Nafrat | Episode 5

61
نولی کی آنکھ کھل گئی۔ وہ پسینے میں شرابور ہورہی تھی۔ کرٹ کا چہرہ اس کی نگاہوں میں گھوم رہا تھا۔ اس کے بارے میں کبھی کبھی کوئی اطلاع ملتی رہتی تھی۔ وہ بہت کمزور ہوچکا تھا۔ کلہاڑی سے اس کی ٹانگ کاٹ دی گئی تھی۔ وہ شہر سے باہر جانے میں ابھی تک کامیاب نہیں ہوا تھا کیونکہ ہر طرف بڑی سختی سے ان کی تلاش جاری تھی۔ وہ نولی سے مدد کا خواہاں تھا۔ نولی خود بھی چاہتی تھی کہ اس کی مدد کرے لیکن کوئی راستہ نظر نہیں آرہا تھا۔ کرٹ کے اس پر بہت احسانات تھے مگر ان کے بدلے میں اس نے کبھی کوئی مطالبہ نہیں کیا تھا ورنہ اس کے مقابلے میں جس نے بھی اس کی کوئی مدد کی تھی، اس نے اپنا قرض ضرور وصول کیا تھا۔ خود اس کے باپ نے بھی اس کا کوئی لحاظ نہیں کیا تھا۔ اسے ناز و نعم سے پالنے میں اس نے جو کچھ خرچ کیا تھا۔ وہ اس نے مع سود وصول کرلیا تھا۔
نولی کو معلوم تھا کہ کرٹ کی مدد کرنا خطرے سے خالی نہیں تھا لیکن ایک بار وہ اس کی مدد کرنا چاہتی تھی تاکہ وہ شہر سے باہر نکل جائے۔ آگے اس کے دوست اسے سنبھال لیں گے۔ کرٹ نے جو احسانات اس پر کیے تھے، ان کا کچھ تو حق ادا ہوجائے گا۔ وہ خود تو اس پر غور کررہی تھی لیکن اس نے آرمنڈ کو اس بارے میں کچھ نہیں بتایا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ وہ یہ بات سن کر بہت پریشان ہوجائے گا۔
انہی دنوں وہ آرمنڈ کے ساتھ ایک ڈنر پر مدعو تھی جو ایک مشہور خاتون نے دیا تھا جو آرٹ کی سرپرستی کرنے میں بڑی شہرت رکھتی تھی اور جس کی پہنچ سوسائٹی کے بڑے لوگوں تک تھی۔ نولی دیکھ رہی تھی کہ ڈنر میں بہت سے جانے پہچانے چہرے موجود ہیں۔ پھر ایک مشہور شخصیت کے آنے کا اعلان ہوا۔ نولی نے دروازے کی طرف دیکھا اور میزبان خاتون سے بولی۔ ’’پلیز مجھے ان کے ساتھ والی نشست پر جگہ دینا۔‘‘
’’جیسی تمہاری خوشی!‘‘ وہ فراخدلی سے بولی۔
وہ البرٹ ہیلر تھا جو ایک بہترین ڈرامہ نگار تھا۔ وہ ایک اونچا، لمبا، ریچھ نما انسان تھا۔ اس کی عمر ساٹھ کی حدود کو چھو رہی تھی۔ وہ ہجوم میں کھڑا ہو تو اپنی ایک علیحدہ شناخت رکھتا تھا۔ وہ بدصورت تھا۔ اس کی چھوٹی سبز آنکھیں ہر چھوٹی سے چھوٹی چیز کو دیکھنے میں مہارت رکھتی تھیں۔ وہ کافی عرصے سے نولی سے اصرار کررہا تھا کہ وہ اس کے کسی ڈرامے میں اداکاری کے جوہر دکھائے لیکن نولی کے پاس وقت نہیں ہوتا تھا۔ گزشتہ دنوں اس نے اپنے ایک ڈرامے کا اسکرپٹ اسے بھیجا تھا کہ وہ اسے پڑھ کر اپنے لیے کوئی کردار منتخب کرلے۔
نولی اس کے ساتھ والی نشست پر بیٹھی ہوئی تھی۔ اس نے البرٹ کو مخاطب کرکے کہا۔ ’’میں نے کل ہی تمہارے ڈرامے کا اسکرپٹ ختم کیا۔ وہ مجھے بہت اچھا لگا ہے۔‘‘
البرٹ کا بدصورت چہرہ روشن ہوگیا۔ ’’اس کا مطلب ہے تم اس میں کام کرو گی۔‘‘
’’میری بہت خواہش تھی لیکن آرمنڈ نے ایک نیا ڈرامہ شروع کرلیا ہے اور اس میں میرا رول بڑی اہمیت کا حامل ہے۔‘‘
’’اوہ اچھا۔‘‘ وہ کچھ مایوس ہوا۔ ’’لیکن مجھے امید ہے کہ ہم اکٹھے ضرور کام کریں گے۔‘‘
’’میری بھی یہ دیرینہ آرزو ہے۔‘‘ وہ بولی۔ ’’تم جس انداز میں لکھتے ہو وہ مجھے بہت متاثر کرتا ہے۔ اوہ میرے خدا! تم یہ سب کیسے کرلیتے ہو؟‘‘
’’جس طرح تم اداکاری کرتی ہو۔ سب کے اپنے اپنے شعبے ہیں۔ یہ ہمارا کام ہے اور یہی ہمارا ذریعۂ معاش ہے۔‘‘
’’نہیں!‘‘ نولی نے زور دے کر کہا۔ ’’تم جس طرح اپنی سوچ اور خیالات کو ڈرامے کی شکل دیتے ہو۔ وہ ایک جادو ہے۔ وہ ایک کرشمہ ہے۔‘‘ وہ عاجزی سے ہنستے ہوئے بولی۔ ’’مجھے بھی لکھنے کا شوق ہے۔ میں جانتی ہوں کہ یہ کتنا مشکل کام ہے۔‘‘
’’اوہ! یہ تو بہت اچھی بات ہے۔‘‘ وہ نرمی سے بولا۔
’’لیکن میں ایک موڑ پر پھنس کر رہ گئی ہوں۔‘‘ نولی نے اس کی جانب جھکتے ہوئے اپنی آواز کو دھیما کیا۔ ’’یہ ایک ایسا مقام ہے کہ میری ہیروئن کا محبوب ایک باغی ہے۔ تمام ایجنسیاں اس کی تلاش میں ہیں۔ وہ شہر سے نکل کر سمندر کے راستے کہیں جانا چاہتا ہے۔ وہ کیسے نکلے؟‘‘
’’ہوں۔‘‘ البرٹ نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ’’یہ بہت آسان ہے۔ اسے پولیس کا یونیفارم پہنا دو۔ وہ سب کے سامنے سے اطمینان سے گزر جائے گا۔‘‘
’’لیکن یہاں ایک مشکل ہے۔ ہیرو زخمی ہے۔ اس کی ایک ٹانگ کٹ چکی ہے۔ وہ چل نہیں سکتا۔‘‘
وہ کچھ دیر کے لیے خاموش رہا۔ نولی بے چینی سے اس کے جواب کا انتظار کرتی رہی۔ پھر وہ بولا۔ ’’تو پھر اس کے لیے سارا کام یہی ایجنسیاں کریں گی جو اس کی جان کی دشمن ہیں۔‘‘
’’وہ کیسے؟‘‘
’’تمہاری ہیروئن خوبصورت ہے؟ کسی کو لبھا سکتی ہے؟‘‘
’’ہاں۔ یقینا!‘‘
’’بس تو پھر سارا معاملہ ہیروئن آسانی سے سنبھال لے گی۔ وہ کسی اعلیٰ سرکاری آفیسر کے ساتھ دوستی کرلے جو کافی اثرورسوخ کا مالک ہو۔ کیا ایسا ہوسکتا ہے؟‘‘
’’ہاں! ایسا ہوسکتا ہے۔‘‘
’’بس پھر ہیروئن اس آفیسر کو آمادہ کرے کہ وہ ہفتے کی چھٹی شہر سے باہر کسی قابلِ دید مقام پر گزارے گی۔ ہیرو کو گاڑی کی ڈکی میں چھپا دو کیونکہ وہ آفیسر اثرورسوخ والا ہے۔ لہٰذا اس کی گاڑی کی تلاشی نہیں ہوگی اور تمہاری ہیروئن کا کام ہوجائے گا۔‘‘
’’لیکن تھوڑی سی مشکل ہوسکتی ہے۔‘‘ نولی نے اسے بتایا۔
’’نہیں کچھ نہیں ہوگا۔‘‘ وہ چند منٹ تک اس موضوع پر گفتگو کرتا رہا۔ اس کی آواز بہت مدھم تھی۔ وہ اپنی بات ختم کرچکا تو نرمی سے بولا۔ ’’گڈ لک!‘‘
٭…٭…٭
نولی جانتی تھی کہ باربٹ کے ذریعے یہ کام ہوسکتا ہے۔ اسی لیے اس نے باربٹ کو فون کیا۔ وہ ایک میٹنگ میں تھا لیکن جلد ہی اس نے جوابی کال کرلی۔ نولی نے اسے شہر سے پچاس ساٹھ میل دور ایک ریسٹورنٹ میں ڈنر کی دعوت دی۔ اس نے کچھ دیر سوچا۔ پھر مان گیا۔ ہفتے کی رات اس نے وعدہ کیا کہ وہ اسے اس کے اپارٹمنٹ سے لے جائے گا۔
ہفتے کی شام جب وہ اپنا کردار ادا کرکے اسٹیج کے پیچھے آئی تو سفید کپڑوں میں ایک خفیہ پولیس کا عہدیدار اس کا انتظار کررہا تھا۔ وہ اسے پہچانتی تھی۔ پہلے بھی کرٹ سے ملنے پر اس کی تفتیش کرچکا تھا۔ نولی کا دل اسے دیکھ کر بیٹھ گیا لیکن اس نے کسی گھبراہٹ کا کوئی تاثر اپنے چہرے پر نہیں آنے دیا۔ وہ کرٹ اور اس کے مددگاروں کے ساتھ تمام پروگرام طے کرچکی تھی۔ اس میں ایک سیکنڈ کی دیر یا عجلت زندگی اور موت کا مسئلہ تھا۔
’’میں نے آج تمہاری پرفارمنس دیکھی ہے۔ تم ہمیشہ پہلے سے بہتر اداکاری کرتی ہو۔‘‘ وہ معنی خیز لہجے میں بولا۔
’’شکریہ! میں معذرت چاہتی ہوں۔ مجھے لباس تبدیل کرنا ہے۔‘‘ نولی نے اس سے جان چھڑانے کے لیے عام سے لہجے میں کہا۔
’’مجھے معلوم ہے لیکن میں کچھ دیر تمہارے ساتھ رہنا چاہتا ہوں۔‘‘ وہ اس کے ساتھ چلتے ہوئے بولا۔
نولی ڈریسنگ روم کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی۔ وہ بھی اس کے ساتھ تھا۔ اپنے پیچھے دروازہ بند کرکے وہ اندر آکر ایک آرام کرسی پر اطمینان سے بیٹھ گیا۔ نولی کا دل بڑی تیزی سے دھڑک رہا تھا لیکن اس نے خود پر قابو پا کر اپنا میک اَپ آہستہ آہستہ اتارنا شروع کیا۔ وہ لاتعلق سا بیٹھا رہا۔ پھر تھوڑے توقف کے بعد بولا۔ ’’ایک چھوٹی سی چڑیا نے میرے کان میں سرگوشی کی ہے کہ آج رات وہ فرار ہونے کی کوشش کرے گا۔‘‘
نولی کا دل ڈوبنے لگا مگر اس نےاپنا چہرہ سپاٹ رکھا۔ ٹشو اس کے ہاتھ سے گرتے گرتے بچا۔ اس نے جواب دینے کے لیے تھوڑا وقت لینے کو یونہی ڈریسنگ ٹیبل کی دراز کھول کر اس میں کوئی نامعلوم شے تلاش کی۔ پھر سر اٹھا کر بولی۔ ’’کون آج رات فرار ہونے کی کوشش کرے گا؟‘‘
’’تمہارا دوست۔ ڈاکٹر کرٹ!‘‘
نولی کرسی گھما کر اس کی جانب متوجہ ہوئی۔ ’’میں کسی ایسے شخص کو نہیں جانتی۔‘‘
’’میں تمہیں یاد دلا سکتا ہوں مس پیگی!‘‘ وہ بڑے یقین سے بولا اور اس نے کرٹ کے ساتھ اس کی پہلی ملاقات سے اب تک کے واقعات کو بیان کردیا۔
نولی کے اندر خوف کی ایک لہر دوڑ گئی۔ یہ خفیہ پولیس والے بڑے فنکار تھے۔ انہوں نے اس کی گزشتہ زندگی کی جیسے پوری فلم بنا رکھی تھی۔ اب یہ اس کی حماقت ہوگی کہ وہ اتنا بڑا خطرہ مول لے۔ لیکن اس وقت اپنی بات سے مکرنا بھی اس کے لیے ممکن نہیں تھا۔ تیر کمان سے نکل چکا تھا۔ کرٹ کو اس کے ساتھی رات منصوبے کے مطابق باہر لے آئیں گے۔ اگر وہ اس کی مدد نہیں کرتی تو وہ یقیناً پکڑا جائے گا۔
’’ہاں! مجھے یاد آگیا۔‘‘ نولی سٹپٹا کر بولی۔
’’تم بہت خوبصورت ہو۔ مس پیگی! یہ ایک افسوسناک بات ہوگی کہ اس حسن کو تباہ کردیا جائے۔ اس شخص کے لیے جس کی تمہارے نزدیک کوئی اہمیت نہیں۔‘‘ وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا بولا۔ ’’اچھا یہ بتائو کہ تمہارا دوست کس طرح فرار ہونا چاہتا ہے؟‘‘
نولی اندر ہی اندر لرز گئی لیکن بظاہر وہ بالکل معصوم اور انجان بن گئی۔ ’’میری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا کہ تم کس طرح کی باتیں کررہے ہو۔ میں تمہارے ساتھ تعاون کرنا چاہتی ہوں لیکن کس طرح؟‘‘
وہ چند لمحے اس کی جانب تکتا رہا۔ پھر اپنی نشست سے اٹھا۔ ’’میں تمہیں سکھا دوں گا مس پیگی۔ یہ میرے لیے ایک پُرلطف تجربہ ہوگا۔‘‘ وہ دروازے کی طرف چلا اور پھر لمحے بھر کو ٹھہر کر بولا۔ ’’اور ہاں! میں نے اپنے دوست باربٹ سے بھی کہا ہے کہ وہ تمہارے ساتھ گھومنے نہ جائے۔‘‘
نولی کو جیسے ٹھنڈے پسینے آنے لگے۔ اب کچھ نہیں ہوسکتا تھا۔ اتنے کم وقت میں کرٹ کو کوئی پیغام بھی نہیں پہنچایا جاسکتا تھا۔ اس نے اپنے خشک حلق کو تر کرتے ہوئے کہا۔ ’’کیا تم لوگ ایک دوسرے کی ذاتی زندگی میں یونہی دخل دیتے ہو۔‘‘
’’ہاں! بعض اوقات ایسا کرنا ضروری ہوجاتا ہے۔‘‘ وہ اتنا کہہ کر دروازے سے باہر نکل گیا۔
نولی کا دل بڑی تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ اس کا حلق خشک ہوگیا تھا۔ اس کے سامنے ایک بہت خطرناک راستہ تھا۔ وقت اس کے ہاتھ سے نکل چکا تھا۔ وہ اب اپنی بات سے پیچھے نہیں ہٹ سکتی تھی۔ خواہ اس کا حشر کچھ بھی ہو۔ باربٹ اسے لینے کے لیے چل پڑا تھا۔
٭…٭…٭
دروازے کی گھنٹی بجی۔ نولی نے جاکر دروازہ کھولا۔ باربٹ اس کے سامنے تھا۔ وہ سلیٹی سوٹ، ہلکی نیلی قمیص اور سیاہ ٹائی پہنے ہوئے بہت اسمارٹ دکھائی دے رہا تھا۔ اس نے بڑے ادب کے ساتھ تھوڑا سا خم ہوکر کہا۔ ’’گڈ ایوننگ!‘‘
اس کے پیچھے ڈرائیور تھا۔ باربٹ نے ایک طرف ہٹ کر ڈرائیور کو اندر آنے کے لیے راستہ دیا۔ ’’میرے بیگ بیڈروم میں ہیں۔‘‘ نولی نے کمرے کی طرف اشارہ کیا۔
ڈرائیور بیڈ روم میں چلا گیا تو باربٹ قریب آکر بولا۔ ’’جانتی ہو میں آج دن بھر کیا سوچتا رہا؟‘‘
نولی نے سوالیہ نگاہوں سے اس کی جانب دیکھا تو وہ بولا۔ ’’جب میں تمہارے اپارٹمنٹ آئوں گا تو تم وہاں نہیں ہوگی۔ کیا معلوم تم نے اپنا ذہن بدل لیا ہو۔ جب بھی فون کی گھنٹی بجتی تھی مجھے یہ اندیشہ پریشان کردیتا تھا۔‘‘
’’نہیں! میں اپنے وعدوں کو پورا کرتی ہوں۔‘‘ نولی نے کہا۔ مگر اس کا دھیان ڈرائیور کی طرف تھا جو بیڈ روم سے اس کا میک اَپ بکس اور اس کا بیگ لے کر باہر آرہا تھا۔
’’کوئی اور چیز تو نہیں؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’نہیں، بس یہی ہے۔‘‘ نولی نے کہا۔
وہ دروازے سے باہر نکل گیا تو باربٹ بولا۔ ’’ہاں… تیار ہو؟‘‘
نولی نے اثبات میں سر ہلایا تو وہ بولا۔ ’’مجھے حیرت ہے کہ پہلے تو تم مجھ سے ملنے سے بھی انکار کردیتی تھیں اور اب تم نے خود ہی چھٹیاں گزارنے کی پیشکش کردی۔‘‘
’’تمہیں اچھا نہیں لگا باربٹ؟‘‘ نولی نے پوچھا۔
’’نہیں ایسا تو نہیں لیکن میں یہ ضرور سوچ رہا تھا کہ تم نے یہ چھٹیاں گزارنے کے لیے دور دراز کا علاقہ کیوں پسند کیا؟‘‘
’’وہ ایک خوبصورت اور پرسکون علاقہ ہے۔ تم دیکھ کر خوش ہوگے۔‘‘ نولی نے کہا اور پھر قدرے چونک کر بولی۔ ’’تمہارے ڈرائیور نے میرا نیلا بیگ اٹھا لیا ہے نا… اس میں میرا نیا گائون ہے۔‘‘
’’مجھے معلوم نہیں۔‘‘ باربٹ بولا۔
نولی نے انٹرکام کا ریسیور اٹھایا۔ ’’ڈرائیور کو اوپر بھیج دو۔ ایک بیگ ابھی اور نیچے جانا ہے۔‘‘
تھوڑی دیر بعد ڈرائیور اوپر آگیا۔ نولی نے اس سے کہا۔ ’’دیکھو بیڈ روم میں ایک نیلا بیگ ہے۔‘‘ پھر پلٹ کر باربٹ سے بولی۔ ’’وہ اتنی اچھی جگہ ہے کہ میں وہاں زیادہ دن رکنا چاہوں گی۔ کاش ایسا ممکن ہوتا لیکن پھر بھی ہم آسانی سے دو دن وہاں گزار سکتے ہیں۔‘‘
ڈرائیور باہر آیا۔ ’’میڈم! میں معذرت خواہ ہوں۔ وہاں کوئی نیلا بیگ نہیں ہے۔‘‘
’’ٹھہرو میں دیکھتی ہوں۔‘‘ وہ بیڈ روم میں گئی اور ساری الماریاں کھول کھول کر دیکھنے لگی۔ باربٹ بھی اندر آگیا اور تینوں بیگ تلاش کرنے لگے۔ بالآخر وہ ایک الماری میں مل گیا لیکن وہ خالی تھا۔
’’اوہ۔ یہ احمق عورت!‘‘ نولی سٹپٹائی۔ ’’اس ملازمہ نے میرا نیا گائون پتا نہیں کس بکس میں ٹھونس دیا ہے حالانکہ یہ بیگ ڈیزائنر نے گائون کے ساتھ دیا تھا کہ وہ کہیں خراب نہ ہوجائے۔‘‘
’’چلو۔ کوئی بات نہیں۔ ملازم ہر جگہ ایک جیسے ہی ہیں اور ان کی حرکتیں بھی!‘‘ باربٹ بولا۔
’’اوہ۔ میں ایک اسکول کی طالبہ کی طرح نروس ہورہی ہوں۔‘‘
’’اب چلو۔ اگر مزید دیر کی تو ہم رات گئے وہاں پہنچیں گے۔‘‘ باربٹ بولا۔
’’میں تیار ہوں۔‘‘ نولی نے کہا اور دونوں ایک ساتھ لابی میں آئے۔ نیچے گارڈ کھڑا تھا۔ اس کے چہرے پر گھبراہٹ کے آثار تھے۔ نولی فکرمند ہوئی۔ اس کا دل ڈوبنے لگا۔ کہیں کوئی گڑبڑ تو نہیں ہوگئی۔ لیکن باربٹ کے سامنے کوئی بات کرنا بھی محال تھا۔ وہ اس کے ساتھ چلنے پر مجبور تھی۔
باربٹ کی گاڑی بالکل دروازے کے سامنے ہی تھی اور اس کی ڈکی بند تھی۔ نولی کا سانس اس کے سینے میں الجھنے لگا۔ نہ جانے ان لوگوں کو کامیابی ہوئی تھی یا نہیں۔ اس کا دل بیٹھا جارہا تھا مگر وہ خاموشی سے اس کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئی اور گاڑی تیزی سے روانہ ہوگئی۔ نولی کے دل کے دھڑکنے کی رفتار گاڑی سے بھی زیادہ تیز تھی۔ وہ خود کو نارمل رکھنے کی پوری کوشش کررہی تھی۔ وہ شہر کی حدود سے نکلنے والے تھے۔ وہ کرشمہ ہوچکا تھا جس کے لیے اس نے اپنی جان خطرے میں ڈالی تھی۔
لیکن جیسے ہی گاڑی شہر کی حدود سے باہر نکلی نولی کا دل دھک سے رہ گیا۔ سامنے ہی پولیس کا ناکہ لگا ہوا تھا اور سڑک کے درمیان سرخ لائٹ جل رہی تھی۔ اس کے پیچھے ایک بڑی لاری نے سڑک کو بند کر رکھا تھا۔ ڈرائیور نے گاڑی روک دی۔ ایک پولیس اہلکار ان کی طرف بڑھا۔ ’’باہر نکلو اور اپنی شناخت کرائو۔‘‘
باربٹ نے شیشہ اتارا اور سر باہر نکال کر تلخی سے کہا۔ ’’یہ سب کیا ہورہا ہے؟‘‘
’’سوری سر… ہمیں معلوم نہیں تھا کہ یہ آپ کی گاڑی ہے۔ ہمیں شہر سے نکلنے والی ہر گاڑی کو جانچنے کا حکم ہے۔‘‘
نولی کے جسم سے جیسے جان نکل رہی تھی۔ یہ بھی غنیمت تھا کہ گاڑی میں تاریکی تھی اور باربٹ اس کا فق چہرہ نہیں دیکھ سکتا تھا۔ اسے یقین نہیں تھا کہ کرٹ گاڑی کی ڈکی میں ہے یا نہیں لیکن اس کا امکان سو فیصد تھا کیونکہ اس کے لیے یہی ایک موقع تھا۔ اگر یہ لوگ گاڑی کی تلاشی لیتے ہیں تو وہ پکڑا جائے گا اور اس کے ساتھ اس کی بھی خیر نہیں تھی۔
اہلکار ڈرائیور سے مخاطب ہوا۔ ’’سامان والا حصہ کھولو۔‘‘
’’اس میں صرف سامان ہے۔ میں نے خود رکھا ہے۔‘‘
’’میں معذرت چاہتا ہوں۔ لیکن ہمیں ہر گاڑی کی تلاشی لینے کا حکم ہے جو شہر سے باہر نکل رہی ہے۔ تم ڈکی کھولو۔‘‘
نولی کی جان پر بنی ہوئی تھی۔ اسے اپنے جسم پر ٹھنڈا پسینہ سرسراتا ہوا محسوس ہورہا تھا۔ اس کا ذہن بڑی تیزی سے کام کررہا تھا اور اتنی ہی تیزی سے وقت گزر رہا تھا۔ نولی نے اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے باربٹ پر نگاہ ڈالی۔ اس کا جسم غصے سے تنا ہوا تھا۔ نولی اس کی جانب پلٹی۔ ’’کیا ہمیں بھی باہر نکل کر تلاشی دینی ہوگی؟‘‘
تیر نشانے پر بیٹھا تھا۔ باربٹ غصے سے پکارا۔ ’’ٹھہرو! تمہیں جس کسی نے بھی یہ حکم دیا ہے۔ وہ ذمہ دار افسروں پر لاگو نہیں ہوتا۔ سمجھے تم۔ ہٹائو ان گاڑیوں کو اور راستہ کھولو۔‘‘ باربٹ نے اپنا کارڈ اسے دکھایا۔
وہ پولیس اہلکار پریشان ہوکر پیچھے ہٹا اور اس نے اپنی ایڑیاں بجا کر باربٹ کو سیلوٹ کیا اور ناکہ لگانے والوں کو راستہ کھولنے کا اشارہ دیا۔ گاڑی رات کی تاریکی میں بڑی تیزی کے ساتھ آگے بڑھ گئی۔
نولی نے اپنا رکا ہوا سانس بہت آہستگی کے ساتھ بحال کیا۔ اس کی پیشانی پسینے سے بھیگی ہوئی تھی لیکن پسینے کے ان قطروں کو وہ صاف نہیں کرسکتی تھی۔
اتنی بڑی مصیبت معجزانہ طور پر ٹل گئی تھی۔ گاڑی تیزی سے سرسبز و شاداب پہاڑیوں اور زرخیز کھیتوں کے درمیان تیزی سے رواں دواں تھی۔ ستاروں سے جگمگاتی رات میں دور بنے ہوئے گھر روشنیوں کے چھوٹے چھوٹے تالاب معلوم ہورہے تھے۔ نولی اور باربٹ گاڑی کی آرام دہ سیٹ پر بیٹھے رسمی بات چیت کررہے تھے۔ نولی کا ذہن کسی اور طرف تھا۔ اسے معلوم تھا کہ وہ ابھی خطرے سے باہر نہیں ہوئی تھی۔ خطرے کی تلوار اب بھی اس کے سر پر لٹک رہی تھی۔ اگر یہ مرحلہ طے پا جاتا تو پھر وہ اطمینان کا سانس لے سکتی تھی۔
صبح قریب آتی جارہی تھی۔ وہ گائوں کے کافی قریب پہنچ چکے تھے۔ نولی نے باربٹ سے کہا۔ ’’کیا ہم کسی ریسٹورنٹ پر رک سکتے ہیں۔ مجھے بھوک لگی ہے۔‘‘
’’ہاں۔ کیوں نہیں ضرور؟‘‘ باربٹ بولا اور اس نے ڈرائیور سے کہا۔ ’’دیکھو کوئی ریسٹورنٹ کھلا ہے؟‘‘
’’مجھے یاد ہے یہاں ایک ریسٹورنٹ ہے۔‘‘ نولی نے بتایا۔
ڈرائیور نے گاڑی کو ساحل کی طرف موڑ دیا۔ گاڑی بالکل پانی کے ساتھ جا رُکی۔ جہاں بہت سے تجارتی جہاز لنگرانداز تھے۔ شوفر نے دروازہ کھولا اور وہ دونوں باہر نکلے اور ریسٹورنٹ کی طرف چل پڑے۔ کچھ دور چل کر نولی نے ایک نگاہ گاڑی پر ڈالی۔ شوفر اسٹیئرنگ پر مستعد بیٹھا تھا۔
’’ڈرائیور۔ کافی نہیں لے گا؟‘‘
’’نہیں۔ وہ گاڑی کے ساتھ رہے گا۔‘‘ باربٹ بولا۔
وہ دونوں ناہموار راستے پر ساتھ چلتے رہے۔ جہاں چھوٹے چھوٹے پتھر پیروں کے نیچے آرہے تھے۔ اچانک نولی کا پائوں مڑگیا۔ وہ لڑکھڑائی۔ باربٹ نے آگے بڑھ کر اسے سہارا دے کر گرنے سے بچا لیا۔ وہ بولا۔ ’’تم ٹھیک تو ہو نا۔‘‘
’’اوہ… لگتا ہے میرا ٹخنہ زخمی ہوگیا ہے۔‘‘
باربٹ نے جھک کر اس کے ٹخنے پر ہاتھ پھیرا۔ ’’نہیں۔ سوجن نہیں ہے۔ تھوڑا سا دبائو ہے۔ کیا تم اس پر بوجھ ڈال سکتی ہو؟‘‘
ڈرائیور نے بھی اسے گرتے ہوئے دیکھ لیا تھا۔ وہ بھی پہنچ گیا۔ دونوں نے نولی کو اپنے پیروں پر کھڑے ہونے میں مدد دی۔ نولی نے قدم اٹھایا لیکن اس کے زخمی ٹخنے نے اسے آگے قدم نہیں رکھنے دیا۔
’’اوہ، مجھے کہیں بٹھا دو۔ میں چل نہیں سکتی۔‘‘ نولی نے کراہتے ہوئے کہا۔
’’تھوڑی ہمت کرو۔ کیفے چند قدم کے فاصلے پر ہے۔‘‘ باربٹ بولا۔ وہ اذیت سے کراہتی رہی لیکن وہ دونوں سہارا دے کر اسے قدم قدم چلاتے ہوئے ریسٹورنٹ کے دروازے تک لے گئے۔ منیجر نے انہیں ایک کونے میں پڑی ہوئی میز کی طرف اشارہ کیا۔ باربٹ اور ڈرائیور کے سہارے نولی وہاں تک پہنچی اور انہوں نے اسے ایک کرسی پر بٹھا دیا۔
’’درد زیادہ ہے؟‘‘ باربٹ نے پوچھا۔
’’ہاں۔‘‘ نولی نے نچلا ہونٹ دباتے ہوئے کہا۔ ’’لیکن تم فکر مت کرو۔ میں جلد ٹھیک ہوجائوں گی۔ اس پروگرام کو ہرگز بدمزہ نہیں ہونے دوں گی۔‘‘
کچھ دیر بعد وہ باربٹ کے ساتھ ریسٹورنٹ سے باہر نکلی تو نسبتاً بہتر تھی۔ ڈرائیور بھی ان کے پیچھے تھا۔ ان کی جیسے ہی نگاہ گاڑی پر پڑی تو دیکھا کچھ لوگ اسے گھیرے کھڑے ہیں۔
’’یہ کیا ہورہا ہے؟‘‘ نولی کے منہ سے بے ساختہ نکلا۔ اس نے خفیہ پولیس کے ایک ذمہ دار آفیسر کو پہچان لیا تھا۔ سردی کی ایک لہر اس کے سارے جسم میں دوڑ گئی۔
’’معلوم نہیں۔‘‘ باربٹ نے تنے ہوئے لہجے میں کہا۔ وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا آگے بڑھ گیا۔
’’یہ تم لوگ یہاں کیا کررہے ہو؟‘‘ باربٹ نے ان کے قریب پہنچ کر کہا۔
’’سوری سر!‘‘ افسر بولا۔ ’’ہمیں آپ کی گاڑی کی ڈکی کو دیکھنا ہے۔‘‘
’’اس میں سامان کے سوا کچھ نہیں ہے۔‘‘
’’مگر ہمیں اطلاع ملی ہے کہ ملک کا ایک باغی اس گاڑی کی ڈکی میں چھپ کر فرار ہونے کی کوشش کررہا ہے جسے آپ کی دوست نے یہ سہولت فراہم کی ہے۔‘‘ اس نے بتایا۔
باربٹ نے ایک کڑی نگاہ اس پر ڈالی پھر وہ نولی کی طرف پلٹا اور بولا۔ ’’مجھے نہیں معلوم کہ یہ لوگ کیا کہہ رہے ہیں۔‘‘ باربٹ کی گہری نگاہیں نولی کے چہرے سے اس کے مضروب ٹخنے تک آئیں۔ اس نے ڈرائیور سے کہا۔ ’’کھولو ڈکی۔‘‘
سب کی نگاہیں ڈکی پر مرکوز تھیں۔ نولی کو محسوس ہورہا تھا جیسے وہ ابھی بے ہوش ہوکر گر پڑے گی۔ ڈکی کا ڈھکن کھلا اور یہ دیکھ کر نولی کا رُکا ہوا سانس آہستہ آہستہ بحال ہوا کہ ڈکی خالی تھی۔ ڈرائیور نے حیرت سے کہا۔ ’’ہمارا سامان کہاں گیا۔ کسی نے چوری کرلیا ہے۔‘‘
’’وہ فرار ہوگیا۔‘‘ پولیس آفیسر نے بے ساختہ ملامت بھرے لہجے میں کہا۔
’’کون فرار ہوگیا؟‘‘ باربٹ نے تلخی سے استفسار کیا۔
’’ڈاکٹر کرٹ۔ وہ دہشت گردوں کو طبی امداد دیتا تھا۔ وہ اس گاڑی میں شہر سے باہر آیا ہے۔ ہم ایک عرصے سے اس کی تلاش میں تھے مگر!‘‘ اس نے ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ پر زور سے مکا مارا۔
’’نہیں۔ تمہیں غلط فہمی ہوئی ہے۔ گاڑی کی ڈکی بہت سختی سے بند تھی۔ اگر وہ اس میں سفر کرتا تو دم گھٹ کر مر جاتا۔‘‘ باربٹ نے قطعی لہجے میں کہا۔
آفیسر نے اپنے اہلکاروں کی طرف دیکھا اور ان میں سے ایک شخص سے بولا۔ ’’ڈکی کے اندر جائو۔‘‘
’’یس سر۔‘‘ حکم کی تعمیل میں وہ فوراً ہی ڈکی میں گھس گیا۔
آفیسر نے زور سے ڈکی کا ڈھکنا بند کردیا اور اپنی گھڑی کی طرف دیکھا اور اگلے چار منٹ وہ سب جیسے سانس روکے خاموش کھڑے رہے۔ پھر اس نے ڈکی کھولنے کا حکم دیا اور وہ شخص ڈکی میں بے سدھ پڑا تھا۔
باربٹ نے گھور کر اس کی طرف دیکھا اور بولا۔ ’’اگر وہ شخص ڈکی میں ہوتا تو اس کا کیا حشر ہوتا؟ کوئی اور خدمت؟‘‘
آفیسر نے اپنا سر جھٹکا۔ اس کے چہرے پر ندامت اور الجھن تھی۔ وہ اپنے اہلکاروں کے ساتھ وہاں سے چلا گیا۔ باربٹ نے ڈرائیور سے کہا۔ ’’چلو۔‘‘
نولی کے اندر عجیب کھدبد سی ہورہی تھی کہ کرٹ ڈکی میں تھا یا نہیں۔ کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا مگر اس نے باربٹ پر کچھ ظاہر نہیں ہونے دیا اور دو چھٹیاں اس کے ساتھ گزار کر واپس آگئی۔
بعد میں اسے معلوم ہوا کہ پولیس نے سارے علاقے کی تلاشی لی تھی مگر انہیں کچھ حاصل نہیں ہوا تھا سوائے ایک خالی آکسیجن سلنڈر کے جو جھاڑیوں میں پڑا تھا۔ نولی کا سامان کچھ روز بعد گمشدہ چیزوں کے محکمے کی طرف سے مل گیا۔
٭…٭…٭
کیتھرین نے شادی کے بعد ولیم کی ملازمت چھوڑ دی تھی۔ ولیم نے اسے لنچ کی دعوت دی جو اس نے قبول کرلی۔ اب وہ انکار نہیں کرسکتی تھی۔ وہ ایک بہت اچھا انسان اور مخلص دوست تھا۔ وہ گہری اداسی میں ڈوبا ہوا لگتا تھا لیکن بظاہر مسکرا رہا تھا۔ وہ اپنی عمر سے زیادہ محسوس ہورہا تھا۔ کیتھرین کو یوں لگ رہا تھا جیسے وہ کوئی اجنبی ہے۔ لیری سے شادی نے وقت اور تعلقات کو کس طرح سے بدل دیا تھا۔ اسے دیکھ کر یہ لگتا ہی نہیں تھا کہ کبھی وہ اس شخص کے ساتھ محبت کرتی تھی اور اس سے شادی کرنے کی خواہشمند تھی۔
ولیم کے زرد اداس چہرے پر ایک مضمحل سی مسکراہٹ آئی۔ ’’تو گویا اب تم ایک شادی شدہ خاتون ہو؟‘‘
’’ہاں ضرورت سے زیادہ شادی شدہ!‘‘ وہ مسکرا کر بولی۔
’’یہ بالکل اچانک ہوا۔ کاش مجھے بھی مقابلہ کرنے کا موقع دیا جاتا۔‘‘
’’مجھے بھی سوچنے کا موقع نہیں ملا۔ یہ اتنی جلدی ہوا۔‘‘
’لیری ایک اچھا ساتھی ہے؟‘‘
’’ہاں!‘‘
’’کیتھرین۔‘‘ ولیم کچھ ہچکچایا۔ ’’تم لیری کے بارے میں کچھ زیادہ نہیں جانتیں یا تمہیں علم ہے۔‘‘
کیتھرین کے اعصاب تننے لگے۔ ’’میں اس سے محبت کرتی ہوں ولیم۔‘‘ وہ نپے تلے لہجے میں بولی۔ ’’اور میں یہ بھی جانتی ہوں کہ وہ بھی مجھ سے محبت کرتا ہے اور یہ ایک بہت خوبصورت احساس ہے شادی شدہ زندگی کے آغاز کے لیے۔‘‘
اس کی پیشانی پر سوچ کی لکیریں ابھریں۔ وہ خاموش تھا لیکن محسوس ہورہا تھا کہ وہ گومگو کی کیفیت میں ہے کہ بات کرے یا نہ کرے۔ پھر وہ محتاط لہجے میں بولا۔ ’’کیتھرین!‘‘
’’ہاں۔‘‘ اس
نے کہا۔
’’محتاط رہنا۔‘‘
’’کس سے؟‘‘
ولیم آہستگی سے بڑے محتاط انداز میں بولا۔ ’’لیری کچھ مختلف ہے۔‘‘
’’وہ کیسے؟‘‘
’’میرا مطلب ہے کہ وہ عام مردوں کی طرح نہیں ہے۔‘‘ کیتھرین کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر وہ سٹپٹایا۔ ’’اچھا۔ چلو چھوڑو۔ میری باتوں پر توجہ مت دو، جانے دو۔‘‘
کیتھرین نے اس کا ہاتھ تھپتھپایا۔ ’’میں تمہیں کبھی نہیں بھول سکتی ولیم۔ ہم دوست تو رہ سکتے ہیں نا۔‘‘
’’ہاں ضرور۔ کیا تم میرے یہاں کام نہیں کرنا چاہتیں؟‘‘
’’لیری چاہتا ہے کہ میں کام نہ کروں۔ وہ دراصل پرانے خیالات کا ہے۔ اس کا خیال ہے کہ شوہروں کو اپنی بیویوں کے لیے سب کچھ کرنا چاہیے۔‘‘
’’اگر کبھی تمہارا ذہن بدلے تو مجھے بتانا۔‘‘ ولیم کہنے لگا۔
اس کے بعد موضوع بدل گیا۔ زیادہ تر گفتگو آفس کے معاملات پر ہوتی رہی اور اس بارے میں کہ کیتھرین کی جگہ کون لے گا۔ کیتھرین کو محسوس ہورہا تھا کہ وہ ولیم کو بھلا نہیں پائے گی۔ وہ ایک بہت پیارا اور مہذب انسان تھا۔ وہ اس کی پہلی محبت تھا اور عورت کے لیے پہلی محبت کو بھلانا ناممکن ہوتا ہے۔
وہ اس کی لیری کے بارے میں رائے سے فکرمند تھی۔ وہ ایک سمجھدار انسان تھا۔ یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ حسد کے مارے یہ سب کچھ کہہ رہا تھا۔ وہ یقیناً اس کی خوشی چاہتا تھا۔ شاید اسے خبردار کرنا چاہتا تھا۔ یہ بات دیر تک اس کے ذہن پر طاری رہی لیکن جب اس کا سامنا لیری سے ہوا اور وہ اس کی طرف دیکھ کر مسکرایا تو وہ سب کچھ بھول گئی۔ صرف اسے وہ خوبصورت، خوش مزاج اور انوکھا ساتھی یاد رہ گیا جس کے ساتھ شادی کرکے اسے کوئی پچھتاوا نہیں تھا۔
لیری ایک ایسا ساتھی تھا جس کے ساتھ زندگی میں حسن ہی حسن اور لطف ہی لطف تھا۔ ہر دن ایک نیا خوشگوار تجربہ تھا۔ ہر چھٹی کے روز وہ دور دراز سیر کے لیے نکل جاتے۔ چھوٹے چھوٹے ہوٹلوں میں ٹھہرتے، گائوں کے میلوں ٹھیلوں میں بچوں کے سے انداز میں شریک ہوتے اور خوب مزہ کرتے۔ کبھی کشتی رانی کرتے اور کبھی مچھلیاں پکڑتے۔ کیتھرین کو پانی سے ڈر لگتا تھا لیکن لیری کے ساتھ ہونے سے وہ خود کو محفوظ سمجھتی تھی۔
وہ ایک محبت کرنے والا شوہر تھا۔ اسے اس کی کوئی پروا نہیں تھی کہ اس کی پُرکشش شخصیت خواتین کو اس کی جانب متوجہ کرتی تھی لیکن وہ ان سے بے نیاز تھا۔ کیتھرین ہی اس کے لیے سب کچھ تھی اس کے علاوہ اسے کسی اور کی ضرورت نہیں تھی۔ اس کا ہر دن ایک نیا ہنی مون تھا اور اس کا ہر لمحہ محبت کا ایک نیا پہلو آشکار کرتا تھا۔
٭…٭…٭
یہ خبر تمام اخباروں میں نمایاں طور پر شائع ہوئی تھی کہ نولی نے اچانک اپنا ڈرامہ درمیان میں چھوڑ کر ایک مشہور ارب پتی بزنس مین کانسٹینٹن ڈیمارس سے شادی کرلی تھی۔ وہ ایک بہت ہی بارسوخ شخص تھا۔ وہ دنیا کا چوتھا امیر ترین انسان تھا۔ اس کا بزنس مختلف ملکوں میں پھیلا ہوا تھا۔ اس کے پرائیویٹ ہوائی جہاز اور تجارتی بحری جہازوں کا پورا ایک بیڑہ تھا۔ اس کے اپارٹمنٹ، فارم ہائوسز کا کوئی حساب نہیں تھا۔ اس کا شمار خوش لباس لوگوں میں ہوتا تھا۔ اگرچہ وہ اتنا خوبصورت نہیں تھا لیکن اس کی دولت نے اسے بے اندازہ پُرکشش بنا رکھا تھا۔ اس کے اسکینڈل آئے دن اخباروں میں چھپتے رہتے تھے۔
لیکن نولی نے جلد ہی اپنی قابلیت اور دانشمندی سے ڈیمارس کی ساری توجہ حاصل کرلی تھی۔ اب اخباروں میں اس کے اسکینڈل بہت کم نظر آتے تھے۔ ڈیمارس ہر جگہ اسے اپنے ساتھ رکھتا تھا۔ وہ اسے بزنس میں بہت اچھے مشورے دیتی تھی۔ اس کا ذوق بلند تھا اور اس کی معلومات بہت وسیع تھیں۔
ہر جگہ نولی کا استقبال کسی شاہی مہمان اور شہزادی کی طرح ہوتا تھا۔ اسے بعض اوقات وہ تنگ و تاریک گھر یاد آتا تھا جس کی چھوٹی سی کھڑکی سے اس کا باپ اسے سمندر میں تیرتے بڑے بحری جہازوں کو دکھاتا تھا اور ہمیشہ کہتا تھا کہ وہ ایک شہزادی ہے اور یہ سب کچھ اس کی ملکیت ہے۔
اس کے باپ کا خواب سچ ہوگیا تھا۔ وہ ایک وسیع تجارتی سلطنت کی مالک بن چکی تھی۔ ڈیمارس نے اسے سیاہ و سفید کا مالک بنا دیا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ نولی کے دل پر صرف اس کی حکومت ہے لیکن وہ نہیں جانتا تھا کہ نولی نے اپنے دل میں کسی اور کو بسا رکھا ہے۔ اگر وہ یہ جان لیتا تو حیرت سے مر جاتا کہ اس نے نولی کو ہر شے دے رکھی تھی لیکن وہ پھر بھی کسی اور کو چاہتی تھی۔ اس کے دل کا مالک کوئی اور تھا۔
لیری ڈگلس اس سے ہزاروں میل دور تھا لیکن نولی اس کے بارے میں ایک ایک پل کی خبر رکھتی تھی۔ سراغرساں کے لیے وہ آمدنی کا ایک زبردست ذریعہ تھی، جس نے اس کی زندگی میں انقلاب برپا کردیا تھا۔ وہ اس کے لیے ہمیشہ ایک زبردست رپورٹ تیار رکھتا تھا اور اس کے آنے کا انتظار بڑی شدت سے کرتا۔ لیری ڈگلس کا رینک بڑھ گیا تھا۔ وہ ایک نئے اسکواڈرن کو ٹریننگ دینے کے لیے سمندر پار چلا گیا تھا جہاں سے وہ اپنی خوبصورت بیوی کے ساتھ بڑی باقاعدگی سے رابطہ رکھتا تھا۔
٭…٭…٭
لیری اس کے ساتھ رابطہ تو رکھتا تھا لیکن اکثر طویل وقفے آجاتے تھے جو کیتھرین کو سوزِ فراق سے نڈھال کردیتے تھے۔ وہ خود اس سے رابطہ نہیں کرسکتی تھی۔ نہ ہی وہ اسے بتا سکتا تھا کہ وہ کہاں ہے۔ ولیم اس کا بہت خیال رکھتا تھا۔ وہ اکثر لنچ اور ڈنر اس کے ساتھ کرتا اور اس کا دل بہلائے رکھتا۔ اس روز وہ اپنا کام ختم کرچکی تھی اور ولیم کی کال کا انتظار کررہی تھی۔ دن کے ڈھائی بجے وہ انٹرکام میں بولا تو کیتھرین نے بیزار لہجے میں کہا۔ ’’ولیم کتنا انتظار کرائو گے یا لنچ اور ڈنر اکٹھا کرنے کا ارادہ ہے۔‘‘
’’بیٹھو، بیٹھو۔ بس تھوڑا انتظار اور…!‘‘ وہ اپنے مخصوص ملائمت بھرے انداز میں بولا۔
پانچ منٹ بعد اس نے پھر رابطہ کیا۔ ’’کیتھرین! پہلی لائن پر تمہارے لیے کال ہے۔‘‘
کیتھرین نے ریسیور اٹھایا۔ ’’ہیلو!‘‘
’’مسز لیری ڈگلس۔‘‘ ایک مردانہ آواز نے پوچھا۔
’’جی۔ کون بات کررہا ہے؟‘‘ کیتھرین نے خود کو سنبھال کر کہا۔
’’ایک منٹ!‘‘ چند سیکنڈ بعد جیسے بہت دور سے ایک آواز سنائی دی جس نے کیتھرین کے انگ انگ میں سرخوشی کی لہر دوڑا دی۔ ’’کیتھی!‘‘
’’اوہ لیری۔‘‘ وہ خوشی اور حیرت سے بول نہیں پا رہی تھی۔
’’کیسی ہو کیتھی؟‘‘
’’اوہ لیری!‘‘ وہ بے تحاشا رونے لگی۔ اس کا جسم لرزنے لگا۔ ’’میں ٹھیک ہوں۔‘‘
اس نے بمشکل کہا اور خود کو سنبھالتے ہوئے بولی۔ ’’تم تو ٹھیک ہو نا۔ تم کب گھر آئو گے۔‘‘
’’کسی بھی وقت، کسی بھی لمحے!‘‘
’’اچھا۔ یہ بات یاد رکھنا۔‘‘ وہ کہتے کہتے پھر رو پڑی۔
’’تم رو رہی ہو کیتھی!‘‘
’’ہاں۔ میں رو رہی ہوں پاگل! میں خوش ہوں کہ تم اس وقت یہاں نہیں۔ یہ دیکھنے کے لیے کہ میرا مسکارا کس طرح میرے گالوں پر بہتا جارہا ہے۔‘‘
’’میرا دل بھی رونے کو چاہ رہا ہے۔ تم مجھے بہت یاد آتی ہو۔‘‘ وہ شرارت سے بولا۔
’’تم بھلا کیوں رئو گے؟ تمہیں کیا پروا کہ میں تمہارے بغیر کتنی تنہا ہوگئی ہوں۔‘‘
پیچھے سے کسی نے کہا۔ ’’کرنل! اب اس کو بند کرنا ہوگا۔‘‘
’’اوہ لیری۔ تمہاری پروموشن ہوگئی ہے اور تم نے مجھے بتایا بھی نہیں۔‘‘
’’میں نے کہا۔ کہیں تمہارا دماغ خراب نہ ہوجائے۔‘‘ وہ ہنسا۔
پیچھے سے کچھ آوازیں مسلسل آرہی تھیں۔ پھر رابطہ منقطع ہوگیا اور کیتھرین ریسیور کی طرف دیکھتی رہ گئی۔ اس کی گھنیری پلکوں کی جھالروں پر آنسوئوں کے موتی ٹکے تھے۔ پھر اس نے سر اپنے بازوئوں پر رکھا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
کوئی دس پندرہ منٹ بعد ولیم کمرے میں آیا۔ ’’کیتھی! تم تیار ہو لنچ کے لیے۔‘‘
’’میں بالکل تیار ہوں۔‘‘ وہ ہشاش بشاش لہجے میں بولی۔
اس کا دل ولیم کے لیے احترام اور محبت سے بھر گیا تھا۔ ولیم نے اس کی بات لیری سے کروانے کے لیے کافی زحمت برداشت کی ہوگی۔ وہ جنگی مشقوں پر کسی دوردراز جزیرے پر تھا اور اس نے کئی روز سے اسے فون نہیں کیا تھا۔ وہاں اس سے رابطہ کرنا ناممکنات میں سے تھا جسے ولیم کی محبت نے ممکن بنا دیا تھا۔ وہ ایک بہت ہی پیارا انسان تھا۔
٭…٭…٭
کیتھرین کو یہ خوشخبری بھی ولیم نے ہی سنائی تھی کہ لیری واپس آرہا ہے لیکن اس کے آنے کا وقت یا دن معلوم نہیں تھا کیونکہ اسے ایئرفورس کے کارگو طیارے میں آنا تھا۔ کیتھرین کا دل خوشی سے بھر گیا۔ اس نے ہزاروں بار سوچا کہ جب لیری اتنے عرصے بعد آئے گا تو وہ کس طرح اس کا استقبال کرے گی۔ اسے اپنی محبت کی شدتوں اور انتظار کی اذیتوں سے کس طرح آگاہ کرے گی۔ اپنی خوشیوں کو کس طرح سہار پائے گی اور آنسوئوں کے کتنے دریا بہائے گی۔
انتظار کی شدت تھی کہ بڑھتی جارہی تھی جس نے سارے تن من میں بے چینی کو جگا دیا تھا۔ بے قراری کم ہوتی ہی نہیں تھی۔ کسی کام میں دل نہیں لگتا تھا۔ کوئی کام مکمل نہیں ہوپاتا تھا۔ پھر وہ لمحہ آیا کہ لیری اس کے سامنے کھڑا تھا۔ اس کے ہونٹوں پر ایک محبت سے لبریز مسکراہٹ تھی۔ کیتھرین جیسے خوشی اور مسرت کے طوفان میں گھر کر رہ گئی۔ اس کے جسم کا رواں رواں مسرت سے جھوم اٹھا تھا۔ اس کا اظہارِ محبت ختم ہونے میں نہیں آرہا تھا۔
لیری نے ہنس کر کہا۔ ’’کل اخباروں میں یہ خبر چھپی ہوگی کہ ہواباز تمام حادثوں سے بچ کر واپس آگیا اور بیوی کے اظہارِ محبت نے بچارے کو مار دیا۔‘‘
دونوں دیر تک اس بات پر ہنستے رہے۔ کیتھرین نے گھر کی ساری بتیاں جلا دی تھیں کہ وہ لیری کو جی بھر کر دیکھ سکے۔ انہوں نے بہت ساری باتیں کرنی تھیں۔ ایک دوسرے کو اپنے دل کا حال سنانا تھا کہ فرقت کے یہ لمحے انہوں نے کیسے گزارے تھے۔ ایک طویل عرصے بعد وہ پھر ایک دوسرے کے قریب تھے۔
اگلے تمام دن دونوں نے ایک ساتھ گزارے۔ ہر ہر لمحے کو محبت اور خوشی سے سجایا۔ کیتھرین بڑے شوق سے اس کے پسندیدہ کھانے بناتی۔ دونوں موسیقی سے لطف اندوز ہوتے، سینما اور تھیٹر جاتے، دعوتوں میں شریک ہوتے اور باتیں کرتے نہ تھکتے لیکن کیتھرین محسوس کررہی تھی کہ لیری کچھ بدل گیا ہے۔ بعض اوقات اس کے رویّے سے وہ اسے اجنبی سا معلوم ہونے لگتا۔ وہ پہلے جیسا خوش مزاج، شوخ اور شریر نہیں رہا تھا۔ وہ بہت جلد بور ہوجاتا تھا۔ اس کا لوگوں سے ملنا بھی کم ہوگیا تھا۔ اس کے مزاج میں تندی اور تلخی آگئی تھی۔ سب سے بڑی بات یہ کہ اس نے ملازمت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ اسے یہ شکایت تھی کہ اس کے جونیئر کو ترقی دے دی گئی تھی۔
لیری کی غیر حاضری میں کیتھرین نے پھر ولیم کے یہاں ملازمت کرلی تھی۔ جب وہ شام کو واپس آتی تو لیری بے چینی کے ساتھ اس کے انتظار میں ہوتا۔ وہ اس سے پوچھتی کہ وہ دن بھر کیا کرتا رہا تو اس کے جواب عجیب مبہم اور طنزیہ انداز کے ہوتے۔ اس لیے کیتھرین نے اس سے اس بارے میں پوچھنا چھوڑ دیا تھا۔ لیری نے اپنے اردگرد ایک دیوار سی اٹھا رکھی تھی۔ کیتھرین کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ لاتعلقی کی اس دیوار کو کس طرح گرائے جو دونوں کو رفتہ رفتہ اجنبی بنا رہی تھی۔ لیری اس کی ہر بات پر اعتراض کرتا تھا۔ دونوں میں اکثر تکرار اور جھگڑے ہونے لگے تھے۔ کیتھرین محسوس کررہی تھی کہ دونوں کے درمیان کچھ غلط ہورہا تھا۔ اگر یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو یہ ان دونوں کو تباہ کردے گا۔ (جاری ہے)