Nafrat | Episode 3

485
’’ہاں… بہت!‘‘کیتھرین نے مسکرا کر سر ہلایا۔
’’میرا خیال ہے۔ انہیں بہت مایوسی ہوگی، جب انہیں زیادہ معلومات نہیں ملیں گی۔‘‘
’’نہیں… ہرگز نہیں۔‘‘ وہ بولی۔ ’’میں انہیں بہت سی کہانیاں گھڑ گھڑ کر سناتی رہتی ہوں۔‘‘
ولیم کرسی کی پشت سے ٹیک لگاتے ہوئے بولا۔ ’’کیسی کہانیاں؟‘‘
’’کیا تم سننا پسند کرو گے؟‘‘
’’یقیناً۔‘‘
’’میں انہیں بتاتی ہوں۔ تم ایک عفریت ہو۔ تم تمام دن مجھ پر حکم چلاتے رہتے ہو۔ ہر لمحہ چنگھاڑنا تمہاری عادت ہے۔‘‘ وہ شرارت سے بولی۔
’’ایسا تمام دن تو نہیں ہوتا۔‘‘ وہ مسکرایا۔
’’میں انہیں بتاتی ہوں کہ تم بڑے بد دماغ ہو۔ ہر وقت اپنے پاس لوڈڈ پستول رکھتے ہو۔ جب تم مجھے کچھ لکھواتے ہو تو مجھے لگتا ہے کہ کسی بھی وقت اس پستول سے فائر ہوگا اور میں ماری جائوں گی۔‘‘
’’پھر تو وہ ان باتوں میں کافی دلچسپی لیتی ہوں گی۔‘‘
’’ہاں۔ اس بات میں انہیں بہت دلچسپی ہے کہ تم حقیقتاً کیسے ہو؟‘‘
’’اور تمہیں کیا میری حقیقت معلوم ہوئی؟‘‘ اس کے انداز میں سنجیدگی در آئی۔
کیتھرین نے اس کی چمکدار نیلی آنکھوں میں ایک لمحے کو دیکھا۔ ’’ہاں، کچھ کچھ!‘‘
’’مثلاً…؟‘‘
کیتھرین کو محسوس ہوا کہ ماحول میں، گفتگو کے انداز اور فضا میں کچھ تبدیلی ہوئی ہے۔ ایک ایسی تبدیلی جو الجھا دینے والی تھی جو دل کو دھڑکا دینے والی تھی جو دل میں کہیں دور نغموں کو جگا دینے والی تھی۔ کیتھرین خاموش رہی۔ اس نے جواب نہیں دیا۔
ولیم نے لمحے بھر کو اس کی طرف دیکھا۔ پھر مسکرایا۔ ’’میرا خیال ہے کہ میں ایک بور شخصیت ہوں۔‘‘ پھر تھوڑے توقف کے بعد بولا۔ ’’میٹھا اور چاہیے؟‘‘
’’نہیں شکریہ! میرا خیال ہے کہ میں نے اتنا کھا لیا ہے کہ اب میں ہفتہ بھر کچھ نہیں کھائوں گی۔‘‘
’’تو پھر کام کی طرف دھیان دینا چاہیے۔‘‘
کام کہیں آدھی رات کے قریب ختم ہوا۔ ولیم اسے دروازے تک چھوڑنے آیا۔ باہر ڈرائیور اسے اپارٹمنٹ تک چھوڑنے کے لیے انتظار میں تھا۔ کیتھرین تمام راستے ولیم کے بارے میں سوچتی آئی۔ اس کا مزاج، اس کی توجہ، اس کی تہذیب اور بہت سی ایسی باتیں جو اس نے آج تک کسی اور مرد میں نہیں دیکھی تھیں۔ یہ شام کیتھرین کی زندگی میں ایک یادگار اور حسین ترین شام تھی۔
اس بات نے اسے چونکا دیا تھا۔ اس کے دل میں ایک انجانے خوف اور فکرمندی کو جگا دیا تھا کہ کہیں وہ ان سیکرٹریوں جیسی نہ بن جائے جو حسد کے مارے جلی بھُنی رہتی ہیں اور ہر لڑکی کو شک کی نگاہ سے دیکھتی ہیں جس سے باس ذرا سی بھی مسکرا کر بات کرلے لیکن نہیں وہ ایسا نہیں ہونے دے گی۔ وہ بھلا کس کس کو روک سکتی تھی جبکہ آدھے شہر کی لڑکیاں ولیم پر مرتی تھیں۔ وہ اتنے بڑے ہجوم میں شامل نہیں ہونا چاہتی تھی۔
وہ اپارٹمنٹ پہنچی تو سوزی ابھی تک جاگ رہی تھی۔ وہ اس سے راز کی باتیں پوچھنے کے لیے بے قرار تھی لیکن اس کے پاس سوزی کو بتانے کے لیے ایسی کوئی بات نہیں تھی۔
٭…٭…٭
اگلے تین ہفتے ولیم غیر ملکی دوروں پر رہا۔ اس کی غیر موجودگی میں کیتھرین نے آفس کا تمام کام سنبھالا۔ بہت سے لوگ آفس میں آتے رہے۔ کیتھرین کو لنچ اور ڈنر کی دعوتیں ملتی رہیں لیکن اس نے کسی کی دعوت قبول نہیں کی۔ ولیم کے بغیر آفس اور اس کا دل، دونوں ہی خالی اور ویران ہوگئے تھے۔ ولیم کا خیال اسے کسی اور مرد کی طرف متوجہ نہیں ہونے دیتا تھا۔
پھر ایک شام جب وہ کام میں بہت مصروف تھی کہ ولیم اچانک آگیا۔ کیتھرین نے سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا۔ وہ رسمی بات چیت کے بعد بولا۔ ’’کیتھرین! یہ کس کام میں تم اتنی زیادہ مصروف ہو؟‘‘
’’ایک رپورٹ ختم کرنا چاہتی ہوں۔‘‘ کیتھرین نے دل کی دھڑکنوں پر قابو پاکر کہا کہ اسے اتنے دنوں بعد دیکھنا، دل میں کچھ انجانے سے جذبوں کو جگا رہا تھا۔
وہ اس کے سامنے ایک کرسی پر بیٹھ گیا۔ کیتھرین اس کی نگاہوں کی تپش اپنے چہرے پر محسوس کرتی رہی۔ پھر وہ اس سے مخاطب ہوا۔ ’’تمہیں یاد ہے۔ پہلے دن تم نے کیا کہا تھا؟‘‘
’’نہیں۔ شاید میں نے کوئی بے وقوفی کی بات کی ہوگی۔‘‘
وہ مسکرا کر بولا۔ ’’تم نے کہا تھا کہ تم میرے ساتھ کام کرنا چاہتی ہو۔‘‘
کیتھرین نے اثبات میں سر ہلایا۔
’’پچھلے تین ماہ سے تم یہی کچھ کررہی ہو یعنی بطور میری اسسٹنٹ کام کررہی ہو۔ میرا خیال ہے کہ اب اس کو باقاعدہ کردیا جائے۔‘‘
’’کچھ سمجھ میں نہیں آرہا کیا کہوں؟‘‘ وہ جھجکی۔ ’’مگر آپ کو کبھی اس پر افسوس نہیں ہوگا۔‘‘
’’میں پہلے ہی اس پر افسردہ ہوں۔‘‘ وہ مسکرایا۔ اس کی نیلی آنکھوں میں شرارت جھلکی۔
کیتھرین گھر آئی تو اس کی تمام رات آنکھوں میں کٹ گئی۔ اسے ولیم کی نگاہیں، ان کا ارتکاز اور ان سے پیدا ہونے والے جذبات میں ہلچل یاد آتی رہی۔ اس کی آنکھیں ولیم کا ہی طواف کرتی رہیں۔
اگلے دن آفس میں اس نے حسب معمول پاپا کو فون کیا۔ وہ چاہتی تھی کہ وہ اس کےپاس آجائیں۔ وہ انہیں سب سے ملوائے خصوصاً ولیم سے… وہ یہ دیکھ کر کتنے خوش ہوں گے کہ اس نے اپنا ایک مقام بنا لیا ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد فون، پاپا نے نہیں انکل نے اٹھایا اور بولے۔ ’’کیتھی میں تمہیں فون کرنے ہی والا تھا۔‘‘
’’خیریت!‘‘ کیتھرین کا دل بیٹھنے لگا۔
وہ تھوڑے وقفے کے بعد بولے۔ ’’ان پر فالج کا حملہ ہوا ہے۔ میں چاہتا تھا کہ تمہیں جلد بتا دوں۔ لیکن تمہارے پاپا نے مجھے منع کردیا۔ وہ تمہیں پریشان نہیں کرنا چاہتے تھے۔‘‘
’’اب پاپا کیسے ہیں؟‘‘
’’کچھ زیادہ بہتر نہیں ہیں۔‘‘ انکل محتاط لہجے میں بولے۔
’’بس۔ میں پہنچ رہی ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے ریسیور رکھ دیا اور فوراً ولیم کو صورتحال سے آگاہ کیا۔
’’اوہ۔ افسوس ہے… میں اس کے لیے کیا کرسکتا ہوں؟‘‘
’’میں فوراً پاپا کے پاس پہنچنا چاہتی ہوں۔‘‘ اس کی پلکوں پر آنسو آن ٹھہرے تھے۔
ولیم نے اس کی روانگی کا تمام انتظام منٹوں میں کردیا۔ اس کا ڈرائیور اسے ایئرپورٹ چھوڑ آیا۔ وہ تمام راستے اپنے دل کو سمجھاتی ہوئی گئی کہ سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔ پاپا ہنستے ہوئے اس سے ملیں گے مگر وہاں کچھ بھی ٹھیک نہیں تھا۔
انکل اور آنٹی اسے لینے کے لیے ایئرپورٹ پر موجود تھے لیکن ان کے چہرے دیکھ کر ہی کیتھرین کو اندازہ ہوگیا کہ اسے بہت دیر ہوچکی تھی۔ وہ بغیر کچھ کہے سیدھے چرچ چلے گئے۔ کیتھرین کے اندر ایک ناقابل تلافی نقصان کا احساس بڑھتا جارہا تھا۔ اس کے اندر تنہائی کا صحرا پھیلتا جارہا تھا۔ اس کا ایک جیتا جاگتا جسم کا حصہ مر گیا تھا۔ پاپا کی میت ایک سادہ سے تابوت میں موجود تھی۔ انہیں ان کا بہترین سوٹ پہنایا گیا تھا۔ وہ بہت کمزور اور لاغر ہوچکے تھے۔
ان کو دفنانے کے بعد ان کی چیزیں ایک لفافے میں ڈال کر کیتھرین کو سونپ دی گئی تھیں جس میں کچھ رقم، کچھ خطوط، کچھ تصویریں اور ایسی ہی چھوٹی چھوٹی چیزیں جنہیں دیکھ کر کیتھرین کا دل ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا۔ وہ کتنے بڑے بڑے خواب دیکھتے تھے لیکن ان کی تعبیر کتنی حقیر اور چھوٹی تھی۔ اسے یاد آرہا تھا کہ وہ کتنے ہنس مکھ انسان تھے۔ بچپن میں جب وہ پردیس سے لوٹتے تھے تو گھر ان کے قہقہوں اور باتوں سے گونج اٹھتا تھا۔ بہت سی ایسی باتیں تھیں جو کیتھرین ان سے کہنا چاہتی تھی۔ وہ ان کے لیے بہت کچھ کرنا چاہتی تھی مگر اب بہت دیر ہوچکی تھی۔ بہت دیر۔
پاپا کو دفنایا جا چکا تھا اور ان کے بغیر زندگی ویران ہوچکی تھی۔ کیتھرین کا دل وہاں ذرا بھی نہیں لگا تھا۔ وہ پہلی فلائٹ سے واپس آگئی۔ ولیم ایئرپورٹ پر موجود تھا اور اس کا وہاں ہونا ایک بہت ہی فطری اور اپنائیت بھرا اظہار تھا۔ اس کا یوں خیال کرنا، اس کا دکھ درد بٹانا، اس کے آنے کا انتظار کرنا اور امید پر پورا اترنا۔ یہ یقین کہ جب بھی اس کی ضرورت ہوگی، وہ ہمیشہ اس کے لیے موجود ہوگا۔
اس کے ہونے سے کیتھرین کو تحفظ کا احساس ہو رہا تھا۔ پاپا کے بعد جو بے سائبان ہونے کا احساس ہو رہا تھا۔ اس کی جگہ گھنی چھائوں نے لے لی تھی۔ ولیم اسے ایک دور دراز قصبے میں ڈنر کے لیے لے گیا۔ وہ بڑی خاموشی سے اس کے دل کی باتیں سنتا رہا جو سب کی سب پاپا کے بارے میں تھیں اور وہ انہیں کسی غمگسار اور ہمدرد کے سامنے بیان کرنا چاہتی تھی۔ وہ کسی کو اپنے ان دکھوں میں شریک کرنا چاہتی تھی۔ کئی بار اس کی پلکیں بھیگیں، کئی بار اس کی آواز بھرائی۔ آنسوئوں نے اس کے گلے میں پھندا ڈالا اور کئی بار وہ اس کے گلابی رخساروں پر بہہ نکلے لیکن ولیم کے سامنے اسے شرمندگی ہوئی، نہ پشیمانی بلکہ اس کے دل کا بوجھ ہلکا ہونے لگا۔
ولیم نے اسے مشورہ دیا کہ وہ کچھ دن چھٹی لے کر آرام کرے اور اپنے دماغ کو آسودگی دے۔ مگر اس کے برعکس کیتھرین خود کو مصروف رکھنا چاہتی تھی تاکہ پاپا کی جدائی کا غم کم کرسکے۔ ولیم نے اس سے اتفاق کرلیا۔ وہ ہفتے میں ایک یا دو بار ولیم کے ساتھ ڈنر کرنے کی عادی ہوگئی۔ وہ ولیم کو خود سے اتنا قریب محسوس کرتی تھی جتنا کبھی کوئی نہیں ہوا تھا۔
٭…٭…٭
نولی تھیٹر کی دنیا میں آئی اور چھا گئی۔ وہ راتوں رات دلوں کی دھڑکن بن گئی۔ آرمنڈ نے اس پر محنت تو بہت کی تھی، نولی نے بھی اس کی محنت کا صلہ اسے اپنی کامیابی کی صورت میں دیا تھا۔ وہ اس کا پشت پناہ تھا۔ وہ اس کا سہارا اور اسے ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرنے والا تھا۔ نولی جانتی تھی کہ وہ اس کی محبت میں ڈوب چکا ہے۔ اسے ہر وقت یہ اندیشہ رہتا ہے کہ کہیں وہ اسے چھوڑ کر نہ چلی جائے کیونکہ بہت سے لوگ اس کے پرستار تھے اور اس کے ایک اشارے کے منتظر رہتے تھے لیکن وہ کسی کی طرف مائل نہیں ہوتی تھی۔ اس نے بڑی بڑی پیشکشیں ٹھکرا دی تھیں۔ لوگ آرمنڈ کو رشک و حسد سے دیکھتے تھے۔
آرمنڈ جانتا تھا کہ اس کے دل میں اس کی محبت نہیں۔ وہ اس کی ضرورت ہے۔ اس کے دل کی گہرائیوں میں کیا چھپا ہے وہ جان نہیں پایا تھا، نہ ہی کبھی نولی نے اسے اپنے دل میں جھانکنے ہی دیا تھا۔ اس کے لیے یہ غنیمت تھا کہ نولی اس کے قریب تھی اور اس کے سارے کام بڑی خوش اسلوبی سے کردیتی تھی۔
نولی یہ سب کچھ کیوں کررہی تھی۔ یہ صرف وہی جانتی تھی۔ اس نے تھیٹر اور فلم میں اپنا نام بنایا تھا۔ اس کے مشہور رسالوں میں انٹرویو چھپتے رہتے تھے جن میں وہ بڑے اہتمام سے تصویریں اترواتی تھی۔ اس کے دل میں جو بات تھی، اس نے کبھی کسی کو نہیں بتائی تھی۔ اس کی شدت سے آرزو تھی کہ تھیٹر کی اگلی قطار میں کہیں لیری ڈگلس بیٹھا اس کی اداکاری سے لطف اندوز ہورہا ہو یا کسی سنیما میں بیٹھا اس کی فلم دیکھ رہا ہو اور اسے وہ لمحے یاد آئیں جو اس نے کبھی اس کے ساتھ گزارے تھے۔ شاید یہ یادیں اسے واپس لے آئیں اور اسے اس سے انتقام لینے کا موقع مل جائے اور اس کے جلتے ہوئے دل کا علاج ہوجائے۔
اس کے پاس ایک ایک تفصیل محفوظ تھی جو سراغرساں نے اسے دی تھی۔ تازہ ترین اطلاع یہ تھی کہ لیری کی منگنی ٹوٹ گئی تھی کیونکہ اس کی منگیتر کو لیری کی بے راہ روی کی خبر ہوگئی تھی۔ اس خبر سے نولی کو ایک عجیب سی آسودگی حاصل ہوئی تھی۔ وہ اس کے بارے میں ایسی بہت سی خبروں کے بارے میں جاننا چاہتی تھی۔
ایک رات وہ ڈرامے کے بعد ڈریسنگ روم میں اپنا میک اَپ اتار رہی تھی کہ گارڈ اندر آیا اور بولا۔ ’’مس پیگی! ایک صاحب آپ کے لیے یہ دے کر گئے ہیں۔‘‘
نولی نے آئینے سے دیکھا۔ وہ سرخ گلابوں کا ایک بڑا گلدستہ اٹھائے ہوئے تھا جو ایک قیمتی خوبصورت گلدان میں سجے ہوئے تھے۔
’’اسے وہاں رکھ دو۔‘‘ نولی نے اشارہ کیا اور اسے احتیاط سے گلدان رکھتے ہوئے دیکھنے لگی۔ سردیاں شروع ہوچکی تھیں۔ یہ گلاب کا موسم نہیں تھا، نہ ہی اب پھولوں کی دکانوں پر گلاب نظر آتے تھے۔ یہ تروتازہ سرخ گلاب تھے جن پر شبنم کے قطرے چمک رہے تھے۔ یہ یقیناً کہیں سے خصوصی طور پر منگوائے گئے تھے۔ نولی نے اٹھ کر ان کے ساتھ منسلک کارڈ پر نگاہ ڈالی۔ ’’حسین مس پیگی کے لیے… اس درخواست کے ساتھ کہ کبھی میرے ساتھ ڈنر کریں۔‘‘ باربٹ۔
گارڈ بولا۔ ’’وہ اس کا جواب چاہتے ہیں۔‘‘
’’انہیں کہہ دو کہ میں ایسے ڈنر نہیں کیا کرتی اور یہ پھول تم اپنی بیوی کے لیے لے جائو۔‘‘
’’لیکن وہ… وہ شاید خفیہ والا ہے۔‘‘ گارڈ کچھ حیران کچھ پریشان ہوکر بولا۔
’’تم اسے لے جائو۔‘‘
گارڈ نے سر ہلایا اور گلدان اٹھا کر باہر نکل گیا۔ نولی جانتی تھی کہ اب یہ خبر بہت جلد ہر ایک کے ہونٹوں پر ہوگی کہ اس نے اتنا بڑا اعزاز ٹھکرا دیا تھا۔ وہ کسی سے مرعوب نہیں تھی۔
اسی مہینے نولی کے مشہور ڈرامے کو اسٹیج ہوتے پورا ایک سال گزر گیا تھا۔ اس کی سالگرہ منانے کے لیے تمام اداکاروں نے ایک تقریب کا اہتمام کیا تھا جس میں کئی خاص مہمانوں کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ ان میں سے ایک شخص نولی کو کچھ منفرد نظر آیا۔ وہ تقریباً چالیس سال کا ایک اسمارٹ انسان تھا جس کی ذہین سبز آنکھوں کو اس نے کئی بار خود پر مرکوز دیکھا تھا۔ اس کے لمبے چہرے پر زخم کا ایک نشان اس کے رخسار سے اس کی ٹھوڑی تک چلا گیا تھا۔ وہ ایک کرسی پر بہت اطمینان سے بیٹھا زیادہ تر اس کی طرف دیکھتا رہا لیکن اس کے قریب نہیں آیا۔
اگلی شام جب وہ ڈرامے کے بعد ڈریسنگ روم میں آئی تو ایک گلاب اس کا منتظر تھا۔ وہ ایک چھوٹے سے خوبصورت قیمتی گلدان میں آویزاں تھا۔ منسلک کارڈ پر تحریر تھا۔ ’’شاید ہمیں چھوٹی چیزوں سے آغاز کرنا چاہیے۔ کیا میں تم سے مل سکتا ہوں؟‘‘ باربٹ۔
نولی نے وہ نوٹ اتار کر پھینک دیا اور گلدان ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا۔
اگلے دن ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی۔ نولی نے تصویروں کی نمائش کا افتتاح کیا جو ایک مشہور آرٹ گیلری میں منعقد ہوئی تھی۔ شائقین سے سارا ہال بھرا ہوا تھا۔ بہت سے جانے پہچانے لوگ بھی یہاں موجود تھے۔ فوٹو گرافر بھی حسین چہروں کو کیمرے میں قید کررہے تھے۔ نولی مختلف پینٹگز کو دیکھ رہی تھی کہ کسی نے اس کے بازو کو آہستگی سے چھوا۔ نولی چونک کر مڑی تو اس نے میڈم روزی کو اپنے سامنے پایا جسے پہچاننے میں اسے کچھ وقت لگا۔
وقت کی گرد نے اس کے چہرے کو کافی بدل دیا تھا لیکن پھر بھی وہ اسے پہچان گئی تھی۔ اس نے لمبا سیاہ کوٹ پہن رکھا تھا۔ نولی نے کچھ کہنا چاہا لیکن میڈم روزی نے اس کا بازو دبا کر خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور دھیرے سے بولی۔ ’’کیا تم مجھ سے مل سکتی ہو؟‘‘ اس نے ایک جگہ کا نام لے کر پوچھا۔
اس سے پہلے کہ نولی ہاں یا نا میں جواب دیتی، وہ ہجوم میں غائب ہوچکی تھی۔ نولی کو میڈم روزی اور اس کا بھتیجا کرٹ یاد آیا۔ اسے ان دونوں کے احسانات یاد تھے۔ جب اس کی جیب میں پھوٹی کوڑی بھی نہیں تھی۔ کوئی اسے نہیں جانتا تھا۔ تب انہوں نے اس کی کتنی مدد کی تھی۔ وہ ان کی وجہ سے ہی اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کے قابل ہوئی تھی۔ نہ جانے انہیں کیا ضرورت پیش آگئی تھی۔ وہ انہیں نظرانداز نہیں کرسکتی تھی۔ اس کا خیال تھا کہ شاید کچھ رقم درکار ہوگی۔
تقریباً آدھ گھنٹے بعد نولی چپکے سے نمائش سے نکلی اور ایک ٹیکسی لے کر مقررہ جگہ پہنچی۔ صبح سے ہی بارش رک رک کر ہو رہی تھی لیکن اب اس میں تیزی آگئی تھی جس سے سردی بڑھ گئی تھی۔
ٹیکسی رکی اور نولی نے کاٹ دینے والی سردی میں باہر قدم رکھا ہی تھا کہ ایک شخص برساتی میں ملبوس بڑا سا ہیٹ پہنے نہ جانے کہاں سے اس کے برابر آن رُکا۔ نولی کو اسے پہچاننے میں کچھ وقت لگا۔ اس کے چہرے پر بھی عمر کے بڑھتے سالوں کے نشان تھے۔
لیکن وہ پہلے سے مضبوط نظر آتا تھا حالانکہ وہ اب بھی دبلا پتلا تھا۔ اس کی آنکھوں کے گرد حلقے تھے جیسے کئی راتوں سے نہ سویا ہو۔ کرٹ نے اس کا بازو پکڑا اور تیزی سے بولا۔ ’’آئو۔ اس بارش سے تو اپنا بچائو کریں۔‘‘
پھر وہ ایک قریبی کیفے میں گھس گیا۔ وہاں تقریباً آدھی درجن کے قریب لوگ موجود تھے۔ وہ نولی کو آخری گوشے میں لے گیا۔
’’کیا پیو گی؟‘‘ اس نے بیٹھنے کے بعد پوچھا۔
’’کچھ نہیں… شکریہ!‘‘
کرٹ نے اپنا بھیگا ہوا ہیٹ اتار دیا۔ وہ بڑے غور سے اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔ پھر وہ آہستگی سے بولا۔ ’’نولی… تم آج بھی بہت خوبصورت ہو۔ میں نے تمہارے تمام ڈرامے اور فلمیں دیکھی ہیں۔ تم بہت اچھی اداکارہ ہو، زبردست!‘‘
’’تم مجھ سے کبھی ملے کیوں نہیں؟‘‘
’’بس حالات نے اجازت نہیں دی۔‘‘ وہ بولا۔
’’اچھا۔ مجھے کچھ اپنے بارے میں بتائو۔ تم اس عرصے میں کیا کرتے رہے ہو؟‘‘
’’میری زندگی تمہاری زندگی کی طرح رنگین اور پرکشش نہیں۔ میں ایک سرجن ہوں۔ میں نے ایک مشہور سرجن کی نگرانی میں پڑھا ہے۔ مگر پھر حالات ایسے ہوگئے کہ مجھے سرجری چھوڑنی پڑی۔‘‘ وہ اپنے فنکارانہ ہاتھوں کو دیکھتے ہوئے بولا۔ ’’لہٰذا میں ایک کارپینٹر بن گیا یا مجھے بننا پڑا۔‘‘
نولی چند لمحے اس کی طرف دیکھتی رہی۔ ’’بس اتنی ہی تمہاری کہانی ہے؟‘‘
’’ہاں بس… کیوں؟‘‘ وہ سوالیہ انداز میں بولا۔
’’نہیں۔ کچھ خاص نہیں۔ اچھا یہ بتائو کہ تم مجھ سے کیوں ملنا چاہتے تھے؟‘‘
وہ میز پر کچھ آگے جھکا اور رازدارانہ لہجے میں بولا۔ ’’مجھے کچھ کام!‘‘
وہ کچھ کہنے والا تھا کہ رک گیا۔ اس کی نگاہ دروازے کی طرف گئی جہاں سے چار لوگ اندر داخل ہو رہے تھے۔ وہ اپنے دراز قد اور کسرتی جسم کی وجہ سے پولیس سے متعلق معلوم ہوتے تھے۔ ان میں سے ایک بولا۔ ’’ہم لوگ آپ کے شناختی کارڈ دیکھنا چاہتے ہیں۔ آپ خاموشی سے اپنی جگہ پر بیٹھے رہیں۔‘‘
کرٹ نے اپنی بات ادھوری چھوڑ دی۔ اس کے جسم میں ایک تنائو سا پیدا ہوا۔ اس نے اپنا داہنا ہاتھ اپنے اوورکوٹ کی جیب میں ڈال لیا۔ اس نے اپنی آنکھوں کی جنبش سے اس راہداری کی طرف دیکھا جو پچھلے دروازے کی طرف جاتی تھی۔ لیکن سادہ کپڑوں میں ملبوس ایک شخص اس راستے میں حائل ہونے کے لیے آگے بڑھ رہا تھا۔
کرٹ آہستگی سے بولا۔ ’’یہاں سے اٹھ کر فوراً چلی جائو اور دروازے سے باہر نکل جائو۔ تمہیں یہاں میرے قریب نظر نہیں آنا چاہیے۔‘‘
’’مگر کیوں؟‘‘ نولی نے پوچھا۔
’’سوال مت کرو۔ بس فوراً باہر چلی جائو۔ جلدی کرو۔‘‘ وہ دانت بھینچ کر بولا۔
نولی لمحے بھر کو ہچکچائی۔ پھر اپنی جگہ سے اٹھی اور دروازے کی طرف بڑھی۔ کائونٹر کے قریب وہ ایک شخص کا شناختی کارڈ دیکھ رہے تھے۔ نولی کو اندازہ ہو رہا تھا کہ یہ لوگ کسی خفیہ ایجنسی سے تعلق رکھتے تھے اور کرٹ کے لیے یہاں آئے تھے۔ جب ہی وہ اتنا بے چین تھا۔ اس وقت وہ ان کے گھیرے میں آچکا تھا۔ اس کے بچنے کا موقع بہت کم تھا۔ وہ فوراً ہی پلٹی اور براہ راست اس سے مخاطب ہوئی۔ ’’فرانسکو… تھیٹر شروع ہونے والا ہے۔ ہمیں دیر ہو رہی ہے۔ بل دو اور چلو۔‘‘
خفیہ والوں نے غور سے اس کی طرف دیکھا۔ نولی بغیر گھبرائے میز کی طرف بڑھی۔ ایک نوجوان اس کے سامنے آگیا۔ ’’میڈم! کیا آپ اس شخص کے ساتھ ہیں؟‘‘
’’ہاں۔ کیوں؟ تمہیں کیا اعتراض ہے؟‘‘ نولی نے غصے سے کہا۔ ’’تمہارے پاس شریف لوگوں کو خواہ مخواہ تنگ کرنے کے سوا کوئی اور کام نہیں۔‘‘
’’سوری! میری پیاری میڈم… دراصل…‘‘
’’میں تمہاری پیاری میڈم نہیں ہوں… میں نولی پیگی ہوں۔ تھیٹر اور فلم کی اداکارہ۔ اکثر لوگ مجھے پہچانتے ہیں۔ یہ شخص اگرچہ نیا اداکار ہے لیکن میرے ساتھ بطور ہیرو کردار ادا کر رہا ہے۔ میں آج رات مسٹر باربٹ کے ساتھ ڈنر کررہی ہوں۔ میں تم لوگوں کی کارکردگی انہیں بتائوں گی۔‘‘ نولی اس شخص کے چہرے کے تاثرات پر نظر رکھے ہوئے تھی جو یکدم بدل گئے تھے۔ باربٹ کا نام کارگر ثابت ہوا تھا۔
’’میڈم! میں آپ کو جانتا ہوں۔ میں معذرت خواہ ہوں۔‘‘ وہ بولا۔ پھر کرٹ کی طرف پلٹا۔ ’’لیکن میں اس شریف آدمی کو نہیں پہچانتا۔‘‘
’’اگر تم جیسے بدذوق لوگ کبھی تھیٹر گئے ہوتے تو انہیں ان فنکاروں کا علم ہوتا جنہوں نے تھیٹر کو بام عروج پر پہنچا دیا ہے۔ اچھا یہ بتائو کہ تم ہمارے خلاف کوئی کارروائی کرنا چاہتے ہو یا ہم جاسکتے ہیں؟‘‘ نولی نے بڑی جرأت سے کہا۔
سب لوگوں کی آنکھیں اس شخص پر لگی ہوئی تھیں۔ اسے جلد کوئی فیصلہ کرنا تھا۔ وہ نئی صورتحال سے کچھ گھبرا بھی گیا تھا۔ جلدی سے بولا۔ ’’میڈم! میں اپنے رویّے پر معذرت خواہ ہوں۔ آپ لوگ جاسکتے ہیں۔‘‘
باہر اب بھی بارش ہو رہی تھی۔ انہوں نے ایک ٹیکسی روکی اور آگے بڑھ گئے۔ نولی نے اطمینان کا سانس لیا۔ دونوں خاموش تھے۔ ٹیکسی ڈرائیور کے سامنے کوئی بات کرنی خطرے سے خالی نہیں تھی۔ کچھ آگے جاکر ٹیکسی ٹریفک کے اشارے پر رکی تو کرٹ نے دروازہ کھولا۔ ہولے سے نولی کا ہاتھ تھپتھپایا اور بغیر کچھ کہے رات کی سیاہی میں گم ہوگیا۔
نولی جب تھیٹر پہنچی تو سفید کپڑوں میں دو لوگ اس کے منتظر تھے۔ وہ انہیں دیکھتے ہی پہچان گئی۔ اس کے اعصاب تن گئے اور حلق خشک ہوگیا لیکن وہ ہمت کرکے ان سے بات کرنے کے لیے آگے بڑھی۔ ان میں سے ایک کا چہرہ چاند کی طرح گول تھا اور آنکھوں میں گلابی رنگ تھا۔ دوسرے کی آواز زنانہ تھی جسے سن کر ہنسی آتی تھی۔
’’آپ مس نولی پیگی ہیں؟‘‘
’’جی ہاں۔‘‘ نولی نے جواب دیا۔
وہ اپنا کارڈ دکھاتے ہوئے بولا۔ ’’مس نولی آج شام آپ ہمارے کچھ لوگوں سے ملی تھیں۔‘‘
’’مجھے یاد نہیں۔ مجھ سے بہت سے لوگ ملتے رہتے ہیں۔‘‘ نولی نے بڑے اعتماد سے کہا لیکن اس کا دل بڑی تیزی سے دھڑک رہا تھا۔
’’ہوں۔‘‘ گول چہرے والے نے سر ہلایا۔ ’’مثلاً وہ شخص جس کے ساتھ آپ ریسٹورنٹ میں تھیں۔ اگر وہ آپ کا ساتھی اداکار نہیں تھا تو کون تھا؟‘‘
’’ایک دوست کہہ لیں۔‘‘ نولی نے بے نیازی سے شانے جھٹک کر کہا۔
’’اس کا نام کیا ہے؟‘‘
’’میں نہیں جانتی۔‘‘
’’تو کیا وہ کوئی اجنبی تھا؟‘‘ وہ طنزیہ لہجے میں بولا۔
’’ہاں!‘‘
’’تو پھر تم اسے ریسٹورنٹ سے کیوں نکال لے گئی تھیں؟‘‘
’’مجھے اس پر ترس آگیا تھا۔ وہ مجھے کیفے کے باہر ملا تھا۔ اس نے مجھے بتایا کہ کچھ لوگ اس کی تلاش میں ہیں کیونکہ اس نے ایک اسٹور سے کچھ چیزیں اپنے بیوی، بچوں کے لیے چرائی تھیں۔ مجھے لگا کہ یہ ایک چھوٹا سا جرم ہے جو کوئی بھی مجبور اور ضرورت مند کرسکتا ہے۔ اس لیے میں نے اس کی مدد کرنے کے بارے میں سوچا۔‘‘
’’ہوں۔‘‘ اس نے سر ہلایا۔ ’’اب میری سمجھ میں آیا کہ تم اتنی بڑی اداکارہ کیوں ہو؟‘‘
وہ چند لمحے اس کی طرف دیکھتا رہا۔ پھر ضرورت سے زیادہ ملائم لہجے میں بولا۔ ’’میڈم! میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ ہم بہت جلد آپ کے اس اجنبی دوست کو اپنا مہمان بنا لیں گے۔ پھر ہم اس سے جو پوچھیں گے اسے بتانا پڑے گا۔‘‘
’’میرا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ نہ ہی میں خوف زدہ ہوں۔‘‘
’’اگر تمہیں اس کے بارے میں کچھ پتا چلے تو فوراً ہم سے رابطہ کرنا۔ یہی تمہارے حق میں بہتر ہے۔ یہ کسی کے لیے بھی مناسب نہیں کہ وہ دہشت گردوں سے رابطہ رکھے یا ان کا سہولت کار بنے۔‘‘ وہ اتنا کہہ کر اپنے ساتھی کے ساتھ آگے بڑھ گیا۔
نولی ایک کرسی پر گر سی پڑی۔ اس کی ساری طاقت جیسے کسی نے نچوڑ لی تھی۔ اسے اندازہ تھا کہ وہ وقتی طور پر انہیں دھوکا دینے میں کامیاب ہوگئی تھی لیکن درحقیقت وہ جانتے تھے کہ وہ اداکاری کر رہی ہے۔ اس تمام واقعے نے اسے بے حد پریشان کردیا تھا۔ لیکن اسے امید تھی کہ اس بات کو جلد بھلا دیا جائے گا لیکن اگر کرٹ ان لوگوں کے ہاتھ آگیا تو پھر اس کی مشکلات بڑھ سکتی تھیں۔ یہ بات اسے فکرمند کررہی تھی۔
٭…٭…٭
آدھ گھنٹے بعد جب وہ اسٹیج پر پہنچی تو اس نے ہر طرح کے خیالات اور تفکرات اپنے دل سے نکال دیے اور اپنا کردار اس طرح سے نبھایا کہ جب وہ اسٹیج سے واپس آرہی تھی تو تمام ہال تالیوں سے گونج رہا تھا۔ اس نے دروازہ کھولا تو ڈریسنگ روم میں باربٹ ایک کرسی پر بیٹھا تھا۔ وہ اسے دیکھ کر احتراماً کرسی سے اٹھا اور بڑی تہذیب سے بولا۔ ’’مجھے پتا چلا ہے کہ آج ہم ڈنر کر رہے ہیں۔‘‘
اب انکار کی گنجائش نہیں تھی۔ وہ خفیہ والوں کو یہ اطلاع دے چکی تھی اور اس سے پیچھے ہٹنا ممکن نہیں تھا۔ میک اَپ اتار کر وہ جلدی جلدی تیار ہوئی۔ وہ اسے شہر سے تقریباً بیس میل دور لے گیا۔ بارش رک گئی تھی لیکن اس کی نمی اور ٹھنڈک فضا میں
باقی تھی جو خوشگوار معلوم ہو رہی تھی۔
باربٹ اس سے مخاطب ہوا۔ ’’مجھے خصوصی لوگوں سے پتا چلا ہے کہ تم آج میرے ساتھ ڈنر کر رہی ہو۔‘‘نولی سنجیدگی سے اس کی طرف دیکھتی رہی لیکن اس کا ذہن پوری طرح سے بیدار تھا کہ اسے صورتحال کے مطابق کیا کہنا ہے اور کیسا رویہ اختیار کرنا ہے۔
باربٹ کہہ رہا تھا۔ ’’میں نے سوچا کہ اگر میں انکار کرتا ہوں تو یہ تمہارے لیے کچھ زیادہ خوشگوار نہیں ہوگا لیکن میرے لیے خوشی کا باعث ہوگا۔‘‘ وہ مسکرایا۔ ’’یہ ایک خوشگوار لمحہ ہے کہ ہم دونوں یہاں موجود ہیں۔‘‘
’’بس یہ ایک حماقت ہی تھی۔ میں ایک غریب آدمی کی مدد کرنا چاہتی تھی… اور…‘‘
’’دیکھو مس پیگی! یہ غلط فہمی دور کرلو کہ تم انہیں بے وقوف بناسکتی ہو جو ہر طرح کی معلومات رکھتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے بارے میں تمہیں غلط اندازے نہیں لگانے چاہئیں۔ ہاں۔ اگر تم آئندہ اپنے اس دوست سے کبھی نہ ملو تو اس تمام واقعے کو دبایا جاسکتا ہے۔‘‘
بٹلر مشروبات لے آیا تھا۔ باربٹ نے گلاس اٹھا کر اسے تھمایا اور چند گھونٹ پی کر بولا۔ ’’میں یہ جانتا ہوں کہ اس سے پہلے تم نے میرے ساتھ ڈنر کرنے سے کیوں انکار کیا تھا۔ کیا اس کی وجہ آرمنڈ ہے؟‘‘
’’نہیں۔ یہ بات نہیں۔ میں نے سوچا کہ شہر میں ہزاروں دلکش خواتین موجود ہیں۔ تم کسی کو بھی ڈنر کے لیے چن سکتے ہو۔‘‘
’’تم مجھے نہیں جانتیں۔ میں اور طرح کا انسان ہوں۔ میں شادی شدہ ہوں۔ میرا ایک بچہ بھی ہے۔ میں ان سے بہت محبت کرتا ہوں۔ میں ایک سال سے یہاں اس شہر میں ہوں اور ابھی تک مجھے کچھ اندازہ نہیں کہ میں کب ان سے مل سکوں گا۔‘‘
’’واپس تبادلے کی کوئی صورت نہیں۔‘‘ نولی نے ہمدردی سے کہا۔
وہ ہنس پڑا۔ ’’یہ بات بتانے سے میرا مقصد ہمدردی حاصل کرنا نہیں بلکہ میں تمہیں بتانا چاہتا ہوں کہ میں کوئی برے کردار کا انسان نہیں۔ میں اپنی خانگی زندگی سے مطمئن ہوں۔ ہاں یہ اتفاق ہے کہ جب میں نے پہلی بار تمہیں اسٹیج پر اداکاری کرتے ہوئے دیکھا تو مجھے ایک عجیب سی قربت کا احساس ہوا۔ میرا دل چاہا کہ تمہارے بارے میں جانوں اور ہم اچھے دوست بن جائیں۔‘‘ اس کے انداز میں ایک وقار اور سچائی تھی۔
’’میں کوئی وعدہ نہیں کرسکتی۔‘‘ نولی نے مبہم سا جواب دیا۔
اس نے اثبات میں سر ہلایا۔ ’’ہاں۔ میں سمجھ سکتا ہوں۔‘‘
اس کے بعد اس نے موضوع بدل دیا۔ وہ تھیٹر، اداکاری، ادب اور موسیقی کے بارے میں بہت کچھ جانتا تھا۔ اس کی گفتگو میں دانش اور تہذیب تھی۔ اس کی معلومات ہر موضوع پر حیرت انگیز تھیں۔ اس کا تعلق خفیہ اداروں سے تھا۔ وہ فوج سے متعلق بھی ہوسکتا تھا۔ لیکن اس کے انداز میں سختی نہیں تھی۔ وہ دانشور معلوم ہوتا تھا حالانکہ اس کے چہرے کی خراش سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ محاذ جنگ پر لڑنے والا فوجی ہے۔ نولی نے اس سے پوچھ ہی لیا۔ ’’تمہارے چہرے پر یہ زخم کیسے لگا؟‘‘
’’بس۔ کبھی کبھی ایسے اتفاقات ہوجاتے ہیں۔‘‘ وہ ٹالنے کے انداز میں بولا۔ پھر اس نے موضوع بدل دیا۔
جب وہ اس کو واپس چھوڑنے آرہا تھا تو اس نے بے نیازی سے پوچھا۔ ’’کیا تم آرمنڈ سے محبت کرتی ہو؟‘‘
اگرچہ وہ خود کو بے نیاز ظاہر کررہا تھا لیکن نولی کو اتنا اندازہ ضرور ہوگیا تھا کہ اس کا جواب باربٹ کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔ ’’نہیں۔‘‘ اس نے چند لمحے توقف کے بعد کہا۔
’’میرا بھی یہی خیال تھا۔‘‘ اس کے لہجے میں اطمینان کی جھلک تھی۔ ’’میں چاہتا ہوں کہ تم خوش رہو۔ مستقبل میں ہم اچھے دوست ہوں۔ ہم دشمن کبھی نہ بنیں۔‘‘
اسے گھر پہنچتے پہنچتے تین بج گئے۔ آرمنڈ اس کے انتظار میں تھا اور بہت جھنجھلایا ہوا تھا۔ ’’تم کہاں رہ گئی تھیں نولی؟‘‘
’’میری کچھ مصروفیت تھی۔‘‘ وہ بولی اور اس کی نگاہ کمرے پر پڑی۔ وہ ٹھٹھکی۔ یوں لگ رہا تھا جیسے کمرے میں کوئی طوفان آیا تھا۔ میزوں کی درازیں کھلی ہوئی تھیں اور ان کی چیزیں چاروں طرف بکھری ہوئی تھیں۔ الماریاں چوپٹ کھلی تھیں۔ ان کی آدھی چیزیں باہر لٹک رہی تھیں اور آدھی اندر تھیں۔ لیمپ زمین پر گرا ہوا تھا۔ ایک چھوٹی میز الٹی پڑی تھی۔
’’یہاں۔ یہ سب کیا ہوا ہے؟‘‘
’مجھے نہیں معلوم۔ ہماری غیر موجودگی میں یہاں کسی نے تلاشی لی ہے۔ نولی تم کیا کرتی پھرتی ہو؟‘‘
’’کچھ نہیں!‘‘
’تو پھر ایسا کوئی کیوں کرے گا۔ یہ کام صرف خفیہ کے لوگ کرتے ہیں۔‘‘
نولی کوئی جواب دیے بغیر چیزوں کو ٹھیک کرنے لگی۔ آرمنڈ نے شانوں سے پکڑ کر اس کا رخ اپنی جانب پھیر لیا اور سختی سے بولا۔ ’’میں جاننا چاہتا ہوں کہ یہ سب کیا ہے؟ کیوں ہوا ہے؟‘‘
نولی نے ایک گہرا سانس لیا اور بولی۔ ’’اچھا۔ میں تمہیں بتاتی ہوں۔‘‘
اس نے کرٹ کا نام لیے بغیر بڑی احتیاط سے تمام قصہ سنا دیا کچھ نہیں چھپایا۔
آرمنڈ ایک کرسی پر گر سا پڑا۔ ’’اوہ۔ میرے خدا! مجھے نہیں معلوم کہ وہ شخص کون ہے لیکن اب تمہیں اس سے کوئی تعلق نہیں رکھنا ہوگا۔ اس کی وجہ سے ہم تباہ ہوسکتے ہیں۔‘‘ اس نے چند لمحے توقف کیا پھر بولا۔ ’’کیا تم اس سے محبت کرتی ہو؟‘‘
’’نہیں۔‘‘
’’کیا اس کی تمہارے نزدیک کوئی اہمیت ہے؟‘‘
’’نہیں۔‘‘
اس کے چہرے پر اطمینان نظر آیا۔ ’’تو پھر ٹھیک ہے۔ ہمیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ اگر اب تم پھر کبھی اس سے نہ ملو تو یہ سارا معاملہ جلد ختم ہوجائے گا۔‘‘
نولی نے اثبات میں سر ہلایا۔
اگلے روز جب نولی تھیٹر جارہی تھی تو دو گاڑیاں اس کے تعاقب میں تھیں۔
٭…٭…٭
اب یہ معمول بن چکا تھا کہ نولی جب کہیں جاتی تھی تو کوئی گاڑی ضرور اس کے تعاقب میں ہوتی۔ اس کے گھر سے کچھ دور کوئی شخص ہمیشہ کھڑا رہتا تھا۔ نولی جانتی تھی کہ اس کی نگرانی کی جارہی تھی۔ لیکن اس نے اس کا تذکرہ آرمنڈ سے نہیں کیا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ وہ بہت زیادہ گھبرا جائے گا۔ نولی کا خیال تھا کہ چند روز تک یہ سلسلہ بند ہوجائے گا جب وہ دیکھیں گے کہ وہ کسی ملک دشمن سرگرمی میں ملوث نہیں۔
باربٹ کے پیغام اور فون کئی بار آئے تھے لیکن نولی نے انہیں نظرانداز کردیا تھا۔ وقت سہولت سے گزر رہا تھا کہ ایک روز ایک بوڑھا اور ٹھگنا سا شخص جس کے نیچے کے دانت غائب تھے، جس کی وجہ سے اس کی بات مشکل سے سمجھ میں آتی تھی، اس کے قریب آکر بولا۔ ’’تم نے جس برتھ ڈے کیک کا آرڈر دیا تھا، وہ تیار ہے، بیکری سے جاکر لے لو۔‘‘
نولی نے الجھ کر اس کی طرف دیکھا اور کہا۔ ’’میں نے تو کسی کیک کا آرڈر نہیں دیا۔‘‘
اس نے پھر اپنا پیغام دہرایا اور چلا گیا۔
نولی کو فوری طور پر تو سمجھ نہیں آیا کہ اس کا مطلب کیا ہے۔ لیکن تھوڑا سا غور کرنے کے بعد اس کے ذہن میں بات آگئی۔ وہ ٹیکسی لے کر بیکری تک پہنچی تو ایک چھوٹے قد کی بھاری بھرکم عورت نے اس کا استقبال کیا جس نے سفید بے داغ ایپرن پہن رکھا تھا۔ ’’یس میڈم!‘‘ وہ متوجہ ہوئی۔
نولی کچھ ہچکچائی۔ اس کے دل میں خیال آیا کہ اب بھی موقع ہے۔ وہ خود کو اس خطرناک صورتحال سے بچا سکتی ہے۔ وہ خاتون اس کے جواب کا انتظار کر رہی تھی۔
نولی واپس نہیں پلٹ سکی اور بولی۔ ’’کیا برتھ ڈے کیک تیار ہے؟‘‘
’’ہاں۔ تیار ہے مس پیگی!‘‘ اس نے بیکری کے شیشے پر ’بند ہے‘ کا بورڈ لٹکا دیا۔ دروازے کو لاک کیا اور ایک جانب اشارہ کرکے بولی۔ ’’اس طرف راستہ ہے۔‘‘
وہ نیچے تہہ خانے میں پہنچی تو ایک چھوٹے سے بیڈ پر کرٹ لیٹا ہوا تھا۔ اس کے چہرے پر شدید درد کے اثرات تھے۔ اس کے گرد لپٹی ہوئی چادر خون سے سرخ ہورہی تھی۔ نولی بے حد پریشان ہوئی۔
’’کرٹ۔‘‘ اس نے ہمدردی سے پکارا۔ اس کی آواز سن کر اس نے تھوڑی سی حرکت کی تو چادر ایک طرف سے ہٹ گئی۔ نولی یہ دیکھ کر کانپ گئی کہ اس کے گھٹنے کی ہڈی چکناچور ہوچکی تھی۔ وہاں خون اور کچلے ہوئے گوشت کے سوا کچھ نظر نہیں آرہا تھا۔
’’کرٹ۔ یہ سب کیا ہوا ہے؟‘‘ نولی نے پریشانی سے پوچھا۔
کرٹ نے مسکرانے کی اپنی سی کوشش کی لیکن زخم کی اذیت اس کے چہرے کے ہر تاثر پر حاوی تھی۔ اس کی آواز درد کی شدت سے ٹوٹ رہی تھی۔ ’’وہ ہمیں مارنا چاہتے ہیں لیکن ہم آسانی سے مرنے والے نہیں۔‘‘
’’تم ٹھیک تو ہوجائو گے نا؟‘‘
’’ہاں۔‘‘ اس نے بمشکل سر ہلایا۔ اس کے ہونٹوں سے لفظ ٹوٹ ٹوٹ کر بکھرنے لگے۔ ’’وہ میرا پیچھا کررہے ہیں۔ وہ مجھے زندہ نہیں چھوڑیں گے۔ میں اس شہر سے باہر نکلنا چاہتا ہوں۔ آگے میرے کچھ دوست مجھے مل جائیں گے جو مجھے سمندر کے راستے سرحد پار کروا دیں گے۔‘‘
’’تمہارا کوئی ساتھی تمہیں یہاں سے نہیں نکال سکتا۔ تم کسی ٹرک میں چھپ کر بھی یہاں سے نکل سکتے ہو۔‘‘
’’نہیں راستوں پر پہرے ہیں۔ یہاں سے تو ایک چوہا بھی باہر نہیں نکل سکتا۔‘‘
’’تم اس زخمی ٹانگ کے ساتھ سفر کرسکتے ہو؟‘‘
وہ درد کی اذیت سے ہونٹ چباتا ہوا بولا۔ ’’نہیں۔ میں اس کے ساتھ سفر نہیں کروں گا۔‘‘ نولی الجھی ہوئی سی اس کی طرف دیکھنے لگی۔ اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا۔ اسی وقت دروازے پر دستک ہوئی۔ دروازہ کھلا اور ایک بھاری بھرکم شخص اندر داخل ہوا۔ گھنی داڑھی میں اس کا چہرہ چھپا ہوا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک کلہاڑی تھی۔
وہ سیدھا کرٹ کے بیڈ کے قریب پہنچا اور اس نے خون بھری چادر کو پرے ہٹایا۔ نولی کانپ گئی۔ اس نے جلدی سے واپسی کے لیے قدم بڑھا دیے۔
٭…٭…٭
کیتھرین محبت کے ایک نئے جہان سے آشنا ہوئی تھی جس سے وہ اس سے قبل آشنا نہیں تھی۔ ولیم ایک بہت اچھا دوست اور ساتھی تھا۔ جب وہ شہر میں ہوتا تو وہ دونوں روز ڈنر ایک ساتھ کرتے۔ پھر کسی تھیٹر، میوزک کنسرٹ، نمائش یا سنیما چلے جاتے۔ ان کے شوق تقریباً یکساں تھے۔ دونوں ایک ساتھ اس تفریح کا لطف اٹھاتے تھے۔ لوگ انہیں اکٹھا دیکھ کر باتیں بناتے تھے لیکن کیتھرین کو یہ باتیں کچھ زیادہ بری نہیں لگتی تھیں۔ اسے اب ان باتوں کی سمجھ آئی تھی کہ وہ باتیں جو دوسرے کریں تو بہت قابل اعتراض معلوم ہوتی ہیں لیکن جب وہ خود کی جائیں تو ان میں کوئی برائی نظر نہیں آتی۔
کیتھرین ولیم کی رگ رگ سے واقف تھی۔ وہ جانتی تھی کہ کس وقت اس کا موڈ کیسا ہوتا ہے۔ اسے کیا پسند ہے اور کیا نہیں؟ ایک دوپہر وہ کام میں مصروف تھی کہ ولیم کمرے میں آیا اور اسے مخاطب کرکے بولا۔ ’’کیتھرین۔ تم لمبی ڈرائیو پر چلو گی؟‘‘
’’ضرور… بڑی خوشی سے مگر کہاں؟‘‘
’’میں تمہیں فارم پر لے جانا چاہتا ہوں۔ جہاں ہم والدین کے ساتھ ڈنر کریں گے۔‘‘
کیتھرین نے قدرے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔ ’’کیا انہیں ہمارے بارے میں علم ہے؟‘‘
’’نہیں کچھ زیادہ نہیں۔‘‘ وہ مسکرایا۔ ’’بس صرف اتنا کہ میری ایک خوبصورت اور قابل، ذہین اسسٹنٹ ہے۔ میں اسے ڈنر کے لیے گھر لا رہا ہوں۔‘‘
کیتھرین کو مایوسی ہوئی لیکن اس نے ظاہر نہیں ہونے دیا اور عام سے لہجے میں بولی۔ ’’بہت خوب… تم سات بجے میرے اپارٹمنٹ سے مجھے لے لینا۔‘‘
’’ٹھیک… سات بجے۔‘‘ وہ بولا۔
٭…٭…٭
ان کا فارم ہائوس ایک سرسبز پہاڑی پر واقع تھا۔ تقریباً ساٹھ ایکڑ پر پھیلا ہوا، بے حد سرسبز گھاس کے میدانوں اور باغات میں گھرا ہوا تھا اور ان کا رہائشی گھر بے حد خوبصورت اور متاثر کن تھا۔
’’یہ بہت خوبصورت ہے۔ میں نے کبھی اتنا شاندار فارم نہیں دیکھا۔‘‘ وہ متاثر کن لہجے میں بولی۔
’’یہ اس ملک کا سب سے اچھا فارم ہے۔‘‘ ولیم نے بتایا۔
’’مجھے تو یہ کوئی اور ہی دنیا لگ رہی ہے۔‘‘
’’کیا تمہیں فارم پر رہنا پسند ہے؟‘‘ ولیم نے پوچھا۔
لیکن کیتھرین کی سمجھ میں نہیں آیا کہ اسے کیا جواب دے۔ وہ کیسا جواب سننا پسند کرے گا۔
ولیم کے والدین بہت رکھ رکھائو والے تھے۔ ان میں زمینداروں کی خُو بُو تھی۔ وہ سارا وقت کیتھرین سے مختلف سوالات کرتے رہے۔ وہ اس کے بارے میں اور اس کے خاندانی پس منظر کے بارے میں جاننا چاہتے تھے۔ (جاری ہے)