Musavvir | Episode 3

458
یہاں بھی جوئی ڈرائیور ہی مصروف کار نظر آتا تھا۔ وہ بچیوں کو انڈے جمع کرنا سکھاتا جو صبح مرغیوں نے تازہ دیئے ہوتے تھے۔ جوئی نینا کا ممنون تھا، کیونکہ وہ سمجھتا تھا کہ اس کی وجہ سے ایرچ نے گھوڑے کے زخمی ہونے پر اسے معاف کردیا تھا۔
’’میں شرطیہ کہتا ہوں مسز ایرچ کہ آپ کے آنے کی وجہ سے مسٹر ایرچ بہت خوش تھے، اسی لئے انہوں نے مجھے معاف کردیا، ورنہ انہوں نے مجھے کھڑے کھڑے نکال دینا تھا۔ میری ماں کہتی ہے کہ مسٹر ایرچ معاف کرنے کے عادی نہیں ہیں۔‘‘
’’نہیں…! ایسی کوئی بات نہیں ہے جوئی! میرا اس بات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘‘ نینا نے انکساری سے کہا۔
’’ڈاکٹر میک کہتے ہیں کہ میں بیرن کی بہت اچھی طرح سے دیکھ بھال کررہا ہوں۔ جیسے ہی موسم ذرا گرم ہوگا، بیرن بالکل ٹھیک ہوجائے گا اور مسز ایرچ! اب تو میں اصطبل کے دروازے کو دس مرتبہ دیکھتا ہوں کہ ٹھیک طرح سے بند ہے یا نہیں!‘‘
نینا اس کی بات بہت اچھی طرح سمجھ رہی تھی۔ اتنے دنوں میں وہ بھی سیکھ گئی تھی کہ ہر شے کو اس کے مقام پر ہونا چاہئے کیونکہ ایرچ میں بے حد نفاست تھی۔ وہ ایک لمحے کے لئے بھی بے ترتیبی برداشت نہیں کرسکتا تھا، مثلاً کسی الماری کا دروازہ کھلا ہو، کوئی کرسی راستے میں پڑی ہو، سنک میں گندا گلاس موجود ہو۔ وہ بے چین ہوجاتا جب تک وہ اسے ٹھیک نہ کردے، آرام سے نہیں بیٹھ سکتا تھا۔
جس روز ایرچ کو کاٹیج میں پینٹنگ نہ کرنی ہوتی تو وہ آفس میں ضروری کام نمٹاتا تھا۔ اس کا آفس اصطبل کے نزدیک ہی تھا۔ کلائیڈ ایک ادھیڑ عمر شخص تھا جس کے گھنے سنہری مائل سفید بال تھے۔ وہ اس کے آفس کا منیجر تھا۔
جب ایرچ نے کلائیڈ کا اس سے تعارف کروایا تو اس نے کہا تھا۔ ’’درحقیقت کلائیڈ ہی فارم کا سارا کام سنبھالتا ہے۔ میں تو بس برائے نام ہی آفس میں بیٹھ جاتا ہوں۔‘‘
کلائیڈ نے اس بارے میں کچھ نہیں کہا اور نینا سے بولا۔ ’’امید ہے تمہیں یہ سب پسند آیا ہوگا۔‘‘
’’ہاں…! یہ میرے لئے بہت خوشگوار ہے۔‘‘
’’بڑے شہروں میں رہنے والوں کے لئے یہ بہت بڑی تبدیلی ہے۔ اس سے کوئی فرق تو نہیں پڑتا؟‘‘
’’نہیں… بالکل نہیں!‘‘ نینا نے جواباً سر کو نفی میں جنبش دی۔
’’میری بیوی کو تمہارے یہاں آنے کی بہت خوشی ہے۔ اسے بچے بہت اچھے لگتے ہیں۔ اگر وہ تمہارے یہاں آنے لگے تو مجھے بتانا، رونیکا کسی کو تنگ تو نہیں کرنا چاہتی لیکن بعض اوقات وہ اپنی ذہنی کیفیت میں بہت کچھ بھول جاتی ہے۔‘‘
’’وہ بہت پرخلوص خاتون ہیں۔‘‘ نینا نے کہا۔
’’یہ خوشی کی بات ہے کہ تم نے اسے ناپسند نہیں کیا… وہ آج کل تمہاری بچیوں کے لئے سوئٹر بننے کے لئے ڈیزائن تلاش کررہی ہے۔ وہ بہت اچھی بُنائی کرتی ہے۔ کیا تم یہ پسند کرو گی؟‘‘
’’ہاں…! اس میں کوئی حرج تو نہیں۔‘‘ نینا نے جواب دیا۔
جب وہ آفس سے باہر آئے تو ایرچ نے ہدایت کی۔ ’’نینا…! رونیکا کی زیادہ حوصلہ افزائی مت کرنا۔‘‘
’’نہیں ایرچ! میں ایسا نہیں ہونے دوں گی کہ معاملہ ہاتھ سے نکل جائے۔ ویسے وہ بچاری بہت تنہا اور اکیلی ہے۔‘‘
دوپہر کو جب کھانے کے بعد بچیاں سو جاتیں تو وہ ایرچ کے ساتھ فارم میں اسکیٹنگ کرتی ہوئی مختلف جگہوں کی سیر کرتی۔ ایکڑوں کے حساب سے پھیلا ہوا فارم ایک وسیع جنگل کی طرح ان کے سامنے ہوتا اور وہ ہرنوں کے جوڑے کی طرح چوکڑیاں بھرتے پھرتے۔
شام کو وہ ایرچ کے ساتھ لائبریری میں ہوتی۔ دونوں کتابوں کی باتیں کرتے، میوزک سنتے، سناتے اور ماضی سے ایک دوسرے کو روشناس کراتے۔ نینا کافی بنا کر لے آتی اور دونوں اس کی لذت سے لطف اندوز ہوتے۔
ایک روز اچانک ایرچ اپنی ماں کیرولین کا تذکرہ کرنے لگا۔ اس واقعے کا جو اس کی زندگی کا سب سے دلخراش المیہ تھا۔ نینا خاموشی سے اس کی بات سنتی رہی۔ وہ اپنی ہی رو میں اپنے غم کو بیان کرتا جارہا تھا۔ ’’میں اور ماما کیرولین مویشیوں کے باڑے کی طرف آئے تھے، اس بچھڑے کو دیکھنے کے لئے جو رات ہی پیدا ہوا تھا۔ وہ ابھی اپنی ٹانگوں پر کھڑا لڑکھڑا رہا تھا اور اپنی ماں کا دودھ پینے کے قابل نہیں ہوا تھا۔ اسے بوتل سے دودھ دیا جارہا تھا۔ ماما اس کی بوتل لے کر خود اسے دودھ پلانے لگیں۔ مویشیوں کو پانی پلانے کا ٹینک لبالب بھرا ہوا تھا۔ جانوروں کے پانی پینے کی وجہ سے اس کے اردگرد کیچڑ تھی، جہاں اچانک ماما کا پائوں پھسل گیا۔ انہوں نے کسی چیز کا سہارا لینے کی کوشش کی کہ گرنے سے خود کو بچا سکیں، ان کے ہاتھ میں لیمپ کا تار آگیا مگر وہ مضبوط نہیں تھا۔ تار کے ساتھ لیمپ بھی اکھڑ آیا۔ وہ اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکیں اور تار کے ساتھ ہی ٹینک میں جاگریں۔ ہمارا ایک بے وقوف کاریگر جو ڈرائیور جوئی کا انکل ہے، وہ نئی بجلی کے تار لگا رہا تھا۔ اس نے لیمپ کو ایک کیل پر ٹکا رکھا تھا۔ بس ایک لمحے میں ہی سب کچھ ختم ہوگیا۔‘‘
’’اوہ…! مجھے معلوم نہیں تھا کہ اس وقت تم بھی ان کے ساتھ تھے۔‘‘ نینا نے افسردگی سے کہا۔
’’میں عموماً اس پر بات کرنا پسند نہیں کرتا… آج نہ جانے کیوں میرا دل چاہا کہ تمہیں اپنے دل کا زخم دکھائوں… اس وقت مارک کے والد ڈاکٹر گیٹ بھی یہاں تھے۔ انہوں نے بہت کوشش کی لیکن سب بیکار ثابت ہوا۔ میں وہاں وہ ہاکی اسٹک لے کر کھڑا رہا جو ماما نے مجھے چند لمحے پہلے تحفے میں دی تھی۔‘‘
نینا جو ایرچ کے سامنے ایک کرسی پر بیٹھی ہوئی تھی، وہ نیچے قالین پر ایرچ کی کرسی کے ساتھ بیٹھ گئی اور تسلی کے لئے اس کا ہاتھ تھپتھپایا۔
ایرچ اپنے ماضی سے واپس نہیں آپا رہا تھا۔ ’’ایک طویل عرصے تک میں اس ہاکی اسٹک سے شدید نفرت کرتا رہا۔ میں اس کی طرف دیکھتا تک نہیں تھا لیکن پھر مجھے احساس ہوا کہ یہ تو وہ آخری تحفہ ہے جو ماما نے مجھے دیا تھا۔‘‘
نینا کی دراز پلکیں بھیگ گئیں۔ وہ اس کی جانب جھک کر بولا۔ ’’نینا…! پلیز اتنی اداس نہ ہو۔ تمہاری وجہ سے میری زندگی کے سارے خلا پر ہوگئے ہیں۔ مجھ سے ایک وعدہ کرو نینا!‘‘
نینا کو اندازہ تھا کہ وہ کیا کہنے والا ہے اسی لئے اس نے ایرچ کے کہنے کا انتظار نہیں کیا اور خود ہی مضبوط لہجے میں بولی۔ ’’میں تمہیں کبھی چھوڑ کر نہیں جائوں گی۔‘‘
٭…٭…٭
ایک صبح جب نینا بچیوں کے ساتھ سیر کرتی ہوئی قبرستان کی طرف سے گزری تو اس نے رونیکا کو دیکھا۔ وہ باڑ پر جھکی ہوئی اندر قبرستان میں نہ جانے کیا دیکھ رہی تھی۔ نینا اس کے قریب چلی گئی تو وہ آہٹ پر ان کی طرف متوجہ ہوئی اور بغیر کسی سوال کے خود ہی بولی۔ ’’میں اس حسین زمانے کے بارے میں سوچ رہی تھی جب میں اور کیرولین جوان تھے، ایرچ بہت چھوٹا معصوم سا بچہ تھا، پھر میرے یہاں آئرن آئی۔ کیرولین نے اس کی تصویر بھی بنائی تھی۔ وہ بہت پیاری بچی تھی۔ کیرولین کی بنائی ہوئی تصویر نہ جانے کہاں چلی گئی، حالانکہ میں نے اسے اپنے بیڈ روم میں لگا رکھا تھا۔‘‘ اس نے چند لمحے توقف کیا، پھر نینا سے مخاطب ہوئی۔ ’’تم میرے گھر آئو نا!‘‘
’’بچو…! تم آنٹی رونیکا کو ہیلو نہیں کہو گے؟‘‘ وہ پیار سے بولی۔
روتھ نے دور ہی سے اسے ہیلو کہا، جبکہ تانیہ دوڑ کر اس کے قریب پہنچ گئی۔ اس نے پیار سے اس کے بال سنوارے۔ ’’اس بچی کو دیکھ کر مجھے آئرن یاد آجاتی ہے۔ وہ بھی اسی طرح یہاں سے وہاں بھاگتی، چھلانگیں لگاتی پھرتی تھی۔ میرا خیال ہے کہ ایرچ تمہیں مجھ سے ملنے سے منع کرتا ہوگا۔ اس بچارے کا بھی قصور نہیں۔ بعض اوقات میں واقعی دوسروں کے لئے مصیبت بن جاتی ہوں۔ ہاں… مسز ایرچ! میں نے بچیوں کے لئے ڈیزائن تلاش کرلیئے ہیں۔ میں ان کے سوئٹر بُن دوں؟‘‘
’’ہاں… ہاں… ضرور!‘‘ نینا نے خوشدلی سے کہا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ ایرچ کو منا لے گی کہ اس خاتون سے تھوڑا بہت تعلق رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔
رونیکا جھک کر قبر کی طرف دیکھنے لگی اور پھر ایک نظر اس کی طرف دیکھ کر بولی۔ ’’تم یہاں تنہائی تو محسوس نہیں کرتیں؟‘‘
’’نہیں یہ مشکل ضرور ہے کیونکہ یہ زندگی میری گزشتہ زندگی سے بہت مختلف ہے۔ میں سارا دن بہت مصروف رہتی تھی۔ میری ملازمت ہی اس نوعیت کی تھی۔ لوگوں سے بات کرنا، ان کے فون سننا، گھر پر بھی میرا فون بجتا رہتا تھا۔ میری دوست میرے اپارٹمنٹ میں بڑی بے تکلفی سے جب چاہتی آجاتی تھیں۔ ہاں! کچھ باتیں یاد تو آتی ہیں لیکن میں مجموعی طور پر یہاں بہت خوش ہوں۔‘‘
’’ہاں…! کیرولین بھی شروع شروع میں یہاں بہت خوش رہی لیکن پھر چیزیں بدل گئیں، بالکل بدل گئیں۔‘‘ وہ اس کی قبر کے کتبے کو ایک ٹک دیکھتی ہوئی بولی۔ ’’جس طرح اس کے جانے کے بعد سب کچھ بدل گیا ہے، بالکل بدل گیا ہے۔‘‘
شام کو ایرچ اس سے کہہ رہا تھا۔ ’’مجھے لگتا ہے کہ تم مجھ سے نجات حاصل کرنا چاہتی ہو، میں تمہارے بغیر نہیں جانا چاہتا۔‘‘ وہ اپنی مختلف پینٹنگز کو دیکھ رہا تھا کہ ان میں سے انتخاب کرسکے۔ نینا بھی اسے مشورے دے رہی تھی۔
’’تمہاری آرٹ پر بہت گہری نگاہ ہے… بڑی باذوق ہو تم!‘‘
’’جناب…! یہ نہ بھولیں کہ میں نے آرٹ میں ماسٹر کیا ہے۔ یونہی میں گیلری میں جاب نہیں کررہی تھی۔ میری رائے کو بڑی اہمیت دی جاتی تھی۔‘‘
’’تو پھر بتائو کہ ان تصویروں میں سے کون سی لے کر نہ جائوں؟‘‘
’’نہیں… تمہیں سب نمائش کے لئے لے جانی چاہئیں۔ تمہارا کام مسلسل عوام اور نقادوں کی نگاہ میں آنا چاہئے تاکہ تمہاری ساکھ قائم رہے اور میں بھی اس پر فخر کروں کہ میں ایک نامور آرٹسٹ کی بیوی ہوں۔ خواتین مجھے دیکھ کر حسد کریں کہ میں کتنی خوش قسمت ہوں کہ اتنے بڑے آرٹسٹ کی بیوی ہوں جو اسمارٹ اور خوبصورت بھی ہے۔‘‘ نینا نے ہنستے ہوئے بات ختم کی۔
ایرچ نے اس کے بالوں کی ایک لٹ کھینچتے ہوئے کہا۔ ’’تو کیا مرد لوگ مجھ سے حسد نہیں کرتے کہ میں کتنا خوش قسمت ہوں کہ میری بیوی کتنی حسین اور دلکش ہے؟‘‘
’’ہاں! یہ ہے تو ٹھیک!‘‘ نینا نے بن کر کہا۔
’’بس اسی لئے میں اکیلے جانا نہیں چاہتا۔ مجھے افسوس ہے کہ اتنے اہم موقع پر تم میرے ساتھ نہیں ہوگی۔‘‘
’’ان لوگوں نے تمہاری خاطر سارا پروگرام بنایا ہے، اب اس کو خراب مت کرنا۔ میں بھی تمہارے ساتھ جانا چاہتی ہوں لیکن بچیوں کو یہاں اکیلے چھوڑا نہیں جاسکتا۔ انہیں ساتھ لے جانا اور زیادہ مشکل ہوگا۔ تم فکر مت کرو، اگلی نمائش پر ضرور تمہارے ساتھ ہوں گی۔‘‘
’نینا…! وعدہ کرو کہ تم مجھے بہت یاد کرو گی، مجھے بھلائو گی نہیں…؟‘‘
’’ہاں! میں تمہاری کمی بہت محسوس کروں گی ایرچ…! یہ چار دن بہت مشکل سے گزریں گے۔‘‘
وہ پینٹنگز کو پیک کرتے ہوئے بولا۔ ’’میں واپس آجائوں تو میرا خیال ہے کہ تمہیں یہاں کے لوگوں سے ملوائوں۔ اگلے اتوار کو چرچ چلیں گے۔ تمہیں چرچ جانا پسند ہے؟‘‘
’’تم نے تو میرے دل کی بات کہہ دی ایرچ…! میں بھی چاہتی ہوں کہ تمہارے دوستوں سے ملوں۔‘‘
’’میں زیادہ تر ان کو چندہ دے دیتا ہوں، باقاعدگی سے کبھی چرچ نہیں گیا اور تم چرچ کے سلسلے میں کیا کرتی ہو؟‘‘
’’میں ہر اتوار کو ضرور جاتی ہوں۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ میں نے اسے چھوڑا ہو۔‘‘
’’تو پھر ہم کل ہی چلتے ہیں، اتوار ہے۔‘‘
اگلے دن وہ مقامی چرچ چلے گئے۔ چرچ پرانا تھا اور بڑا بھی نہیں تھا۔ اس کا انداز تعمیر بھی قدیم تھا لیکن اسے بہت سنبھال کر رکھا گیا تھا۔ مختلف جگہوں پر ان لوگوں کے نام بھی لکھے ہوئے تھے جنہوں نے انیسویں صدی کے آغاز میں اس کی تعمیر میں حصہ لیا تھا۔ ان میں سے بہت سے ایرچ کے خاندان کے لوگ تھے۔
تانیہ اور روتھ ان دونوں کے درمیان بیٹھی ہوئی تھیں۔ دونوں نیلے کوٹ اور ٹوپیاں پہنے بہت خوبصورت لگ رہی تھیں۔ جب پادری تقریر کررہا تھا تو ایرچ نے اس کے کان میں سرگوشی کی۔ ’’تم بہت حسین ہو نینا…! ہر کوئی تمہارے اور بچیوں کی طرف دیکھ رہا ہے۔‘‘
سروس ختم ہوئی تو ایرچ نے اس کا تعارف پادری سے کروایا۔ وہ ایک ادھیڑ عمر خوش اخلاق شخص تھا۔ وہ خوش مزاجی سے بولا۔ ’’نینا…! ہمیں خوشی ہے کہ تم یہاں آئیں اور ہاں! یہ دونوں ننھی منی پریاں…! ان میں روتھ کون ہے اور تانیہ کون ہے؟‘‘
’’اوہو! تو آپ بچیوں کے نام جانتے ہیں؟‘‘ نینا نے خوشگوار حیرت سے کہا۔
’’ہاں… ہاں…! مجھے ایرچ نے تمہارے بارے میں سب کچھ بتایا تھا۔ تم بہت خوش قسمت ہو نینا! تمہارا شوہر بہت کھلے دل کا انتہائی سخی شخص ہے۔ یہاں جو اولڈ ہائوس بن رہا تھا، اس میں بھی ایرچ نے بہت مدد کی ہے، ورنہ ہم اسے مکمل نہ کر پاتے۔ میں ایرچ کو بچپن سے جانتا ہوں، ہم سب اسے بہت پسند کرتے ہیں۔‘‘
’’میں نے بھی ایرچ کو پسند کیا ہے، اسی لئے تو یہاں ہوں۔‘‘ نینا نے خوش دلی سے جواب دیا۔
’’جمعرات کو خواتین کی میٹنگ ہے۔ اگر تم اس میں شریک ہونا چاہو تو ضرور آنا۔ سب تم سے مل کر خوش ہوں گی۔‘‘
’’ضرور…! میں ضرور آئوں گی۔‘‘
’’نینا! چلو اور لوگ بھی فادر سے ملنا چاہتے ہیں، انہیں بھی وقت دینا چاہئے۔‘‘
وہ گھر آنے کے لئے گاڑی میں بیٹھی تو بہت پرجوش تھی۔ ’’ایرچ…! مجھے یہاں کے لوگ اچھے لگے ہیں… جمعرات کو خواتین سے ملنا ایک نیا تجربہ ہوگا۔‘‘
’’لیکن جمعرات کو میں یہاں نہیں ہوں گا، پھر تم بچوں کو کس کے پاس چھوڑو گی؟‘‘
’’فادر سے کہوں گی، وہ کوئی انتظام کردیں گے۔‘‘
’’نہیں نینا…! ابھی کچھ انتظار کرو۔ ابھی یہاں کے لوگوں سے زیادہ گھلنا ملنا ٹھیک نہیں ہے۔‘‘
’’مگر کیوں…! آخر اس میں حرج ہی کیا ہے؟‘‘
ایرچ نے چہرہ موڑ کر اس کی طرف دیکھا۔ ’’کیونکہ میں تم سے بہت بہت پیار کرتا ہوں۔ میں یہ برداشت نہیں کرسکتا کہ تمہاری توجہ کسی اور جانب ہو۔‘‘
٭…٭…٭
ایرچ کے جانے میں ابھی کئی روز باقی تھے کہ اس نے ایک دن اس سے کہا کہ وہ کسی کام سے جارہا ہے، کھانے پر اسے دیر ہوجائے گی لیکن وہ ڈیڑھ بجے ہی واپس آگیا اور نینا سے بولا۔ ’’آئو میرے ساتھ تمہارے لئے سرپرائز ہے۔‘‘
اپنا کوٹ اٹھا کر نینا جلدی جلدی اس کے ساتھ چل دی۔ باہر مارک بھی موجود تھا۔ اسے ہیلو کہہ کر وہ ان کے ساتھ اصطبل تک آیا اور مسکراتے ہوئے بولا۔ ’’لو بھئی یہاں نئے لوگوں سے ملو۔‘‘
نینا نے دیکھا۔ دو چھوٹی نسل کے گھوڑے ساتھ ساتھ کھڑے تھے۔ ان کے ایال اور دمیں بہت خوبصورت تھیں۔ ان کے تانبے جیسے جسم چمک رہے تھے۔
’’میری بیٹیوں کے لئے میرا تحفہ!‘‘ ایرچ نے بڑے فخر سے کہا اور اس کا بازو پکڑ کر اسے اگلے اسٹال میں لے گیا۔ ’’اور یہ تمہارا تحفہ…!‘‘
حیرت اور خوشی سے نینا گنگ سی ہوگئی۔ وہ ایک بہترین نسل کی خوبصورت گھوڑی تھی جو اس کی طرف ہی دیکھ رہی تھی۔
’’یہ تو ایک خزانہ ہے۔ اصیل اور اعلیٰ نسل سے تعلق رکھتی ہے۔ یہ چار سال کی ہے لیکن بہت سے مقابلے جیت چکی ہے۔ مجھے امید ہے یہ تمہیں پسند آئے گی۔‘‘
’’اوہ…! یہ بہت خوبصورت ہے۔‘‘ نینا نے خوشی کے لہجے میں کہا اور گھوڑی کے سر پر ہاتھ پھیرا۔ اسے خوشی ہوئی کہ گھوڑی نے سر نہیں جھٹکا۔ گویا اس نے بھی نینا کو پسند کرلیا تھا۔
’’اس کا کیا نام ہے؟‘‘ نینا نے پوچھا۔
’’اس کو پالنے والے نے تو اس کا نام ’’دل کی آگ‘‘ رکھا ہے، تم جو چاہو رکھ لینا۔‘‘
’’دل کی آگ…!‘‘ نینا نے دہرایا۔ ’’بہت دلچسپ نام ہے۔ اوہ ایرچ…! میں بہت خوش ہوں۔‘‘
وہ بھی مسکرایا۔ ’’ابھی اردگرد برف ہے فی الحال تم اس پر سواری نہیں کرسکتیں، لیکن تم ان سے آکر یہاں ملتی رہنا۔ اس طرح وہ تمہارے اور بچوں کے ساتھ مانوس ہوجائیں گے اور تمہیں گھڑ سواری سیکھنے میں آسانی ہوجائے گی۔‘‘
’’تانیہ اور روتھ تو انہیں دیکھ کر خوشی سے پاگل ہوجائیں گی۔‘‘
’’لیکن پہلے کھانا کھا لیں پھر بچوں کو بتانا، نہیں تو وہ کھانا بھی چھوڑ دیں گی۔‘‘
نینا نے مارک کی طرف دیکھا۔ ’’تم نے بھی تو ابھی تک کھانا نہیں کھایا ہوگا، اب کھانا کھا کر جانا۔‘‘ اس کی نگاہ ایرچ کے چہرے پر پڑی تو اسے ناگواری کی جھلک سی نظر آئی، لیکن فوراً ہی وہ غائب ہوگئی تو نینا نے اطمینان کا سانس لیا۔
٭…٭…٭
ایرچ تصویروں کی نمائش کیلئے روانہ ہونے لگا تو میٹھی نظروں سے اس کی جانب تکتا ہوا بولا۔ ’’میں تمہاری بہت کمی محسوس کروں گا نینا…! اچھا دیکھو رات کو دروازے لاک کرنا نہ بھولنا۔‘‘
’’ہاں… ہاں ضرور!‘‘ نینا نے یقین دلایا۔
’’سڑکوں پر ابھی برف ہے۔ اگر تمہیں مارکیٹ سے کچھ لینا ہو تو ڈرائیور سے کہہ دینا۔‘‘
’’ایرچ…! تم فکر مت کرو، میں اپنا خیال رکھ سکتی ہوں۔‘‘
’’میں وہاں پہنچ کر تمہیں فون کروں گا۔‘‘
رات نینا جب اپنے بستر پر لیٹی تو گھر میں مکمل خاموشی تھی، جو بڑی پراسرار سی معلوم ہورہی تھی۔ وہ لائبریری سے ایک کتاب پڑھنے کے لئے لے آئی تھی لیکن اس میں اس کا دل نہیں لگ رہا تھا۔ اس کا دھیان ایرچ کی طرف تھا۔ اس کی نگاہ کلاک کی طرف گئی تو اس نے سوچا ایرچ منزل مقصود پر پہنچ گیا ہوگا، بس اب اس کا فون آنے ہی والا ہوگا۔ اس نے کتاب کھول لی اور اسے پڑھنے میں مصروف ہوگئی۔ ٹیلیفون کی گھنٹی بجی۔ نینا نے جلدی سے ریسیور اٹھایا۔ ’’ہیلو ڈارلنگ…!‘‘
’’اوہ نینا…! کاش یہ تم نے میرے لئے کہا ہوتا۔‘‘ کیون کی آواز سنائی دی۔ نینا دھک سے رہ گئی۔ یہ کیون کہاں سے ٹپک پڑا۔ گھبراہٹ میں کتاب اس کی گود سے پھسل گئی۔ اس نے سنبھل کر پوچھا۔ ’’تم کہاں سے بول رہے ہو؟‘‘
’’میں یہاں آڈیشن کے لئے آیا ہوں۔‘‘ اس نے ادارے کا نام بتایا۔
’’یہ بہت اچھا ہے گڈلک…!‘‘ نینا نے اپنی گھبراہٹ چھپاتے ہوئے کہا۔
’’دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔ ہاں! تم سنائو کیسی گزر رہی ہے اس بجو کے ساتھ…؟‘‘
’’بہت بہت اچھی!‘‘
’’اور بچے کیسے ہیں؟‘‘
’’وہ بھی مزے میں ہیں۔‘‘
’’میں کل ان سے ملنے آئوں گا۔ تم گھر پر ہی ہوگی؟‘‘ اس کے انداز میں تحکم تھا۔
’’کیون…! نہیں ایسا نہیں ہوگا۔‘‘
’’میں اپنے بچوں سے ملنا چاہتا ہوں۔ کہاں ہے تمہارا وہ لنگور…؟‘‘
’’وہ اس وقت گھر پر نہیں۔‘‘ نینا اس کو نہیں بتانا چاہتی تھی کہ وہ چار روز کے لئے شہر سے باہر گیا ہوا ہے۔
’’تم مجھے اپنا ایڈریس بتائو، میں کرائے کی گاڑی پر آجائوں گا۔‘‘
’’نہیں کیون…! تمہیں یہاں آنے کی ضرورت نہیں، ایرچ ناراض ہوگا۔ ویسے بھی اب بچوں پر تمہارا کوئی حق نہیں۔‘‘
’’فی الحال مجھے بچوں پر تمام حقوق حاصل ہیں۔ یہ معاہدہ چھ ماہ میں مکمل ہوگا۔ میں چاہوں تو اسے ختم بھی کرسکتا ہوں۔ مجھے معلوم ہونا چاہئے کہ بچیاں یہاں خوش ہیں یا نہیں اور تم بھی اس ناہنجار کے ساتھ خوش ہو یا نہیں…! میں اب سوچتا ہوں کہ ہم نے فیصلہ کرنے میں بہت جلدی کی۔ ہم اس پر بات کرلیتے تو شاید یہ نوبت نہ آتی۔ اچھا! اب جلدی سے بتائو کہ میں تم تک کیسے پہنچوں؟‘‘
’’تم نہیں آئو گے کیون…!‘‘ نینا نے سختی سے کہا۔ اس کا دل دھک دھک کررہا تھا۔
’’اگر تم نہیں بتائو گی تو میں نقشے پر اس جگہ کو تلاش کرلوں گا اور ظاہر ہے کہ وہاں ہر ایک کو معلوم ہوگا کہ وہ سرپھرا کہاں رہتا ہے۔‘‘
نینا کی ہتھیلیاں پسینے میں بھیگنے لگیں۔ اس چھوٹے سے قصبے میں کیون کا آنا، ایک بہت بڑی بات ہوگی۔ سب کو معلوم ہوجائے گا کہ وہ اس کا سابق شوہر ہے جبکہ ایرچ نے یہاں سب کو یہ بتا رکھا تھا کہ وہ بیوہ ہے اور اس کا شوہر ایک حادثے میں ہلاک ہوگیا تھا۔
’’کیون…!‘‘ اس نے زور دے کر کہا۔ ’’یہاں مت آنا، تم سب کچھ برباد کردو گے۔ میں اور بچیاں یہاں بہت خوش ہیں۔ میں نے ہمیشہ تمہارے ساتھ اچھا سلوک کیا ہے، تمہاری مالی امداد کی ہے، اس کا خیال کرو۔‘‘
اس کا لہجہ بدلا۔ ’’ہاں! اچھا تم نے یاد دلایا۔ اس وقت بھی مجھے کچھ رقم کی اشد ضرورت ہے۔ تم نے یہاں آتے ہوئے اپارٹمنٹ کا جو فرنیچر بیچا تھا، اس میں میرا بھی حصہ بنتا ہے۔‘‘
نینا نے اطمینان کا سانس لیا۔ ہمیشہ کی طرح اس کو رقم کی ضرورت تھی۔ اس کا منہ آسانی سے بند کیا جاسکتا تھا۔ ’’اچھا… بتائو میں رقم کہاں بھیجوں…؟‘‘
’’میں خود لینے کے لئے آجائوں گا۔ یہاں کوئی ایسی جگہ نہیں ہے جہاں میں رقم منگوائوں۔‘‘
نینا الجھ کر رہ گئی۔ وہ اس کی فطرت سے واقف تھی۔ اس کے ہاتھ ایک بات آگئی تھی اور وہ اپنا مطالبہ منوائے بغیر نہیں ٹلے گا کیونکہ اسے اندازہ تھا کہ وہ کبھی اسے گھر نہیں بلائے گی۔ اس کا ذہن تیزی سے کام کررہا تھا۔ وہ چاہتی تھی کہ ایرچ کی غیر موجودگی میں اسے رضامند کرلے کہ آئندہ وہ اس کی زندگی میں دخل نہیں دے گا۔
اسے یاد آیا کہ قصبے سے تقریباً بیس میل دور ایک ریسٹورنٹ تھا۔ وہاں کیون سے ملا جاسکتا تھا۔ وہاں قصبے کے لوگ بھی کم ہوں گے۔ یہی سوچ کر اس نے کیون کو اس ریسٹورنٹ کا ایڈریس دے دیا اور ایک بجے ملنے کا


اس نے ریسیور رکھا لیکن اس کا سارا سکون غارت ہوگیا تھا۔ کیا اسے ایرچ کو اس بارے میں بتا دینا چاہئے، مگر یہ بات خطرے سے خالی نہیں تھی۔ یقیناً وہ برا مانے گا۔ وہ اسی ادھیڑبن میں رہی اور ایرچ کا فون آگیا۔ وہ اس کا حال پوچھتا رہا اور بچیوں کے بارے میں کہ وہ اس کو یاد کرتی ہیں یا نہیں!
نینا غائب دماغی کے ساتھ اس سے بات کرتی رہی۔ اس نے دل ہی دل میں طے کرلیا تھا کہ کچھ بھی ہوجائے، وہ کیون کو اپنی یہ چھوٹی سی دنیا برباد نہیں کرنے دے گی۔
٭…٭…٭
تقریباً تمام ڈپلیکیٹ چابیاں لائبریری میں ہوتی تھیں۔ نینا نے ڈرائیور سے چابی لینے کے بجائے لائبریری سے دوسری چابی لے لی۔ بچیوں کو جلد کھانا کھلا کر اس نے سونے کے لئے لٹا دیا تھا۔ ایلسا کو ان کے پاس ٹھہرا کر وہ کیون سے ملنے کے لئے روانہ ہوگئی۔ ایک عرصے بعد کار چلانا اسے اچھا لگ رہا تھا۔ اگرچہ یہ نئی جگہ تھی اور وہ پہلی بار سڑک پر نکلی تھی لیکن اسے ریسٹورنٹ تلاش کرنے میں زیادہ دشواری نہیں ہوئی۔
کیون پہلے سے وہاں اس کے انتظار میں تھا۔ نینا نے اسے رسمی انداز میں ہیلو کہا۔ کیون نے اپنا ہاتھ بڑھایا۔ نینا کو بھی مجبوراً اس سے ہاتھ ملانا پڑا۔ وہ ایک ٹک اس کی طرف دیکھتا ہوا بولا۔ ’’نینا…! میں تمہاری کمی بہت محسوس کرتا ہوں۔ مجھے بچے بھی یاد آتے ہیں۔‘‘
نینا نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے فوراً الگ کرلیا اور سرد لہجے میں بولی۔ ’’ہاں! سنائو تمہارے آڈیشن کا کیا ہوا؟‘‘
’’ابھی کچھ پتا نہیں چلا لیکن امید ہے کہ میں کامیاب ہوجائوں۔ اس طرح میں تمہارے اور بچوں کے قریب رہ سکوں گا۔‘‘
’’فضول باتیں مت کرو کیون…!‘‘ نینا نے ٹوکا۔
’’نینا! تم بہت اچھی ہو، بہت خوبصورت ہو۔ مجھ سے غلطی ہوگئی۔ میں سمجھتا تھا کہ تم میرے علاوہ کسی اور سے کبھی محبت نہیں کرو گی۔ کیا تم خوش ہو؟‘‘
’’ہاں…! میں بہت خوش ہوں اور میری بات غور سے سنو اگر ایرچ کو پتا چل گیا کہ میں تم سے ملی ہوں تو یہ بہت بری بات ہوگی۔ اس کی رائے تمہارے بارے میں اچھی نہیں۔‘‘
’’اور میری رائے بھی اس لنگور کے بارے میں کچھ زیادہ اچھی نہیں ہے۔ اس نے میرے سامنے کاغذ رکھ دیا کہ میں اس پر دستخط کردوں ورنہ تم مجھ پر بچوں کے خرچے کے لئے مقدمہ کردو گی۔‘‘
’’ایرچ نے تم سے یہ کہا تھا؟‘‘
’’ہاں…! تمہارے اس بجُو نے یہ کہا تھا۔ میں نے دستخط کردیئے کہ بات نہ بڑھے لیکن یہ معاہدہ منسوخ بھی ہوسکتا ہے۔ اس کی معیاد چھ ماہ ہے۔‘‘
’’اور تم نے جو ایرچ سے بچیوں کے بدلے ایک ایک لاکھ لیا ہے، وہ…! اس کا کیا ہوگا؟‘‘ نینا نے طنزیہ لہجے میں کہا۔
’’اوہ…! وہ صرف قرضہ ہے اور کچھ نہیں۔‘‘ وہ بے نیازی سے بولا۔
نینا بات بڑھانا نہیں چاہتی تھی، نہ کسی بحث میں الجھنا چاہتی تھی۔ وہ جلد ازجلد یہاں سے نکل جانا چاہتی تھی۔ اس نے رقم کا لفافہ اس کی طرف بڑھایا۔ ’’کیون…! یہ لو اس کو رکھو اور ہاں…! اب مجھ سے ہرگز رابطہ مت کرنا۔ نہ ہی بچوں سے ملنے کی کوشش کرنا۔ اس طرح تم ان کے لئے ایک بڑی مصیبت کھڑی کردو گے اور میرے لئے بھی…! تم اگر ہماری بہتری چاہتے ہو تو ہماری زندگی سے نکل جائو۔ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے!‘‘ اتنا کہہ کر وہ فوراً ہی اٹھ گئی۔
کیون لفافہ جیب میں ڈال کر اس کے ساتھ ہی اٹھا۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر نینا کا بازو تھامنا چاہا لیکن نینا نے اسے اس کا موقع نہیں دیا۔ وہ جلدی سے پیچھے ہٹی اور میز کی طرف آتی ویٹرس سے ٹکرا گئی۔ نینا نے اس سے معذرت کرتے ہوئے اپنا پرس اٹھایا اور کیون کے برابر ٹھہر کر اس نے دبی زبان لیکن مضبوط لہجے میں کہا۔ ’’کیون…! میں تمہیں متنبہ کرتی ہوں کہ ہمیں اکیلا چھوڑ دو۔‘‘
٭…٭…٭
ایرچ ان کے لئے بہت سے تحفے لے کر آیا تھا۔ دونوں بچیوں کی خوشی اور مسرت بھری چیخوں نے اسے بہت محظوظ کیا۔ وہ اپنی نئی گڑیا پا کر بہت خوش تھیں۔ روتھ نے سنجیدگی سے اس کا شکریہ ادا کیا۔ تانیہ اپنے مخصوص چونچال پن سے بولی۔ ’’تھینک یو ڈیڈی…!‘‘
’’میں بھی یہی کہنا چاہتی تھی۔‘‘ روتھ جلدی سے بولی۔
ایرچ نے قہقہہ لگایا اور دونوں کو گلے سے لگا لیا۔ روتھ نے پوچھا۔ ’’آپ ممی کے لئے کیا لائے ہیں؟‘‘
’’ممی کے لئے…!‘‘ وہ اداکاری کرتے ہوئے بولا۔ ’’کیا ممی میرے بعد اچھی ممی بنی رہیں؟‘‘
’’یس… یس!‘‘ بچیاں ایک ساتھ بولیں۔
’’لائو کہاں ہے میرا تحفہ…؟ میں بہت اچھی ممی بنی رہی۔‘‘
ایرچ نے اپنے سوٹ کیس سے ایک مجسمہ نکالا۔ ایک ادھیڑ عمر خاتون جھولنے والی کرسی پر بیٹھی ہوئی تھی۔ اس کے ہاتھ میں چائے کا کپ تھا اور چہرے پر اطمینان اور سکون…! وہ مسکراتے ہوئے بولا۔ ’’تم ہمیشہ اپنی دادی کو یاد کرتی رہتی ہو۔ مجھے خیال ہوا کہ تم اسے دیکھ کر خوش ہوگی۔‘‘
’’واقعی…!! یہ گرینی کی طرح ہی لگ رہی ہے۔‘‘ نینا نے مجسمہ ہاتھ میں لے کر دیکھتے ہوئے خوشگوار حیرت سے کہا۔
اس کی پلکیں بھیگ گئیں۔
اس نے آتشدان میں آگ جلا لی تھی۔ ایرچ کا پسندیدہ کھانا بنایا تھا، اس کا پسندیدہ سبز لباس پہن رکھا تھا۔ ریشمیں بال اس کے شانوں پر بکھرے ہوئے تھے۔ دلکش آنکھوں میں محبت کنول کی طرح تیر رہی تھی۔
’’نینا…! تم بہت حسین ہو۔‘‘ وہ مخمور لہجے میں بولا۔
’’تمہارا دورہ کیسا رہا؟‘‘ نینا نے پوچھا۔
’’بہت تھکا دینے والا اور قدرے پریشان کن بھی تھا۔ گیلری میں سارا وقت لوگ میرے گرد رہے اور مجھ سے مختلف سوالات کرکے میرا ناک میں دم کردیا۔ کچھ اس تصویر کو خریدنا چاہتے تھے جو میں فروخت نہیں کرنا چاہتا تھا۔ ماما کیرولین کی تصویر ’’یادیں!‘‘
’’پچھلی نمائش میں بھی یہی ہوا تھا کہ اس تصویر کو خریدنے کی پیشکش ہوئی تھی۔ تم پریشانی سے بچنا چاہتے ہو تو اسے نمائش میں مت رکھو۔‘‘
’’یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ میں اس تصویر کو نمائش میں نہ رکھوں؟ یہ تو میرا بہترین کام ہے۔‘‘ وہ بولا۔
کھانا ختم ہوگیا۔ وہ برتن سمیٹنے لگی تو ایرچ نے دونوں بچیوں کو گود میں بٹھا لیا اور انہیں اس بڑے ہوٹل کے بارے میں بتانے لگا جہاں وہ ٹھہرا تھا، جہاں شیشے کی لفٹیں تھیں اور تمام کا تمام خودکار نظام کے تحت چلتا تھا۔
’’ہم بھی وہاں جائیں گے۔‘‘ روتھ نے کہا۔
تانیہ نے بھی اس کی آواز میں آواز ملائی۔ ’’ممی! بھی ہمارے ساتھ چلیں گی؟‘‘
’’ہاں! اگر ممی جانا چاہیں گی تو!‘‘ وہ اس کی طرف دیکھتا ہوا بولا۔
نینا محسوس کررہی تھی کہ وہ کچھ بے چین سا ہے۔ وہ اس کی باتوں کے جواب بھی پوری توجہ سے نہیں دے رہا تھا۔ یوں لگتا تھا جیسے وہ اندر ہی اندر کچھ سوچ رہا ہے یا کوئی بات اسے کھٹک رہی ہے۔
اس کے اپنے دل کا چور بھی اسے کچوکے دے رہا تھا۔ اگر ایرچ کو معلوم ہوگیا کہ وہ کیون سے ملنے گئی تھی تو اسے بہت برا لگے گا۔ کبھی اس کے دل میں خیال آتا۔ اس طرح ضمیر کے کچوکے برداشت کرنے سے بہتر ہے کہ وہ اسے سب کچھ بتا دے بجائے اس کے کہ اسے کسی اور کی زبانی اس بات کا علم ہو۔ ہوسکتا ہے ریسٹورنٹ میں کسی نے اسے دیکھ لیا ہو۔
کچھ دیر بعد اس نے بچیوں سے کہا کہ وہ اپنے کمرے میں جاکر اپنی نئی گڑیا سے کھیلیں اور جب وہ چلی گئیں اور انہیں تنہائی میسر آئی تو اس نے ہمت کرکے ایرچ سے پوچھا۔ ’’ایرچ…! کیا کوئی مسئلہ ہے، تم کچھ الجھے ہوئے دکھائی دیتے ہو؟‘‘
’’کچھ اتنا خاص بھی نہیں ہے۔ مجھے یہ بات تنگ کررہی ہے کہ جوئی گاڑی کو خواہ مخواہ اِدھر اُدھر لئے پھرتا ہے۔ میری غیر موجودگی سے فائدہ اٹھا کر اس نے چالیس پچاس کلومیٹر گاڑی چلائی ہے۔ میں پوچھوں گا تو کبھی نہیں مانے گا۔ کیا وہ تمہیں کہیں لے کر گیا تھا؟‘‘نینا دھک سے رہ گئی۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ ایرچ گاڑی کی مائلج بھی یاد رکھتا ہوگا۔ اس نے جلدی سے خود کو سنبھال کر کہا۔ ’’نہیں!‘‘
لیکن اس نے دل میں سوچا کہ اسے ایرچ کو بتا دینا چاہئے کہ گاڑی اس نے چلائی تھی تاکہ ڈرائیور جوئی خواہ مخواہ ملزم نہ بنے۔ اس نے حلق تر کرکے بات شروع کی۔ ’’ایرچ…! میں…!‘‘
لیکن وہ اس کی بات ان سنی کرکے بولا۔ ’’ڈارلنگ! آئندہ نمائش کے لئے مجھے کچھ اور تصویریں بنانا ہوں گی۔ تم برا نہ ماننا میں تین چار دن کاٹیج میں ہی رہوں گا۔ یہ میرے لئے بہت ضروری ہے کہ سفر کی تھکان بھی دور کروں اور آئندہ کے لئے سوچ سکوں کہ مجھے کیا بنانا ہے۔ کیا خبر کوئی اچھی چیز بن ہی جائے۔‘‘
نینا کو قدرے مایوسی ہوئی۔ اس پر ظاہر کئے بغیر اس نے کہا۔ ’’ہاں! اگر یہ تمہارے لئے ضروری ہے تو پھر ٹھیک ہے۔‘‘
بچیوں کے آرام کرنے کا وقت ہوگیا تھا۔ نینا انہیں سلانے کے لئے چلی گئی۔ جب پندرہ بیس منٹ بعد وہ واپس آئی تو یہ دیکھ کر ٹھٹھک گئی کہ ایرچ کی آنکھوں میں آنسو تھے، اس کے چہرے پر اداسی کا گمبھیر سایہ تھا۔
’’ایرچ…! خیریت تو ہے، کیا ہوا…؟‘‘
ایرچ نے اپنے ہاتھ کی پشت سے آنسوئوں کو صاف کیا۔ ’’معاف کرنا جینی! مجھ پر بہت سخت ڈپریشن طاری ہے۔ ماما کیرولین کی برسی اگلے ہفتے ہے۔ تم اندازہ نہیں کرسکتیں کہ یہ وقت میرے لئے کتنا سخت ہوتا ہے۔ یہ ہر سال مجھ پر بہت بھاری پڑتا ہے۔ میں جب گھر لوٹا تو میرے ذہن پر یہی طاری تھا کہ گھر تاریک، ویران اور خالی ڈھنڈار پڑا ہوگا لیکن جب دروازہ کھلا اور مجھے تم نظر آئیں اپنے حسن، اپنی دلکش آنکھوں اور میرے آنے کی مسرت کی چمک اپنے خوبصورت چہرے پر لئے ہوئے تو مجھے اپنی آنکھوں پر اعتبار نہیں آیا۔ مجھے یہ اندیشہ کھائے جاتا تھا کہ میری غیر موجودگی میں تم کہیں چلی جائو گی، مجھے چھوڑ کر…! میں تمہیں کھو دوں گا، ماما کی طرح…!‘‘
نینا گھٹنوں کے بل اس کی کرسی کے قریب بیٹھ گئی اور اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے بولی۔ ’’نہیں ایرچ…! ایسا کبھی نہیں ہوگا… میں تمہیں چھوڑ کر نہیں جائوں گی، کبھی نہیں!‘‘
٭…٭…٭
اگلی صبح ابھی سورج نہیں نکلا تھا۔ نینا، ایرچ کے قدموں کی چاپ سے جاگی۔ اس نے اپنی آنکھیں بمشکل کھول کر کہا۔ ’’تم کاٹیج جارہے ہو؟‘‘
’’ہاں…!‘‘ وہ سرگوشی کے انداز میں بولا۔
’’دوپہر کھانے پرآئو گے؟‘‘
’’ابھی کچھ کہہ نہیں سکتا۔‘‘ اتنا کہہ کر اس نے دروازہ کھولا اور کمرے سے باہر چلا گیا۔
ناشتے کے بعد نینا بچیوں کو لے کر معمول کی سیر کے لئے نکلی۔ مرغیوں کے ڈربوں کو دیکھ کر وہ اس کے آگے آگے بھاگنے لگیں۔ ’’آرام سے بچو! دیکھ لو، گھوڑے اندر ہی
ہیں نا…؟‘‘
جوئی اصطبل میں موجود تھا۔ اس نے بچیوں کے چھوٹے گھوڑوں کے جسموں اور دموں کو اچھی طرح برش کررکھا تھا۔ ان کی جلد سورج کی روشنی میں چمک رہی تھی۔
’’یہ لو بچو…! چینی اپنے اپنے گھوڑے کو کھلائو۔‘‘ وہ مسکرا کر بولا۔ اس نے بچیوں کو باری باری اٹھایا اور گھوڑوں کو ان کے ہاتھ سے چینی کھلوائی پھر بولا۔ ’’ہاں… بچو! کیا تم لوگ چند منٹ کے لئے گھوڑے کی پشت پر بیٹھو گے؟‘‘
نینا نے جلدی سے کہا۔ ’’نہیں جوئی…! مسٹر ایرچ یہ پسند نہیں کریں گے۔‘‘
’’نہیں…! میں گھوڑے پر بیٹھوں گی۔‘‘ تانیہ نے مچل کر کہا۔
’’نہیں! ڈیڈی ہمیں کچھ نہیں کہیں گے۔ وہ ہمیں بیٹھنے دیں گے۔‘‘ روتھ بھی بولی۔
’’نہیں…! ابھی نہیں بچو!‘‘ نینا نے فیصلہ کن لہجے میں کہا۔
’’ممی گندی ہیں۔‘‘ تانیہ روہانسی ہوکر بولی۔
’’ممی پلیز…!‘‘ روتھ نے منت کی۔
’’نہیں کل… ڈیڈی سے پوچھنا ضروری ہے۔‘‘ نینا نے فیصلہ کن لہجے میں کہا اور ان کی توجہ بٹانے کو بولی۔ ’’آئو ذرا مرغیوں کی خبر لیں۔ وہ ہمارا انتظار کررہی ہوں گی۔‘‘
’’نہیں…! میں اپنے گھوڑے پر بیٹھوں گی۔‘‘ تانیہ نے روتے ہوئے نینا کی ٹانگ پر اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے مکے برسائے۔ ’’آپ بہت گندی ممی ہیں۔‘‘
نینا نے جھک کر تانیہ کی پشت پر ایک ہلکی سی چپت لگائی۔ ’’اور تم ایک شریر بچی ہو۔‘‘
تانیہ روتی ہوئی دوڑی۔ روتھ بھی اس کے پیچھے بھاگنے لگی۔ نینا بھی تیزی کے ساتھ ان کے پیچھے لپکی… دونوں ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر چلنے لگیں تھیں… روتھ، تانیہ کو تسلی دیتے ہوئے کہہ رہی تھی۔ ’’تانیہ…! تم پریشان مت ہو۔ ہم ڈیڈی سے ممی کی شکایت کریں گے۔‘‘
نینا انہیں پکارنے کو تھی کہ اسے اپنے عقب میں جوئی کی آواز سنائی دی۔ ’’مسز ایرچ…!‘‘
نینا نے پلٹ کر اس کی طرف دیکھا۔ ’’کیا بات ہے جوئی…؟‘
’’مسز ایرچ…! میرے پاس ایک بلی کا بچہ ہے۔ میرا خیال ہے کہ بچیاں اسے دیکھیں گی تو اپنی ناراضی بھول جائیں گی۔‘‘
نینا کو یہ بات مناسب لگی۔ ’’ہاں! ٹھیک ہے۔ میں ان کو بتاتی ہوں۔‘‘
بچیاں اپنی ناراضی بھول کر بلی کے بچے کو دیکھنے کے لئے تیار ہوگئیں۔ جوئی ان کے ساتھ چلتا ہوا بولا۔ ’’دیکھیں برف اب پگھلتی جارہی ہے۔ تقریباً دو تین ہفتوں میں زمین برف سے خالی ہوجائے گی، نیچے کیچڑ رہ جائے گی، پھر گھاس اگنی شروع ہوگی۔ مسٹر ایرچ نے مجھ سے کہا ہے کہ بچیوں کی گھڑ سواری کے لئے یہاں ایک میدان ہموار کردوں۔‘‘
جوئی کی ماں گھر پر تھی۔ اس کا باپ پانچ سال پہلے فوت ہوچکا تھا، اس کی ماں تقریباً پچاس پچپن کے پیٹے میں ایک فربہ اندام عورت تھی۔ اس نے بہت خوشی کے ساتھ انہیں خوش آمدید کہا۔ چھوٹا سا گھر سلیقے سے سنوارا ہوا تھا۔ دیواریں تصویروں سے بھری ہوئی تھیں۔ اس نے بتایا کہ اس کا نام میڈی ہے۔
بچیاں بلی کے بچے کے ساتھ کھیل میں لگ گئیں۔ جوئی نے بتایا کہ وہ اس بلی کو سڑک سے اٹھا کر لایا تھا جہاں وہ سردی سے اکڑی پڑی تھی۔
میڈی نے سر جھٹکا۔’’جوئی اسی طرح جانوروں کو اٹھا کر لے آتا ہے جو مرنے کے قریب ہوتے ہیں۔ میرا بیٹا بہت نرم دل ہے، اسے جانوروں سے بہت محبت ہے۔ وہ بھی اسے بہت چاہتے ہیں۔ تم نے اس کا پچھلا کتا نہیں دیکھا۔ وہ بہت ہی پیارا تھا، بہت ہی تیز طرار…!‘‘
’’اس کو کیا ہوا تھا…؟‘‘
’’معلوم نہیں۔‘‘اس نے شانے جھٹکے۔ ’’ہم ہمیشہ اسے باڑ کے اندر ہی رکھتے تھے مگر بعض اوقات وہ شریر موقع سے فائدہ اٹھا لیتا تھا اور دوڑ کر فارم کی طرف چلا جاتا تھا۔ وہ جوئی کے ساتھ ساتھ رہنا چاہتا تھا مسز ایرچ کو یہ بات پسند نہیں تھی۔ اس میں مسٹر ایرچ بھی قصوروار نہیں ان کا کتا بہت اعلیٰ نسل کا ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ وہ ہم ملازموں کے کتوں کے ساتھ گھلے ملے۔ ایک روز وہ فارم میں چلا گیا۔ ہمیں پتا نہیں چلا لیکن مسٹر ایرچ نے اسے دیکھ لیا۔ انہیں بہت برا لگا۔ وہ سخت غصے میں آگئے۔‘‘
’’پھر…؟‘‘ نینا نے دلچسپی سے پوچھا۔
’’انہوں نے اپنے کتے کو کسی کو دے دیا اور ہمارا کتا بھی نہ جانے کہاں گیا۔ مجھے شک ہے…!‘‘ میڈی کچھ کہنا چاہتی تھی لیکن جوئی نے اسے ٹوک دیا۔
’’ماما…! یہ پرانی بات ہے، چھوڑیں اسے!‘‘
’’نہیں…! میں تو صرف یہ بتانا چاہتی تھی کہ مسٹر ایرچ نے دھمکی دی تھی کہ اگر انہوں نے کتے کو فارم میں دیکھ لیا تو وہ اسے گولی مار دیں گے۔‘‘
جوئی کا فون آگیا، وہ چلا گیا تو میڈی نے کافی بنائی اور اس سے پوچھنے لگی کہ ایرچ سے اس کی ملاقات کہاں ہوئی، دونوں نے شادی کا فیصلہ کب کیا، اتنے بڑے شہر سے چھوٹے سے قصبے میں آکر اسے کیسا لگتا ہے اور اسی طرح کے بہت سے سوالات…! نینا نے بتایا کہ وہ یہاں بہت خوش ہے۔
’’ہاں… کیرولین بھی یہی کہا کرتی تھی۔‘‘ میڈی بولی۔ ’’لیکن یہ لوگ زیادہ ملنا ملانا، گھومنا پھرنا پسند نہیں کرتے۔ اس طرح اپنی بیویوں کی زندگی بہت دشوار اور بے رنگ بنا دیتے ہیں۔ یہ معاف کرنا نہیں جانتے اور جب غصے میں آجائیں تو خدا ہی ان سے بچائے۔ یہ غصہ تھوکتے نہیں۔‘‘
نینا اس بارے میں کچھ بولنا نہیں چاہتی تھی اور میڈی کی باتیں اسے پریشان کررہی تھیں۔ اس نے کافی کی پیالی خالی کرکے رکھی اور اٹھتے ہوئے بولی۔ ’’بس! اب ہمیں چلنا چاہئے۔‘‘
اسی وقت کچن کا دروازہ کھلا اور ایک ادھیڑ عمر شخص اندر داخل ہوا۔ دو قدم چل کر وہ ٹھٹھک کر رک گیا۔ ’’کیا تم مسز ایرچ ہو؟‘‘
نینا نے اثبات میں سر ہلایا تو وہ اپنا تعارف کرانے لگا۔ ’’میں جوئی کا انکل ہوں جوش…!‘‘
نینا چونکی۔ غالباً یہ وہی شخص تھا جس کے بارے میں ایرچ نے بتایا تھا کہ وہ الیکٹریشن ہے اور اس کی بے احتیاطی کی وجہ سے کیرولین کو حادثہ پیش آیا تھا۔ وہ پریشان ہوئی کہ اگر ایرچ کو معلوم ہوگیا کہ وہ اس سے ملی ہے تو وہ ناراض ہوگا۔
جوش، میڈی کی طرف مڑا۔ ’’تم نے دیکھا کہ یہ ہوبہو کیرولین ہے، جیسے کیرولین کی جڑواں بہن ہو۔ مسٹر ایرچ اپنی ماں کو بہت چاہتا تھا لیکن اس کے والدین نے اس کا کوئی خیال نہیں کیا اور دونوں کے درمیان طلاق ہوگئی۔‘‘
’’طلاق…؟‘‘ نینا نے حیرت سے دہرایا۔
’’جس روز حادثہ ہوا، اس روز کیرولین گھر چھوڑ کر ہمیشہ کے لئے جارہی تھی۔ وہ مسٹر ایرچ کے ساتھ اس طرف آئی تھی۔ ایرچ کی شاید بارہویں سالگرہ تھی، اس نے ہاتھ میں ہاکی اسٹک پکڑ رکھی تھی۔ رو رو کر اس کی آنکھیں سوجی ہوئی تھیں اور وہ کیرولین کا اسکرٹ دوسرے ہاتھ سے یوں پکڑے ہوئے تھا جیسے اسے روک لینا چاہتا ہو۔
کیرولین اسے سمجھا رہی تھی۔ ’’دیکھو جب یہ ننھا بچھڑا بڑا ہوجائے گا تو اسے اس کی ماں سے علیحدہ کردیا جائے گا۔ تم بھی تو بڑے ہوگئے ہو، بہت سمجھدار ہو۔‘‘
میں وہاں سے ہٹ گیا تاکہ ماں بیٹا آپس میں کھل کر بات کرلیں لیکن چند ہی لمحوں بعد مجھے مسٹر ایرچ کے چیخنے کی آواز سنائی دی۔ میں دوڑ کر آیا تو سب کچھ ختم ہوچکا تھا۔‘‘
’’جوش…! اب بس بھی کرو، تم کیا فضول بولتے رہتے ہو۔‘‘
نینا سوچ رہی تھی کہ شاید ایرچ اسی لئے عدم تحفظ کا شکار ہے اور باربار اس سے پوچھتا ہے کہ وہ اس کو چھوڑ کر تو نہیں چلی جائے گی۔ اس کی زندگی کا یہ المیہ ہمیشہ اسے پریشان کرتا رہتا تھا۔ وہ اس کے اثر سے اب تک نہیں نکل پایا تھا۔
یہی سوچتی ہوئی وہ بچیوں کو لے کر گھر کی طرف چل پڑی۔
(جاری ہے)