Naya Janam | Episode 3

592
ٹین کے ایک چھوٹے سے ڈبے میں کچھ رقم رکھی ہوئی تھی۔ جس میں کچھ کرنسی نوٹ تھے اور کچھ سکے۔ ایملی نے کچھ رقم ہاتھ میں لی۔ ڈبہ اور دراز کو احتیاط سے بند کیا اور اُوپر اپنے کمرے میں آ گئی۔ اُس نے جلدی جلدی اپنے کچھ کپڑے بیگ میں رکھے۔ اس کا دل بڑی تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ اُسے یہ تسلی تھی کہ وہ کوئی چوری نہیں کر رہی تھی۔ اُس نے کچھ دن گھر کا کام کیا تھا۔ یہ اُس کا معاوضہ تھا۔ اُسے اس کا افسوس تھا کہ وہ بچوں کو الوداع نہیں کہہ پائی تھی جو اُسے پسند کرتے تھے۔ اُسے یقین تھا کہ وہ اس کی کمی محسوس کریں گے لیکن ولیم کو اس کی بالکل پروا نہیں ہوگی بلکہ اس کے اس طرح چلے جانے پر وہ اسے مزید ناپسند کرنے لگے گا لیکن اسے اس کی پروا ہرگز نہیں تھی۔ وہ اس مغرور آدمی سے کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتی تھی۔
تمام تیاری کے بعد وہ نیچے آئی اور اُس نے باورچی کے دروازے پر دستک دی۔ وہ بمشکل اپنی نیند سے بیدار ہوا تو ایملی نے کہا۔ ’’میری طبیعت کچھ خراب ہے۔ میں ڈاکٹر کو دکھانا چاہتی ہوں۔ پلیز، تم مجھے شہر تک چھوڑ دو گے؟‘‘
’’تم نے ولیم کو بتا دیا ہے؟‘‘
’’نہیں۔ جس وقت وہ گیا، اس وقت میں ٹھیک تھی۔‘‘ ایملی نے مختصر سا جواب دیا اور پورچ میں ایک طرف بیٹھ کر باورچی کو گھوڑوں کو گاڑی میں جوتتے ہوئے دیکھنے لگی۔ یوں لگتا تھا جیسے اس انتظار میں زمانے بیت گئے ہیں۔
بوڑھا باورچی اپنی سی کوشش کر رہا تھا۔ اُسے یاد آیا کہ ولیم منٹوں میں گھوڑا گاڑی تیار کرلیتا تھا۔ یہ اندیشہ بھی اُسے پریشان کر رہا تھا کہ کہیں ولیم کسی کام سے گھر نہ آ جائے اور اس کا سارا منصوبہ خاک میں مل جائے۔ اس کا دل یوں دھڑک رہا تھا جیسے دل کا دورہ پڑنے والا ہو۔
خدا خدا کر کے گاڑی تیار ہوئی اور گھوڑوں نے رفتار پکڑی۔ ایملی سوچ رہی تھی کہ وہ اپنی گاڑی میں یہ فاصلہ منٹوں میں طے کر سکتی تھی لیکن یہاں تو کار کا وجود ہی نہیں تھا۔ تمام فاصلہ گھوڑا گاڑی میں ہچکولے کھاتے ہوئے طے کرنا تھا۔
باورچی نے گھوڑوں کو ڈاکٹر کی دُکان کے باہر روکا۔ ’’مس ایملی۔ تم ٹھیک ہو جائو گی۔ اس ڈاکٹر کے ہاتھ میں بہت شفا ہے۔‘‘ وہ ہمدردی سے بولا۔ ’’باس تو مجھے قتل ہی کر دے گا۔ اگر تمہیں کچھ ہوا تو۔‘‘
’’تمہاری ہمدردی کا شکریہ۔ تم جا کر چائے وغیرہ پیو۔ جب میں فارغ ہو جائوں گی تو کسی کو تمہیں بلانے بھیج دوں گی۔ میرا بھی یہی خیال ہے کہ اب میں ڈاکٹر کے پاس آ گئی ہوں تو اس کے علاج سے بہتر ہو جائوں گی۔‘‘
جب گھوڑا گاڑی دور نکل گئی تو ایملی جلدی سے فٹ پاتھ پر آ گئی اور تیز قدموں سے دُکانوں کے پاس سے گزرنے لگی۔ ابھی ٹرین روانہ ہونے میں کچھ وقت باقی تھا۔ وہ آسانی سے ٹکٹ لے کر اس میں بیٹھ سکتی تھی جو اُسے اس پریشان کر دینے والے ماحول سے نکال سکتی تھی۔
ایملی نے ٹکٹ کی کھڑکی کے قریب جا کر شہر کا نام لے کر ٹکٹ مانگا۔
کلرک اپنی عینک کو سیدھا کرتے ہوئے اس کی طرف دیکھ کر بولا۔ ’’تم مسٹر ولیم کی ہائوس کیپر ہونا جس کی ٹرین کو حادثہ پیش آ گیا تھا۔‘‘
ایملی نے اثبات میں سر ہلایا۔ ’’ہاں۔‘‘
’’تم شہر سے باہر کیوں جا رہی ہو۔ کیا تم نے کام چھوڑ دیا ہے؟‘‘
’’نہیں، نہیں۔ میں اپنی ایک رشتے دار سے ملنے جا رہی ہوں۔‘‘ ایملی نے جلدی سے بات بنائی۔
گاڑی کے آنے میں چند منٹ باقی تھے۔ وہ وہیں ایک بینچ پر بیٹھ گئی۔ فل بوٹ، لمبا نیلا اسکرٹ اور تنگ جیکٹ… اُسے اپنا حلیہ عجیب سا لگ رہا تھا لیکن اپنی دوست کو یقین دلانے کے لیے کہ وہ ایک صدی پہلے کے زمانے میں چلی گئی تھی۔ یہ لباس ایک اچھا ثبوت تھا۔ وہ تصور کر رہی تھی کہ دونوں ان باتوں پر کتنا ہنسیں گی۔
ایملی نے اپنے چہرے کو بے تاثر بنا لیا تھا تاکہ کوئی اس پر شک نہ کرے۔ اس کے اندر اداسی، احساسِ جرم اور اُمید سبھی کچھ گڈمڈ ہو رہا تھا۔ وہ کوشش کر رہی تھی کہ بچوں کے بارے میں نہ سوچے جو اُسے یاد آ رہے تھے اور ولیم نہ جانے باورچی کا کیا حشر کرے گا، جب اُسے پتا چلے گا۔ وہ اس کو چھوڑ کر آیا ہے۔ ایملی نے اپنی آنکھوں کو بھینچ لیا جو نم ہو رہی تھیں۔
ٹرین کی اداس سیٹی دور سے سنائی دی۔ انجن کے بھاپ چھوڑنے کی پھنکار سی سنائی دے رہی تھی۔ گاڑی رکی تو وہ سوار ہوگئی۔ اس کے اردگرد وہی مناظر تھے جو اُس نے اپنے
گزشتہ سفر میں دیکھے تھے۔ جس کا مطلب تھا کہ وہ صحیح سمت میں جا رہی تھی۔
ٹرین چلتی، رُکتی، سیٹیاں بجاتی آگے بڑھتی رہی۔ ایملی نے اپنے ذہن کو ہر بات سے خالی کر لیا تھا۔ وہ چاہتی تھی کہ اس کی آنکھوں میں آنسو نہ آئیں۔ اس پر پشیمانی یا ندامت سوار نہ ہو۔ وہ خوف کا شکار نہ ہو۔
یہاں تک کہ رات ہوگئی۔ وہ ذہنی طور پر بہت تھک گئی تھی۔ اسی لیے اونگھنے لگی تھی۔ ٹوٹے اور الجھے ہوئے خواب دیکھ رہی تھی، جن میں اسے ولیم پریشان حال اس کی تلاش میں سرگرداں نظر آ رہا تھا۔
ابھی رات باقی تھی کہ ٹرین اپنی منزل پر پہنچ گئی۔ جیسے ہی ایملی نے ٹرین سے باہر قدم رکھا تو گیس لیمپ جلتے ہوئے دیکھ کر اُسے اندازہ ہوگیا کہ یہاں بھی اٹھارہویں صدی کا زمانہ تھا۔ وہ اسٹیشن سے باہر آئی تو بگھیوں، گھوڑا گاڑیوں کو دیکھ کر اس کا یقین اور پختہ ہوگیا کہ وہ ابھی ماضی سے نہیں نکل پائی تھی۔ اتنا سفر کرنے کے باوجود لوگوں کے لباس بھی اس کے جیسے تھے۔ وہ آہستہ آہستہ پریشانی اور خوف کے عالم میں گلیوں میں چلنے لگی۔ ایک اجنبی مقام پر ایک اجنبی کی طرح، جس کی منزل نامعلوم تھی۔ مسلسل سوچوں نے اسے گھیر رکھا تھا۔
صبح سے اس نے کچھ نہیں کھایا تھا۔ اسے بھوک کا احساس بھی ہو رہا تھا۔ اس نے ایک چھوٹے سے کیفے میں جا کر اپنی بھوک مٹائی، جہاں سب کے سب مرد بیٹھے تھے اور عجیب نظروں سے اس کی طرف دیکھ رہے تھے۔ اُس نے ایک ویٹر سے پوچھا کہ یہاں خواتین کے ٹھہرنے کے لیے کوئی محفوظ ہوٹل ہے۔
’’یہاں ایک خواتین کا ہوٹل ہے۔ وہ محفوظ اور صاف سُتھرا ہے، تم وہاں کوشش کرو۔‘‘ اُس نے بتایا۔
اگرچہ شہر اس کے لیے نیا تھا لیکن اتنا بڑا نہیں تھا۔ وہ تھوڑی کوشش کے بعد ہوٹل تلاش کرنے میں کامیاب ہوگئی۔ ڈیسک کلرک شاید سویا ہوا تھا۔ اس لیے ایملی کو بار بار گھنٹی بجانی پڑی۔ باہر ہلکی ہلکی بارش شروع ہو چکی تھی۔ وہ بھیگ رہی تھی۔ بہت تھکی ہوئی تھی اور نااُمید ہو چکی تھی۔
بالآخر دروازہ کھلا۔ کلرک نے شرائط بتائیں۔ اپنے کمرے میں آ کر اس نے اطمینان کا سانس لیا۔ دروازہ بند کر کے اسے تحفظ کا احساس ہوا۔ وہ سونے کے لیے لیٹی تو اس کے دماغ میں کھچڑی سی پک رہی تھی کہ اُسے آگے کیا کرنا ہوگا۔ اُسے کسی بینک میں ملازمت تلاش کرنی تھی۔ اس کے پاس جتنی رقم تھی، اس سے چند دن بھی نہیں گزارے جا سکتے تھے۔
ہ صبح اُٹھی۔ اُس نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ شہر کا وہی منظر تھا جو وہ اس سے پہلے ولیم کے شہر میں دیکھ آئی تھی۔ سو سال پہلے کی زندگی، ماضی کے لباس اور ماضی کی سواریاں۔ کوئی چیز بھی تو مانوس نہیں تھی لیکن اُس نے ہمت نہیں ہاری۔ ملازمت کی تلاش میں وہ ایک بینک میں گئی۔ منیجر مہذب اور نرم گو تھے لیکن انہیں یقین نہیں آ رہا تھا کہ وہ عورت ہو کر اتنی تعلیم یافتہ بھی ہو سکتی تھی۔ اس کے پاس تعلیم یافتہ ہونے کا کوئی ثبوت نہیں تھا، نہ اس کے پاس ڈگری تھی نہ کوئی دُوسرے کاغذات۔
ہر بینک میں اُسے معذرات خواہانہ انداز میں بتایا گیا کہ وہ خواتین کو بینک میں بڑے عہدے پر ملازم نہیں رکھتے تھے۔ اس کے پاس تو ضروری کاغذات بھی نہیں تھے۔ اسے ملازمت کی تلاش کرتے کرتے تین دن ہو چکے تھے۔ رقم کم ہوتی جا رہی تھی۔ ہفتے کو جب وہ ہوٹل سے باہر آئی تو دو لڑکے بھاگتے ہوئے اُس سے اس طرح ٹکرائے کہ وہ زمین پر گر پڑی۔
جب وہ اٹھ کر سنبھلی تو اُسے اندازہ ہوا کہ وہ لڑکے اُس کا چھوٹا سا ویلویٹ کا پرس بھی لے گئے تھے جس میں اس کی ساری رقم تھی۔ اس کا دل بیٹھنے لگا۔ اب کیا ہوگا؟ گزارہ کیسے ہوگا؟ اُس نے بینک کی ملازمت کا خیال اپنے دل سے نکال دیا۔ اب اُسے کوئی بھی ملازمت مل جائے، وہ کر لے گی۔ وہ اپنی ساری ڈگریاں اور تعلیمی پس منظر بھول گئی۔ اُس نے بہت سے اسٹور، ریسٹورنٹ، کلینک میں قسمت آزمائی کی لیکن کہیں بھی اس کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی۔ ان کے لیے یہ تعجب کی بات تھی کہ کوئی عورت ان کے یہاں ملازمت کرے۔
پریشانی کے عالم میں وہ گلیوں اور بازاروں میں ماری ماری پھرنے لگی۔ وہ اکیلی تھی۔ اس کے پاس ایک پائی بھی نہیں تھی اور ایک صدی کے زمانے میں قید ہو کر رہ گئی تھی۔ جس سے رہائی پانے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ نہ گھر تھا، نہ اپنی دُنیا، اپنے زمانے میں واپس جانے کی کوئی سبیل تھی۔
پہلی مرتبہ ایملی بے حد خوفزدہ ہوئی۔ وہ کیسے گزارہ کرے گی؟ اُسے
بھوک لگی تھی۔ وہ بہت تھک گئی تھی۔ تھکی ماندی وہ ہوٹل واپس پہنچی اور اُس نے ڈیسک کلرک سے کہا کہ وہ یہاں کوئی بھی کام کرنے کے لیے تیار ہے۔ اس کے بدلے اسے یہاں رہنے دیا جائے۔
کلرک نے ترحم آمیز نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔ ’’میں تمہیں بتائوں مس کہ ہم نے تمہارے کپڑے اور بیگ رکھ لیا تھا تا کہ ہوٹل کا کرایہ پورا کر سکیں یا جب تم کرایہ ادا کر دو گی تو تمہیں واپس کر دیں گے۔ میں زیادہ سے زیادہ یہ کر سکتا ہوں کہ تمہیں تمہارا بیگ واپس کر دوں۔‘‘
وہ بے گھر تھی۔ کھلے آسمان تلے اس کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں تھی۔ وہ اپنا بیگ گود میں رکھے ایک جگہ تھک کر بیٹھ گئی۔ اس کے پائوں درد کر رہے تھے اور اس کا خالی پیٹ بھوک سے بدحال تھا۔ وہ بہت دیر تک وہاں بیٹھی سوچتی رہی کہ اب کیا ہوگا؟
اچانک ایک عورت اس کے قریب آئی۔ ’’مس! کیا تم راستہ بھول گئی ہو؟‘‘ اُس نے پوچھا۔
ایملی نے سر اُٹھا کر اس کی طرف دیکھا۔ وہ ادھیڑ عمر کی عورت تھی جس کے بال مہندی لگانے سے سرخ ہو چکے تھے۔
’’ہاں۔ میں گم ہوگئی ہوں۔‘‘ ایملی نے بے بسی سے جواب دیا۔
’’تم نے کہاں جانا ہے۔ میں تمہیں راستہ بتا دوں گی۔‘‘
’’گھر۔‘‘ ایملی کا لہجہ گلوگیر تھا۔
’’تمہارا گھر کہاں ہے؟‘‘
’’میرا گھر بہت دُور ہے۔ بہت دُور… میں اُسے تلاش نہیں کر سکتی۔ میرے پاس کوئی رقم نہیں ہے۔ میرے پیسے گم ہو گئے ہیں۔‘‘ ایملی نے خود پر قابو پانے کی بہت کوشش کی لیکن وہ رو پڑی۔ اُس نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ گندے کپڑوں، بکھرے ہوئے میلے بالوں کے ساتھ، اپنا بیگ گود میں رکھے وہ یوں فٹ پاتھ پر بیٹھی ہوگی جیسے وہ کوئی مانگنے والی ہے۔ وہ روتی جا رہی تھی۔
’’اچھا۔ اب یہ رونا بند کرو اور بتائو۔ تمہارا کوئی رشتے دار ہے؟‘‘ اُس نے پوچھا۔
’’نہیں۔‘‘ ایملی نے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے جواب دیا۔
’’اوہ خاتون۔ تم تو بہت دُکھی ہو لیکن تم یہاں نہیں بیٹھ سکتیں۔ یہ اچھی بات نہیں ہے۔‘‘ اس نے اپنے پرس سے کچھ رقم نکالی۔ ’’میں تمہیں یہی دے سکتی ہوں۔ اس سے تمہیں ہوٹل میں کمرہ مل جائے گا۔ تم کھانا بھی کھا سکتی ہو۔ بس اب یہاں سے اُٹھ جائو۔‘‘
ایملی نے آنسو بھری آنکھوں سے اس رقم کو دیکھا۔ ’’خدا تمہارا بھلا کرے۔ میں یہ تمہیں واپس کر دوں گی۔‘‘
’’اس کی ضرورت نہیں۔ مجھے اندازہ ہے کہ تم کوئی بری عورت نہیں ہو۔ چلو اب اُٹھو اور جا کر کہیں کھانا کھائو۔ تم مجھے بھوکی لگ رہی ہو۔‘‘
ایملی نے ایک اسٹور سے کچھ کھانے کے لیے خریدا۔ انہیں اپنے بیگ میں ڈالا اور ایک ہوٹل میں چلی گئی۔ وہ کمرہ کرائے پر نہیں لینا چاہتی تھی۔ وہ ان پیسوں کو بچا کر رکھنا چاہتی تھی تاکہ اُسے بھوک کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ وہ ایک کونے میں پڑی ہوئی کرسی پر بیٹھ گئی۔ باہر کے مقابلے میں یہ جگہ گرم تھی۔ اردگرد لوگ آ جا رہے تھے۔ ان کی آوازیں اسے سنائی دے رہی تھیں لیکن اس کا ذہن کہیں اور تھا۔ اسے وہ لائونج یاد آ رہا تھا جہاں آتش دان کی گرمی میں ولیم اپنی مخصوص کرسی پر بیٹھ کر اخبار پڑھتا تھا اور وہ ایک کرسی پر بیٹھی سلائی کرتی تھی۔ وہ سوچ رہی تھی کہ اگر اچانک ولیم کہیں سے آ جائے تو وہ اس کا سامنا کیسے کرے گی۔ وہ یقیناً اس پر بہت ناراض ہوگا۔
’’میڈم۔‘‘ اُسے کسی کی آواز سنائی دی۔ وہ چونکی۔ اُس نے دیکھا کہ ایک شخص خشمگیں نظروں سے اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔ ’’آپ یہاں ایک لمحہ بھی نہیں بیٹھ سکتیں۔‘‘
ایملی نے چونک کر اس کی طرف دیکھا اور جلدی سے بات بنائی۔ ’’سر! میں انتظار کر رہی ہوں اپنے ایک مہمان کا۔‘‘
اُس نے گھڑی اپنی جیب سے نکال کر دیکھی اور اُسے متوجہ کرتے ہوئے بولا۔ ’’رات کے ایک بجے تم کس کا انتظار کر رہی ہو۔‘‘
’’میں… میں۔‘‘ ایملی سے بات نہیں بن سکی۔
’’تم فوراً یہاں سے چلی جائو یا پھرمجھے پولیس کو خبر کرنی پڑے گی تا کہ وہ تمہیں یہاں سے لے جائے۔‘‘
ایملی نے خود کو بمشکل اٹھایا اور من من بھر کے پائوں گھسیٹتی ہوئی دروازے کی طرف چل پڑی۔ وہ سینے سے اپنا بیگ لگائے، ٹھنڈی رات میں، سکڑی سمٹی ہوئی، رات بھر بھٹکتی رہی۔ یہاں تک کہ اس قدر تھک گئی کہ قدم اُٹھانا مشکل ہوگیا۔
اسے خیال آ رہا تھا کہ اسے ہوٹل والے کو پولیس کو بلوانے دینا چاہیے تھا۔ کم از کم اس طرح اسے کھانا اور سر چھپانے کے لیے کوئی جگہ تو میسر آ جاتی۔ جہاں وہ کچھ دیر آرام کر سکتی
یہاں ان سرد گلیوں میں اگر وہ کہیں سکڑ سمٹ کر لیٹ بھی جاتی تو پھر شاید اُٹھ نہ سکتی۔ وہیں مر جاتی یا سردی سے اکڑ کر رہ جاتی۔
وہ چلتے چلتے آہستہ آہستہ پیزا اور بریڈ کھا رہی تھی کہ کہیں اس کے اندر بھوک کی وجہ سے طاقت ہی ختم نہ ہو جائے لیکن اس کے ساتھ اسے یہ اندیشہ بھی تھا۔ اگر یہ چند پیسے بھی ختم ہوگئے تو وہ کس طرح گزارہ کرے گی۔ کاش اس نے بغیر کسی سے مشورہ کیے ولیم کا گھر نہ چھوڑا ہوتا جو ان گلیوں میں بھٹکنے کے بجائے ایک محفوظ پناہ گاہ تھی۔
ابھی صبح طلوع نہیں ہوئی تھی کہ وہ ایک ہوٹل کے باہر سے گزری۔ جس کے دروازے کے شیشوں میں لوگ ہلاّ گلّا کرتے ہوئے نظر آ رہے تھے۔ شاید وہاں کوئی پارٹی ہو رہی تھی۔ وہ چند لمحے رک کر ان شیشوں سے اندر دیکھنے لگی۔ وہ سردی سے ٹھٹھری جا رہی تھی اور وہ جگہ کتنی گرم تھی۔
ایک خوش لباس شخص دروازے سے باہر آیا۔ اس کے پائوں لڑکھڑا رہے تھے۔ وہ اپنا توازن برقرار نہیں رکھ سکا اور ایملی سے آ ٹکرایا۔
’’اوہ!‘‘ ایملی جلدی سے پیچھے ہٹ گئی۔ ’’سوری۔‘‘
’’نہیں۔ سوری کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ وہ لڑکھڑاتی ہوئی زبان سے بولا۔ ’’یہ تو میری خوش قسمتی ہے کہ اس وقت تم سے ملاقات ہوگئی۔ کیا تم تنہا ہو میڈم۔‘‘ اُس نے اس کے بازو پر اپنا ہاتھ رکھنا چاہا۔
’’کیا مطلب ہے تمہارا؟‘‘ ایملی نے پیچھے ہٹ کر غصے سے کہا۔
’’اوہ۔ تم اتنی بھولی ہو؟ رات کے اس پہر اکیلی کیا کر رہی ہو؟‘‘
ایملی نے اس کا ہاتھ پوری قوت سے جھٹک کر کہا۔ ’’تم جو کوئی بھی ہو، دُور ہو جائو یہاں سے۔ میں جو کچھ بھی کروں، تم سے مطلب؟‘‘ وہ اُسے پرے دھکیل کر آگے بڑھ آئی جہاں سرد گلیاں، تیل کے لیمپ کی زرد روشنی میں ویران اور سنسان نظر آ رہی تھیں۔ اس کا لباس سلوٹ زدہ اور میلا ہو چکا تھا۔ اس کے بال بکھر کر ہیٹ سے باہر نکل رہے تھے۔ اُس نے اپنا بیگ سختی کے ساتھ اپنے سینے سے لگا رکھا تھا۔
اس تنہائی میں اسے ولیم کا گھر یاد آ رہا تھا۔ محفوظ،گرم اور آسودہ۔ آتش دان میں چٹختی ہوئی لکڑیاں، کچن میں پکتے ہوئے کھانے کی خوشبو اور باورچی کے وقفے وقفے سے گنگنانے، بچوں کے آپس میں لڑنے اور سب سے بڑھ کر ولیم اخبار سے نگاہ اُٹھا کر اسے دیکھتا ہوا۔
لیکن وہ کتنا کٹھور تھا۔ اس نے اسے تلاش کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ اسے گھر سے نکلے تین دن ہو چکے تھے۔ اگر ولیم اس کی کھوج میں آ گیا ہوتا تو ضرور کہیں نہ کہیں اسے نظر آ جاتا۔ وہ تین دن سے شہر کی سڑکیں اور گلیاں ہی تو ناپ رہی تھی۔
لیکن اب اس کی ہمت جواب دے چکی تھی۔ وہ یہاں اور کتنے دن بھٹک سکتی تھی۔ اُسے کہیں نہ کہیں تو پناہ لینی تھی۔ صبح ہو چکی تھی۔ اردگرد صاف نظر آنے لگا تھا تو گزرتے ہوئے لوگ بھی اس کی طرف متوجہ ہونے لگے تھے۔ اچانک اُسے غریب لوگوں کا ایک دارالامان نظر آیا۔ وہ کچھ دیر کھڑی اس کا بورڈ پڑھتی رہی۔ جس پر لکھا تھا کہ یہاں ہر غریب اور بے گھر کو پناہ ملے گی اور دو وقت کا کھانا بھی دیا جائے گا۔
ایملی کے لیے یہ غنیمت تھا۔ وہ اندر داخل ہوگئی۔ اس کا دل متلانے لگا۔ گندے میلے جسموں کی بو اور ابلتی ہوئی سبزیوں کی مہک فضا میں پھیلی ہوئی تھی۔ میزوں اور بینچوں پر غریب لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ لنگڑے، اندھے، معذور اور ایسے ہی پریشان حال لوگ یہاں بھرے پڑے تھے۔ بھوک سے بے حال لوگوں کی طرح اُبلے ہوئے کھانے سے اپنا پیٹ بھر رہے تھے۔ ایملی بھی ایک جانب بیٹھ گئی۔ ایک کارکن نے اُس سے کھانے کے لیے پوچھا۔ لیکن ایملی نے انکار کر دیا۔
وہ پریشان حال وہاں بیٹھی یہ سوچ رہی تھی کہ کیا وہ اس جگہ رہ سکے گی؟ جہاں لوگ اُس سے بھی زیادہ بدتر حالت میں تھے۔ لیکن پھر بھی کھلے آسمان تلے سے زیادہ وہ یہاں محفوظ تھی۔ وہ ایک کونے میں بینچ پر بیٹھی سوچے جارہی تھی کہ یہاں اس ’غریب خانے‘ میں ایک صدی پہلے کے دور میں اس کا مستقبل کیا ہو سکتا تھا۔ کچھ سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ ہر طرف تاریکی ہی تاریکی نظر آتی تھی۔
اچانک گہری سوچ سے چونکی اور یونہی غیرارادی طور پر اس کی نگاہ سامنے پڑی تو وہ ساکت رہ گئی۔ اسے اپنی آنکھوں پر اعتبار نہیں آیا۔ اس نے یہی خیال کیا کہ یہ اس کا وہم بھی ہو سکتا ہے یا جاگتی آنکھوں کا کوئی خواب۔ دروازے میں ولیم کھڑا گہری نظروں سے سارے ہال پر نظریں دوڑا رہا تھا جیسے کسی کو تلاش کر رہا ہو۔
ایملی کو خود پر قابو نہیں


وہ اُٹھ کر اس کی طرف دوڑی۔ اس کے لبوں سے خودبخود اس کا نام پھسلا۔ ’’ولیم… ولیم۔‘‘
وہ ابھی آواز کی سمت کا تعین ہی کر رہا تھا کہ وہ اس کے قریب پہنچ گئی۔ اُس نے ترسے ہوئے لہجے میں پکارا۔ ’’ولیم۔‘‘
وہ ٹھٹھکا۔ وہ اس کے ابتر حلیے کی وجہ سے اسے پہچان نہیں پایا۔ ایملی خود کو روک نہیں سکی۔ وہ اس کا نجات دہندہ، اس کا محافظ۔ وہ اس وقت اس کا سب کچھ، ساری دنیا اور کل جہاں تھا۔
وہ اس کے قریب آئی اور پھر اُسے ہوش نہیں رہا۔ وہ وہیں زمین پر ڈھے گئی۔
ولیم نے اُسے سنبھالا۔ ’’مس ایملی۔ ہوش میں آئو، خود کو سنبھالو۔‘‘ اُسے ولیم کی آواز سُنائی دی۔
ولیم کو قریب پا کر وہ ضبط نہیں کر سکی۔ ’’اوہ ولیم۔ میری ساری رقم چوری ہوگئی۔ مجھے کوئی ملازمت ملی نہ جائے پناہ۔ میں اس شہر میں بھٹک بھٹک کر تھک گئی ہوں۔ میں… میں۔‘‘ وہ اپنے دل کی بھڑاس نکالنے لگی۔
’’خاموش! اب گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ تم محفوظ ہو۔‘‘ ولیم نے تسلی دی۔
’’اوہ خدایا۔ میں بہت خوفزدہ تھی، بہت پریشان۔ کچھ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ کیا کروں؟‘‘
ولیم نے ایک لمبا سانس لیا اور کھنکھار کر بولا۔ ’’بس۔ بس اب سب ٹھیک ہے۔‘‘ وہ کچھ عجیب سا محسوس کر رہاتھا کیونکہ اردگرد موجود لوگ اسے تنقیدی نگاہوں سے دیکھ رہے تھے۔ وہ زیادہ دیر ان کی نگاہوں کا مرکز نہیں بننا چاہتا تھا۔
’’ولیم… میں۔‘‘ ایملی ہانپتے ہوئے کچھ کہنے کی کوشش کر رہی تھی، وہ جوکچھ اس کے دل میں تھا، وہ سب کچھ بیان کر دینا چاہتی تھی۔
’’ہاں۔ ہاں۔ میں سب جانتا ہوں۔ میں اسی لیے تمہاری تلاش میں آیا ہوں کہ میں جانتا تھا کہ تم پریشان ہوگی۔ میں تمھیں گھر لے جانے کے لیے آیا ہوں۔‘‘
وہ چور سی بنی اس کے ساتھ چل پڑی۔ ولیم کے انداز میں ہمدردی تھی۔ وہ اس کے ساتھ نرمی سے بات کر رہا تھا۔ اُس نے ایک اچھے ہوٹل میں اسے کھانا کھلایا۔ اسے دو لباس لے کر دیئے اور ایک گاڑی کرائے پر لے کر وہ ایک اچھے ہوٹل میں آئے۔ جہاں ایک کمرہ لے کر ایملی نے نہا دھو کر اپنا حلیہ درست کیا۔ نیا لباس پہنا اور دونوں نے ہوٹل میں بہت عمدہ کھانا کھایا۔ وہ نئے لباس میں خود کو بہت آسودہ محسوس کر رہی تھی۔ وہ کچھ دیر پہلے کا حلیہ اُسے کبھی ہنسنے اور کبھی رونے پر مجبور کر رہا تھا۔ ولیم اس کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتے ہوئے کچھ فخر سا محسوس کر رہا تھا۔ وہ نئے لباس اور ہیٹ میں بہت خوبصورت لگ رہی تھی، جو شخص ہال میں داخل ہوتا تھا، اس کی توصیفی نگاہ ان دونوں پر پڑتی تھی۔ ایملی نے اس سے پوچھا۔ ’’تمہیں برا تو نہیں لگ رہا۔ لوگ بہت غور سے دیکھ رہے ہیں۔‘‘
ولیم نے نفی میں سر کو جنبش دی۔ ’’نہیں کیونکہ ایک خوبصورت ساتھی کے ساتھ یہاں کھانا کھانا فخر کی بات ہے۔‘‘
ولیم کی بات نے ایملی کو ایک خوشگوار حیرت میں مبتلا کر دیا۔ اس کے زرد رخساروں میں گلابی رنگ جھلکا اور اس کی دراز پلکیں اس کے رُخساروں سے چھونے لگیں۔
ولیم کے فارم ہائوس میں زندگی کو ایملی کے لیے قبول کرنے کے سوا کوئی چارئہ کار نہیں تھا۔ اس نے باہر کی دنیا دیکھ لی تھی۔ وہ تین روز تک وہاں بھٹکتی رہی تھی لیکن وہاں اس کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی۔ اس کی حالت ویسی ہی تھی جیسے رسّے پر چلنے والے کسی شخص کی ہوتی ہے۔ جسے ہر لحظہ توازن بگڑنے کا خوف ہوتا ہے۔ کسی وقت وہ اپنی قسمت پر مطمئن ہو جاتی اور کبھی اس کے ذہن میں یہ سوالات اٹھ کر اسے پریشان کرنے لگتے کہ آخر اس کا مستقبل کیا ہوگا؟
کیا وہ اسی طرح ایک ملازمہ کی حیثیت سے یہاں کام کرتی رہے گی اور زندگی یوں ہی آگے بڑھتی رہے گی اپنے اختتام کی طرف…!
٭…٭…٭
بچے اس کے آ جانے سے بہت خوش تھے۔ تینوں نے اس کا پُرجوش استقبال کیا تھا۔ چھوٹا ہر وقت اس کے پیچھے لگا رہتا تھا۔ جیسے اُسے اندیشہ ہو کہ وہ پھر اس کو چھوڑ کر نہ چلی جائے۔ جب وہ رات کو اسے سلانے کے لیے کوئی گانا گاتی تو وہ چمکتی ہوئی آنکھوں سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہتا۔ ’’مس ایملی! میں بہت خوش ہوں کہ آپ ہمارے پاس ہیں۔‘‘
ایملی کا حوصلہ بڑھ گیا۔ اگر یہ بچے یہاں نہ ہوتے اور ان کے ننھے معصوم دلوں میں اس کے لیے یہ محبت نہ ہوتی تو شاید اس کے لیے ان کے بددماغ مغرور انکل کے ساتھ یہاں رہنا مشکل ہو جاتا۔ بچے ہی اس گھر کی رونق تھے۔ ان کے ہونے سے گھر میں خوشی بھری آوازیں گونجتی رہتی تھیں لیکن جیسے ہی ولیم گھر میں داخل
; ہوتا، گھر آہستہ آہستہ خاموش ہوتا جاتا تھا۔ بچے اس کے ساتھ مانوس تھے۔ وہ اپنے مشاغل میں لگے رہتے تھے لیکن قدرے محتاط ہو جاتے تھے۔
اور ایملی کے لیے اس کی موجودگی ایسی تھی جس سے وہ خود کو بے خبر نہیں رکھ سکتی تھی، نہ اسے نظرانداز کر سکتی تھی۔ اِدھر اُدھر چلتے ہوئے اس کا سراپا بار بار اس کی توجہ کھینچ لیتا تھا۔ اس کا دراز قد، کشادہ شانے اور شاہانہ چال۔ کبھی کبھی اس کی جانب اُچٹتی ہوئی نگاہ ڈالنے کا بے نیاز سا انداز۔ سبھی کچھ بار بار ذہن کو اس کی جانب متوجہ کر دیتا تھا۔ بعض اوقات وہ اتنا سنجیدہ اور الگ تھلگ نظر آتا کہ ایملی کی سمجھ میں نہ آتا کہ اسے کیسے مخاطب کرے۔
مئی کا مہینہ گزرتا جا رہا تھا۔ ایملی شام کو جب لائونج میں بیٹھتی تو کبھی سلائی، کبھی کپڑوں پر استری کرتے یا گھرداری کا کوئی اور کام کرتے ہوئے، وہ خود کو سمجھاتی رہتی کہ وہ ماضی کے جن لمحوں میں قید ہوگئی ہے، وہ ان سے باہر نہیں نکل سکتی۔
بعض اوقات اس کا دل چاہتا کہ ولیم کو ساری حقیقت بتائے اور معلوم کرے کہ کیا اس کے لیے واپسی کا کوئی راستہ ہے لیکن پھر یہ سوچ کر رہ جاتی کہ وہ اس کی بات پر یقین نہیں کرے گا۔ اسے بتانے کا فائدہ؟ وہ اسے ایک گھریلوملازمہ سمجھتا تھا اور بس۔
مگر ایک ہفتے بعد اچانک کیا ہوا؟ رات ہو رہی تھی۔ ولیم لیمپ بجھا رہا تھا اور آہستہ آہستہ گھر تاریکی میں ڈوبتا جا رہا تھا۔ اس نے کچن کا دروازہ کھول کر کتے کو رکھوالی کرنے کے لیے باہر نکال دیا تھا۔ ایملی اپنے کمرے میں جانے کے لیے زینہ طے کرنے لگی۔ اس نے بچوں کے کپڑے اٹھا رکھے تھے جنہیں اس نے کچھ دیر پہلے استری کیے تھے۔ ولیم بھی لیمپ ہاتھ میں اُٹھائے آخری سیڑھیوں تک آ گیا تھا جیسا وہ ہر رات کیا کرتا تھا۔
لیمپ کی زرد کپکپاتی روشنی نے زینے کو روشن کر دیا تھا مگر ولیم کی موجودگی نے جیسے ایملی کو کچھ عجیب سی گھبراہٹ میں مبتلا کر دیا تھا۔ وہ جلد سیڑھیاں طے کرلینا چاہتی تھی تاکہ جلد از جلد اس کی حدِ نگاہ سے باہر نکل جائے کہ اچانک اس کا پائوں مڑا اور ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے کپڑے نیچے بکھر گئے۔
’’اوہ! کیا مصیبت ہے؟‘‘ ایملی کے منہ سے بے اختیار نکلا۔
’’تم ٹھیک تو ہو؟‘‘ وہ درمیان میں حائل دو تین سیڑھیاں چڑھ کر اوپر آ گیا اور اس نے ایک سیڑھی پر لیمپ رکھ دیا اور بکھرے ہوئے کپڑوں کو اٹھانے لگا۔
ایملی نے جلدی سے اپنا پائوں سیدھا کیا اور ولیم کے چہرے کی طرف دیکھا۔ وہ لیمپ کی زرد روشنی میں سنہری سنہری نظر آ رہا تھا۔ اس کے شانوں پر لٹکتے ہوئے گھنگھریالے بال کہیں کہیں سے چمک رہے تھے۔ وہ کپڑے اٹھا کر اسے دینے لگا۔ اس نے کچھ کہنا چاہا لیکن پھر خاموش ہوگیا۔
ایملی کی نگاہیں اس سے ملیں۔ وہ سمٹ کر دیوار کے ساتھ ٹک گئی۔ وہ قریب بہت قریب تھا۔ لیمپ کی زرد روشنی میں اس کی گہری نیلی آنکھیں بہت صاف نظر آ رہی تھیں۔ ایملی کو ان نیلی سمندر جیسی آنکھوں میں اپنا عکس تیرتا ہوا نظر آ رہا تھا۔ وہ چونکی۔ اس لمحے میں اسے اندازہ ہوگیا کہ ولیم کی بے نیازی، اس کا اغماض اور الگ تھلگ رہنا، محض دکھاوا تھا۔ یہ لمحہ طویل اور طویل ہوا۔ ولیم اپنی جگہ کھڑا رہا اور اس کی نیلی مسحور کر دینے والی آنکھیں ایملی کی آنکھوں میں جھانکتی رہیں۔
ایملی پر جیسے اس کی آنکھوں نے جادو کر دیا تھا۔ وہ بازوئوں میں کپڑے تھامے دیوار کا سہارا لیے اسی طرح کھڑی رہی۔ اس کا دل اتنی تیزی سے دھڑک رہا تھا کہ اسے لگتا تھا کہ دل کے دھڑکنے کی آواز ولیم کو بھی سنائی دے رہی ہے۔ اُسے اندیشہ تھا کہ کپڑے پھر اس کے بازوئوں سے پھسل جائیں گے۔ اس نے ایک جھرجھری سی لے کر ولیم کی نگاہوں سے اُلجھی اپنی نگاہوں کو علیحدہ کیا اور ہونٹوں ہی ہونٹوں میں بُدبُدائی۔ ’’میں چلتی ہوں۔ ان چیزوں کو رکھوں جا کر۔‘‘
اچانک ولیم اس کے راستے میں آ گیا، یوں جیسے اُسے روکنا چاہتا ہو۔ ایملی ٹھٹھک گئی۔ وہیں ساکت سی ہوگئی۔ اس کی نگاہیں جو کچھ کہہ رہی تھیں، وہ اس کو سمجھنا نہیں چاہتی تھی۔ اس نے قدم آگے بڑھایا تو وہ پیچھے ہٹا اور کہا۔ ’’ہاں۔ تم جائو۔‘‘
ایملی لڑکھڑاتے قدموں کو سنبھالتی دو تین سیڑھیاں طے کر کے اپنے کمرے کے دروازے تک آئی، کانپتے ہاتھوں سے اُسے دھکیلا اور اندر داخل ہوگئی۔ دروازہ بند کر کے وہ اپنے بستر پر گر سی پڑی۔ نیم
ماحول میں نہ جانے کیا ہوگیا تھا۔ کوئی ایسی بات جس نے دونوں کو پگھلا دیا تھا۔ وہ لیمپ کی تھرتھراتی لَو میں سوچ رہی تھی کہ آئندہ اس طرح اُسے کسی کمزور لمحے کو خود پر حاوی نہیں ہونے دینا چاہیے۔
اس واقعے کے بعد ایملی نے اپنا رویہ کچھ اور سرد کر لیا۔ ولیم بھی لاتعلق سا رہنے لگا۔ دونوں اجتناب کے اس طرح اسیر ہو گئے تھے کہ ایملی کو لگتا تھا کہ وہ کسی بھی لمحے کانچ کی طرح ٹوٹ کر بکھر جائیں گے۔ ولیم کی موجودگی اب بھی اس کے دل کو دھڑکا دیتی تھی۔ وہ نظر نہ آئے تو اس کی آنکھیں اس کو ڈھونڈتی رہتی تھیں۔ وہ اس کو مخاطب کرتا تو اس کا رُواں رُواں اس سے بات کرنے کو بے تاب ہو جاتا۔
ایملی نے خود کو بہت زیادہ مصروف کر لیا تھا تاکہ اپنے ذہن کو بھٹکنے سے بچا سکے۔ اُس نے گھوڑا گاڑی چلانا بھی سیکھ لی تھی۔ وہ مارکیٹ بھی چلی جاتی تھی۔ جب ولیم مصروف ہوتا تو بچوں کو اسکول سے بھی لے آتی تھی۔ اس فارم ہائوس کی چار دیواری سے باہر نکل کر اسے آزادی کا احساس ہوتا تھا۔ وہ کھلی ہوا میں سانس لے سکتی تھی۔
ایک روز چھوٹا بچہ گھر آیا تو اس کا ہونٹ پھٹا ہوا تھا اور بال بکھرے ہوئے تھے۔ اُس نے اس کی وجہ کسی کو بھی نہیں بتائی اور منہ بسورے رہا۔ اُس نے کھانا کھانے سے بھی انکار کر دیا۔ بہت پوچھنے پر اُس نے بتایا کہ اس کی کسی لڑکے سے لڑائی ہوگئی تھی۔
ولیم نے قدرے حیرت سے کہا۔ ’’تم تو کبھی کسی سے نہیں لڑے؟‘‘
’’بس… مجھے لڑنا پڑا۔‘‘ وہ بولا۔
’’تو پھر تمہارے لیے یہ بہتر ہے کہ تم اس پر سوچو کہ یہ لڑائی کیوں ہوئی؟‘‘
اس کی یہ پریشانی دیکھ کر ایملی نے سوچا کہ جب وہ بچوں کو اسکول لینے جائے گی تو اس کی ٹیچر سے بات کرے گی تاکہ معلوم ہو سکے کہ جھگڑے کی وجہ کیا تھی۔ دوپہر کے کھانے پر جب ولیم گھر آیا تو اس نے ولیم کو بتایا کہ وہ بچوں کی ٹیچر سے ملے گی۔
’’تم بچوں کو خواہ مخواہ بگاڑ رہی ہو۔‘‘ وہ بے نیازی سے بولا۔ ’’لڑکے تو لڑتے رہتے ہیں۔‘‘
’’لیکن یہ چھوٹا تو کبھی نہیں لڑا۔ یہ تو بہت امن پسند بچہ ہے۔‘‘ ایملی نے جواب دیا۔
’’تم اسکول جانا چاہتی ہو تو تمہاری مرضی۔‘‘ وہ اتنا کہہ کر باہر نکل گیا۔
لیکن ایملی نے طے کر لیا تھا کہ اس کے اسکول سے رابطہ رکھے گی۔ دوپہر کو وہ جب بچوں کو لینے گئی تو اُس نے احتیاط سے گھوڑا گاڑی کو روکا۔ لگامیں ہینڈل کے گرد لپیٹیں اور نیچے اتری۔ تب تک بچے بھی اسکول سے باہر نکل آئے تھے۔
’’میں تمہاری ٹیچر سے مل کر ابھی آتی ہوں۔ تب تک تم لوگ آرام سے گاڑی میں بیٹھو۔ گھوڑوں کو تنگ نہ کرنا۔‘‘
وہ اسکول کے اندر گئی۔ اس نے مسز لنڈا کا کمرہ تلاش کر لیا۔ وہ ایک دلکش بیوہ تھی۔ جس کی عمر تیس سال کے لگ بھگ تھی۔ اس کے نقوش خوبصورت تھے اور گھنگھریالے بالوں سے اُس نے ایک اونچی پونی ٹیل بنا رکھی تھی۔
’’مسز لنڈا۔ میں ایملی ہوں۔ مسٹر ولیم کی ہائوس کیپر۔ میں نے سوچا۔ آپ سے ملنا چاہیے۔‘‘
مسز لنڈا نے غور سے اس کی طرف دیکھا۔ ’’شکریہ۔ بیٹھئے۔‘‘
’’آپ کے اسکول کی پڑھائی بہت اچھی ہے۔ میریان بہت لائق ہے اور کتابیں بڑی روانی سے پڑھتی ہے۔‘‘
مسز لنڈا دونوں ہاتھ میز پر رکھتے ہوئے بولی۔ ’’تو کیا تمہارا خیال تھا کہ یہاں ہم لوگ اپنا کام صحیح نہیں کر رہے۔‘‘
’’نہیں۔ میں نے ایسا تو نہیں کہا۔ میں تو آپ کی تعریف کر رہی ہوں۔‘‘ ایملی نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔
’’اچھا۔ شکریہ۔‘‘ اُس نے سرد لہجے میں جواب دیا۔
’’میں جس لیے یہاں آئی ہوں۔ وہ یہ ہے کہ بُروک کی کل کسی بچے سے ہاتھا پائی ہوئی ہے۔ کیا آپ کو اس بارے میں کچھ علم ہے؟‘‘
’’میں بچوں کے درمیان ہونے والی باتوں کا خیال نہیں رکھ سکتی۔‘‘ اس کا انداز تیکھا تھا۔
اس کے رویئے نے ایملی کو خجل سا کر دیا۔ وہ پچھتا رہی تھی کہ وہ یہاں کیوں آئی۔ شاید اٹھارہویں صدی میں کسی خاتون کا یوں اسکول میں آنا اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا۔ اس نے بات سنبھالنے کو کہا۔ ’’اگر آپ کو اس بارے میں کچھ علم ہو تو مجھے ضرور بتائیں۔ مجھے ان بچوں کی بہت فکر رہتی ہے۔‘‘
’’اور ان کے انکل کی؟‘‘ لہجہ طنزیہ تھا۔
’’میں ہائوس کیپر ہوں۔ مجھے سب کا خیال رکھنا ہوتا ہے۔‘‘ ایملی نے بھی ذرا تیز لہجے میں کہا اور اس کا شکریہ ادا کر کے باہر نکل آئی۔
وہ پریشان ہو گئی تھی کہ اس عورت کے لہجے میں اتنی حقارت کیوں تھی؟ وہ اس سے یوں بات کر رہی تھی


وہ اس کی دشمن ہو۔ وہ گھوڑا گاڑی پر بیٹھی تو جسیکا نے لگامیں سنبھال لیں۔ میریان نے اُس سے پوچھا۔ ’’مسز لنڈا نے کیا کہا؟‘‘
’’انہوں نے کہا کہ تم بہت اچھی بچی ہو۔‘‘
’’اور میرے بارے میں۔‘‘ جسیکا نے پوچھا۔
’’اور تمہارے بارے میں بھی یہی کہا۔‘‘ ایملی نے بتایا۔ انہوں نے گھوڑا گاڑی دریا کے کنارے روکی اور جب دونوں بچے کھانے میں مگن ہوگئے تو ایملی نے آہستگی کے ساتھ میریان سے پوچھا۔ ’’مجھے لگتا ہے کہ تم جانتی ہو کہ چھوٹے کی لڑائی کیوں ہوئی تھی۔‘‘
’’میں۔ ہاں!‘‘ میریان اُلجھی۔
’’نہیں۔ میں کسی سے کچھ نہیں کہوں گی۔ تم اطمینان سے بات کرو۔‘‘
وہ کچھ ہچکچا کر بولی۔ ’’وہ لڑائی آپ کی وجہ سے ہوئی تھی مس ایملی ۔‘‘
’’میری وجہ سے؟‘‘
’’اس لڑکے نے کہا تھا کہ آپ اچھی خاتون نہیں ہیں۔‘‘
’’اچھا۔‘‘ ایملی نے گہرا سانس لیا۔ ’’لیکن اُسے یہ کیسے پتا چلا؟‘‘
’’اس کی ماما نے اسے بتایا۔ وہ۔ وہ شاید آپ سے جلتی ہے۔‘‘
’’جلتی ہے… مگر۔ کیوں؟‘‘
’’کیونکہ آپ بہت خوبصورت ہیں۔‘‘
ایملی مسکرا کر سوچنے لگی کہ اس چھوٹے سے قصبے میں خواتین کبھی اس سے سیدھے منہ بات نہیں کرتی تھیں۔ وہ کسی کو مخاطب بھی کرتی تو بھی اس کا رویہ بہت سرد اور غیردوستانہ ہوتا تھا۔ شاید وہ اس کو بُرا سمجھتی تھیں کہ وہ ایک کنوارے خوبصورت آدمی کے گھر میں رہ رہی تھی۔ یہ احساس اس کے دل میں بہت قوی تھا کہ وہ اس جگہ، اس زمانے سے تعلق نہیں رکھتی۔
بچے دریا میں ہاتھ دھو کر آ گئے تھے اور گھوڑا گاڑی اپنی منزل کی طرف چل پڑی تھی۔ وہ دریا کے ساتھ بنی ہوئی سڑک پر چل رہے تھے۔ اردگرد کے مناظر بہت دل موہ لینے والے تھے لیکن ایملی اپنی سوچوں میں گم تھی۔ اُس نے اس ماحول میں ڈھلنے کی پوری کوشش کی تھی مگر پھر بھی اُسے اجنبی سمجھا جاتا تھا۔
’’مس ایملی۔ میں گاڑی ٹھیک چلا رہا ہوں نا؟‘‘
جسیکا کی آواز پر وہ چونکی۔ ’’ہاں۔ ہاں بالکل ٹھیک۔‘‘
’’آپ انکل ولیم کو بتائیں گی؟‘‘
’’ہاں۔ ضرور بتائوں گی کہ تم گاڑی چلانا بہت اچھی طرح سیکھ گئے ہو۔‘‘ ایملی بولی۔
جسیکا دوسرے راستے سے گھر کی طرف جا رہا تھا۔ یہ منظر اُس نے پہلے نہیں دیکھا تھا۔ اُس نے جلدی سے جسیکا کو گاڑی روکنے کے لیے کہا اور باہر غور سے دیکھنے لگی۔
ٹوٹی ہوئی پٹری، پچکے ہوئے ڈبے، سب کچھ اس طرح ٹوٹا پھوٹا ہوا تھا کہ اُس سے حادثے کی سنگینی کا اندازہ ہوتا تھا۔ سب کچھ ابھی تک اسی طرح پڑا ہوا تھا۔ شاید ان کے پاس وسائل نہیں تھے کہ جائے حادثہ کو صاف کرتے۔
’’اوہ خدایا۔ کیا یہ وہی جگہ ہے جہاں وہ حادثے کا شکار ہوئی تھی۔‘‘ اُس نے جیسے اپنے آپ سے کہا اور غیرارادی طور پر گاڑی سے اُتر کر اس جانب چل پڑی۔ جیسے وہ مقام اُسے اپنی طرف کھینچ رہا ہو۔ اُسے اپنے عقب میں بچوں کی آواز سنائی دی جو اُسے اس طرف جانے سے روک رہے تھے لیکن وہ ان سے بے نیاز ہو چکی تھی۔
وہ حادثے کا شکار ٹرین کے پاس کھڑی اُس دن کو یاد کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ برف باری، سردی، پہاڑی سلسلے اور دریا کا شور… وہ سب ختم ہو چکا تھا اور وہ ایک روشن اور چمکدار دن میں کھڑی تھی۔ وہ بیسویں صدی تھی اور آج وہ اٹھارہویں صدی کے اختتام پر تھی۔ یہ سب کس طرح ہوگیا تھا۔ کیا یہاں کوئی ایسا بلیک ہول تھا جو صدیوں کو کھا گیا تھا اور وقت کہیں بہت دور چلا گیا تھا۔
وہ بہت دیر تک جائے حادثہ کو تکتی رہی۔ اُسے یہ خیال بار بار آ رہا تھا کہ یہی وہ جگہ تھی۔ جہاں سے وہ اپنے وقت اور اپنے زمانے میں واپس جا سکتی تھی۔ ایسا ممکن ہو سکتا تھا جس طرح پہلے ناممکن، ممکن ہو گیا تھا۔ اس کے ذہن میں چیزوں کے ٹکرانے اور مسلسل دھماکوں کی آوازیں گڈمڈ ہونے لگی تھیں۔ اُسے ڈیزل کی تیز بُو چاروں طرف پھیلتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔ یقیناً وہ واپس جا سکتی تھی۔ اس قصبے، اس ماحول، تینوں معصوم بچوں اور مغرور ولیم کو چھوڑ کر اپنے دیس میں واپس۔
’’مس ایملی!‘‘ کسی کے پکارنے پر وہ چونکی۔ اس کا سر بُری طرح چکرا رہا تھا۔
میریان اس کے لانگ اسکرٹ کو تھامے ہوئے کہہ رہی تھی۔ ’’مس ایملی! آپ ٹھیک تو ہیں۔ کیا یہاں کوئی خاص بات ہے؟‘‘
اس کے ذہن میں جو ایک نقشہ سا بن رہا تھا، یکدم غائب ہوگیا۔ اس کا دل بڑی تیزی کے ساتھ دھڑک رہا تھا۔ اُس نے بچی کے متفکر چہرے کی طرف دیکھا اور نرمی سے بولی۔ ’’ہاں میریان! میں ٹھیک ہوں۔‘‘ اُس
میریان کا ہاتھ تھامتے ہوئے سوچا کہ وہ اسی لمحے واپس اپنے زمانے میں چلی جاتی۔ اگر میریان اُسے پکار نہ لیتی۔
وہ کہہ رہی تھی۔ ’’مس ایملی! آپ یہاں بہت دیر سے کھڑی تھیں۔ میں پریشان ہوگئی تھی۔‘‘
ایملی نے اس کا ہاتھ پکڑا اور تسلی کے لہجے میں بولی۔ ’’نہیں۔ نہیں۔ پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ چلو آئو۔ واپس ویگن میں چلتے ہیں۔‘‘ وہ اس کے ساتھ ساتھ چلنے لگی۔ اس کے ذہن میں یہ بات گردش کر رہی تھی کہ اُسے کب واپس اپنے زمانے میں جانا ہوگا۔
٭…٭…٭
کیٹل ایسوسی ایشن کی میٹنگ تھی۔ ولیم نے اُسے بھی شریک ہونے کے لیے کہا تھا۔ یہ ایک بڑی تقریب سمجھی جاتی تھی جس میں سارا قصبہ شریک ہوتا تھا۔ سب اپنے گھروں سے کچھ نہ کچھ پکا کر لاتے تھے۔ تمام لوگ کھانے میں شریک ہوتے۔ ڈانس اور گانا ہوتا۔ بچے علیحدہ اپنے کھیلوں میں مگن رہتے اور سب خوب لطف اندوز ہوتے۔ ایملی بھی بہت سی چیزیں بنا کر لے گئی تھی۔ رول، پائی، فروٹ کیک وغیرہ۔ بچے خوشی خوشی اس کے ساتھ چلے جاتے تھے۔
باہر احاطے میں خواتین کوئلوں پر گوشت کے بڑے بڑے ٹکڑے بھون رہی تھیں۔ ہر طرف خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔ ایملی نے بچوں کے ساتھ مل کر ساری چیزیں میز پر سجا دیں۔
میریان نے جوش سے کہا۔ ’’ہم انکل ولیم کو تلاش کرتے ہیں۔‘‘
ایملی نے ہجوم پر ایک نگاہ ڈالی اور اسے ولیم دور سے ہی نظر آ گیا۔ وہ اپنے دراز قد کی وجہ سے سب میں نمایاں تھا۔ وہ بچوں کی ٹیچر مسز لنڈا سے کچھ بات کر رہا تھا۔ وہ آج خصوصی طور پر تیار ہوئی تھی۔ اس کے سنہری بال ویلوٹ کے پھولوں سے سجے ہوئے تھے اور اہتمام سے کیے گئے میک اَپ کی وجہ سے وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔
’’انکل مصروف ہیں ابھی۔‘‘ ایملی نے انہیں تنبیہ کی۔
تھوڑی دیر بعد جسیکا، ولیم کا ہاتھ پکڑے اُسے کھینچتا ہوا لایا اور بولا۔ ’’انکل ولیم۔ انکل ولیم۔ دیکھیں مس ایملی کتنی چیزیں بنا کر لائی ہیں۔‘‘
ولیم نے ایملی کی طرف دیکھ کر اثبات میں سر ہلایا۔ ’’ہیلو۔ مس ایملی۔‘‘
قریب سے گزرتے ہوئے لوگ ولیم سے ہیلو ہائے کے لیے رک جاتے تھے۔ وہ میریان کی ٹھوڑی چھو کر اسے پیار کرتے، دونوں لڑکوں کو دیکھ کر کہتے کہ وہ کتنے بڑے ہوگئے ہیں اور اپنے پاپا کی طرح لگتے ہیں۔ ایملی کو دیکھ کر وہ اپنا ہیٹ چھو کر احترام کا اظہار کرتے مگر خواتین لیے دیئے رہتے ہوئے، اپنے غرور میں ڈوبی ہوئی اس کی طرف دیکھ بھی نہیں رہی تھیں۔
ایملی بھی کسی سے مرعوب نہیں تھی۔ وہ سر اُٹھائے سب سے مسکرا کر مل رہی تھی۔ بینڈ شوخ دُھنیں بجا رہا تھا۔ لوگ ایک دُوسرے کے ساتھ مل کر ناچ گا رہے تھے مگر ولیم ان میں شامل نہیں تھا۔ وہ پتا نہیں ہجوم میں کہاں کھوگیا تھا۔ ایملی خود کو الگ تھلگ اور اجنبی سا محسوس کر رہی تھی لیکن بچے اس کے آس پاس ہی تھے۔ اس لیے اُسے حوصلہ تھا۔ کھانا کھا لیا گیا تھا اور اب لوگ رخصت ہونے لگے تھے۔ ولیم نہ جانے کہاں سے اچانک نمودارہوا اور اس سے مخاطب ہو کر بولا۔ ’’چلو۔ چلتے ہیں۔‘‘
’’میں بچوں کو بلاتی ہوں۔‘‘ ایملی نے اطمینان کا سانس لیا۔ وہ اس اجنبی ماحول سے جلد نکل جانا چاہتی تھی، جہاں کوئی اُسے خوش آمدید کہنے پر تیار نہیں تھا۔ (جاری ہے)