Saturday, April 13, 2024

Muqaddar Mein Na Tha

میں نے اس کو پہلی بار دیکھا تو وہ سفید سوٹ پر سفید گائوں اور سفید ہی اسکارف ملبوس کئے تھی۔ سفید رنگت والی یہ گوری گوری لڑکی پہلی ہی نظر میں بہت اچھی لگی۔ میری ایک کولیگ نے اس کا تعارف کرایا کہ پاکیزہ نام ہے اور شاعرہ بھی ہے۔ میں نے پاکیزہ کے چہرے کو تکنا شروع کر دیا۔ واقعی یہ اسم با مسمیٰ ہے۔ میرے یوں ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے سے وہ گھبرا گئی۔ دو چار لمحے کور کی اور کسی مصروفیت کا بہانہ کر کے چل پڑی۔ پھر اکثر ایسا ہونے لگا کہ میری نگاہیں اس کا تعاقب کرتیں۔ اس کی پر کشش شخصیت مجھے اپنی جانب کھینچتی۔ یہاں ملازمیت کرتے عرصہ ہو گیا تھا مگر میں نے جیسی انفرادیت پاکیزہ میں دیکھی اور کسی میں نہ دیکھی تھی۔ ایک بات عجیب تھی کہ اسے سفید رنگ غیر معمولی حد تک مرغوب تھا۔ جب بھی نیا سوٹ سلواتی ، وہ سفید ہی ہو تا خواہ ریشمی ہو یا سوتی … یہاں تک کہ جوتا بھی سفید پہنتی تھی۔ کہیں یہ انتہا پسند تو نہیں، یہ جانچنے کیلئے میں نے اسے بھتیجے کی سالگرہ اور اس کے کچھ دنوں بعد اپنی بہن کی شادی پر بلایا۔ وہ تب بھی سفید ملبوس میں آئی۔ مجھے پتا چل گیا کہ پارٹی ہو، پکنک یا کوئی فنکشن ، اسے اس کے محبوب رنگ سے کوئی جدا نہیں کر سکتا۔

میں یہ سوچنے پر مجبور ہو گئی کہ پاکیزہ آخر کوئی دوسرا رنگ کیوں منتخب نہیں کرتی۔ کیا اسے رنگوں سے چڑ ہے یا نفرت ہے۔ مگر نہیں، وہ ایسی بالکل نہ تھی کہ کسی شے سے نفرت کرے یا پھر اسے چڑ بنالے۔ وہ تو نہایت سلجھی ہوئی، معقول اور صبر و تحمل کا پیکر تھی۔ اس کی ضرور کوئی خاص وجہ تھی جو اس نے فطرت کے باقی سارے رنگ سنج دیئے تھے حالانکہ اس عمر کی لڑکیاں قوس و قزح کے رنگوں کی دیوانی ہوتی ہیں۔ وہ نت نئے رنگ اپناتی ہیں، سفید تو بوڑھوں کا رنگ کہلاتا ہے یا پھر اس کا جس سے قضا سہاگ چھین لے جاتی ہے۔ کیا اس کا دل مر گیا ہے یا جی کسی شوخ ملبوس کو نہیں چاہتا۔ یہ ایک ایسا سوال تھا جس نے مجھے ہمہ وقت الجھن میں مبتلا کر رکھا تھا۔ کئی بار خیال آیا شاید یہ دوسری لڑکیوں سے خود کو منفر در کھانے کو ایسا کرتی ہے تاہم یہ بھی ایک حقیقت کو تھی کہ پاکیزہ نام کی طرح بے رنگی بھی اس پر خوب ” رنگی بھی اس پر خوب سجتی تھی۔ اسے اور زیادہ دلکش اور رنگین بنادیتی تھی۔ یہ کیا جادو ہے ، یہ راز ضرور معلوم کر کے رہوں گی۔ پس اسی راز کو معلوم کرنے کو میں نے اس سے دوستی کا پختہ ارادہ کر لیا حالانکہ پاکیزہ سے دوستی کوئی آسان کام نہ تھا۔ وہ بہت زیادہ الگ تھلگ اور لئے دیئے رہنے والی لڑکی تھی۔ وہ کئی برس وطن سے دور بیرون ملک گزار کر آئی تھی۔ بہانے بہانے سے اس کی سیٹ کی طرف جانے لگی۔ گرچہ میں سینئر تھی اور اسے دفتری امور کی وجہ سے میرے پاس آنا چاہئے تھا۔ میں پھر بھی اپنے منصب کا لحاظ کئے بغیر خود اٹھ کر اس کے پاس چلی جاتی اور اس کو وہ نکات سمجھاتی جو اسے ہی مجھ سے آکر سمجھنے لازم تھے۔ اس اخلاق اور مہربانیوں کے باعث بالآخر وہ میری گرویدہ ہو گئی۔ اس کی مجھ سے دوستی ہو گئی تبھی ایک دن جبکہ وہ میرے گھر آئی ہوئی تھی، پاکیزہ نے اپنی کہانی سنادی۔ اس نے کہا۔ مجھے نہیں معلوم بشری خورشید ، یہ عشق تھا کہ وحشت تھی ؟ اس جہان چار سو میں، میری ہی خواہشیں کیوں بے امان ہو گئیں۔ اصل بات یہ ہے کہ بشریٰ کہ ملتا تو وہی ہے جو انسان کے نصیب میں لکھا ہوتا ہے۔ مجھے آج تک وہ شام نہیں بھولتی جب میں اور شیری سمندر کے کنارے بنے ایک ریسٹورنٹ میں بیٹھے تھے۔ وہ کسی سوچ میں گم تھا لیکن یوں لگتا تھا جیسے سوچ میں بھی وہ زیر لب کوئی غزل گنگنا رہا ہو۔

ماضی کا ذکر کرتے کرتے وہ ماضی کی دنیا میں کھو گئی۔ اس کی آواز اب مجھے دور سے آتی لگی۔ دھیمی دھیمی مدھم مدھم جیسے خواب میں بول رہی ہو۔ میں نے اس پر اعتماد کیا اور اس نے مجھے اچانک دھوکا دے دیا۔ اس شام جب شیر ی نے سی بریز ریسٹورنٹ بلایا تو بہار کی رت خنکی کی نمکین چادر اوڑھے ہمارے چاروں طرف پھیلی تھی اور سورج نارنگی رنگ میں ڈوبا آہستہ آہستہ سمندر میں گرتا جا رہا تھا۔ شیری نے اپنی سوچ کا پردہ توڑتے ہوئے کہا تھا۔ پاکیزہ ! آج بھی ٹھیک ٹائم پر آگئی ہو، آئو بیٹھو، کیسی ہو؟ تمہیں کیسی لگ رہی ہوں ؟ تم مجھے ہمیشہ اچھی لگتی ہو۔ تم ہمیشہ یہی کہتے ہو۔ تم کیا سننا چاہتی ہو ؟ جو تم کہنا نہیں چاہتے۔ میں نے موقع دیکھ کر مطلب کی بات کر دی تھی۔ تم کہنا کیا چاہتی ہو ؟ وہ متعجب ہو گیا تھا۔ جو تم سننا نہیں چاہتے لیکن آج میں کہہ دوں گی۔ نہ بھی کہو تو جانتا ہوں، کیا کہو گی۔اس نے اپنی انا کا پر دہ رکھ لیا۔ آج تمہاری مہم باتیں نہ چلیں گی کہ سب کچھ تم سمجھتے ہو، دراصل تم بس پہلو تہی کرتے ہو۔ جو بھی سمجھ لو پاکیزہ، مگر تم ہو واقعی پاکیزہ اس لئے تو تم نے میرے دل میں گھر کر لیا ہے حالانکہ کتنی لڑکیاں میری دوست بنیں اور پھر جدا ہو گئیں لیکن تم سے جدا ہونے کی مجھ میں ہمت ہے ہی نہیں۔ جانے کس دنیا کی مخلوق ہو تم …! شیری، تم جو بھی سمجھ لو لیکن میں تم سے صرف اتنا پوچھنا چاہتی ہوں کہ … کچھ بدلی بدلی سی لگ رہی ہو۔ کیا آئینہ دیکھا آج؟ اس نے بات کو بدلنا چاہا تو بھی میں ڈٹی رہی۔ آج تہیہ جو کر لیا تھا کہ صاف بات کر کے رہوں گی۔ آئینہ تو میں روز دیکھتی ہوں لیکن آئینے نے آج پہلی مرتبہ مجھ سے بات کی ہے۔ کیا کہا اس نے تم سے ؟ ایک بڑی حقیقت کی نشاندہی کی ہے کہ میں زندگی کے سات خوبصورت برس تمہاری خاطر ضائع کر چکی ہوں اور ابھی تک تم نے میرا ہاتھ نہیں تھاما۔ کیا سوچا پھر تم نے ؟ یہ کہ اب میں زیادہ عرصے خود کو دھوکا نہیں دے سکتی۔ کیا تمہیں یاد ہے کہ وفا کے اس سفر میں ہم کتنی کٹھن منزلیں طے کر چکے ہیں اور میں ثابت قدم رہی ہوں۔ ہاں ! تقریب سات برس سے ہم اچھے دوست ہیں۔ شیری نے میری طرف غور سے دیکھتے ہوئے کہا تو میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ میں نے قطعیت سے کہہ دیا۔ کیا صرف اچھے دوست ؟ شیری، میں دوستی کے اس رشتے کواب تبدیل کرنا چاہتی ہوں۔ کیا دشمنی میں؟ وہ ہنسا۔ نہیں ازدواجی بندھن میں شیری ! میں کبھی تمہاری طرح غلط نہیں سوچتی۔ کیا تم میرے بارے میں سنجیدہ نہیں ہو سکتے؟ اتنی مدت کے ساتھ کے بعد بھی ! اب تو سنجیدہ ہو جائو پلیز! میں تمہارے معاملے میں انتہائی سنجیدہ ہوں پاکیزہ ! یقین کرو تمہیں چھوڑنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا، ایک لمحے کو بھی نہیں۔ جب سے تم میری زندگی میں آئی ہو، میں نے آوار گی چھوڑ دی ہے۔ تو پھر کب فیصلہ کرو گے ؟ کیسا فیصلہ ؟ وہ انجان بن گیا۔ میں نکاح کے مقدس بندھن کے ذریعے تمہاری رفاقت چاہتی ہوں ۔اوہ ! یوں کہو کہ تم اپنی حیثیت تبدیل کرنا چاہتی ہو حالا نکہ محبت کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

بات ایک ہی ہے ، جس انداز سے کہو شیری، لیکن ہم مغرب میں رہ کر بھی مشرقی رہیں گے۔ یہ محبت کا فریب یہ دوستی کا ڈھونگ کسی روز تم کو مجھ سے دور کرے گا لیکن میں تم سے دور ہونا نہیں چاہتا۔ ہم قریب ہیں، دل سے قریب اور قریب ہی رہیں گے اسی طرح ہمیشہ ! میں دائمی قربت کی بات کر رہی ہوں، عمر بھر کے ساتھی بن جانے کی۔ ہم ساتھی ہیں عمر بھر کے ، یقین کرو پاکیزہ ! مگر جو فاصلہ ہے، وہ تمہارا قائم کردہ ہے۔ میں تو اس فاصلے کو قائم نہ کرنا چاہتا تھا۔ بغیر نکاح فاصلے ختم کرکے میں اپنی قیمت گرانا نہیں چاہتی شیری، ایسا ہوا تو پھر عورت کی نسوانیت مٹ جاتی ہے۔ تمہارا اپنا فلسفہ ہے۔ بہر حال میں نے تم سے کبھی زبردستی اپنی کوئی بات نہیں منوائی ۔ جیسا تم نے چاہا ہے، میں نے احترام کیا ہے۔ تبھی تو مجھے اعتبار آ گیا ہے تمہاری محبت کا اور اب میں سارے فاصلے مٹادینا چاہتی ہوں مگر ایک جائز رشتے سے بندھ جانے کے بعد ، لیکن میں فاصلے کم کر کے تمہاری قیمت نہیں گرانا چاہتا اس کیلئے مجھے اور لڑکیاں بہت ہیں۔ کیا مطلب شیری؟ تمہارے ساتھ ایک پاکیزگی کا تصور وابستہ ہو گیا ہے اسی لئے کہ تم اتنی پر کشش، اتنی مختلف ہو۔ دوسری لڑکیوں اور ان کی دوستی سے میں تم کو ہمیشہ ایک لا حاصل قیمتی شے کی حیثیت سے دیکھتا ہوں اور میری تم سے محبت اور وفا کا ثبوت یہ ہے کہ میں نے ابھی تک شادی کسی سے نہیں کی حالانکہ میرے پاس روپے پیسے کسی شے کی کوئی کمی نہیں۔ چاہوں تو دس بیویاں رکھ سکتا ہوں۔ تم لفظوں سے کھیل کر بات کا رخ بدل رہے ہو شیری، دیکھو فطرت کے کچھ اصول ہیں۔ تم نے مجھ سے شادی نہ کی تو ایک روز ہماری چاہت ختم بھی ہو سکتی ہے۔ میں نے بڑی صاف گوئی سے کام لیا۔ کیا ایک اچھی دوست اچھی بیوی نہیں بن سکتی؟ دیکھو مجھے بیوی کی نہیں ایک محبوبہ کی ضرورت ہے تا کہ چاہنے اور چاہے جانے کی خواہش پوری ہو سکے۔ کیا بیوی کے روپ میں ، میں تم کو نہیں چاہ سکتی۔ میں نے زچ ہو کر شیری سے سوال کیا تھا۔ نہیں ! تمہاری چاہت کے رشتے ختم ہو جائیں گے، میرے لئے بہت کم حصہ باقی بچے گا۔ چلو یو نہی سہی مگر تمہاری چاہت میری امانت ہو گی۔ ہاں، لیکن یہ شاعرانہ باتیں چولہے کی تپش میں تمہیں جلانے لگیں گی، توے کی طرح تپ اٹھو گی ، سالن کی طرح یکسانیت کی آگ میں پک جائو گی اور گیس سلنڈر کی طرح پھٹ پڑو گی ۔ تمہارے ایک ہاتھ میں چچہ ہو گا اور دوسرے ہاتھ میں بچے کا فیڈر ہو گا۔ تم مجھے روز ہی برا بھلا کہا کرو گی۔ تم تو ایسے بات کر رہے ہو جیسے یہ تجربہ تم کر چکے ہو۔ میں تم سے تجربے کی بنیاد پر ہی کہہ رہا ہوں۔ شیری تو پھر صاف بات کرو، مجھے دھوکے میں کیوں رکھا ہوا ہے ؟ میں نے ایک عدد بیوی کو پچھلے سات برس سے قبل دس برس برداشت کیا تھا۔ کیا تم شادی شدہ تھے اور بیوی کی موجودگی میں تم نے میرے ساتھ یہ سب ! لیکن میری بیوی پچھلے آٹھ برسوں سے پاکستان میں ہے اور میں یہاں ہوں تمہارے ساتھ ! کیوں کیا ہوا؟ وہ میری بیوی ہے بلکہ مجبوری ہے اور میں اسے باقاعدگی سے خرچا بھجوا دیتا ہوں لیکن تم میری دوست ہو، میری پسند ہو۔ یوں کہہ لو محبوبہ ہو کیونکہ دوست تو اور بھی ہیں مگر ان میں سے کوئی محبوبہ نہیں تھی۔

بے و قوف لڑکی ، شوکیس میں رکھی گڑیا اس وقت تک خوبصورت لگتی ہے جب تک ہم اسے خرید نہ لیں۔ خریدنے کے بعد بھی وہ اچھی لگتی ہے لیکن کچھ لمحوں کیلئے ! چند دن کے بعد جب گڑیا سے جی بھر جاتا ہے تو ہم اسے گھر کے ایک کونے میں ڈال کر بھول جاتے ہیں۔ شیری … عورت ایک بے جان گڑیا نہیں ہے کہ جب جی چاہا استعمال کیا اور جب جی چاہا پھینک دیا۔اس نے میری بات کا کوئی اثر نہ لیا۔ وہ مصر رہا کہ جب عورت کسی کی ملکیت بن جاتی ہے تو اس کی حیثیت بے جان گڑیا کی سی ہو جاتی ہے۔ میں تم سے محبت کرتا ہوں جان ! اقراری لفظوں کی قیمت ادا کر کے ، میں تمہیں پابند کر کے بے وقعت کرنا نہیں چاہتا۔ کیا فرق پڑتا ہے کہ نکاح مجھ سے نہ سہی کسی اور سے سہی۔ وہ نکاح کے مقدس بندھن کو اقراری لفظ کہہ رہا تھا۔ اسی لئے کہہ رہا تھا کہ بے شک کوئی اور شخص میری قیمت لگا دے۔ وہ ایک عدد بیوی کے ساتھ تلخ تجربے کی منازل طے کر چکا تھا لیکن میں اس جیسی نہ تھی۔ میں تو اپنے ہونے والے شوہر کے ساتھ زندگی کا سفر اعتماد کے ساتھ طے کرنا چاہتی تھی۔ شادی نہ کرنے کی وجہ سے تم مجھ سے روٹھ جائو گی ؟ کوئی بات نہیں پھر بھی ہم اچھے دوست رہیں گے۔
ایسا نہیں ہو گا۔ ایسا ممکن نہیں ہے۔ اگر میں نے کسی اور سے شادی کر لی تو تمہاری دوستی سے دستبردار ہو جائوں گی اس لئے کہ شاید میرا شوہر تمہاری بیوی کی طرح معصوم بے ضمیر اور مجبور نہ ہو گا اور میں بھی تمہاری طرح دھوکے باز نہیں ہوں۔ یہ ہماری ملاقات کا جیسے آخری دن ہو۔ میں وہاں سے اٹھ کر بغیر اسے خدا حافظ کہے ریسٹورنٹ سے نکل آئی تھی۔ یہ سوچ کر کہ اس کی یادوں سے بالآخر پیچھا چھڑالوں گی۔ ایک نئی زندگی کی طرف قدم بڑھانے کے بعد … کیونکہ اب میں نے گھر بسانے کا تہیہ کر لیا تھا۔ آئینہ جھوٹ نہیں بولتا۔ میری عمر نکلی جارہی تھی۔ ایک سوال البتہ مجھے پریشان کر رہا تھا کہ کیا میں نے واقعی شیری سے محبت کی تھی؟ بے غرض یا کہ اس محبت کے پردے میں میری خود غرضی بھی شامل تھی۔ اس کے ساتھ شادی کی آرزو یہ خود غرضی تھی یا کہ ف ں تھی یا کہ فطری خواہش ! میں پہچان نہ سکی۔ اگلے روز اتوار تھا۔ چھٹی کا دن تھا جو شیری اور میں ہمیشہ ساحل سمندر پر اور کبھی کسی کھلی جگہ تفریحی مقام پر پکنک کی مانند اکٹھے گزارتے تھے۔ میں کبھی گھر سے کھانا بنا کر لے جاتی تھی اور وہ کچھ اور کھانے پینے کی اشیاء لے آتا تھا۔ آج اس کی کتنی کمی محسوس ہو رہی تھی۔ دل میں درد سا ہوا ۔ کان در پر لگے تھے جیسے ابھی دستک ہو گی اور وہ مجھے لینے آجائے گا لیکن میں تو اس شام سارے رشتے اور بندھن توڑ آئی تھی۔ دوستی کے تعلق کو خیر باد کہہ دیا تھا۔ اچانک در پر دستک ہو گئی اور پھر جب میں نے دروازہ کھولا تو وہ سفید گلاب لئے سامنے کھڑا تھا۔ اس دن اتفاق سے میں نے سفید لباس پہن رکھا تھا۔ تم اس رنگ میں کتنی اچھی لگتی ہو حالانکہ یہ ایک بے رنگ “ رنگ ہے لیکن تم پر بہت سجتا ہے۔ میرا جی چاہتا ہے کہ تم ہمیشہ یہی رنگ پہنا کرو، سرخ رنگ تم پر نہیں سجتا ۔ اسی لئے تم سفید گلاب لائے ہو اور چاہتے ہو کہ میں سہاگ رنگ نہ پہنوں۔ یہاں دلہنوں کا لباس سفید ہوتا ہے۔ تم سرخ رنگ مت پہننا تم اپنی شادی کے دن بھی سفید لباس بنوانا۔ اب میری شادی سے تمہارا کیا واسطہ؟ تم کیوں آئے ہو جبکہ … جملہ میرے لبوں پر ادھورا رہ گیا۔ تم کو خدا حافظ کہنے کیونکہ تم نے مجھے جاتے ہوئے خدا حافظ بھی نہیں کہا تھا۔اسی ہفتے پاکستان جارہا ہوں، میں نے سوچا کہ خدا حافظ کہتا جائوں۔

خدا حافظ … ! میں نے یہ کہہ کر دروازہ بند کر دیا۔ اسے اندر آنے کو بھی نہ کہا۔ وہ سفید گلاب ہاتھ میں لئے واپس چلا گیا۔ میں نے بالکونی سے جھانکا تھا وہ بہت ٹوٹا ہوا اور اداس لگ رہا تھا۔ نجانے کیا کہنے آیا تھا اور میں نے اس کی پوری بات بھی نہ سنی تھی۔ تمام رات سو نہ سکی، روتے گزر گئی۔ دو دن بعد اس نے مجھے فون کیا۔ تم فوراً پاکستان پہنچو، میں وہاں تم سے شادی کروں گا۔ گھر والوں کو شامل کر کے ہم شادی کریں گے ۔ اب تو خوش ہونا ؟ اس ایک کال سے میں کھل اٹھی۔ بھول گئی کہ اس کی بیوی بھی ہے ، بچہ بھی ہے۔ ان کے بارے میں سوچا ہی نہیں۔ جلدی جلدی تیاری باندھی، ملازمت سے استعفیٰ دیا اور پاکستان چلی آئی۔ کیا پھر تم نے شیری سے شادی کی ؟ میں نے بے تابی سے پاکیزہ سے سوال کیا۔ نہیں، اس نے ٹھنڈی آہ بھری۔ یہ خوشی میرے نصیب میں نہ تھی۔ جس روز وہ شادی کا سندیسہ لے کر ہمارے گھر آرہا تھا، راستے میں ایک منحوس لمحے ، ٹریفک کے حادثے نے اسے نگل لیا۔ وہ جان بحق ہو گیا تبھی سے میں نے سفید رنگ کے لباس کو اپنا مقدر بنالیا ہے کیونکہ اس روز بھی میں سفید لباس پہنے اس کی آمد کا انتظار کر رہی تھی۔ یہ کہہ کر اس نے اپنے آنسو پونچھے اور میں سوچتی رہ گئی کہ مقدر شاید اسی کو کہتے ہیں کہ کچھ لوگ تو نہ چاہتے ہوئے بھی مل جاتے ہیں اور کچھ بہت چاہنے کے باوجود مل کر بھی نہیں مل پاتے۔ پاکیزہ ہمارے ساتھ آفس میں آج بھی کام کرتی ہے۔ اس نے شادی نہیں کی۔ وہ آج بھی پاکیزہ ہی ہے۔ شادی کو وہ ایک فطری امر جانتی ہے پھر بھی نہ کر سکی شادی نجانے کیوں !

Latest Posts

Related POSTS