوں میں گم بیٹھا تھا۔ شیریں نے اس کی آنکھوں کے سامنے چٹکی بجائی اور بولی۔ ’’کہاں گم ہوگئے؟‘‘
وہ چونکا۔ ’’تم شاید میری فیملی کے بارے میں پوچھ رہی تھیں، کیوں…؟‘‘
’’اس لئے کہ میں نے اپنے بارے میں سب کچھ صاف صاف بتا دیا ہے، کوئی بات نہیں چھپائی۔ دیکھو! ہم کوئی ٹین ایجر تو ہیں نہیں کہ کوئی جذباتی فیصلہ کرکے تماشا بنیں۔ یہ عمر کسی بات پر پچھتانے کی نہیں ہے۔ ویسے باتیں تو بہت بنیں گی تو بننے دو، ہمیں ان کے بارے میں کچھ نہیں سوچنا۔‘‘
’’شادی میری رواج کے مطابق چچا کی بیٹی سے بچپن میں طے تھی، وہیں ہوئی اور وہ اچھی اور نیک سیرت ہے مگر مسئلہ وہی ہے کہ ان پڑھ ہے۔ اس کے دقیانوسی ماں، باپ نے اس کی تعلیم پر کوئی توجہ نہیں دی کہ تعلیم یافتہ لڑکیاں باغی اور شوہر پرست ثابت نہیں ہوتیں، ان کا کردار مشکوک ہوجاتا ہے۔ اب تمہی بتائو کہ اس کے اور میرے مزاج کیسے مل سکتے ہیں؟ میں اور تم انگلش لٹریچر سمجھتے ہیں، تم نہ صرف خوش ذوق اور پورے اعتماد سے میرے ساتھ ہر جگہ آجاسکتی ہو۔مجھے تو باپ نے سپورٹ کیا۔ مجھے زبردستی دھکیلا تعلیم کی طرف۔‘‘
’’کیا وہ ترقی پسند تھا؟‘‘ شیریں نے پلکیں جھپکاتے ہوئے تجسس سے دریافت کیا۔
’’ہاں…!‘‘ رستم خان ہنسا۔ ’’لیکن وہ خاندانی روایات کے آگے بے بس تھا۔ اس کی وفات کے بعد اس کا چھوڑا ہوا مال ہم بہن، بھائیوں کو ملا۔ یوں سمجھ لو کہ اس سے میں نے دس مرلے کا گھر بنا لیا جسے کوٹھی کا نام دیا جاسکتا ہے۔ یہ کار لے لی جو اب تمہارے پاس ہے اور مجھے کچھ مالی فراغت حاصل ہوئی۔‘‘
’’کہیں ہماری شادی میں لوگ دخل انداز تو نہیں ہوں گے؟‘‘
’’ہوں گے… میری بیوی نے میرے تایا کو بلایا ہے، اس کی بھی دو بیویاں ہیں۔ مجھے معلوم ہے کہ وہ مجھے ہرگز روک نہیں سکتا۔ بس بیوی کے آنسو پونچھے گا، صبر اور برداشت کی تلقین کرے گا اور خاموشی سے واپس لوٹ جائے گا۔‘‘
شیریں نے قدرے جھجکتے ہوئے پوچھا۔ ’’کیا وہ پوچھے گا نہیں کہ آخر وہ کون ہے؟‘‘
رستم نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔ ’’نہیں! اس کے پاس کیا جواز ہے۔‘‘
’’میرا خیال ہے کہ اب مجھے چلنا چاہئے۔‘‘ شیریں نے گھڑی دیکھی۔
’’میرا دل تو کسی ٹین ایجر کی طرح مچل رہا ہے کہ ابھی نہ جائو چھوڑ کر، دل ابھی بھرا نہیں!‘‘
’’ہفتے میں ایک دن میں نکل آتی ہوں، کیا یہ کافی نہیں ہے؟‘‘ وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
وہ شیریں کی کار کا دروازہ کسی شوفر کے انداز میں کھول کر کھڑا رہا۔ اس نے کہا۔ ’’تم بہت ظالم حسینہ ہو۔ لوگ سچ کہتے ہیں جو جتنی حسین ہوتی ہے، اتنی ہی سنگ دل بھی!‘‘
شیریں ہنس کر دوسرے دروازے کی طرف بڑھ گئی کہ کہیں وہ من مانی پر نہ اتر آئے۔ پھر وہ اسٹیئرنگ پر بیٹھ کر شوخی سے شیریں آواز میں بولی۔ ’’صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے، یہ تو سنا ہے نا…؟‘‘
رستم کار کی لائٹس دیکھتا رہا۔ اس عمر میں اس کی بے قراری بڑی حیران کن تھی اور اس کی وجہ کچھ بھی ہو، اس کی بیوی کے مقابلے میں شیریں انتہائی حسین اور پرکشش تھی۔ وہ ہفتے میں تین بار جم جاتی تھی اور اس کا لباس رہی سہی کسر پوری کردیتا تھا۔ ساڑی اس کے جسم پر ایسی سجتی تھی کہ وہ اسے دیکھ کر دَم بخود رہ جاتا تھا۔ خود اس کی بیوی شادی کے وقت انتہائی خوبصورت، جاذبیت اور کشش سے بھرپور تھی مگر پھر وہ عام عورتوں کی طرح خود سے بے پروا ہوتی گئی۔ بھدی اور بے کشش ہوتی گئی اور گوشت کا تھل تھل کرتا ڈھیر لگنے لگی۔ ابتدا میں اپنی بیوی کو بہت سمجھایا کہ اپنا خیال رکھو، شوہر کی محبت اور دلچسپی برقرار رہتی ہے۔ مرد دوسری شادی اس لئے کرتا ہے کہ بیوی بھدی اور بے کشش ہوجاتی ہے لیکن وہ اس کان سے سنتی دوسرے کان سے نکال دیتی۔ نتیجے میں وہ دونوں اجنبی ہوتے گئے۔ وہ اس کی طرف متوجہ ہونے کی بجائے دیوار کی طرف منہ کرکے سوجاتا۔ اجنبیت اور بے نیازی کے اس گھپ اندھیرے میں شیریں اس کے لئے نئی جوانی کا پیغام لے کر چاند کی طرح طلوع ہوئی تھی۔
٭…٭…٭
اپنی گاڑی پارک کرتے وقت اس نے تیسرے بیڈ روم میں روشنی دیکھی جو مہمانوں کے لئے وقف تھا۔ وہ سمجھ گیا کہ اس کا تایا آگیا ہے۔ وہ ان سے بغل گیر ہوگیا۔
وہ ستر برس سے زائد عمر کے تھے۔ اسے دیکھ کر بولے۔ ’’رستم! کدھر تھا تو…؟ کب سے تیرا راستہ دیکھ رہا تھا۔‘‘
’’وہ ایک میٹنگ تھی تایا!‘‘ اس نے گول مول جواب دے کر مطمئن کرنے کی کوشش کی۔
’’وہ تو مجھے پتا ہے۔ کیا نام ہے اس کا شیریں…! اس سے میٹنگ ہوگی۔ یہ کیا نام ہے رستم…! شیریں تو مٹھائی ہوتی ہے۔‘‘
وہ ہنس پڑا۔ ’’مٹھاس تو ہر حلال حرام شے میں ہوتی ہے تایا…! لیکن دوسری شادی تو حرام نہیں ہے۔‘‘
اسی وقت رستم کی بیوی کمرے میں در آئی اور بستر کے کنارے بیٹھ کر روہانسے لہجے میں بولی۔ ’’تایا! اس نے یہ صلہ دیا ہے مجھے پچیس برس کی خدمت کا…!‘‘
’’حوصلہ کر… میں بات کررہا ہوں نا!‘‘ تایا نے سخت لہجے میں کہا۔ ’’بیچ میں مت بول… خاموش بیٹھی رہ۔‘‘
رستم، کمر کس کر میدان میں اتر آیا۔ اس نے شکوہ شکایت کرنے کی بجائے دلائل سے بات کا آغاز کیا۔ وہ بڑے پرسکون لہجے میں بولا۔ ’’دیکھو تایا…! تم بھی جانتے ہو کہ دوسری شادی گناہ ہے نہ جرم! یہ مرد کا شرعی حق ہے۔ اب میں نے اپنا حق ان پچیس برسوں میں استعمال نہیں کیا تو یہ ختم تو نہیں ہوا۔ اتنے عرصے یہ اکیلی راج کرتی رہی، اس نے ایک شوہر کے جذبات کا احترام نہیں کیا، جبکہ میں نے کسی قسم کی شکایت کا کوئی موقع نہیں دیا۔ سامنے بیٹھی ہوئی ہے، پوچھ لیں اس سے!‘‘
تایا نے محض سوالیہ نظریں اٹھا کر فریادی کو دیکھا۔ وہ بس رو رہی تھی۔ اگر جواب دیتی تو اس کے خلاف جاتا۔ وہ جانتا تھا کہ مرد دوسری شادی کیوں کرتا ہے۔ جب بیوی ڈھل جاتی ہے، بیمار رہنے لگتی ہے، اپنا حسن کھو دیتی ہے۔ کسی وجہ سے بے رغبتی سے پیش آنے لگتی ہے۔ مرد اسی برس کی عمر میں بھی یہ خواہش رکھتا ہے کہ وہ اسے خوش کرتی رہے۔ اس نے دوسری شادی کی تھی تو اس کا پس منظر بھی یہی تھا۔ رستم نے اپنی بات جاری رکھی۔ ’’اب آپ یہ بھی دیکھو کہ وہ کوئی نوجوان، بے پناہ حسین اور کنواری لڑکی نہیں ہے جس پر میں ریجھ گیا۔ وہ ایک بیوہ عورت ہے، دکھی ہے۔ میں ایک بار پھر یہ بات کہہ رہا ہوں کہ میں کسی سولہ برس کی کنواری لڑکی کے پیچھے دیوانہ نہیں ہورہا ہوں۔ اس کا جوان بیٹا ہے، میرے بیٹوں کے برابر…! ماں نے اسے گھر سے نکال دیا ہے، بھائی ساتھ نہیں دیتے۔‘‘
تایا نے کسی جج کی طرح سامنے رکھے گئے حقائق پر غور کیا اور بولا۔ ’’اچھا! یہ بات ہے؟‘‘
’’تایا…! میں آپ کا بھتیجا ہوں، آپ کے چھوٹے بھائی کا خون ہے میری رگوں میں… میں کوئی فائدہ نہیں اٹھا رہا ہوں اس بیوہ کی مجبوری سے… ابھی وہ کالج میں پڑھا رہی ہے۔ میں اس سے بغیر نکاح کے بھی تعلق رکھ سکتا ہوں، اسے پتا بھی نہ چلتا مگر میں دینی طریقے پر عمل کررہا ہوں۔‘‘
تایا جانتا تھا کہ بزرگی اس کے خودمختار بھتیجے کو روک نہیں سکتی اور وہ خود بھی دوسری شادی کے بعد یہ سمجھتا ہے کہ ابھی مزید دوکرنے کا حق ختم نہیں ہوا۔ شرط عدل کی ہے تو وہ عادل بنے۔
’’اس کے علاوہ تایا…!‘‘ رستم نے جب دیکھا کہ لوہا گرم ہوچکا ہے تو اس نے حوصلہ کرتے ہوئے کہا۔ ’’میں نے نورجہاں سے کہا ہے کہ تمہارے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں ہوگی اور نہ ہی تمہارا گھر متاثر ہوگا۔ اس کا الگ گھر ہوگا جو اسی کا ہے۔ میرے رویئے میں فرق آئے تو میری گردن پکڑ لینا۔‘‘
سماعت ختم ہوگئی۔ جج نے دونوں کی ٹھنڈے دل سے باتیں سنی تھیں۔ مختصر فیصلہ صادر کردیا گیا۔
’’رستم کوئی غلط کام نہیں کررہا۔ آپس میں جھگڑا فساد اور ہنگامہ کھڑا کرنے سے کوئی فائدہ نہیں، ورنہ خدا نہ کرے یہ تمہیں چھوڑ سکتا ہے۔ ہر عورت کو اس وقت سے ڈرنا چاہئے۔‘‘
لیکن اگلے دن تایا کے جانے کے بعد حالات مزید تلخ اور کشیدہ ہوگئے۔ جب نورجہاں ناشتہ لے کر آئی تو بدمزگی فضا میں گھل گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ رستم کے دونوں بیٹے نذیر اور جبار اندر آگئے۔ ان دونوں کے درمیان صرف دو برس کا فرق تھا۔ پہلے کسی وجہ سے وہ دونوں ایک ہی کالج میں زیرتعلیم تھے۔ اس کے بعد انہیں رستم کی ضمانت پر سپلائی کا ٹھیکہ مل گیا۔ رستم نے اپنے باپ کی طرف سے ملنے والے ترکے سے پانچ لاکھ کا نقد زرضمانت جمع کرا دیا۔ دونوں مل کر کام کررہے تھے اور بہت پرامید تھے کہ وہ چھوٹے کنٹریکٹرز کی حد سے نکل کر بڑے ٹھیکیداروں میں شامل ہوجائیں گے۔ ان کے باپ کو وہ گر نہیں آتے تھے جو انہوں نے بڑے شہر میں زندگی گزار کر سیکھے تھے۔
رستم نے ان کی صورت سے اندازہ کرلیا کہ وہ کیا بات کریں گے۔ اس نے بشرے سے ظاہر ہونے نہیں دیا اور نہ ہی ان کی طرف متوجہ ہوا۔ وہ خاموشی سے ناشتہ کرتا رہا۔
نذیر نے چند لمحوں کی خاموشی کے بعد پہل کی۔ ’’بابا…! ہم آپ سے آخری بات کرنے آئے ہیں۔‘‘
رستم ناشتے کے ساتھ اخبار پڑھ رہا تھا، اخبار ایک طرف رکھ کر ان کی طرف متوجہ ہوا۔ ’’ہاں! بولو۔‘‘
نذیر کی بجائے جبار نے کہا۔ ’’یہ جو آپ کررہے ہیں، ٹھیک نہیں ہے۔‘‘
’’میرے لئے کیا ٹھیک ہے، اس کا فیصلہ میں خود کروں گا کیونکہ میں تمہارا باپ ہوں، تم میرے باپ نہیں ہو۔‘‘
’’یہ ماں کے ساتھ نہ صرف ناانصافی بلکہ زیادتی ہے۔‘‘
’’ہم اپنی ماں پر یہ ظلم کسی قیمت پر نہیں ہونے دیں گے۔‘‘
’’نورجہاں نے تایا کو فیصلے کے لئے بلایا تھا۔‘‘ رستم نے کہا۔ ’’تمہاری ماں نے ان کے فیصلے سے تمہیں آگاہ کیا ہوگا؟‘‘
’’لیکن ہم تایا کے اس فیصلے کو نہیں مانتے۔‘‘ نذیر نے برہمی سے کہا۔
’’تمہارے ماننے یا نہ ماننے سے کیا ہوتا ہے۔‘‘ رستم نے پرسکون لہجے میں کہا۔ ’’تمہاری ماں تو مانتی ہے۔‘‘
’’ان کی مجبوری اور بے بسی سے فائدہ مت اٹھائیں بابا…! اب وہ اکیلی اور بے سہارا نہیں رہیں۔‘‘ جبار نے چیختے ہوئے کہا۔
’’ہم آپ کو یہ جتا دینا چاہتے ہیں کہ ہم اس کے ساتھ ہیں… اگر آپ نے دوسری شادی کی تو یہ بات اچھی طرح کان کھول کر سن لیں، ہم اس گھر سے ہمیشہ کے لئے چلے جائیں گے۔‘‘ نذیر نے کہا۔
’’چلائو نہیں…! تمیز سے بات کرو۔‘‘ رستم دھاڑا۔ ’’میں بہرا نہیں ہوں۔ لے جائو اگر وہ ساتھ جانا چاہے۔ وہ جہاں بھی رہے گی، میری بیوی ہی رہے گی اور تمہاری ماں!‘‘
’’اس کا انجام اچھا نہیں ہوگا بابا!‘‘ جبار نے چیخ کر کہا۔
’’یہ گدھے کی سی آواز میں مت چیخو، مجھے دھمکی مت دو۔‘‘ رستم بولا۔
’’بابا…! یہ دھمکی نہیں ہے، آپ دیکھ لیں گے۔‘‘ نذیر کو طیش آرہا تھا۔
رستم کے ضبط کا حوصلہ جواب دے گیا۔ اسے بیٹوں سے اتنی جرأ ت کی توقع نہ تھی۔
’’تمہی دیکھو گے دربدر کون ہوتا ہے… میں یا تم…؟ دو دن میں ہی آٹے، دال کا بھائو معلوم ہوجائے گا۔ یہ جو عیش کی زندگی گزار رہے ہو نا، خواب میں بھی میسر نہیں ہوگی۔‘‘
’’مجھے پتا تھا یہی کہیں گے آپ… ہماری نقد ضمانت واپس لے لیں گے نا آپ…؟‘‘
’’ہاں…! یہ بھی کرسکتا ہوں۔ یہ ساری ٹھیکیداری اس کے دم سے تو ہے اور تم جو بڑے ٹھیکیدار بننے کے خواب دیکھ رہے ہو، یہ ختم ہوجائیں گے تو ساری اکڑفوں نکل جائے گی… جائو جو کرنا ہے کرو۔ خبردار جو مجھ سے آئندہ اس مسئلے پر بات کی۔ جائو اپنی زندگی تباہ کرو۔ ماں کی خدمت کرکے کوئی ثواب نہیں ملے گا تمہیں…!‘‘ اس نے کرخت لہجے میں کہا۔
’’تو آپ ایک طرح سے طلاق کی دھمکی دے رہے ہیں؟‘‘ جبار بولا۔
’’جو چاہے سمجھ لو… کیا تم مجھے روک سکتے ہو؟‘‘ رستم کا پارہ چڑھ گیا۔
نورجہاں نے ایک چیخ ماری اور صوفے سے منہ کے بل فرش پر گر کر بے ہوش ہوگئی۔
٭…٭…٭
زیب النساء دیکھ رہی تھیں کہ صرف بیٹوں کے نہیں، ان کی بیویوں اور بچوں کے رویئے بدلے ہوئے ہیں، حالانکہ وہ اچھے نمبروں سے پاس ہوئے تھے اور گرمیوں کی چھٹیاں بھی شروع ہوگئی تھیں لیکن یہ تو کئی برسوں کا معمول تھا۔ اس سے پہلے کبھی پوتا، پوتی اپنی رپورٹ کارڈ کے ساتھ انعام لینے حاضر نہیں ہوئے تھے۔ وہ سب مل کر ایک ساتھ شور مچا رہے تھے۔ ’’دادی! میرے نمبر زیادہ ہیں۔‘‘
’’مگر میرے سب اے گریڈ ہیں دادی! یہ دیکھئے ہے نا؟‘‘
’’اور دادی…! ٹاپ کیا ہے میں نے اپنی کلاس میں۔‘‘ پوتی چلائی۔
دونوں بہوئیں بڑی سعادت مندی سے مسکراتی رہیں۔ بیٹے مطمئن انداز میں اس ڈرامے کو دیکھتے رہے جس کے ہدایتکار وہ خود تھے۔ اس طرح دادی کے جذبات کو بڑی آسانی سے ہوا دی جاسکتی ہے۔ زیب النساء کا رواں رواں خوشی سے سرشار تھا۔ وہ بولیں۔ ’’اچھا… اچھا! سب کو ملے گا انعام… شور مت کرو… بتائو کسے کیا چاہئے؟‘‘
یہ سنتے ہی سب سے بڑا پوتا چلایا۔ ’’مجھے ریس والی سائیکل چاہئے جس میں چار گیئر ہوتے ہیں۔‘‘
پوتی نے اس سے بھی بلند آواز میں کہا جیسے دادی اونچا سنتی ہوں۔ ’’میں اسکیٹس لوں گی اور وہ بھی امپورٹڈ… پھر میں ہر ہفتے ممی، پاپا کے ساتھ جائوں گی پارک کے اسکیٹنگ رنگ میں اور سب کے ساتھ اسکیٹنگ کروں گی… ایسی زبردست میوزک لگاتے ہیں وہ…!‘‘
’’اچھا! ممی، پاپا کے ساتھ…! میرے ساتھ کیوں نہیں؟‘‘ دادی بولیں۔
’’دادی جان! آپ کے ساتھ…!‘‘ پوتی نے ماں کی نظر کا اشارہ سمجھ لیا۔ نئی نسل جو تھی۔
سب سے چھوٹا سوچ کر بولا۔ ’’دادی سوئٹ! مجھے گیم لینا ہے۔‘‘ اس نے گیم کا نام لیا۔
باپ نے اسے فوراً ڈانٹ پلائی۔ ’’دادی اماں کو تنگ مت کرو۔ پتا ہے وہ کتنا مہنگا ہے؟‘‘
وہ بڑا خوبصورت اور گول مٹول سا تھا۔ دادی نے اسے گود میں بٹھا لیا۔ ’’اچھا… اچھا بھئی! سب لے لینا اپنی اپنی چیزیں! شام کو چلیں گے۔ ٹھیک ہے؟ اچھا اب جائو کھیلو۔ دیکھو پھول خراب نہ کرنا۔‘‘ پھر انہوں نے اکمل کو آواز دی۔ ’’اکمل…!‘‘
وہ دروازے کی اوٹ سے کسی جن کی طرح نکل آیا۔ ’’جی بیگم صاحبہ…؟‘‘
’’دیکھو پہلے تو بچوں سے پوچھو کہ کیا کھانا پسند کریں گے۔‘‘
بڑے بیٹے خورشید نے کہا۔ ’’اکمل! تم جائو جاکر آرام کرو، ہم آج کچن میں دھرنا دے رہے ہیں۔‘‘
بہوئوں میں سے ایک نے مستعدی سے کہا۔ ’’ہم بنائیں گے کھانا… آپ بتائیں کیا کھائیں گی؟‘‘
زیب النساء مسکرا دیں اور بولیں۔ ’’میں کیا کھائوں گی…؟ اب خوراک بہت سادہ اور پرہیزی رہ گئی ہے۔ عام طور پر میں دن میں پھل کھا لیتی ہوں یا سلاد وغیرہ… اس کے ساتھ دہی یا رائتہ!‘‘
’’میں بناتی ہوں ماما!‘‘ بڑی والی نے کہا۔ ’’آپ دیکھئے… کسی اٹالین ریسٹورنٹ میں بھی نہیں کھایا ہوگا ایسا… کون ایسا ہے جس نے ایک بار کھایا، دوبارہ فرمائش نہ کی ہو۔‘‘
چھوٹی نے فوراً ہی چٹکی بجائی۔ ’’میں چائنیز رائس اور چکن کارن سوپ بناتی ہوں۔‘‘
زیب النساء نے انہیں روک دیا۔ ’’یہ تم اپنے لئے بنائو۔‘‘
خورشید نے کہا۔ ’’ارے اماں! ایک بار کھا کے تو دیکھیں… ان کے ہاتھ میں کیسی لذت اور ذائقہ ہے… کیسی کمال کی شیف ہیں آپ کی بہوئیں!‘‘
زیب النساء چپ ہوگئیں۔ بچوں کے ساتھ جذبات کی رو میں بہہ کر وہ بہت کچھ بھول گئی تھیں۔ یہی بہوئیں جانتے بوجھتے بدمزا سالن اور کچے پکے چاول بنا کے سامنے رکھتی تھیں اور صاف کہتی تھیں کہ انہوں نے شادی سے پہلے کبھی کچن کا منہ تک نہیں دیکھا۔ کیا پتا تھا کہ آگے نصیب یوں پھوٹے گا۔
بہوئوں کے چلے جانے کے بعد خاموشی کا ایک مختصر بوجھل وقفہ آیا۔ چند ساعتوں کے بعد زیب النساء نے کہا۔ ’’خورشید! آخر یہ سب کیا ہے؟‘‘
خورشید ان کی بات سن کر مسکرا دیا۔ پھر سوالیہ نظروں سے دیکھا۔ ’’کیا اماں…؟‘‘
’’یہی… اچانک پوتے، پوتیوں کو یاد آگیا کہ ان کی ایک دادی بھی ہے اور بہوئیں اک دم سے اتنی اچھی شیف ہوگئیں۔ کیا انہوں نے کھانے پکانے کا کورس کیا ہے؟‘‘
’’اماں! وہ آج کل ٹی وی پر کھانے پکانے کے پروگرام آتے ہیں، ان سے سیکھا ہے۔‘‘
’’تمہاری شادی سے پہلے تو ان کے ماں، باپ بڑے دعوے کرتے تھے اور تعریفوں کے پل باندھ دیتے تھے کہ گھرداری میں ماہر ہیں بیٹیاں اور سب اتنا اچھا پکاتی ہیں کہ لوگ انگلیاں چاٹ لیتے ہیں، جبکہ انہیں یہ کہنا چاہئے تھا کہ آج کل چمچوں اور کانٹوں سے کھانے کا زمانہ ہے، وہ چوس لیتے ہیں۔‘‘
طارق کی پیشانی عرق آلود ہوگئی۔ ماں نے ایسی چوٹ کی تھی کہ اس نے اپنے وجود پر انگارہ محسوس کیا۔ اس نے خفت سے کہا۔ ’’چھوڑیں پرانی باتیں اماں…!‘‘
’’یہ تو سب کے ساتھ ہوتا ہے۔ اماں جان…! ایک جذباتی غلطی کرنے کے بعد آدمی کو احساس ہوجائے تو ٹھیک ہے۔‘‘
’’اچھا…! تم دونوں نے واپس آکر میرے ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا ہے؟‘‘ زیب النساء مسکرا دیں۔
خورشید نے بے چینی سے پہلو بدلا۔ ’’یہاں آکر رہنے کا تو نہیں مگر ہم رہیں گے ایک ساتھ…!‘‘
’’بزرگوں کا سایہ ہونا چاہئے سر پر اور ماں کے قدموں کے نیچے جنت ہوتی ہے۔ ہم آپ کو ساتھ رکھیں گے اور کوئی شکایت ہونے نہیں دیں گے۔‘‘ طارق نے کہا۔
’’ہم اسلام آباد کی کوٹھی میں رہیں گے، جدید طرز کی… باغات میں گھری ہوئی جہاں بڑے بڑے لوگ رہتے ہیں۔‘‘ خورشید نے کہا۔ ’’وہاں رہنا کس قدر عزت اور شان کی بات ہے۔‘‘
زیب النساء نے اسے غور سے دیکھا۔ ’’کیا تم نے وہاں کوئی کوٹھی خریدی ہے؟‘‘
خورشید نے بے چینی سے پہلو بدلا۔ ’’نہیں… خریدی تو نہیں…!‘‘
’’خریدی نہیں ہے تو پھر شیخ چلی جیسی باتیں کیوں کررہے ہو…؟ صاف صاف کہو کہ کرائے پر لی ہے۔ وہاں تو کوٹھی، بنگلے کے کرائے بھی آسمان سے باتیں کرتے ہیں اور پھر اتنی بڑی کوٹھی کا کرایہ…؟‘‘
’’ہم خرید لیں گے اماں! آپ فکرمند نہ ہوں۔‘‘ خورشید بولا۔
’’کیا کوئی بینک لوٹ کر…!‘‘ انہوں نے طنزیہ لہجے میں کہا۔ ’’آج کل نوجوانوں کے لئے یہ ایک شارٹ کٹ بن گیا ہے۔‘‘
’’ارے نہیں اماں! آپ اس انداز سے ہمارے بارے میں سوچ رہی ہیں۔ کیا آپ نے ہماری ایسی تربیت کی ہے کہ ہم جرائم پیشہ بن جائیں؟ ایسے راستے پر چلنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔‘‘
’’پھر ایسا کون سا راستہ ہے کہ اتنی بڑی کوٹھی کرائے پر لی جائے گی؟‘‘
’’ہم خرید لیں گے۔ تین چار کروڑ میں ایک نئی، عالیشان کوٹھی… کسی سرسبز جگہ پر…! یہ جگہ تو اب کباڑ خانہ بن گئی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ مچھلی بازار…! ہر وقت کا شور اور آس پاس رہنے والے معمولی لوگ توبہ!‘‘
’’مگر یہ تو بتائو کہ کہاں سے آئیں گے تین چار کروڑ خورشید! بینک ڈکیتی نہیں کرو گے… میں نہیں جانتی ہوں کہ منشیات فروشی کرتے ہو…؟ کروڑوں کی بات ہے۔ حق حلال کے ماہانہ دس ہزار روپے کمانے میں بھی خون پسینہ ایک کرنا ہوتا ہے۔‘‘
’’دیکھیں اماں…! کوٹھی آپ ہی خریدیں گی اور وہ آپ کے نام ہی ہوگی۔ اس جگہ کے بآسانی چھ سات کروڑ مل جائیں گے کیونکہ اس کی کمرشل ویلیو روزبروز بڑھتی جارہی ہے۔‘‘
زیب النساء کی تیوریاں چڑھ گئیں، ان کا چہرہ تمتمانے لگا۔ وہ غصے سے بولیں۔ ’’یہ تم سے کس نے کہہ دیا کہ میں اس جگہ کو بیچ دوں گی… یہ بات کیوں بھولتے ہو کہ یہ تمہارے باپ کی نشانی ہے؟‘‘
طارق جھلا گیا اور اس نے بیزار لہجے میں کہا۔ ’’کیا ہم ان کی نشانی نہیں ہیں…؟‘‘
’’سنو…! تم جانتے ہو میں لگی لپٹی بالکل پسند نہیں کرتی۔ صاف صاف بتائو کہ تمہارا مقصد کیا ہے یہ بات کہنے کا؟‘‘ زیب النساء نے سخت لہجے میں کہا۔
اب اصل بحث کا آغاز ہوا۔ طارق نے بغیر کسی لگی لپٹی کے کہا۔ ’’اس میں سے پچاس لاکھ مجھے ملیں گے تو میرا مستقبل بن جائے گا۔ اور پچاس لاکھ کی رقم مجھے نہ ملی تو یہ سنہری موقع میرے ہاتھ سے نکل جائے گا۔ یہ کیا منحوس اجاڑ جگہ پر آپ پڑی ہوئی ہیں، اس بڈھے کھڑوس ملازم کے ساتھ…! آپ کو وحشت نہیں ہوتی ہے، ٹینشن بھی نہیں۔ بیٹوں اور پوتوں سے رونق ہوتی ہے گھر میں!‘‘
زیب النساء کا لہجہ بھی انتہائی برہم ہوگیا۔ ’’کیا سوچ کر تم آئے یہاں کہ ایک بڑھیا کو بے وقوف بنا لو گے…؟ جذباتی استحصال کا ڈراما کرکے… یہ جگہ جو بھی ہے اور جیسی اور جس طرح کی بھی ہے، میرے لئے کسی جنت سے کم نہیں۔ میں یہاں سے کسی قیمت پر بھی نکل کر جہنم میں نہیں جائوں گی۔ میں یہاں بہت خوش ہوں۔ تم لوگ بھی تو یہاں سے سکون اور خوشی کے لئے ہی گئے تھے نا…؟ کیا یہ بات بھول رہے ہو… میں نے روکا تو نہیں تھا کیونکہ یہ تمہارا گھر ہے، میں منع نہیں کروں گی۔‘‘
’’یہ محض ایک فلمی ڈائیلاگ ہے۔‘‘ خورشید نے کڑوا گھونٹ پیتے ہوئے کہا۔ ’’گھر کی مالک تو آپ ہی ہیں اماں!‘‘
اس سے پہلے کہ یہ گفتگو تلخ اور زہریلی ہوجاتی، گیٹ سے ڈاکٹر چوہدری نوازش نے قدم رکھا۔ انہیں دیکھ کر طارق نے ناگواری سے منہ بنا کر کہا۔ ’’دیکھو اس رنگین مزاج بڈھے کو ڈاکٹر ہوکر کسی منچلے کی طرح نیکر پہن کر گھوم رہا ہے۔‘‘
خورشید نے تائید کی۔ ’’گھر میں پہنتے ہوئے شرم آنا چاہئے۔‘‘
’’شاید خود کو نوجوان ظاہر کرنے کے لئے اس لباس میں گھومتا ہے۔‘‘ طارق بولا۔
ڈاکٹر چوہدری نے قریب آکر خوش دلی اور گرم جوشی سے کہا۔ ’’ہیلو…! گڈ مارننگ ایوری بڈی…بڑی رونق ہے آج تو… کیا سورج آج مغرب سے طلوع ہوا ہے؟‘‘
’’جی ہاں!‘‘ زیب النساء بے اختیار مسکرا دیں۔ ’’آج لنچ کا بھی اسپیشل مینو ہے۔ لازانیا، چائنیز رائس اور چکن کارن سوپ … یہ میری بہوئیں بنا رہی ہیں۔ وہ کچن میں لگی ہوئی ہیں۔ یہ جو آوازیں سنائی دے رہی ہیں، موسیقی کی نہیں بلکہ برتنوں کی ہیں۔‘‘
ڈاکٹر چوہدری نوازش نے آنکھیں جھپکائیں اور بیٹھ گئے۔ پھر بولے۔ ’’مجھے صبح سے آوازیں آرہی تھیں، میں سمجھا کہ آپ ٹی وی دیکھ رہی ہوں گی۔‘‘
خورشید کو ان کا بیٹھنا ناگوار لگا۔ وہ کہے بغیر نہ رہ سکا۔ ’’ڈاکٹر! کیا آپ کے خیال میں یہ ڈریس معیوب نہیں ہے؟‘‘
ڈاکٹر چوہدری نوازش کے چہرے پر استعجاب ابھر آیا۔ وہ حیرت بھرے لہجے میں بولے۔ ’’معیوب کیسا…؟ گھٹنوں سے نیچا اور ٹخنوں سے اوپر ہے۔ آپ کیسی ہیں! دوبارہ تو بخار محسوس نہیں ہوا؟‘‘
’’جی نہیں…! اللہ کا شکر ہے۔‘‘ وہ بولیں۔ ’’ایک ہی خوراک میں بخار اتر گیا۔‘‘
’’دراصل ہم ایک خاص فیملی مسئلے پر بات کررہے تھے۔‘‘ خورشید نے انہیں بتایا۔
’’اوہ… آئی ایم سوری! پھر تو میں نے مداخلت کی۔‘‘ وہ کھڑے ہوگئے۔
زیب النساء نے انہیں بیٹھ جانے کا اشارہ کیا اور بولیں۔ ’’وہی پرانا قصہ ہے ڈاکٹر چوہدری! بچے کہتے ہیں کہ اس جگہ کو فروخت کرکے اسلام آباد میں رہیں مگر اب اسے میری جذباتی وابستگی کہہ لیں یا کچھ اور…! مجھے یہ جگہ جان کی طرح عزیز ہے۔ میرے شوہر مرحوم نے اس میں ایک ایک چیز میری خواہش اور فرمائش پر لگوائی تھی۔‘‘
’’لیکن یہ کتنی پرانی بات ہے اماں…! اس بات کو پچاس برس تو بیت گئے۔‘‘
’’جب تم ہماری عمر کو پہنچو گے تو پھر ان کی ہر یادگار تمہیں بھی عزیز ہوجائے گی۔ یہ تو ہر گھر کی کہانی ہے۔ اب میرے بچے فرماتے ہیں کہ کینیڈا یا آسٹریلیا چلو لیکن میں کہتا ہوں کہ مجھے یہاں کی مٹی میں دفنا کر تم لوگ چلے جائو، مجھے اپنے ملک میں ہی مرنے دو۔‘‘
’’یہ سب جذباتی باتیں ہیں جن کا حقیقت سے دور دور کا بھی تعلق نہیں۔‘‘
’’زندگی بذات خود جذبات کا کھیل ہے۔ انسان جذبات اور احساسات کے تحت ہی زندگی گزارتا ہے ورنہ آدمی اور مشین میں
کیا فرق ہے۔ اب دیکھو میرے دوسرے پڑوسی کو! بچے چلے گئے اسے چھوڑ کر تو اس نے اپنی ساری جائداد ایک خیراتی ادارے کو دے دی۔ اس کی مالیت کروڑوں کی تھی۔ اس نے اپنی عاقبت سنوار لی۔‘‘
’’کیا اس عاقبت نااندیش نے ظلم نہیں کیا اپنے بچوں پر…؟‘‘ خورشید چڑ کر بولا۔
’’اور کیا بچوں نے اس پر ظلم نہیں کیا…؟ جب اسے ضرورت تھی سہارے کی تو وہ ماں، باپ کو چھوڑ کر چلے گئے۔‘‘ زیب النساء نے تلخی سے کہا۔ ’’وہ مستحق تھے اسی سزا کے… ناخلف! ایسی خودغرض اور نافرمان اولاد سے تو اچھا ہے کہ اولاد نہ ہو۔‘‘
’’اماں کوسنے کی کیا ضرورت ہے۔ اپنے وقت میں کیا والدین اپنا مفاد نہیںدیکھتے… پھر جب بچوں کا وقت آتا ہے تو ان سے کیوں توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنا مفاد نہ دیکھیں؟‘‘ خورشید نے کہا۔
ڈاکٹر چوہدری نوازش نے دیکھا کہ کشیدگی بڑھتی جارہی ہے تو انہوں نے بڑی ہوشیاری سے موضوع بدل دیا۔ ’’ارے بھئی…! یہ دنیا تو ازل سے یونہی چلی آرہی ہے اور قیامت تک چلتی رہے گی… یہ سلسلہ ہمارے بعد بھی جاری رہے گا۔ اچھا یہ بتائو کہ آج کل کیا کررہے ہو؟‘‘
’’وہی دن رات گدھے کی طرح محنت… لاحاصل محنت! زندگی اس طرح گزر رہی ہے کہ فراغت نصیب نہیں۔ گرانی اور مہنگائی کی وجہ سے اخراجات پورے نہیں ہوپاتے۔‘‘ خورشید نے جواب دیا۔
’’ایسا ہی ہوتا ہے شروع میں!‘‘ وہ بولے۔ ’’حالات کا سامنا کئے بغیر چارہ نہیں ہے۔‘‘
’’کیسا شروع…؟‘‘ طارق نے کہا۔ ’’دس برس ہوگئے ہیں ڈاکٹر…! وہی غربت، تنگ دستی اور احساس محرومیاں!‘‘
ڈاکٹر چوہدری نوازش اس کی بات سن کر ہنستے ہوئے کہنے لگے۔ ’’تم غریب ہو… کار اور معیاری زندگی کے ساتھ تو اللہ سب کو غریب کردے۔ تمہارے گھر میں اے سی، فریج، ڈیپ فریزر، ٹی وی اور واشنگ مشین سب ہوں گے۔ کار بھی اچھی اور نئے ماڈل کی ہے۔ میرے خیال میں ناشکری نہیں کرنی چاہئے۔‘‘
طارق کو لگا جیسے اس کی تضحیک کی گئی ہو۔ وہ بولا تو اس کا لہجہ تیز تھا۔ ’’ہمیں اس معیاری زندگی کا عادی کس نے بنایا…؟ اب اسے برقرار رکھنا کس قدر مشکل ہورہا ہے، یہ ہم جانتے ہیں۔ اگر ہم لاوارث اور یتیم ہوتے تو اور بات تھی۔ اب ہمارے لئے مواقع ہیں ترقی کرنے کے… ہماری زندگی بدل سکتی ہے بس اس کے لئے تھوڑے سے سرمائے کی ضرورت ہے۔‘‘
’’میں سمجھا نہیں! سرمایہ ہے تو سہی…! دستیاب کیوں نہیں؟‘‘ ڈاکٹر کا چہرہ سوالیہ نشان بن گیا۔
’’اماں فرماتی ہیں کہ یہ سب تمہارا ہی ہے لیکن میرے بعد…! ہم کہتے ہیں کہ پانچ کروڑ ملتے ہیں اس جگہ کے تو بیچو اور نکلو اس کباڑ خانے سے اور اسلام آباد میں رہو۔ ایک کروڑ ہمیں دے دو، کل کس نے دیکھا ہے لیکن یہ ضد پر اَڑی ہوئی ہیں۔‘‘
’’جب میں نے ایک بار بتا دیا اور صاف صاف بتا دیا کہ یہ جگہ میں ہرگز نہیں بیچوں گی جب تک میں زندہ ہوں، کیوں ڈاکٹر چوہدری کے سامنے شور کررہے ہو؟‘‘ زیب النساء بگڑ گئیں۔ ’’جائو دفع ہوجائو، جاکر میرے مرنے کی دعائیں مانگو۔ یہ بڑھیا جتنا جلد ہوسکے اس دنیا سے رخصت ہو۔‘‘
’’اوکے… اوکے! نہ بیچیں۔ اس کی گارنٹی پر بینک سے ہمیں ایک کروڑ کا لون کھڑے کھڑے مل جائے گا۔‘‘ طارق نے معاملے کو سنبھالا۔ ’’اس میں تو کوئی حرج نہیں…؟‘‘
’’تمہارا مطلب ہے کہ گروی رکھ دوں…؟ اگر تم لون ادا نہ کرو تو بینک مجھے نکال باہر کرے گا۔ میں کہاں سے دوں گی ایک کروڑ قرضے کی قسط…!‘‘ اماں نے غصے سے کہا۔ ’’اس لئے میں اس معاملے پر بات کرنا نہیں چاہتی… کیا اس عمر میں بھی میں ذلیل و خوار ہوتی رہوں؟‘‘
ڈاکٹر چوہدری نوازش نے سرد مہری سے کہا۔ ’’تم زبردستی نہیں کرسکتے اپنی ماں کے ساتھ اور نہ ہی بدتمیزی…!‘‘
’’آپ مت بولیں ہمارے ذاتی معاملات میں… جائیں کھانا کھا کے۔‘‘ خورشید کا لہجہ جارحانہ ہوگیا۔
طارق نے بھائی کو سپورٹ کیا اس لئے اس کا مفاد اور غرض مشترک تھی۔ وہ بولا۔ ’’آپ جائز بات نہیں کررہے، اماں کو شہ دے رہے ہیں۔‘‘
’’میں یہاں کھانا کھانے نہیں آیا تھا لیکن جو کچھ ہورہا ہے، اس پر گونگا بن کر نہیں رہ سکتا۔‘‘ ڈاکٹر چوہدری نے سخت لہجے میں کہا۔
’’ڈاکٹر چوہدری کہیں نہیں جائیں گے… آپ میرے پڑوسی، دوست اور ایک معزز مہمان ہیں، ان کے نہیں۔‘‘ اماں نے کہا۔
’’ٹھیک ہے پھر ہم چلے جاتے ہیں۔‘‘ خورشید ایک جھٹکے سے کھڑا ہوا تو طارق بھی کھڑا ہوگیا۔ ’’ہم یہاں ذلیل اور بے عزت ہونے نہیں آئے تھے، ہماری بھی کوئی عزت ہے۔‘‘
پھر وہ سب چلے گئے۔ اکمل نے جو کھانا میز پر چنا تھا، وہ رکھے رکھے ٹھنڈا ہوتا رہا۔
٭…٭…٭
بہادر علی نے بڑے غصے سے پتے میز پر دے مارے۔ ایسا لگتا تھا کہ وہ پتے پھاڑ دے گا لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔ وہ بولا۔ ’’ایسے کھیلنے کا فائدہ کیا… تمہارا دھیان کہیں اور ہے۔‘‘
اس کے پارٹنر نے سگریٹ کا لمبا کش لیا۔ ’’بھائیاں دی جوڑی آج پریشان جو ہے۔‘‘ یہ کہہ کر اٹھ کھڑا ہوا۔
جبار اور نذیر اس کے ساتھ ہی باہر نکل آئے۔ بہادر علی کا پارٹنر ان سے ہاتھ ملا کر اپنی جیپ میں جا بیٹھا۔ یہ دوسری جنگ عظیم کا ماڈل تھا جسے زرد اور لال رنگ دے کر پیچھے دو سیٹوں کا اضافہ کیا گیا تھا۔ اس کھلی جیپ کے پیچھے موٹے خوبصورت پائپ کا فریم تھا جس پر دو بڑی بڑی سرچ لائٹیں لگائی گئی تھیں۔
بہادر نے کلائی کی گھڑی کو سامنے کے رخ پر کیا۔ ’’ٹرک ابھی تک نہیں آئے ہیں، حیرت کی بات ہے۔‘‘ پھر اس نے توقف کرکے جیب سے موبائل نکالا۔ کوئی نمبر ڈائل کرنے سے پہلے اس کی گھنٹی بجنے لگی۔ اس نے رسمی انداز سے کہا۔ ’’ہاں…! اچھا ٹھیک ہے۔‘‘ اور فون واپس جیب میں رکھ لیا۔
’’جی ٹی روڈ پر ٹریفک جام کوئی نئی بات نہیں، یہ اب روز کا معمول بن گیا ہے۔ آئو ادھر ہی بیٹھتے ہیں۔‘‘ اس نے گودام کے سامنے والے حصے میں بنے ہوئے مختصر سے لان پر رکھی کرسیوں کی طرف اشارہ کیا۔
’’مجھے صاف صاف بتائو کہ مسئلہ کیا ہے؟ کوئی بات چھپانے کی کوئی ضرورت نہیں۔‘‘
’’مسئلہ ہماری زندگی کا ہے۔‘‘ نذیر نے کہا۔
’’تم نے بتایا تھا کہ تمہارا باپ دوسری شادی کررہا ہے۔‘‘ بہادر نے بے نیازی سے کہا۔ ’’یار! کیا فرق پڑتا ہے اس سے تمہیں… یہ کوئی نئی بات نہیں پھر تم کوئی چھوٹے بچے نہیں ہو اور سب سے اہم بات یہ کہ ماں تمہارے ساتھ ہے۔ اس عورت سے تعلق نہیں رکھنا ہے تو نہ رکھو۔‘‘
’’اگر بات اتنی آسان اور سادہ ہوتی بہادر! تو ہم پریشان کیوں ہوتے۔ ہمارا تایا آیا تھا اور وہ ابا کے حق میں فیصلہ دے کر چلا گیا۔‘‘
’’اس نے شاید دو شادیاں کررکھی ہوں گی، اس لئے فیصلہ تمہارے باپ کے حق میں ہوا۔ ایسا وقت نہ آئے تو اچھا ہے لیکن کبھی بڑی عمر میں تم پھنس گئے کسی شعلہ بدن کے جال میں پھر تم بھی کسی کی نہیں سنو گے اس لئے کہ پہلی بیوی موٹی، بھدی اور بے کشش ہوچکی ہوتی ہے۔ اٹھارہ، بیس برس کی لڑکی کا جادو سر پر چڑھ کر بولنے لگتا ہے۔‘‘
جبار نے تکرار کے انداز میں کہا۔ ’’مجھے تمہاری ان باتوں سے نہ انکار ہے اور نہ اختلاف! ہماری ماں کچھ سمجھنے کے لئے کسی قیمت پر تیار ہی نہیں۔ اس نے ابا کو صاف بتا دیا ہے کہ اپنی جان دے دوں گی مگر کسی دوسری عورت کو برداشت نہیں کروں گی۔‘‘
’’میرا مشورہ یہ ہے کہ تم اپنی ماں کو لے کر الگ ہوجائو… کسی دوسرے گھر میں!‘‘
’’یار! کیسی بے وقوفی کی بات کرتا ہے تو بھی… کون سا دوسرا گھر ہے ہمارا…؟ ابھی آمدن کیا ہے کہ ہم کرائے پر بھی ایسی جگہ لینے کا سوچ سکیں۔ ہمارا کام تو ابھی شروع ہوا ہے اور ہم لے لیں کوئی چھوٹا سا گھر! ماں ہمارے ساتھ نہیں جانے والی… باپ کا فیصلہ اٹل ہے، وہ ہر قیمت پر شادی کرکے رہے گا۔‘‘
’’کون ہے وہ دوسری عورت…؟‘‘ بہادر نے پوچھا۔
’’اس کے ساتھ کی کوئی لیکچرر ہے۔ بیوہ ہے، نوجوان نہیں ہے۔ اس کا ایک بیٹا جو ہماری عمر کا ہے، کہیں باہر پڑھتا ہے۔ وہ شاید اس عمر میں بھی حسین اور پرکشش ہوگی، اس لئے ہمارا باپ اس پر مر مٹا ہے۔‘‘ نذیر نے اسے بتایا۔ ’’ہم نے اسے دیکھا نہیں ہے اور دیکھ کر کرنا بھی کیا ہے۔‘‘
’’کل اس بات پر ابا سے جھگڑا ہوگیا۔ اس نے صاف صاف کہہ دیا کہ جہاں چاہو جاکر رہو پھر مجھ سے کوئی تعلق نہیں رہے گا۔ اس کا مطلب بہت صاف اور واضح تھا، اگر اس سے دشمنی کی تو وہ ہمیں برباد کردے گا۔ ہمارے کاروبار کی ضمانت اس نے نقد جمع کرائی تھی، اگر اس نے واپس لے لی تو ہم اٹھنے سے پہلے ہی بیٹھ جائیں گے اور یہ کار بھی تو ہماری نہیں ہے۔‘‘ جبار بولا۔
’’یہ تو تمہارے باپ کی بھی نہیں۔‘‘ بہادر نے کہا۔
’’ہاں…! یہ اس عورت کی ہے جس کے چکر میں ہمارا باپ پڑ گیا ہے۔ اپنی نئی گاڑی اسے دے دی ہے اور اس کی پرانی گاڑی میں خود پھرتا ہے۔ ہمارے پاس تو اپنی سائیکل بھی نہیں ہے۔ باپ کو اس شادی سے روکنا بہت ضروری ہے ورنہ مجھے یقین ہے کہ ماں خودکشی کرلے گی۔‘‘
بہادر نے اسے گھور کر دیکھا۔ ’’کیسے روکو گے اسے تم…؟‘‘
نذیر بولا۔ ’’بہادر علی! اب اس مسئلے کا ایک ہی حل ہے۔ نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری…! پہلے تو اس عورت کو سمجھایا جائے کہ شرافت سے پیچھے ہٹ جائے۔ ایک عورت ہوکر ایک عورت کا گھر نہ اجاڑے ورنہ…!‘‘
بہادر اس کی بچکانہ بات سن کر ہنس پڑا اور اس کا کندھا تھپک کر بولا۔ ’’اور تم یہ سمجھتے ہو کہ وہ تمہاری دھمکی سے ڈر کر راستے سے ہٹ جائے گی، وہ تمہارے باپ کو بتا دے گی میری جان! یہ عشق ہے۔‘‘
’’اسے دھمکی دی جاسکتی ہے کہ امریکا میں اس کا بیٹا محفوظ نہیں رہے گا۔‘‘ جبار نے کہا۔
پھر نذیر خاموش نہ رہا۔ وہ بولا۔ ’’اگر وہ پھر بھی نہ مانی تو پھر سچ مچ بڑی آسانی سے اسے ہٹایا جاسکتا ہے۔ اس کا نام شیریں ہے۔‘‘
’’وہ کیسے…؟‘‘ بہادر علی تشویش میں مبتلا ہوکر بولا۔ ’’مرد ہو یا عورت ہو، اسے راستے سے ہٹانا آسان نہیں ہوتا۔‘‘
’’اس لئے کہ وہ ایک عام سی عورت ہے۔ اکیلی پھرتی ہے، اس کے ساتھ محافظ تھوڑی ہوتے ہیں۔ وہ میرے باپ کی گاڑی استعمال کرتی ہے، کیا وہ اغوا نہیں ہوسکتی؟‘‘
بہادر نے کہا۔ ’’چلو اسے اغوا کرلیا جاتا ہے اس کے بعد تم اسے کہاں لے جائو گے؟‘‘
’’ہم اسے ادھر پہنچا دیں گے جہاں سے کوئی واپس نہیں آتا۔ کیا شہر کے مضافات میں چھوٹے بڑے کھڈ کم ہیں… وہاں اس کی تدفین کوئی مشکل نہ ہوگی۔ ہمارے پاس چوائس نہیں ہے یار بہادر! یا وہ نہیں یا ہماری ماں نہیں… اگر ایک عورت کو مرنا ہو تو…!‘‘
بہادر نے اس کی بات کاٹ دی اور تیز و تند لہجے میں کہا۔ ’’پاگل ہو تم دونوں! تمہارا باپ خود تمہیں پکڑوا دے گا اور بیٹا! ایک رات تو بہت ہوتی ہے، ایک گھنٹے میں تم سب بتا دو گے کہ کیسے مارا، کہاں مارا اور کہاں دفنایا…! تم اپنی ماں کو تو بچا لو گے، کیا تمہاری ماں تمہیں پھانسی سے بچا سکے گی؟ کھوپڑی میں کچھ آیا کہ نہیں…!‘‘
’’کیا تو ہماری کوئی مدد نہیں کرسکتا؟‘‘ جبار نے اسے پرامید نظروں سے دیکھا۔
’’دیکھ…! ایک صورت اور بھی ہے۔ اس کا بیٹا وسیم پاکستان آرہا ہے۔ کل میں نے اپنے باپ کو اس عورت سے فون پر بات کرتے سنا تھا۔ شیریں چاہتی تھی کہ آخری قدم اٹھانے سے پہلے اس کا بیٹا اپنے ہونے والے نئے باپ سے مل لے۔ کسی امریکا میں رہنے والے نوجوان کو اس سے کیا غرض یہاں اس کی ماں کیا گل کھلاتی پھر رہی ہے۔ جس ملک سے وہ آرہا ہے، وہاں یہ ایک عام سی بات ہے۔ وہ اپنی ماں کی راہ میں مزاحم نہیں ہوگا۔ یہ احساس جرم صرف شیریں کو ہے۔ میرے باپ نے کہا کہ وہ وسیم سے مل کر اس موضوع پر بات کرلے گا۔‘‘
نذیر نے کہا۔ ’’وہ دو دن بعد آرہا ہے۔ میرے لئے یہ معلوم کرنا کچھ مشکل نہیں کہ وہ کس فلائٹ سے آرہا ہے۔ وہ ہیوسٹن میں رہتا ہے۔ فرض کرو کہ ہم اسے ایئرپورٹ سے ہی اٹھا لیں تو؟‘‘
بہادر بڑے زور سے چونکا اور اس نے تعجب خیز لہجے میں کہا۔ ’’اٹھا لیں…! وہ کیسے…؟ کیا تم اسے جانتے ہو؟ مجھے پوری بات بتائو، اندھیرے میں نہ رکھو۔‘‘
’’دیکھو… مجھے معلوم ہوا ہے کہ اسے لینے کوئی نہیں جائے گا۔ وہ ایئرپورٹ سے سیدھا نانی کے پاس جائے گا کیونکہ اس کی ماں تو رہتی ہے گرلز ہاسٹل میں! ماں اسے اپنے ساتھ لے جانے سے رہی۔ طے یہ ہوا کہ وسیم کا لاہور کے کسی ہوٹل میں رہائش کا انتظام کردیا جائے گا۔ یہ سب میں نے اپنے باپ اور شیریں کی گفتگو سے اندازہ کیا ہے۔‘‘ نذیر نے کہا۔ ’’اپنے والد سے آخری بار بات کرنے کے بعد ہم نے اس عورت کے بارے میں مختلف ذرائع سے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی۔ وہ عورت ہوگی یقیناً چالیس سے اوپر کی جس کا جوان بیٹا ہے مگر لگتی وہ بہت کم عمرہے! مجھے شک ہے کہ وہ میرے باپ پر ڈورے ڈال کر اس کا سب کچھ ہتھیا لے گی۔ ویسے لیکچرر ہے، خودکفیل ہے۔ معاملہ لالچ کا نہیں بس وہ اپنا گھر بسانا چاہتی ہوگی، آخر کب تک ہاسٹل میں رہے گی اور جب اس کی ماں مرے گی تو پیسہ ضرور ملے گا، مگر آج اپنے جیسا لیکچرر شوہر مل رہا ہے تو وہ اس موقع کو گنوانا نہیں چاہتی یا پھر ہمارا باپ ہی اسے اپنانے کے لئے جنون میں مبتلا ہے۔‘‘ نذیر نے سانس لینے کے لئے توقف کیا اور پھر اپنی بات جاری رکھی۔ ’’شیریں کی ماں کافی عمر کی ہے۔ شیریں اگر چالیس چھیالیس کی ہے تو وہ ساٹھ سے اوپر کی ہوگی۔ اس کے مرنے کے بعد جائداد ان تین وارثوں میں تقسیم ہوگی۔ دو بھائی اور ایک بہن! گھر اگر پانچ کروڑ کا ہوگا تو شیریں کے ایک کروڑ کہیں نہیں گئے مگر وہ ابھی دور کی بات ہے۔‘‘
’’مجھ سے کیا مدد چاہئے تمہیں… اس عورت کو اغوا اور قتل کا خیال چھوڑ دو… یہ تم نہیں کرسکتے اور میں بھی تمہیں ایسی بے وقوفی نہیں کرنے دوں گا۔‘‘ بہادر نے صاف گوئی سے کہا۔
جبار جو خاموشی سے سنتا آرہا تھا، اس نے سکوت توڑتے ہوئے کہا۔ ’’میں سوچتا ہوں کہ اگر ہم نے اپنا علاقہ نہ چھوڑا ہوتا تو کتنا اچھا ہوتا۔ ایسے مواقع روز روز کہاں ملتے ہیں۔‘‘
’’یہ تو ہے۔‘‘ بہادر نے اعتراف کیا۔
’’ہم تو بیٹھے ہی ایسی جگہ تھے جب چاہتے اس کاروبار میں شامل ہوجاتے لیکن میں اب کیا کہوں… اس نے بچوں کو پڑھایا… کیا وہ جانتا نہیں تھا کہ تعلیم کے ذریعے کسی کا مستقبل نہیں بن سکتا۔ کیا کوئی پڑھ لکھ کر کبھی دولت مند بنا ہے؟ ایک نے پڑھا اور ایک ادھر کا رہا نہ ادھر کا…! ہمارا تایا اس نے باپ کا بزنس بھی نہیں سنبھالا اور پڑھا بھی نہیں۔ ہمارا باپ لیکچرر ہوگیا تو کون سا مستقبل سنور گیا ہمارا!‘‘ (جاری ہے)