Neki Ko Hosla Chahye | Teen Auratien Teen Kahaniyan

2198
بچپن یاد ہے ۔کبھی کھاتے پیتے خوشحال تھے۔ پھر ابتر حالات کی وجہ سے روز بہ روز غربت بڑھتی گئی۔ مالی پریشانیوں کے بوجھ کو بیچارے ابا نہ سہار سکے۔ ان کا اس دنیا سے منہ موڑنا تھا کہ ہمارا گھرانہ تنگ دستی اور افلاس کے گڑھے میں ایسا گرا کہ ہم خو ش حالی کے دن نہ دیکھ سکے۔ اماں بچے سنبھالتیں اور نانی بچاری سارا دن ٹوکریاں بناتیں ۔ ان دنوں میں گیارہ سال کی تھی اور چھٹی میں پڑھ رہی تھی۔ اسکول سے آکر نانی کے ساتھ ٹوکریاں بناتی تاکہ زیادہ ٹوکریاں بنیں اور ان کی فروخت سے کچھ زائد رقم مل جائے۔
ہم گھر کے کل چھ افراد تھے۔ نانی کی کمائی پر کیسے گزر بسر ہوسکتی تھی۔ مجھے اسکول سے وظیفہ ملتا تھا کیونکہ لائق طالبہ تھی لیکن پڑھائی کے علاوہ پیٹ بھی تو بھرنا تھا۔ نانی کو انوکھی سوجھی۔ مجھے لے کر ہماری ہیڈمسٹریس کے گھر گئیں اور کہا۔ میڈم یہ بچی اب تعلیم جاری نہیں رکھ سکتی ۔آپ کی بڑی عنایت ہوگی اگر اسے اپنے پاس ملازمہ رکھ لیں ۔یہ صبح سات بجے آپ کے پاس آجایا کرے گی اور چھٹی جب آپ کا جی چاہے دے دینا۔
دراصل میڈم منیرہ نے ایک بار نانی سے تذکرہ کیا تھا کہ گھریلو کام کاج کے لئے ایک لڑکی کی ضرورت ہے۔ وہ اسے اچھی تنخواہ اور کھانا بھی دیں گی۔ میں نے جھجھکتے ہوئے اس دہلیز کو پار کیا تھا اور ان کےسامنے جانے سے ٹھٹھک رہی تھی کہ اپنی میڈم سے ہر سال اول پوزیشن لینے پر انعامات لیا کرتی تھی۔
مجھے دیکھ کر وہ حیران رہ گئیں۔ نانی سے پوچھا۔ بوا کیا تم اپنی بچی کو میرے پاس کام کے لئے لائی ہو؟
ہاں میڈم… اور کسے لاتی۔ ہمیں بھی تو گزارے کے لئے محنت مزدوری کی ضرورت ہے۔ اس کی ماں بچے سنبھالتی ہے اور میں دن رات ٹوکریاں بناتی ہوں مگر ان کی فروخت سے بہت کم پیسے ملتے ہیں گزارہ نہیںہوتا۔ میری یہ نواسی یتیم ہے۔ گھر میں سب بہن بھائیوں میں بڑی ہے ۔ کوئی محنت مزدوری کرنے کے لائق نہیں ہے۔
اماں، یہ لڑکی پڑھائی میں بہت ہوشیار ہے۔ تم کیوں اس کا مستقبل خراب کرنے پر تلی ہوئی ہو۔ یہ سارا دن گھر کا کام کرے گی تو اسکول کب جائے گی اور پڑھے گی کب؟
بی بی، بس اب یہ اسکول نہیں جائے گی ۔ نانی نے ٹھنڈی آہ بھر کر جواب دیا۔ اسکول جاکر کرے گی بھی کیا ۔ جب پیٹ میں روٹی نہ ہوگی تو پڑھے ہوئے لفظ بھی مٹ جائیں گے۔
نانی کی باتوں کا ہیڈمسٹریس کو بہت افسوس ہوا۔ انہوں نے تسلی دی کہ تم گزارے کی فکر نہ کرو۔ ابھی صحت مند ہو، میں تمہیں اپنے اسکول میں آیا لگوادیتی ہوں۔ نادار طالبات کے فنڈ سے سنجیدہ کی مدد کردیا کروں گی۔ تم اسے ملازمہ مت رکھوائو۔ اسکول بھیجو جو مجھ سے مدد ہوسکی، کروں گی۔ تم اس لائق بچی پر تعلیم کے دروازے بند مت کرو۔ نانی نے ان کی بات مان لی۔ وہ ہمارے اسکول میں ’’مائی جی‘‘ لگ گئیں اور میڈم نے نادار طالبات کے فنڈز سے میری مالی مدد شروع کردی۔ اس فرشتہ صفت عورت کی مہربانی اور توجہ سے ماں کو کچھ سکون نصیب ہوا۔ وہ دن میری زندگی کے بہت پرعزم دن تھے۔ دل لگا کر پڑھ رہی تھی۔ صرف اپنی شفیق میڈم کو خوش کرنے کے لئے ،جو مجھ پر کسی نیک فرشتےکی مانند مہربان ہوگئی تھیں۔
میں نے نویں کا امتحان نمایاں پوزیشن سے پاس کرلیا اور میٹرک میں آگئی۔ اسکول کے بعد شام کو میڈم کے گھر پہنچ جاتی، تھوڑا سا ان کا کام کرتی اور پھر وہ مجھے پڑھاتیں تاکہ میٹرک میں پوزیشن لے سکوں۔ ان کا ارادہ تھا کہ وہ اپنے خرچ پر مجھے شہر کے کسی بہت اچھے کالج میں داخلہ دلوائیں گی ۔ چاہتی تھیں کہ میں ایف ایس سی میں میرٹ لے آئوں تومیڈیکل کالج میں داخلہ کرادیں گی۔ مجھے لیڈی ڈاکٹر کے روپ میں دیکھنے کی آروزمند تھیں۔ بغیر کسی طمع اور لالچ کے۔ اور یہ بہت بڑی بات تھی۔ جس طرح میڈم مجھےلگن سے پڑھا رہی تھیں میں بھی اپنی منزل تک پہنچنے کے لئے بے قرار تھی۔ رات دن بس ایک ہی خیال رہتا تھا کہ کب وقت کا پہیہ ماہ وسال کی سڑک پر اپنے چکر ختم کرے گا۔ اور وہ دن آجائے گا جب میں اپنے گائوں کے چھوٹے سے اسپتال میں ڈاکٹر لگوں گی ۔ اپنے گائوں کی غریب عورتوں کا علاج کروں گی جو سسک سسک کر مر جاتی ہیں مگر حالات سے مجبور شہر کے بڑے اسپتال نہیں جاسکتیں۔
ہمارے گائوں میں بجلی تھی مگر گھر میں نہیں تھی۔ میڈم نے نانی سے کہا کہ اس کے سالانہ امتحان قریب ہیں جب تک پرچے نہیں ہو جاتے یہ میرے پاس رہے گی۔میں اسے امتحان کی تیاری کرادوں گی۔ اور رات کو بجلی کی روشنی میں پڑھ بھی سکے گی۔ تمہارے گھر میں تو شام سے اندھیرا ہوتا ہے یہ کیسے پرچوں کی تیاری کرسکے گی۔ ماں اور نانی کو بھلا کیا اعتراض ہو سکتا تھا۔ میڈم خود بیوہ اور بے اولاد تھیں۔ انہوں نے اجازت دے دی اور میں دو جوڑے کپڑے اور کتابیں بیگ میں رکھ کر ان کے گھر آگئی۔
میڈم نے مجھے علیحدہ کمرہ رہنے کو دے دیا۔ دو وقت کا پکا پکایا کھانا بھی ان کی ملازمہ میرے سامنے لاکر رکھ دیتی تھی تاکہ میں یکسوئی سے پڑھ سکوں۔
میٹرک کے امتحان میں دو ہفتے باقی تھے۔ میڈم کا جی چاہتا تھا کہ میں ضلع بھر میں اول پوزیشن لوں۔ انہوں نے بڑی محنت سے پرچوں کی تیاری میں مدد کی تھی ۔یقیناً ان کی کوششوں کا یہی بدلہ تھا کہ میں پوزیشن لوں اور ان کے خواب کو تعبیر دوں۔ امتحان سے پہلے پندرہ دن کی چھٹیاں ہوگئیں۔ میڈم صبح اسکول چلی جاتیں۔ میں اور ملازمہ گھر میں ہوتے۔ وہ کچن میں کام کرتی رہتی اور میں کمرے میں پڑھتی رہتی۔ اس روز بھی میں پڑھنے میں مشغول تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ ملازمہ نے آکر بتایا کہ میڈم کا بھانجا لاہور سے آیا ہے۔
آیا ہے تو بٹھادو میڈم کے کمرے میں، میں کیا کروں۔ میں نے ملازمہ کو جواب دیا۔ مجھے ڈسڑب نہ کرو۔
میڈم کے رشتہ دار سبھی لاہور میں رہتے تھے اور اکثر ان سے ملنے یہاں آیا کرتے تھے۔ میڈم بھی لاہور سے آئی تھیں اور ملازمت کی وجہ سے یہاں رہتی تھیں۔
میں نے نیاز کو پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ کافی شوخ قسم کا اور باتونی لڑکا تھا۔ پہلےوہ ملازمہ سے باتیں کرتا رہا پھر میرے کمرے کا رخ کرلیا۔ مجھے اس کی بے مقصدباتیں بری لگیں۔ ناک بھوں چڑھائی مگر اس پر کوئی اثر نہ ہوا۔ میری بے رخی کے باوجود وہ بار بار آکر بے سروپا باتیں کرنے لگتا۔ اس کی یہ بے تکلفی بالآخر میرے لئے عذاب بن گئی۔میڈم سے شکایت کرنے کی ہمت نہ ہوئی کیونکہ کہیں برا نہ مان جائیں۔ گھر ان کا تھا اور مہمان بھی ان کا تھا۔ مجھے انہوں نے ترس کھا کر یہاں رکھا تھا کہ پرسکون ماحول میں پڑھ سکوں، ان کے اتنے احسانات تھے کہ کبھی بھول نہ سکتی تھی۔
میڈم روز صبح اسکول چلی جاتیں اور وہ میرے کمرے میں آ دھمکتا۔ میری بے رخی کے باوجود اس نے ہمت نہ ہاری۔ میں زچ آگئی۔ جب اس سے کوئی واسطہ نہ رکھنا چاہتی تھی تو بھلا کیونکر اس کی تنہائی کی ساتھی بن جاتی۔ بار بار میری بے رخی کا زخم کھا کر نیاز دلبرداشتہ ہوگیا مگر انتقاماً مجھے ستانے کا بیڑا اٹھالیا۔
اس روز حسبِ معمول پڑھ رہی تھی کہ کمرے میں آکر اس نے عقب سے میری آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیئے۔ اس کی اس حرکت سے میرے تن بدن میں آگ بھڑک اٹھی اور میں نے پوری قوت سے اسے نہ صرف دھکا دے دیا بلکہ ا س کے منہ پر تھپڑ بھی رسید کردیا۔ مجھے میڈم پر یقین تھا کہ اگر ا س لڑکے نے ان سے میری شکایت کی تو وہ اسے ڈانٹ دیں گی ۔ ویسے بھی وہ اب واپس لاہور جانے والا تھا۔سو میں نے میڈم کو کچھ نہ بتایا سوچا اسے بتانے دوں پھر جواب میں اپنی محسنہ کو احوال سے آگاہ کردوں گی۔
پتا نہ تھا کہ جس ہستی کی محبت پر اتنا مان ہے وہ اپنوں کے پیارمیں کھوکر مجھ سے نگاہیں پھیر
سکتی ہے۔ اس واقعے کے بعد نیاز نے بالکل چپ سادھ لی ۔وہ بے حد سنجیدہ ہوگیا۔ میں سمجھی کہ حضرت تھپڑ کھا کر سدھر گئے ہیں، اسے اپنی عزت عزیز ہے۔ تبھی میڈم سے کچھ نہیں کہا ہے اور چپ سادھ لی ہے۔
اگلے روز شام کو میڈم نے کہا کہ انہیں شادی میں جانا ہے لہٰذا میں ان کا جوڑا استری کردوں۔ یہ کہہ کہ وہ واش روم میں نہانے چلی گئیں۔ جب نہا کر نکلیں میں نے کہا۔ مجھے آج اپنے گھر جانا ہے کل آجائوں گی ۔بولیں ۔ٹھیک ہے تمہاری مرضی تیاری کرلو۔ میں جاتے ہوئے تمہیں تمہارے گھر چھوڑتی جائوں گی۔ رات کو شاید دیر سے میری واپسی ہو۔ یہ بات نیاز نے سن لی ۔
میں اس وجہ سے رات کو نہیں رہنا چاہتی تھی کہ ڈر تھا کہ نیاز میڈم کو شادی والے گھر میں چھوڑ کر یہاں ضرور واپس آئے گا۔ کہیں یہ مجھ سے بدلہ نہ لے کہ اس کی سنجیدگی بے معنی نہ تھی۔ پس میں نے جلدی سے اپنے بیگ میں ایک جوڑا اور انگلش گرامر کی کتاب رکھی اور ان کے ساتھ گھر سے نکلنے کو تیار ہوگئی۔ اس دوران میں نے ان کے دوچار کام جو انہوں نے بتائے جلدی جلدی سرانجام دے دیئے۔
وہ مجھے میرے گھر کے پاس اپنی کار سے اتار کر چلی گئیں۔ ابھی انہیں گئے بمشکل آدھ گھنٹہ ہوا تھا کہ ہانپتی کانپتی دوبارہ آئیں اور آتے ہی بولیں۔ تم نے میرے بیگ سے زیورات کاسیٹ نکالا ہے۔ لڑکی لائو ، کدھر ہیں وہ زیورات… ان کے منہ سے یہ بات سن کر ہکا بکا رہ گئی۔ سمجھ میں نہ آیا وہ کیا کہہ رہی ہیں۔
میر ا بیگ سامنے چارپائی پر ویسے ہی پڑا ہوا تھا۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتی انہوں نے میرا بیگ کھولا اور اسے کھنگال ڈالا۔ میں یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ بیگ میں میرے جوڑے اور کتاب نکالنے کے بعد انہوں نے بیگ کی تہہ سے اپنے زیورات کا ڈبہ بھی نکال لیا۔ وہ ڈبہ اپنے بیگ سے نکالتے دیکھ کر میرا خون خشک ہوگیا۔ آنکھوں تلے اندھیرا چھا گیا اور میں لڑکھڑا کر فرش پر بیٹھ گئی۔
انہوں نے آئو دیکھا نہ تائو مجھ پر تھپڑوں کی بارش کردی۔ اماں اور نانی بھی حیرت سے یہ منظر دیکھ رہی تھیں مگر کسی کی جرأت نہ ہوئی کہ ان کا ہاتھ روکتیں۔ ان کی زبانیں گنگ تھیں اور میڈم مجھے چور احسان فراموش نجانے کیا کیا کہتی جارہی تھیں۔
اماں اور نانی کہتیں بھی کیا۔ ان کی کچھ سمجھ میں آتا ، تب نا۔ لیکن میری سمجھ میں سب کچھ آگیا تھا۔ یہ سارا کیا دھرانیاز کا تھا یہ اسی تھپڑ کا بدلہ تھا جو میں نے اس کے منہ پر مارا تھا۔ میرا دل خون ہوگیا اور آنسو آنکھوں میں کنکر بن گئے۔
میڈم کے اعتبار کو جو دھچکا لگا تھا ، مجھے اس سے بھی شدید دکھ ہوا۔ غم اس بات کا بھی تھا کہ میں ان پر اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لئے ایک لفظ بھی نہ بول سکی تھی۔ نانی کو انہوں نے نوکری سے نکال دیا اور ہماری مالی امداد بھی بند کردی اور مجھے میٹرک کا امتحان بھی نہ دینے دیا۔ شاید ایک غریب لڑکی کا مستقبل تاریک کرکے ان کا غصہ ٹھنڈا ہوگیا ہو مگر میری زندگی اور میری بہن بھائیوں کی دنیا ہمیشہ کے لئے تاریک ہوگئی۔
ہمارے گائوں میں صرف ایک ہی اسکول تھا جس کی ہیڈمسٹریس میڈم تھیں اور وہاں اب میں ہرگز قدم نہ رکھ سکتی تھی۔ صد شکر انہوں نے پولیس تک بات نہ پہنچائی ورنہ جانے ہم غریبوں کا کیا ہوتا۔ یوں مستقبل کی ڈاکٹر میٹر ک بھی پاس نہ کرسکی اور ہمیشہ ٹاپ کرنے والی لڑکی تاریکیوںمیں ڈوب گئی۔ وہ دن ہم لوگوں نے بہت مایوسی اور کسمپرسی میں گزارے ۔ خاص طور پر جو قیامت مجھ پر بیتی بتا نہیں سکتی۔ بہرحال وقت دبے قدموں چلتا جاتا ہےاور ماضی کی تکلیف دہ یادیں بالکل دور ہوتی جاتی ہیں۔
ہمارے گائوں کے ہیڈ ماسٹر صاحب کو بھی میڈم کے اس سلوک کا علم ہوگیا۔ یہ بھی کہ انہوں نے اس قدر سنگدلی سے کام لیا کہ میٹرک کا پرچہ دینے کے لئے مجھے امتحان ہال میں بھی نہ گھسنے دیا تھا۔ انہیں بہت افسوس ہوا۔ وہ والد صاحب کے کلاس فیلو رہے تھے۔ ایک ہی محکمے میں ہونے کی وجہ سے میڈم سے ’’پنگا‘‘ تو نہ لے سکے کہ وہ لاہور سے تعینات ہو کر یہاں گائوں والوں کی خدمت کو آئی تھیں اور سات سال یہاں رہیں۔ ہمارے ہیڈ ماسٹر صاحب جو کہ ایک کسان کے بیٹے تھے اپنی محنت کے بل بوتے پر پہلے ٹیچر پھر ہیڈ ماسٹرہوئے تھے۔ بھلا ان مشکلات میں پڑنے کے متحمل کیونکر ہوسکتے تھے۔ میری حمایت کرنے کی پاداش میں نوکری جاسکتی تھی یا اور کسی دور دراز مقام پر تبادلہ کردیا جاتا۔ ڈیوٹی بھگتانے کے لئے صبح شام کے سفر میں ہی رل جاتے۔
ماسٹر صاحب نے ہیڈ مسٹریس کے خلاف کوئی ایکشن لیا اور نہ کوئی گستاخی کی البتہ ہمارے کنبے کے ساتھ ان کی دلی ہمدردی بڑھ گئی۔ انہوں نے میرے بھائی کا وظیفہ لگوادیا اور اس کی تعلیم کا خرچہ بھی اٹھالیا۔ میرے لئے ایک خوشحال گھرانے کا رشتہ ڈھونڈ نکالا۔ یوں میں نوکری کی خاطر در در کی ٹھوکریں کھانے سے بچ گئی اور شادی حسیب سے ہوگئی جو خوشحال تھے۔ انجینئر تھے اور ان کے پاس اللہ کا دیا سب کچھ تھا۔
جب میں سسرال پہنچی توان لوگوں کے ٹھاٹ باٹ دیکھ کرحیران رہ گئی۔ بہت بڑا گھر تھا ، نوکر چاکر آگے پیچھے پھرتے تھے۔ مجھے اپنی تقدیر کی خوبی پر حیرت تھی کہ میں ایک غریب گھر کی لڑکی تھی یہ اچانک کیسے ہوگیا۔ خیرجی تقدیر کا کھیل تھا یہ بھی۔ میرے جیون ساتھی عادت اور صورت کے بہت اچھے تھے۔ مجھ سے ان کا سلوک محبت بھرا تھا تاہم ایک بات کا انہیں افسوس تھا کہ میں پڑھی لکھی نہ تھی، میٹرک پاس بھی نہ تھی۔ یہ بات مجھے بھی کھٹکتی تھی۔
حسیب اکثر دوروں پر رہتے اور میں گھر میں بور ہوتی۔ کبھی نوکروں سے بات کرلیتی تو ساس کو ناگوار گزرتا۔ کہتیں، نوکروں سے بلاوجہ بات نہیں کیا کرتے۔ انہیں تم صرف کام بتایا کرو۔ ایک بار نوکر نے مجھ سے وقت پوچھا تو میں نے ایسے ہی کہہ دیا۔ بھیابس خدا برے وقت سے بچائے۔ یہ جملہ ہماری ساس نے سن لیا۔ انہیں بہت برا لگا۔ بولیں۔ بے وقوف بھلا نوکروں سے کوئی ایسی باتیں کرتا ہے۔ انہوں نے میرے شوہر کو بتادیا۔ وہ بولے۔ یہ سارا قصور تمہاری جہالت کا ہے اگر تم پڑھی لکھی ہوتیں تو کبھی ایسی بات نہ کرتیں۔ شادی کو سال بیت گیا تھا ۔ میں میکے نہ گئی تھی میرا میکہ دوسرے شہر میں تھا۔ شوہر سے کہا کہ امی ابو کے لئے اداس ہوں میکے جانا چاہتی ہوں ۔ انہوں نے اس شرط پر اجازت دے دی کہ امی کو ساتھ لے جائو اور جلد واپس آجانا۔
ہماری ساس کو کم نظر آتا تھا۔ میرے میکے آئیں تو والدہ نے ہمارے لئے اوپر کی منزل پر کمرہ سیٹ کردیا کیونکہ نچلی منزل میں فرش بن رہا تھا اور مزدور لگے ہوئے تھے۔ یوں اوپر والا پورشن بھی پوری طرح مکمل نہ ہوا تھا۔ کھڑکیوں میں گرل لگنا باقی تھیں۔ چونکہ پیسہ نہ ہونے کی وجہ سے ابو آہستہ آہستہ مکان کی تکمیل کرارہے تھے۔ تبھی لوہے کی گرل اور کچھ کھڑکیوں میں شیشے لگنے باقی تھے۔
امی نے کمرے کےدرمیان میں میری ساس کا بستر لگا دیا اور میں نے کھڑکی کی جانب چارپائی بچھائی تاکہ تازہ ہوا لے سکوں البتہ کھڑکی بند رکھی کیونکہ شیشے نہیں لگے تھے تو ہوا آرہی تھی۔ آدھی رات کو ٹوائلٹ جانے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ اسی وقت ہماری ساس کی بھی آنکھ کھل گئی ۔شاید انہیں گرمی لگ رہی تھی۔ وہ میری چارپائی کی طرف آئیں اور کھڑکیاں کھول دیں۔ بینائی کم ہونے کی وجہ سے صحیح سمت قدم رکھنے کی بجائے کھلی ہوئی کھڑکی میں قدم رکھ دیا اور یوں حادثاتی طور پر باہر نکل گئیں۔ دوسری منزل سے نیچے صحن کےفرش پر جاپڑیں۔چیخ کی آواز پر تمام گھر والوں کی آنکھ کھل گئی۔ سب صحن میں چارپائیاں ڈالے سو رہے تھے وہ دوڑ کر گئے دیکھا تو ہماری ساس فرش پر پڑی تھیں اور دم توڑ چکی تھیں۔
یہ ایک ایسا بھیانک حادثہ آدھی رات کو رونما ہوا کہ جس
میرے سارے گھر انے کو دہلا کر رکھ دیا۔ صبح میں چند گھنٹے باقی تھے۔ امی نے میرےخاوند کو اطلاع دی اور وہ اسی وقت روانہ ہوگئے۔ آتے ہی مجھ سے بہت لڑے کہ تم نے میری ماں کا خیال نہیں رکھا۔ بلکہ تم نے دانستہ انہیں مارا ہے۔ ان کو نچلی منزل پر کیوں نہیں سلایا۔ میں نے کہا کہ کمروں میں فرش کی رگڑائی کے باعث ماربل کی باریک دھول ہر سو پھیلی تھی اور آپ کی امی جان دمہ کی مریضہ تھیں اسی وجہ سے ان کو اوپر ٹھہرایا تھا۔ ان کا بستر محفوظ جگہ لگادیا تھا لیکن وہ خود اٹھ کر کھڑکی کے پاس پہنچیں اور کمرے کی بتی جلائے بغیر ہی کھڑکی کھول دی۔ انہیں سمت کا صحیح ادراک نہ ہوا اور واپس مڑنے کی بجائے قدم آگے رکھ دیئے۔ جس کی وجہ سے نیچی گر گئیں۔میں اس وقت واش روم میں تھی۔ مجھے کیا پتا تھا کہ میری چند منٹ کی غیرموجودگی میں وہ ایسا کچھ کر گزریں گی۔ معلوم ہوتا توکبھی اپنے بستر سے اٹھ کر نہ جاتی۔
میرے شوہر کو میری بات کا یقین نہ آیا۔ وہ مجھے مورد الزام ٹھہراتے تھے۔ برا بھلا کہتے نہ تھکتے تھے۔ انہوں نے ایمبولینس منگوالی اور ہم میں سے کسی کو بھی ساتھ لے جانا گوارا نہ کیا خود اکیلے ہی اپنی والدہ کی میت لے کر چلے گئے۔ میں اور میرے میکے والے ناکردہ گناہ کی سزا میں کف افسوس ملتے رہ گئے۔ میں نے انہیں بہت فون کئے اپنے خاندان کے بزرگوں کے ذریعے بھی سندیسے بھجوائے کہ میں بے قصور ہوں لیکن انہوں نے معاف نہ کیا ۔ کہا کہ مجھے اس سے نفرت ہے جب بھی اس کی شکل دیکھوں گا زخم ہرا ہو جائے گا کہ یہ میری ماں کی قاتلہ ہے۔
انہوں نے معاف کرنا تھا نہ کیا اور مجھ بے قصور کو طلاق دے دی۔ وہ سہانی زندگی کے چند دن خواب بن گئے۔ میکے آکر کسی طرح بطور پرائیویٹ طالبہ میٹرک پاس کیا ۔شاندار نمبر آئے مگر کس کام کے۔صد شکر کہ میڈم کا تبادلہ ہوگیا تو ہیڈ ماسٹر صاحب نے بڑی تگ و دو کے بعد مجھے گرلز اسکول میں ٹیچر لگوادیا اور میں پرائمری کلاس کو پڑھانے لگی۔ سلسلہ 20برس جاری رہا یہاں تک کہ نانی فوت ہوگئیں، ماں بوڑھی ہوگئیں۔ بہنوں کی شادیاں ہوگئیں اور دونوںبھائی محنت مزدوری کرنے سعودی عربیہ چلے گئے۔
آج سب بہن بھائی اپنے گھروں میں سیٹ ہیں اور میں اپنا اور ماں کا پیٹ پالنے کے لئے پرائمری اسکول کی ٹیچر ہوں۔ یہ نصیب تھا ایک ہونہار طالبہ کا تو بس اسی پر اپنے رب کی شکرگزار ہوں کہ اس نے کسی کا محتاج نہیں کیا۔ کم تنخواہ ہے لیکن عزت کی زندگی جی رہی ہوں۔ (م ۔ قصور)