Nafrat | Episode 2

497
اگلے روز ملازمہ صفائی کے لیے کمرے میں آئی تو اس نے دیکھا کہ نولی فرش پر بے ہوش پڑی تھی۔ ملازمہ نے اس کی پیشانی چھوئی تو وہ بخار کی وجہ سے تپ رہی تھی۔ اس نے منیجر کو خبر کی اور تھوڑی دیر بعد ایک ایمبولینس اسے اسپتال لے جارہی تھی۔ ڈاکٹروں نے اسے فوراً خصوصی نگہداشت کے وارڈ میں منتقل کردیا۔ پانچویں دن اسے ہوش آیا تو وہ بہت کمزوری محسوس کررہی تھی۔ اس کے ذہن پر ایک دھند سی چھائی تھی لیکن اتنا وہ ضرور جانتی تھی کہ اس کی زندگی میں ایسا سانحہ نمودار ہوچکا تھا جس کی تلافی کسی صورت ممکن نہیں تھی۔
اس نے اٹھنے کی کوشش کی لیکن اس سے اٹھا نہیں گیا اور وہ جلد ہی ایک مرتبہ پھر بے سدھ ہوگئی۔ نہ جانے وہ کب تک گرد و پیش سے بے خبر رہی۔ پھر اسے محسوس ہوا جیسے کسی نے اس کے بازو پر ملائمت سے ہاتھ رکھا ہو۔ اس نےچونک کر آنکھیں کھول دیں۔ اسے یقین تھا کہ لیری آگیا ہے لیکن اس کا سارا وجود مایوسی میں ڈوب گیا۔ اس کے سرہانے سفید کوٹ پہنے کوئی اجنبی تھا جو اس کی نبض دیکھ رہا تھا۔ اسے ہوش میں آتے دیکھ کر وہ مسکرایا۔ ’’ہیلو… خوش آمدید! نئی زندگی مبارک۔‘‘
’’میں کہاں ہوں؟‘‘ نولی نے سوال کیا۔
’’اسپتال میں۔‘‘ اس نے اسپتال کا نام بتایا۔
’’مجھے کیا ہوا ہے؟‘‘
’’تمہیں ڈبل نمونیا ہوگیا تھا مگر اب تم بہتر ہو اور بہت جلد تندرست ہوجائو گی۔‘‘
’’کیا تم ڈاکٹر ہو؟‘‘
’’نہیں… ابھی میں ہائوس جاب کررہا ہوں۔ میرا نام اسرائیل کرٹ ہے۔‘‘
’’تم میرا ایک کام کردو گے؟‘‘
’’بہت خوشی سے، اگر میرے اختیار میں ہوا تو۔‘‘
’’پلیز۔ ہوٹل فون کر کے معلوم کردو کہ میرے لیے کوئی پیغام تو نہیں۔‘‘ نولی نے ہوٹل کا نام بتایا۔
’’دراصل میں بہت مصروف…‘‘ اس نے ٹالنا چاہا۔
’’پلیز… پلیز…! یہ بہت ضروری ہے۔ میرا منگیتر مجھ سے رابطہ کرنا چاہتا ہوگا۔‘‘
’’اچھا میں دیکھتا ہوں۔‘‘ اس نے وعدہ کیا اور چلتے چلتے بولا۔ ’’اب تم سو جائو۔ آرام کرو۔‘‘
’’نہیں۔ جب تک مجھے تم کچھ بتا نہیں دیتے، میں نہیں سوئوں گی۔‘‘
وہ چلا گیا اور نولی کھلی آنکھوں سے اس کی راہ تکنے لگی۔ اسے یقین تھا کہ لیری ضرور اس سے رابطہ کرنے کی کوشش کررہا ہوگا۔ اس نے ضرور کوئی پیغام دیا ہوگا کہ وہ کب تک آسکے گا۔ وہ اسے بتائے گا کہ اسے آنے میں کیوں دیر ہوئی اور پھر سب ٹھیک ہوجائے گا۔
تقریباً دو گھنٹے بعد کرٹ واپس آیا۔ اس نے نولی کے بیڈ کے قریب اس کا سوٹ کیس رکھ دیا اور بولا۔ ’’میں تمہاری چیزیں لے آیا ہوں، میں خود ہوٹل گیا تھا۔‘‘
نولی نے اس کی طرف دیکھا۔ اس کے چہرے پر تنائو اور پریشانی تھی۔
’’سوری! وہاں کوئی پیغام نہیں تھا۔‘‘ وہ کچھ جھجک کر بولا۔
نولی دیر تک خالی خالی آنکھوں سے اس کی طرف دیکھتی رہی۔ پھر اس نے دیوار کی طرف منہ موڑ لیا۔
دو روز بعد نولی کو اسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا۔ کرٹ اسے رخصت کرنے آیا تو پوچھنے لگا۔ ’’تمہارے پاس رہنے کے لیے کوئی جگہ ہے؟ کوئی ملازمت؟‘‘
نولی نے نفی میں سر ہلایا۔
’’تم کیا کام کرسکتی ہو؟‘‘
’’میں ماڈل ہوں۔‘‘ اس نے بتایا۔
’’بہت خوب۔ پھر تو میں تمہاری آسانی سے مدد کرسکتا ہوں۔‘‘
نولی کو میڈم اور پھر ٹیکسی ڈرائیور یاد آیا۔ ’’نہیں مجھے کسی مدد کی ضرورت نہیں۔‘‘
کرٹ نے کاغذ پر کچھ لکھا اور اس کی طرف بڑھاتے ہوئے بولا۔ ’’بہرحال اگر تمہیں ضرورت ہو تو میری ایک آنٹی کا چھوٹا سا فیشن ہائوس ہے۔ میں انہیں تمہارے بارے میں بتا دوں گا۔ تم چاہو تو وہاں کسی بھی وقت چلی جانا۔ تمہارے پاس کچھ رقم ہے؟‘‘
نولی کچھ بول نہیں پائی، بس اس کی شکل دیکھتی رہی۔
’’یہ لو۔‘‘ اس نے جیب سے کچھ کرنسی نوٹ نکالے اور بولا۔ ’’بس میرے پاس اتنے ہی ہیں۔ تمہیں پتا ہی ہوگا کہ ہائوس جاب میں کچھ زیادہ پیسہ نہیں ملتا۔‘‘
’’شکریہ۔‘‘ نولی دھیرے سے بولی۔
وہ چلا گیا تو نولی بھی اسپتال سے نکل آئی۔ ایک چھوٹے سے کیفے میں ایک تنہا گوشے میں بیٹھ کر وہ اپنی زندگی کے چھوٹے چھوٹے واقعات کو جوڑنے کی کوشش کرتی رہی لیکن کچھ بھی ڈھنگ کا نہ بنا۔ اس کے باوجود اسے احساس تھا کہ اسے زندہ رہنا ہے اور زندہ رہنے کے لیے اسے جدوجہد بھی کرنی ہوگی۔ اس کے اندر ہر ایک کے لیے نفرت جیسے لاوا بن کر کھول رہی تھی۔ اس کے اندر انتقام کی آگ بھڑک رہی تھی۔ اسے اب اس وقت تک چین نہیں آسکتا تھا جب تک وہ لیری کو تباہ و برباد نہ کر ڈالے۔ وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ یہ سب کب ممکن ہوسکے گا لیکن اسے اس کا یقین تھا کہ وہ کبھی نہ کبھی ایسا ضرور کرسکے گی۔
سردست اسے سر چھپانے کی جگہ اور ملازمت کی ضرورت تھی۔ اس نے پرس سے وہ کاغذ نکالا جس پر کرٹ نے اپنی آنٹی کا ایڈریس لکھا تھا۔ وہ چند لمحے اسے غور سے دیکھتی رہی۔
پھر اس نے یہی فیصلہ کیا کہ اسے قسمت آزمائی کرنی چاہیے۔ اسی دوپہر وہ مطلوبہ پتے پر پہنچی۔ خلاف توقع کرٹ کی آنٹی میڈم روز ایک مشفق اور مہربان خاتون ثابت ہوئی۔ اس کا فیشن ہائوس کچھ زیادہ ماڈرن نہیں تھا لیکن اس کا رویہ بہت اچھا تھا۔ اس نے نولی کو نہ صرف ملازمت پر رکھ لیا بلکہ کچھ رقم ایڈوانس بھی دے دی۔ اس کے ساتھ ہی اس نے فیشن ہائوس کے قریب ہی اسے ایک چھوٹا سا اپارٹمنٹ بھی کرائے پر لے دیا۔ نولی وہاں منتقل ہوگئی اور جب اس نے سوٹ کیس کھولا تو سب سے پہلا کام اس نے یہ کیا کہ اپنے اس عروسی لباس کو ہینگر میں لٹکا کر الماری کے سامنے آویزاں کردیا تاکہ صبح اٹھتے ہی اس کی نظر اس پر پڑے اور رات سونے سے پہلے بھی وہ اسے دیکھ سکے۔
٭…٭…٭
کیتھرین نے ایک جگہ کیشیئر کی جزوقتی ملازمت کرلی تھی تاکہ اپنے دیگر اخراجات پورے کرسکے لیکن جلد ہی اسے اندازہ ہوگیا کہ اسے اس یونیورسٹی سے بڑا دائرہ عمل چاہیے۔ اس کی ابھی تک کسی لڑکے سے ویسی دوستی نہیں ہوسکی تھی جیسی اس کی دوسری ہم جماعتوں کی تھی۔ وہاں زیادہ تر بات فیشن، رومانس اور کپڑوں پر ہوتی تھی۔ بہت سے لڑکے، لڑکیاں یونیورسٹی چھوڑ کر جا چکے تھے کہ وہ نئی دنیائوں کی تلاش میں تھے۔
وہ پاپا کے ساتھ ہمیشہ رابطے میں رہتی تھی۔ ہفتے میں ایک مرتبہ ان سے لمبی بات کرتی لیکن ہر بار اسے ایسا ہی محسوس ہوتا جیسے وہ ایک قیدی کی سی زندگی گزار رہے ہیں۔ جس دن اس نے یونیورسٹی چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے پاپا کو فون پر بتایا۔ وہ جاننا چاہتے تھے کہ وہ اس سے ملنے کے لیے آئے گی یا نہیں لیکن کیتھرین کے لیے اتنی دور جانا ممکن نہیں تھا۔ پھر ان سے ملنے کا وعدہ کرکے اس نے یونیورسٹی چھوڑ دی اور نئی منزل کی طرف روانہ ہوگئی۔
٭…٭…٭
نولی کو اس ملازمت سے مالی تحفظ حاصل ہوگیا تو اس نے اپنے دل کی دنیا کی طرف توجہ دی جہاں ہر وقت انتقام کی چنگاری سلگتی رہتی تھی جسے تسکین دینے کے لیے اس نے کچھ نہ کچھ ضرور کرنا تھا۔ ایک روز اس نے ایک مقامی سراغرساں کے دفتر میں جاکر رابطہ کیا اور اسے لیری کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کے لیے بھاری فیس ادا کی۔
تقریباً دو ہفتوں بعد اس نے کچھ معلومات حاصل کرکے اسے بتایا کہ وہ غیر شادی شدہ ہے مگر اس کی دوست لڑکیوں کی فہرست بہت طویل ہے۔ وہ ایک کھلنڈرا، پلے بوائے مشہور ہے۔ وہ ان تمام لڑکیوں کے بارے میں معلومات بھی لے کر آیا تھا۔ نولی نے ان معلومات پر نگاہ ڈالی اور پرس سے اس کی اگلی فیس نکال کر بولی۔ ’’بہت خوب۔ تم نے بہت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ جب مزید معلومات حاصل ہوں تو مجھے فون کرلینا۔‘‘
اس کے بعد نولی کا سب سے بڑا شوق تھیٹر اور اداکاری تھا۔ اس نے اپنے چھوٹے سے شہر میں کچھ ڈرامے دیکھے تھے لیکن وہ تیسرے درجے کے ڈرامے تھے جنہوں نے اسے کبھی متاثر نہیں کیا تھا لیکن یہاں اس بڑے شہر میں جب وہ ایک تھیٹر میں ڈرامہ دیکھنے گئی تو اسے پتا چلا کہ صحیح معنوں میں اداکاری کیا ہوتی ہے۔ وہ تھیٹر میں سب سے اگلی قطار میں بیٹھتی اور ڈرامے کے سحر میں کھو جاتی۔ وہ خود کو ڈرامے کے کرداروں میں سے ایک سمجھتی اور ان کے ساتھ ساتھ اداکاری کرتی رہتی۔
اسے خاص طور پر ایک ڈرامہ بہت پسند آیا۔ جس میں ایک مشہور اداکار فلپ سورل اداکاری کررہا تھا۔ وہ ایک ٹھگنا اور بدصورت آدمی تھا۔ اس کی بیٹھی ہوئی ناک کسی باکسر کی طرح تھی لیکن وہ لاکھوں دلوں کی دھڑکن تھا۔ نولی پہلے اسے دیکھ کر حیران ہوئی تھی لیکن اس نے اداکاری شروع کی تو جیسے سب پر جادو کردیا۔
اس کی بدصورتی پس پشت چلی گئی۔ وہ ایک خوبصورت اور وجیہ شخص دکھائی دینے لگا۔ نولی اس کی اس شاندار اداکاری پر حیران رہ گئی۔ جس نے اس کو بالکل بدل دیا تھا۔ اس نے بار بار اس کا ڈرامہ دیکھا کہ اس کی اس مقناطیسی کشش کا راز جان سکے۔
ایک شام جب ڈرامے کے دوران وقفہ ہوا تو تھیٹر کے ایک ملازم نے اسے ایک رقعہ لاکر دیا۔ نولی نے کھول کر اسے پڑھا تو اس کا دل دھڑک اٹھا۔ اس کی انگلیاں کپکپا سی گئیں۔ یہ رقعہ فلپ سورل کی طرف سے تھا۔ اس نے لکھا تھا۔ ’’میں تمہیں حاضرین میں ہر رات دیکھتا ہوں۔ پلیز آج ڈرامہ ختم ہونے کے بعد اسٹیج کے پیچھے آئو تاکہ میں تم سے مل سکوں۔‘‘ پی۔ ایس۔
ڈرامہ جیسے ہی ختم ہوا۔ نولی اسٹیج کے پیچھے پہنچی۔ اسے جلد ہی فلپ سورل کے کمرے میں جانے کی اجازت مل گئی۔ وہ اندر داخل ہوئی تو وہ آئینے کے سامنے بیٹھا اپنا میک اَپ اتار رہا تھا۔ شیشے میں اس کا عکس دیکھ کر بولا۔ ’’اوہ۔ یہ ناقابل یقین ہے۔ تم تو قریب سے اور بھی زیادہ حسین لگتی ہو۔‘‘
’’شکریہ!‘‘ نولی نے ایک ادائے دلبرانہ سے جواب دیا۔
سورل کرسی پر گھوما اور ایک بھرپور نگاہ کے ساتھ اس کا سر سے پیر تک جائزہ لیا اور بولا۔ ’’ملازمت کی تلاش میں ہو؟‘‘
’’نہیں۔‘‘ نولی نے نفی میں سر کو جنبش دی۔
’’میں کسی کو کوئی مالی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔ میں صرف اتنا کرسکتا ہوں کہ تمہیں تھیٹر کا مفت پاس دے دوں اور بس۔‘‘
نولی نے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ خاموش کھڑی سورل کا جائزہ لیتی رہی۔ آخر سورل کو پوچھنا پڑا۔ ’’تم کیا چاہتی ہو؟‘‘
’’میں تمہیں چاہتی ہوں۔‘‘ نولی نے سیدھا، سچا جواب دیا۔
فلپ سورل یکدم چونک گیا۔ اس ملکۂ حسن کے دلکش گلابی لبوں سے یہ بات سننا بہت ہی انوکھا اور لطف انگیز تھا۔ وہ چند لمحے اسی میں کھویا رہا۔ اسی بات نے اس دوستی اور ہم آہنگی کی ابتدا کی جو جلد ہی قربت میں ڈھل گئی۔ وہ جلد ہی سورل کے شاندار اپارٹمنٹ میں منتقل ہوگئی جو ایک بہترین علاقے میں تھا۔ سورل تو شاید اس سے محبت کرنے لگا تھا لیکن نولی کے لیے اس کی حیثیت ایک فنی اسکول کی سی تھی۔ وہ بہترین اداکاری کا ایسا اسکول تھا جس میں اداکاری کے تمام تر اسرار و رموز سکھائے جاتے تھے۔ وہ ہر روز اس سے کوئی نئی بات سیکھتی تھی۔ یہی اس کا مقصد تھا۔ اس نے اپنے دل کا دروازہ عرصہ ہوا بند کرلیا تھا لیکن اب بھی وہاں لیری کی حکومت تھی۔ وہی اس کے دل کا راجہ تھا۔ اس کے علاوہ اس کے دل میں کسی اور کی جگہ نہیں تھی۔
لیکن عجیب بات یہ تھی کہ اس کے دل میں لیری کے لیے اتنی ہی نفرت تھی جتنی محبت۔ وہ اس کی نفرت میں ڈوبی ہوئی تھی۔ شاید اس کی یہ بے چینی تب ہی دور ہوسکتی تھی، اسے اسی وقت تسکین مل سکتی تھی جب وہ اس سے انتقام لینے میں کامیاب ہوجائے۔ اس کو سورل کے اپارٹمنٹ میں رہتے ہوئے دو ماہ ہوئے تھے کہ سراغرساں نے اسے آفس آنے کے لیے کہا کیونکہ اس کے پاس کچھ نئی معلومات تھیں۔
وہ اس کے آفس پہنچی تو اس کے پاس دو طرح کی معلومات تھیں۔ ایک اس کے کیریئر کے بارے میں کہ اسے اگلے عہدے پر ترقی مل گئی تھی۔ دوسرے اس کی منگنی ایک اعلیٰ فوجی آفیسر کی بیٹی سے ہوگئی تھی لیکن اس کی بے راہ روی اب بھی برقرار تھی۔ وہ روز ایک نئی لڑکی کے ساتھ گھومتا ہوا نظر آتا تھا۔ نولی دلچسپی سے اس کی رپورٹ پڑھتی رہی۔
سراغرساں نے پوچھا۔ ’’میڈم۔ کیا آپ کو مزید معلومات کی ضرورت ہے؟‘‘
’’ہاں… ہاں! تم اپنا کام جاری رکھو۔ جب بھی کوئی نئی معلومات حاصل ہوں تو مجھے فون کرلینا۔‘‘
نولی نے اپنا آپ سورل کے لیے وقف کردیا تھا۔ وہ اس کے لیے بہترین کھانے پکاتی، اس کی ساری شاپنگ کرتی، اس کے اپارٹمنٹ کی دیکھ بھال کرتی۔ اس کے مہمانوں کا استقبال کرتی۔ سورل خود کو دنیا کا خوش قسمت ترین انسان سمجھتا تھا۔ ایک روز جب وہ ڈنر کے لیے باہر گئے تو نولی نے سورل سے کہا۔ ’’سورل۔ میں ایک اداکارہ بننا چاہتی ہوں۔‘‘
’’اداکارہ؟‘‘ اس نے استفہامیہ لہجے میں دہرایا۔ ’’نولی! تم بہت خوبصورت ہو۔ تم اداکارہ بن کر کیا کروگی؟ تم صرف میرے لیے ہو۔ میں نے تمہارے بارے میں بہت کچھ سوچ رکھا ہے ایسا کہ تم حیران رہ جائو گی۔‘‘
نولی خاموش رہی۔
چند روز بعد اس کی سالگرہ تھی۔ سورل نے اس کی سالگرہ شاندار طریقے سے منانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس نے ایک بڑے ہوٹل کا پورا فلور بک کروایا۔ جسے سرخ مخمل اور ریشمی جھالروں سے بہترین انداز میں آراستہ کیا گیا۔ مہمانوں کی فہرست سورل نے نولی کے ساتھ مل کر بنائی تھی مگر آخر میں سورل کی نظر بچا کر مہمانوں کی فہرست میں نولی نے ایک اور نام کا اضافہ کردیا تھا۔
تقریب بہت شاندار رہی۔ سب ہی بہت خوش تھے اور نولی کے لیے قیمتی تحفوں کا ڈھیر لگ گیا تھا۔ پھر سورل اپنی جگہ سے اٹھا اور اس نے تمام مہمانوں کو مخاطب کرکے کہا۔ ’’میرے دوستو۔ اس تقریب میں حسن کی اس ملکہ کے حضور ہم نے جو نذرانے پیش کیے ہیں، وہ اس کے شایان شان نہیں۔ میں یہاں ایک ایسا اعلان کرنے والا ہوں جو اس تقریب کی جان ہماری خوبصورت نولی کو خوش کردے گا۔‘‘ اس نے تجسس پیدا کرنے کے لیے تھوڑا توقف کیا۔ پھر یکدم بولا۔ ’’دوستو۔ میں آپ کو یہ خوشخبری سنانا چاہتا ہوں کہ میں اور نولی بہت جلد شادی کرنے والے ہیں۔‘‘
ہال سیٹیوں اور تالیوں سےگونج اٹھا اور یہ تالیاں بہت دیر تک بجتی رہیں۔ بہت سے لوگ مبارکباد دینے کے لیے ان کی طرف دوڑے۔ ہر طرف گہما گہمی اور رونق تھی۔ مبارک سلامت کی آوازیں چاروں طرف گونج رہی تھیں۔ نولی مسکراتے ہوئے سب کی مبارکباد وصول کررہی تھی۔ مہمانوں میں سے صرف ایک مہمان نہیں اٹھا تھا۔ وہ سب سے آخری نشست پر بیٹھا سگریٹ پی رہا تھا اور اس منظر کو عجیب طنزیہ نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔
نولی اس سے آگاہ تھی کہ وہ تمام تقریب کے دوران اس کی طرف دیکھتا رہا تھا۔ وہ ایک دراز قد، دبلا سا آدمی تھا۔ اس کا چہرہ کسی گہری سوچ کا غماز تھا۔ وہ تقریب کے دوران جو کچھ ہوتا رہا تھا، اسے دلچسپی سے دیکھ رہا تھا۔ وہ اس تقریب میں ایک مہمان سے زیادہ ایک مشاہدہ کرنے والا معلوم ہورہا تھا۔ نولی کی نگاہ اس سے ملی تو وہ دلکشی سے مسکرا دی۔
وہ آرمنڈ گاٹیر تھا جو ملک کا بہترین ڈائریکٹر مانا جاتا تھا۔ وہ ذاتی طور پر ایک تھیٹر، ایک پروڈکشن ہائوس اور سنیما کا مالک تھا۔ وہ جس ڈرامے یا فلم کو ڈائریکٹ کرتا، اس کی کامیابی یقینی سمجھی جاتی تھی۔ اس کا رویہ اداکارائوں کے ساتھ بہت اچھا تھا۔ اس نے کئی عام سی اداکارائوں کو اسٹار بنا دیا تھا۔
سورل، نولی کے پہلو میں کھڑا بہت خوش نظر آرہا تھا۔ ’’ڈارلنگ! میں نے تمہیں حیران کردیا نا۔‘‘
’’ہاں… سورل۔‘‘
’’بس اب ہم فوراً ہی شادی کرلیں گے۔ اب مجھ سے انتظار نہیں ہوتا۔ میں تمہیں اپنا بنانا چاہتا ہوں۔‘‘ وہ کہہ رہا تھا اور نولی اس کے شانے سے آرمنڈ کو اپنی طرف آتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔ وہ ابھی سوچ ہی رہی تھی کہ اسے کیا کرنا چاہیے کہ چند دوست سورل کو دوسری طرف لے گئے۔ پھر نولی نے دیکھا کہ آرمنڈ اس کے مقابل تھا۔ ’’مبارک ہو۔‘‘ وہ مسکرایا۔ ’’تم نے بڑی مچھلی پھنسائی ہے۔‘‘
’’کیا واقعی؟‘‘ نولی نے دلکش آنکھیں پھیلا کر مصنوعی حیرانی سے کہا۔
’’فلپ سورل ایک زبردست شکار ہے۔‘‘
’’شاید کسی کے لیے ہو؟‘‘ نولی نے لاتعلقی سے جواب دیا۔
آرمنڈ نے پوچھا۔ ’’کیا تم مجھے یہ بتانے کی کوشش کررہی ہو کہ تمہیں اس میں دلچسپی نہیں؟‘‘
’’میں تمہیں کچھ بتانے کی کوشش نہیں کررہی۔‘‘
’’گڈ لک!‘‘ وہ اتنا کہہ کر پلٹ گیا۔
’’مسٹر آرمنڈ۔‘‘ نولی نے پکارا۔
وہ رک گیا اور سوالیہ نگاہوں سے اس کی طرف دیکھا۔
’’کیا میں آج رات تم سے مل سکتی ہوں؟‘‘ نولی نے بہت مدھم لہجے میں کہا۔ ’’مجھے تم سے کوئی بات کرنی ہے۔‘‘
آرمنڈ نے ایک لمحے کے لیے بغور اس کی طرف دیکھا اور بولا۔ ’’اگر تمہاری یہ خواہش ہے تو ٹھیک ہے۔‘‘
’’میں تمہارے گھر آجائوں گی۔ کیا یہ مناسب رہے گا؟‘‘
’’ٹھیک ہے۔ میرا ایڈریس یہ ہے۔‘‘ وہ ایڈریس بتانے لگا۔
’’نہیں۔ شکریہ۔ مجھے ایڈریس معلوم ہے۔ بارہ بجے رات۔‘‘
’’ہاں۔ بارہ بجے رات۔‘‘ اس نے رضامندی میں سر کو جنبش دی۔
٭…٭…٭
ایک اونچی سوسائٹی کے علاقے میں شاندار پُرتعیش اپارٹمنٹس کی چوتھی منزل پر آرمنڈ کے فلیٹ کی نولی نے گھنٹی بجائی تو خود آرمنڈ نے دروازہ کھولا۔ نولی اندر داخل ہوئی۔ اسے ایک نگاہ میں ہی اندازہ ہوگیا کہ فلیٹ کی آرائش میں عمدہ ذوق اور بے تحاشا دولت کی آمیزش تھی۔ نولی ایک نشست پر بیٹھ گئی تو وہ گویا ہوا۔ ’’مس نولی! میں اس بارے میں متجسس ہوں کہ تمہاری نگاہ مجھ پر کیوں پڑی؟ تم ایک امیر کبیر اور مشہور آدمی کی منظورِ نظر اور منگیتر ہو۔ وہ تم سے شادی کرنے کا آرزومند ہے۔ اگر تمہیں دوستی کا دائرہ بڑھانا ہے تو تمہیں مجھ سے زیادہ خوبصورت، پرکشش، مالدار اور جوان لوگ آسانی سے مل جائیں گے۔ تم مجھ سے کیا چاہتی ہو؟‘‘
’’میں چاہتی ہوں کہ تم مجھے اداکاری سکھائو۔‘‘
آرمنڈ چند لمحے اس کی طرف دیکھتا رہا۔ پھر گہرا سانس لے کر بولا۔ ’’تم نے مجھے مایوس کیا۔ یہ بات تو اس شہر کی ہر دوسری لڑکی کی زبان پر ہے۔ تمہیں کوئی منفرد بات کرنی چاہیے تھی۔‘‘
’’تمہارا بزنس ہی اداکاروں کے ساتھ کام کرنا ہے۔‘‘
’’اداکارائوں کے ساتھ۔ ناپختہ اور نیم اداکاروں کے ساتھ نہیں۔ ویسے تم نے کبھی اداکاری کی ہے؟‘‘
’’نہیں۔ لیکن مجھے تم اداکاری سکھائو گے۔‘‘ وہ بڑے یقین سے بولی۔ اس نے اپنا ہیٹ اتار کر میز پر رکھ دیا۔ اس کے ریشمی بال اس کے شانوں پر بکھر گئے۔
آرمنڈ نے بغور اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’کیا تم فلپ سورل سے شادی کررہی ہو؟‘‘
’’نہیں۔ ہرگز نہیں۔ یہ میرا مقصد ہی نہیں۔‘‘
’’تو پھر تمہارا مقصد کیا ہے؟‘‘
’’میں نے تمہیں پہلے بھی بتایا ہے۔ میں ایکٹریس بننا چاہتی ہوں۔‘‘
آرمنڈ نے لمحے بھر کو سوچا پھر بولا۔ ’’یہاں کافی لوگ ایسے ہیں جو اداکاری سکھاتے ہیں۔ میں تمہیں کسی اچھے کوچ کے پاس بھیج دوں گا۔ وہ تمہیں…‘‘
’’نہیں۔‘‘ نولی نے فیصلہ کن انداز میں کہا مگر اس کا لہجہ ملائم تھا۔ اس کا انداز آرمنڈ کو سمجھا رہا تھا کہ وہ ہٹ کی پکی ہے اور اس کی ’نہیں‘ میں غصہ، ضد اور اپنی بات منوانے کا اعلان تھا۔
آرمنڈ کو ہتھیار ڈالنے پڑے۔ ’’چلو ٹھیک ہے۔ میں تمہیں ایک ڈرامے کا اسکرپٹ دیتا ہوں۔ جب یہ تمہیں یاد ہوجائے تو پھر ہم دیکھیں گے کہ تم میں کتنی صلاحیت ہے، اس کے بعد ہی فیصلہ ہوگا۔‘‘
’’شکریہ آرمنڈ۔‘‘ نولی کا لہجہ سپاٹ تھا۔ اس میں خوشی تھی اور نہ کوئی اطمینان۔ بس ایک سیدھے سادھے انداز میں لفظ کی ادائیگی تھی۔
آرمنڈ اپنے اسٹڈی روم میں گیا اور ایک اسکرپٹ لے آیا۔ وہ ایک مشہور کلاسیکل ڈرامہ تھا۔ جس میں اداکاری کرنی بہت مشکل تھی۔ وہ اسکرپٹ اس کے حوالے کرتے ہوئے بولا۔ ’’جب تم اسے یاد کرلو گی تو پھر ہم اس پر بات کریں گے۔‘‘
’’شکریہ آرمنڈ۔ تمہیں میری طرف سے کبھی مایوسی نہیں ہوگی۔‘‘ اس نے اسکرپٹ اپنے بیگ میں رکھ لیا۔
آرمنڈ کے یہاں نولی کو بہت دیر ہوگئی۔ وہ سورل کے فلیٹ پہنچی تو رات کا آخری پہر تھا۔ وہ بے چینی سے اس کا انتظار کررہا تھا۔ وہ اسے دیکھتے ہی دھاڑا۔ ’’آوارہ۔ بے وفا۔ تم ساری رات کہاں رہیں؟‘‘
نولی کے پاس اس کا کوئی معقول عذر نہیں تھا اور نہ ہی وہ کچھ سننے کے لیے تیار تھا۔ اسے بری طرح پیٹنے کے بعد اس کا غصہ کچھ کم ہوا تو وہ بولا۔ ’’نولی۔ تم نے مجھے بہت پریشان کیا ہے لیکن میں تمہیں معاف کرتا ہوں۔ آئندہ ہمارے درمیان کوئی ایسی بات نہیں ہونی چاہیے۔‘‘
’’نہیں فلپ۔ آئندہ کچھ نہیں ہوگا۔ ہمارا ساتھ ختم ہوچکا ہے۔ مجھے اب یہاں نہیں رہنا۔ میں اپنا سامان لینے آئی ہوں۔‘‘
سورل سکتے کی سی کیفیت میں اس کی طرف دیکھتا کا دیکھتا رہ گیا اور نولی اپنی چیزیں اکٹھا کرنے لگی۔
’’پلیز نولی! میرے ساتھ ایسا مت کرو۔ ہم ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔ ہم شادی کرلیں گے۔ ہم اکٹھے بہت خوش رہیں گے۔‘‘ جتنی دیر نولی سامان باندھتی رہی، سورل مجنونانہ انداز میں اسے روکنے کی کوشش کرتا رہا۔ کبھی محبت سے، کبھی پیار سے، کبھی دھمکی سے، کبھی لعنت ملامت کرکے لیکن نولی نے کسی بات کا جواب نہیں دیا۔ اپنا سوٹ کیس اور بیگ اٹھایا اور اس کے اپارٹمنٹ سے باہر نکل آئی۔
٭…٭…٭
اگلے دو تین دن اس نے مسلسل آرمنڈ کے ساتھ ڈنر کیا لیکن اس اسکرپٹ کے بارے میں کوئی بات نہیں کی جو آرمنڈ نے اسے دیا تھا۔ آرمنڈ محسوس کر رہا تھا کہ وہ اس کے دل و دماغ پر چھاتی جارہی ہے۔ وہ اس کے ساتھ ان موضوعات پر بھی بات کرسکتا تھا جن پر اس نے کبھی کسی سے بات نہیں کی تھی۔ کچھ ایسی ذاتی باتیں جو اس نے کبھی کسی کو بتانے کا سوچا بھی نہیں تھا اور ایسے ہی کچھ کرشمے جو اسے نولی کی ذات سے پھوٹتے ہوئے محسوس ہوتے تھے۔
ایک رات ڈنر کے بعد نولی نے اس کے اپارٹمنٹ چلنے کی فرمائش کی۔ آرمنڈ کے دل میں پھلجھڑیاں سی چھوٹنے لگیں۔ اسے خود پر حیرت ہو رہی تھی۔ اس کی زندگی میں ہزاروں حسینائیں آتی رہتی تھیں لیکن کسی کے لیے وہ اتنا پرجوش اور مشتاق نہیں ہوا تھا۔
وہ اس کی طرف متوجہ ہوا تو وہ بولی۔ ’’تم نے کہا تھا نا کہ تم مجھ سے اسکرپٹ سنو گے؟‘‘
’’ہاں۔ مجھے یاد ہے۔ جب تم اس کے لیے تیار ہوجائو گی۔‘‘ آرمنڈ نے جواب دیا۔
’’میں پوری طرح تیار ہوں۔‘‘ وہ بولی۔
آرمنڈ نے سر جھٹکا۔ ’’میں یہ نہیں چاہتا کہ تم اسے پڑھ کر سنائو بلکہ جب تم اسے یاد کرلو گی تو اسے تاثرات کے ساتھ سنانا تاکہ میں اندازہ لگا سکوں کہ تم میں اداکارہ بننے کی کتنی صلاحیت ہے۔‘‘
’’میں نے یاد کرلیا ہے۔‘‘ نولی نے اعتماد سے کہا۔
آرمنڈ نے بے یقینی سے اس کی طرف دیکھا کہ وہ صرف تین دن میں اتنا مشکل ڈرامہ کس طرح یاد کرسکتی تھی لیکن اس نے کچھ ظاہر کئے بغیر کمرے کے درمیان کی طرف اشارہ کیا۔ ’’اچھا۔ فرض کرلو کہ یہ تمہارا اسٹیج ہے اور حاضرین یہاں ہیں۔‘‘ وہ ایک آرام دہ نشست پر بیٹھتے ہوئے بولا۔
نولی نے بڑے اعتماد کے ساتھ اس کردار کی ادائیگی شروع کی جو اس نے اپنے لیے منتخب کیا تھا۔ آرمنڈ کے جسم میں ایک لرزش سی ہوئی جو عموماً اس وقت ہوتی تھی جب وہ اداکاری کی کسی خداداد صلاحیت کو دیکھتا تھا۔ اگرچہ نولی کی اداکاری میں پختگی اور تجربہ نہیں تھا لیکن ایک سچائی، فطری صلاحیت، نئے معنی اور رنگ تھا۔
جب نولی اپنا کردار ختم کرچکی تو آرمنڈ نے گرمجوشی سے کہا۔ ’’ہاں اب میں کہہ سکتا ہوں کہ تم ایک دن ایک قابل قدر اداکارہ بنو گی اور میں درست کہہ رہا ہوں، میں تمہیں جارجی کے پاس بھیجوں گا جو اس وقت اداکاری کا بہترین کوچ ہے۔ وہ تمہاری صلاحیتوں کو تراش کر ہیرا بنا دے گا۔‘‘
’’نہیں۔‘‘ اس کی نہیں میں کئی رنگ تھے جو سب نفی کے تھے۔
آرمنڈ نے کچھ الجھ کر اس کی طرف دیکھا۔ ’’جارجی یونہی کسی کو کوچنگ کے لیے نہیں لے لیتا۔ وہ بڑے بڑے اداکاروں کو شاگرد بناتا ہے، لیکن میں تمہیں وہاں بھیجوں گا تو اور بات ہوگی۔‘‘
’’نہیں۔‘‘ وہ سر اٹھائے اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔
’’نہیں۔ کیوں؟‘‘
’’میں صرف تمہارے ساتھ کام کروں گی۔‘‘
آرمنڈ نے محسوس کیا کہ اس کے اندر غصے کا تنائو ہے۔ ’’دیکھو! میں کوچ نہیں ہوں کہ کسی کو اداکاری سکھائوں… میں منجھے ہوئے اداکاروں کو ہدایات دیتا ہوں۔‘‘ اس نے بڑی کوشش سے اپنے لہجے کی درشتی کو کم کرتے ہوئے کہا۔ ’’میری بات تمہاری سمجھ میں آگئی۔‘‘
’’ہاں!‘‘ نولی نے اثبات میں سر ہلایا۔
’’یہ بہت اچھی بات ہے کہ تم نے میری بات سمجھ
لی۔‘‘ آرمنڈ اپنا موڈ ٹھیک کرتے ہوئے بولا۔
نولی کو اپنے اپارٹمنٹ جاتے جاتے صبح ہوگئی۔ دونوں نے ناشتہ اکٹھے کیا۔ آرمنڈ اپنے کام پر جاتے ہوئے کہنے لگا۔ ’’مجھے یقین ہے نولی کہ تم ایک حیران کردینے والی اداکارہ بنو گی جس پر مجھے فخر ہوگا۔‘‘
’’شکریہ آرمنڈ!‘‘ وہ مدھم سے لہجے میں گویا ہوئی۔
دن کو حسب معمول آرمنڈ نے نولی کو فون کیا تو اس نے نہیں اٹھایا۔ وہ اس ہوٹل میں پہنچا جہاں وہ ڈنر کیا کرتے تھے۔ وہ وہاں نہیں تھی۔ وہ اس امید پر گھر آیا کہ وہ اس کے انتظار میں ہوگی۔ اسے حیران کرنے کے لیے لیکن اسے مایوسی ہوئی۔ وہ تمام رات اس نے آنکھوں میں کاٹ دی۔ کئی بار نولی کے اپارٹمنٹ فون کیا مگر جواب ندارد…! صبح آفس جاتے ہوئے اس نے نولی کے اپارٹمنٹ کی گھنٹی کئی بار بجائی لیکن لاحاصل۔
وہ یوں غائب ہوگئی تھی جیسے اس کی زندگی میں کبھی آئی ہی نہیں تھی۔
اگلے تمام ہفتے اس کا کچھ پتا نہ چلا۔ نہ اس سے کوئی رابطہ ہو رہا تھا، اس بات نے آرمنڈ کو جیسے پاگل سا کردیا تھا۔ ڈراموں کی ریہرسل میں اس کی دلچسپی ختم ہوگئی تھی۔ وہ آرٹسٹوں پر خواہ مخواہ چیخنے لگا تھا۔ اپنے اسٹیج منیجر کے ساتھ اس کے اتنے اختلافات ہوئے کہ اس نے یہ تجویز پیش کی کہ ایک دو دن کے لیے ریہرسل کو روک دیا جائے۔ آرمنڈ مان گیا حالانکہ اسے کام کو التوا میں ڈالنا بالکل پسند نہیں تھا۔
جب اداکار اور دوسرے ملازمین چلے گئے تو وہ ایک کرسی پر تنہا بیٹھا سوچنے لگا کہ آخر اس کے ساتھ کیا مسئلہ ہے۔ اس نے خود کو سمجھانے کی کوشش کی کہ نولی کوئی خاص لڑکی نہیں تھی۔ دوسری لڑکیوں کی طرح وہ بھی شہرت اور دولت کی بھوکی تھی۔ اس نے ہر طریقے سے اسے اپنی نظروں سے گرانے کی کوشش کی لیکن اس کا نتیجہ پھر بھی یہی نکلا کہ نولی کے نہ ہونے سے اس کی زندگی میں جو خلا پیدا ہوگیا تھا، اسے کوئی دوسرا پُر نہیں کرسکتا تھا۔
جب وہ تھیٹر سے نکلا تو شہر کی گلیوں میں بے مقصد گھومتا رہا۔ اس نے ہر طریقہ سوچا کہ نولی تک کیسے پہنچا جائے لیکن اسے کامیابی نہیں ہوئی۔ کوئی ایسا نہیں تھا جس سے وہ اپنی اس پریشانی اور محرومی پر بات کرسکتا۔ کسی طرف سے کوئی امید، کوئی دلاسا نہیں تھا۔ اس کی بے قراری تھی کہ ہر آن بڑھتی جارہی تھی۔ ایک اور ناکام ہفتہ بے چینی میں گزرا۔ وہ مایوسیوں کا بوجھ اٹھائے اپنے اپارٹمنٹ میں داخل ہوا تو ٹھٹک گیا۔ اسے اپنی آنکھوں پر اعتبار نہیں آیا۔
گھر کی تمام روشنیاں جل رہی تھیں۔ نولی ایک آرام دہ نشست پر آلتی پالتی مارے بیٹھی کوئی کتاب پڑھ رہی تھی۔ اسے دیکھ کر وہ مسکرائی۔ ’’ہیلو آرمنڈ۔‘‘
آرمنڈ کا مایوس دکھی دل خوشی سے بھر گیا۔ اس کا سارا وجود سرور و شادمانی سے ناچ اٹھا۔ اس نے بغیر کسی تمہید کے کہا۔ ’’نولی! ہم کل سے اکٹھے کام شروع کریں گے۔‘‘
٭…٭…٭
کیتھرین کو نئے شہر اور نئے ماحول میں قدم جمانے میں اس لیے آسانی ہوگئی تھی کہ اسے اپنی ایک ہم جماعت کے فلیٹ میں رہنے کی جگہ مل گئی تھی۔ سوزی کافی ہوشیار لڑکی تھی۔ گرم سرد کا مزہ چکھے ہوئے تھی۔ اس نے جلد ہی اس کے لیے ایک ملازمت ڈھونڈ لی جو ایک مشہور تعلقات عامہ کے ماہر کے آفس میں تھی جس کا نام ولیم فریزر تھا۔
جب وہ نک سک سے درست کئے ہوئے مطلوبہ ایڈریس پر پہنچی تو سارا کمرہ لڑکیوں سے بھرا ہوا تھا۔ کچھ بیٹھی ہوئی تھیں، کچھ کھڑی تھیں، کچھ نے دیوار کے ساتھ ٹیک لگا رکھی تھی۔ ان کے باتیں کرنے کے شور نے ریسپشنسٹ کو پاگل کر رکھا تھا۔ وہ ان کے مختلف سوالوں کے جواب دیتے دیتے بولا گئی تھی۔ ’’مسٹر ولیم فی الحال مصروف ہیں۔‘‘
’’میں کچھ نہیں بتا سکتی کہ وہ کب آپ لوگوں کو بلائیں گے۔‘‘
’’نہیں۔ میرے پاس کوئی اطلاع نہیں ہے۔‘‘
اس وقت آفس کا اندرونی دروازہ کھلا اور ایک شخص باہر آیا۔ اس کا قد چھ فٹ سے کچھ تھوڑا ہی کم تھا۔ جسمانی طور پر وہ ایک کھلاڑی معلوم ہوتا تھا۔ اس کے گھنگھریالے بال سنہری تھے جو قلموں پر سے سفید ہونے لگے تھے۔ اس کی نیلی آنکھیں بے حد چمکدار تھیں اور نقوش مناسب تھے۔
’’سیلی۔ یہاں یہ کیا ہو رہا ہے؟‘‘ وہ گہری تحکمانہ آواز میں بولا۔
’’مسٹر ولیم۔ یہ لڑکیاں یہاں خالی ہونے والی سیٹ کا سن کر انٹرویو دینے آئی ہیں۔‘‘
’’اوہ خدایا! اس بارے میں مجھے بھی ابھی ایک گھنٹہ پہلے پتا چلا ہے۔‘‘ اس نے تمام لڑکیوں پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالتے ہوئے کہا۔ پھر ریسپشنسٹ سے بولا۔ ’’لائف میگزین کی ایک کاپی چاہیے۔ تین یا چار ہفتے پہلے کا پرچہ ہے جس کے سرورق پر اسٹالن کی تصویر ہے۔‘‘
’’مسٹر ولیم۔ میں اس کے لیے آرڈر کردیتی ہوں۔‘‘ وہ بولی۔
’’مجھے ابھی اور اسی وقت اس کی ضرورت ہے۔‘‘ وہ اتنا کہہ کر واپس آفس کی طرف چلا گیا۔
’’میں ان کے آفس فون کرکے پتا کرتی ہوں۔‘‘ سیلی نے کہا۔
وہ دروازہ کھولتے کھولتے رک گیا۔ ’’مجھے اس کا ایک پیراگراف ابھی فون پر سنانا ہے۔ تمہارے پاس دو منٹ ہیں۔ جلدی یہ میگزین تلاش کرو۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے آفس کا دروازہ زور سے بند کردیا۔
ملازمت کے لیے آئی ہوئی لڑکیوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر شانے جھٹکے۔ اتنے سے وقت میں کرشمہ دکھانا بہت مشکل تھا بلکہ ناممکن تھا۔ کیتھرین کا ذہن بڑی تیزی کے ساتھ سوچ رہا تھا۔ لمحے بھر بعد وہ بڑی تیزی کے ساتھ لڑکیوں کے درمیان سے راستہ بناتی آفس سے باہر نکل گئی۔
ریسپشنسٹ نے کئی جگہ فون کیا لیکن ناکامی ہوئی۔ لڑکیاں رنگ رنگ کی بولیاں بول رہی تھیں۔ کوئی کچھ کہتی تھی تو کوئی کچھ … جس کی وجہ سے ریسپشنسٹ سخت جھنجھلا رہی تھی۔ انٹرکام کی گھنٹی بجی۔ ریسپشنسٹ نے جلدی سے ریسیور اٹھایا۔ ’’سیلی دو منٹ گزر چکے ہیں۔ کہاں ہے میگزین۔‘‘
’’مسٹر ولیم۔ میں نے… میں نے۔‘‘ وہ ہکلائی۔
دروازہ کھلا اور کیتھرین دوڑتی ہوئی اندر داخل ہوئی۔ اس کے ہاتھ میں میگزین تھا جس کے سرورق پر اسٹالن کی تصویر تھی۔ وہ ریسپشنسٹ کے ڈیسک کے سامنے رکی اور میگزین اس کے ہاتھ میں تھما دیا۔ ریسپشنسٹ کے بجھے ہوئے چہرے پر رونق آگئی۔ اس کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ وہ خوشی کے لہجے میں بولی۔ ’’سر… سر… میگزین کی ایک کاپی مل گئی ہے۔ میں ابھی لے کر آتی ہوں۔‘‘ وہ اپنی جگہ سے اٹھی، کیتھرین پر ایک ممنون نگاہ ڈالتی تیز قدموں سے آفس میں چلی گئی۔ دوسری لڑکیاں پلٹ پلٹ کر کیتھرین کی طرف دیکھنے لگیں۔ ان کی آنکھوں میں نفرت تھی۔
پانچ منٹ بعد آفس کا مرکزی دروازہ کھلا۔ ولیم فریزر، ریسپشنسٹ کے ساتھ باہر آیا۔ اس نے کیتھرین کی طرف اشارہ کیا۔ ’’یہ ہے وہ لڑکی؟‘‘
ولیم اس کی طرف پلٹا۔ ’’پلیز! ذرا اندر آئو۔‘‘
’’یس سر۔‘‘ کیتھرین اس کے پیچھے پیچھے چل پڑی۔ اسے اندازہ تھا کہ باقی لڑکیاں جارحانہ نگاہوں سے اس کی طرف دیکھ رہی ہیں۔
ولیم کا آفس بیوروکریٹس کے مخصوص آفس جیسا تھا۔ وہ دروازہ بند کرتے ہوئے بولا۔ ’’بیٹھ جائو مس۔‘‘
’’کیتھرین الیگزینڈر۔‘‘ کیتھرین نے اپنا نام بتایا۔
’’تم اتنی جلدی میگزین کہاں سے لے آئیں مس؟‘‘
کیتھرین مسکرائی۔ ’’مجھے یاد تھا کہ نیچے ایک باربر شاپ ہے۔ عموماً باربر اور دانتوں کے ڈاکٹروں کے کلینک میں پرانے اخبار اور میگزین کافی تعداد میں موجود ہوتے ہیں۔ میں نے یہ میگزین وہاں سے لیا ہے۔‘‘
’’بہت خوب۔ شاید مجھے اس کا خیال بھی نہیں آتا۔ کیا دوسری چیزوں کے بارے میں بھی تمہارے پاس ایسے ہی عمدہ خیالات اور تجاویز ہیں؟‘‘
’’ہر موقع پر یہ ضروری نہیں۔‘‘ وہ انکساری سے بولی۔
’’کیا تم یہاں انٹرویو دینے آئی تھیں۔ سیکرٹری شپ کے لیے؟‘‘
’’نہیں، حقیقت یہ نہیں ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ میں تمہاری نگرانی میں کام کرنا چاہتی ہوں، بہ طور اسسٹنٹ۔‘‘
’’تم ابھی سیکرٹری کا چارج تو سنبھالو۔ پھر دیکھیں گے کہ تم میں کتنی صلاحیت ہے۔‘‘ وہ خشک لہجے میں بولا۔
’’یعنی مجھے ملازمت مل گئی ہے؟‘‘ کیتھرین نے پرامید لہجے میں پوچھا۔
’’ہاں مگر آزمائشی طور پر۔‘‘ اس نے کہا۔ پھر انٹرکام میں بولا۔ ’’سیلی دوسری خواتین کو بتادو کہ اسامی پُر ہوچکی ہے۔ ان کا شکریہ ادا کردو تاکہ وہ واپس چلی جائیں۔‘‘
کیتھرین کے لیے اس نئی ملازمت میں بڑی کشش اور حسن تھا۔ ٹیلیفون دن بھر بجتا رہتا تھا۔ وہ دن بھر مصروف رہتی تھی۔ ولیم الگ تھلگ اور لاتعلق سا رہتا تھا۔ وہ اپنے کام سے کام رکھتا تھا اور کام کو وقت پر کرنے کا عادی تھا۔ اس کے رویے میں غرور یا خود پسندی نہیں تھی بلکہ ایک وقار اور خلوت پسندی تھی۔ یوں جیسے وہ لوگوں میں گھلنا ملنا نہ چاہتا ہو۔
کچھ ہی عرصے بعد دوسرے دفتروں میں کام کرنے والی لڑکیوں کے ساتھ بھی اس کی علیک سلیک ہوگئی تھی۔ ان میں اکثر نے اپنے باس کے ساتھ محبت کی پینگیں بڑھا رکھی تھیں۔ انہیں اس کی کوئی پروا نہیں تھی کہ وہ شادی شدہ ہیں یا کتنے بچوں کے باپ ہیں۔ وہ کیتھرین کے بارے میں بھی فکرمند رہتی تھیں کہ ابھی تک مسٹر ولیم کے ساتھ اس کا کوئی خاص رشتہ کیوں استوار نہیں ہوا تھا حالانکہ وہ اپنی بیوی کو کئی سال پہلے طلاق دے چکا تھا اور اب اکیلا رہتا تھا۔
کیتھرین اسے اس کے شفاف رویے کی وجہ سے پسند کرنے لگی تھی۔ وہ اچھی عادات کا مالک تھا۔ دوسروں کی مدد کرنے میں خوشی محسوس کرتا تھا اور کبھی جتاتا نہیں تھا۔ ایک روز کام کی زیادتی کی وجہ سے اس نے کیتھرین کو دعوت دی کہ وہ اس کے ساتھ گھر چل کر کھانا کھائے اور کام مکمل کروا دے۔ کیتھرین کو اس پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔ جب وہ اس کے ساتھ اس کی شاندار لیموزین میں بیٹھی تو دوسرے دفتروں کی لڑکیاں معنی خیز نگاہوں سے اس کی طرف دیکھ رہی تھیں۔
جب لیموزین ٹریفک کے درمیان فراٹے بھرنے لگی تو کیتھرین نے مسٹر ولیم سے کہا۔ ’’کہیں تمہاری شہرت کو نقصان تو نہیں پہنچے گا؟‘‘
ولیم ہنس پڑا۔ ’’میں تمہیں ایک مشورہ دیتا ہوں۔ اگر تم کسی مشہور آدمی کے ساتھ محبت کا کھیل کھیلنا چاہتی ہو تو ایسا کھلے عام کرو۔‘‘
’’اس طرح تو سردی بھی لگ سکتی ہے۔‘‘ کیتھرین نے ظریفانہ انداز میں کہا۔
وہ مسکرایا۔ ’’نہیں ضروری نہیں… یہ مشہور ریسٹورنٹ، تھیٹر بھی تو ہوسکتے ہیں تاکہ گپیں مارنے اور افواہیں اڑانے والے یہ نہ کہہ سکیں کہ فلاں فلاں سے چھپ چھپ کر مل رہا ہے۔‘‘
’’دلچسپ بات ہے۔‘‘ کیتھرین نے کہا۔
مسٹر ولیم کا گھر آگیا جو اتنا خوبصورت تھا جیسے کسی تصویروں والی کتاب سے نکل کر مجسم ہوگیا ہو۔ یہ قدیم طرز تعمیر کا شاہکار تھا جو دو صدیاں پہلے بنا ہوا معلوم ہوتا تھا۔ سفید جیکٹ میں ملبوس ایک بٹلر نے دروازہ کھولا۔ ولیم نے اس کا تعارف کروایا تو کیتھرین نے کہا۔ ’’میری کئی مرتبہ تم سے بات ہوئی ہے فون پر۔‘‘
’’یس میڈم۔‘‘ وہ تھوڑا سا خم ہوکر بولا۔
ہال بہت خوبصورت تھا۔ ایک لکڑی کا منقش زینہ دوسری منزل تک جارہا تھا۔ ہال کے درمیان میں ایک چمکتا دمکتا فانوس جھلملا رہا تھا۔ وہ اس کی طرف دیکھ کر بولا۔ ’’آئو۔ اسٹڈی میں آجائو۔‘‘
اسٹڈی میں الماریاں کتابوں سے بھری ہوئی تھیں۔ فرنیچر شاندار تھا۔ یہاں صدیوں پہلے کا ایک علمی اور آرام دہ تصور تھا۔
بٹلر کمرے میں آیا۔ ’’سر! آپ کھانا کس وقت کھائیں گے؟‘‘
’’ساڑھے سات بجے۔‘‘ ولیم نے جواب دیا۔
’’میں کک کو بتا دیتا ہوں۔‘‘ وہ مٔودبانہ لہجے میں کہہ کر چلا گیا۔
کیتھرین کتابیں دیکھنے لگی۔ ان میں مختلف زبانوں کی کتابیں موجود تھیں۔ اس نے ولیم سے پوچھا۔ ’’کیا تم یہ زبانیں جانتے ہو؟‘‘
’’ہاں۔ میں کچھ عرصہ مڈل ایسٹ میں رہا ہوں۔ وہاں میں نے عربی سیکھی تھی اور ایک بار ایک اداکارہ کے ساتھ کچھ عرصے کے لیے اٹلی گیا تھا۔ وہاں اطالوی زبان سیکھی۔‘‘
’’اوہ سوری۔ میرا مطلب کوئی کھوج لگانا نہیں تھا۔‘‘ کیتھرین نے جلدی سے کہا۔
ولیم نے اس کی طرف دیکھا۔ اس کی نیلی آنکھوں میں محظوظ ہونے کی کیفیت تھی۔ کیتھرین کو لگا جیسے وہ اس کے سامنے کسی اسکول کی بچی کی طرح ہے۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اس کے دل میں ولیم کے لیے محبت ہے یا نفرت۔ لیکن یہ ضرور تھا کہ وہ ایک بے حد مہذب اور نفیس انسان تھا۔
کھانا لگ گیا تھا۔ کھانے پر بڑا اہتمام کیا گیا تھا۔ سب کھانے لذیذ اور بہترین تھے۔ کیتھرین نے مسکراتے ہوئے ایک مشہور ریسٹورنٹ کا نام لیا۔ ’’کھانا… ان کے کھانوں سے بہت اچھا ہے۔‘‘
’’چلو۔ ہم کبھی وہاں کھا کر دیکھیں گے۔‘‘ ولیم بولا۔
’’اگر میں تمہاری جگہ ہوتی تو کبھی ایسا نہ کرتی۔‘‘
’’کیا وہاں کا کھانا اتنا ہی برا ہے؟‘‘
’’نہیں کھانا نہیں… وہاں لڑکیاں بہت ہیں جو تمہیں گھیر لیتیں۔‘‘
’’کیوں؟‘‘
’’لڑکیاں سارا وقت تمہاری ہی باتیں کرتی ہیں۔‘‘
’’تمہارا مطلب ہے کہ وہ میرے بارے میں سوالات کرتی ہیں۔‘‘
(جاری ہے)