Saturday, July 13, 2024

Oulad Ya Ghulam

اس کا دل پتے کی طرح لرز رہا تھا وجہ امی کا بلند ہوتا پارہ تھا۔ ماں نوکرانی ہے ان کی کہ پکا پکا کر کھلاتی رہے ان مہارانیوں کو اور یہ کھا کر چلی جائیں۔ ارے دوسروں کی اولاد بھی تو ہے جو سارے گھر کو ناشتہ کروا کر اسکول جاتی ہے۔ تم ایسا کونسا انوکھا پڑھتی ہو وہ بھی تو ہیں ایک جنہوں نے پڑھائی کے ساتھ ساتھ گھر سنبھال رکھا ہے۔ اسے کالج سے دیر ہو رہی تھی وہ ناشتا کرنے کے لیے کچن میں آئی جیسے ہی اس نے ہاٹ پاٹ کی طرف ہاتھ بڑھایا تو فارہ بیگم نے فورا سے اس کا ہاتھ جھٹک دیا۔ اپنا ناشتہ بناؤ۔ میرے پکے ہوئے کو ہاتھ نہ لگاؤ ۔ اس کے دل پر دھکا سا پڑا۔ آنکھوں میں جمع ہوتے پانی کو پیچھے دھکیلتی وہ بھوکی ہی کالج چلی آئی۔ اور اب ہانیہ نے باتوں باتوں میں اس سے پوچھا۔ آج کیا کھایا ناشتے میں؟ پھر اس کا جواب نہ پا کر خود ہی بتانے لگی کہ آج میرا دل چاہ رہا تھا پوریاں کھانے کو تو مما جانی نے میرے کہنے پر حلوہ پوریاں منگوا ئیں پھر ہم نے گرما گرم پوریاں ناشتے میں کھائیں ۔ ہاں میں نے بھی گرما گرم صلواتیں ناشتے میں کھائیں ، وہ دل ہی دل میں کہہ کررہ گئی۔
☆☆☆

اس نے کپڑوں کی وارڈ روب پر نظر دوڑائی ۔ گلابی رنگ کا جوڑا نکالا اور باتھ لینے چلی گئی۔ وہ واپس آئی تو سامنے امی جان کھڑی اسے ہی دیکھ رہی تھیں۔ اس نے ایک نظر اپنے سراپے پر ڈالی پھر سوچا کیا ہوا ؟ پہننے اوڑھنے کا تو بڑا پتا ہے۔ نئے نویلے سوٹ دکھائی دے جاتے ہیں بس ماں ہی دکھائی نہیں دیتی۔ ہم تو گھسے پٹے کپڑوں میں ھی سال نکال دیتے ہیں۔ میری ماں ہر بار پانچ ، پانچ ہزار دیتی ہے کپڑوں کے لیے اور میں اولاد کی بھلائی کے لیے گھر کے خرچوں میں ہی لگا دیتی ہوں۔ ورنہ ہوتی جو تمہاری تائی جیسی تو خوب نئے نکور کپڑے پہنتی۔ احسان مانو اپنی ماں کا۔ مگر نہ انہیں کیا احساس اور وہ اپنی جگہ پر بددل سی کھڑی رہ گئی۔
☆☆☆

ابو فیس دے دیں۔ اس نے ہلکی آواز میں کہا۔ یہ جو رات دن کام کر کے فیس بھرتے ہیں نا انہیں احسان مانو ہمارا ۔ ورنہ دیکھا نہیں رقیہ نے کیسے دس ، دس کرا کے گھر بٹھا لیا کہ ہم سے نہیں بھری جاتی فیسیں ۔ اس مہنگائی کے دور میں تمھیں پڑھا لکھا رہے ہیں ورنہ وہ لوگ بھی ہیں جنہوں نے اڈے پہ سلائی پہ بٹھا رکھی ہیں بیٹیاں۔ ابو جیب خرچ اور خلاصے اس نے بات ادھوری چھوڑی دی۔ درختوں پر لگتے ہیں نا پیسے جہاں سے تمہارا باپ توڑ توڑ کر لاتا رہے۔ نہ جانے کیا کرے گا ان کا باپ اتنا پیسا لٹا لٹا کر۔ نہیں اگلے گھر کی فکر کرو۔ ہمیں تو انہوں نے نہ کل سکھ دیا ہے نہ آج ۔ شادی کریں فکر اتاریں۔ وہ دل میں اٹھتی ٹیسوں کو دباتی وہاں سے چلی آئی۔
☆☆☆

فاره ! ذرا اپنی بٹیا کو تو دیکھو کیسی پیلی پھٹک رنگت ہو رہی ہے؟ آنکھیں ڈوبتی جا رہی ہیں اس کی۔ کیا ہو رہا ہے؟ کچھ علاج کراؤ۔ کچھ کھلاؤ پلاؤ۔ جان بنے کچھ بے چاری پڑھائی کے زور تلے ہی دبی ہوئی ہے۔ ممانی نے اسے دیکھتے ہوئے فکرمندی سے کہا۔ ارے کیا کریں اور اب اپنی استطاعت کے مطابق تو خوب اچھا کھلاتے ہیں پلاتے ہیں۔ باپ نے تو شہزادیاں بنا کر رکھا ہوا ہے۔ اور میں تو خود سارا کام آپ ھی کرتی ہوں بیٹھ کر کھاتی ہیں پر بھی مریض ۔ ارے یہیں دیکھ لو بڈھے وارے سارا کام کرتی ہوں لوگ کہتے ہیں بیٹیوں کی مائیں تو رانی ہوتی ہیں۔ نہ جانے کون سی بیٹیاں ہوتی ہوں گی وہ جورانی بنا کر رکھتی ہوں گی ہمیں تو ہماری بیٹیوں نے نوکرانی بنا رکھا ہے۔ بیٹیاں اچھی ہوں تو دل سے دعائیں نکلتی ہیں۔ ماں کے ان الفاظ نے اس کے جسم سے رہی سھی توانائی بھی کھینچ نکالی وہ قریب پڑے صوفے پر ڈھے سی گئی۔
☆☆☆

اسے آج تک سمجھ نہ آئی کہ اس کی ماں کو ان سے پرخاش کیا ہے۔ وہ ہر وقت تلخ کلامی کیوں کرتی ہیں۔ کبھی اسے لگتا کہ ماں کو صرف کام سے غرض ہے ہر وقت گھر کے کام نہ کرنے کے طعنے۔ ایسا بھی نہیں تھا کہ وہ کام چورتھی یا بہت پوہڑ۔ وہ سارے کاموں میں امی کی مدد کرواتی تھی مگر آگے بڑھنے سے ڈرتی تھی ہر کام کے وقت یہ خوف ہمہ گیر رہتا کہ کہ اگر یہ خراب ہو گیا تو اگر یہ غلط ہو گیا تو اماں بہت ڈانٹیں گی۔ درحقیقت فاره بیگم سخت مزاج اور تنقیدی نگاه ہر کام میں نکتہ چینی، کیڑے نکالنا اور نقص بتانا ان کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔ صرف یہی نہیں تھوڑی سی بھی غلطی ہوجاتی تو وہ رائی کا پہاڑ بنا لیتیں۔ اس غلطی کو اتنا اچھالتی کہ وہ خطا وار سے سزاوار بن جاتا۔ ان کی دوسری بری عادت ان کی میں تھی۔ ہر وہ کام جو انہوں نے کیا ہوتا وہ حسن، سلیقے کی مثال ہوتا ۔ باقیوں کو تو مطعون کر کے طنز کے تیر برسا کر زخمی ہی رکھتیں۔ خصوصاً اپنی اولاد کا دوسروں سے موازنہ کرنا ۔ ہر وقت کی مقابلہ بازی سے وہ خود تو کیا جلتی کڑھتیں البتہ بیٹیوں کا جینا حرام کر رکھا تھا کہ بیٹے گھر میں کم ہی پائے جاتے یا ایسی صورت حال ہوئی وہ کھسک لیتے۔ وانیہ سب سے بڑی تھی سو وہ سب سے زیادہ ان کی اس بدسلوکی کی زد میں رہتی باقیوں کی بچت ہو جاتی دوسرا وہ عادی ہو گئے تھے انہیں کوئی فرق ہی نہ پڑتا تھا کہ جو مرضی بولتی رہیں۔ وہ حساس تھی ہر چھوٹی سے چھوٹی بات اس کے دل پر جا کے لگتی ، دل کو چھبتی محسوس ہوتی کبھی کبھی تو وہ سوچتی کہ وہ بھی دوسروں کی طرح بے حس کیوں نہیں ہو جاتی کیوں ہر بار نئے سرے سے تکلیف محسوس ہوتی ہے۔
☆☆☆

امی چاولوں میں پانی کتنا ڈالنا ہے۔ آج اس نے ڈرتے ڈرتے چولہا چوکی کا میدان سنبھال ہی لیا۔ تمہیں نہیں پتا کیا ؟ تم تو اتنے سالوں سے اس گھر میں ہی نہیں رہتی۔ اتنے سالوں سے اس گھر میں یہ کام ہو ہی نہیں رہا۔ لوگوں کی بیٹیاں تو سارے گھر کو پکا پکا کر کھلاتی ہیں۔ ایک ہماری بیٹیاں ہیں جو بیس بیس سال کی ہوگئیں اور آٹا تک صحیح سے گوندھنا نہیں آتا- اور وہی ہوا جس کا ڈر تھا اس نے جو بھی پکایا وہ خراب ہو جاتا۔ سالن میں نمک مرچ کا تناسب نہ رکھ پاتی تو روٹی گول نہ ہوتی جل جاتی۔ اور امی نے اس کو اتنی سنائی گھر بھر کو روٹیاں پکڑ پکڑ کر دکھاتیں رہیں وہ اتنی دل برداشتہ ہوئی کہ اس کا کچن کے کاموں سے ہی دل اٹھ گیا۔ اس نے کھانا پکانے کی کوشش ہی ترک کردی مگر امی کے طعنے ترک نہ ہو سکے کہ کھانا آتا ہے بس اور کوئی کام نہیں آتا ۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رودی۔ بے اختیار ہی دل سے شکوہ اٹھایا ۔ اللہ میں اولاد ہوں یا غلام اپنی مرضی سے پڑھ نہیں سکتی ۔ کھا نہیں سکتی ۔ پہن نہیں سکتی وہ عورت جس سے میرا رشتہ ماں کا ہے اسے صرف کام سے غرض ہے۔ ایسا تو پہلے زمانے کی لونڈیوں کے ساتھ ہی ہوتا تھا کہ ہر وقت ہر چیز کا احسان جتا کر دینا اور صرف اور صرف کام سے غرض – کام کیا تو روٹی مقدر ورنہ صلواتیں ۔ کاش کہ دنیا میں کوئی اور بھی ایسی ماں ہے تو وہ سدھر جائے۔ یا اللہ تو ہدایت دے یا مجھے میری ماں سے دور کر دے۔ اتنی دور جہاں ان کی پرچھائی بھی نہ پڑے ۔ ہر رات اس کا تکیہ بھیگتا اور نیند سے خالی رت جگے کی غمازی کرتی آنکھیں ہر وقت ذہن میں ابھرتی سوچیں ۔ منفی سوچیں، افسردگی مایوسی۔ رات دن کی سوچوں نے اسے بیمار کر ڈالا تھا مگر افسوس تو یہ کہ اس کی بیماری بھی ان کا دل موم نہ کر پائی الٹا اس کی ذات طعنہ بن گئی۔ مریض نہ ہو تو، اسے خواب بھی عجب پریشان کن دکھائی دیتے۔ دیکھ لوں گی تمہیں میں آگے کون بٹھا بٹھا کر کھلاتا ہے۔ دن میں تارے نہ دکھائی دیئے نہ انہوں نے تو میرا نام بھی فارہ نہیں ۔ امی کے اس قول نے اسے شادی سے خوف زدہ کر رکھا تھا ۔ امی اگر ایسی ہیں تو ساس کیسی ہوتی ہوں گی ؟ سارے لوگ ہی ساس کی تو برائیاں کرتے ہیں۔ کیا بنے گا میرا آگے؟ یہ سوچ ہی اس کا دم نکالنے کو تیار رہتی ۔ آخر میں وہ صرف رو دیتی کہ اس کا اختیار اتنا ہی تھا۔

Latest Posts

Related POSTS