Musavvir | Episode 5

498
نینا نے جواب میں سوالیہ نگاہوں سے اس کی طرف دیکھا۔
’’مسز ایرچ…! کیا کیون اس رات یہاں آیا تھا؟‘‘
’’نہیں…! میں آپ کو پہلے بھی بتا چکی ہوں۔‘‘
’’کیا آپ کے پاس کسی معروف کمپنی کا لمبا کوٹ ہے؟‘‘
’’ہاں…! میرے پاس ایسا کوٹ تھا لیکن میں نے وہ کسی کو دے دیا ہے۔‘‘
’’ہوں…!‘‘ اس نے لمبی ہنکاری بھری۔ ’’میرا خیال ہے کہ آپ کو کڑی تفتیش کا سامنا کرنا پڑے گا، کیونکہ لاش کے ساتھ اگلی سیٹ پر ہمیں ایک لیڈیز کوٹ ملا ہے۔ آپ کو اس کوٹ کو بھی شناخت کرنا ہوگا۔ کیا یہ وہی ہے جو آپ نے کسی کو دے دیا تھا یا کوئی اور کوٹ ہے۔‘‘
٭…٭…٭
ایک ہفتے بعد وہ ایرچ کے ساتھ اسٹریچر کے پاس کھڑی تھی۔ جس پر کیون کی لاش پڑی تھی۔ نینا کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا رہا تھا۔ اگرچہ کیون کا چہرہ کافی بگڑ چکا تھا لیکن پھر بھی اس کی ستواں ناک، چوڑا ماتھا اور سرخ بال پہچانے جارہے تھے۔ نینا کو شادی کے لمحات یاد آرہے تھے، جب فادر کہہ رہا تھا کہ نینا اور کیون زندگی کے ساتھی ہیں۔ صرف موت ہی انہیں جدا کرسکتی ہے۔
اوہ خدایا…! کیون تم یہاں کیوں آئے تھے؟ وہ شدید تاسف سے سوچ رہی تھی۔ کاش! اس نے کیون کو اس حالت میں نہ دیکھا ہوتا۔ جب وہ زندگی سے اتنا دور جا چکا تھا کہ پلٹ کر دیکھنا بھی محال تھا۔
’’مسز ایرچ! کیا آپ نے شناخت کرلیا؟‘‘ شیرف نے پوچھا۔
’’ہاں…!‘‘ نینا نے بمشکل چند الفاظ اُگلے۔ ’’یہ کیون ہیں، میرے سابقہ شوہر!‘‘ اس کے منہ سے نہ جانے کیوں یہ جملہ نکل گیا۔
نینا نے اپنے عقب میں ایرچ کی طنزیہ ہنسی کی آواز سنی تو وہ چونکی۔ اس نے پلٹ کر دیکھا مگر وہ جا چکا تھا۔ اس کے قدموں کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ جب نینا کار تک پہنچی تو وہ وہاں موجود تھا۔ اس کا چہرہ کسی پتھر کی طرح سخت تھا۔ اس نے راستے میں اس سے کوئی بات نہیں کی۔
تفتیش کے مراحل بہت اکتا دینے والے اور پریشان کن تھے۔ کوئی اس کا ساتھ دینے والا نہیں تھا۔ سوالات اتنے عجیب تھے کہ وہ ان کا تصور بھی نہیں کرسکتی تھی۔ وہ اس سے پوچھ رہے تھے کہ اس کا کوٹ کیون کی کار میں کیسے پہنچا؟ کیون کے ہاتھ میں ان کے گھر کی چابی کس طرح آئی تھی اور ایسے ہی سوال جن کا جواب نفی میں تھا لیکن اس پر یقین نہیں کیا جارہا تھا۔
جوئی کی ماں نے بیان دیا تھا کہ کیون نے اس سے گھر کا راستہ پوچھا تھا اور اسے بتایا تھا کہ اس کی سابقہ بیوی نے اسے فون کرکے بلایا ہے۔ تفتیش سے ثابت ہوا تھا کہ کال یہیں سے کی گئی تھی۔
رونیکا کے شوہر نے بیان دیا تھا کہ وہ رونیکا پر ناراض ہوا تھا کہ اس نے کوٹ کیوں لے لیا تھا۔ وہ اسی وقت کوٹ اتروا کر گھر کی الماری میں رکھ آیا تھا، مگر نینا نے الماری میں وہ کوٹ نہیں دیکھا تھا یا اس نے دھیان نہیں دیا تھا۔
ایرچ سے پوچھا گیا کہ کیا اسے علم تھا کہ اس کی بیوی اپنے سابقہ شوہر سے ملاقاتیں کرتی ہے؟ کیا وہ اس روز اپنے کاٹیج میں پینٹنگ کررہا تھا… کیا اس نے کسی اجنبی کو دیکھا تھا؟
ایرچ نے بہت محتاط انداز میں جواب دیئے۔ اس نے ایک بار بھی نینا کی طرف نہیں دیکھا۔ نینا سوچ رہی تھی کہ ایرچ اپنے ذاتی اور خاندانی معاملات کو گھر تک محدود رکھنا پسند کرتا تھا، مگر اس کی وجہ سے اس کے خاندانی معاملات عدالت اور پولیس تک جا پہنچے تھے۔ یقیناً وہ اسی وجہ سے ناراض تھا۔
بیانات ختم ہوگئے۔ پتا چلا کہ کیون کی دائیں کنپٹی پر زخم کا نشان تھا لیکن اس کی موت ڈوبنے کی وجہ سے ہوئی، مگر نینا جانتی تھی کہ سارے علاقے میں اس کے بارے میں یہ بات پھیل چکی ہے کہ وہ اپنے سابقہ شوہر سے ملتی تھی اور اسی نے اس کو قتل کیا ہے۔
اگلے تین ہفتے وہ جب بھی گھر آیا یا کھانے میں شریک ہوا، اس نے کوئی بات براہ راست اس سے نہیں کی۔ وہ بچیوں سے کہتا۔ ’’ممی سے یہ کہہ دو اور ممی سے وہ کہہ دو۔‘‘ جب وہ بچیوں کو ان کے کمرے میں سلا کر واپس آتی تو وہ موجود نہیں ہوتا تھا۔ نہ جانے وہ کہاں سوتا تھا۔ اپنے کاٹیج میں، کسی دوست کے پاس یا گھر کے کسی دوسرے بیڈ روم میں…! وہ اس سے اتنی شرمندہ تھی کہ کوئی سوال کرنے کی جرأت نہیں کرسکتی تھی۔
ایک رات نینا بچیوں کو سلا کر نیچے آئی تو اس نے دیکھا کہ کچن میں ایرچ ٹیبل پر بیٹھا کافی کی چسکیاں لے رہا ہے۔ اسے دیکھ کر وہ بولا۔ ’’نینا…! ہمیں آپس میں کچھ بات کرنا ہوگی۔‘‘
نینا کا دل دھک دھک کرنے لگا لیکن وہ بھی چاہتی تھی کہ اندر ہی اندر اس دہکتے لاوے کا نکاس ہو تاکہ فیصلہ ہوسکے کہ اس کا مستقبل کیا ہے۔ اسے کچھ زیادہ ہی سردی محسوس ہورہی تھی۔ اس نے اپنی دادی کا دیا ہوا سرخ گائون پہن رکھا تھا۔ ایرچ اس کی جانب گہری نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔
’’سرخ رنگ تم پر بہت جچتا ہے۔‘‘ وہ بولا۔
نینا خاموش رہی۔ تھوڑے توقف کے بعد اس نے کہا۔ ’’تمہاری زلفوں کی گھٹائیں اور یہ رنگ جیسے کوئی بہت ہی پراسرار شے ہو۔‘‘
’’مجھے سردی لگ رہی ہے اس لئے میں نے یہ پہن لیا۔‘‘
’’یہ بہت اچھا لگ رہا ہے۔ کیا کسی نے آنا ہے؟‘‘
نینا چونکی۔ اگرچہ وہ اپنی اس بدنامی پر شرمندہ تھی لیکن اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ وہ اس کے بارے میں اس طرح سوچے۔ اس نے قدرے درشت لہجے میں کہا۔ ’’ایرچ! یہاں کسی نے نہیں آنا۔ اگر تمہیں کوئی شک ہے تو تم رات یہیں پر رک جائو تاکہ تم خود دیکھ سکو کہ یہاں کون آیا ہے۔‘‘ نینا نے اپنی بات جاری رکھی۔ ’’جو کچھ ہوا، مجھے اس پر افسوس ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ لوگ طرح طرح کی باتیں بنا رہے ہیں جو ظاہر ہے تمہارے لئے بہت تکلیف دہ ہے لیکن کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ سب کیا تھا؟‘‘
’’اور تمہارا کوٹ…؟‘‘
’’مجھے نہیں معلوم کہ یہ اس کی کار میں کیسے پہنچا!‘‘
’’تمہارا کیا خیال ہے کہ میں یا کوئی اور اس پر یقین کرسکتا ہے؟‘‘
نینا ایک گہرا سانس لے کر رہ گئی۔ اس کے پاس اس تمام واقعے کی کوئی توجیہ نہیں تھی۔
’’نینا…! میں چاہتا ہوں کہ تمہاری بات پر یقین کرلوں مگر ایسا ممکن نہیں ہے۔ اگر تم یہ کہو کہ تم نے کیون کو یہاں اس لئے بلایا تھا کہ اسے متنبہ کرو کہ آئندہ وہ تم سے کوئی رابطہ نہ رکھے تو میں مان لوں گا، لیکن میں جھوٹ کے ساتھ زندگی نہیں گزار سکتا۔ تم اقرار کرلو کہ تم نے اسے یہاں بلایا تھا۔ سب کچھ صاف صاف بتا دو تو میں اسے بھلا دوں گا۔ میں جانتا ہوں کہ یہ سب کس طرح ہوا ہوگا۔ تم اسے گھر میں نہیں بلانا چاہتی تھیں۔ تم نے اسے دریا کی طرف جانے کے لئے کہا تاکہ کسی کو پتا نہ چلے، پھر تم وہاں پہنچیں اور شاید اس نے تمہارے ساتھ کچھ زبردستی کی ہو، جس سے تمہارا کوٹ وہیں سیٹ پر رہ گیا۔ تمہارے ہاتھ میں موجود چابی اس نے چھین لی، پھر اس نے گاڑی ریورس کی تو اس پر قابو نہ رکھ سکا اور دریا میں جاگرا۔ نینا…! اس طرح یا اس سے ملتا جلتا واقعہ ہوسکتا ہے۔ آخر تم مان کیوں نہیں لیتیں! اس طرح آنکھیں پھاڑ کر میری طرف نہ دیکھو جیسے تم سے بڑا معصوم کوئی ہے ہی نہیں…! مان لو کہ تم نے جھوٹ بولا۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ میں کبھی اس کا ذکر تک نہیں کروں گا۔ ہم دونوں کے درمیان پرانی محبت برقرار رہے گی۔‘‘
’’یہ سب کرنا تمہاری نظر میں بہت آسان ہوسکتا ہے لیکن میں یہ سب نہیں کرسکتی کیونکہ یہ سفید جھوٹ ہے، اس میں ذرّہ بھر سچ نہیں۔ جب ایسا کچھ نہیں ہوا، میں ایک جھوٹ کو سچ کیوں کہوں؟‘‘
ایرچ خاموشی سے اس کی طرف دیکھتا رہا۔ نینا کے لئے اس کی ان عجیب نگاہوں کا سامنا کرنا دشوار ہورہا تھا جو اس پر ناکردہ گناہ کا بوجھ لاد رہی تھیں۔ اس نے اٹھتے ہوئے کہا۔ ’’میں اپنے بیڈ روم میں جارہی ہوں۔ گڈ نائٹ!‘‘
وہ آہستہ آہستہ زینہ طے کرنے لگی۔ ایرچ کو وقت دینے کے لئے کہ اگر وہ اسے بلانا چاہتا ہے تو بلا لے مگر وہ چپ بیٹھا رہا۔
٭…٭…٭
موسم بدل رہا تھا۔ نینا کھڑکی میں کھڑی جنگل کی طرف دیکھ رہی تھی، جہاں نئی کونپلیں پھوٹ رہی تھیں۔ اردگرد کا منظر حسین تھا، مگر اس کے ذہن پر اتنا بوجھ تھا کہ وہ اس سے لطف اندوز نہیں ہوسکتی تھی۔ اس کے اندر کا موسم باہر کے خوشگوار موسم سے بالکل مختلف تھا۔
بچیاں ابھی اٹھی نہیں تھیں۔ نینا کچن میں آئی کہ اپنے لئے کافی بنا لے۔ ابھی اس نے کیتلی چولہے پر رکھی تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی اور رونیکا کا چہرہ نظر آیا۔ وہ کچھ پریشان معلوم ہوتی تھی۔ اسے دیکھتے ہی وہ بولی۔ ’’میرا تم سے ملنا بہت ضروری تھا۔‘‘
’’آئو بیٹھو رونیکا…! کافی پیؤ گی؟‘‘
رونیکا کی آنکھیں یکایک آنسوئوں میں بھیگ گئیں۔ ’’مجھے وہ بات کلائیڈ کو نہیں بتانی چاہئے تھی لیکن مجھے کیا علم تھا کہ وہ شیرف کو سب کچھ بتا دے گا۔‘‘
’’کون سی بات…؟‘‘ نینا نے پوچھا۔
’’اگر مجھے علم ہوتا کہ وہ اس طرح کرے گا تو میں کبھی اس کا تذکرہ کلائیڈ سے نہ کرتی۔ مگر میں اس کی تلافی کروں گی۔ میں تمہیں بچائوں گی خواہ اس کے لئے مجھے جھوٹ ہی کیوں نہ بولنا پڑے۔‘‘ وہ خودکلامی کی سی کیفیت میں جس طرح اندر آئی تھی، اسی طرح باہر چلی گئی۔
نینا الجھی ہوئی وہیں بیٹھی کافی پیتی رہی۔ ہر روز ایک نئی بات سامنے آرہی تھی جو عجیب اور ناقابل یقین معلوم ہوتی تھی۔ کچھ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ اس کی کیا توجیہ پیش کی جائے۔ اس نے کافی بے دلی سے ختم کی اور اٹھتے ہوئے ایک نگاہ کھڑکی سے باہر ڈالی۔ وہ ٹھٹکی۔ شیرف، ایرچ اور مارک تینوں گھر کی طرف آرہے تھے۔ نینا کا دل بیٹھنے لگا۔ وہ ایک گہرا سانس لے کر خود کو کسی نئی بات کو برداشت کے لئے تیار کرنے لگی۔
اسے دروازہ کھلنے کی آواز سنائی دی۔ وہ اندر آگئے۔ تھوڑی دیر بعد ایرچ نے کچن میں جھانکا۔
’’تم یہاں ہو نینا…؟‘‘ وہ غصے میں تو نہیں تھا لیکن کچھ افسردہ اور غمگین نظر آتا تھا۔ وہ اس کا بازو پکڑ کر اسے باہر لے جاتے ہوئے نرمی سے کہہ رہا تھا۔ ’’وہ لوگ تمہارے دوست ہیں۔ ہم سب تمہاری بہتری چاہتے ہیں۔ تم سے جو کچھ پوچھیں، اس کا سچ سچ جواب دینا۔ کچھ چھپانے کی کوشش مت کرنا۔‘‘
نینا نے جرأت سے اس کی طرف دیکھا۔ ’’میں نے جو کہا ہے، سچ کہا ہے۔‘‘
وہ لائونج میں آئی جہاں شیرف اور مارک موجود تھے۔ دونوں کے چہروں پر گہری سنجیدگی تھی۔ ’’مسز ایرچ! کیا آپ اب بھی کیون سے محبت کرتی تھیں؟‘‘
’’یہ کس قسم کا سوال ہے؟ میں اس کا جواب دینا پسند نہیں کروں گی۔‘‘ نینا نے درشت لہجے میں جواب دیا۔
’’تو کیا یہ سچ ہے کہ
آپ اسے ریسٹورنٹ میں ملی تھیں؟‘‘
’’ہاں!‘‘ اقرار کرلینے کے سوا کوئی اور چارہ نہ تھا۔
’’کیا آپ کیون کے، آپ کی نئی زندگی میں دخل دینے سے پریشان تھیں؟ آپ کو وہ اپنی شادی کے لئے خطرہ محسوس ہورہا تھا؟ آپ نے ایک امیر شخص سے شادی کی تھی، جس نے آپ کی بچیوں کو پناہ دی تھی۔ کہیں کیون کی وجہ سے وہ آپ سے بدظن نہ ہوجائے؟‘‘ شیرف نے استفسار کیا۔
نینا ابھی کچھ کہہ نہیں پائی تھی کہ ایرچ نے دخل دیا۔ ’’مسٹر شیرف…! ہماری شادی کو کسی سے کوئی خطرہ نہیں۔ نہ ہی کیون سے خواہ وہ زندہ ہو یا مردہ…! یہاں سب جانتے ہیں کہ رونیکا کی ذہنی کیفیت ٹھیک نہیں۔ وہ کسی وقت کچھ بھی کہہ دیتی ہے۔ میری بیوی انکار کرچکی ہے کہ وہ کیون کی گاڑی میں نہیں تھی۔ رونیکا کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔ میرا خیال ہے کہ آپ اس بات کو ختم کردیں۔‘‘
’’لیکن رونیکا کا بیان بہت صاف ہے کہ اس نے مسز ایرچ کو کوٹ پہنے ہوئے کیون کی سفید گاڑی میں بیٹھتے ہوئے دیکھا ہے۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔ اگر ایسی بات ہے تو ہم اس کا سامنا کریں گے۔‘‘ ایرچ بات ختم کرتے ہوئے شیرف کو گاڑی تک چھوڑنے چلا گیا۔
’’تم بہت زرد نظر آرہی ہو نینا…! تمہیں کسی ڈاکٹر کو دکھانا چاہئے۔‘‘ مارک نے کہا۔
’’نہیں…! میں ٹھیک ہوں۔‘‘ وہ اتنا کہہ کر گھر میں چلی آئی۔
اس کا دل کہیں نہیں لگ رہا تھا۔ اسے حیرت تھی کہ ایرچ جو اس سے ناراض تھا، اس نے شیرف کے سامنے اس کی حمایت کیوں کی تھی۔ کیا وہ یہ خیال کررہا تھا کہ اس طرح وہ اس سے سچ اگلوا لے گا؟ لیکن کوئی سچ ہوتا تو وہ سب کے سامنے بول دیتی، جبکہ ایرچ اسے جھوٹ کو سچ کہنے پر مجبور کررہا تھا۔
وہ بچیوں کے کمرے میں چلی گئی۔ وہ اپنے کھلونوں سے کھیل رہی تھیں۔ نینا کا جیسے گھر کے اندر دم گھٹ رہا تھا، وہ کھلی ہوا میں جانا چاہتی تھی۔ اس نے بچیوں سے کہا کہ باہر سیر کے لئے چلتے ہیں۔ دونوں خوشی سے تیار ہوگئیں۔ تانیہ نے کہا۔ ’’کیا ہم گھڑ سواری کرسکتے ہیں؟‘‘
’’نہیں…! اس وقت نہیں۔‘‘ روتھ نے زور دے کر کہا۔ ’’ڈیڈی کہتے تھے کہ وہ ہمارے ساتھ چلیں گے۔‘‘
’’بس! میں اپنے گھوڑے کو چینی کھلائوں گی… ضرور کھلائوں گی۔‘‘ تانیہ ہٹیلے پن سے بولی۔
بچی بگڑ نہ جائے، یہ سوچ کر نینا نے جلدی سے کہا۔ ’’چلو پہلے اصطبل چلتے ہیں۔‘‘
جوئی انہیں اصطبل کے دروازے پر ہی مل گیا لیکن وہ بہت سنجیدہ معلوم ہوتا تھا۔ نینا کے استفسار پر اس نے بتایا کہ اس نے یہ جگہ چھوڑ دی ہے۔ وہ شہر میں رہتا ہے اور گھوڑوں کی دیکھ بھال کے لئے فارم پر آجاتا ہے۔
’’مگر کیوں…! تم نے یہ جگہ کیوں چھوڑ دی؟‘‘
وہ کچھ ہچکچایا۔ پھر بولا۔ ’’مسٹر ایرچ کو میرا یہاں رہنا پسند نہیں… انہیں میرے کتے پر بھی اعتراض ہے کہ وہ عام نسل کا ہے اور ان کے قیمتی کتوں کے ساتھ شامل ہوجاتا ہے اور… اور شاید انہیں آپ کے ساتھ میرا بات کرنا بھی پسند نہیں۔‘‘
نینا کچھ نہیں کہہ پائی۔ یقیناً ایرچ نے اسے اس کے لئے مجبور کیا ہوگا۔ وہ خاموش تھی کہ جوئی بولا۔ ’’مسز ایرچ…! جب بچیاں سواری کرنا چاہیں یا آپ کو گھڑ سواری دوبارہ شروع کرنی ہو تو آپ مجھے پیغام بھیج دیں، میں آجائوں گا۔‘‘
’’اچھا! چلو چھوڑو اس بات کو… کہیں کوئی سن نہ لے۔‘‘ نینا نے اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے کہا۔
’’مجھے کسی کی پروا نہیں ہے۔ میں آپ کی بہت عزت کرتا ہوں، کیونکہ آپ ہم جیسے ملازموں کو عزت دیتی ہیں۔ مجھے آپ کی خدمت کرکے خوشی ہوتی ہے۔‘‘
روتھ نے اس کا بازو کھینچا۔ ’’ممی…! چلو واپس چلو۔‘‘ نہ جانے بچی کو کیا برا لگا تھا۔
وہ چلنے لگی تو جوئی نے نسبتاً مدھم لہجے میں کہا۔ ’’مسز ایرچ! یہ بھی بہتر ہوا کہ رونیکا کی ذہنی کیفیت ٹھیک نہیں رہتی۔ پولیس اس کے بیان کو اتنی اہمیت نہیں دے رہی لیکن…!‘‘ وہ خاموش ہوا۔
’’لیکن کیا جوئی…؟ رونیکا کو واقعی غلط فہمی ہوئی ہے۔ اس نے غلط بیان دیا ہے۔ اس رات میں اپنے بیڈ روم میں تھی، میں کہیں نہیں گئی۔‘‘
’’مسز ایرچ…!‘‘ اس نے بے ساختہ کہا، مگر پھر یوں چپ ہوگیا جیسے گومگو کی کیفیت میں ہو۔
’’ہاں کہو جوئی… تم کیا کہنا چاہتے ہو۔‘‘ نینا نے حوصلہ افزائی کی۔
اس کا چہرہ سرخ ہوگیا۔ اس نے اضطراری انداز میں جیبوں میں ہاتھ ڈالے، تھوڑا سا رخ پھیرا اور اس طرح بولا جیسے سرگوشی کررہا ہو۔ ’’نینا…! آپ میرے سامنے غلط بیانی نہ کریں۔ میں خود وہاں موجود تھا۔ میں اتفاق سے یہاں اصطبل آیا تھا۔ یہ دیکھنے کے لئے کہ گھوڑوں کے دروازے صحیح طرح بند ہیں۔ میں واپس ہورہا تھا کہ میں نے رونیکا کو دیکھا۔ وہ آپ کے گھر کی طرف جارہی تھی۔ میں رک گیا۔ کیونکہ میں اس وقت رونیکا کا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا کہ اس کی الٹی سیدھی باتیں سنوں۔ اسی وقت سفید گاڑی اندر آکر رکی۔ سامنے والا دروازہ کھلا اور آپ بھاگتی ہوئی آکر گاڑی میں بیٹھ گئیں۔ یہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے، لیکن میں قسم کھاتا ہوں کہ میں یہ سب کسی کو نہیں بتائوں گا… کبھی نہیں…! میں آپ کی بہت عزت کرتا ہوں۔ میں… میں آپ کو بہت پسند کرتا ہوں۔‘‘ وہ جذباتی لہجے میں کہہ رہا تھا اور اس نے اپنا ہاتھ نینا کے بازو پر رکھ دیا تھا۔
٭…٭…٭
خلاف توقع ایرچ سورج ڈوبنے سے پہلے ہی گھر آگیا۔ نینا بے حد الجھی ہوئی اور پریشان تھی۔ وہ جب بھی ایک اچھی خبر اسے سنانا چاہتی، کوئی نہ کوئی پریشانی آگھیرتی تھی، جبکہ وہ چاہتی تھی کہ اس خبر کو اسے اچھے ماحول میں سنائے، مگر اس انتظار میں اسے اور دیر نہیں کرنی چاہئے تھی۔ آج جیسا بھی ایرچ کا موڈ ہو، وہ اسے یہ خبر سنا دے گی۔
وہ اپنے ساتھ کچھ تصویریں لے کر آیا تھا، جو اس نے گزشتہ دنوں پینٹ کی تھیں۔ وہ انہیں آئندہ نمائش میں رکھنا چاہتا تھا۔ وہ اس سے پوچھنے لگا۔ ’’کیا خیال ہے تمہارا ان کے بارے میں…؟‘‘ صبح کے واقعے کا اس پر کوئی اثر باقی نہیں تھا۔
’’ان کا جواب نہیں ایرچ…! سب بہترین ہیں۔‘‘ وہ ایک ایک تصویر دیکھتے ہوئے بولی۔
’’اس مرتبہ تم میرے ساتھ چلو گی نینا!‘‘ وہ غور سے اس کی جانب تکتا ہوا بولا۔
’’اس کے بارے میں ہم بعد میں فیصلہ کریں گے۔‘‘
’’گھبرائو نہیں ڈارلنگ…! میں تمہاری حفاظت کروں گا۔ آج جب شیرف تمہیں خواہ مخواہ پریشان کررہا تھا تو میں نے اسی وقت سوچ لیا تھا کہ اس رات چاہے جو کچھ ہوا تھا، میں بھلا دوں گا۔ تم میری زندگی کا حاصل ہو، مجھے تمہاری ضرورت ہے۔‘‘
’’ایرچ…! میری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا، میں بالکل الجھ کر رہ گئی ہوں۔‘‘
’’مگر کیوں نینا…؟‘‘
’’مجھے بالکل یاد نہیں کہ میں کیون کے ساتھ باہر گئی ہوں، پھر رونیکا ایسا کیوں کہتی ہے؟‘‘
’’تم فکر مت کرو… خود کو پریشان کیوں کرتی ہو… رونیکا قابل اعتبار کب ہے۔ یہ بھی اچھا ہوا۔ ورنہ شیرف کہہ رہا تھا کہ اگر یہ گواہی قابل اعتبار ہوتی تو وہ دوبارہ کیس کھول سکتے تھے۔‘‘
نینا اندر ہی اندر کانپ گئی۔ اسے جوئی کی باتیں یاد آئیں۔ اس نے پریشانی سے کہا۔ ’’ایرچ…! کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ میں سب کچھ بھول جائوں؟‘‘
ایرچ نے تسلی کے لئے اس کا ہاتھ تھپتھپایا۔ ’’ایسا ہو سکتا ہے… وہ تمہارے لئے ایک خوفناک دھچکا تھا۔ شاید اسی لئے تمہیں یاد نہیں رہا۔‘‘
’’میں اس پر یقین نہیں کرسکتی کہ ایسا ہوسکتا ہے۔‘‘ وہ الجھی ہوئی سی بولی۔
’’چلو چھوڑو اب اس بات کو…! اچھا ہوا تم اسے بھول گئیں۔ ہاں! مجھے بتائو تم میرے ساتھ نمائش پر چلو گی؟ میں چاہتا ہوں کہ اس خاص موقع پر تم میرے ہمراہ ہو۔‘‘
’’نہیں…! شاید میں نہیں جاسکوں گی۔ میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔‘‘
’’کیوں… خیریت…؟‘‘ وہ بڑے لگائو سے بولا۔
’’ایرچ…! میں ماں بننے والی ہوں۔‘‘
وہ چند لمحے حیرت سے اس کی طرف دیکھتا رہا، پھر خوشی سے چلایا۔ ’’اوہ نینا… میری جان! کیا اسی لئے تم کچھ بیمار سی نظر آتی تھیں؟ نینا…! کیا ہمارے ہاں بیٹا ہوگا؟‘‘
نینا مسکرائی۔ ’’ہاں…! مجھے یقین ہے۔‘‘ کتنے عرصے بعد اس نے ایرچ کو اتنے خوشگوار موڈ میں دیکھا تھا۔ وہ دل ہی دل میں اس کا لطف لے رہی تھی۔
’’تمہیں ایک اچھے ڈاکٹر کو دکھانا چاہئے۔ اوہ! بیٹا، میرا وارث…! ہم اسے ایرچ کے نام سے پکاریں گے۔ یہ ہماری خاندانی روایت ہے، تمہیں اس پر کوئی اعتراض تو نہیں؟‘‘
’’جیسا تم چاہو، تمہارا بیٹا ہے۔‘‘ نینا نے خوش دلی سے کہا۔
’’نینا…! یہ پچھلے دن جو گزرے ہیں، انہیں بھول جائو۔ جب میں نمائش کے بعد واپس آجائوں گا تو ہم ایک بڑی پارٹی دیں گے۔ اب ہم ایک مکمل خاندان ہوں گے۔ بچیوں کی حوالگی کا معاہدہ جلد مکمل ہونے والا ہے۔ مجھے کیون کے انجام پر افسوس ہے لیکن کم ازکم اب اس کی طرف سے تمہیں کوئی خطرہ نہیں۔‘‘
نینا خاموش رہی۔ وہ کیون کا خیال کرکے اس لمحے کی خوشی کو زائل نہیں کرنا چاہتی تھی۔ ایرچ ایک طویل عرصے بعد اس کی زندگی میں لوٹ آیا تھا۔ وہ کہہ رہا تھا۔ ’’میں تمہارے بغیر بہت تنہا تھا۔ نینا…! تم میری محبت ہو، میں تمہیں زندگی سے کیسے نکال سکتا ہوں؟‘‘
’’ایرچ…! میں بھی تمہارے بغیر بہت تنہا تھی۔ مجھے لگتا تھا کہ میں پاگل ہوجائوں گی۔ میں بہت اکیلی ہوگئی تھی۔‘‘ نینا کی آواز شدت جذبات سے بھرا گئی۔
’’ہاں…! میں سمجھتا ہوں نینا! میرے دل کی کیفیت بھی یہی تھی۔‘‘ اس نے کہا اور تھوڑے توقف کے بعد بولا۔ ’’نینا…!‘‘
’’ہاں…!‘‘ نینا نے اس کی طرف سوالیہ نگاہوں سے دیکھا۔
’’نینا! میں بہت بیتاب ہوں اپنے بیٹے کو دیکھنے کے لئے، دیکھیں کس پر جاتا ہے۔‘‘
’’میں چاہتی ہوں کہ بالکل تم جیسا لگے۔ لوگ اسے دیکھ کر کہیں کہ یہ تو دوسرا ایرچ ہے۔‘‘
’’ہاں…! میں بھی یہی چاہتا ہوں۔‘‘ وہ بولا۔
لیکن اچانک نینا کو بات کی گہرائی سمجھ میں آئی تو اسے دھچکا لگا۔ کیا ایرچ اس پر شک کررہا ہے؟ کیا اسے اب بھی اس پر اعتماد نہیں…! اس نے ایرچ کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا۔ ’’ایرچ! یاد رکھنا محبت اور بھروسہ، اعتماد اور چاہت ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر چلتے ہیں۔ اگر محبت کرتے ہو تو اعتماد بھی کرنا۔‘‘
تیسرے دن ایرچ اسے ڈاکٹر کے پاس لے گیا۔ وہ ایک ادھیڑ عمر مہربان شخص تھا۔ نینا کو وہ پہلی نظر میں ہی اچھا لگا۔ ڈاکٹر نے اس سے صحت کے بارے میں کئی سوالات پوچھے اور بولا۔ ’’مجھے معلوم ہے کہ

گزشتہ دنوں بہت دبائو میں رہی ہیں لیکن اب ہم آپ کو مناسب طبی امداد دے کر سنبھال لیں گے۔ آپ کو بھی احتیاط کرنی ہوگی۔ کوئی بھاری چیز نہ اٹھائیں، زیادہ سے زیادہ آرام کرنے کی کوشش کریں۔‘‘
ایرچ اس کے برابر بیٹھا ہوا تھا۔ وہ اس کو اٹھنے میں مدد دیتا ہوا بولا۔ ’’ڈاکٹر…! میں نینا کا بہت خیال رکھوں گا، آپ کی ہدایات پر پورا عمل ہوگا۔ ہم ایک صحت مند بچہ چاہتے ہیں۔‘‘
ڈاکٹر نے اثبات میں سر ہلا کر تصدیق کی۔
٭…٭…٭
بہار کے آنے میں دیر ہوگئی تھی لیکن موسم میں سردی کی شدت کم ہوگئی تھی۔ زمین سرسبز و شاداب ہونے لگی تھی، پودوں کو نئے شگوفوں نے سجا دیا تھا۔ مویشی ہری ڈھلانوں پر دور دور تک چرتے ہوئے نظر آتے تھے۔ جنگل میں درختوں کی شاخیں سبز پتوں سے بھر گئی تھیں۔ دور سے وہ ایک سبز دیوار کی طرح منظرکشی کرتے تھے۔ جس میں ہرن کبھی کبھی قلانچیں بھرتے ہوئے پل بھر میں وہاں سے گزر جاتے۔ کچھ ٹھہر کر اِدھر اُدھر دیکھتے اور پھر فوراً ہی اپنی پناہ گاہوں کی طرف لپک جاتے۔
گھر کا منظر بھی بدل گیا تھا۔ وہ بھاری پردے جو ہر وقت سارے گھر میں نیم تاریکی پھیلائے رکھتے تھے اور جنہیں ایرچ بدلنے کے لئے تیار نہیں ہوتا تھا، ان سے بھی روشنی چھن کر اندر آنے لگی تھی لیکن خوشبو سے لدی ہوا کو راستہ نہیں ملتا تھا کہ وہ پھولوں کی مہک کو اس تک پہنچا دیں لیکن نینا کے لئے اتنا بھی غنیمت تھا۔ موسم میں آجانے والی نرم گرم حدت نے اس کے جسم میں سرایت سردی کو بہت کم کردیا تھا۔ صبح صبح نینا کھڑکی کھول کر ہوا کو اندر آنے دیتی تھی اور پھولوں کے رنگوں اور حسن سے محظوظ ہوتی تھی۔
صبح اس کی طبیعت زیادہ خراب ہوتی تھی۔ متلی کی شکایت اسے پریشان کردیتی۔ ایرچ اسے بیڈ سے اٹھنے نہیں دیتا تھا۔ وہ اس کے لئے چائے بنا کر لاتا اور اسے دوائیں کھلاتا۔ کچھ دیر بعد اس کی طبیعت بحال ہوجاتی۔
اب ایرچ زیادہ وقت کاٹیج میں نہیں گزارتا تھا، خصوصاً رات کو وہ گھر پر رہتا تھا۔ اس سے کہتا۔ ’’میں نہیں چاہتا کہ تم خود کو اکیلا محسوس کرو۔ میری محبت اور میں ہمیشہ تمہارے ساتھ ہیں۔‘‘
نینا اس سے پوچھتی۔ ’’تمہارا پینٹنگ میں تو کوئی حرج نہیں ہورہا؟‘‘
’’نہیں…! میں نمائش میں جتنی تصویریں لے جانا چاہتا ہوں، وہ میں نے مکمل کرلی ہیں۔ مجھے تمہارے اور بچیوں کے ساتھ وقت گزارنا بہت اچھا لگتا ہے۔‘‘
زندگی بڑی ہموار ہوگئی تھی۔ ایرچ بچیوں کو گھڑ سواری کے لئے لے جاتا تھا، رونیکا اسے بنائی سکھانے کے لئے ہر روز آتی تھی۔ ایرچ نے اس پر بھی کوئی اعتراض نہیں کیا تھا۔ وہ سوئٹر جو نینا نے شروع کیا تھا، وہ اب ختم ہونے والا تھا۔
ایرچ اپنی تصویروں کی نمائش کے لئے شہر سے باہر چلا گیا تھا۔ اس نے وہاں پہنچتے ہی فون کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ اس کے جانے سے گھر میں ویرانی سی پھیل گئی تھی۔ وہ ایک بار پھر تنہا اور اکیلی ہوگئی تھی۔ بچیاں سو گئی تھیں۔ وہ اپنے بیڈ پر لیٹی ہوئی ایرچ کے فون کا انتظار کررہی تھی کہ فون کی گھنٹی بجی۔ نینا نے جلدی سے فون اٹھایا۔ ’’ہیلو…!‘‘
’’تم نینا ہو؟‘‘ ایک نامانوس سی آواز نے پوچھا۔
’’کون بات کررہا ہے؟‘‘ نینا نے قدرے درشتی سے کہا۔
’’کیا آج رات تمہارا کوئی دوست پھر تم سے ملنے آئے گا؟‘‘
’’تم کون ہو… یہ کیا بکواس کررہے ہو؟‘‘ نینا تیز لہجے میں بولی۔
آواز میں ایک عجیب سی چیخ، کچھ ہنسی، کچھ سسکی سنائی دی جس میں یہ الفاظ باربار دہرائے جارہے تھے۔ ’’تم قاتل ہو… تم بری عورت ہو… تم کیرولین کے گھر میں رہنے کے قابل نہیں ہو۔ چلی جائو یہاں سے… نکل جائو… نکل جائو!‘‘
نینا نے ریسیور پٹخ دیا۔ اس کا سارا جسم لرز رہا تھا، اس کا سانس دھونکنی کی مانند چل رہا تھا۔ اس نے خود کو سنبھالنے کی کوشش کی مگر اس کا دل بڑے زور سے دھڑک رہا تھا۔ چند لمحوں بعد فون پھر بجا۔ نینا خوف زدہ آنکھوں سے اس کی جانب تکتی رہی۔ اس میں ہمت نہیں تھی کہ ریسیور اٹھاتی۔ گھنٹی مسلسل بج رہی تھی۔ پھر چند لمحے کو گھنٹی بند ہوئی اور پھر بجنے لگی۔
’’ہوسکتا ہے یہ ایرچ ہو۔‘‘ یہ خیال آتے ہی اسے ڈھارس ہوئی۔ کم ازکم اس کی آواز سن کر، اس کو یہ سب بتا کر اسے حوصلہ ملے گا۔ اس نے ہمت کرکے ریسیور اٹھایا۔ دوسری جانب ایرچ ہی تھا۔
’’نینا…! کیا بات ہے تم فون نہیں اٹھا رہیں…؟ میں نے پہلے بھی کال کی تھی لیکن فون مصروف تھا اور اب تم فون نہیں اٹھا رہیں… خیریت تو ہے… تم ٹھیک ہو نا…؟ کس نے فون کیا تھا؟‘‘
’’مجھے نہیں معلوم… وہ کیسی غیر انسانی آواز تھی۔ میری کچھ سمجھ میں نہیں آیا۔‘‘ اس کی آواز ہسٹریائی انداز میں بلند ہوتی جارہی تھی۔
’’تم پریشان لگ رہی ہو… حوصلہ کرو نینا! بتائو فون پر کون تھا…؟‘‘
’’میری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا کہ یہ سب کیا تھا۔ فون پر کون تھا، وہ یہ سب کیوں کہہ رہا تھا۔‘‘ اس نے ہچکیاں لیتے ہوئے ایرچ کو اس کے بارے میں بتایا۔
’’نینا…! خود کو پرسکون کرو… یہ رونیکا بھی ہوسکتی ہے یا فارم کا کوئی ملازم…! یہ لوگ بعض وقت اس قسم کی حرکتیں کرتے ہیں۔ تم فکر مت کرو، میں آکر سب پتا چلا لوں گا۔ میں تمہارے ساتھ ہوں، تم خود کو تنہا نہ سمجھو اور اب خاموش ہوجائو۔ دیکھو رونا مت… یہ تمہاری صحت کے لئے اچھا نہیں۔‘‘
٭…٭…٭
یہ بات کتنی حوصلہ افزا تھی کہ ایرچ گھر آرہا تھا۔ اس کے بغیر خالی گھر جیسے کاٹ کھانے کو دوڑ رہا تھا۔ بار بار یہی گمان ہوتا تھا کہ ابھی کوئی فون آجائے گا جو اسے پریشان کرکے رکھ دے گا یا گھر میں سے کوئی آسیب نمودار ہوجائے گا یا کوئی نامانوس آواز سنائی دینے لگے گی۔ ایرچ نے فون پر جو کچھ کہا تھا، اس نے نینا کی ڈھارس بندھا دی تھی۔ ’’نینا…! تمہاری وجہ سے میں بھی پریشان ہوگیا ہوں… میں آجائوں تو پوری کوشش کروں گا کہ آئندہ ایسی بات نہ ہونے پائے۔‘‘
’’ہاں…! مجھے یقین ہے ایرچ! تم آجائو گے تو سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔‘‘
’’اب تمہاری طبیعت کیسی ہے؟‘‘
’’بہت بہتر ہے۔‘‘
’’اپنی خوراک پر دھیان دے رہی ہو نا…؟‘‘
’’ہاں! میں پوری کوشش کررہی ہوں۔ ہاں…! تمہاری نمائش کیسی رہی؟‘‘
’’بہت اچھی… بہترین…! تین تصویریں بہت اچھے داموں بک گئیں۔ نقادوں نے بھی میری تصویروں کو بہت سراہا… میں تمام اخبار لے کر آئوں گا، تم ان کے تبصرے دیکھنا۔‘‘ وہ بڑے فخر سے بتا رہا تھا۔
’’ایرچ…! یہ بہت خوشی کی بات ہے۔ مجھے تم پر فخر ہے۔‘‘ نینا نے خوشی کے لہجے میں کہا۔
ایرچ نے بتایا کہ وہ اگلے دن گھر پہنچ جائے گا۔ نینا کے اندر کی اداسی اور پریشانی کافور ہوگئی۔ گھر کی فضا پر جو خوف کی سی کیفیت چھائی ہوئی محسوس ہوتی تھی، وہ بھی زائل ہوگئی۔ اس رات وہ سوئی تو پرسکون تھی۔ کسی ڈرائونے خواب نے اسے بے چین نہیں کیا تھا۔
صبح وہ بچیوں کے ساتھ ناشتہ کررہی تھی کہ اچانک ایک نامانوس سا شور بلند ہوا۔ کسی جانور کی آواز کے ساتھ کسی انسان کی لرزہ خیز چیخوں کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ روتھ کرسی سے چھلانگ لگا کر اتری اور دروازے کی طرف بھاگی۔
’’روتھ… روتھ…! خبردار باہر نہ جانا۔‘‘ نینا نے گھبرا کر اسے روکا اور اٹھ کر باہر دیکھا۔ یہ آوازیں اصطبل کی طرف سے آرہی تھیں۔ کلائیڈ آفس سے نکل کر بڑی تیزی کے ساتھ اصطبل کی طرف آرہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں رائفل تھی۔ اسے دروازے میں دیکھ کر وہ دور سے چلایا۔ ’’مسز ایرچ! وہیں رہیں، باہر نہ آئیں۔‘‘
نینا کچھ دیر کھڑی اس ہولناک شور کو سنتی رہی، پھر اسے اندازہ ہوا کہ انسانی آواز جوئی کی ہے۔ وہ آگے بڑھی اور اصطبل تک پہنچی۔ یہ دیکھ کر اس کا دل بیٹھ گیا جوئی ایرچ کے گھوڑے بیرن کے اسٹال میں تھا۔ وہ پچھلی دیوار سے لگا ہوا دیوانگی کے ساتھ گھوڑے سے بچنے کی کوشش کررہا تھا۔ گھوڑا اپنے پچھلے پیروں پر کھڑا اگلے پیروں کے سموں سے اس پر حملہ آور تھا۔ گھوڑے کی آنکھیں چڑھی ہوئی تھیں اور وہ اپنے منہ سے خوفناک آواز نکال رہا تھا۔
جوئی کی حالت ابتر تھی، اس کے سر سے خون بہہ رہا تھا۔ اس کا ایک بازو یوں لٹک رہا تھا جیسے اس کا جوڑ نکل گیا تھا۔ وہ خود کو بچانے کی کوشش میں بری طرح مصروف تھا۔ پھر وہ زمین پر گرا اور گھوڑے نے اپنی اگلی ٹاپوں سے اسے روند ڈالا۔
’’اوہ خدایا…! کچھ کرو، گھوڑا اس کو مار دے گا۔‘‘ نینا نے خود کو یہ کہتے ہوئے سنا۔ وہ بری طرح رو رہی تھی۔
’’جوئی…! ایک طرف ہٹ جائو، میں اسے شوٹ کررہا ہوں۔‘‘ کلائیڈ نے اس کا نشانہ لے لیا۔ اس سے پہلے کہ وہ اپنے سموں کو اٹھا کر پھر جوئی کے سینے پر مارے، گولی چلنے کی آواز سنائی دی۔ اس کے ساتھ گھوڑے کی ہولناک ہنہناہٹ گونجی۔ گھوڑا چند لمحے مجسمے کی طرح کھڑے کا کھڑا رہ گیا۔ پھر کٹے ہوئے درخت کی طرح نیچے آگرا۔ جوئی بالکل دیوار کے ساتھ چمٹ گیا کہ خود کو گھوڑے کے بھاری جسم کے نیچے آجانے سے بچا سکے۔
وہ وہیں زمین پر پڑا ہوا تھا۔ اس کی آنکھیں پھٹی ہوئی تھیں اور اس کے چہرے پر کرب اور وحشت تھی۔ کلائیڈ نے رائفل ایک طرف پھینکی اور جوئی کی طرف دوڑا۔ ’’ہلنا مت… اسی طرح پڑے رہو، ہم ابھی ایمبولینس منگواتے ہیں۔‘‘
نینا پریشانی سے اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔ اسے جوئی کی ماں کی سسکیاں سنائی دے رہی تھیں۔ وہ باربار اسے پکار رہی تھی۔ تھوڑی ہی دیر میں ایمبولینس آگئی۔ انہوں نے جوئی کو احتیاط سے اٹھا کر اسٹریچر پر ڈالا۔ اس کا چہرہ بالکل راکھ ہورہا تھا، اس کی آنکھیں بند تھیں۔ نینا نے ایک کارکن کو کہتے ہوئے سنا۔ ’’اس کا بچنا مشکل ہے۔‘‘
٭…٭…٭
ایرچ چند گھنٹے بعد گھر پہنچا۔ وہ ایک بڑے سرجن کو اپنے ساتھ لے کر آیا تھا۔ وہ آتے ہی اصطبل گیا اور گھوڑے کے برابر بیٹھ کر اس کے سر پر محبت اور حسرت سے ہاتھ پھیرنے لگا۔ وہ طاقتور اور خوبصورت گھوڑا ختم ہوچکا تھا، مٹی کا ڈھیر بن چکا تھا۔ اس کا چہیتا گھوڑا اس سے بچھڑ چکا تھا۔
مارک بھی وہاں پہنچ گیا تھا۔ اس نے ہر چیز کا معائنہ کیا تھا۔ گھوڑے کے جنون کا سبب اس کا چارہ تھا جس میں کسی نے چوہوں کو مارنے والا زہر ملا دیا تھا۔ سب کو حیرت تھی کہ ایسا کون کرسکتا تھا۔ کون جوئی کی جان لینا چاہتا تھا، یہ معمہ حل طلب تھا۔ شیرف نے بھی مختلف لوگوں سے سوالات کئے تھے مگر کوئی نتیجہ نہیں نکلا تھا۔
جوئی کا علاج ہورہا تھا، اس کے بچ جانے کی امید ہوگئی
تھی۔ ایرچ اس کے علاج کا تمام خرچہ اٹھا رہا تھا۔ لوگ درست کہتے تھے کہ وہ ایک نیک دل اور مخیر انسان ہے۔ وہ گھوڑا جس سے اسے بہت محبت تھی، اس کی ہلاکت پر اس نے ایک لفظ بھی نہیں کہا تھا۔ وہ اب اس گھوڑی پر سواری کرتا تھا جو اس نے نینا کے لئے خریدی تھی۔ وہ بچیوں کو بھی اپنے ساتھ گھڑ سواری سکھا رہا تھا۔
وہ فی الحال کوئی نئی تصویر بنانے کے لئے کاٹیج نہیں جارہا تھا۔ نینا کو اس نے بتایا تھا کہ فی الحال اس کا پینٹنگ کرنے کا موڈ نہیں۔ وہ اس کے ساتھ بہت اچھا برتائو کررہا تھا لیکن نہ جانے کیوں وہ اسے خود سے بہت دور نظر آتا تھا۔ وہ اکثر شام کو اس کے ساتھ لائبریری میں بیٹھتا تھا۔ وہ خاموشی سے پڑھتا رہتا، بہت کم بات کرتا۔ نینا کو اکثر اس کی نگاہیں خود پر مرکوز محسوس ہوتیں لیکن جب وہ اس کی طرف دیکھتی تو وہ فوراً نگاہ ہٹا لیتا، جیسے نہ چاہتا ہو کہ اس کو پتا چلے کہ وہ اس کو دیکھ رہا تھا۔
وہ اکثر بچیوں کو اپنے ساتھ رکھتا یا سیر کے لئے لے جاتا اور نینا سے کہتا کہ وہ آرام کرے۔ بچیوں کی حوالگی کا عمل مکمل ہوگیا تھا۔ ایرچ بہت خوش تھا۔
موسم بدل گیا تھا۔ ہوا میں خنکی بڑھ گئی، درختوں کے پتے سرخی مائل ہوتے جارہے تھے، گھاس بھی سبز سے برائون ہوچکی تھی، گرم کپڑے نکل آئے تھے، آتش دان میں آگ روشن ہونے لگی تھی۔ کچھ پرسکون ہونے کی وجہ سے نینا کی طبیعت بھی اب ٹھیک رہتی تھی۔ ڈاکٹر نے اطمینان کا اظہار کیا تھا کہ بچہ صحت مند ہے۔
آخر وہ دن آگیا جس کا نینا کو شدت سے انتظار تھا۔ وہ ایرچ کو اس کا وارث دینے والی تھی۔ وہ دوسرے کمرے میں سو رہا تھا۔ نینا نے آہستہ سے اس کے کمرے کا دروازہ کھولا۔ اس کا اندازہ صحیح تھا۔ وہ اسی کمرے میں گہری نیند سو رہا تھا۔ نینا نے اس کا شانہ ہلایا۔ ’’ایرچ…!‘‘
اس نے فوراً آنکھیں کھول دیں اور جھپٹ کر اٹھا۔ ’’نینا…! کیا بات ہے؟‘‘
’’میرا خیال ہے کہ ہمیں اسپتال جانا ہوگا۔‘‘ نینا نے محتاط سے لہجے میں کہا۔
وہ جلدی سے اٹھ کھڑا ہوا اور اس کے شانے پر ہاتھ رکھ کر بولا۔ ’’آج میرا دل کہہ رہا تھا کہ مجھے تمہارے پاس رہناچاہئے۔ اسی لئے میں یہاں سو گیا تھا۔ اوہ نینا…! کتنا اچھا لگے گا جب ہم اپنے بیٹے کو دیکھیں گے۔‘‘
اسپتال میں تیز روشنی کے اندر نینا نے ڈاکٹر کے ہاتھ میں ایک ننھے سے وجود کو دیکھا پھر اسے آواز سنائی دی۔ ’’آکسیجن…!‘‘
’’بچہ بالکل ٹھیک ہوجائے گا اسے مجھے دے دو۔‘‘ وہ کہنا چاہتی تھی لیکن اس کے خشک حلق سے آواز نہیں نکلی۔
’’مجھے دیکھنے دو۔‘‘ اسے ایرچ کی آواز سنائی دی۔ پھر اسے سرگوشی کی مانند ایک مایوس صدا کان میں پڑی۔ ’’اوہ! اس کے بال تو لڑکیوں کی طرح سرخ ہیں۔‘‘
یہ بات اس کے دل پر لگی اور وہ بے سدھ ہوتی گئی۔ نہ جانے کب وہ ہوشیار ہوئی۔ کمرے میں نیم تاریکی تھی۔ ایک نرس اس کے بیڈ کے قریب بیٹھی ہوئی تھی۔
’’بچہ… میرا بچہ!‘‘ نینا نے بمشکل کہا۔
’’وہ ٹھیک ہوجائے گا، تم سونے کی کوشش کرو۔ تمہیں آرام کی ضرورت ہے۔‘‘
’’میرے شوہر کہاں ہیں؟‘‘
’’مسٹر ایرچ گھر چلے گئے ہیں۔‘‘
ایرچ گھر چلا گیا ہے۔ اس نے دل ہی دل میں دہرایا۔ اسے باوجود کوشش کے یاد نہیں آرہا تھا کہ ایرچ نے بچے کو دیکھ کر کیا کہا تھا۔ وہ ابھی سونے جاگنے کی کیفیت میں تھی کہ ایک ڈاکٹر اندر آیا۔ ’’مسز ایرچ…! بچے کے پھیپھڑے پوری طرح سے نہیں بنے، ہم پوری کوشش کررہے ہیں کہ جلد اس نقص کو دور کرسکیں۔‘‘
’’کیا میرا بچہ بہت بیمار ہے؟‘‘ نینا نے نقاہت آلود آواز میں پوچھا۔ ’’میں اس کو دیکھنا چاہتی ہوں۔‘‘
’’اس کے لئے آپ کو نرسری میں جانا ہوگا کیونکہ ہم بچے کو آکسیجن دے رہے ہیں، اس لئے اسے یہاں نہیں لا سکتے۔ مسز ایرچ! کیون بہت پیارا بچہ ہے۔‘‘
’’کیون…!‘‘ نینا نے حیرت سے دہرایا۔
’’آپ کے شوہر نے بچے کا نام کیون ہی لکھوایا ہے۔‘‘ ڈاکٹر نے بتایا۔
ایرچ کچھ دیر بعد بہت سی گلاب کی شاخیں جو پھولوں سے لدی ہوئی تھیں، لے کر آیا اور اس کے پاس رکھتا ہوا بولا۔ ’’نینا…! ڈاکٹر کہتے ہیں کہ وہ بالکل ٹھیک ہوجائے گا۔ کل میں ساری رات روتا رہا، میں بالکل ناامید ہوگیا تھا۔‘‘
’’ایرچ…! تم نے بچے کا نام کیون کیوں لکھوایا ہے؟‘‘
’’ڈارلنگ! پہلے تو ڈاکٹروں نے بالکل ناامیدی ظاہر کردی تھی۔ ان کا خیال تھا کہ بچہ صرف چند گھنٹے کا مہمان ہے تو میں نے سوچا کہ ہم ایرچ نام اس بچے کے لئے سنبھال کر رکھ لیتے ہیں جو زندہ رہے گا۔ اس وقت کیون ہی میرے ذہن میں آیا۔ میں نے سوچا تمہیں بھی اچھا لگے گا۔‘‘
’’نہیں…! اس کو تبدیل کرو۔‘‘ نینا نے قطعی لہجے میں مطالبہ کیا۔
’’تم فکر مت کرو، ہم اسے ایرچ نام اس وقت دیں گے جب وہ پانچ سال کا ہوجائے گا۔‘‘
٭…٭…٭
نینا پورا ہفتہ اسپتال میں رہی۔ اس دوران وہ پوری کوشش کرتی رہی کہ اپنی خوراک کا خیال رکھے تاکہ اس کی طاقت بحال ہو اور وہ اپنے بیمار بچے کا خیال رکھ سکے۔ چوتھے دن انہوں نے بچے کی آکسیجن اتار دی اور اس کے پاس لے کر آئے تاکہ وہ اسے گود میں لے سکے۔ ڈاکٹر کا خیال تھا کہ وہ بچے کو اپنا دودھ پلائے تاکہ وہ جلد صحت یاب ہوسکے۔ نینا کو اس پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔ وہ اپنا سارا وقت، ساری طاقت اسے دینا چاہتی تھی۔
پانچ دن بعد اسے اسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا، مگر بچے کو ابھی ڈاکٹروں نے اپنی نگرانی میں رکھا تھا۔ اگلے تین ہفتے اسے ہر تین گھنٹے بعد بچے کو دودھ دینے کے لئے اسپتال جانا تھا۔ اکثر ایرچ اسے اسپتال چھوڑ دیتا یا گاڑی کی چابی اسے دے دیتا۔ وہ خود وہاں چلی جاتی۔
بچیاں بھی اس کی غیر حاضری کی عادی ہوگئی تھیں۔ شروع شروع میں تانیہ پریشان ہوئی تھی لیکن روتھ نے اسے سمجھا دیا تھا۔ ’’ہم ڈیڈی کے ساتھ رہیں گے اور خوب مزے کریں گے۔‘‘
ایرچ بھی اس کی بات سن رہا تھا۔ وہ تانیہ کو ہوا میں اچھالتے ہوئے بولا۔ ’’کون زیادہ اچھا ہے، ممی یا ڈیڈی…؟‘‘
’’ڈیڈی… ڈیڈی…!‘‘ تانیہ نے ہنستے ہوئے کہا۔
روتھ کچھ ہچکچائی۔ ’’دونوں اچھے ہیں۔ ممی، ڈیڈی دونوں!‘‘
آخرکار ڈاکٹروں نے بچے کو گھر لے جانے کی اجازت دے دی۔ وہ پہلے کی نسبت صحت مند تھا۔ نینا نے بڑی چاہت سے اس کے کپڑے اتار کر اسے وہ کپڑے پہنائے جو اس نے خاص طور پر اس کے لئے شوق سے بنائے تھے۔ اسے نیلے کمبل میں اچھی طرح لپیٹا، اونی ٹوپی اس کے سر پر رکھی۔ باہر بہت سردی تھی، ہلکی ہلکی برف باری شروع ہوچکی تھی۔ خنک ہوا درختوں کی شاخوں اور پتوں کے درمیان سرسراتی پھرتی تھی۔ چمنیوں سے نکلتے ہوئے دھویں اس بات کے شاہد تھے کہ آتش دانوں میں آگ مسلسل روشن تھی۔
دونوں بچیاں ننھے بھائی کو دیکھ کر نہال ہوگئی تھیں۔ دونوں اسے گود میں لینا چاہتی تھیں۔ نینا نے صوفے پر بیٹھ کر دونوں کو پاس بٹھا لیا اور باری باری ننھے بھائی کو ان کی گود میں دیا اور انہیں تاکید کی کہ اسے بہت احتیاط سے پکڑو، یہ ابھی بہت چھوٹا ہے۔
رونیکا بچے کی دیکھ بھال میں اس کی بہت مدد کررہی تھی۔ وہ خود بھی اس کا بہت خیال رکھ رہی تھی لیکن وہ دیکھتی تھی کہ بچہ معمول سے زیادہ سویا رہتا ہے۔ اس کا رنگ بھی زرد تھا۔ جب کبھی کبھی وہ آنکھیں کھولتا تو اس کی نیلی بادامی آنکھیں بالکل ایرچ جیسی لگتی تھیں۔
بچہ ایک ماہ کا ہوگیا۔ اس کا معائنہ کیا گیا تو اس کا چھ اونس وزن کم تھا۔ ڈاکٹر کافی تشویش میں مبتلا تھا۔ اس نے نینا کو تاکید کی کہ وہ اپنی غذا کا خیال رکھے اور خود کو پریشانی سے بچائے۔ بچے کی صحت کے لئے ماں کا صحت مند دودھ ضروری تھا۔
(جاری ہے)