Saturday, April 13, 2024

Nai Zindagai

ابھی گیارہ سال کی تھی کہ والد صاحب کو میری شادی کی فکر ستانے لگی۔ وہ بیمار رہتے تھے سوچتے تھے کہ اپنی زندگی میں بیٹی کی شادی کر دوں یاکم از کم رشتہ طے کر جاؤں ۔ ایسا نہ ہو کہ میرے بعد میری بچی غلط ہاتھوں میں چلی جائے ۔ ہم دیہات کے لوگ تھے جہاں لڑکیوں کے رشتے اوائل عمری میں کر دئیے جاتے ہیں۔ میری بدنصیبی کی کہانی نے بھی اس وقت جنم لیا، جب میری قسمت کا سودا والد نے اپنے بھائی کے بیٹے جنید سے طے کردیا۔ ہمارے خاندان میں رشتہ اپنوں میں کیا جاتا تھا، تبھی والد نے سوچا کہ بیٹی کے جوڑ کا کوئی دوسرا رشتہ موجود نہیں ہے تو جنید ہی سہی۔ وہ عمر میں مجھ سے چھ سات برس چھوٹا تھا تبھی چچی اس رشتہ پر راضی نہ تھیں مگر ابا اور چچا ہم خیال ہوگئے کہ گھر کی لڑکی گھر میں رہے گی تو اچھا رہے گا۔ عمروں کے فرق سے کیا ہوتا ہے ، مگر اپنوں کے بندھن نہ ٹوٹنے چاہئیں ۔ منگنی والے دن میں بہت روئی مگر کسی نے میرے رونے کا اثر نہ لیا اور میرے جذبات کو یوں زندہ دفن کر دیا جیسے وہ مٹی کے کھلونے تھے۔ وقت تیزی سے گزرتا گیا ، میں جوان ہوگئی۔ لڑکیاں یوں بھی جوہی کی بیل کی مانند بڑھتی ہیں اور اپنے ہم عمر لڑکوں سے بڑی دکھنے لگتی ہیں۔ میرا منگیتر تو پهر عمر میں مجھ سے کئی برس چھوٹا تھا۔ ان ہی دنوں میری ملاقات میری منہ بولی خالہ کے بیٹے زوہیب سے ہوئی۔ وہ عمر میں مجھ سے چار سال بڑا تھا۔ اکثر ہمارے گھر آیا کرتا تھا، ان کا گھر ہمارے مکان سے قریب بی تھا وہ بہت باتونی اور شگفتہ مزاج تھا۔ وہ مجھ سے ہنسی مذاق کرتا تو مجھے اچھا لگتا۔ یوں دل ملے تو محبت کے فاصلے بھی طے ہوتے گئے۔ اس چاہت نے رنگ دکھایا اور خالہ اپنے بیٹے کا رشتہ لے کرہمارے گھر آگئیں۔ اماں مجھ سے بہت پیار کرتی تھیں، تبھی میں سمجھ رہی تھی کہ وہ میری خوشی کو مدنظر رکھتے ہوئے اس رشتے کو قبول کرلیں گی لیکن میرے خواب ٹوٹ گئے ، جب ابا نے کہہ دیا کہ میں بھائی کو مناہل کا رشتہ دے چکا ہوں۔ لڑکی اب ان کی ملکیت ہوچکی ہے ۔ میں مرجھا کررہ گئی۔ تب مجھ سے ایک خطا سرزد ہوگئی اور یہ نادانی عمر بھر کا روگ بن گئی میں نے اپنے خالہ زاد زوہیب کو خط لکھ دیا کہ تم جو بھی کرو، مجھے اپنی دلہن بنالو۔ بے شک میری منگنی چچا کے بیٹے سے ہوگئی ہے لیکن اس کامیرا کوئی جوڑ نہیں ہے، منگنی ٹوٹ بھی سکتی ہے۔ اگر تم ذرا ہمت کرو ، تو میری زندگی رشک جنت ہو جائے گی معلوم نہ تھا یہ خط میرے لئے جیتے جی موت کا پروانہ بنے گا، ورنہ شاید میں یہ غلطی کبھی نہ کرتی زوہیب نے میرے خط کا جواب نہ دیا اور کچھ دنوں بعد میں سیج پر بٹھا دی گئی۔ میرے پہلو میں آٹھ سال کا بچہ نئے کپڑے پہنا کر بٹھا دیا گیا، جو میرا دولہا تھا۔ وہ سارے دن کی بھاگ دوڑ سے تھک گیا تھا۔ سیج پر بیٹھتے ہی اسے نیند آنے لگی اور وہ سوگیا۔ میری سہیلیاں ہنس رہی تھیں ۔ بھلا میں کیا کرسکتی تھی حالات نے کچھ کہنے کا حق بھی چھین لیا تھا۔ میرے ہونٹوں پر سرخی نہیں بلکہ چپ کی مہر لگی تھی۔ تھوڑی دیر بعد چچا اپنے دولہا بیٹے کو بانہوں میں اٹھا کر اپنے کمرے میں لے گئے اور چچی سے کہا کہ تم دلہن کے ساتھ سوجاؤ۔

اگلی صبح میں شادی شدہ عورت تھی مگر نہ ہونے کے برابر۔ میرے والدین اپنا فرض ادا کرچکے تھے ۔ بیمار آبا، جو اب پرسکون ہوگئے تھے میرے مستقبل کے اندیشوں سے بے خبر چین کی نیند سوتے تھے۔ دو ماہ بعد ابا کا انتقال ہوگیا۔ چچی نے ابا کے مرتے ہی رنگ بدل لیا اور مجھے بہو کی بجائے نوکرانی سمجھنے لگیں۔ میں اس نوعمری میں ، گھر کے کاموں میں طاق نہ تھی۔ چچی کے صبح شام کے طعنوں نے میرا کلیجہ کھانا شروع کردیا۔ تقدير کی ستم ظریفی پر حیران تھی۔ سوچتی تھی کہ میرا قصور کیا ہے ؟ جو مجھے ایسی سزا مل رہی ہے۔ ایک چچا ہی تھے جو میرا میرا خیال کرتے تھے۔ گھر کے باقی سبھی لوگوں نے مجھے پھوہڑ ، بدسلیقہ اور کام چورکہہ کہہ کر راکھ کر ڈالا۔ میرا خالہ زاد اب بھی کبھی کبھی ہمارے گھر آتا تھا کیونکہ باپ کی طرف سے اس کا چچا سے بھی رشتہ تھا۔ چچا اور چچی کو اس بات کا علم نہ تھا کہ میری اور زوہیب کا آپس میں محبت بھرا تعلق رہ چکا ہے اور اس کی ماں نے میری ماں سے کبھی رشتے کے لئے کہا تھا۔ انہوں نے اس کے آنے جانے پرکوئی پابندی نہ لگائی مگر میں اب چاہتی تھی کہ وہ ہمارے گھر نہ آئے۔ میں چچا کی لاج تھی اور اس لاج کو سنبھالے رکھنا چاہتی تھی۔ میں نے زوہیب کو منع کر دیا کہ اب مجھ سے زیادہ بات چیت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس نے کہا کہ تمہارے شوہر کو جوان ہونے میں ابھی عرصہ درکار ہے۔ تب تک تو تمہاری جوانی کے یہ سنہری دن رخصت ہونے لگیں گے۔ تم پر ظلم ہوا ہے اور میں نہیں چاہتا کہ تم یہ ظلم سہتی رہو۔ میں سمجھ گئی کہ اس کا رشتہ قبول نہ کرنے پر اس کے دل میں میرے والدین اور میرے لئے نفرت سی آگئی ہے۔

اس کی نیت خراب محسوس ہوئی تو میں پریشان ہوگئی اور میں نے اس سے بے رخی اختیار کرلی تب وہ مجھ سے چڑ گیا۔ اس نے کہا۔ میں، یا تو تم کو ازدواجی زندگی کی مسرتوں سے ہم کنار کردوں گا یا پھر اس امر کے لئے تیار رہو کہ میں تم سے انتقام لوں۔ میں نے عزت کی حرمت کو عزیز جانا۔ اس کے بدلے میں ہر دکھ سہنے کو تیار تھی۔ جب دوسری بار اس نے میرے روبرو یہی بات دوہرائی تو میں نے اسے برا بھلا کہا اور دوبارہ نہ آنے کی ہدایت کی، جس پر وہ خفا ہو کر ہمارے گھر سے چلا گیا اور پھر نہ آیا۔ اس کے جانے کے بعد میں نے سکھ کا سانس لیا اور سمجھی کہ اب میری زندگی کا یہ کانٹا ہی نکل گیا ہے مگر یہ میری خام خیال تھی۔ وہ دل میں تہیہ کرکے گیا تھا کہ مجھے آباد نہ رہنے دے گا، شاید وہ سچا پیار کرنے والا نہیں بلکہ انتقامی عاشقوں میں سے تھا۔ چند سال پلک جھپکتے گزر گئے۔ میرا سرتاج اب ایک کڑیل جوان تھا۔ ہم ایک ہی گھر میں رہتے تھے، ایک دوسرے کی ضرورتوں کا خیال کرتے تھے ، سو آپس میں محبت والتفات يقيني تها جنید مجھ سے پیار سے رہتے تھے۔ اب ان کو میاں بیوی کے رشتوں کے تقاضے سمجھ میں آنے لگے تھے ۔ میں اپنی زندگی سے خوش اور مطمئن تھی۔ لگتا تھا اب دکھ تمام ہوئے ۔ جوانی میں عمروں کا فرق کچھ ایسا محسوس نہیں ہوتا۔ یہ تو ہمارے دیہات کی پرانی روایات تھیں۔ ہم لوگ اس چیز کے عادی تھے ۔ میں یہ بھول چکی تھی کہ میرا دشمن ابهی تک گھات میں ہے میں نے اپنی عزت کو اس کے ہاتھوں میں کھلونا نہیں بننے دیا تھا، اس کی سزا تو ایک دن ملنی ہی تھی۔

ایک روز زوہیب اچانک آگیا۔ ان دنوں میں امید سے تھی۔ اس نے ایک طنزیہ نظر مجھ پر ڈالی اور مسکرا کر بولا ۔ ہمارے ساتھ تم نے نا انصافی کی اور دوسروں کو جھولی بھر بھر خوشیاں بانٹ رہی ہو۔ اس کا حساب تو ہونا ہی چاہیے۔ تم نے میرا دل ویران کیا ہے ، میری خوشیاں لوٹی ہیں۔ اب اپنی بے وفائی کا مزہ بھی چکھو میں خوفزدہ ہوگئی۔ مجھے معلوم نہ تھا کہ وہ کیا کرنے والا ہے۔ اس نے زوہیب کو وہ خط دے دیا ، جو میں نے اپنی نادان عمر میں لکھا تھا۔ بس یہ غلطی میری میرے لئے زہر بھرا ناگ بن گئی، جس نے میری خوشیوں کو ڈس لیا۔ خط پڑھ کر میرے سرتاج کی حالت دیدنی تھی، جیسے کسی نے ان کی روح کھینچ لی ہو، پھر وہ ایک دم بدل گئے اور مجھ سے متنفر ہوگئے۔ جن آنکھوں میں میرے لئے پیار بھرا رہتا تھا، اب وہاں نفرت کے انگاروں کی نہ بجھنے والی آگ تھی ۔ وہ مجھ سے روٹھ گئے۔ چچا نے لاکھ سمجھایا، اس کے باوجود انہوں نے مجھ سے جو قطع کلامی کی تو پھر مخاطب نہ کیا۔ انہوں نے زوہیب سے سوال کیا تھا کہ تم ہمارے گھر اسی وجہ سے آتے تھے ہاں، میں محض مناہل کی وجہ سے تمہارے گھر آتا تھا کیونکہ اس نے میرا چین وسکون چھین لیا تھا۔ شادی کے وقت تم تو چھوٹے سے لڑکے تھے تبھی یہ مجھے خود گھر بلاتی تھی اور مجھ سے ملتی تھی میں روتی رہی مگر میرے شوہر نے میری پاک دامنی اور بے گناہی کا یقین نہ کیا۔ ان کے لئے یہی ثبوت کافی تھا کہ خط میں ، میں نے زوہیب سے اظہار محبت کرتے ہوئے لکھا تھا کہ میں اپنے منگیتر سے شادی نہیں کرنا چاہتی۔ میرا اس کا کوئی جوڑ نہیں، حالانکہ یہ نادان عمر کی باتیں تھیں مگر اب تیر کمان سے نکل چکاتھا۔

جنید کو ڈاکٹر بننے کا شوق تھا۔ ایف ایس سی میں اچھے نمبر لئے تو میڈیکل کالج میں داخلہ مل گیا اور اس جدائی کے بعد میری زندگی کی تمام خوشیاں حسرتوں میں بدل گئیں ۔ انہی دنوں میں ایک بچے کی ماں بھی بن گئی۔ ان کو خبر کی گئی مگر وہ نہ آئے۔ شاید وہ معصوم بھی میرے ساتھ دکھ سہنے، اس دنیا میں آیا تھا۔ وہ مہینوں بعد کبھی کبھار آجاتے مگر مجھے اپنی صورت نہ دکھاتے ، یہاں تک کہ بیٹے کی طرف بھی نہیں دیکھتے تھے۔ اور میں سوچتی رہ جاتی کہ کتنا سنگدل باپ ہے یہ بھی، جس نے ایک خط کی وجہ سے اپنے بیٹے کو بھی باپ کے پیار سے محروم کر دیا ہے۔ شاید وہ یہی سمجھتا ہے کہ یہ بیٹا اس کا نہیں ہے۔ جنید کا واسطہ اب صرف اپنے والدین تک محدود تھا، جن کے لئے گھر آنا اس کی مجبوری تھی۔ چچا ہمارے غم میں گھل گھل کر آدھے رہ گئے او ر جنید کے ڈاکٹر بننے سے پہلے ہی چل بسے۔ کچھ عرصہ بعد میری ساس بھی اللہ کو پیاری ہوگئیں، حالانکہ وہ تو اپنے پوتے سے بہت پیار کرتی تھیں۔ اب میں گھر میں تھی اور میرا بیٹا ، جنید نے تو گھر آنا بند کردیا۔ وہ ڈاکٹر بن کر ہزاروں کمانے لگے مگرہم ان کی محبت کے ساتھ ساتھ کھانے پینے کو بھی ترسنے لگے نوبت فاقوں تک آگئی۔ میں نے کافی خط لکھے مگر جنید نے کسی خط کا جواب نہ دیا۔ فون تو وہ اٹھاتے ہی نہ تھے کچھ رشتہ داروں نے سمجھایا کہ مجھے اب خود ہی ان کے پاس شہر چلے جانا چاہیے ۔ میں جانتی تھی کہ ایک غلط فہمی نے ان کے دل کی کایا ہی پلٹ کر رکھ دی ہے، وہ تبھی ہم سے کوئی ناتا نہ رکھنا چاہتے تھے۔ تاہم خاندانی روایات سے مجبور تھے اور مرتے وقت ان کے والد بھی یہ وصیت کرگئے تھے کہ مناہل سے ناتا نہ توڑنا ورنہ میں روز قیامت تک تم کو معاف نہ کروں گا۔ اسی وجہ سے انہوں نے مجھے طلاق نہ دی مگر پلٹ کر دیکھنا بھی گوارا نہ کیا۔ آخر ہمت کر کے ایک دن میں ان کے پاس چلی گئی، جہاں وہ رہتے تھے۔ مجھے دیکھ کر منہ پھیر لیا اور بیٹے کو دیکھا تو کہا ۔ میرے سامنے سے ہٹاؤ اسے، نجانے کس کی اولاد ہے؟ میں روتی رہی، وہ ناراض ہوتے رہے۔ آخر میں نے ہاتھ جوڑ کر کہا ۔ محبت نہیں دے سکتے تو خدا کے نام پر خرچہ تو دے دو۔ میں اس معصوم بچے کو لے کر کس کے در پر مانگنے جاؤں۔ خدا کی ناراضی سے ڈرو۔ اس بات پر جنید کے دل کو جنبش ہوئی ، پھر انہوں نے اتنا کیا کہ بر ماه کچھ رقم خرچے کے لئے بھجوانے لگے جوں توں میں اسی رقم میں گزر بسر کرنے لگی۔

ایک دن خبر ملی کہ تمہارے شوہر نے دوسری شادی کرلی ہے۔ مجھے کوئی حیرت نہ ہوئی کیونکہ مجھے خود اس بات کا اندازہ تھا کہ انہیں، ہم عمر اور ہم منصب بیوی کی ضرروت ہے اور ان کا حق بھی بنتا ہے۔ میں ان کے دل سے اتر چکی تھی۔ عمر میں بھی بڑی تھی ۔ ان کی دوسری بیوی ڈاکٹر تھی، اس کے سامنے بھلا مجھ مڈل پاس کی کیا حیثیت تھی؟ میں تو ایک لاش تھی۔ زندہ تھی تو صرف اپنے بیٹے کے لئے۔ میری سب خوشیاں، آرزوئیں میرے لخت جگر سے ہی وابستہ تھیں ۔ جنید نے دوسری شادی کے ایک سال بعد خرچہ بهيجنا بند کردیا۔ کبھی دو چار ماه بعد کچھ رقم بھیج دیتے ، جو راشن والے کے ادھار میں چلی جاتی۔ میں اور میرا بچہ اب لوگوں کے رحم و کرم پرتھے۔ تعلیم یافتہ نہ تھی کہ نوکری کرلیتی ۔ انہی دنوں میرے بیٹے کو بیماری نے آلیا۔ کوئی رشتہ دار ایسا نہ تھا، جو آڑے وقت میں ساتھ دیتا۔ باپ ڈاکٹر تھا اور بیٹا علاج كوترس رہا تھا۔ خیر یہ کڑا وقت بھی گزر گیا۔ کسی نے مشورہ دیا کہ نرسنگ کا کورس کرکے اپنے پاؤں پر کھڑی ہو جاؤ۔ اس طرح تمہارا بیٹا پڑھ لکھ سکے گا۔ ایک جاننے والی نرس کی مدد سے میں نے نرسنگ کا کورس کیا ۔ اسی نے مجھے اس اسپتال میں ملازمت دلوادی جہاں وہ نوکری کرتی تھی۔ وقت گزرتا رہا اور میں کشت اٹھائی گئی تاکہ میرا بیٹا، تعلیم مکمل کرلے۔ ایک روز کالج جاتے ہوئے اس کی موٹر سائیکل کو ایک وین نے ٹکر مار دی۔ وہ موٹر سائیکل سمیت سڑک پر گر کر شدید زخمی ہوگیا۔ لوگ اسپتال لے گئے۔ ایمرجنسی میں اس وقت جس ڈاکٹر کی ڈیوٹی تھی وہ جنید تھے ۔لوگ کہتے ہیں ، خدا ایسے ناگہانی حادثات سے بچائے وہ ٹھیک ہی کہتے ہیں یہ جان لیوا حادثات اکثر گھروں کے چراغ بجھا کر والدین کے دلوں میں ہمیشہ کے لئے اندھیرے بھردیا کرتے ہیں لیکن مجھ بد قسمت پر اللہ تعالیٰ نے اس حادثے کی صورت میں کیسا کرم کیا اللہ پاک نے نہ صرف ولید کی زندگی رکھی بلکہ اسے اس کے باپ سے ملادیا۔ جب اس شخص نے جواں سال بیٹے کو دیکھا تو اسے لگا کہ وہ آئینے میں اپنی ہی صورت کو دیکھ رہا ہے ۔ جواں بیٹا جب ایسی حالت میں اچانک باپ کے سامنے آجائے اور باپ بھی ڈاکٹر جو چوٹ کی نوعیت کو سمجھتا ہو تو دل کی کیا حالت ہوگی۔ حادثے نے باپ کے مردہ دل کو تڑپا کر اس میں برسوں سے دفن محبت کو دوباره زنده کردیا، اس میں نئی روح پھونک دی۔ کسی کو کچھ کہنے اور سمجھانے کی ضرورت نہ پڑی ، خون کو خون نے خود پہچان لیا اور رگوں میں دوڑتے لہو نے جوش مارا تو پدری محبت جاگ پڑی بیٹے کو گلے لگالیا اور خدا کے حضور سجدہ ریز ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ اس کے بیٹے کو نئی زندگی اور شفا دے دے۔ جہاں ماں کی دعا قبول ہوتی ہے، دل سے نکلی ہوئی باپ کی دعابھی ضرور قبول ہوجاتی ہے، پس اللہ تعالیٰ نے جنید کی سن لی اور میرے بیٹے کو نہ صرف نئی زندگی ملی مجھے بھی نئی زندگی مل گئی۔ بیٹے کی خاطر انہوں نے مجھے معاف کیا اور دوبارہ سے میرا گھر بس گیا۔ وہ ہمارے گھر آنے جانے لگے جو ان کے والد یعنی میرے چچا کا گھرتھا ۔ آج بھی وہ دوسری بیوی کے پاس رہتے ہیں لیکن ہمارے گھر بھی آتے ہیں ، اپنے بیٹے بہو اور پوتے پوتی سے ملنے یوں میں بھی ان کو دیکھ کر اور ان کی خدمت کر کے آنکھیں اور دل ٹھنڈا کرلیتی ہوں۔

Latest Posts

Related POSTS