Naya Janam | Episode 2

419
’’شکریہ!‘‘ اس نے رسمی انداز میں کہا۔
’’اگر تمہیں سردی لگ گئی تو ڈاکٹر مجھے قتل کردے گا۔ اس نے تمہارے علاج پر بہت محنت کی ہے۔‘‘ وہ بولا اور اس نے گھوڑوں کو تھپکی دے کر انہیں چلانے کے لیے مخصوص آواز نکالی۔ گھوڑے مستعدی سے چل پڑے۔ ہوا بہت صاف اور خوشگوار تھی۔ سورج کی روشنی آنکھوں کو کچھ دیکھنے نہیں دے رہی تھی۔ دور تک پھیلی برف سے وہ یوں منعکس ہورہی تھی جیسے وہ آئینہ ہو۔ ایملی کو آنکھوں پر ہاتھ سے سایہ بنانا پڑ رہا تھا۔ گھوڑوں نے اچھی رفتار پکڑلی تھی۔ قدیم تہذیب پیچھے رہتی جارہی تھی۔ وہ اس کی پہنچ سے باہر نکل رہی تھی۔
دور جنگلوں کے اندر سیکڑوں مویشی چر رہے تھے، کارندے اپنے کاموں میں مصروف تھے، وہ سب گھوڑوں پر سوار تھے یا ایسی گاڑیوں پر جنہیں گھوڑے کھینچ رہے تھے۔ ایملی نے یونہی پوچھ لیا۔ ’’تمہارے فارم پر کتنے مویشی ہیں؟‘‘
’’مجھے صحیح اندازہ نہیں ہے لیکن چھ ہزار کے قریب ہوں گے۔‘‘
’’تم انہیں گوشت فروخت کرنے والی کمپنیوں کو بیچتے ہو؟‘‘
’’ہاں! اب ٹرین یہاں تک آنے لگی ہے تو کچھ آسانی ہوگئی ہے ورنہ پہلے ہم خود انہیں اپنی گاڑیوں میں لاد کر شہر پہنچاتے تھے۔‘‘ اس نے بتایا۔
’’تمہارا یہ فارم منافع بخش ہے؟‘‘
ولیم نے ترچھی نگاہ سے اس کی طرف دیکھا۔ ’’ایسی باتیں میں نے کبھی کسی خاتون کے ساتھ نہیں کیں۔‘‘
’’مگر کیوں؟‘‘
’’کبھی کسی خاتون نے ایسا سوال نہیں کیا۔‘‘
’’اچھا! عجیب بات ہے۔‘‘ پھر چند لمحے توقف کے بعد ایملی نے پوچھا۔ ’’کیا یہاں قریب کوئی ایئرپورٹ ہے؟‘‘
اس نے ایک الجھی نگاہ اس پر ڈالی۔ ’’کیا؟‘‘
’’میرا مطلب ہے، کوئی ایئرپورٹ جہاں سے میں فلائٹ لے سکوں۔‘‘
’’فلائٹ۔‘‘ ولیم نے سر جھٹکا۔ ’’تم عجیب باتیں کرتی ہو۔‘‘
’’عجیب۔‘‘ ایملی نے غصے سے دہرایا۔ ’’آخر تم یہ سب کیوں کررہے ہو؟‘‘
اس نے گھوڑوں کی باگیں کھینچ کر انہیں روکا اور اس کی طرف مڑ کر بولا۔ ’’کیا کررہا ہوں؟ تم کیا کہنا چاہتی ہو… ایملی میڈم!‘‘
ایملی نے اس عجیب و غریب شخص کی طرف دیکھا جس کی مونچھوں پر کہرا جما ہوا تھا اور اس کے گھنگھریالے لمبے بال اس کے بڑے چھجے والے ہیٹ سے اس کے شانوں پر جھول رہے تھے۔ وہ اس کی طرف بڑی سنجیدگی سے دیکھ رہا تھا۔
’’بس! اب اس اداکاری کو چھوڑو۔ ٹھیک ہے تم اس انداز میں رہنا پسند کرتے ہو جو ایک صدی پہلے کا طریقہ تھا۔ یہ تمہاری مرضی… لیکن یوں تو ظاہر نہ کرو جیسے تم جدید دنیا کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ تمہیں نہیں معلوم کہ دنیا کتنی ترقی کرچکی ہے۔ تم نے اس بارے میں کچھ سنا تک نہیں۔ میری طرف اس طرح مت دیکھو، جیسے میں نہ جانے کس زمانے کی بات کررہی ہوں۔‘‘ شدت جذبات سے وہ روہانسی ہوگئی۔
وہ بڑے سکون سے بولا۔ ’’مس ایملی! خود کو پریشان مت کرو، خود کو پُرسکون رکھو۔‘‘
’’اس طرح کی دقیانوسی بستی میں، میں کس طرح رہ سکتی ہوں؟ میرا یہاں دم گھٹتا ہے۔ میں یہاں سے نکلنا چاہتی ہوں، میں اپنی دنیا میں، اپنے گھر جانا چاہتی ہوں۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔ تم جس طرح چاہتی ہو، ویسا کرنا۔ تمہیں کوئی نہیں روکے گا۔‘‘ وہ نرمی سے بولا۔
ایملی چڑ گئی۔ وہ اس کے ساتھ ایسا سلوک کررہا تھا، جیسے کسی ذہنی مریض یا کسی ناسمجھ کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ اس نے بھڑک کر کہا۔ ’’تم میرے ساتھ ایسا سلوک کیوں کررہے ہو؟‘‘
’’میں ایسا کچھ نہیں کررہا۔ میرا خیال ہے کہ ڈاکٹر کی رائے درست تھی کہ ابھی تم اپنے بارے میں واضح نہیں ہو۔‘‘
’’اسے بھلا کیا پتا کہ جدید طریقۂ علاج کیا ہے اور پتا نہیں کسی ڈاکٹر کا وجود ہے بھی یا نہیں۔ مجھے یوں لگتا ہے جیسے تم نے مجھے اغوا کیا ہے، تم نے مجھے حبس بے جا میں رکھا ہے، تم نے ہی میرا والٹ کہیں غائب کیا ہے۔ میرے کریڈٹ کارڈ اور دوسرے کاغذات سب تم نے اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں۔ تم مجھے بے بس کردینا چاہتے ہو۔‘‘
’’دیکھو محترمہ!‘‘ اس نے تسلی کے لیے اس کے بازو پر ہاتھ رکھا۔
ایملی نے اسے فوراً ہی جھٹک دیا اور غصے سے بولتی چلی گئی۔ ’’میں تمہارے خلاف پولیس میں رپورٹ کرسکتی ہوں۔ جو کچھ تم کررہے ہو، اس کے لیے تم جیل کی ہوا بھی کھا سکتے ہو۔ تم مجھے شہر بھی نہیں لے جانا چاہتے۔ تم نے اور یہاں سب لوگوں نے کیسے کیسے بہروپ بھر رکھے ہیں اور
تم…‘‘ اسے معلوم تھا کہ وہ بہت کچھ غلط بول رہی ہے لیکن اُسے خود پر قابو نہیں تھا۔
ولیم بے حد پُرسکون تھا۔ وہ اسے ہمدردی سے دیکھ رہا تھا۔ ’’ایملی! بہتر ہوگا کہ تم خود کو پُرسکون رکھو۔ تم جہاں کہو گی، میں تمہیں لے جائوں گا۔ تمہارے رویے سے اندازہ ہورہا ہے کہ تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ تمہیں ڈاکٹر کو دکھانا چاہیے۔ وہ ایک سند یافتہ ڈاکٹر ہے۔ تمام قصبے کے لوگوں کا وہی علاج کرتا ہے۔‘‘
ایملی ہار سی گئی۔ اپنے تلخ رویئے پر اسے ندامت بھی ہوئی۔ یہ شخص کتنا بااخلاق تھا کہ اس کی تلخ باتیں سن کر بھی برہم نہیں ہوا تھا۔ نہ اس نے چڑچڑے پن کا مظاہرہ کیا تھا۔ وہ بھی دھیمی پڑ گئی۔ اس نے کہا۔ ’’بس! تم مجھے شہر چھوڑ آئو۔ وہاں سب ٹھیک ہوجائے گا۔‘‘
بغیر کچھ کہے ولیم نے گھوڑوں کی باگیں کھولیں اور انہیں چلانے کے لیے اپنے منہ سے مخصوص آواز نکالی۔ گھوڑوں نے قدم آگے بڑھائے۔ گاڑی کو ہلکا سا جھٹکا لگا۔ گھوڑوں کی ٹاپوں سے برف ٹوٹنے کی آوازیں آنے لگیں۔ ایملی کی سیٹ بھی لرزی لیکن وہ اسے دونوں ہاتھوں سے تھام کر سنبھل گئی۔ پھر اسے اپنی حماقت پر ندامت ہوئی کہ وہ خواہ مخواہ ولیم سے الجھی تھی جبکہ اس نے اسے کچھ نہیں کہا تھا۔
یہ احساس ہوتے ہی اس نے ولیم کو مخاطب کیا۔ ’’میں معذرت چاہتی ہوں اپنے رویّے پر۔ تم میری فکر نہ کرنا۔ میری طبیعت بالکل ٹھیک ہے۔ وہ تو میں ویسے ہی جذباتی ہوگئی تھی۔ بس تم مجھے شہر لے چلو۔‘‘
’’ٹھیک ہے محترمہ۔ ہم وہیں چل رہے ہیں۔‘‘ ولیم نے ملائمت سے جواب دیا۔
ایملی خود کو سنبھالتے ہوئے خاموشی سے بیٹھی رہی اور گھوڑا گاڑی برف سے چمکتی ہوئی راہوں پر ہچکولے کھاتی آگے بڑھتی رہی۔
بالآخر وہ شہر کی حدود میں داخل ہوئے جہاں ہر طرف بھیڑ لگی ہوئی تھی اور ہجوم ہی ہجوم تھا۔
سڑکوں پر گھوڑا گاڑیاں اور بگھیاں رواں دواں تھیں۔ سڑک کے دونوں طرف لکڑی کے فٹ پاتھوں پر لوگ پیدل چل رہے تھے۔ مردوں نے ویسے ہی کپڑے اور ہیٹ پہن رکھے تھے جیسے ولیم پہنتا تھا۔ عورتیں بھی لمبے لمبے کوٹوں میں ملبوس تھیں۔ ان کے سروں پر بھی ہیٹ تھے۔
راستے میں ایک بینک، ڈاکٹر کا کلینک، پوسٹ آفس بھی نظر سے گزرے۔ پھر ایک دو منزلہ ہوٹل آیا جس کے احاطے میں گھوڑوں کو گاڑیوں اور بگھیوں سے علیحدہ کرکے باندھا گیا تھا اور لوگ اندر باہر آجا رہے تھے۔ کچھ لکڑی کے زینوں کو طے کرتے اوپر کی منزل پر جارہے تھے۔
جیسے جیسے ایملی اپنے گردوپیش دیکھتی تھی، اس کی سانس اس کے سینے میں رکی جاتی تھی، اس کا دل بیٹھا جاتا تھا۔ دور سے اسے ٹرین کی سیٹی سنائی دی۔ ٹرین کے گزر جانے کے انتظار میں ولیم نے گھوڑا گاڑی کو روکا۔ ایملی کو اپنی آنکھوں پر اعتبار نہیں آیا۔ ٹرین دھویں کے مرغولے چھوڑتی چلی جارہی تھی۔ ایک صدی پہلے کی ٹرین،کوئلے سے چلنے والی۔
وہ دھک سے رہ گئی۔ یہ سب کیا ہورہا تھا؟ یہ کوئی ذہنی مغالطہ تھا یا حقیقت۔ یوں لگتا تھا جیسے کسی فلم کا سیٹ لگا ہوا ہے اور یہاں نظر آنے والے تمام لوگ اداکار ہیں جنہوں نے مختلف بہروپ بھر رکھے تھے یا کوئی ’’تھیم ٹائون‘‘ جسے سیاحوں کی دلچسپی کے لیے بنایا گیا تھا کہ ایک صدی پہلے لوگ کس طرح رہتے تھے۔
قریب سے گزرنے والے ایک شخص نے اپنے ہیٹ کو چھو کر ولیم کو سلام کیا۔ ولیم نے عام سے انداز میں اس کا جواب دیا جیسے یہ اس کے لیے ایک عام بات ہو، ایک معمول ہو، کوئی غیر معمولی بات نہ ہو۔
ایملی حیرت سے چاروں طرف دیکھ رہی تھی۔ یوں لگتا تھا جیسے یہ شہر، کوئی قصبہ ہو چھوٹا سا۔ کچھ سڑکیں، پرانے طرز کے گھر، کچھ دکانیں، کچھ اسٹور، کچھ آفس وغیرہ۔ پھر ایملی پر یہ انکشاف ہوا کہ وہاں کوئی بجلی نہیں تھی، ہر طرف گیس کے لیمپ روشن تھے۔ کہیں بھی نیون سائن نہیں تھے۔ نہ بجلی کے تار تھے۔ نہ ٹیلیفون کے پول تھے، نہ کاریں، نہ بسیں، نہ ٹیکسیاں، نہ ٹیلیفون بوتھ، نہ سیاحوں کا ہجوم کہ وہ اس ’’تھیم ٹائون‘‘ کی تصویریں لیتے ہوئے نظر آئیں۔
اس کا سر چکرا رہا تھا لیکن اس نے خود کو سنبھالا اور خود کوئی اندازہ لگانے سے گریز کیا۔ اپنی کوئی رائے نہیں دی۔
وہ اس انتظار میں چپ بیٹھی رہی کہ ولیم خود کچھ کہے۔ جو بھی حقیقت ہے، بتائے۔ وہ خود اسے آگاہ کرے۔
وہ تقریباً سارے شہر کا چکر لگا چکے تھے۔ ہر جگہ وہی منظر تھا۔ کہیں کچھ مختلف اور جدید نہیں تھا۔
کہیں ماڈرن دنیا کی جھلک نظر نہیں آئی، کہیں منظر نہیں بدلا۔
’’ہاں تو ایملی۔‘‘ ولیم نے ایک جگہ گھوڑوں کو ٹھہرایا اور اس کی طرف متوجہ ہوا۔ ’’تم پہلے کہاں جانا چاہتی ہو؟‘‘
ایملی نے ایک گہرا سانس لیا۔ ’’ٹیلیفون… یہاں ٹیلیفون کہاں ہے؟‘‘
’’ٹیلیفون یہاں ہوٹل میں مل جائے گا لیکن وہ لوکل ہے۔ یہاں ابھی فون کا مکمل سسٹم نہیں آیا۔ سنا ہے کہ بڑے شہروں میں اس کا بہتر نظام قائم ہوچکا ہے۔ اگر تم کہیں سے رقم منگوانا چاہتی ہو تو اس کے لیے ٹیلی گراف آفس ہے۔‘‘
’’ٹیلی گراف آفس۔‘‘ ایملی نے دہرایا۔
’’ہاں! وہ سامنے ہے۔‘‘
گھوڑا گاڑی پر بیٹھ کر وہ تھک گئی تھی۔ اس کی ٹانگیں اور گھٹنے کام نہیں کررہے تھے۔ وہ بمشکل ٹیلی گراف آفس پہنچی جہاں لکڑی کے کائونٹر کے پیچھے ایک ادھیڑ عمر شخص بیٹھا تھا جس کا سر بالوں سے خالی تھا۔ اس نے سیاہ پتلون اور سفید قمیض پہن رکھی تھی جس کی آستین کالی ڈوریوں کے ساتھ اس نے کہنیوں سے اوپر اٹھا رکھی تھیں۔
وہ اسے دیکھ کر بولا۔ ’’میں آپ کی کیا مدد کرسکتا ہوں؟‘‘
’’میں اپنے بینک کو تار دینا چاہتی ہوں۔‘‘ ایملی نے بتایا۔
کلرک نے ایک فارم اس کی طرف بڑھایا۔ ’’آپ اپنا مکمل پتا اور بینک کا ایڈریس، اپنا نام اور دوسری تفصیلات لکھ دیں۔ میں آپ کو یہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ اس میں کچھ وقت لگ جائے گا۔ دو تین دن بھی لگ سکتے ہیں۔‘‘
ایملی نے الجھ کر بینک کے اس کاغذ کی طرف دیکھا۔ وہ کس طرح یہ تمام معلومات رقم کرے۔ اسے اپنا اکائونٹ نمبر بھی یاد نہیں تھا۔ جس بینک میں وہ کام کرتی تھی، ان کے نقشے میں اس کا کوئی وجود نہیں تھا۔ کلرک اس کی طرف دیکھ رہا تھا کہ وہ بینک کا فارم بھر کر اسے دے۔ لیکن وہ فیصلہ نہیں کر پا رہی تھی کہ اگر اپنے بینک کا نام لکھے گی تو کلرک کے تاثرات کیا ہوں گے۔ اس نے معذرت خواہانہ لہجے میں کہا۔ ’’میں نے اپنا ارادہ بدل دیا ہے۔ میں پھر کسی وقت آجائوں گی۔‘‘
’’جیسی آپ کی مرضی۔‘‘ کلرک بے نیازی سے بولا۔
وہ پریشانی کے عالم میں باہر نکل گئی۔ اس کا رونے کو دل چاہ رہا تھا۔ اس کی آنکھیں بے بسی کے آنسوئوں سے بھیگ رہی تھیں۔ وہ گھوڑا گاڑی کے قریب آئی تو ولیم بولا۔ ’’مس ایملی! تم ٹھیک تو ہو۔ تمہارا کام ہوگیا؟‘‘
’’نہیں۔‘‘ ایملی نے انکار میں سر ہلایا۔
ولیم اس کے قریب آگیا۔ اس کے دراز قد اور ہم قدم ہوکر چلنے کی وجہ سے ایملی کو ایک عجیب سے احساس تحفظ نے آسودہ کردیا۔ اُسے حوصلہ ملا۔ اس کے اردگرد جیسے ہر شے گردش کررہی تھی۔ وہ قدم کہیں رکھتی تھی اور پڑتا کہیں تھا۔
وہ اس کا بازو پکڑ کر اسے گھوڑا گاڑی کی سیڑھی پر بٹھاتا ہوا بولا۔ ’’چلو یہاں بیٹھ جائو۔ اپنا سر جھکا لو اور آنکھیں بند کرکے خود کو پُرسکون کرنے کی کوشش کرو۔‘‘ پھر وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑایا۔ ’’اوہ! مجھے یہی ڈر تھا کہ کہیں تمہاری طبیعت خراب نہ ہوجائے۔ خاتون! تم بہت نازک…‘‘
’’میں ٹھیک ہوں بالکل۔‘‘ ایملی نے خود پر قابو پاتے ہوئے کہا۔
’’ہاں۔ ہاں! تم بہت جلد ٹھیک ہوجائو گی۔‘‘
ایملی دونوں ہاتھوں سے اپنا سر تھامے بیٹھ گئی۔ وہ خجل ہورہی تھی اور کچھ خوف زدہ بھی۔ نہیں جانتی تھی کہ آئندہ اس کے ساتھ کیا ہونے والا تھا۔
’’میں ٹیلی گراف آفس آرہا تھا کہ تمہیں پیسوں کی ضرورت ہوگی۔‘‘ ولیم بولا۔
’’نہیں۔ میں نے پیغام نہیں بھیجا۔ مجھے ایڈریس یاد نہیں تھا، نہ ہی مجھے اپنا اکائونٹ نمبر یاد تھا۔ مجھے تو یہ بھی یاد نہیں آرہا تھا کہ بینک میں میری کچھ رقم بھی ہے یا نہیں۔‘‘ اس نے سر اٹھا کر ولیم کی طرف دیکھا۔ ’’مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوئی۔ میں نے نہ جانے تمہیں کیا کچھ کہہ دیا۔‘‘
’’کوئی بات نہیں۔ پریشان نہ ہو۔ یہ سب کچھ کسی کے بھی ساتھ ہوسکتا ہے، جس کے سر پر شدید چوٹ آئی ہو۔‘‘
’’میری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا کہ میں کروں گی کیا؟ میرے پاس نہ کوئی رقم ہے، نہ کریڈٹ کارڈ، نہ ہی کوئی جگہ ہے جہاں میں جاسکوں۔‘‘ وہ ولیم کی طرف بے چارگی سے دیکھ رہی تھی۔ پریشان حال اور بے بس سی۔
ولیم اس کے قریب کھڑا تھا۔ سارے شہر اور ساری دنیا میں اس وقت اس کے سوا ایملی کا کوئی نہیں تھا۔ اس اجنبی شہر میں صرف وہی تھا جو اس کا ہمدرد، مخلص اور غمگسار تھا۔
وہ تھوڑے توقف کے بعد بولا۔ ’’میڈم ایملی! تم یہاں اس طرح راستے میں نہیں بیٹھ سکتیں۔ اگر تمہاری
زیادہ خراب ہے تو مجھے بتائو، میں تمہیں ڈاکٹر کے پاس لے چلتا ہوں۔ اگر تم بہتر محسوس کررہی ہو تو پھر گھر چلتے ہیں۔‘‘
’’ہاں۔ میں ٹھیک ہوں۔ مجھے ڈاکٹر کی ضرورت نہیں۔ میں گھر چلوں گی تمہارے ساتھ۔ میں اس کے علاوہ اور کہاں جاسکتی ہوں؟‘‘ ایملی نے کہا۔
اس نے اس کا بازو پکڑ کر اسے اٹھایا۔ ’’اب یہیں بے ہوش نہ ہوجانا۔ ہمت کرو، اٹھ کر چلو۔‘‘
ایملی کو ہنسی آگئی۔ ’’میں ٹھیک ہوں۔ میں چل سکتی ہوں۔‘‘
’’میرا خیال ہے کہ تمہیں کچھ کھانے کی ضرورت ہے تاکہ تم میں طاقت آئے۔ کیا خیال ہے تمہارا کہ ہم لنچ یہیں نہ کرلیں؟‘‘
’’ہاں۔‘‘ ایملی نے اثبات میں سر ہلایا۔
قریب سے گزرتی ہوئی ایک عورت نے اپنے ہیٹ کو چھو کر ولیم کو ’’ہیلو‘‘ کہا۔ ولیم نے خوش اخلاقی سے اس کا جواب دیا۔ وہ عورت ایملی کی جانب غور سے دیکھ رہی تھی جیسے اندازہ لگانے کی کوشش کررہی ہو کہ وہ کون ہے لیکن ولیم نے اس سے ایملی کا تعارف کروانے کی کوشش نہیں کی۔ وہ آگے بڑھ گئی۔
چلتے چلتے ایملی کی نگاہ ایک ڈرگ اسٹور پر پڑی۔ اسے دور سے اخباروں کا ایک انبار نظر آیا۔ اس نے ولیم سے کہا۔ ’’پلیز! تھوڑی دیر رکو، میں اس دکان میں جانا چاہتی ہوں۔‘‘
’’جیسی تمہاری مرضی۔‘‘ وہ بولا۔
اس نے دکان کے اندر داخل ہوکر جلدی جلدی اخبار دیکھنے شروع کئے۔ کچھ پرانے تھے، کچھ نئے لیکن ہر ایک پر تاریخ وہی ایک صدی پہلے کی درج تھی۔ اٹھارہویں صدی کا آخری حصہ اٹھارہ سو ترانوے۔ اس بار ایملی کو کچھ زیادہ دھچکا نہیں لگا۔ اب وہ ذہنی طور پر قبول کرچکی تھی کہ اسے غیر معمولی حالات کا سامنا ہے اور وہ اس وقت ایک صدی پہلے کے زمانے میں سانس لے رہی ہے۔
ولیم باہر انتظار کررہا تھا۔ وہ اس کی طرف دیکھ کر بولا۔ ’’تمہیں کچھ خریدنا تھا کیا؟‘‘
’’نہیں، میں بس دیکھ رہی تھی۔‘‘ ایملی نے جواب دیا۔
’’چلو، کھانا کھاتے ہیں۔‘‘ وہ اسے اپنے ہمراہ ایک ہوٹل میں لے آیا۔
کھانے میں بیف اسٹیک اور تلے ہوئے آلو تھے۔ اس کے ساتھ نہ سلاد تھا، نہ سوس، نہ ہی کوئی اور چیز۔ ایملی بے دلی سے کھانے لگی۔ وہ کھانے کے ساتھ ساتھ گردوپیش کا جائزہ بھی لیتی جارہی تھی۔ ہوٹل میں کھانا کھانے والے سب مرد تھے۔ اپنے لباس سے وہ زیادہ تر بزنس مین معلوم ہورہے تھے۔ ان سب کی پلیٹوں میں گوشت کے بڑے بڑے ٹکڑے تھے جنہیں وہ بڑی رغبت سے کھا رہے تھے۔ ایملی کو ان کے کھانے کے انداز سے کراہیت سی آنے لگی۔ عجیب لوگ تھے وہ۔ ہر کوئی گوشت کھانے میں لگا ہوا تھا۔
’’اِدھر اُدھر دیکھنا چھوڑو۔ کچھ کھائو تاکہ تمہارا رنگ روپ واپس آئے۔‘‘
’’یہاں مجھے کوئی عورت نظر نہیں آرہی؟‘‘ ایملی نے سوال کیا۔
’’عورتیں گھر پر رہتی ہیں۔ انہیں یہاں آنے کی کیا ضرورت ہے۔ ہاں اتوار کو بعض خاندان ہوٹل میں کھانا کھانے آتے ہیں تو ان کے ساتھ خواتین بھی ہوتی ہیں۔‘‘
جو لوگ کھانا کھا چکے تھے۔ انہوں نے سگار سلگا لیے تھے۔ تھوڑی ہی دیر میں ان کے دھویں سے ساری فضا بھر گئی۔ ایملی کو اب بھی یہ سب کسی فلم کا سیٹ معلوم ہورہا تھا۔
ولیم نے ایملی کا کوٹ پہننے میں اس کی مدد کی اور دونوں باہر آگئے۔ ایملی نے دیکھا تھا کہ تمام مرد عجیب نگاہوں سے ان کی طرف دیکھ رہے تھے۔ ولیم نے بھی اندازہ لگا لیا کہ ایملی ان مردوں کی نگاہوں سے مضطرب ہورہی ہے۔
’’ان کی نگاہوں کو نظرانداز کردو۔ دراصل یہ ایک چھوٹا سا قصبہ ہے۔ وہ سب جانتے ہیں کہ میرے بھائی نے میرے پاس ایک ہائوس کیپر بھیجی ہے۔‘‘
’’میں نے تمہیں پہلے بھی بتایا ہے کہ میں تمہاری ہائوس کیپر نہیں ہوں۔‘‘ ایملی نے احتجاج کیا۔
’’انہیں تو نہیں پتا اس بات کا۔‘‘ وہ اس کے ساتھ باہر آتے ہوئے بولا۔ ’’تمہیں شہر میں کوئی اور کام تو نہیں؟‘‘
ایملی نے چاروں طرف دیکھا۔ لوگ، ان کے لباس، گھوڑا گاڑیاں، بگھیاں، دور بہتا دریا، لکڑی کا چھوٹا سا پل اور کوئلے کے ساتھ دھواں دیتا ریلوے انجن، سبھی کچھ اجنبی اور ناقابل یقین تھا۔
اس نے ولیم کی طرف پلٹ کر جواب دیا۔ ’’نہیں کچھ نہیں۔ یہاںمجھے کوئی کام نہیں۔ میرے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں کہ تمہارے ساتھ گھر چلی جائوں۔ کوئی اور جگہ ہے ہی نہیں جہاں میں جاسکوں۔ کیا میں تمہارے ساتھ واپس جا سکتی ہوں؟‘‘
’’میں نے تمہیں اپنے گھر سے نکالا تو نہیں ہے۔‘‘
’’شکریہ۔ اچھا میری بات غور سے سنو کہ میں اب


تمہارے یہاں ہائوس کیپر کا کام کروں گی۔ تم مجھے اس کی تنخواہ دینا۔ جب میرے پاس کچھ رقم جمع ہوجائے گی تو میں پھر کہیں چلی جائوں گی۔‘‘
’’ٹھیک ہے لیکن بچوں کے سامنے اس طرح کی بات نہ کرنا، خاص طور پر میریان کے سامنے… وہ بہت حساس لڑکی ہے۔‘‘ اس نے تنبیہ کی۔
’’ٹھیک ہے۔ میں خیال رکھوں گی۔‘‘
’’چلو پھر گھر چلتے ہیں۔‘‘ وہ اس کا بازو تھام کر بولا۔ ’’مجھے ابھی بہت سے کام نمٹانے ہیں۔‘‘
ایملی نے اپنا منہ سختی سے بند کرلیا۔ کچھ کہنے کی گنجائش بھی نہیں تھی ورنہ اس کا دل چاہ رہا تھا کہ چیخ چیخ کر آسمان سر پر اٹھا لے۔ یہ اس کے ساتھ کیا ہورہا تھا، کیوں ہورہا تھا۔
اس کا یہ لمبا بے ہنگم کوٹ اتار پھینکنے کو دل چاہ رہا تھا۔ کاش! وہ ولیم کو یقین دلا سکتی کہ وہ اس قدیم دقیانوسی قصبے سے تعلق نہیں رکھتی جو ماضی میں زندگی بسر کررہے تھے۔ وہ ایک پڑھی لکھی خاتون تھی۔ وہ بینک میں ایک ذمہ دار عہدے پر فائز تھی لیکن یہ شخص کبھی اس کی بات پر اعتبار نہیں کرے گا۔
واپسی کا سفر بہت طویل اور تھکا دینے والا تھا۔ مایوسی اور پریشانی نے ایملی کی ساری طاقت نچوڑ لی تھی۔ وہ سخت تھکن محسوس کررہی تھی۔ کئی بار وہ اونگھ گئی اور اپنی سیٹ سے گرتے گرتے بچی۔ ولیم نے ہاتھ بڑھا کر اسے سہارا دیا۔ ’’دھیان سے بیٹھو، تمہیں چوٹ لگ سکتی ہے۔‘‘
خدا خدا کرکے سفر تمام ہوا۔ ولیم کا کتا دور سے بھاگتا ہوا آیا۔ اس کے بھونکنے کی آواز نے ایملی کو ہوشیار کیا۔ ولیم چھلانگ لگا کر نیچے اترا اور دوسری طرف آکر اس نے ایملی کو نیچے اترنے میں مدد دی ورنہ ایملی کو لگ رہا تھا کہ وہ اتنی اونچی گھوڑا گاڑی سے نہیں اتر پائے گی۔
ولیم نے اپنے ہیٹ کے چھجے سے اس کی طرف دیکھا۔ ’’تم ٹھیک تو ہو؟‘‘
ایملی نے اس کی گہری نیلی آنکھوں میں دیکھا۔ اس کے شانوں پر پھیلے ہوئے گھنگھریالے بالوں کو دیکھا، اس کی گھنی مونچھوں کو دیکھا۔ اس کا دل بیٹھنے لگا۔ اٹھارہ سو ترانوے… اوہ خدایا! وہ ماضی کے اس دور میں رہ کر کیا کرے گی۔ اپنی ترقی یافتہ مہذب دنیا کو کہاں تلاش کرے گی؟
٭…٭…٭
ایملی باربار یہ سوچتی تھی کہ آخر وہ یہاں کس طرح پہنچی۔ اپنے زمانے سے ایک صدی پیچھے… لیکن اس سوال کا کوئی جواب اس کے ذہن میں آتا تھا، نہ کوئی اور اسے مطمئن کرتا تھا۔ سوچ سوچ کر اس کے سر میں درد ہونے لگتا۔ وہ خود کو تسلی دیتی کہ ایک نہ ایک دن وہ جواب تلاش کرنے میں کامیاب ہوجائے گی اور اس دقیانوسی دنیا سے نجات حاصل کرکے اپنی اصل زندگی کی طرف لوٹ جائے گی۔
رات کو جب وہ بچوں کو ان کے بستر میں سلا دیتی تو لائونج میں آکر بیٹھ جاتی جہاں ولیم پہلے سے بیٹھا کسی چیز کی مرمت کررہا ہوتا یا اپنے حساب کتاب کے کھاتوں میں الجھا ہوا ہوتا۔
ایملی کا دل چاہتا کہ ان کھاتوں کو اس کے ہاتھ سے چھین کر زمین پر دے مارے اور اسے بتائے کہ وہ ان سب چیزوں کے بارے میں اس سے بہتر جانتی ہے۔ اس صدی کے مقابلے میں اس کے پاس معلومات کا خزانہ ہے۔ وہ بزنس یونیورسٹی کی گریجویٹ ہے۔ اس نے ایک مشہور تعلیمی درس گاہ سے ایم بی اے کررکھا ہے۔ ایک بڑے بینک میں وہ کئی سالوں سے ملازمت کررہی ہے۔
مگر یہاں وہ گھر کے کام کرنے پر مجبور کردی گئی تھی۔ بچوں کی قمیضوں کے ٹوٹے ہوئے بٹن لگاتے ہوئے اس کا دل چاہتا کہ چیخ چیخ کر سامنے بیٹھے ہوئے اس بے حس شخص کو بتائے کہ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے۔ وہ بینک کے لون ڈویژن میں وائس پریذیڈنٹ تھی اور اس نے اسے ملازمہ بنا کر رکھ دیا ہے۔ اسے اس سے کچھ سروکار نہیں تھا۔ جب بھی اس کے منہ سے کوئی ایسی بات نکل جاتی تھی تو وہ اسے اس کے ذہن کی خرابی پر محمول کرتا جو اس کے سر پر چوٹ لگنے کی وجہ سے پیدا ہوئی تھی۔ اسی لیے اسے اپنا منہ بند رکھنا پڑتا تھا۔
اس نے ولیم کی طرف دیکھا۔ وہ اپنے کھاتوں سے نظر اٹھا کر اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔ اس کی گہری نیلی آنکھوں میں کوئی گہری سوچ تھی۔ ایملی نے اسے مخاطب کیا۔ ’’کوئی مسئلہ ہے کیا ولیم؟ میں اس طرح کے حساب کتاب کو بہت اچھی طرح جانتی ہوں۔‘‘
’’سب ٹھیک ہے میڈم ایملی۔‘‘ اس نے کہا اور پھر اپنے حساب کتاب میں مصروف ہوگیا۔ اس کا انداز ایسا تھا جیسے کسی بچے کو ٹال رہا ہو۔ وہ اسے ایک مذاق سمجھ رہا تھا کہ وہ عورت ہوکر حساب کتاب کے بارے میں کچھ جانتی ہے۔
ایملی دل ہی دل میں پیچ و تاب کھا کر خاموش ہوگئی۔ وہ جانتی
اگر اس نے کچھ اور کہا تو مزید دل آزاری کی باتیں سننی پڑیں گی۔ وہ واقعی اسے اپنی ہائوس کیپر سمجھتا تھا جس کی حیثیت محض ملازمہ کی تھی۔ وہ اٹھ کر کمرے میں چلی گئی۔ کسی اور موقعے کی تلاش میں جب وہ اسے اپنی بات سمجھا سکے۔
دو روز بعد ولیم اسے باہر اصطبل کے قریب مل گیا۔ وہ اپنے لمبے اسکرٹ کو سنبھالتی ہوئی اس کے قریب پہنچی۔ وہ ایک گھوڑے کے زخم پر مرہم لگا رہا تھا۔ اس نے ایک نظر ایملی کی طرف دیکھا اور پھر اپنے کام میں مصروف ہوگیا، جیسے گھوڑے کی طرف توجہ دینا اس سے زیادہ ضروری تھا۔
ایملی اس کی طرف دیکھتی رہی۔ کچھ دیر بعد وہ بولا۔ ’’کوئی بات ہے کیا ایملی؟ تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے نا۔‘‘
’’میں ٹھیک ہوں، بالکل ٹھیک ہوں اور یہی مسئلہ ہے۔‘‘ ایملی نے جل کر کہا۔
وہ ایک بالٹی میں اپنے ہاتھ دھونے لگا۔ پھر اس نے ایک بھدے سے تولیے سے اپنے ہاتھ صاف کئے اور اپنی آستینوں کو نیچے لاتا ہوا بولا۔ ’’ہاں! تو کوئی مسئلہ ہے؟‘‘
’’میں اب ٹھیک ہوں۔ میں کوئی کام کرنا چاہتی ہوں۔‘‘ اس نے کہا۔
’’اچھا تو…‘‘ اس نے فقرہ ادھورا چھوڑ دیا اور گہری نگاہ سے اس کی طرف دیکھا۔ ’’اچھا۔ تو…‘‘ وہ پھر فقرہ ادھورا چھوڑ کر اس کے برابر سے گزر کر بالٹی اٹھانے لگا جس میں جو بھرے ہوئے تھے۔
’’اچھا کیا… اچھا کیا مطلب؟‘‘
’’میں نہیں چاہتا کہ تمہیں کوئی نقصان پہنچے۔‘‘
’’اوہ! میں بیمار نہیں ہوں۔‘‘ ایملی جھنجھلائی۔ ’’میں ایک انسان ہوں، میں ایک معزز خاتون ہوں۔ مجھے معلوم ہے کہ میں کیا کرسکتی ہوں اور کیا نہیں۔‘‘ وہ کہتی رہی اور ولیم اپنے کام میں لگا رہا۔
وہ جھک کر گھوڑوں کو جو ڈالتا رہا۔ کسی کی گردن سہلاتا اور کسی کے کان کے نزدیک کچھ کہتا۔ یوں جیسے اس کی بات سن ہی نہ رہا ہو۔ ایملی خاموش ہوگئی۔ اسے بری طرح اپنی توہین کا احساس ہوا۔
یہ شخص اس کے ساتھ کیا کررہا تھا۔ کیا اس کی اہمیت ان گھوڑوں کے برابر بھی نہیں تھی۔ اس نے غصے سے پائوں زمین پر مارا۔ ’’تم کچھ بھی کرو، میں شہر ضرور جائوں گی۔‘‘
وہ اپنا کام ختم کرکے اس کی طرف پلٹا۔ ’’ہاں! میں تمہارے لیے کیا کرسکتا ہوں؟‘‘
’’نہیں۔ اس وقت نہیں، میں پھر کسی وقت تم سے بات کروں گی۔‘‘ ایملی نے ناگواری سے کہا اور چلی آئی۔ ولیم پھر اپنے کاموں میں لگ گیا۔
رات کے کھانے کے بعد بچے کھیل میں لگ گئے اور ایملی، میریان کی گڑیا کا فراک سینے لگی۔ وہ بڑے شوق سے اسے مشورے دیتی جارہی تھی۔ ولیم اپنی مخصوص کرسی پر بیٹھا حسب معمول اخبار پڑھ رہا تھا۔ مٹی کے تیل کے لیمپ کی روشنی میں اس کے چہرے کے گرد روشنی کا ایک ہالہ سا تھا۔ وہ کوئی روحانی شخص معلوم ہورہا تھا۔ آتشدان میں آگ سے نارنجی شعلے نکل رہے تھے۔ وقفے وقفے سے لکڑیوں کے چٹخنے کی آواز سنائی دیتی تھی۔
ایملی نے اسے مخاطب کیا۔ ’’شہر کے بارے میں کوئی خاص خبر ہے؟‘‘
’’تقریباً روز والی باتیں ہیں۔ ہاں! مویشیوں کی پرورش کرنے والوں کی تنظیم کی میٹنگ بدھ کو ہے اور خواتین کی ادبی سوسائٹی کا اجلاس پیر کو ہوگا۔‘‘ وہ اخبار کے صفحات پلٹتا ہوا بولا۔ ’’تم اگر خواتین کی میٹنگ میں جانا چاہو تو کوئی تمہیں وہاں چھوڑ دے گا۔ خواتین تم سے مل کر خوش ہوں گی۔‘‘
’’اچھا۔‘‘ ایملی نے سر ہلایا۔
بچوں کے سونے کا وقت ہوگیا تھا۔ وہ ان کو چھوڑ کر لائونج میں آئی تو اس نے دیکھا۔ ولیم اونگھتے اونگھتے سو گیا تھا۔ لائونج کے درمیان کھڑی وہ اس کی طرف دیکھنے لگی۔ اس نے بغیر کالر کی سفید قمیض اور سیاہ پتلون پہن رکھی تھی۔ اس کی آنکھیں نیم وَا تھیں اور وہ ہموار سانسیں لے رہا تھا۔ وہ ایک خوبصورت شخص تھا جو کسی بھی دوشیزہ کی نیندیں اُڑا سکتا تھا۔
مٹی کے تیل کے لیمپ سے پڑنے والی سنہری روشنی میں اس کے سیاہ گھنگھریالے بال چمک رہے تھے۔ اس کی ستواں ناک، اس کی مسحور کردینے والی نیلی آنکھوں کو چھپانے والی دراز پلکیں کبھی کبھی ہلکی سی جنبش کرتی تھیں۔
ایملی نے سر جھٹکا۔ ولیم کی وجاہت اور مردانہ کشش اس پر اثرانداز ہونے لگی تھی۔ اسے ہنسی آگئی۔ جب وہ واپس اپنی دنیا میں چلی جائے گی تو اپنی دوست کے ساتھ ولیم کی باتیں کرکے ہنسے گی۔ جو اس پچھلی صدی میں رہ جائے گا اور وہ آگے نکل جائے گی۔
ولیم نے جھرجھری سی لی اور اچانک آنکھیں کھول دیں۔ اپنی کرسی پر وہ سیدھا ہوتے ہوئے بولا۔ ’’اوہ! شاید میں
گیا تھا۔‘‘
’’ہاں۔‘‘ ایملی نے کہا اور کمرے سے بچوں کے کھلونے وغیرہ اٹھانے لگی تاکہ اس پر یہ ظاہر ہو کہ وہ مصروف تھی۔ ’’تم تھکے ہوئے تھے۔‘‘
اس نے بغیر کچھ کہے اپنی نیلی آنکھوں سے ایملی کی طرف دیکھا اور لمحے بھر کو دونوں کی نگاہیں الجھ کر رہ گئیں۔ ایملی کو ان آنکھوں میں وہ نظر آیا جو اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا، جس کی اسے توقع بھی نہیں تھی۔
ولیم کا رویہ ہمیشہ اس کے ساتھ ایسا ہی تھا جیسے وہ کوئی کمتر مخلوق ہے، جیسے اس کی کوئی اہمیت نہیں لیکن اس وقت اس کی آنکھوں میں ایک انوکھا جذبہ روشن تھا جو کسی مرد کی آنکھوں میں اپنی محبوبہ کو دیکھ کر ابھرتا ہے۔
ایملی کے دل میں ہلچل سی مچ گئی۔ وہ جیسے وہیں بندھ کر رہ گئی۔ پھر ولیم نے اپنی الجھی نگاہوں کو اس کی حیران نگاہوں سے علیحدہ کرلیا اور جھک کر اپنی کرسی کے قریب گرے ہوئے اخبار کے صفحات کو ایک ایک کرکے اٹھانے لگا۔
ایملی بھی جیسے ہوش میں آگئی لیکن اس کے ہاتھ سے کھلونے پھسل کر قالین پر گر گئے۔ وہ چونکی۔
ولیم کرسی سے اٹھ کر قریب آیا۔ ’’ٹھہرو۔ میں اٹھا دیتا ہوں، تم ٹھیک نہیں ہو۔‘‘
نہ جانے کیوں ایملی کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ وہ چڑ کر بولی۔ ’’میں ٹھیک ہوں بالکل۔ ولیم تمہاری موٹی عقل میں یہ بات کیوں نہیں آتی کہ میں ٹھیک ہوں۔ میں بھی ایک انسان ہوں۔ تم مجھ سے ایسا برتائو کیوں نہیں کرتے جو اپنے برابر کے انسان سے کیا جاتا ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ کوئی مجھ سے بات کرے۔ میں چاہتی ہوں ولیم کہ تم مجھے بتائو کہ میں کس طرح تمہاری مدد کرسکتی ہوں لیکن تمہارا برتائو ایسا ہے جیسے میرا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔‘‘
ولیم نے بے تاثر چہرے کے ساتھ اس کی طرف دیکھا۔ ’’خود کو پریشان مت کرو میڈم ایملی۔ میں تمہارے ساتھ بحث نہیں کرنا چاہتا۔‘‘
٭…٭…٭
کچھ دن گزرے، بہار آگئی۔ ہر طرف سبزے اور شادابی نے ماحول کو بدل دیا۔ برف کے پگھلنے سے راستوں پر کیچڑ سی پھیل گئی۔ ایملی کے کمرے کی کھڑکی کے ساتھ لگا ہوا سیب کا درخت شگوفوں سے بھر گیا۔ ایملی کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ گھرداری سنبھال لے۔
یہ کوئی آسان کام تھا، نہ ہی اسے ایسے کاموں کی عادت تھی۔ یہاں کوئی سہولت نہیں تھی جو کاموں کو آسان بنا دے۔ صابن اتنا تیز تھا کہ اس کی انگلیاں زخمی ہوجاتی تھیں۔ ٹھنڈے پانی کو گرم کرنے کا کوئی انتظام نہیں تھا۔ استری بہت بھاری تھی اور کپڑے موٹے۔ جنہیں استری کرنے میں سخت محنت کرنی پڑتی تھی۔
ایملی ان کاموں میں الجھ کر پاگل سی ہوگئی تھی۔ کام تھا کہ ختم ہونے میں نہیں آتا تھا۔ ایک کے بعد ایک کام نکل آتا تھا اور جس کے لیے کوئی صلہ تھا اور نہ ستائش۔
ایک روز جب وہ پانی سے بھرے ٹب کو خالی کرنے کی کوشش کررہی تھی مگر وہ بہت بھاری تھا۔ اس نے تھکے تھکے سے انداز میں اپنے بالوں کی لٹ کان کے پیچھے اُڑسی اور پھر اسے اٹھانے کی کوشش کی تو اچانک دو مضبوط ہاتھوں نے اسے تھام لیا۔
وہ ولیم تھا جو نہ جانے کس وقت وہاں چلا آیا تھا۔ اس نے بڑی آسانی کے ساتھ ٹب خالی کردیا۔
’’شکریہ۔‘‘ ایملی نے ٹھنڈے سے لہجے میں کہا۔
’’کوئی بات نہیں۔‘‘ اس نے ٹب کو اس کی جگہ رکھتے ہوئے کہا۔ مگر وہ وہاں سے گیا نہیں۔ چند لمحے وہاں ٹھہر کر اسے کام کرتے ہوئے دیکھنے لگا۔ ایملی نے پلٹ کر اس کی طرف دیکھا۔
’’ایملی…‘‘ اس نے پکارا۔ اسے اس طرح پکارنے میں ایک خاص اپنائیت بھرا جذبہ تھا۔ ایملی کو یقین نہیں آیا کہ یہ ولیم کا لہجہ ہے۔ ’’میں تمہیں بتانا چاہتا تھا ایملی کہ تم نے بہت اچھے انداز میں تمام کام سنبھالے ہیں۔‘‘
’’اوہ، شکریہ۔ میں یہ محنت اس لیے کررہی ہوں کہ اپنے لیے کچھ رقم حاصل کرسکوں۔‘‘
’’ہوں۔‘‘ ولیم نے لمبی سی ہوں کی۔
’’مجھے خوشی ہے کہ تم نے اسے محسوس کیا۔‘‘ ایملی نے کہا۔
وہ بغیر کچھ کہے اس پر گہری نظر ڈال کر چلا گیا۔ اس کی نگاہ میں کوئی ایسی بات تھی کہ ایملی کا کام میں اشتیاق بڑھ گیا۔ وہ یوں بڑے چائو سے کام کرنے لگی جیسے کوئی نوبیاہتا عورت اپنی نئی زندگی میں پہلی مرتبہ کھانا پکا رہی ہو۔ اسے حیرت ہورہی تھی کہ وہ اس جگہ سے تعلق نہیں رکھتی، نہ یہ طرززندگی اسے پسند تھا۔ اسے اپنا وقت، اپنی تہذیب یاد آتی تھی لیکن پھر بھی وہ یہاں رچ بس گئی تھی۔
تینوں بہن بھائی اسے اچھے لگتے تھے۔ باورچی بھی اسے پسند
کرنے لگا تھا جو نئے کھانے وہ پکاتی تھی، وہ اس میں اس کی مدد کرکے خوشی محسوس کرتا تھا لیکن ولیم… اس نے اب بھی اس کے اور اپنے درمیان فاصلہ برقرار رکھا تھا۔ وہ اسے خود سے بہت دور نظر آتا تھا۔ ایملی اس کے ساتھ کوئی جذباتی رشتہ قائم بھی نہیں کرنا چاہتی تھی کیونکہ اسے واپس جانا تھا۔ اپنی صدی میں، اپنے زمانے میں، اپنی تہذیب میں۔ لیکن یہ اندیشہ اسے پریشان کردیتا تھا کہ ولیم بڑے نامعلوم انداز میں اس کی شخصیت، اس کے دل کی دنیا پر اثرانداز ہورہا تھا۔ وہ ایسا نہیں چاہتی تھی۔ اسے اپنی دنیا میں واپس جانا تھا۔ وہ یہاں دل نہیں لگا سکتی تھی جہاں وہ تنہا تھی اور ولیم اسے اپنی دنیا اور اپنے معمولات میں شامل نہیں کرنا چاہتا تھا۔
اس روز اسے حیرت ہوئی جب مقامی بینک کا پریذیڈنٹ، ولیم سے ملنے آیا۔ وہ پکی عمر کا ایک موٹا شخص تھا جس کا بڑھا ہوا پیٹ بمشکل اس کی جیکٹ میں سمایا ہوا تھا۔ جب وہ میز پر کھانا لگا چکی تو ولیم نے اسے بھی کھانے میں شریک ہونے کو کہا۔ وہ ایک کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گئی۔
وہ دونوں کچھ بینک کے معاملات پر گفتگو کرتے رہے جنہیں ایملی بہت اچھی طرح جانتی تھی لیکن وہ دونوں سمجھ رہے تھے کہ اسے اتنی تیکنیکی گفتگو میں شامل ہونے کی ضرورت نہیں۔
پھر بوب نے کھانا ختم کیا اور ایملی سے مخاطب ہوا۔ ’’مس ایملی! اتنے بہترین ڈنر کے لیے شکریہ۔‘‘
ایملی نے صرف مسکرانے پر اکتفا کیا۔ وہ برتن اٹھانے لگی تو دونوں اپنے اپنے سگار سلگا کر آتشدان کے قریب جا بیٹھے اور ولیم نے ایملی سے کافی لانے کو کہا۔
ایملی انہیں کافی دے کر ساتھ والے کمرے میں چلی گئی، جہاں ان دونوں کی آوازیں اسے سنائی دے رہی تھیں۔ وہ وہاں بیٹھی پیچ و تاب کھا رہی تھی کہ وہ دونوں اسے گفتگو میں شامل کرنے کے قابل نہیں سمجھتے تھے حالانکہ وہ اس موٹے بینکر سے زیادہ جانتی تھی۔ بینکر کی گفتگو اسے چونکا رہی تھی۔ اسے یاد آرہا تھا کہ پچھلی صدی میں بینکنگ میں ایک بڑا بحران پیدا ہوگیا تھا۔ سونے کے ذخائر کم ہوگئے تھے، بہت سے بینک دیوالیہ ہوگئے تھے۔
ایملی سوچ رہی تھی کہ جب وہ یہاں موجود تھی تو انہیں کیوں نقصان پہنچنے دے۔ ابھی وہ سوچ ہی رہی تھی کہ اسے اس معاملے میں دخل دینا چاہیے یا نہیں۔ وہ غیرارادی طور پر اس کے کمرے کے دروازے پر کھڑی تھی جہاں وہ دونوں بیٹھے تھے۔ اس کے ہاتھ میں سوئی، دھاگا اور قمیض تھی جس میں وہ بٹن ٹانک رہی تھی۔
اس نے بینکر کو مخاطب کرکے کہا۔ ’’مسٹر بوب! آپ کے سونے کے ذخائر کم ہورہے ہیں۔ ہیں نا؟‘‘
’’جی کیا؟‘‘ اس نے سر اٹھا کر حیرت سے کہا۔
’’میں یہ پوچھ رہی ہوں کہ آپ نے بینک کا معاملہ ضرورت سے زیادہ پھیلا دیا ہے؟‘‘
’’ایملی!‘‘ ولیم بھی اس کے اس طرح دخل دینے پر حیران تھا اور نہیں چاہتا تھا کہ وہ مزید کوئی بات کرے۔
ایملی نے اس کی بات کو نظرانداز کردیا اور بولی۔ ’’میں صرف یہ جاننا چاہتی تھی کہ آپ کے پاس سونے کے کافی ذخائر ہیں۔ میں سوچ رہی تھی کہ…‘‘
’’ایملی!‘‘ ولیم تیزی سے اس کی جانب بڑھا اور اس کا بازو درشتی سے پکڑ کر اسے واپس کمرے میں لے آیا۔
بینکر نے اپنا سگار ایش ٹرے میں بجھایا اور اپنا کوٹ پہنتے ہوئے بولا۔ ’’میں تم سے پھر بات کروں گا ولیم۔‘‘ اس نے حقارت بھری نگاہ ایملی پر ڈالی اور باہر نکل گیا۔
’’عجیب ہو تم ایملی۔‘‘ ولیم اسے بازو سے پکڑ کر تقریباً گھسیٹتا ہوا دوسرے کمرے میں لے آیا اور اسے کرسی پر جیسے پٹختا ہوا بولا۔ ’’تم نے اس کے سامنے مجھے کیوں شرمندہ کیا؟ آخر تم کس قسم کی عورت ہو؟‘‘
ایملی نے اس کے غصے سے سرخ چہرے کی طرف دیکھ کر اس کا ہاتھ جھٹکا۔ ’’میں تمہیں بتائوں گی کہ میں کس قسم کی عورت ہوں۔ میں ایک تعلیم یافتہ خاتون ہوں۔ میں نے سب سے بہترین ادارے سے ڈگری لی ہے۔ سمجھے تم ولیم۔‘‘ اس نے جرأت کے ساتھ ولیم کی جانب دیکھتے ہوئے کہا جو بے یقینی سے اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔ ’’اور ہاں میں بینکنگ کے بارے میں تمہارے اس پریذیڈنٹ سے زیادہ جانتی ہوں۔ وہ شخص اپنی جہالت سے بینک کو ڈبو دے گا۔‘‘
چند لمحے ولیم اس کی جانب تکتا رہا۔ پھر بے حد سنگین لہجے میں بولا۔ ’’ایملی! اگر یہ سب سچ ہے تو پھر تم یہاں ملازمت کیوں کررہی ہو؟‘‘
’’یہ میں بھی نہیں جانتی کہ میں کس طرح یہاں پہنچی۔ میں ٹرین میں تھی اور دوسرے صوبے میں جارہی تھی تاکہ


پُرسکون جگہ پر نئے سرے سے زندگی شروع کروں مگر پھر کیا ہوا، میری سمجھ میں نہیں آرہا کہ وقت کیسے بدل گیا۔‘‘
وہ اب بھی اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔ آنکھوں میں سوال لئے۔ باہر وادی میں طوفان کے آثار تھے۔ ہوا کی تیزی کی وجہ سے کھڑکیاں بج رہی تھیں۔ وہ نہ جانے اس کے بارے میں کیا سوچ رہا تھا۔ اٹھارہویں صدی میں اس کی اس جرأت کو کیا نام دے رہا تھا۔
ایملی تنگ آکر اپنی جگہ سے اٹھی۔ اسے کوئی ضرورت نہیں تھی کہ اس کا غصہ اور اس کی الزام تراشیوں کو برداشت کرے۔ اس کی گود میں رکھے ہوئے بٹن اور قمیض زمین پر گر پڑے لیکن ایملی نے ان کی کوئی پروا نہیں کی۔
وہ آگے بڑھا۔ لیکن اس نے زمین پر گرے ہوئے بٹن نہیں اٹھائے۔ وہ اس کے قریب آیا۔ اس کی گہری نیلی آنکھیں، اس کی آنکھوں میں جھانک رہی تھیں۔ ایملی کا سانس اس کے سینے میں رک گیا تھا۔ اسے یوں لگا جیسے اس کا جسم شیشے کی طرح ٹوٹ کر سیکڑوں ٹکڑوں میں تقسیم ہوجائے گا۔ وہ شاید کچھ کہنا چاہتا تھا۔ اس نے بھاری لہجے میں اسے پکارا۔ ’’ایملی!‘‘
لیکن ایملی اس کی بات سنے بغیر تقریباً بھاگتی ہوئی کمرے سے باہر نکل آئی۔ اس کی آواز ایک مرتبہ پھر اسے بہت دور سے سنائی دی لیکن وہ اسے سننے کے لیے رکی نہیں۔ تیزی سے زینہ طے کرتی اپنے کمرے میں چلی آئی اور دروازہ بند کرلیا۔
٭…٭…٭
ایملی کو دیر تک نیند نہیں آئی۔ باہر طوفان کا زور گھٹ گیا تھا۔ ستارے نظر آنے لگے تھے۔ اسے ولیم کے زینہ طے کرنے کی آواز سنائی دینے لگی۔ وہ اس کے بیڈ روم کے باہر چند لمحے رکا۔ ایملی کے دل کی دھڑکنیں بڑھنے لگیں۔ اس کا رواں رواں منتظر ہوگیا کہ دروازے پر دستک کب ہوتی ہے لیکن وہ آگے بڑھ گیا اور اس نے اپنے کمرے کا دروازہ بند کرلیا۔ ایملی نے اپنی آنکھیں سختی سے بند کرلیں اور دعا مانگنے لگی کہ یہ ہولناک خواب ختم ہوجائے۔
ایملی کے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی تھی۔ وہ مسلسل اس کے بارے میں سوچ رہی تھی۔ ایک لمحے کے لیے بھی اس سوچ کو اپنی زندگی سے الگ نہیں کرپاتی تھی کہ اگر وہ اس چھوٹے شہر سے باہر نکل جائے تو یقیناً وہ اپنی تہذیب کی طرف لوٹ جائے گی۔ اس شہر سے وہ ٹرین یا فلائٹ پکڑ کر اپنی منزل مقصود پر پہنچ سکتی تھی۔
وہ کوئی بھی کام کررہی ہوتی، اس کی سوچ اسی طرف لگی رہتی۔ وہ اس بارے میں دل ہی دل میں منصوبے بناتی رہتی۔ اسے کسی نہ کسی طرح یہاں سے نکلنا تھا، جہاں وہ ایک ملازمہ بن کر رہ گئی تھی۔ کوئی اس کی حیثیت کو تسلیم نہیں کرتا تھا، جہاں اسے انسان بھی نہیں سمجھا جاتا تھا لیکن اس تمام منصوبے کو کامیاب بنانے کے لیے رقم کی ضرورت تھی اور اس کے پاس ایک پائی بھی نہیں تھی۔
جب اس نے ولیم سے کہا کہ اسے اس کی خدمات کے عوض کچھ رقم ملنی چاہیے تو وہ بولا۔ ’’میرے بھائی نے ایجنسی کو سال بھر کی رقم ادا کردی تھی۔ اس کے علاوہ رہائش وغیرہ کے اخراجات بھی ہیں۔‘‘
’’مجھے کسی ایجنسی نے کچھ نہیں دیا، نہ میں اس کے بارے میں کچھ جانتی ہوں۔ میرے پاس ایک پیسہ بھی نہیں ہے۔ مجھے کچھ جیب خرچ ملنا چاہیے۔ یہ اچھا نہیں لگتا کہ خرچ کے لیے مجھے کسی کی طرف دیکھنا پڑے۔‘‘
’’تمہیں جو کچھ چاہیے، وہ اسٹور سے میرے نام پر لے سکتی ہو۔‘‘ وہ بولا۔
’’لیکن…‘‘ وہ ہچکچائی۔
’’ایسی کون سی چیز ہے جس کے لیے تمہیں رقم کی ضرورت ہے؟ میری سمجھ میں نہیں آتا۔‘‘
’’میں کچھ رقم اپنے پاس محفوظ رکھنا چاہتی ہوں تاکہ جب میں یہاں سے جائوں تو…‘‘ اس نے بات ادھوری چھوڑ دی اور اس کے ردعمل کا انتظار کرنے لگی۔
’’تم یہاں سے جانے کا کوئی منصوبہ بنا رہی ہو؟‘‘ وہ کڑے لہجے میں بولا۔
’’بعض اوقات میں…‘‘ ایملی نے کچھ کہنا چاہا لیکن اسے کوئی بات نہیں سوجھی۔
’’ہاں… بتائو کیا چاہتی ہو تم؟ میں اپنے بھائی کو لکھوں گا کہ وہ رقم کہاں گئی جو اس نے ایجنسی کو دی ہے۔ انہیں تمہیں معاوضہ ادا کرنا چاہیے۔ کیا خیال ہے تمہارا؟‘‘
’’ہاں۔ یہ ٹھیک ہے۔‘‘ وہ اس کے ساتھ بحث نہیں کرنا چاہتی تھی، اسی لیے خاموش ہوگئی تاکہ اسے معلوم نہ ہو کہ وہ کیا کرنا چاہتی ہے۔
لیکن وہ اس کا انتظار نہیں کرسکتی تھی کہ کب وہ اپنے بھائی کو خط لکھے اور کب اس کا جواب آئے۔ بدھ کی صبح تھی اور اپریل کا آخری ہفتہ۔ طویل سردیوں کے بعد زمین جیسے جی اٹھی تھی۔ برف کے بوجھ سے آزاد ہوکر شاداب اور ہری بھری ہوگئی تھی۔ کاشتکاری کا
آگیا تھا۔ ولیم اپنے مزارعوں کے ساتھ مصروف ہوگیا تھا۔ اس صبح بھی وہ بہت جلدی گھر سے نکل گیا تھا۔ ایملی باورچی کے ساتھ گھر میں اکیلی رہ گئی تھی۔
اچانک ایک بات اس کے ذہن میں آئی۔ اس نے جلدی جلدی سارے کام سمیٹے جو اس کا روزمرہ کا معمول تھا۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ کم ازکم آج کے دن اس کی غیر موجودگی میں کوئی مسئلہ ہو۔ پھر اس نے اپنا سفید جھالروں والا ایپرن اتار کر اس کی جگہ پر لٹکایا۔ باورچی کافی دیر ہوئی اپنے کمرے میں جا چکا تھا جو گھر کے پچھواڑے تھا۔ گھر خاموش، صاف ستھرا اور خالی تھا۔ وہ لائونج میں ولیم کی میز پر پہنچی اور اس کی ساری درازیں ایک ایک کرکے دیکھنے لگی۔ (جاری ہے)