Sunday, May 19, 2024

Naseeb Ki Dolat

میرے والد زمیندار کے مال مویشیوں کی دیکھ بھال کرتے تھے۔ ان کے ماتحت تین چار نوکر تھے جو مویشیوں کو چارہ ڈالتے اور گوبر وغیرہ صاف کرتے ، روز باڑے کو دھوتے تھے۔ والد صاحب کا کام ان چاکروں کی نگرانی کرنا تھا تا کہ وہ وقت پر مویشیوں کو چارہ ڈالیں ، ان کو دھوپ سے چھاؤں میں باندھیں اور ان کی دیکھ بھال میں کوتاہی نہ کریں۔ والد صاحب دیانتدار تھے، زمیندار کی نگاہوں میں ان کی بڑی قدر و منزلت تھی، اپنے عزیزوں کی مانند ابا کو وہ عزیز رکھتے تھے اور اتنا خیال رکھتے کہ لگتا تھا جیسے وہ ہمارے رشتہ دار ہوں ۔ میں ان کو چاچی کہتی تھی۔ میرا آنا جانا چاچی کے گھر رہتا تھا۔ ان کی ایک بیٹی درخشندہ میری ہم عمر تھی۔ ہمارا بچپن ساتھ گزرا۔

درخشندہ بہت اچھی لڑکی تھی اس میں غرور نام کو نہ تھا۔ وہ مجھے اپنی بہنوں جیسا سمجتھی تھی۔ اس کی والدہ جب عیدین پر اس کے لئے نئے کپڑے سلواتیں، میرے لئے بھی نیا جوڑا، چوڑیاں وغیرہ لاتیں ۔ سچ تو یہ ہے کہ مجھے ان کا گھر اپنا گھر معلوم ہوتا تھا۔ جن دنوں میں نے چھٹی پاس کی اچانک ابا نے مجھے اسکول جانے سے منع کر دیا کیونکہ پرائمری اسکول تو گھر کے پاس تھا اور ہم پیدل چلے جاتے تھے لیکن گرلز ہائی اسکول ندی پار تھا ۔ پل کراس کر کے جانا پڑتا تھا۔ درخشندہ کار میں جاتی اور والد صاحب کو یہ پسند نہ تھا کہ میں بھی اس کے ساتھ روز کار میں چڑھ بیٹھوں ، لہذا انہوں نے آگے پڑھنے سے روک دیا۔ اس بات کا مجھے اس قدر صدمہ ہوا کہ میں نے دو دن تک کھانا نہ کھایا، روتی رہی۔ ابا پر کوئی اثر نہ ہوا۔ جب درخشندہ کو اسکول جاتے دیکھتی تو دل حسرت سے پھٹنے لگتا۔ کیا بتاؤں کہ کتنا صدمہ تھا۔ کلاس میں اول پوزیشن لیتی تھی ، پڑھنے کا اتنا شوق تھا کہ رات میں اگر دیا بجھ جاتا تو چاند کی روشنی میں پڑھتی تھی۔ میری نظر عقاب ایسی تیز تھی چاند کی روشنی میں بھی پڑھ سکتی تھی۔ ساتویں کلاس شروع ہوگئی۔ روز درخشندہ اسکول کے بارے میں آکر نت نئی باتیں بتاتی کہ بہت وسیع اور خوبصورت اسکول ہے۔ گراؤنڈ درختوں اور سبزے سے بھرے ہوئے، جہاں ہیڈ مسٹریس نے پھولوں کی کیاریاں اور روشیں سجائی ہیں۔ آس پاس کی بستی سے بھی لڑکیاں پڑھنے آتی ہیں۔ استانیاں بہت اچھی ہیں اور دھیان سے پڑھاتی ہیں۔

ایک دن ان کے اسکول میں مینا بازار تھا۔ میرا جی چاہا کہ اڑ کر پہنچوں اور مینا بازار کی رونق دیکھوں مگر اہا کی وجہ سے جانے سے معذور تھی ۔ انہوں نے سختی سے منع کر دیا تھا کہ اب زیادہ باہر نہیں آنا جانا کہ اب تم بڑی ہو گئی ہو۔ ناچار دل مسوس کر رہ گئی ، جب درخشندہ نے بلوایا کہ آج تو چلو مینا بازار اور ابا نے جانے نہ دیا۔ تب سوچا کہ ایسی مجبور زندگی سے جینے کا کیا فائدہ ہے۔ اس سے مر جانا اچھا ہے۔ جب والد باڑے کی طرف چلے گئے تو میں بھی افسردگی کے عالم میں گھر سے نکل گئی اور سیدھی ندی کی راہ لی۔ ندی کافی چوڑی تھی ، پانی سے لبالب بھری ہوئی تھی۔ پس میں نے پل پر کھڑے ہو کر تھوڑی دیر سوچا اور پھر آنا فانا اس میں چھلانگ لگا دی۔ میری خوش قسمتی کہ اسی وقت مجھے پانی میں چھلانگ لگاتے ہوئے آصف نے دیکھ لیا۔ وہ اپنی بہن کو اسکول پہنچا کر واپس گھر کو لوٹ رہا تھا ۔ آصف درخشندہ کا بڑا بھائی تھا اس نے جو مجھے ندی میں گرتے دیکھا۔ دوڑ کر آیا اور پانی میں چھلانگ لگا دی۔ وہ بہت اچھا تیراک تھا۔ ایک لمحہ ضائع کئے بغیر اس نے مجھے پکڑ لیا اور ڈوبنے سے بچالیا۔  وہ مجھے اٹھا کر پل پر لے آیا اور پھر اپنی گاڑی میں ڈال کر گھر پہنچایا۔ والد صاحب کو خبر ہوگئی ، دوڑتے ہوئے باڑے سے گھر پہنچے ۔ دیہات کے لوگوں کو خبر ہوتی ہے کہ اگر کوئی پانی میں گر جائے تو اسے موجوں سے نکال کر کیا تراکیب کرنی ہوتی ہیں اور زندگی کیسے بچاتے ہیں۔ آنے سے پہلے آصف نے وہ تراکیب کرلی تھیں اور اب میں چار پائی پر لیٹی سانس لے رہی تھی ۔ بلاشبہ ابا مجھ سے پیار کرتے تھے ، اس حال میں دیکھا تو رو پڑے۔ آصف نے جا کر ڈیرے پر چچا جی کو خبر کر دی تھی ۔ وہ بھی آگئے پوچھا کہ بٹیا کا کیا حال ہے اگر اسپتال لے جانا ہے تو گاڑی باہر کھڑی ہے اس کو ابھی لئے چلتے ہیں۔ یہ اب ٹھیک ہے سانس بحال ہو گیا ہے۔ پیٹ سے پانی نکال دیا ہے۔ اسپتال جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اہا نے شکر یہ ادا کیا اور چچا جی یہ کہہ کر چلے گئے اگر روپے، چاہئیے یا گاڑی اور ڈرائیور کی ضرورت ہو تو بلا تکلف آجانا۔

جب میری حالت ذرا سی ہوئی والد نے پوچھا۔ تم نے ندی میں کیوں چھلانگ لگائی تھی۔ میں نے کہا آپ نے مجھے اسکول جانے سے روکا ہے اس لئے مجھے پڑھنے دیں۔ میں ایک اچھی لڑکی ہوں ابا ، آپ کے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچاؤں گی ۔ یہ سن کر والد صاحب خاموش ہو گئے۔ کچھ دنوں بعد درخشندہ کے گھر گئی۔ اس کے والد نے بھی یہی سوال کیا تو میں نے ان کو بتایا کہ ابا نے مجھے ہائی اسکول جانے سے منع کیا ہے جبکہ میرا خواب تھا کہ ہائی اسکول پڑھوں گی ۔ اسی وجہ سے میں نے خود کو موت سے ہمکنار کرنا چاہا کہ بغیر پڑھائی انسان کی عزت نہیں اور لڑکیوں کی تو زندگی ہی مٹی میں مل جاتی ہے وہ اگر پڑھی لکھی نہ ہوں۔ زمیندار کے دل پر میری بات کا بہت اثر ہوا۔ اسی وقت والد کو بلوا کر کہا۔ دین محمد تم نے روشن کو اسکول سے روک کر بڑی غلطی کی ہے یہ تو اول پوزیشن لینے والی بچی ہے۔ میرا کہا مانو اسے اسکول بھیجو۔ زمیندار کی بات کون ٹال سکتا تھا جبکہ والد صاحب کے لئے تو ان کا کہا حکم کا درجہ رکھتا تھا۔ ناچار انہوں نے مجھے آگے پڑھنے کی اجازت دے دی اور ساتویں میں داخل کرادیا۔ مجھے زندگی کی سب سے بڑی خوشی مل گئی۔ ایسے ہواؤں میں اڑتی پھرتی تھی جیسے سوکھے دھانوں پانی پڑ گیا ہو۔ میرے نصیب جاگ گئے تھے تبھی دل میں عہد کر لیا کہ جس خوف سے ابا مجھے تعلیم سے روک رہے تھے کبھی ان کے اعتماد کو ٹھیس نہ لگنے دوں گی اور پڑھائی کے علاوہ کسی خیال کو اپنے دھیان میں نہ لاؤں گی۔ یہ ایک بہت بڑا احسان تھا جو انہوں نے مجھ پر کیا تھا۔ اس احسان کو بھلا کیونکر بھلا سکتی تھی ۔ ہمہ تن پڑھائی میں لگ گئی اور ہرگز کتابوں کے علاوہ ادھر ادھر دھیان کو بھٹکنے نہیں دیا۔ ہمارے گھر محلے کا کوئی لڑکا نہیں آتا تھا حتی کہ کسی رشتہ دار لڑکے کو بھی گھر کی دہلیز پار کرنے کی اجازت نہ تھی لیکن آصف بچپن سے آیا کرتا تھا۔ جب وہ چھوٹا تھا اس کی ماں سخت بیمار ہو گئی ، جب امی نے اسے پالا تو وہ امی کو ماں جی کہتا تھا اور جب چاہتا امی کے پاس آجاتا۔ میرا ایک بھائی اس کا ہم عمر تھا جس سے اس کی دوستی تھی ۔ وہ عمر سے ملنے آتا تھا۔ یہ ایک معمول تھا۔

چھٹی کے روز اگر آصف ، عمر سے ملنے نہ آتا تو والدہ بلواتیں کہ آصف کیوں نہیں آئے ۔ وہ ہمارے گھر کے فرد جیسا تھا۔ امی نے اسے پالا تھا تو اولاد کی مانند میرے والدین آصف سے پیار کرتے تھے جبکہ اس کی ماں کا کہنا تھا کہ بخت بی بی کا بڑا احسان ہے کہ اس کی دیکھ بھال نے میرے بیٹے کوئی زندگی عطا کی ، ورنہ تو میں مرچکی ہوتی۔ آصف نے میری جان بچائی۔ وہ خوش تھا کہ اس کے ابو کا میرے ابا نے کہنا مانا اور اسکول بھجوانا شروع کر دیا۔ ہمارے گھر کا ماحول ایسا تھا کہ بلا شبہ وہ روز آتا مگر میں اس سے ہم کلام نہ ہوتی ۔ ادب اور شرم و حیا میری گھٹی میں پڑی ہوئی تھی۔ بلا ضرورت گھر سے نہ نکلتی ۔ گھر کے کاموں میں والدہ کی مدد کرتی۔ میری ہر عادت آصف کو اچھی لگتی تھی جس کا تذکرہ وہ اپنی بہن رخشندہ سے کرتا تھا جو میری بچپن کی سہیلی تھی۔ میں نے غریب گھرانے میں جنم لیا مگر عادتیں امیروں کی بچیوں جیسی تھیں ۔ ہر روز نہانا ، کپڑے بدلنا اور صاف ستھرا رہنا۔ میں کسی طرح بھی غریب گھر کی نہیں لگتی تھی۔ آصف بھی نیک طینت اور مختلف قسم کا لڑکا تھا۔ وہ عام لڑکوں کی طرح ہر لڑکی کو نہیں دیکھتا تھا۔ وہ ان مردوں میں سے نہ تھا جو عورت کو کھلونا جان کر کچھ عرصہ کھیلتے ہیں پھر اس کے کل پرزے علیحدہ کر کے توڑ پھوڑ کر پھینک دیتے ہیں۔ ایک بے جان گڑیا کی طرح۔ وہ ان پجاریوں میں سے تھا جو ہزاروں میں سے صرف ایک مورتی کو پسند کرتے ہیں اور اس کو من مندر میں سجا لیتے ہیں۔ یہ سوچے بغیر کہ کوئی نیا خیال اس پرانے بت کو پاش پاش بھی کر سکتا ہے۔ اس نے بھی چپکے سے مجھ بے زبان مورتی کو ہمیشہ کے لئے اپنے من مندر میں سجا لیا۔ آصف کا خیال تھا کہ شریک زندگی ایک ہوتی ہے اور ہر لڑکی پر نظر ڈالنا غلط بات ہے۔ اس کا یہ بھی خیال تھا کہ شاید میں اس کو اپنا بھائی سمجھتی ہوں ۔ وہ اکثر امی سے کہتا مجھے ایسی شریک حیات کی تمنا ہے جو بہت اونچے خیالات کی مالک نہ ہو۔ کبھی میرے ذہن میں یہ خیال نہیں آیا کہ وہ ایسا میرے لئے کہتا ہوگا ۔ ہمارے طبقے میں بہت فرق تھا بلکہ زمین و آسمان کا فرق تھا۔ وہ مالک اور ہم نوکر تھے۔ یہ تو چچا جی کی مہربانی تھی کہ وہ ہم کو اس فرق کا احساس نہیں دلاتے تھے لیکن انسان کو خود بھی تو اپنی حدود اور حیثیت کا اندازہ ہوتا ہے، سو ایسا سوچنا حماقت کے سوا اور کیا تھا۔ ایک روز آصف ہمارے گھر آیا۔ امی ابا کسی عزیز کی وفات میں گئے تھے۔ موقع دیکھ کر میں نے کہا ۔ آصف امی تمہاری بات مانتی ہیں ان کو کہنا مجھے میٹرک کے بعد بھی پڑھنے دیں ۔ دوسری لڑکیاں پڑھیں نہ پڑھیں، وہ تو پیار وغیرہ کے چکر میں پڑی ہوئی ہیں مگر میں ویسی نہیں، پڑھ لکھ کر کچھ بننا چاہتی ہوں ۔ اس نے تسلی دی کہ میٹرک کر لو پھر بات کریں گے، ابھی سے بات کرنا بیکار ہوگا۔

جب میں نے میٹرک کر لیا ایک دن آصف نے ایک اچھی کتاب پڑھنے کو دی اور کہا کہ یہ تہمارے لئے درخشندہ نے بھجوائی ہے لیکن اس میں ایک چٹھی بھی ہے۔ میں نے کتاب لے لی۔ وہ چلا گیا جب کتاب کھولی اس میں آصف کی چھٹی تھی لکھا تھا۔ روشن میں تم کو شریک حیات بنانا چاہتا ہوں اگر تم اس بات سے خوش ہو تو مجھے تمہارا وعدہ چاہئے۔ اگر انکار کرنا ہے تو خفا مت ہونا بلکہ یہ چٹھی مجھے واپس کر دینا اور کسی سے ذکر مت کرنا میری عزت رکھ لینا۔ چٹھی پڑھ کر پسینہ پسینہ ہو گئی ۔ اپنے والد کا چہرہ آنکھوں کے سامنے پھر گیا اور دل میں کیا ہوا یہ قول کہ کبھی ان کے اعتماد کو ٹھیس نہ پہنچاؤں گی، کانوں میں گونجنے لگا۔ اگلے دن جب اس نے جواب مانگا میں نے ذرا غصے سے کہا۔ آصف میں کبھی ایسا نہ کروں گی۔ وہ بجھ گیا اور کہا میں بہت پچھتا رہا ہوں ، اے کاش میں اپنی عزت اس چٹھی کی صورت میں تمہارے ہاتھ میں نہ دیتا۔ اگلے دن میرے والدین انتقال والے گھر میں چند دنوں کے لئے رہنے چلے گئے۔ میرے ماموں فوت ہو گئے تھے جو دوسرے گاؤں میں رہا کرتے تھے۔ ان کا جانا ضروری تھا ، جاتے ہوئے وہ آصف کو کہہ کر گئے کہ ہمارے گھر کا خیال رکھنا۔ میں اور چھوٹا بھائی گھر میں تھے۔ آصف نے ہمارے گھر آنا بند کر دیا۔ کئی دن وہ نہ آیا تو مجھے افسوس ہوا۔ اپنی ایک سہیلی راشدہ سے ذکر کیا جو ساتھ والے گھر میں رہتی تھی۔ اس نے مجھے کہا کہ تم مجھے مخط لکھ دو۔ معذرت نامہ تھا کہ میں اس تک پہنچا دوں ۔ اس کا دکھ کم ہو جائے گا۔ میں نے خط لکھا۔ آصف میں پیار محبت کے چکر میں نہیں پڑ سکتی کیونکہ ایک تو ہم غریب لوگ ہیں پھر اس سے باپ اور بھائی کی عزت پر داغ لگ جاتا ہے۔ میں اپنے ابا کی نافرمانی نہیں کر سکتی۔ میرے نصیب میں جو لکھا ہو گا وہی ملے گا۔ میں تم سے معذرت کرتی ہوں اور تم کو صدمہ پہنچانے کا مجھے بھی دکھ ہے مجھے معاف کر دینا۔ میرا خط پڑھ کر وہ مایوس ہو گیا۔ والدین سے اصرار کیا کہ وہ اپنے چچا کے پاس پڑھنے کو لندن جانا چاہتا ہے۔ تب اس کے والد نے اسے دور لندن بھیج دیا اس نے راشدہ کو بتا دیا کہ اس کا ویزا لگ گیا ہے۔ وہ مجھ سے ملنا چاہتا تھا مگر راشدہ نے مجھے نہ بتایا۔ وہ بالکل نہ چاہتی تھی کہ میں اس سے ملوں ۔ وہ چلا گیا اور مجھے میٹرک کے بعد گھر بٹھا دیا گیا۔ چار سال گزرگئے ۔ وہ لوٹا تو کافی بدل گیا تھا۔ بہت خوبصورت ہو گیا تھا۔ ہمارے گھر آیا مگر میری ہمت نہ پڑی کہ اس کی طرف دیکھوں یا بات کروں ۔ پھر انہونی ہوگئی ، چچا جی اور چاچی میرا رشتہ لینے آگئے ۔ امی ابو کی تو باچھیں کھل گئیں اور انہوں نے فور آہاں کر دی۔ وہ زمیندار اور ہم چاکر ، مگر مجھ میں جانے انہیں کیا گن نظر آئے کہ بیٹے کی ضد سے ہار مان لی اور یوں میں زمیندار گھرانے کی بہو بن گئی ۔ آصف کی چاہت نے امیری اور غریبی کا فرق مٹادیا پھر میری خواہش پر مجھے پڑھنے کو کالج میں بھی داخل کرا دیا۔

میں نے گریجویشن کر لی۔ روز ڈرائیور گاڑی پر مجھے کالج چھوڑنے اور پھر لینے جاتا تھا۔ والدین غریب ضرور تھے مگر شریف اور عزت دار تھے اور پہلے وقتوں میں دولت سے زیادہ اور شرافت کو اہمیت دی جاتی تھی۔ اے کاش کہ آج بھی انہی اقدار کو عزیز رکھا جائے اور دولت ہی کو سب کچھ نہ سمجھا جائے کیونکہ آدمی کی قدر و قیمت شرافت سے ہوتی ہے، دولت اور روپے پیسے سے نہیں۔ یہ تو آنی جانی چیزیں ہوتی ہیں۔ میں نے دولت کا لالچ نہیں کیا۔ خدا نے میرے نصیب میں خود ہی دولت اور ایک اچھا خاوند لکھ دیا تھا سو از خود مجھے مل گیا۔ ان نعمتوں کے لئے رب کا جتنا شکر ادا کروں کم ہے۔

Latest Posts

Related POSTS