Naya Janam | Episode 1

534
رابرٹ کے ساتھ مذاکرات ناکام ہوگئے تھے۔ ایملی جیکب کو اس کی امید نہیں تھی۔ رابرٹ کے ساتھ اس کی دوستی گزشتہ چار سال سے تھی۔ اتنی گہری دوستی کہ دونوں اکثر ساتھ نظر آتے تھے۔ ہر تقریب میں وہ ایک ساتھ شرکت کرتے تھے اور دونوں جیسے ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہوچکے تھے۔ دونوں کے خیالات، ذوق اور میلانات بھی آپس میں ملتے تھے۔ وہ ہر موضوع پر بات کرتے تھے۔ انہیں کبھی ایک دوسرے سے اکتاہٹ نہیں ہوئی تھی، اسی لیے ایملی نے سوچا تھا کہ انہیں اب گھر بسا لینا چاہیے۔ جہاں آنگن میں پیارے پیارے بچوں کی کلکاریاں ہوں۔
لیکن ایملی کو حیرت ہوئی جب رابرٹ نے مفاہمت کے انداز میں کہا۔ ’’دیکھو ایملی! میرا خیال تھا کہ ہم لوگوں میں یہی قدر مشترک ہے کہ ہم اپنا مستقبل بنائیں اور اپنے اپنے حال میں…!‘‘
’’نہیں رابرٹ! میں نے یہ کبھی نہیں سوچا کہ میں عمر بھر ایک بینک میں لون آفیسر رہوں۔ میں ایک ہنستا بستا گھر چاہتی ہوں، مجھے بچے چاہئیں۔ میری عمر اس وقت ستائیس سال ہے۔ میں اپنے مستقبل کے لیے کوئی فیصلہ کرنا چاہتی ہوں۔‘‘
مگر رابرٹ نے صاف گوئی سے کہا کہ وہ شادی کا قائل ہے، نہ اسے بچے پسند ہیں۔ یہ عجیب بات ہوئی کہ اس حقیقت نے ایملی کے شانوں سے جیسے ایک بوجھ ہٹا دیا۔ اس کے سامنے اس کا اپنا آپ واضح ہوگیا کہ وہ کیا چاہتی ہے۔ وہ کس طرح کی زندگی گزارنا چاہتی ہے اور اپنے لیے کیسا مستقبل پسند ہے۔
وہ شہر کی اس پُرشور اور بے ہنگم زندگی سے اکتا چکی تھی۔ نو سے پانچ بجے تک کا معمول، زہریلی گیسوں سے بھری ہوئی فضا، دکھاوے اور جھوٹ فریب سے بھرا ہوا معاشرہ… ہر سال نئی گاڑی خریدنے کا جنون… فیشن کے ماہرین کے مہنگے کپڑے پہننے کی مجبوری، ٹریفک کا شور، ایمبولینس کے سائرن اور ایسا ہی بہت کچھ… یہ سب کچھ کس قدر اکتا دینے والا تھا۔
دماغ کو ہلا دینے والا ماحول، ہمیشہ دوسروں کی چاپلوسی اور جھوٹی تعریفیں اور ترقی کرنے کے لیے دن، رات کوششیں… اس کے مقابلے میں محبت سے بھرا ہوا چھوٹا سا گھر، جہاں بچوں کے کھلونے بکھرے ہوں، وہ تمام دن سلیپر پہنے ہوئے پھرتی رہے، بجائے بالشت بھر ہیل جو پیروں کو توڑ کر رکھ دیتی ہے۔ بالوں کی پونی بنائے، جیسا چاہے لباس پہنے، مارکیٹ سے خریداری کے لیے ویگن لے جائے اور پھر کھانے پینے کا سارا سامان تھوڑے ہی دنوں میں ختم ہوجائے اور اس کا پیٹو شوہر دانت نکال کر مذاق اُڑائے کہ تم بہت کنجوس ہو۔ وہ ہر ہفتے احسان جتا کر لان کی گھاس کاٹے اور شام کو کافی ٹیبل پر پائوں رکھ کر اس کے ساتھ فٹ بال میچ دیکھے اور فرنچ فرائز کی پلیٹوں کی پلیٹیں چٹ کر جائے۔
جب ایملی یہ سب سوچ رہی تھی تو اچانک اس کی ایک پرانی دوست کا فون آگیا۔ وہ مشرق کے دوردراز علاقے میں چھٹیاں گزارنے گئی ہوئی تھی۔ وہ اس علاقے کے بارے میں رطب اللسان تھی۔ ’’تم یقین نہیں کرو گی کہ یہ کتنا مختلف ہے۔ صاف و شفاف اور تازگی سے بھرا ہوا علاقہ ہے۔ یہاں آکر شہر کے دھویں سے بھرے ماحول اور یہاں کی خوشگوار فضا کا فرق معلوم ہوتا ہے۔ یہ ایک بہترین جگہ ہے جہاں سانس لینا بہت اچھا لگتا ہے۔‘‘
’’اور ملازمتوں کا کیا سلسلہ ہے؟‘‘
’’وہ بھی تسلی بخش ہے۔ تم یہاں اتنی بڑی لون آفیسر تو نہیں بن سکتیں لیکن یہاں جو بینک ہیں، وہاں تمہیں اچھی جاب ضرور مل جائے گی۔ تم ایک بار یہاں آکر تو دیکھو۔‘‘
ایملی نے فیصلہ کرلیا کہ اسے ایک بار جاکر دیکھنا چاہیے۔ یہ تجربہ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ اگر وہاں اس کا دل نہ لگا تو وہ واپس بھی آسکتی تھی لیکن ایک بار ایک مختلف ماحول میں جاکر اسے اپنے آپ کو تلاش کرنا چاہیے کہ دراصل وہ کون ہے اور کیا چاہتی ہے۔ اسے کیسی زندگی مطلوب ہے؟
اور اب وہ ٹرین میں بیٹھی ایک نئی دنیا کی طرف جارہی تھی۔ گاڑی پہاڑی راستوں پر بل کھاتی ہوئی چلی جارہی تھی۔ اس کے قریب بیٹھی ہوئی مسافر خاتون نے کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’کتنا خوبصورت نظارہ ہے۔ ہے نا…!‘‘
’’بہت خوبصورت!‘‘ ایملی نے مسکرا کر تائید کی۔
’’آپ پہلی مرتبہ یہاں آئی ہیں؟‘‘
’’ہاں! کیا ایسا محسوس ہورہا ہے؟‘‘
’’نہیں! ایسا کچھ نہیں ہے۔ میں نے یونہی اندازہ لگایا تھا کیونکہ جب سے آپ آئی ہیں، مسلسل کھڑکی سے
باہر دیکھ رہی ہیں۔‘‘
’’ہاں! میں دراصل شہر میں پلی بڑھی ہوں، یہاں آنے کا کبھی اتفاق نہیں ہوا۔ میں نے یہ علاقہ کبھی نہیں دیکھا۔‘‘ ایملی نے جواب دیا۔
’’ٹرین اس کے لیے بہت موزوں ہے کہ آپ ہر جگہ آسانی سے دیکھ سکتی ہیں۔‘‘ وہ اتنا کہہ کر اپنے میگزین کی طرف متوجہ ہوگئی۔
ایملی کے لیے یہ سفر کسی ایڈونچر کی طرح تھا۔ وہ ہوائی راستے سے بھی یہاں آسکتی تھی لیکن وہ اس علاقے کو اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھنا چاہتی تھی۔ اس وقت گاڑی کی مخصوص آواز اسے موسیقی کی طرح محسوس ہورہی تھی۔ پہاڑی راستہ اور سرنگ… نیچے میدانی راستوں پر پڑی ہوئی برف دور سے چمک رہی تھی۔ آسمان اتنا نیلا تھا کہ اس نے اتنا خوبصورت اور گہرا نیلا رنگ کبھی نہیں دیکھا تھا۔ یہ نظارے، یہ آوازیں، یہ خوشبوئیں اور یہ نظارے سب اس کے لیے نئے، انوکھے اور دلکش تھے۔ وہ نئے لوگوں سے ملنے اور نئے دوست بنانے کے لیے بڑی پُرجوش تھی۔
گزشتہ چند ہفتوں سے جب وہ اپنا سامان باندھ رہی تھی، رشتے داروں اور دوستوں کو الوداع کہہ رہی تھی تو اس نے کئی بار خود سے یہ سوال کیا تھا کہ کیا وہ اتنی بڑی تبدیلی کے ساتھ نباہ کرسکے گی۔ لیکن سفر کے کچھ گھنٹوں بعد ہی اسے اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ باآسانی اس نئی زندگی میں رچ بس جائے گی اور کیا معلوم وہاں کوئی اس کا انتظار کررہا ہو، کوئی خاص بندہ…!
ایملی کی ہمسفر ایک اسٹیشن پر اتر گئی۔ جتنی دیر ٹرین یہاں رکی، ایملی نے بھی نیچے اتر کر کافی کی ایک پیالی کی چسکیاں لیتے ہوئے اردگرد کا جائزہ لیا۔ چاروں طرف جھکے ہوئے پہاڑی سلسلے، ان کی شادابی اور سرسبزی نگاہوں کو تراوٹ بخش رہی تھی۔ ٹرین نے سیٹی بجائی اور وہ جلدی سے اس پر سوار ہوگئی۔ اب اس کے ساتھ والی سیٹ خالی تھی۔ اس لئے ایملی نے اپنے پائوں اس پر رکھ لئے تھے۔ وہ بہت آسودہ انداز میں بیٹھی اس سفر کا لطف اٹھارہی تھی جو اسے ایک نئی دنیا کی طرف لے جارہا تھا۔
گہرے بادل، پہاڑوں کی چوٹیوں کو اس طرح ڈھانپ رہے تھے کہ وہ نگاہوں سے اوجھل ہوگئی تھیں۔ ٹھنڈی ہوا ٹرین کے شیشوں سے ٹکرا رہی تھی۔ ایملی کی نبض تیز ہوگئی تھی اور دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ وہ ان سرزمینوں کی طرف بڑھ رہی تھی جو فطرت کے حسن سے مالا مال تھیں۔ شہروں کی تہذیب یافتہ اور مصنوعی زندگی کو پیچھے چھوڑ کر دیہات کی خالص تہذیب کی طرف…!
ٹرین نے رفتار پکڑ لی تھی۔ دور بہتا ہوا دریا چاندی کی ایک لکیر کی طرح نظر آرہا تھا۔ ایملی نے اس علاقے کے بارے میں معلوماتی کتاب کھولی۔ اگلا شہر ریفلی آنے والا تھا جو مویشی فارم کے لیے مشہور تھا۔ یہاں اٹھارویں صدی سے مویشی پالے جارہے تھے۔ ان کی زندگی کے بارے میں اس نے بہت سے ناول پڑھ رکھے تھے۔ یہ لوگ تمام ہفتہ جم کر کام کرتے اور چھٹی کے روز خوب بن ٹھن کر، اچھے لباس پہن کر تفریح کے لیے شہر کا رخ کرتے اور لطف اندوز ہوتے تھے۔
ایملی کے ذہن میں باربار یہ بات آتی تھی کہ وہاں نہ جانے زندگی کیسی ہوگی۔ اسے بینک میں جاب ملے گی یا نہیں، اسے کسی اسکول میں پڑھانا پڑے گا یا کسی اسٹور پر وقتی طور پر کچھ کام حاصل کرنا پڑے گا تاکہ وہاں اپنے پائوں جما سکے۔ جو رقم اس کے پاس تھی، وہ اسے محفوظ رکھنا چاہتی تھی۔
کھڑکی سے باہر دریا اب زیادہ واضح نظر آنے لگا تھا۔ اس کا چوڑا پاٹ وادی کو گھیرے ہوئے تھا۔ سردی کے موسم کی سوغات خزاں رسیدہ درخت، نسواری رنگ میں رنگے ہوئے نظر آتے تھے۔ کہیں کہیں برف باری کی شدت میں ان کے رنگ بلوریں سفید تھے جو بہت بھلے معلوم ہورہے تھے۔ سردی بڑھ رہی تھی جس کا مطلب تھا کہ برف کا ایک اور طوفان آنے والا ہے۔ ایملی کو کپکپی سی چھوٹ رہی تھی۔ اُس نے اپنی شال کو اپنے گرد اچھی طرح سے لپیٹ لیا۔
آگے وادی میں مویشی فارم نظر آنے لگے تھے جن کے رہائشی حصوں میں چمنیوں سے دھواں نکل رہا تھا۔ یہ سب اُسے بہت بھلا معلوم ہورہا تھا۔ ایک زوردار ہوا کا جھونکا شیشے سے ٹکرایا۔ جس کا مطلب تھا کہ برف باری شروع ہونے جارہی تھی۔ یوں لگا جیسے ہوا کے زور سے ٹرین بھی ہلکے سے جھٹکے کے ساتھ لہرائی اور برف باری کی شدت کی وجہ سے شیشے سے باہر کا منظر نظر آنا بند ہوگیا۔ ایملی اپنی کتاب کی جانب متوجہ ہوگئی۔
ٹرین بل کھاتے راستوں پر چلتی چلی جارہی تھی۔ اس کی رفتار معمول سے کم تھی۔ اچانک گاڑی کو ایک جھٹکا لگا جو
اتنا اچانک اور زوردار تھا کہ ایملی کا شانہ کھڑکی سے جا ٹکرایا۔ ایملی نے اپنے شانے کو سہلاتے ہوئے اِدھر اُدھر دیکھا کہ یہ کیا ہورہا ہے۔ اس کے بعد ٹرین کی رفتار ہموار ہوگئی تو ایملی نے اطمینان کا گہرا سانس لیا۔
لیکن چند لمحوں بعد ہی ایک ہڈیوں کو توڑ دینے والا جھٹکا لگا۔ دھات پر دھات کے زور سے رگڑنے کی آواز سنائی دی۔ پھر کانوں کے پردے پھاڑ دینے والا مسلسل شور سنائی دینے لگا۔ مسافر چیخیں مارنے لگے۔ جس ڈبے میں ایملی بیٹھی تھی جیسے لڑھکنیاں کھانے لگا۔
ایملی نے اپنی سیٹ کو پورے زور سے تھام لیا تاکہ خود کو گرنے سے محفوظ رکھ سکے مگر جھٹکے اتنے شدید تھے کہ اسے اپنے شانوں کی ہڈیاں ٹوٹتی ہوئی محسوس ہوئیں۔ اس کے ہاتھوں کی گرفت ڈھیلی پڑنے لگی۔ اسے اندازہ ہورہا تھا کہ وہ کسی سمت میں بڑی تیزی سے گر رہی ہے۔ زوردار دھماکے مسلسل ہورہے تھے۔ ایملی بری طرح چکرا رہی تھی۔ شاید اس کا سر کسی چیز سے ٹکرایا۔ اس کی آنکھوں کے سامنے تارے سے ناچنے لگے، پھر یہ تارے شراروں میں بدل گئے اور پھر ہر طرف اندھیرا چھا گیا۔ آنکھوں کو اندھا کر دینے والی تاریکی…!
٭…٭…٭
ایملی کو لگ رہا تھا جیسے وہ گہرے پانیوں میں تیر رہی ہے، ڈوبتی ابھرتی ہوئی… پانی کی سطح نہ جانے کہاں تھی، کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔ اسے اپنے چہرے کے اوپر کسی اور کا چہرہ نظر آرہا تھا۔ وہ کسی مرد کا چہرہ تھا لیکن وہ اسے پہچانتی نہیں تھی۔ وقت جیسے اپنے تمام معنی کھو چکا تھا۔ وہ خود کو بہت تھکا ہوا، بہت کمزور محسوس کررہی تھی۔ اس کا جوڑ جوڑ دکھ رہا تھا۔ پھر اس کے چہرے پر ایک تیز روشنی پڑی جیسے سورج کی سنہری کرنیں ہوں۔ اس نے آہستہ آہستہ آنکھیں کھولیں۔ اس کی کنپٹیوں میں شدید درد تھا۔
اس نے کوشش کرکے اردگرد کے ماحول کا جائزہ لیا۔ وہ اکیلی تھی۔ کمرہ گرم تھا اور ایک کمبل سے اس کا سارا جسم ڈھکا ہوا تھا، شاید اسی لے سردی کی شدت کم ہوگئی تھی۔ اس نے کہنیوں کے سہارے اٹھنا چاہا لیکن نقاہت نے اٹھنے نہ دیا اور وہ پھر بستر پر گر پڑی۔ اس نے آنکھیں بند کرلیں اور کنپٹیوں میں ہونے والے درد کے کم ہونے کا انتظار کرنے لگی اور پھر نہ جانے کب غافل ہوگئی۔
جب وہ ہوشیار ہوئی تو کوشش کرکے کہنیوں کے بل خود کو بستر سے اٹھا کر گردوپیش کا جائزہ لیا۔ وہ اس بیڈ روم میں اکیلی تھی، کھڑکیوں پر لیس کے پردے لگے ہوئے تھے جن کا انداز قدیم تھا۔ ایک الماری، میز اور صوفہ بھی موجود تھا۔ کمرے کی سجاوٹ میں سادگی تھی۔
وہ کہاں تھی؟ یہ کس کا گھر تھا، اسے یہاں کون لایا تھا؟ ڈھیر سارے سوالوں نے اس کے ذہن پر یلغار کردی۔ یکدم اسے ٹرین کا خیال آیا۔ ٹرین…!
اس کی یادداشت ایک جھٹکے سے واپس آگئی۔ اسے سب یاد آنے لگا کہ وہ ٹرین میں بیٹھی ہوئی تھی۔ برف کا شدید طوفان آیا تھا۔ اسے شدید جھٹکے لگ رہے تھے۔ اس کا بازو زخمی تھا۔ اس کے سر پر بھی شدید چوٹ آئی تھی تو اس کا مطلب تھا کہ وہ اسپتال میں تھی لیکن یہ کمرہ کسی اسپتال کا کمرہ تو نہیں لگتا تھا۔
اسی وقت دروازہ ایک ہلکے سے شور کے ساتھ کھلا۔ ایملی نے اپنا سر گھما کر دیکھا۔ وہاں ایک دراز قد شخص کھڑا تھا جس کے گھنگھریالے سیاہ بالوں کو درمیان سے نکلی ہوئی مانگ نے دو حصوں میں بانٹ رکھا تھا۔ اس کے سانولے چہرے پر بڑی بڑی مونچھیں تھیں۔ وہ اپنی سبز آنکھوں سے اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔ بحیثیت مجموعی وہ ایک خوبصورت اور وجیہ انسان تھا۔ یوں لگتا تھا جیسے اسے پہلے بھی کہیں دیکھا ہے لیکن یہ یاد نہیں آرہا تھا کہ کہاں دیکھا ہے؟
’’تم بیدار ہوگئیں، طبیعت کیسی ہے تمہاری؟‘‘ اس کی آواز بھاری اور پُرکشش تھی۔ وہ ابھی تک دروازے میں ہی کھڑا تھا۔ اس کا ہاتھ دروازے کے ہینڈل پر تھا یوں جیسے کوئی جھجک اسے کمرے میں آنے سے روک رہی ہو۔
ایملی نے اپنے لبوں کو تر کیا۔ ’’پلیز اندر آجائو، میں تم سے کچھ پوچھنا چاہتی ہوں۔‘‘
’’یقیناً تمہیں بہت کچھ جاننا ہوگا۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے لمحے بھر کو سوچا۔ پھر دروازہ بند کرکے اندر آگیا اور کھڑکی کے پاس کھڑا ہوگیا مگر وہ کچھ بے آرام سا تھا۔ اس نے دونوں بازو سختی کے ساتھ سینے پر باندھ رکھے تھے۔ اس کی سفید قمیض کالر کے بغیر تھی۔ اس کا ایک شانہ کھڑکی کے ساتھ ٹکا ہوا تھا۔ وہ کسی قدیم مصور کی بنائی ہوئی پینٹنگ کی طرح لگتا
نے بیٹھنے کی کوشش کی مگر کامیاب نہیں ہوئی۔ اس نے لیٹے لیٹے ادھورا سا جملہ کہا۔ ’’تم کون؟‘‘
’’میں ولیم ڈچر ہوں، تم میرے فارم پر ہو۔‘‘
’’تمہارا فارم؟‘‘
’’ڈاکٹر کے پاس مریضوں کا بہت رش تھا۔ ٹرین ایکسیڈنٹ کی وجہ سے…‘‘
’’اوہ!‘‘ ایملی نے اپنی یادداشت پر تنے جالوں کو ہٹانا چاہا اور بولی۔ ’’کیا یہاں کوئی اسپتال نہیں ہے؟‘‘
’’نہیں محترمہ! اسپتال یہاں سے کافی دور ہے۔ جو لوگ زیادہ زخمی تھے، انہیں وہاں لے جایا گیا ہے لیکن ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ تم کچھ دن آرام کے بعد ٹھیک ہوجائو گی۔‘‘
’’میں… میں کب سے یہاں ہوں؟‘‘ اس کا خیال تھا کہ شاید وہ کومے میں تھی۔
’’کچھ زیادہ نہیں… ٹرین کا حادثہ کل ہوا تھا۔ میں تمہیں کل رات یہاں لے کر آیا ہوں۔‘‘
’’اوہ اچھا! تم مجھے یہاں لے کر آئے ہو۔‘‘ ایملی کو قدرے اطمینان ہوا۔
وہ غیر ارادی طور پر ایک ہاتھ سے اپنی مونچھوں سے کھیلتے ہوئے بولا۔ ’’محترمہ! ہمیں تمہاری کوئی شناخت نہیں ملی۔ میرا خیال ہے کہ تم یقیناً وہ ہائوس کیپر ہو جسے میرے بھائی نے شہر سے یہاں بھیجا ہے۔‘‘
’’ہائوس کیپر؟‘‘ ایملی نے حیرت سے دہرایا۔
’’ہاں… میرے بھائی کے بچوں کے لیے۔‘‘ ولیم نے بتایا۔
ایملی نے خود اعتمادی سے اسے اپنے بارے میں بتایا۔ ’’میرا نام ایملی جیکب ہے۔ میں اس شہر سے نہیں آئی جس کا تم ذکر کررہے ہو۔‘‘
’’میرے بھائی نے ہائوس کیپر کا نام تو نہیں بتایا تھا لیکن ٹرین میں صرف تم ہی تھیں جس کی شناخت نہیں ہوسکی تھی جس سے ہم نے یہ اندازہ لگایا۔‘‘
’’میں نے بتایا نا کہ میرا نام ایملی جیکب ہے۔ تم اپنے بھائی کو فون کرکے پوچھ کیوں نہیں لیتے؟‘‘
’’یہاں فون کی سہولت نہیں ہے۔‘‘
’’فون نہیں ہے؟‘‘ اس نے حیرت سے سوال کیا۔
’’یہاں سے کچھ زیادہ دور نہیں ہے۔‘‘
ایملی کا سر چکرانے لگا۔ کیا یہ اتنا پسماندہ علاقہ تھا کہ گھروں میں فون تک نہیں تھے۔ اس نے سنبھل کر اس شہر کا نام لیا جس کے لیے اس نے رخت سفر باندھا تھا۔ ’’دیکھو میں وہاں جارہی تھی۔ میں نے ٹرین سے سفر کو اس لیے ترجیح دی کہ راستے میں آنے والے مناظر سے لطف اندوز ہوتی رہوں۔‘‘
’’اکیلی…؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’ہاں اکیلی۔‘‘ ایملی کے سر میں درد ہونے لگا تھا۔
’’محترمہ! وہ شہر تو کچھ اتنا زیادہ اچھا نہیں۔ وہاں کے لوگ بھی قابل اعتبار نہیں۔ مجھے یقین نہیں آرہا کہ تم وہاں اکیلی جارہی تھیں؟‘‘
’’تم جو مرضی آئے سمجھو۔‘‘ ایملی نے اکتا کر کہا۔ اس کے سر میں شدید درد تھا۔ اس کے لیے مزید بات کرنا ممکن نہیں رہا تھا۔ وہ بے دم سی ہوکر پروں سے بھرے ہوئے تکیے پر گر پڑی۔
اس نے قریب میز پر رکھی ہوئی صراحی سے گلاس میں پانی انڈیلا۔ اس کے سر کے نیچے ہاتھ رکھ کر اسے تھوڑا سا اوپر اٹھایا اور بولا۔ ’’یہ لو پیو۔‘‘
ایملی نے چند گھونٹ پانی کے پیئے۔ اس کی نگاہ ولیم کے چہرے پر پڑی۔ اس نے محسوس کیا کہ وہ اس کی طرف یوں دیکھ رہا ہے جیسے اسے جانچ رہا ہو۔ پھر اسے یہ باور ہوا کہ وہ ایک خوبصورت انسان ہے لیکن وہ خاموش طبع اور تنہا تنہا سا لگتا تھا۔
’’اور پانی؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’نہیں شکریہ۔‘‘ ایملی نے جواب دیا تو اس نے اس کا سر آہستگی سے پھر تکیے پر رکھ دیا۔
’’مسٹر ولیم! میری حالت خراب ہے۔ میرا سر تو…‘‘
’’ہاں! ڈاکٹر نے بتایا ہے کہ تمہیں سر پر کافی چوٹ آئی ہے۔‘‘
’’کیا میرا سی اے ٹی اسکین ہوا ہے؟‘‘
’’سی اے ٹی اسکین۔‘‘ اس نے دہرایا۔ ’’ڈاکٹر نے تمہیں بہت اچھی طرح چیک کیا ہے۔‘‘
اسے پھر چکر آنے لگے۔ اس کے لیے مزید بات کرنا مشکل ہوگیا تھا۔ اس کی آنکھیں بند ہوئی جاتی تھیں۔ ولیم نے بھی اس کی حالت کا اندازہ کرلیا تھا۔ وہ بولا۔ ’’میرا خیال ہے کہ تمہیں آرام کرناچاہیے۔ کچھ دیر بعد تم کوئی چیز کھا لینا۔‘‘ وہ اتنا کہہ کر کمرے سے باہر نکل گیا۔ ایملی ایک بار پھر نرم روئی جیسی تاریکی میں دھنسنے لگی۔
پھر اس کی آنکھ کھلی تو ایک ادھیڑ عمر شخص سوپ کا پیالہ لیے کھڑا تھا۔ اسے پی کر ایملی کو اپنے جسم میں کچھ توانائی آتی ہوئی محسوس ہوئی۔ ابھی وہ پیالہ میز پر رکھ ہی رہی تھی کہ دروازے پر پھر دستک ہوئی۔ ایملی نے دروازے کی طرف دیکھا۔ اسے ولیم کا چہرہ نظر آیا۔ وہ دروازے میں کھڑا تھا اور اس کے آگے تین گھبرائے ہوئے سے بچے تھے جیسے وہ اس سے خوف زدہ ہوں۔
ولیم کھنکھار کر گلا صاف کرتے


ہوئے بولا۔ ’’یہ میرے بھائی کے بچے ہیں۔ یہ میریان ہے۔‘‘ اس نے بائیں طرف کھڑی ہوئی بچی کی طرف اشارہ کیا جو تقریباً دس سال کی معلوم ہوتی تھی۔ اس نے لمبے سنہری بالوں کو دو چوٹیوں میں گوندھ رکھا تھا۔ اس نے بہت خوبصورت لباس پہن رکھا تھا جس پر لیس اور موتیوں کا بہت نفیس کام بنا ہوا تھا۔ اس کی پتلون سیاہ تھی اور پرانے فیشن کے سیاہ جوتے تھے۔ اس نے سنہری بالوں والے سر کو ایک شرمیلی سی جنبش دی اور مسکرائی۔
’’ہیلو میریان! تم سے مل کر خوشی ہوئی۔‘‘ ایملی نے کہا۔
’’ہیلو، مس ایملی!‘‘ وہ مہین سی آواز میں بولی۔
دونوں لڑکے جیکا اور بروک آٹھ اور سات سال کے تھے جو اپنے چھوٹے چھوٹے ترشے ہوئے سنہری بالوں اور کشادہ نیلی آنکھوں کے ساتھ جڑواں معلوم ہوتے تھے۔
ایملی نے مسکرا کر کہا۔ ’’ہاں تو بچو! جو درمیان میں ہے، وہ جیکا ہے اور دائیں طرف بروک۔ میں ٹھیک کہہ رہی ہوں نا؟ تم سے مل کر بہت خوشی ہوئی بچو۔‘‘
’’یس میڈم۔‘‘ وہ تینوں کورس میں بولے۔
’’اچھا بچو! مس ایملی کو گڈ نائٹ کہو اور میریان تم مس ایملی کے پاس رکو۔ انہیں شاید کوئی ضرورت ہو تو معلوم کرلینا۔‘‘
ننھی میریان بڑی فرماں برداری سے کمرے کے اندر آگئی۔ وہ ایک کمزور سی دھان پان بچی تھی۔ ولیم چلا گیا تو میریان نے اس کا ہاتھ تھام لیا اور بولی۔ ’’مس ایملی! تمہیں جوتوں اور شال کی ضرورت ہوگی۔‘‘
’’کیا میرے جوتے یہاں ہیں؟‘‘
’’نہیں۔ تم نے جوتے نہیں پہنے ہوئے تھے۔‘‘ اس نے بتایا اور ایک الماری سے مختلف جوتے نکال کر اسے دکھائے۔ ایک جوڑا اس کے پائوں میں آگیا۔ میریان اس کا ہاتھ تھام کر اسے باہر لے گئی جہاں دور تک برف جمی ہوئی نظر آرہی تھی۔ آسمان پر چاند بہت شفاف اور روشن تھا۔ ایملی سردی سے کانپنے لگی۔ وہ چند ہی قدم چلی ہوگی کہ اس کی ٹانگیں لرزنے لگیں۔ سردی سے خون اس کی رگوں میں جمنے لگا۔
’’اندر چلو۔‘‘ اس نے بجتے ہوئے دانتوں کے ساتھ کہا۔
میریان گھبرا گئی۔ وہ اس کو کمرے میں لے کر آئی تو ایملی بے دم سی ہوکر بستر پر گر پڑی۔ ’’انکل ولیم … انکل ولیم۔‘‘ میریان چلائی۔
تھوڑی ہی دیر میں ولیم وہاں موجود تھا۔ اس نے ایک ہاتھ میں پائپ پکڑ رکھا تھا۔ ’’کیا ہوا؟‘‘ اس نے ایملی پر نظر ڈالی۔ اسے کانپتے دیکھ کر آگے بڑھا اور ایک بھاری کمبل اٹھا کر اسے اڑھا دیا۔
’’میریان! باہر بہت ٹھنڈ ہے۔ مس ایملی کو ابھی باہر مت لے جائو۔‘‘
میریان نے سر ہلایا۔ وہ کچھ شرمندہ سی تھی۔ ایملی کو کمبل کی گرمی نے پُرسکون کردیا تھا۔
ولیم اس سے مخاطب ہوا۔ ’’ڈاکٹر نے کہا ہے کہ سر کی چوٹ کی وجہ سے تمہیں کچھ عرصہ کمزوری کی شکایت رہے گی اور شاید تمہاری یادداشت میں بھی کچھ رکاوٹیں پیش آئیں۔‘‘
’’میں تمہیں بتا دینا چاہتی ہوں کہ میری ذہنی حالت بالکل ٹھیک ہے۔ میں جانتی ہوں کہ میں کون ہوں اور ہاں… میں تمہاری ہائوس کیپر نہیں ہوں۔ سمجھے!‘‘
وہ چند لمحے اس کی طرف دیکھتا رہا۔ پھر مسکرایا۔ ’’ٹھیک ہے محترمہ! تم جو کچھ کہہ رہی ہو، سچ کہہ رہی ہو۔‘‘ یہ کہہ کر وہ پلٹا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔
اوہ خدایا! یہ سب کیا ہوا تھا۔ وہ کہاں آگئی تھی، جہاں مٹی کے تیل کے لیمپ جل رہے تھے، گھر کو گرم رکھنے کا کوئی مرکزی نظام نہیں تھا۔ اُسے ہر بات اچھی طرح سے یاد تھی۔ اس کا سامان، اس کا والٹ نہ جانے کہاں تھا۔ اس کی رقم، اس کا کریڈٹ کارڈ، چیک بک اور دوسرے کاغذات کہاں گم تھے۔ اس پسماندہ علاقے میں لوگ نہ جانے ان چیزوں سے واقف تھے یا نہیں۔ اگر یہ سب کچھ اس حادثے میں ضائع ہوگیا تھا تو ایک نئی مصیبت کھڑی ہوجائے گی۔
اس کی قیمتی چیزیں جو وہ اپنے ساتھ لے آئی تھی۔ اس کے زیورات، قیمتی جیکٹ، عمدہ جوتے، مہنگا کیمرہ… نہ جانے اس کے بیگ کہاں غائب ہوگئے تھے۔ سوچ سوچ کر اس کے سر میں درد ہونے لگا تھا۔ یہ لوگ اسے کوئی دوا بھی نہیں دے رہے تھے ورنہ اس کا درد ضرور ٹھیک ہوجاتا۔ وہ اسی ادھیڑبن میں الجھی رہی۔ بہت دیر بعد اسے نیند آئی۔
اگلے دن ایملی کی حالت بہت خراب تھی۔ وہ بہت کمزوری محسوس کررہی تھی۔ اسے متلی سی ہورہی تھی۔ اس کے ذہن پر یہ بات طاری ہوگئی تھی کہ نہ جانے اس چوٹ نے اس کے دماغ پر کیا اثر ڈالا تھا جو ڈاکٹر اس طرح کی رائے دے رہا تھا تو وہ اسے اسپتال میں کیوں نہیں داخل کردیتے۔ ولیم کہیں نظر نہیں آرہا تھا کہ وہ اس سے بات
کرتی۔
میریان اسکول سے آکر سیدھی اس کے کمرے میں آئی۔ ایملی نے اس سے کہا۔ ’’میریان! تمہارے انکل نے بتایا تھا کہ اسپتال یہاں سے کافی دور ہے۔‘‘
’’ہاں… مس ایملی۔‘‘
’’تو وہ اسپتال فون کرکے ایمبولینس کیوں نہیں منگوا لیتے؟‘‘
’’ایمبولینس!‘‘ اس نے بمشکل دہرایا۔ ’’مس ایملی! یہ کیا چیز ہے؟‘‘
’’یہ ایک کار ہوتی ہے جس میں مریضوں کو اسپتال لے جایا جاتا ہے، مجھ جیسے مریضوں کو۔‘‘
’’اوہ۔ اچھا۔ لیکن یہاں تو سب کا علاج ڈاکٹر صاحب ہی کرتے ہیں۔ وہ بہت قابل ہیں۔ یہاں ایسی کوئی گاڑی نہیں ہے۔‘‘ میریان نے بتایا۔
’’مگر فون تو کرسکتے ہیں؟‘‘ ایملی نے بے حد پریشان ہوکر کہا۔
’’نہیں، یہاں کوئی فون نہیں۔ دوسرے شہر کے ہوٹل میں صرف ایک ہی فون ہے۔ مجھے صحیح طرح علم نہیں اس کے بارے میں۔‘‘
ایملی کے لیے یقین کرنا محال تھا کہ اس دور میں کوئی ایسا بھی پسماندہ علاقہ موجود ہے جہاں عام سہولتیں بھی موجود نہیں ہیں۔ وہ جو بات بھی کرتی ہے، یہ لوگ اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتے یا پھر بتانا نہیں چاہتے۔ ولیم دوپہر کو اس کے کمرے میں آکر اس کا حال چال بڑی نرمی سے پوچھتا۔ وہ جیسے اس انتظار میں تھا کہ وہ جلد صحت یاب ہو اور اپنی ڈیوٹی سنبھالے۔ اس کے رویئے سے یہی اندازہ ہوتا تھا کہ وہ درحقیقت اسے ہائوس کیپر سمجھ رہا ہے جو اس کے بھائی نے دوسرے شہر سے بھیجی تھی۔
پانچویں دن ایملی اس قابل ہوئی کہ ان کے باورچی کا پکایا ہوا بدمزہ کھانا تھوڑی سی مقدار میں کھا سکے جس میں نہ کوئی مرچ مصالحہ تھا، نہ خوشبو، نہ ذائقہ… بس جیسے تمام چیزوں کو ملا دیا گیا ہو۔ ایملی کی نقاہت کافی کم ہوگئی تھی۔ اس نے منہ ہاتھ دھو کر بالوں میں برش کیا تو اسے لگا جیسے وہ انسان کی جون میں آگئی ہے۔ وہ ولیم کی دستک کا انتظار کررہی تھی کہ اس سے کچھ سوال پوچھے۔ صاف اور سیدھے سوال۔
آخر وہ آگیا۔ اس نے ایک گہری نگاہ اس پر ڈالی اور بولا۔ ’’مس ایملی! آج تم کچھ بہتر معلوم ہورہی ہو۔‘‘
’’مسٹر ولیم! میں کچھ اچھا محسوس کررہی ہوں۔ میں چاہتی ہوں کہ تم سے کچھ سوال پوچھوں۔ پلیز کیا تم اطمینان سے بیٹھ کر میری بات سنو گے؟‘‘
’’ہاں… ضرور۔‘‘ اس نے عدم دلچسپی سے کہا اور کرسی پر بیٹھ گیا۔
’’کیا تم نے اچھی طرح سے معلوم کرلیا ہے کہ کسی کو میری چیزیں تو نہیں ملیں۔ میرا پرس، میرا سوٹ کیس یا ایسی ہی کوئی چیز۔‘‘
’’نہیں… کچھ نہیں ملا… بالکل نہیں۔‘‘
ایملی کو چکر سے آنے لگے گویا وہ اپنی شناخت مکمل طور کھو چکی تھی۔ وہ کسی کو اپنے بارے میں کچھ نہیں بتا سکتی تھی۔ کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اس کا کیا بنے گا۔ اس کے منہ سے غیر ارادی طور پر یہ الفاظ نکل رہے تھے۔ ’’مجھے یہاں سے نکلنا ہوگا… مجھے یہاں سے جانا ہوگا۔‘‘
’’مگر تم کہاں جائو گی؟‘‘ وہ بولا۔ ’’میری بات کا برا نہ ماننا تمہاری طبیعت ابھی پوری طرح ٹھیک نہیں ہے، اسی لیے تمہارا سر چکراتا رہتا ہے۔ تمہیں آرام کرنا چاہیے۔ بہت جلد تم ٹھیک ہوجائو گی۔‘‘
’’کیا میں ٹھیک ہوجائوں گی؟‘‘
’’ہاں! تم ٹھیک ہوجائو گی۔ تم خود کو مصروف رکھو، میریان تمہیں کچھ کام بتا دے گی۔‘‘
’’میں ہائوس کیپر یا ملازمہ نہیں ہوں ولیم۔‘‘ وہ درشتی سے بولی۔
’’تو پھر تم کون ہو؟‘‘
’’میں لون آفیسر ہوں۔‘‘
وہ اس طرح اس کی طرف دیکھنے لگا جیسے اس کی بات نہ سمجھا ہو۔
’’میں ایک بینک میں کام کرتی تھی۔‘‘
’’اچھا۔‘‘ اس نے سر ہلایا اور ایملی کو اس کے چہرے کے تاثرات سے اندازہ ہوا کہ جو لوگ بھی اس سے ملے تھے، وہ اسی طرح اس کی بات کا جواب دیتے تھے، جیسے اسے پاگل سمجھ رہے ہوں۔ ایملی اس سے بہت کچھ کہنا چاہتی تھی لیکن سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ اس کو اپنی بات کس طرح سمجھائے۔ بالآخر جو بات اسے پریشان کررہی تھی، وہ اس نے کہی۔ ’’مسٹر ولیم! کیا میں یہاں قیدی ہوں؟‘‘
’’اوہ… نہیں… بالکل نہیں۔ تم قیدی کیوں ہوگی؟ میں خود تمہیں یہاں لایا ہوں اور تم اس وقت تک یہاں رہ سکتی ہو جب تک تم صحت یاب نہیں ہوجاتیں۔ میں سمجھ رہا تھا کہ تم ہائوس کیپر ہو جسے میرے بھائی کلے نے یہاں بھیجا ہے۔ اگر تم ہائوس کیپر نہیں ہو تو ٹھیک ہے۔ تم جب چاہو، یہاں سے جاسکتی ہو لیکن فی الحال تمہاری صحت اس قابل نہیں ہے کہ تم کہیں جاسکو۔‘‘
’’اچھا! جب میں صحت یاب ہوجائوں گی تو مجھے شہر لے جائو گے؟‘‘ ایملی نے
بتایا۔
’’یقینا میں تمہیں خود وہاں لے جائوں گا۔‘‘ اس نے اس طرح کہا کہ ایملی کو یقین آگیا۔
وہ بولی۔ ’’شکریہ! دراصل میرے لیے یہ سب کچھ نیا اور اجنبی ہے۔ شاید اسی لیے میں پریشان ہوجاتی ہوں۔‘‘
’’نہیں۔ شکریے کی ضرورت نہیں۔‘‘ وہ اٹھتے ہوئے بولا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔
ایملی بستر پر لیٹ گئی۔ وہ تھک گئی تھی لیکن پہلے کی نسبت کچھ مطمئن تھی۔ اس کے ذہن میں جن باتوں نے کھلبلی مچا رکھی تھی، ان کی تشفی ہوگئی تھی۔ وہ سوچ رہی تھی کہ جب وہ صحت یاب ہوکر اپنی منزل مقصود پر پہنچ جائے گی تو اپنی دوست کو اس علاقے کے بارے میں بتائے گی کہ وہاں لوگ کس طرح کی زندگی بسر کررہے ہیں۔
وہاں جاکر وہ اپنے کاغذات کی نقول نکلوائے گی اور بینک سے اپنے اکائونٹ کے بارے میں بات کرے گی۔ اس نے کمبل اپنے گرد اچھی طرح اوڑھتے ہوئے آنکھیں بند کرلیں اور یہ طے کرلیا کہ اسے جلد ازجلد صحت یاب ہونا ہے تاکہ اس جگہ سے نجات حاصل کرسکے۔
چند روز بعد ایملی کو محسوس ہونے لگا کہ وہ تندرست ہوچکی ہے۔ نقاہت اور کمزوری دور ہوگئی تھی۔ برف باری نے سردی میں شدید اضافہ کردیا تھا لیکن یہاں صرف ایک بڑا اسٹو تھا جسے صبح صبح باورچی روشن کردیتا تھا جس سے اردگرد کے کمرے گرم ہوجاتے تھے لیکن گھر کے باقی حصے ٹھنڈے رہتے تھے۔ ایملی کا ان عجیب و غریب لوگوں میں دل نہیں لگتا تھا۔ وہ چاہتی تھی کہ ولیم سے بات کرے کہ وہ اسے شہر چھوڑ آئے۔
اس شام بچے سونے کے لیے جا چکے تھے۔ ولیم پائپ پیتے ہوئے اخبار پڑھ رہا تھا۔ ایملی خود کوبہت تنہا اور اجنبی سا محسوس کررہی تھی۔ اسے نیند بھی نہیں آرہی تھی کہ جاکر سو جاتی۔ وہ لائونج میں آئی تو ولیم نے نگاہ اٹھا کر اس کی طرف دیکھا اور پھر اخبار کے مطالعے میں مشغول ہوگیا۔ ایملی بھی ایک نشست پر بیٹھ گئی اور اس نے ولیم کو مخاطب کیا۔ ’’کیا کوئی خاص خبر ہے؟ میں اس بیماری کی وجہ سے دنیا سے بالکل کٹ کر رہ گئی ہوں۔‘‘
ولیم نے گہری آنکھوں سے اس کی طرف دیکھا اور بے نیازی سے بولا۔ ’’نہیں، میرا خیال ہے کہ ایسی کوئی خبر نہیں جو تمہاری دلچسپی کی ہو۔‘‘
ایملی کو غصہ تو بہت آیا لیکن اس نے ولیم کو کوئی جواب نہیں دیا۔ اسے تسلی تھی کہ وہ بہت جلد یہاں سے جانے والی ہے، اس لیے اسے اس مغرور شخص سے خواہ مخواہ بحث کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ وہ ایک خوبصورت اور وجیہ شخص تھا۔ اس کی نیلی آنکھیں سمندر کی گہرائی کی طرح نامعلوم تھیں۔ اس کا لیے دیئے رہنے والا پُرغرور رویہ اسے بالکل پسند نہیں تھا۔ یوں لگتا تھا جیسے وہ اسے بلکہ تمام خواتین کو ایک کمتر مخلوق سمجھتا ہے۔
ایملی کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔ وہ سوچ رہی تھی کہ دوبارہ تہذیب یافتہ دنیا میں جانا کتنا اچھا لگے گا۔ موسم بدل رہا تھا۔ برف کا طوفان تھم چکا تھا۔ بادلوں سے ستارے جھانک رہے تھے۔ ان کے سنہری چمکتے چہرے اسے اچھے دن کی نوید سنا رہے تھے۔ اس نے رخ پھیر کر ولیم کی طرف دیکھا اور اس کے دل کی دھڑکنیں یکلخت بے ترتیب ہونے لگیں۔
اخبار کے صفحات کے اوپر سے اس کی گہری نیلی آنکھیں اسے ہی دیکھ رہی تھیں۔ لمحے بھر کو دونوں کی نگاہیں ایک دوسرے سے الجھیں۔ ایملی کو یوں لگا جیسے سمندر کی گہرائیوں کی طرح ان آنکھوں کی نیلاہٹوں کی تہہ تک پہنچنا ممکن نہیں لیکن یہ نگاہیں بعض اوقات روح کی گہرائیوں تک پہنچ جاتیں تو جذبات میں کچھ عجیب سی ہلچل مچ جاتی تھی۔ مگر ایملی نے پکا فیصلہ کرلیا تھا کہ وہ بہت جلد یہاں سے رخصت ہوجائے گی اور ناول کے کسی کردار کی طرح ولیم کو یاد کیا کرے گی جو بعض اوقات ذہن پر گہرا اثر مرتب کرتے ہیں۔
اسی وقت ولیم نے اخبار کو تہہ کرکے قریبی تپائی پر رکھ دیا۔ ایملی نے اس کی طرف دیکھا اور محتاط سے لہجے میں پوچھا۔ ’’کیا میں اخبار دیکھ سکتی ہوں؟‘‘
’’ہاں۔‘‘ اس نے اخبار اٹھا کر دیا اور بڑبڑایا۔ ’’عجیب ہے یہ بات کہ اب عورتیں بھی سیاست اور خبروں میں دلچسپی لینے لگی ہیں۔‘‘
ایملی نے سنی اَن سنی کردی اور اخبار کے صفحات پر نگاہیں دوڑانے لگی۔ ساری خبریں بہت پرانی محسوس ہورہی تھیں۔ اس نے اخبار کا نام دیکھنے کے لیے اوپر نظر ڈالی۔ اخبار کے نام کے ساتھ لکھی تاریخ مارچ اٹھارہ سو ترانوے (1893) تھی۔ یہ کیا؟
وہ حیرت سے ساکت ہوگئی۔ اس نے کئی بار تاریخ پر نگاہ ڈالی، پھر اپنے چاروں طرف دیکھا۔ نہ ٹی وی، نہ


نہ گیس، مٹی کے تیل کے جلتے ہوئے لیمپ۔ غیر ارادی طور پر اس کی نگاہ ولیم پر پڑی اور اسے اس کا حلیہ، اس کا لباس، اس کے بالوں کا انداز سبھی کچھ بہت قدیم معلوم ہوا۔ اپنی بیماری کی وجہ سے اس نے اس طرف توجہ ہی نہیں دی تھی۔
’’کوئی خاص بات ہے کیا؟‘‘ ولیم نے ابرو اچکا کر پوچھا۔ ’’طبیعت تو ٹھیک ہے تمہاری؟‘‘
’’طبیعت۔‘‘ ایملی نے دہرایا۔ اس کی ذہنی کیفیت عجیب سی ہورہی تھی۔ اس کو ہنسی بھی آرہی تھی اور ہسٹریائی انداز میں اس کا دل چیخنے چلاّنے کو بھی چاہ رہا تھا۔ یہ سب کیا تھا؟ کیوں تھا؟ کس طرح ہوگیا تھا؟ ان سب باتوں کا نہ کوئی جواب تھا، نہ جواز اور ولیم بدستور فکرمندی سے اس کے جواب کے انتظار میں تھا۔
’’شاید… شاید! واقعی میری طبیعت خراب ہوجائے گی۔‘‘ ایملی نے سر جھٹک کر کہا اور اپنے کمرے میں آگئی۔
٭…٭…٭
کیا یہ کوئی مذاق تھا، کوئی غلط فہمی تھی۔ آخر کیا تھا؟ ایملی اپنے بیڈ پر لیٹی ہوئی کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی۔ وہ سوچ رہی تھی کہ ایسا کس طرح ہوسکتا ہے کہ وہ ایک صدی سے بھی زیادہ پیچھے چلی جائے۔ اسے ایسا لگتا تھا کہ یہ ایسے لوگوں کی بستی تھی جو کچھ نیا کرنے کے شوق میں پچھلی صدی کے مطابق زندگی گزار رہے تھے۔ جس طرح وہ شہر کے جھمیلوں سے اکتا کر پُرسکون زندگی کی آرزو میں گائوں کی طرف جارہی تھی۔ دنیا میں احمقوں کی تو کمی نہیں۔ جس کا جو دل چاہتا ہے، وہ کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔
اس بات سے اسے قدرے ڈھارس ہوئی۔ یقیناً یہ بستی کسی منچلے نے بسائی تھی۔ سیاحوں کا شوق بڑھانے کے لیے کہ وہ ایک صدی پہلے کی تہذیب میں رہ کر دیکھیں لیکن وہ یہاں اب زیادہ نہیں رہنا چاہتی تھی۔ اسے سکون کی تلاش تھی۔ لیکن وہ ماڈرن زمانے کی سہولتوں سے خود کو محروم نہیں کرنا چاہتی تھی۔ نہ ہی وہ اپنی زندگی کو مشکل بنانا چاہتی تھی۔
وہ سو کر اٹھی تو سورج نکل آیا تھا۔ اس کی سنہری کرنیں جمی ہوئی برف سے منعکس ہوکر بہت چمکیلی ہوگئی تھیں۔ وہ تازہ دم ہوکر نیچے آئی تو ولیم ناشتہ کررہا تھا۔ اسے دیکھتے ہی وہ بولا۔ ’’گڈ مارننگ مس ایملی، آج تم کافی بہتر معلوم ہورہی ہو۔‘‘
’’گڈ مارننگ! میں ٹھیک ہوں۔ اگر تم فارغ ہو تو مجھے شہر چھوڑ آنا۔ میں بہت بہتر محسوس کررہی ہوں اور سفر کرنے کے قابل ہوں۔‘‘
وہ اپنے دونوں ہاتھ کافی کے ایک بڑے سے مگ کے گرد لپیٹے غور سے اس کی جانب دیکھ رہا تھا جیسے اس کی حالت کو جانچ رہا ہو۔ ’’ہاں… ضرور! میں آج تمہیں لے جائوں گا۔‘‘
ایملی نے اطمینان کا سانس لیا۔ ’’اوہ! بہت شکریہ۔ میں بہت ممنون ہوں گی۔ جیسے ہی میرا بینک مجھے میری رقم بھجوا دے گا، میں تمہیں ادائیگی کردوں گی۔‘‘
’’نہیں۔ اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ انسانیت کے ناتے یہ میرا فرض ہے۔‘‘ وہ بولا۔
’’اور یہ میرا فرض ہے۔ مجھے یہاں رہتے ہوئے ایک ہفتے سے کچھ اوپر ہی ہوگیا ہے۔ میرا تمام خرچ تم اٹھا رہے ہو۔‘‘
’’تم خواہ مخواہ رقم کی بات کررہی ہو۔ تم ایک حادثے کا شکار ہوئی تھیں۔ جو کوئی بھی تمہاری مدد کرتا، اپنا فرض سمجھ کر کرتا۔ بھلا اس میں رقم کا، پیسے کا کیا دخل ہے۔‘‘
ایملی کچھ نادم سی ہوگئی۔ ’’ہاں تم ٹھیک کہتے ہو۔‘‘ وہ کافی کپ میں انڈیلتے ہوئے بولی۔
’’کام کرنے والے لوگ آجائیں تو میں انہیں کام بتا کر فارغ ہوجائوں گا۔ پھر چلیں گے۔‘‘ وہ اپنی کرسی دھکیل کر اٹھتے ہوئے بولا۔
’’ٹھیک ہے، جب بھی تم سہولت سے چل سکو۔‘‘ ایملی نے خوش ہوکر کہا۔
’’باہر سردی بہت ہے۔ تمہیں کوئی مسئلہ تو نہیں ہوگا۔ تم ابھی ابھی بیماری سے اٹھی ہو۔‘‘ اس نے اس طرح کہا کہ جیسے اس کی صحت کا مسئلہ اس کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہو۔
’’نہیں… نہیں! میں ٹھیک ہوں بالکل۔‘‘ ایملی نے خود اعتمادی سے کہا۔
’’ٹھیک ہے۔ پھر میں چلتا ہوں۔‘‘
’’میں تیار رہوں گی۔‘‘ ایملی نے مسکرا کر جواب دیا۔
وہ چلا گیا تو کچھ ہی دیر بعد تینوں بچے شور مچاتے دوڑتے، بھاگتے کچن میں آگئے۔ باورچی نے ان کے لیے ناشتہ میز پر لگا دیا تھا۔ ایملی نے دیکھا کہ میریان کی چوٹیاں بہت الجھی ہوئی تھیں۔ ان سے بالوں کی لٹیں باہر نکلی ہوئی تھیں۔ ان بچوں کے والدین نہیں تھے، اسی لیے اس بچی کی دیکھ بھال ٹھیک طرح سے نہیں ہورہی تھی۔
ایملی سے رہا نہیں گیا۔ اس نے کہا۔ ’’میریان! تم نے اپنے بال برش نہیں کیے؟‘‘
میریان اپنی چوٹی کو ہاتھ سے ٹٹولتی ہوئی
بولی۔ ’’مجھے چوٹی بنانی نہیں آتی۔ جب میں چرچ جاتی ہوں تو کوئی آنٹی میرے بال بنا دیتی ہیں۔ لیکن اس اتوار کو وہ نہیں آئی تھیں۔‘‘
’’تو میریان! تم اپنے بال صرف ہفتے میں ایک بار بناتی ہو؟‘‘
’’میری ماما ہر روز میرے بال بناتی تھیں۔‘‘ وہ بولی۔ اس کی پیاری آنکھوں میں اداسی تھی۔
’’تم ناشتہ کرلو تو میں تمہارے بال بنا دوں گی۔‘‘ ایملی نے نرمی سے کہا۔
میریان نے اثبات میں سر ہلایا۔ اس کے چہرے پر حیرت اور خوشی تھی۔
ناشتے کے بعد ایملی نے لڑکوں کا منہ ہاتھ دھلوایا۔ میریان کے بال برش کرکے اس کی چوٹیاں گوندھیں۔ وہ کھیلنے چلے گئے تو ایملی نے اپنے لئے تازہ کافی کا ایک مگ بنایا اور پینے لگی۔ اس کا سر اب بھی کبھی کبھی چکراتا تھا۔ اس کی کمزوری پوری طرح سے دور نہیں ہوئی تھی لیکن وہ پھر بھی جانے کے لیے تیار تھی۔ وہ اس ماحول سے نکلنا چاہتی تھی۔ شہر میں بہتر سہولتیں ہیں، وہ کسی اچھے ڈاکٹر سے معائنہ کروائے گی۔
ولیم اس وقت واپس آیا جب ایملی انتظار کرکرکے نڈھال ہوچکی تھی۔ اسے غصہ آرہا تھا کہ ان لوگوں کو وقت کی قدر نہیں ہے۔ نہ یہاں کسی کے پاس گھڑی یا کلاک تھا۔ صرف ولیم کے پاس ایک جیبی گھڑی تھی لیکن وہ اندر سے کیسی تھی، ایملی کو کچھ اندازہ نہیں تھا۔
ولیم قریب آیا اور اپنا ہیٹ اپنی ٹانگ پر مارتے ہوئے بولا۔ ’’ہاں! تو پھرتمہارا پروگرام ہے شہر جانے کا؟‘‘
ایملی نے غور سے اس کی طرف دیکھا۔ ’’کہیں تم نے مجھے چھوڑنے کا ارادہ ملتوی تو نہیں کردیا۔ میں آج ہی جائوں گی۔‘‘
’’ہاں۔ کیوں نہیں محترمہ۔ اگر آپ جانا چاہتی ہیں تو یہ خادم حاضر ہے۔‘‘
’’میں تیار ہوں بالکل۔‘‘ ایملی نے اپنا اشتیاق چھپاتے ہوئے کہا۔
ولیم کو گھوڑا گاڑی تیار کرنے میں آدھ گھنٹہ لگ گیا۔ اس نے ایملی کے لیے ایک کوٹ اور ہیٹ کا بندوبست کیا۔ یہاں خواتین اپنا سر ڈھانپے بغیر باہر نہیں نکل سکتی تھیں۔
جب ایملی کوٹ اور ہیٹ پہن رہی تھی تو ولیم بڑے انہماک سے اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔ لیکن جیسے ہی ایملی نے اس کی طرف دیکھا، اس نے نگاہیں چُرا لیں اور تیز قدموں سے باہر آگیا۔ بگھی کی سیٹ بہت اونچی تھی۔ اس نے سوار ہونے کے لیے ایملی کی مدد کی۔
ایملی اپنی تہذیب یافتہ دنیا میں جانے کے لیے بے تاب تھی لیکن ولیم ایک مرتبہ پھر اندر چلا گیا تھا۔ کچھ دیر بعد وہ پلٹا اور گاڑی پر سوار ہوگیا۔ اس نے بازو پر کچھ ڈال رکھا تھا۔ وہ اس کی طرف پلٹ کر بولا۔ ’’سردی بہت ہے، اس لیے میں تمہارے لیے اپنا کوٹ لے آیا ہوں۔ یہ تمہیں خوب گرم رکھے گا۔‘‘ اس نے وہ کوٹ ایملی کے شانے پر ڈال دیا۔
ایملی نے ناک سکوڑی۔ یہ بھاری کوٹ جس سے تمباکو، گھوڑوں اور ولیم کی ملی جلی خوشبو اور بدبو آرہی تھی مگر مجبوراً اسے یہ عجیب نوازش قبول کرنی پڑی تھی حالانکہ سورج نکلا ہوا تھا اور دھوپ کی ہلکی ہلکی سی تمازت اچھی لگ رہی تھی۔ (جاری ہے)