Saturday, April 13, 2024

Muqaddas Rishta

عورت کی مظلومیت کی کہانیاں بہت لکھی جاتی ہیں ، بہوؤں کو سسرال میں جلا دینے کی کہانیاں بھی عام ہیں، لیکن کبھی کبھی، کوئی واقعہ کچھ مختلف سا بھی منظر عام پر آجاتا ہے۔ ہمارے اس استحصالی معاشرے میں اگر ستر فی صد خواتین مظلومیت کا شکار ہیں تو میں فی صد ایسی بھی ہوں گی جو اپنی نادانی کے ہاتھوں برباد ہوتی ہیں۔ وہ خود پر ہی ظلم نہیں ڈھاتیں ، ان سے محبت کرنے والے بھی ان کی خطاؤں کی لپیٹ میں آجاتے ہیں۔ ان کے ماں باپ، پیار کرنے والا شوہر ، معصوم بچے، سبھی سرتا پا بر بادی کے ایندھن میں جل کر راکھ ہو جاتے ہیں۔ سچ ہے، عورت ہو یا مرد ، کوئی انسان بھی فرشتہ نہیں ہوتا اور یہ بھی حقیقت ہے کہ تصویر کے دو رخ ہوتے ہیں۔ کبھی دو سرا رخ بھی سامنے آئے تو زمانہ اسے دیکھ کر انگشت بہ دندان رہ جاتا ہے۔ ہمارے گھر کی کہانی ایسی دل سوز ہے۔ کتنا وقت گزر گیا، مگر یہ گھاؤ آج تک نہیں بھر پائے ، ان سے خون رستا ہی رہتا ہے۔ اکیس سال کی عمر میں میرے والدین نے نئے رشتہ داروں میں بڑے چاؤ سے میرے اکلوتے بھائی مجیب کی شادی کر دی۔ ہم دونوں بہنیں اور سبھی گھر والے بہت خوش تھے۔ سوچا بھی نہ تھا کہ یہ جو بھولی بھالی شرمیلی سی لڑکی ہمارے گھر دلہن بن کر آرہی ہے ، اس سے ہمارے ارمانوں کی جنت میں آگ لگے گی۔ ہم لڑکی بیاہنے شہر گئے تھے اور تیسرے دن بارات کے ہمراہ دلہن لے کر اپنے گاؤں آ گئے۔ یہ گیارہ جنوری کی رات تھی۔ دلہن کا کمرہ سجا کر گئے تھے۔ بڑے ارمانوں سے میرا بھائی دلہا بنا ، دلہن کے کمرے میں گیا۔ رات کے تقریب دس بجے تھے۔ دلہن، دلہا کے خیالوں سے کہیں زیادہ حسین تھی،   مجیب بھائی مسہری پر بیٹھنے لگے تو عروسہ نے جلدی سے لحاف میں منہ چھپالیا۔ مجیب نے لحاف ہٹانا چاہا، مگر دلہن نے مضبوطی سے اسے اس طرح کس کر پکڑ لیا کہ چہرہ نہ دکھایا۔ مجیب اس کی منتیں کرنے لگا کہ منہ تو دکھاؤ۔ وہ تلخی سے بولی۔ آپ آرام سے سو جائے اور مجھے مت ستائیے۔ اس کے الفاظ سے  میرے بھائی کے دل کو ٹھیس لگی لگی۔ وہ کمرے سے باہر جانے لگے کہ عروسہ نے لحاف پرے پھینکا اور مسہری سے اتر کر ان کو کندھوں سے پکڑ لیا اور باہر جانے نہ دیا۔ وہ اس کی حرکتوں سے بوکھلا گئے۔ سوچنے لگے ، شاید ملکی طبیعت کی لڑکی سے پالا پڑ گیا ہے۔ عروسہ سے کہا۔ دلہن بیگم پہلے روز اپنے جیون ساتھی کا ایسا سواگت ؟ وہ بولی۔ معاف کر دیجئے ، میں تو لاڈ کر رہی تھی۔ اچھا اب باہر مت جائیے اور آکر میرے پاس بیٹھ جائیے۔ ہم باتیں کرتے ہیں، ایک دوسرے کو جاننے کے لئے باتیں کرنا ضروری ہوتا ہے۔ یوں رات دیر تک اس لڑکی نے مجیب بھائی کو باتوں میں الجھائے رکھا اور باتوں باتوں میں اس قدر بہکی کہ اپنے ماضی کی داستان بھی سنانے لگی۔

کہنے لگی۔ میں نے ایک شخص جلال نامی سے محبت کی ہے۔ وہ بالکل میرے آئیڈیل کے مطابق تھا مگر اس میں تعلیم کی کمی تھی اور آپ تعلیم یافتہ ہیں ، اس لئے میں نے ان پڑھ پر ایک تعلیم یافتہ کو ترجیح دی اور تمہارے ساتھ شادی پر ہاں کردی۔ عروسہ کے لئے شاید یہ باتیں معمولی ہوں گی، مگر مجیب کے لئے کسی بم دھماکے سے کم نہ تھیں۔ ابتدائی تین دن اور تین راتیں اس پر بہت بھاری گزریں، تبھی اس کی چھٹی ختم ہو گئی۔ ان دنوں اس کی ڈیوٹی کشمیر میں تھی اور وہاں کا موسم خوبصورت تھا۔ اس نے وہاں دل کو بہلانے کی پوری کوشش کی مگر عروسہ کے کہے ہوئے جملے اس کا سکون برباد کئے رہے۔ امی ابو سے خط لکھتے اور فون بھی کرتے رہتے تھے ، مجیب کو انہوں نے بتادیا تھا کہ عروسہ میکے چلی گئی ہے۔ اچانک چار ماہ بعد ہماری بھا بھی صاحبہ کا خط آیا کہ ایک ہفتے میں مجیب تم میرے میکے پہنچ جاؤ، ورنہ میں خود کشی کرلوں گی۔ عجیب لڑکی تھی وہ اور عجیب کہانی تھی اس کی۔ بھائی کو ڈیوٹی سے فوراً چھٹی کیسے مل سکتی تھی ؟ یہ تو اللہ کی کرنی کہ انہی دنوں چند دنوں کے لئے بھائی کا محکمے کی طرف سے لاہور کا دورہ نکل آیا، تبھی چھٹی مل گئی اور اپنے سسرال پہنچنا ان کے لئے ممکن ہو گیا۔ عروسہ بظاہر خوش نظر آتی تھی۔ بھائی نے اسے بتایا کہ چھٹی تھوڑی ہے اور میں نے ابھی گھر بھی جاتا ہے۔ وہ بولی۔ میں بھی تمہارے ساتھ گھر چلوں گی۔ ٹھیک ہے ، چلنا ہے تو چلو، تمہارا گھر ہے۔ امی ابو بھی خوش ہو جائیں گے۔ اسی دن دو پہر کو جبکہ بھائی اپنے سسرال میں ، عروسہ کے کمرے میں لیٹا ہوا تھا اور وہ کچن میں تھی۔ اس کی چھوٹی چار سالہ بہن فرش پر کھیل رہی تھی۔ وہ کبھی کوئی چیز اٹھا کر لاتی۔ کبھی کچھ اٹھا کر لاتی اور بھیا کو دے کر خوش ہوتی۔ اس کی معصوم اداؤں پر مجیب محفوظ ہو رہے تھے۔ اسی اثنا میں اس نے سنگھار دان کی میز کے نیچے سے ایک کاغذ کا ٹکڑا اٹھایا اور بھائی کولا کر دیا۔ مجیب نے وہ کاغذ لے لیا اور اس پر لکھی تحریر پڑھنے لگا۔ یہ اقبال نامی شخص کا لکھا ہو اخط تھا، جو اس نے عروسہ کے نام تحریر کیا تھا۔ عروسہ کے لکھے ہوئے چند جملے بھی اس میں رقم کئے ہوئے تھے۔ لکھا تھا۔ اقبال ، کیا ہوا جو میری مجیب کے ساتھ شادی ہو گئی ہے، میرے دل میں تو صرف تمہی بسے ہوئے ہو۔ مجیب نے خاموشی سے خط اپنے پاس رکھ لیا اور بیوی کو لے کر اپنے گھر آگئے۔ یہاں والدین عروسہ سے پہلے ہی خفا تھے۔ انہوں نے بتایا کہ تمہاری بیوی کے نام کئی خطوط جلال نامی شخص نے لکھے ہیں۔ جب میں نے تمہاری بیوی سے پوچھا کہ یہ کون ہے اور کیوں تم کو خطوط لکھتا ہے ؟ تو الٹا مجھ پر ناراض ہو کر غصہ میں میکے چلی گئی۔ اب تم اس مسئلے کا تصیفہ کر کے جاؤ۔ مجیب بھائی نے بیوی سے پوچھا تو اس نے قسمیں کھالیں۔ ان کو صدمہ ہوا، کیونکہ ایک خط اقبال نامی شخص کا پہلے سے ان کے پاس موجود تھا۔ دوسرے روز ابا جان نے جلال نامی شخص کے دو خطوط بھائی کے حوالے کر دیئے ، جو ڈاکیہ دروازہ بجا کر ان کو دے گیا تھا۔ مجیب بھائی نے خط پڑھا جس میں بیہودہ قسم کی باتیں لکھی ہوئی تھیں۔ یہ دونوں خطوط انہوں نے جب عروسہ کو دکھائے تو وہ شرمندہ ہو گئی۔ بولی۔ ماضی گزر چکا، اب اس کو دبوچ کر ہلاک تو کر نہیں سکتی۔ لڑکپن میں خطائیں ہو جاتی ہیں ، آپ معاف کر دیجئے ۔   قسمیں کھائیں کہ ایک بار   اعتبار کر لو، پھر کبھی ایسی غلطی نہ ہو گی۔ اب جن سے سلام دعا کر لی تھی، وہ پیچھا نہیں چھوڑ رہے، تو ان کو سمجھانے کہاں جاؤں۔ اب کبھی میری طرف سے شکایت کا موقعہ نہ ملے گا، بس ایک بار معاف کر دو۔ بھائی کو جلد ڈیوٹی پر پہنچنا تھا۔ بیوی کو کچھ کہا اور نہ جھگڑا کیا، خاموشی اختیار کر لی اور ڈیوٹی پر روانہ ہو گئے ، لیکن جاتے ہوئے دیہاتی پوسٹ ماسٹر کو کہہ گئے کہ میری عدم موجودگی میں عروسہ کے نام سے کوئی خط آئے تو گھر پر مت دینا بلکہ اپنے پاس رکھ لینا۔ پوسٹ ماسٹر مجیب بھائی کا دوست تھا، اس نے یقین دلایا کہ ایسا ہی ہو گا۔ بھائی ڈیوٹی پر ڈیڑھ ماہ رہا۔ وہاں عروسہ کے خطوط اس کو برابر ملتے رہے۔ ان خطوط میں ہمارے والدین کی شکایتیں لکھی ہوتی تھیں۔ واپسی میں بھائی گھر آتے ہوئے پہلے پوسٹ ماسٹر کے پاس گئے۔ اس نے کچھ خطوط ان کے حوالے کئے۔ رات کو جب سب سو گئے تب مجیب بھابھی نے عروسہ سے پوچھا۔ پھر کوئی خط تو نہیں آیا اور تم نے کوئی غلطی تو نہیں کی ؟ وہ ناراض ہونے لگی کہ کیسی باتیں کرتے ہو، بہتان لگاتے ہو ؟ تبھی اس نے وہ سارا خطوط ، بیوی کے سامنے رکھ دیئے۔ وہ بے حد شرمندہ تھی، پھر سے معافیاں مانگنے لگی مگر بھائی اس کی معافی قبول کرنا نہیں چاہتا تھا، تبھی عروسہ نے کلام پاک بھائی  کے سامنے رکھ دیا اور کہا کہ اس مقدس کتاب کو ضامن بنا کر کہتی ہوں کہ اس بار معاف کر دو، آئندہ کبھی کوئی غلطی نہ کروں گی ۔ دراصل میں تو ان سے واسطہ نہیں رکھنا چاہتی ، یہ خود مجھے بلیک میل کرنا چاہ رہے ہیں۔ بھائی نے قرآن پاک اٹھا کر تعظیم کے ساتھ الماری میں رکھ دیا اور غصہ ضبط کر لیا۔ عروسہ کو کہا کہ تم نے اتنی بڑی ضمانت دے دی ہے میں تم پر اعتبار کر لیتا ہوں لیکن آئندہ مجھ سے بے وفائی مت کرنا۔ اگر کوئی بلیک میل یا تنگ کرنے کی کوشش کرے مجھے بتانا۔ اب بھائی کی پوسٹنگ پشاور ہو گئی تھی۔ عروسہ نے ساتھ چلنے کی فرمائش کی تو وہ اس کو اپنے ساتھ پیشاور لے آئے۔ ایک روز شام کے وقت اچانک چولہا پھٹنے سے کچن میں آگ لگ گئی۔ آگ کی لپٹ میں عروسہ کی اوڑھنی بھی آگئی اور اس کے کپڑوں نے آگ پکڑلی۔ میرا بھائی گھر اور سامان کو جلتا چھوڑ کر بیوی کو گاڑی میں ڈال کر اسپتال بھاگا۔ عروسہ کا سر اور منہ بچ گیا تھا، باقی تمام بدن جھلس گیا تھا۔ ڈاکٹروں نے فوراً داخل کر کے طبی امداد دی اور علاج معالجہ شروع کر دیا۔ انہوں نے مجیب بھائی اور عروسہ کا بیان بھی لیا۔ دونوں نے جو ہوا تھا، بیان میں لکھوادیا کہ آگ اچانک چولہا پھٹنے سے لگی ہے اور یہ ایک حادثہ ہوا ہے۔ ڈاکٹر نے کچھ دیر بعد یر بعد بھائی ھائی کو علیحدہ بلا کر کہا کہ ان کا بچنا محال ہے۔ ویسے تو اللہ تعالی کی ذات بڑی ہے لیکن اتنا جل چکی ہیں کہ ان کا زندہ رہنا ایک معجزہ ہی ہو گا۔ کچھ کھائے پیئے بغیر رات بھر مجیب عروسہ کے پاس رہا اور تمام رات جاگتے گزار دی۔ جب اسے ہوش آتا، وہ میرے بھائی کو دیکھ کر رونے لگتی۔ اس کا تمام وجود سفید پٹیوں میں جکڑا ہوا تھا۔ وہ تکلیف میں تھی اور ڈاکٹروں سے کہتی تھی مجھے مر جانے دو۔ میں اس لائق ہوں۔ میرے شوہر انسان نہیں فرشتہ ہیں۔ میں ان کے قابل نہیں ہوں ، اسی وجہ سے مجھے یہ سزا ملی ہے ، اللہ تعالی مجھے معاف کر دیں۔ وہ ہم کو بھی کہتی کہ میں نے اتنے اچھے شوہر کی قدر نہیں کی، تبھی خدا نے مجھے ایسی سزادی ہے۔ ہم اس کو تسلی دیتے۔ بھائی بھی کہتا عروسہ حوصلہ رکھو ، تم ٹھیک ہو جاؤ گی مگر وہ جواب دیتی۔ میں چند گھنٹوں کی مہمان ہوں۔ میری خطا معاف کر دو۔ میں تمہاری گناہگار ہوں۔ جب تک دل سے معاف نہ کرو گے ، میری جان نہیں نکلے گی اور تکلیف میں رہوں گی۔ میں نے تم کو سچے دل سے معاف کر دیا ہے عروسہ ۔ میرا بھائی بیوی کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا تھا۔ وہ تو کیا کوئی انسان بھی کسی کو اتنی تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا ہے۔ کچھ دن یونہی کٹھن بیت گئے پھر وقت کے ساتھ رفتہ رفتہ عروسہ کی تکلیف کم ہونے لگی اور اس کی طبیعت بھی سنبھلنے لگی یہاں تک کہ وہ ٹھیک ہو گئی۔ واقعی یہ بھی ایک معجزہ تھا کیونکہ وہ کافی ساری جل چکی تھی۔ ایک دن اس نے بھائی مجیب سے کہا کہ میر اسار اوجود تو جل گیا ہے۔ اب تو آپ کو میری ضرورت نہیں رہی ہے۔ مجھے تمہاری ہی ضرورت ہے خواہ تم جس حال میں ہو۔ تم میری شریک زندگی ہو، میں تمہاری قدر کروں گا۔ تب وہ مشکور ہو کر رونے لگتی۔ اللہ تعالی کی مہربانی سے وہ دن بھی آگیا جب وہ بالکل ٹھیک ہو گئی۔ تکلیف رہی اور نہ زخم رہے ، بس زخموں کے نشان بدن پر باقی رہ گئے۔ ہاتھ پیروں اور چہرے پر کوئی نشان یا داغ نہ تھا۔ وہ بد صورت ہونے سے بچ گئی تھی۔ سال بھر بھائی کے ساتھ وہ ٹھیک ٹھاک رہتی رہی۔ انہی دنوں ان کی پوسٹنگ روالپنڈی ہو گئی اور یہ یہاں آگئے۔ کچھ دن سکون سے گزر گئے۔ ایک دن عروسہ کہنے لگی کہ بہت دن سے میں میکے نہیں گئی۔ میرا دل بہن بھائیوں اور ماں باپ کے لئے اداس ہے۔ کچھ دن ان کے پاس جا کر رہنا چاہتی ہوں۔ مجیب نے چھٹی لی اور اسے لے کر اس کے میکے آگئے۔ عروسہ کو جلا ہوا د یکھے کر اس کے والد ین پریشان ہو گئے مگر اس نے یہ کہہ کر سب کو خاموش کر دیا کہ میں نے ان کو خود ہی منع کیا تھا کہ آپ لوگوں کو اطلاع نہ دیں ورنہ آپ زیادہ پریشان ہو جائیں گے ۔ اس نے بات بنادی اور دوسرے روز مجیب سے کہا کہ آپ ڈیوٹی پر جائیے۔ میں کچھ روز امی ابو کے پاس ہی رہنا چاہتی ہوں۔ بھائی کو تو وقت مقررہ پر ڈیوٹی پر پہنچنا تھا، لہٰذا پر وہ روالپنڈی لوٹ گئے۔ ان کو آئے چند دن ہی گزرے تھے کہ ان کے نام وارنٹ آگئے۔ مقدمہ کرنے والے ان کی بیوی اور سالے تھے۔ مقدمہ تھا ارادہ قتل کا ، یعنی مجیب نے تیل چھڑک کر بیوی کو جلانے کی کوشش کی اور دوسرا مقدمہ تھا، تنسیخ نکاح کا۔ مجیب نے جان لیا کہ عروسہ طلاق چاہتی ہے۔ سوچا کہ ایسی بیوی کو رکھنے کا کیا فائدہ ؟ بہتر طلاق دے دوں۔ مقدمہ لڑنے کا مطلب ذلیل و خوار ہونا تھا، لہٰذا انہوں نے طلاق کے کاغذات ڈاک کے سپرد کر دیئے تا کہ یہ عورت جیسی زندگی گزارنا چاہتی ہے اور جس کے ساتھ اپنی خواہش پوری کرلے۔ اب بتائیے ! قصور مجیب کا ہے یا اس عورت کا، جو شکل سے بھولی بھالی اور شرمیلی سی مگر چھپی رستم اور گنوں کی پوری نکلی۔ وہ خود کسی اور سے شادی کرنا چاہتی تھی۔ جلال تھا کہ اقبال، خدا جانے یا پھر ایک ہی آدمی کے دو نام تھے جو ہم کو پریشان اور میرے بھائی کو بد دل کرنے کے لئے ہمارے گھر خطوط ڈال جاتا تھا۔ میں نہیں کہتی کہ لڑکیاں کم سنی میں اپنی مرضی کی شادیاں کر لیں جبکہ ابھی وہ عقل کی کچھی ہوتی ہے، لیکن بچیوں کی شادیاں تبھی کرنا چاہئیں جب وہ باشعور ہو جائیں اور شادی کے رشتے کو ایک مقدس رشتہ سمجھتے ہوئے اس کو دل سے قبول کریں۔

Latest Posts

Related POSTS