Muqaddar | Episode 5

492
بہادر نے سر ہلایا۔ ’’یار! ماں، باپ کو شوق ہوتا ہے۔ انہیں احساس محرومی اندر ہی اندر کاٹتا ہے کہ ہم جاہل رہے۔ یار! ٹرک ابھی تک نہیں پہنچے۔ خیر اب تمہارا پلان کیا ہے؟‘‘
’’اس عورت کو اغوا یا قتل کرنے کا ہم نے سوچا ضرور تھا مگر سچی بات یہ ہے کہ بعد میں ہمیں اندازہ ہوگیا تھا کہ اس میں کتنا خطرہ ہے۔ یہ ہم نہیں کرسکتے اور اگر کیا تو کسی کو کچھ نہیں ملے گا۔ نہ ہمیں، نہ ماں کو اور نہ ہمارے باپ کو…! پھر بھائی کے دماغ میں یہ بات آئی۔ ہمارا خیال ہے وسیم کو ایئرپورٹ سے اغوا کرلیا جائے۔‘‘
بہادر نے ان دونوں کی صورت دیکھی۔ ’’یہ تو اور بھی مشکل ہوگا لیکن اس سے کیا ملے گا تمہیں…؟‘‘
’’پہلے میری بات تو سن لے۔‘‘ نذیر بولا۔ ’’میں نے اپنے باپ کی گفتگو سنی ہے۔ وہ ہر رات اس عورت سے فون پر گھنٹوں بات کرتا ہے۔ میری ماں اپنے کمرے میں لیٹی جاگتی رہتی ہے۔ دو دن جاسوسی کرکے مجھے پتا چلا کہ شیریں کا بیٹا پنڈی جائے گا۔ نانی اکیلی ہے، وہ اسے ریسیو کرنے نہیں جائے گی۔ ماں لاہور میں ہے، واپس جانے سے پہلے وہ ماں سے بھی ملنے آئے گا۔ اس وقت شیریں اسے اپنی شادی کے متعلق بتائے گی اور اپنے ہونے والے شوہر سے ملوائے گی۔ اس کی طرف سے ماں جائے جہنم میں…! نہ وہ اس کی خاطر امریکا جاسکتی ہے اور نہ وہ اپنی ماں کے لئے پاکستان آئے گا بڑھاپے کی لاٹھی بن کر… یہ ان کی آخری ملاقات ہوگی۔‘‘
’’یار! کام کی بات کرو۔ اسے اغوا کیسے کرو گے اور اس سے فائدہ کیا ہوگا؟‘‘ بہادر نے بے چینی سے کہا۔
’’اسے لینے ہم ایئرپورٹ پہنچ جائیں گے۔‘‘ نذیر کہنے لگا۔ ’’تم نے اکثر دیکھا ہوگا کہ باہر سے اجنبی آئے جسے پہچانتا کوئی نہ ہو تو ایک شخص گتے پر مسافر کا نام لکھ کر کھڑا ہوجاتا ہے۔ ہم بھی یہی کریں گے لیکن پہلے دیکھ لیں گے کہ کوئی اور تو اسے لینے نہیں آیا۔ وہ اپنا نام دیکھ کر ہمارے ساتھ چل پڑے گا۔‘‘
کچھ دیر بہادر سوچتا رہا۔ پھر اس نے پہلو بدل کر پوچھا۔ ’’کیا تم نے یہ بھی سوچا ہے کہ اس آسان شکار کو کہاں لے جانا ہے؟‘‘
’’ہم اسے یہاں لےآئیں گے تیرے گودام میں!‘‘ اس نے جواب دیا۔
بہادر کا منہ کھلا رہ گیا۔ ’’کیا کہا…! یہاں…؟ وہ کس لئے…؟‘‘
نذیر نے جبار کی طرف دیکھا اور جواب دیا۔ ’’اس لئے کہ یہ جگہ محفوظ ہے۔ وہ یہاں سے بھاگ سکتا ہے اور نہ کوئی اس کا سراغ لگا کر یہاں آسکتا ہے۔ لیکن یہ ہمارے پلان کا پہلا حصہ ہے۔ ہم اسے یہاں یرغمال بنا کر اس کی نانی سے ایک کروڑ تاوان طلب کریں گے۔‘‘
بہادر باری باری دونوں بھائیوں کے چہروں کو دیکھتا رہا جن پر ایک کروڑ تاوان کے خواب نے دمک پیدا کردی تھی۔ وہ بولا۔ ’’کیا تمہیں امید ہے کہ وہ ایک کروڑ تاوان آنکھیں بند کرکے ادا کردے گی؟‘‘
’’بالکل کرے گی، کیوں نہیں کرے گی… وسیم کی ماں دلوائے گی اپنے اکلوتے بیٹے کے لئے… بس اس کام میں تیری مدد اور تعاون درکار ہے اس لئے کہ یہ کام ہم نے کبھی نہیں کیا لیکن تجھے تو بہت تجربہ ہے اس کام کا!‘‘
’’ارے یار! یہ تو بہت پرانی بات ہے۔ کئی برس سے ہم پڑوسی ملک سے مال لاتے لے جاتے ہیں۔ تمہیں کیا تجربہ ہے اس کام کا…؟‘‘
’’اس لئے تو تجھ پر بھروسہ کررہے ہیں… تیرے پاس تجربہ ہے، جگہ ہے اور لوگ بھی ہیں۔‘‘
وہ اس کی صورت غور سے دیکھتا رہا۔ ’’فرض کرو میں تمہارا ایک کروڑ ہڑپ کرگیا، مُکر گیا پھر…؟‘‘
دونوں بھائیوں نے ایک ساتھ سر ہلایا۔ ’’ہم جانتے ہیں کہ تو کیسا آدمی ہے اس لئے تجھ پر بھروسہ کیا ہے۔ پھر تو دیرینہ دوست بھی تو ہے۔‘‘ نذیر نے اس کا کندھا تھپتھپایا۔
’’سن لو تم دونوں غور سے… ایسے کام میں دوستی کا کوئی اصول لاگو نہیں ہوتا۔‘‘
’’ٹھیک کہتا ہے لیکن اعتبار تو ہوتا ہے۔ کیا ہم نہیں جانتے ہیں کہ تمہارا سارا کاروبار صرف زبان پر چلتا ہے۔ دیکھ یار بہادر! ہم ایک آدمی تیرے حوالے کردیں گے۔ اسے یہاں لانا ہمارا کام ہے، اس کے بعد کے معاملات میں ہم اناڑی ہیں۔ ایک کروڑ کیسے وصول کرنا ہے، ہم نہیں جانتے۔ یہاں تیرا تجربہ اور مہارت ہمارے کام آسکتی ہے۔‘‘
’’ایک کروڑ وصول کرنا تو میرے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔‘‘ بہادر نے پریقین انداز میں جواب دیا۔
’’کیا تو اس پر تشدد کرے گا، ایذائیں دے گا؟‘‘
’’نہیں! اس کی نوبت نہیں آئے گی۔ تم لوگ بے فکر رہو۔‘‘
’’اس کے بعد بندے کو چھوڑ دینا۔ رقم تیرے پاس رہے گی جس طرح چاہے استعمال کرنا۔ تو سیاہ، سفید کا مالک ہوگا۔ بس ہمیں منافع دیتے رہنا۔ چار برس تک ہم خاموش اور لاتعلق بیٹھے رہیں گے، کوئی دخل نہیں دیں گے۔‘‘
بہادر نے سر ہلایا۔ ’’چار برس میں رقم خاصی ہوجائے گی لیکن تم دونوں نے اس پہلو پر غور کیا ہے کہ اس طرح تمہاری ماں کا مسئلہ حل نہیں ہوگا؟‘‘
’’ہاں! ہمیں اس کا اندازہ ہے لیکن ہم ابھی کچھ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں مگر اس کے بعد ہم ماں کے لئے بہت کچھ کرسکتے ہیں۔‘‘ نذیر بولا۔ ’’کوئی تدبیر، ترکیب اور منصوبہ بنا لیں گے۔‘‘
’’تمہاری ماں تو کہتی ہے کہ وہ خودکشی کرلے گی، اگر تمہارے باپ نے دوسری شادی کی تو؟‘‘
’’یار بہادر! یہ صنف نازک کے جذبات ایسے ہی ہوتے ہیں مگر ہم اسے منا لیں گے کہ ہماری خاطر زندہ رہے۔ جب اولاد جوان ہوجاتی ہے تو عورت کے جذبات کا پلڑا اس کی طرف جھک جاتا ہے۔ ایک طرح سے یہ سب مسئلے کا حل ہوگا۔ باپ اپنی نئی بیوی کے ساتھ خوش و خرم، ماں اپنے جوان بیٹوں کے ساتھ مسرور و شاداں… جن پر باپ کا کوئی اختیار نہیں۔ بیٹے اسے ایسی زندگی دیں گے جس کا وہ شوہر کے ساتھ خواب بھی نہیں دیکھ سکتی، پھر وہ ہر طرح سے آزاد اور خودمختار ہوگی، حاکم ہوگی۔ حاکمیت کا ہونا عورت کو نازاں کردیتا ہے۔ اپنی مرضی سے اپنی پسند کی بہویں لائے گی اور راج کرے گی کسی مہارانی کی طرح!‘‘
’’بس… بس…! ایسے خواب مت دیکھو، حقیقت کی دنیا میں آئو۔ اگر تم اس ایک کروڑ کی آسامی کو یہاں تک لے آئے تو باقی کام میرا!‘‘
دونوں بھائیوں نے سکون اور اطمینان کا سانس لیا۔ کامیابی کی بنیاد کامیابی سے رکھی جا چکی تھی۔ اگر بہادر انکار کردیتا تو…!
باہر سے ٹرک کا ہارن سنائی دیا۔ وہ دونوں اٹھے اور گاڑی باہر نکال لی۔
٭…٭…٭
سفری دستاویزات میں وہ قانونی حیثیت کے حامل میاں، بیوی تھے۔ وسیم ایک پاکستانی طالب علم تھا اور اس کی بیوی پیدائشی طور پر امریکی تھی۔ اس کا عمر میں زیادہ ہونا ایک عام سی بات تھی۔ صورتحال اس کے برعکس بھی ہوسکتی تھی۔ وسیم نے آخری بار کوشش کی اور جب شیریں نے کال ریسیو کی تو اس نے جھنجلا کرکہا۔ ’’ماں! آپ فون کیوں نہیں اٹھا رہیں، سو دفعہ کال کرچکا ہوں ایک گھنٹے میں…!‘‘
’’وسیم! وہاں رات کے نو بجے ہوں گے لیکن یہاں صبح کے گیارہ بج رہے ہیں۔ میں کلاس روم میں تھی۔ میں نے اپنا موبائل فون بند کیا ہوا تھا۔ جب میں کلاس روم میں ہوتی ہوں، اپنا موبائل بند رکھتی ہوں۔ تم ان باتوں کا خیال رکھا کرو۔‘‘
’’اوکے… اوکے…! آپ کے علم میں یہ بات لانا تھی کہ ہمیں بورڈنگ کارڈ مل گیا ہے۔‘‘
شیریں چونکی۔ ’’کیا مطلب…؟ کیا تمہارے ساتھ کوئی اور بھی ہے؟‘‘
’’یہی بتانے کے لئے فون کررہا تھا ماما! میں نے شادی کرلی ہے۔‘‘
شیریں نے کڑوا گھونٹ حلق سے اتارنے کے بعد پوچھا۔ ’’کس سے؟‘‘
’’ظاہر ہے کسی لڑکی سے…!‘‘ وسیم مسکرایا۔ ’’وہ امریکی ہے ماما! وہ تمہیں بہت سوئٹ لگے گی۔ تم میرے انتخاب کی داد دو گی۔‘‘
شیریں جانتی تھی کہ جو لڑکے وہاں جاتے تھے، وہ مقامی عورتوں سے شادی کرلیتے تھے، شہریت کے حصول کے لئے۔ وہ زہر ناک لہجے میں بولی۔ ’’کیا شہریت حاصل کرنے کی غرض سے؟‘‘
’’ہاں ماما! ایسا سب کرتے ہیں، اس میں کوئی نئی اور انوکھی بات نہیں ہے اور پھر اس کے سوا چارہ بھی تو نہیں ہوتا۔ لوگ دگنی عمر کی کالی پیلی عورتوں کے شوہر بن جاتے ہیں، یہ تو میری ہم عمر اور اتنی خوبصورت اور پرکشش لڑکی ہے کہ یقین نہیں آئے گا۔ آپ حیران ہوجائیں گی اور بے ساختہ کہیں گی کہ سو لکی یو آر…!‘‘
’’لیکن مجھے اس سے کوئی دلچسپی ہے اور نہ اسے دیکھنے کا کوئی ارمان ہے۔‘‘
’’ماما! آپ اس قدر جذباتی نہ ہوں۔ میں آپ اور نانی سے ملوانے کے لئے تو پاکستان آرہا ہوں۔‘‘ وسیم نے خفگی سے کہا۔ ’’اسے دیکھ کر آپ کا غصہ جھاگ بن کر بیٹھ جائے گا۔‘‘ وہ زبردستی ہنسا۔
’’جب تم نے امریکا کو اپنا وطن بنا لیا ہے تو پاکستان آنے کی حماقت کرنے کی کیا ضرورت ہے؟‘‘
’’ماما! اس لئے کہ اس سے ملوانے کے بعد میں آپ کو یہاں لانا چاہتا ہوں۔ آپ مجھے اور بہو کو ایئرپورٹ لینے آئیں گی نا؟‘‘
’’اگر تم اکیلے آتے تو میں ضرور آتی۔‘‘ شیریں نے تلخی سے جواب دیا۔
’’اوکے ماما…! آپ خواہ مخواہ برہم ہورہی ہیں۔ میں ایئرپورٹ سے سیدھا نانی کی طرف چلا جائوں گا مگر آپ سے ملنے لاہور ضرور آئوں گا۔ میری پیاری امی جان…!‘‘ اس نے بڑے پیار بھرے لہجے میں کہا۔
’’اس کی کوئی ضرورت نہیں… مجھے تم دونوں کی شکل دیکھنے کی خواہش نہیں ہے۔‘‘ شیریں نے غصے سے فون بند کردیا۔
’’گو ٹو ہیل…!‘‘ وسیم نے بھی غصے سے فون بند کردیا۔ ’’یہ جھوٹ صرف آپ کو خوش کرنے کے لئے بولا تھا ورنہ میں کب آپ سے ملنے آرہا تھا۔‘‘
ہیلن کو اس نے ایک قطار سے نکل کر اپنی طرف آتے دیکھا۔ اس کی چال بڑی ہوشربا تھی جس نے اس کے خدوخال کو مزید دلکش بنا دیا تھا۔ اس کے سنہرے بال بے ترتیب ہورہے تھے اور اس کی مسکرہٹ میں ٹینشن چھپائے نہ چھپتی تھی۔
’’تھینک گاڈ! سب ٹھیک ہوگا، تمہیں اتنا نروس نہیں ہونا چاہئے۔ جوتمہارے بشرے سے صاف عیاں ہورہا ہے۔ ڈونٹ فارگیٹ ڈارلنگ! میں نے کیا بتایا تھا؟‘‘
وسیم چڑ کر تیز لہجے میں بولا۔ ’’میں بچہ نہیں ہوں اور یہ مت بھولو کہ یہ میرا پہلا تجربہ ہے۔‘‘
’’تجربہ…! مائی فٹ… تم صرف اپنی ماں اور گرینڈ ما سے ملنے پاکستان جارہے ہو جو تم کئی بار جا چکے ہو، اس سے زیادہ کچھ نہیں۔‘‘ ہیلن کا لہجہ قدرے تیز تھا۔
وہ ہیلن کی بات کا جواب دینے کی بجائے اس کی شاخ گل جیسی کمر میں ہاتھ ڈال کر ڈیپارچر لائونج کی طرف بڑھنے لگا۔ ’’پہلے کبھی ایسی حسین بیوی کے ساتھ نہیں گیا۔‘‘
ہیلن نے اسے دُزدیدہ نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔ ’’کیا تم نے پاکستان کال کرلی؟‘‘
’’ہاں… کرلی… اچھا ہوتا کہ نہ کرتا۔ ماما نے مجھ سے ملنے سے ہی صاف انکار کردیا۔‘‘
’’وہ کیوں…؟‘‘ وہ رک گئی۔ اس کے حسین چہرے پر استعجاب بکھر گیا۔
’’وہی بات جس کا مجھے دھڑکا لگا ہوا تھا۔ وہ خوش نہیں ہیں کہ میں نے ان کی اجازت اور بتائے بغیر تم سے شادی کرلی… اب میں انہیں کیسے بتاتا کہ شادی صرف ایک میرج سرٹیفکیٹ ہے۔‘‘
’’کیوں…؟ کیا ہم میاں، بیوی کی طرح نہیں رہتے…؟ اس کنٹری میں یہ ایک عام سی بات ہے اور قانونی طور پر نہ جرم ہے اور نہ معاشرتی طور پر معیوب…!‘‘ وہ شوخی سے ہنسی۔
’’سچ کہوں ہیلن! اب تمہیں اس بات کو مان لینا چاہئے کہ تم سے سچی محبت کرتا ہوں۔ ہم شادی کرسکتے ہیں اور تم میرے بچوں کی ماں بن سکتی ہو، یہ میری دلی آرزو ہے۔‘‘
’’واپس آکر اس جذباتی موضوع پر بات کریں گے پرنس…! تم بے حد اچھے ہو۔‘‘ اس نے جواب دے کر تیکھی نظروں سے وسیم کو دیکھا اور ہنس پڑی۔
فلائٹ کے دوران وہ وسیم کے شانے پر سر رکھ کر اس طرح سوتی رہی جیسے کوئی حسین خواب دیکھ رہی ہو۔ اس سپنے کا حسین عکس ہیلن کے چہرے پر ایک عجیب سی دلکشی پیدا کررہا تھا۔ وہ سوتی رہی دنیا و مافیہا اور ماحول سے بے نیاز ہوکر…
وسیم کے وجود میں انجانے خوف کا ایک زہریلا سانپ باربار پھن اٹھاتا تھا۔ اس نے چشم تصور میں اپنی ماں کو دیکھا کسی جذباتی احساس کے بغیر وہ مختلف دنیائوں میں بستے تھے۔ ان کے درمیان جذباتی رشتہ تو پہلے بھی نہیں تھا بس ایک جان پہچان کا رشتہ تھا۔ اب وہ رشتہ رہے نہ رہے، کیا فرق پڑتا ہے۔ اس دنیا میں وقت اور حالات کے ساتھ سگے رشتے بھی دم توڑ رہے تھے۔
٭…٭…٭
باہر قدم نکالنے سے پہلے شیریں نے قدآدم آئینے میں دیکھتے ہوئے اپنے میک اَپ کو فائنل ٹچ دیا اور خود کو ہر زاویئے سے ناقدانہ نظروں سے دیکھا۔ ہر زاویہ اور انداز توبہ شکن ہی نہیں ہوشربا بھی تھا۔ حسن کی کرشمہ سازیاں آتش فشاں بن گئی تھیں۔ وہ روز بروز ڈھلنے کی بجائے جوان ہوتی جارہی تھی۔ اس میں ایسی کشش اور گداز پیدا ہوتا جارہا تھا کہ کسی کو کیا خود اسے یقین نہیں آتا تھا اور جب کوئی اس سے پہلی بار ملتا تھا اور اس کے علم میں یہ بات آتی تھی کہ وہ ایک جوان لڑکے کی ماں ہے تو یقین نہیں کرتا تھا کہ وہ شادی شدہ اور بیوہ ہے۔
حیرت انگیز طور پر اب وہ پرسکون تھی اور اس کے اعصاب جو بہت بھاری محسوس ہورہے تھے، وہ پھول کی طرح ہلکے پھلکے ہونے لگے تھے جس سے قلب کو ایک انجانی طمانیت محسوس ہورہی تھی۔
وسیم سے بات کرنے کے بعد اسے ایک گہرا صدمہ ہوا تھا۔ یہ بچے کتنے بے مروت، خود غرض اور بیگانے بن جاتے ہیں اور ماں کی آغوش سے نکل کر کسی اجنبی عورت کی آغوش میں گم ہوجاتے ہیں، پھر انہیں اس بات کا احساس بھی نہیں رہتا ہے کہ ماں نے کتنی مشکلوں اور حالات سے نبردآزما ہوکر پرورش کی تھی۔ کتنے دکھ اور مصائب اٹھائے ہوں گے۔ اس کی بیوہ ماں کتنی زخمی اور غمزدہ ہوگی۔
پھر رفتہ رفتہ اس کے جذبات پر عقل اور حالات کا غلبہ ہونے لگا تو اس نے سوچا کہ اس سے کیا فرق پڑتا ہے، یہ زندگی کے نشیب و فراز ہیں جو ایک ماں کی زندگی میں پیش آتے رہتے ہیں۔ وسیم کو شادی تو کرنا ہی تھی چونکہ وہ جوان اور سمجھدار ہے لہٰذا بیوی یہاں وہاں کہیں سے بھی منتخب کرنا اس کا حق بنتا ہے۔
جغرافیائی فاصلے پہلے ہی ان کے درمیان دوری پیدا کرچکے تھے، اب خون کا نہ محسوس ہونے والا تعلق بھی ختم ہوگیا تو ایک طرح سے اچھا ہی ہوا۔
آج ایک ترک تعلق کے رسمی اعلان کے بعد اس رشتے کا بار اٹھانا قطعی غیر ضروری ہوگیا ہے۔ اس نے گاڑی چلاتے ہوئے سوچا۔ اب کیا ضرورت ہے رستم کو اس سے ملانے کی۔
وسیم نے خالص امریکی بے تکلفی اور اعتماد کے ساتھ اسے شادی کی خبر دے دی تھی، جبکہ خود اسے بتاتے ہوئے گھبراہٹ ہوتی تھی کہ تمہاری ماں نے نیا باپ تلاش کرلیا ہے۔ اس عمر میں…؟ عمر…! مائی فٹ… عمر کا شادی سے کیا تعلق ہے؟ یہ تو زبردستی کے معاشرتی بندھن، اخلاقی قدروں کی زنجیریں… ایک حسین، جوان بیوہ شادی کرکے گھر نہ بسائے بلکہ ملازمت کرکے زندگی گزارے۔ اچھا پہنے اور بن سنور کر باہر نکلے تو اس پر لوگ انگلیاں اٹھانے لگتے ہیں، چہ میگوئیاں ہونے لگتی ہیں۔ وہ مشکوک ہوجاتی ہے اور ایسی عورت جو تنہا رہ رہی ہو تو اس کے لئے یہ امر جلتی پر تیل چھڑک دینے کے مترادف ہوتا ہے۔ اب وہ ہر طرح سے آزاد ہے۔ اسے ایک اچھا شوہر مل گیا ہے جو نہ صرف سہارا بلکہ محافظ بھی ہوگا۔ اب ان عورتوں کے کلیجے میں ٹھنڈ پڑ جائے گی جن کے سینوں پر شکوک کے سانپ لوٹتے تھے۔
رستم کی پہلی بیوی اب گوشت کا چلتا پھرتا ڈھیر ہے۔ شوہر اس کے قریب جانا تو درکنار، اسے چھونا اور دیکھنا تک پسند نہ کرے۔ اس نے گاڑی پارک کی تو رستم وہاں پہلے سے موجود تھا اور بے چینی سے اس کی راہ دیکھ رہا تھا۔
رستم گاڑی کی طرف لپکا اور گاڑی کا دروازہ کھولا تو اس طرح سے ساکت و جامد ہوگیا جیسے اس پر جادو کردیا گیا ہو۔ وقت کے گزرتے لمحوں کی آواز سنتا رہا۔ ٹک ٹک ٹک…!
شیریں نے پلو کو شانے پر درست کیا اور سراسیمہ ہوکر بولی۔ ’’رستم! خدا کے لئے لوگ ہمیں دیکھ رہے ہیں۔‘‘
رستم فوراً ہی پیچھے ہٹ گیا اور اسے سر تا پا دیکھتا ہوا بولا۔ ’’قصور وار میں نہیں تم ہو۔ کیوں کرتی ہو ایسا میرے ساتھ، آخر تمہارے حسن کی بجلیاں مجھے جھلسا دیتی ہیں۔‘‘
شیریں نے باہر آکر گاڑی مقفل کی۔ ’’میں نے تو کچھ بھی نہیں کیا!‘‘
’’کیا ہے… تم نے جادو کیا ہے مجھ پر… پاگل کیا ہے مجھے… تم نے اور تمہارے لباس کی اس خوشبو نے!‘‘
وہ رستم کے ساتھ چلتے ہوئے بولی۔ ’’میرا خیال ہے کہ اب ہمیں جتنا جلد ہوسکے، شادی کرلینی چاہئے، ورنہ تم ضرور پاگل ہوجائو گے۔‘‘
رُستم چلتے چلتے رُک گیا اور اس کی مخمور آنکھوں میں ڈوبتے ہوئے بولا۔ ’’ٹھیک کہتی ہو تم…! پاگل تو میں ہو چکا ہوں اس میں اب کوئی شک و شبہ نہیں رہا۔ اگر تم راضی ہو تو سو نیک کام میں دیر کیسی؟ ہم آج ہی…‘‘
’’آج…‘‘ شیریں کا دل یکدم دھڑک اُٹھا۔ اس کا چہرہ حیا سے سرخ ہوا تو وہ اتنی حسین اور پیاری لگی کہ رُستم اس کے چہرے سے نظریں ہٹانا بھول گیا۔
’’اچھا… اب قدم بڑھائو، تمہارے دیکھنے کا یہ انداز مجھے تماشا بنا رہا ہے۔‘‘
’’ہاں آج مگر… آج صبح تمہارا بیٹا آ رہا ہے… اس سے بھی تو ملنا ہے۔‘‘
وہ ایک گوشے میں بیٹھ گئے۔ ’’وہ… وہ اب نہیں آ رہا۔‘‘
’’ویری گڈ…! گویا… ہم آج ہی شادی کر کے ایک دُوسرے کے ہو سکتے ہیں؟‘‘
’’رُستم…! آج…یہ… یہ کیسے ممکن ہے؟‘‘
’’میں صرف نام کا رُستم نہیں… ناممکن کو ممکن بنانا میرے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔‘‘
اور جب شیریں کو ہوش آیا تو وہ ہوٹل کے برائیڈل سوئٹ میں تھی۔ یہ سپنا یا تصوّر نہیں تھا۔ ایک حقیقت تھی۔ وہ رُستم کے ساتھ تھی۔ گزرے ہوئے چار گھنٹے کسی سنسنی خیز فلم کے شو کی طرح تھے۔
رُستم نے کچھ فون کئے تھے اور گاڑی چلا کر کہیں لے گیا تھا جہاں آٹھ دس لوگ ان کے انتظار میں تھے اور انہیں بڑی گرم جوشی اور والہانہ انداز سے خوش آمدید کہا تھا… وہ سب رُستم کے دوست تھے۔ ان میں اس کا کوئی شناسا نہ تھا۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ وہ کوئی بڑا اور پرشکوہ بنگلہ تھا۔ یہ چاروں دوست اپنی اپنی بیگمات کے ساتھ آئے تھے۔ ان میں ایک کی بیوی بیوٹی پارلر کی مالک تھی۔ وہ اپنے ساتھ دُلہن کا جوڑا لائی تھی جو بے حد قیمتی نظر آتا تھا اور عین اس کے سائز کا تھا۔ اس نے شیریں کا میک اَپ بھی کیا تھا جو بے حد نفیس تھا۔ اس نے میک اَپ کے دوران شیریں سے کہا تھا کہ آپ کا حُسن کسی میک اَپ کا محتاج نہیں لیکن رُستم کی خواہش تھی۔ اب آپ کا حُسن سونے پر سہاگہ ہو گیا ہے۔
وہیں ایک قاضی کو رُستم کے دوست لے آئے تھے اور شیریں نے خواب کی سی کیفیت میں کہا تھا کہ مجھے قبول ہے۔ بس اس کارروائی کے بعد مبارک باد کے شور میں وہ سب مختلف گاڑیوں میں واپس ہوٹل پہنچے جہاں دعوت کا انتظام تھا۔ میز پر کئی کھانے چنے ہوئے تھے جن کے ذائقے اور لذّت سے سبھی محظوظ ہوئے تھے۔
ایک دوست نے کہا کہ یار رُستم…! ولیمہ اس سے کہیں شان دار ہونا چاہیے۔
عورت اپنی سہاگ کی پہلی رات کبھی نہیں بھولتی ہے جس کا خواب وہ اس دن سے دیکھتی ہے جب جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتی ہے۔ اور اب رُستم کے ساتھ اس کی زندگی میں آنے والی دُوسری سہاگ رات دھیرے دھیرے نئی زندگی کی صبح کی طرف بڑھ رہی تھی۔ ماضی کی تمام یادیں ماند پڑتی جا رہی تھیں، ان پر دُھند چھانے لگی تھی۔
جب اس کی آنکھ کھلی تو کھڑکیوں کے پردے تاریک کمرے میں روشن مستقبل کی طرح نظر آنے لگے تھے۔ کیا وقت ہوگا؟ اس نے سوچا… اور پھر اپنی کلائی کی گھڑی کو بیڈ سائڈ پر رکھے زیورات میں تلاش کرنے کی ناکام کوشش کی۔ پھر اسے اپنے موبائل فون کا خیال آیا مگر موبائل فون تک پہنچنے سے پہلے اس کے وجود کو رُستم نے اپنے بازوئوں میں سمیٹ لیا۔
’’کیا تلاش کر رہی ہو…؟‘‘ وہ خوابیدہ لہجے میں بولا۔
’’کچھ نہیں… وقت…‘‘ اس نے اپنی گھنیری پلکیں جھپکائیں۔
اس کی بات ہونٹوں پر ہی اَدھوری رہ گئی۔ رُستم نے بولنے نہیں دیا۔ وہ بولا۔ ’’وقت کا یہاں کیا کام…؟ ہمیں اس سے کیا لینا دینا۔ اب سارا وقت ہمارا ہے۔‘‘
رُستم کے وجود میں سلگتا آتش فشاں گزرتے ہوئے تمام دنوں سے مختلف نہ تھا۔ وہ قبل از وقت طلوع ہو چکا تھا۔ وقت نے اسے آج وہ سب کچھ دے دیا تھا جس کا وہ آرزومند تھا۔
٭…٭…٭
ایئرپورٹ کے لائونج میں اس وقت بھی ایک اژدھام تھا۔ جو شیشے کے کھلتے اور بند ہوتے دروازے کے پار امریکہ سے پہنچنے والی فلائٹ کے مسافروں کا بے تابی سے انتظار کر رہا تھا۔ وہ باری باری اپنے اپنے سامان کی ٹرالی یا کسی بھاری بھرکم سوٹ کیس کے ساتھ نمودار ہوتے تو ان کی متجسس نظریں اپنے سامنے پھیلے ہوئے ہجوم میں کسی آشنا صورت کا بے تابی سے جائزہ لیتی نظر آتی تھیں اور کسی مانوس چہرے کی ایک جھلک ان کے چہرے کو روشن کر دیتی تھی۔ پھر مسرت بھری مسکراہٹ کے ساتھ ہاتھ ہلاتے وہ بڑی محبت، گرم جوشی اور وارفتگی سے گلے لگ جاتے۔ رفتہ رفتہ اندر سے باہر آنے والے مسافروں اور انہیں لینے آنے والے ہجوم میں کمی آتی گئی۔ سامان لانے والی بیلٹ کے گرد صف بستہ مسافروں کی تعداد بھی اب گھٹ گئی تھی۔ وہ بیلٹ سے گزرتے ہوئے اسباب میں سے اپنا سوٹ کیس یا دستی بیگ اُٹھاتے اور گیٹ کی جانب چل پڑتے تھے۔ باقی کی نظر اس کھڑکی پر جمی ہوتی تھی جس میں ان کا بیگیج کسی وقت بھی نمودار ہو سکتا تھا۔
وسیم پر تھکن اور کوفت کا شدید غلبہ تھا۔ اُسے قدم اُٹھانا دوبھر محسوس ہو رہا تھا۔ وہ ایک منٹ میں کوئی دسویں بار کلائی کی گھڑی دیکھتے ہوئے اس پس ماندہ نظام کو کوس رہا تھا جہاں اس کے لیے انتظار کے آخری لمحات طویل سے طویل ہوتے جا رہے تھے۔ آگے نہ جانے ابھی کتنے اذیت ناک مرحلے طے ہونے باقی تھے۔ وہ اَپ سیٹ تھا اور اس کے اَپ سیٹ ہونے کی وجہ اسباب ملنے میں تاخیر کے علاوہ قطر کا اسٹاپ تھا۔ ہیلن نے اسے بالکل بے خبر رکھا تھا کہ وہاں انہیں لینے کے لیے کچھ دوست موجود ہوں گے۔ دوست تین تھے جو دیکھنے میں سب ایشیائی تھے۔ ایک کے سوا ان سب کی گہری سانولی رنگت اور کالے بال تھے۔ چوتھا اپنی جلد اور بالوں کی یورپی رنگت کے باوجود اُردو میں بات کر رہا تھا جسے وہ ہندی کہتا تھا۔ وہ سب پینتیس کی عمر کے شریف نظر نہ آنے والے لوگ تھے۔ ہیلن نے وسیم کا تعارف میرے شوہر کہہ کر کرایا تو ایک بے ساختہ ہنس پڑا تھا۔ اس کی ہنسی میں تمسخر کا انداز تھا۔
’’تمہیں بھی شوہر کی ضرورت پڑ گئی!‘‘ اس نے بے ساختہ کہا۔
وسیم کا چہرہ کانوں تک گرم ہوگیا۔ اسے لگا اس نے ہیلن کے وجود پر نہیں اس پر انگارہ رکھا ہو۔ وسیم نے جل کر کہا۔ ’’شوہر کی ضرورت تمہاری ماں کو کیا نہیں پڑی ہوگی؟‘‘
یک لخت انہیں جیسے سانپ سونگھ گیا۔ سب کے چہروں سے مسکراہٹ جیسے کافور ہوگئی اور وسیم کے سخت جواب پر اُکسانے والے نے فوراً معذرت کرلی۔ وہ خفت سے بولا۔ ’’آئی ایم ساری… میرا مطلب تھا۔‘‘
ہیلن نے فضا میں تنائو کی کیفیت دیکھ کر فوراً اس کی بات کاٹ کر کہا۔ ’’چلو مطلب چھوڑو… میرے مطلب کی بات کرو۔ بھوک سے میرا بُرا حال ہو رہا ہے۔‘‘
وہ سب ایئرپورٹ کی حدود میں واقع ایئرکنڈیشنڈ ریسٹورنٹ میں چلے گئے۔ ہیلن نے پہلے ریفریش کرنے والا ایک ڈرنک طلب کیا۔ ان کے درمیان جو گفتگو ہوئی وہ کاروباری تھی۔ اس میں مال کا ذکر تھا اور ادائیگی کا… کس کو کتنی کس کے ذریعے دی گئی ہے اور باقی کہاں دی جائے گی… وسیم اَجنبی بنا سُنتا رہا لیکن اس کے اندر چھٹی حس خطرے کی گھنٹی پھر بجانے لگی جسے اس نے دوران سفر بند کر رکھا تھا۔ اس کا ڈرنا نہ صرف فطری بلکہ حق بجانب تھا۔ یہ اُس کا پہلا ’’کام‘‘ تھا۔ یوں تو دس ہزار ڈالر بہت ہوتے ہیں لیکن زندگی کو لاحق خطرات دیکھے جائیں تو کتنے کم لگتے ہیں۔
لیکن اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا۔ تیر کمان سے نکل چکا تھا۔ ہر نئے کھلاڑی کی طرح اس نے خود سے وعدہ کیا کہ اس بار وہ خیریت سے امریکہ پہنچنے میں کام یاب ہوگیا تو دوبارہ اس کام میں ہاتھ نہیں ڈالے گا۔ اسے ہیلن کے معاملے میں اس قدر جذباتی ہونے کی کیا ضرورت ہے کہ وہ اس کی کمزوری بن جائے۔ مانا کہ وہ بہت خوب صورت اور پُرکشش ہے۔ اس نے اپنے وجود پر برائے فروخت کا اشتہار چسپاں کر رکھا ہے۔ یہ اس کے بیوی کے کردار کو سو فیصد غلط اور ناقابل قبول بنا دیتا ہے۔ وہ ایک وفادار گھریلو عورت کا کردار کیسے قبول کرسکتی ہے۔
ویسے بھی اب ہیلن کے ساتھ تعلق میں پہلی سی کشش کہاں رہی تھی جو اس کے حصول کے لیے ماہی بے آب کی طرح تڑپا دے۔ وہ تصور جاناں کئے ہوئے ساری رات ایک پل سو نہیں سکتا ہو۔ اس نے محسوس کیا وہ اب ہیلن میں کوئی دل چسپی اور لگاوٹ محسوس نہیں کر رہا ہے؟ وہ سوچنے لگا
کہ واپس جانے کے بعد دس ہزار ڈالر کی سرمایہ کاری سے کتنا کما سکتا ہے۔ کون سا چھوٹا موٹا منافع بخش کاروبار کرسکتا ہے۔ ہر بزنس چھوٹے سے بڑا ہوتا ہے۔
اس کے خیالات کو ایک کرخت آواز نے منتشر کر دیا۔ ’’مسٹر وسیم…!‘‘ اس نے پلٹ کر دیکھا تو وردی میں ملبوس افراد کے چہروں پر بے رحمی کے سپاٹ جذبات دیکھے۔
’’واٹ از دس پرابلم… سب کا سامان آ گیا ہے… میرا کیوں نہیں آیا؟‘‘ وہ بولا۔
ہیلن نے اسے نرمی سے سمجھایا۔ ’’ان سے اُلجھنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ ہمارا سامان ان کی تحویل میں ہے۔ چیکنگ کے بعد مل جائے گا۔‘‘
دو گارڈز ان دونوں کے دائیں بائیں ہوگئے۔ وہ ہال سے گزر کر ایک کمرے میں لے جائے گئے۔ اس کمرے میں صرف ایک کرسی میز تھی اور وہاں کوئی سینئر افسر بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے ان دونوں کا تیز نگاہوں سے جائزہ لیا اور پھر سر ہلا کر بولا۔ ’’لے جائو انہیں۔‘‘
ہیلن نے خود کو چھڑا کر کہا۔ ’’یہ تم کیا کر رہے ہو؟‘‘
’’ہم تمہیں حراست میں لے رہے ہیں۔‘‘ افسر نے سردمہری سے جواب دیا۔
’’کس جرم میں؟‘‘ ہیلن بگڑ گئی اور تنبیہ کے انداز میں بولی۔ ’’یہ مت بھولو کہ میں ایک امریکی شہری ہوں۔‘‘
افسر نے غصّے سے سر ہلا کر کہا۔ ’’یس… ہمیں معلوم ہے کہ تمہارا جرم کیا ہے۔ تم خود اچھی طرح جانتی ہو۔ باقی تمہیں سمجھا دیا جائے گا۔‘‘
ہیلن پھر بپھر گئی۔ وہ بگڑ کر بولی۔ ’’مجھے امریکی قونصلیٹ سے رابطے کا حق ہے۔‘‘
محافظوں میں سے ایک نے جو سب سے دراز قد تھا ہیلن کے چہرے پر ایک زَنّاٹے کا تھپڑ رسید کیا۔ ’’بھونکنا بند کر کتیا۔ ہم تجھے بتائیں گے کہ پاکستانی کتنے زبردست ہوتے ہیں۔‘‘
ہیلن ایک ہذیانی چیخ مار کر فرش پر گر گئی۔ بڑی بے رحمی سے ہیلن کو اُٹھانے والوں میں سے ایک نے اسے زوردار دھکا دیا۔ ’’آگے بڑھ۔‘‘
وہ گرتے گرتے بچا۔ ایک عقبی دروازے سے نکلتے ہی ان دونوں کو سامنے کھڑی گاڑی میں کسی گٹھڑی کی طرح پھینک دیا گیا جس کی کھڑکیوں کے شیشے سیاہ تھے۔ اندر موجود لوگ مختلف وردیوں والے تھے اور ان سب کے پاس اسلحہ تھا۔ دروازہ بند ہوتے ہی گاڑی چل پڑی اور اس کی رفتار لمحہ بہ لمحہ تیز ہونے لگی۔
ہیلن اب واضح طور پر خوف زدہ، فکرمند اور پریشان تھی اور روتی جا رہی تھی۔ غیرارادی طور پر اس کا ہاتھ سرخ پڑ جانے والے رُخسار کو سہلا رہا تھا اور اس کی جلن کم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی۔
جب ان کی جیبوں سے تمام چیزیں نکال لی گئیں تو ان کی ساری مزاحمت دَم توڑ گئی۔ ہیلن جانتی تھی لیکن وسیم نہیں جانتا تھا کہ آگے ان کے ساتھ کیا ہو سکتا تھا۔ ان کا یہ سفر زندگی کا آخری سفر بھی ثابت ہو سکتا تھا۔
خود اس کے لیے امریکن شہریت ہی روشنی کی واحد کرن تھی جو مایوسی کے گھپ اندھیرے میں یوں لگتی تھی جیسے طویل تاریک سرنگ کے آخر میں دن کے اُجالے کی خفیف سی چمک، مگر اس روشنی تک پہنچنے سے پہلے اسے بہت کچھ برداشت کرنا تھا۔
٭…٭…٭
جبار کا کردار ڈرائیور کا تھا۔ نذیر مہمانوں کو ان کے سامان سمیت پارکنگ ایریا تک لاتا تو وہ تمام سامان گاڑی کے پچھلے حصے میں رکھتا اور پھر معزز نواسے کو محترم نانی کی قیام گاہ پر لے جاتا۔ یہ الگ بات تھی کہ سفر کا اختتام بہادر کے گودام میں ہوتا۔
جبار کے اندازے کے مطابق امریکہ سے براستہ قطر آنے والی فلائٹ کے تمام مسافر نکل چکے تھے۔ وہ کافی حد تک خالی ہوجانے والے لائونج میں چلتا نذیر کے پاس آیا جو اب تک پلے کارڈ لیے مستعد کھڑا تھا۔ اس پر انگریزی کے بڑے بڑے سیاہ حروف میں ’’مسٹر وسیم‘‘ لکھا ہوا تھا۔
’’کیا ہوا بھائی؟‘‘ نذیر نے پوچھا تو اس کے لہجے میں تشویش تھی۔ ’’وسیم کہاں رہ گیا؟‘‘
جبار نے نفی میں سر ہلا کر لاعلمی کا اظہار کیا۔ ’’کسٹم والے تلاشی لے رہے ہوں گے؟‘‘
اسی لمحے دائیں بائیں سے وردی والے جارحانہ انداز میں نمودار ہوئے۔ کوئی سوال کئے بغیر انہوں نے جبار اور نذیر کو مضبوطی سے بازوئوں کے شکنجے میں جکڑ لیا۔ ان کا سوال کسی نے سنا ہی نہیں کہ کیا بات ہے… کیوں پکڑا ہے ہمیں۔ حیران پریشان دیکھنے والوں کی نظروں کی پروا کئے بغیر وہ دونوں بھائیوں کو بُری طرح بے رحمی سے دھکیلتے گھسیٹتے اور تھپڑوں سے خاطرمدارات کرتے لائونج سے باہر لے گئے جہاں بغیر نمبروں والی گاڑی کھڑی تھی جس کا انجن چل رہا تھا اور پیچھے سادہ کپڑوں میں مسلح افراد بیٹھے تھے۔ ان دونوں کو عملاً اُٹھا کر اندر پھینکا گیا پھر گاڑی روانہ ہوگئی۔
٭…٭…٭
صبح کے نو بج چکے تھے لیکن نازنین ابھی تک نہیں جاگی تھی۔
ظالم ساس کے گھر سے نکلنے کے بعد اس کا موڈ سخت خراب تھا۔ طارق نے مری جانے کا پروگرام کینسل کر کے کم خرابی نہیں کی تھی کہ زیب النساء نے سب کو بے عزت کر کے جلتی پر خوب تیل چھڑکا تھا۔ طارق کو آنے والے طوفان کا پہلے ہی سے اندازہ ہوگیا تھا، چنانچہ اس نے تیاری مکمل کر لی تھی اور جیسے ہی رات کو نازنین کے غصّے کا لاوا اُبلا، اس نے بڑی مہارت سے پہلا ریلا گزر جانے دیا اور پھر اس کا رُخ تیزی سے موڑ دیا۔ وہی پرانے معافی تلافی کے الفاظ جو کسی بھی آتش فشاں بنی بیوی کو ٹھنڈے پانی کی جھیل میں تبدیل کرسکتے ہیں۔ پھر اس نے آنکھیں بند کر کے جیسے جھیل میں چھلانگ لگا دی۔
اس نے کچن میں جا کر اپنے لیے چائے بنائی اور باہر پورچ میں پڑا ہوا اخبار لے کر لائونج میں آ گیا۔ جھولے پر براجمان ہونے سے پہلے اس نے رات بھر کی خبروں کی ہیڈلائن دیکھنے کے لیے ٹی وی بھی آن کر دیا۔ اس کی نظر نے ابھی پہلے صفحے کی ہیڈلائنز دیکھی تھیں کہ ٹی وی کی ایک بریکنگ نیوز نے اس کی ساری توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔
اس میں امریکہ سے آنے والے وسیم نامی شخص کی ایئرپورٹ سے اپنی امریکن بیوی ہیلن کے ساتھ پکڑے جانے کی خبر تھی۔ نیوز کاسٹر بڑے جوش و خروش سے انکشاف کرتی جا رہی تھی۔
طارق چائے پیتے ہوئے یہ خبر مختلف چینلز پر تلاش کرتا رہا۔ کہیں سے اسے اضافی معلومات نہ ملیں جن سے یہ تصدیق ہوسکتی کہ گرفتار ہونے والا وسیم اس کا اپنا بھانجا اور اس کی باغی سرکش بہن کا ہونہار سپوت ہے جو امریکہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ ابھی تک اس کی تصویر یا دیگر تفصیلات جاری نہیں کی گئی تھیں لیکن طارق کو یقین تھا کہ وسیم کوئی دُوسرا نہیں ہوسکتا۔ اس کے پیارے بھانجے کو اس فلائٹ سے اسلام آباد اپنی پیاری نانی کے پاس پہنچنا تھا۔ ایک نامعلوم خطرے کے خیال نے اسے فون ملانے پر مجبور کر دیا۔
’’بھائی…! خبر دیکھی تم نے… وسیم ایئرپورٹ پر گرفتار ہوا ہے… ٹی وی دیکھا؟‘‘
’’نہیں…‘‘ خورشید نے فوراً ہی ٹی وی آن کیا۔ ’’اسے بھی آج پہنچنا تھا۔ شیریں کے بیٹے کو… ہاں خبر تو چل رہی ہے بریکنگ نیوز… لیکن کسی غیرملکی بیوی کا کیا ذکر ہے؟‘‘
’’ہوگی کوئی کیریئر… بیوی بن کر آ رہی ہوگی۔‘‘ خورشید نے سپاٹ لہجے میں کہا۔
اس وقت بریکنگ نیوز کے دوران دُوسری بریکنگ نیوز کا دھماکا ہوا۔
’’اسلام آباد ایئرپورٹ سے پکڑے جانے والے دہشت گرد کی ماں کو اس کے شوہر کے ساتھ لاہور کے ایک فائیو اسٹار ہوٹل کے برائیڈل سوئٹ سے گرفتار کیا گیا ہے۔ یہ گرفتاری ملزم کے بیان کی روشنی میں عمل میں آئی۔ ملزم کی ماں ایک کالج میں لیکچرر ہے اور اس نے گزشتہ شام ہی لاہور کے ایک لیکچرر سے دُوسری شادی کی تھی۔ مزید انکشافات کی توقع ہے۔‘‘
طارق نے دیکھا کہ خورشید نے رابطہ منقطع نہیں کیا ہے۔ اس نے چلّا کر کہا۔ ’’بھائی…! دیکھا تم نے… مزید انکشافات بھی ہونے والے ہیں۔‘‘
’’ہاں سب دیکھ رہا ہوں… سُن بھی رہا ہوں… شیریں ہماری بہن اور ہمارے محترم بہنوئی، دولہا بھائی رُستم… دونوں کی تصویر بھی دکھائی جا رہی ہے… ہمیں خبر ہی نہیں تھی کہ کل شادی تھی ہماری بہن کی… کیا ایسا ہو سکتا ہے؟ کتنی عزت افزائی ہو رہی ہے ہم سب کی…‘‘
’’عزت افزائی کو مارو گولی… اپنی سلامتی کا سوچو… ضمانت قبل از گرفتاری انتہائی ضروری ہے ہمارے لئے۔ اگر اس میں دیر کی تو شامت آتے دیر نہیں لگے گی… کیا تمہیں اس بات کا خیال نہیں ہے؟‘‘
خورشید نے فکرمندی سے ایک لمبا سانس لے کر جواب دیا۔ ’’تفتیش کرنے والے تو اماں کے پاس بھی جائیں گے…؟‘‘
’’بھائی! وہ محفوظ رہیں گی اپنی عمر کی وجہ سے بھی… اور صرف یہ بتا کر کہ ان کا اب ان کی بیٹی سے بھی کوئی تعلق نہیں۔‘‘
’’ لیکن نواسے کے تعلیمی اخراجات تو وہی بھیجتی تھیں، وسیم انہیں سب کچھ بتا چکا ہوگا۔‘‘
’’تمہارا وہ دوست ہے نا ہائی کورٹ کا وکیل اس سے فوراً رابطہ کرو… مجھے تو خطرہ ہے کہ کسی بھی وقت دروازے پر خطرے کی گھنٹی بج سکتی ہے، تفتیش کرنے والے ہمیں گرفتار کرنے آ جائیں گے… میں سوچ رہا ہوں کہ کیوں نہ کہیں روپوش ہو جائوں…؟‘‘
خورشید نے تیز لہجے میں اسے جیسے تنبیہ کی۔ ’’پاگل مت بنو… ذرا عقل سے کام لو… کیوں کہ ہمارا کسی سے کوئی تعلق ثابت نہیں کیا جا سکتا ہے؟ فرار ہو کر اپنی حیثیت مشکوک بنانے سے کیا حاصل۔ یہ پیروں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہوگا۔ ضمانت کی بات میں کئے لیتا ہوں۔ بس خیال رکھنا کہ میرے اور تمہارے بیان میں کوئی تضاد نہ ہو، تم وہی کہو گے جو سچ ہے اور میں بھی وہی بتائوں گا کہ ہمارا شیریں سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی اس کے بیٹے سے اور نہ اس کے دُوسرے شوہر سے…‘‘
طارق نے فون بند کیا اور بیڈروم میں گیا تو اس نے دیکھا کہ نازنین بے سُدھ پڑی تھی۔ اسے اپنا ہوش نہیں تھا۔ اس پر غنودگی سی طاری تھی۔ اس نے نازنین کو بُری طرح جھنجھوڑ کر کہا۔ ’’نازنین…‘‘
وہ اِک دَم ہڑبڑا کے اُٹھ بیٹھی اور برہمی سے بولی۔ ’’یہ کیا پاگل پن ہے۔‘‘
طارق نے اسے اُٹھا کر باتھ روم کا دروازہ کھول کر کھڑا کر دیا اور بولا۔ ’’اپنا حلیہ اور لباس دُرست کر کے جلدی سے باہر آئو… ہم بڑی مشکل میں پھنس گئے ہیں۔ سوال بعد میں کرنا۔‘‘
واپس لائونج میں آ کر اس نے کچھ دیر سوچا پھر ماں کا نمبر ملایا۔ گھنٹی بجتی رہی، چند لمحوں بعد اکمل نے فون اُٹھایا۔ ’’ہیلو۔‘‘
’’اکمل… فون بیگم صاحبہ کو دو۔‘‘ اس نے تحکمانہ لہجے میں کہا۔
’’جی سر…! وہ ناشتا کر رہی ہیں… ناشتا کرلیں تو دیتا ہوں۔‘‘
طارق دھاڑا۔ ’’ناشتے کے بچّے… اتنے جوتے لگائوں گا ابھی آ کر تیری کھوپڑی پر کہ تو اپنی اوقات بھول جائے گا… فوراً فون دے اماں کو۔‘‘
اکمل نے فون آف کرکے زیب النساء کے پاس برآمدے میں پہنچا دیا۔ ’’طارق صاحب کا فون تھا… میں نے کہا کہ آپ ناشتا کر رہی ہیں۔ ناشتا کرلیں تو بات کرادوں گا تو انہوں نے مجھے بہت ڈانٹا۔‘‘
زیب النساء ناشتا کر چکی تھیں۔ اکمل کو جواب دیئے بغیر انہوں نے فون اُٹھا کر طارق کا نمبر ملایا۔ ’’طارق کیا تم نے فون کیا تھا؟ خیریت تو ہے؟‘‘
’’جی… مگر وہ آپ کے سر چڑھے خبیث ملازم نے بات نہیں کرائی… میں سچ بتا رہا ہوں کہ وہ مارا جائے گا کسی دن میرے ہاتھوں سے…‘‘ طارق نے برہمی سے کہا۔
’’کیا تم نے یہی بتانے کے لیے مجھے فون کیا تھا؟‘‘ وہ ناگواری سے بولیں۔
’’اماں…! یہ بات نہیں… میں آپ کو خبردار کرنا چاہتا تھا… خبریں دیکھیں آپ نے…؟ ٹی وی آن کریں۔‘‘
’’تم بتائو کہ آخر کون سی قیامت آ گئی ہے… جنگ چھڑ گئی ہے یا ملک میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ مجھے کسی چیز سے کوئی دلچسپی نہیں۔‘‘ (جاری ہے)