Sunday, July 14, 2024

Pachtawe Ki Aag

کیا سوچ رہے ہیں میاں صاحب فرزانہ نے ٹرے میز پر رکھتے ہوئے اپنے شوہر انور میاں کو مخاطب کیا۔ ہم کچھ نہیں۔“ میاں صاحب ہڑبڑا کر سیدھے ہو بیٹھے۔ کچھ تو سوچ رہے ہیں بلکہ کسی بہت گہری سوچ میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ آپ کا پسندیدہ ٹاک شو چل رہا ہے اور آپ کا دھیان کہیں اور ہے ۔ فرزانہ کھو جتی نگاہیں ان پر مرکوز کئے ہوئے تھی۔ میاں صاحب کی پیشانی پر شکنیں نمودار ہوئیں۔ انہوں نے ، پہلو میں دھرا ریموٹ اٹھا کر ٹی وی بند کیا اور پیالی تھام لی۔ باجی کا فون آیا تھا۔ انہوں نے آہستگی سے کہہ کر پیالی لبوں سے لگالی۔ تو اس میں سوچوں میں غرق ہونے والی کون سی بات ہے .. باجی کا فون تھا، پرائم منسٹر کا تو نہیں ! وہ استہزائی ہنسی ہنتے ہوئے سامنے صوفے پر براجمان ہو گئی۔ مومی باجی ہماری منال کا ہاتھ مانگ رہی ہیں۔ اپنے ارحم کے لئے ۔ “ تفکر آمیز لہجے میں بتایا گیا۔ کیا پھر کیا جواب دیا آپ نے … فرزانہ آنکھیں پھاڑے پوچھ رہی تھی۔
جواب کیا دینا تھا، سوچنے کا وقت مانگا ہے۔“ وہ منمنائے۔ سوچنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، فور اسے بیشتر جواب دے دینا تھا۔ اللہ مغفرت فرمائے، آپ کی اماں مرحومہ اکثر کہا کرتی تھیں کہ مومی بہت ڈاڈی ساس ہو گی۔ جتنی سختیاں اور اذیتیں اپنے سسرال والوں کی جھیل رہی ہے ، نفرت کا جتناز ہر وہ اُس کی رگوں میں اتار رہے ہیں، ایک دن اپنے ساتھ ہونے والی سب زیاد تیوں کا حساب اپنی بہوؤں سے لے گی، پھر کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے کہا کرتی تھیں کہ بیٹی کو گھر بٹھانا قبول کر لینا مگر مومی کے گھر رشتہ نہ کرنا۔ میاں صاحب ! آپ بھول سکتے ہیں اماں کی وصیت مگر مجھے ان کا دیا سبق آج بھی از بر ہے۔ فرزانہ نے ہاتھ اٹھا کر دو ٹوک انکار کیا۔ دیکھ فرزانہ ! منال کی عمر نکلی جارہی ہے۔ باجی تو یہ قدم سراسر بھیجی کی محبت میں اٹھار ہی ہیں، ورنہ بھلا کون عورت چاہتی ہے کہ بہو لڑکے سے عمر میں بڑی ہو ؟“ وہ نحیف آواز میں گویا ہوئے۔
کس نے کہہ دیا کہ میری منال کی عمر نکل رہی ہے .. ! آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے اس سال وہ چھبیس سال کی ہوئی ہے چھتیں کی نہیں .. وہ بھلے پچاس برس کی ہو جائے مگر اسے کھائی میں تو نہیں دھکیلا جاسکتا ناں ! فرزانہ آنکھیں دکھاتے ہوئے گویا ہوئی۔ کیا میں باجی کو صاف انکار کر دوں ؟ سوالیہ نگاہوں میں امید کی نحیف رمق باقی تھی۔ رہنے دیجیے ! میں خود ہی بات کر لوں گی۔ فرزانہ نے آنکھیں دکھاتے ہوئے منع کر دیا اور پیشانی پر شکنیں ڈالے باہر نکل گئی۔ میاں صاحب کتنی ہی دیر خالی دروازے کو گھورتے رہے پھر سرد آہ بھرتے ہوئے ٹھنڈی چائے کا کپ میز پر رکھ کر اخبار اٹھالیا۔

السلام علیکم ! مومی باجی کیسی ہیں آپ؟ بچے کیسے ہیں، ارمان سیٹ ہے ؟ دبئی میں کام کاج ٹھیک جارہا ہے نا اس کا ؟ فرزانہ نے حتی الامکان خوش گواری سے تفصیلی حال احوال دریافت کیا۔ الحمد اللہ ! سب ٹھیک ٹھاک ہیں، آپ سب کی دعائیں ہیں۔ آپ سنائیں بھا بھی ! وہاں سب خیریت ہے نا! مومی نے پر خلوص انداز میں پوچھا۔ جی جی باجی، سب ٹھیک ہے۔ وہ باجی ! بات یہ ہے کہ “ ہاں ہاں بولو فرزانہ ! کیا بات ہے؟ جھجکنے کی قطعاً ضرورت نہیں۔ جو بات کہنی ہے، کہہ ڈالا کرو۔ “مومی نے اسے ہچکچاہٹ کا شکار پایا تو اس کی ڈھارس بندھائی۔ ”باجی ! ارحم ماشاء اللہ بہت پیارا اور نیک بچہ ہے اور بیٹی آپ کے گھر بھیجنا ہمارے لئے کسی سعادت سے کم نہیں مگر بات یہ ہے کہ منال، عمر میں ارحم سے بڑی ہے اس لئے رشتہ کرنا مناسب نہیں لگ رہا۔ فرزانہ نے سہولت سے انکار کیا۔ ”جب مجھے اور ارحم کو کوئی اعتراض نہیں تو آپ کیوں عمر کے فرق کو مسئلہ بنارہی ہیں ؟“ دیکھیں باجی ! آپ کو اعتراض نہیں مگر میری منال کو ہے۔ وہ خوش نہیں رہ پائے گی، احساس کمتری کا شکار ہو جائے گی ، اس لئے ہماری طرف سے معذرت۔ فرزانہ کو بر وقت یہی سوجھا اور اس نے سارا ملبہ منال پر لاد ڈالا۔ رابطہ منقطع ہو چکا تھا۔ مومنہ تاسف سے موبائل کی کالی ہوتی اسکرین کو دیکھتی رہی۔ ”بیٹی مومی کے گھر دینے سے بن بیاہی بھلی “ اماں کے کسی وقت کے کہے الفاظ کانوں میں گو جتے ہوئے اس کے دل کو ایک بار پھر زخم زخم کر گئے۔ انگلی کی پور سے نم آنکھ کا کونہ صاف کیا اور کوئی نمبر ملا کر فون کان سے لگالیا۔ تیسری گھنٹی پر فون اٹھالیا گیا تھا۔ السلام علیکم ! کو ثر آپا کیسی ہیں آپ؟ آج میں نے گلے شکوے کرنے کے لیے فون کیا ہے ، دنیا جہاں کے رشتے کروا ڈالے مگر اپنا ارحم نظر نہیں آیا آپ کو اس نے مصنوعی خفگی دکھائی۔ ارے ارے ناراض تو نہ ہو۔ ارحم جیسے بچے کے لئے رشتوں کی کمی ہے کیا ؟ آج تم نے کہا ہے ، سمجھو کل رشتہ تمہارے ہاتھ میں ہو گا۔ ہیرے جیسی لڑکی ڈھونڈ کر دوں گی ان شاء اللہ ۔ “ کوثر نے محبت بھرے انداز میں یقین دہانی کرائی۔ مجھے انتظار رہے گا۔ دیکھتے ہیں آپ کی باتوں میں کتنی سچائی ہے۔ مومنہ نے ازراہ تفن کہا اور ادھر ادھر کی کچھ باتیں کرنے کے بعد اجازت چاہی۔

زریں بہت چالاک نکلی، مومی باجی کے سوال کے خوف سے بیٹیوں کے فرض سے قبل از وقت فارغ ہو گئی۔ چھوٹی کی شادی تو اٹھارہ سال کی عمر میں ہی کر ڈالی، تعلیم بھی مکمل نہ ہونے دی۔ پھنس گئے ہم .. اگر معاملہ آپ کے ہاتھ میں رہتا تو بیٹی سے ہاتھ دھو بیٹھتے۔ میری ذہانت اور ہمت کی داد دیجئے ! میں نے کیسے سہولت سے منع کیا. سانپ بھی مر گیا اور لاٹھی بھی بیچی گئی۔ “ کھانے کی پلیٹ میں چیچ چلاتے ہوئے فرزانہ مسلسل بولے جارہی تھی اور میاں صاحب تاسف سے بیوی کا چہرہ تک رہے تھے۔ انہیں اتنے اچھے رشتے سے انکار پر بے حد افسوس تھا۔ وہ پندرہ دن سے اس سوچ سے آزاد نہ ہو پائے تھے کہ آیا ان کی بیوی کا فیصلہ درست تھا یا نہیں ! پہلو میں بیٹھی منال بھی تذبذب کا شکار تھی کہ ارحم جیسے شخص کارشتہ ہاتھ سے نکل جانے پر ماتم کرے یا پھپھو کے ہتھے چڑھنے سے بچ جانے کا جشن منائے ؟ کاش ارحم پھپھو کا بیٹا نہ ہوتا… دل نے دہائی دی۔ کھانے سے فراغت کے بعد وہ کچن صاف کرنے چلی گئی اور فرزانہ موبائل کی بجتی گھنٹی کی طرف متوجہ ہو گئی۔ مومی کا فون تھا۔ السلام علیکم !بھا بھی کیسے مزاج ہیں ؟ امید ہے سب بخیریت ہوں گے۔ اچھاہیوں نے یہ بتانے کے لیے فون کیا تھا کہ کل میں آپ کی طرف چکر لگاؤں گی۔“ کیوں خیر تو ہے؟“ بے ساختہ فرزانہ کے منہ سے نکلا۔ جی بھا بھی ہر طرح سے خیر ہے۔ باقی کی باتیں آکر کروں گی، ابھی مجھے بازار جانا ہے۔ اللہ حافظ ۔ “مومی نے کال منقطع کر دی اور فرزانہ نے تپ کر موبائل بیچ دیا۔ ارے سنتے ہو میاں صاحب ! فرزانہ کمرے کی طرف بھاگی۔ کل آپ کی بہن آرہی ہے ، سوچ رہی ہو گی جا کر منت سماجت کر کے منالوں۔ آپ کان کھول کر سن لیں! بھلے مومی باجی میرے قدموں میں سر رکھ دیں، میں رشتہ نہیں دینے والی اور اگر میری مرضی کے خلاف کوئی قدم اٹھانے کی کوشش کی تو میر امر ا ہوا منہ دیکھیں گے۔ خود بھی زہر پھانک لوں گی اور منال کو بھی دے دوں گی۔ وہ تن فن کرتی کمرے سے نکل گئی اور انور میاں سر تھام کر رہ گئے-

منال ! کہاں مری پڑی ہے ؟ دروازے پر دیکھ کون آیا ہے؟” فرزانہ نے کچن سے دہائی دی۔ اطلاعی گھنٹی ایک بار پھر بج اٹھی۔ ” یہاں فون کی گھنٹی بجے یادروازے کی کسی کو سنائی نہیں دیتا۔“ فرزانہ بآواز بلند بڑبڑاتے کچن سے نکل کر مرکزی دروازے کی جانب بڑھ گئی۔ ارے ! میرا العل آگیا۔ ماں صدقے ، ماں واری۔ دروازہ کھلتے ہی بلال، فرزانہ سے آلپٹا۔ ” چل اندر چل، باہر بہت گرمی ہے۔ فرزانہ نے فرط محبت سے اپنے دوپٹے کے پلو سے بیٹے کی عرق آلود پیشانی صاف کی۔ ” منال … منال ! بھائی آیا ہے جلدی سے سکنجبین بنا کر لا۔ شانے سے بیگ اتارتے ہوئے بلال صحن میں بچھے تخت پر ہی براجمان ہو گیا۔ آنے سے پہلے بتایا کیوں نہیں ؟ میں تیری پسند کا کھانا بنا کر رکھتی۔ اب تو بینگن آلو کیسے کھائے گا؟ اس نے برابر بیٹھتے ہوئے متاسفانہ انداز میں پوچھا۔ اپنی اماں کے ہاتھ کا کھانا کھانے کو جی چاہا تو بھاگا چلا آیا، ان ہاتھوں سے بنے بینگن آلو بھی بریانی کا سا سواد دیتے ہیں۔ “بلال نے محبت سے سر شار انداز میں ماں کے ہاتھ چوم لئے۔ میں شام میں اپنے بچے کو بریانی ہی بنا کر کھلاؤں گی۔ فرزانہ اس کے انداز محبت پر کھ دودن کی چھٹی آیا ہوں، کل شام واپسی ہے۔ آپ کے ساتھ وقت بتانا چاہتاہوں۔ تکلف میں نہ پڑیں۔ “ بلال نے ماں کا ہاتھ ہولے سے دبایا۔ ” یہ منال بی بی اور میری محبین کہاں رہ گئی ؟ شرارت آمیز انداز میں کہتا ہوا وہ اندر کی طرف بڑھ گیا اور منال کے کمرے کا دروازہ اک دھاڑ سے کھولا مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوئی لیکن جب بلال پر نظر پڑی تو جھٹکے سے سیدھی ہوئی۔ ر کھلکھلا اٹھی۔ ”بھیا… ! آپ کب آئے ؟“ منال کا منہ مارے حیرت کے کھلے کا کھلا رہ گیا۔ ”جب میری بہن خود کو ناول کی ہیروئن سمجھتے ہوئے کسی شہزادے کا انتظار کر رہی تھی، کب وہ گھوڑے پر سوار آئے اور اپنی شہزادی لے جائے۔“ بلال نے اسے چھیڑا۔ تو بہ ہے بھیا!‘ مارے شرم کے اس کے رخساروں پر لالی بکھر گئی۔ ”میں آپ کے لیے پانی لاتی ہوں۔“ وہ اٹھنے لگی میں لے آئی ہوں اپنے بیٹے کے لئے پانی فرزانہ ڈرے لئے کمرے میں داخل ہوئی۔ ”ارے بلال ! میں تمہیں بتانا بھول ہی گئی کہ تمہاری پھوپھی نے ارحم کے لیے منال کارشتہ مانگا تھا۔“ “اچھا! پھر؟ بلال نے ٹرے سے گلاس اٹھاتے ہوئے پر اشتیاق لہجے میں پوچھا۔ پھر کیا۔ میں نے صاف انکار کر دیا۔ اب کل آرہی ہیں منت سماجت کرنے فرزانہ کے چہرے پر استہزائیہ مسکراہٹ در آئی۔ بلال کی نگاہ بے اختیار منال کی طرف اٹھ گئی تو وہ نگاہیں چراتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی۔ وہ لمحے کے ہزاروں حصے میں اس کی دلی کیفیت جان گیا تھا مگر اماں اس نے تاسف سے فرزانہ کی طرف دیکھا۔ وہ فطر تا بزدل واقع ہوا تھا، چاہنے کے باوجود بھی ماں سے اختلاف کی جسارت نہ کر پایا تھا۔

برخوردار ! پڑھائی کیسی جارہی ہے، کوئی پریشانی، کوئی مسئلہ تو در پیش نہیں ۔ انور میاں نے بلال کو مخاطب کیا۔ الحمد اللہ بابا ! سب ٹھیک ٹھاک چل رہا ہے۔ بلال نے بریانی سے انصاف کرتے ہوئے مسکرا کر جواب دیا۔ ”مومی پھپھو صبح کتنے بجے تک پہنچ جائیں گی ؟“ باپ کے تاثرات جاننے کے لیے اس نے گفتگو کا رخ پھپھو کی طرف موڑ دیا۔ صبح سویرے ہی نکلیں گی لاہور سے، کہہ رہی تھیں کہ شام میں واپسی ہے۔“ پلیٹ میں پیچ چلاتے ہوئے انور میاں نے بظاہر بے تاثر لہجے میں بتایا۔ اندر تو گویا اک طوفان بر پا تھا۔ وہ بہن کے ساتھ کسی قسم کا نارواسلوک برداشت کرنے کے متحمل نہ تھے مگر بیوی سے انحراف کی جرات بھی نہ رکھتے تھے۔“ ”اماں ! ویسے پھپھو کی ایک عدد بیٹی بھی ہونی چاہیے تھی۔ آپ اس کا رشتہ میرے لئے مانگ لیتیں .. بلال کی آواز انور میاں کو سوچوں کے گرداب سے باہر کھینچ لائی۔ وہ حیرت سے بلال کو گھور رہے تھے جو فرزانہ کی پر جلال نگاہوں کی زد میں تھا۔ ماں کی نگاہوں کی تپش سے وہ ہڑ بڑا گیا۔ ”اماں! میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ پھر آپ بلا خوف و خطر انہیں منال کارشتہ دے سکتی تھیں۔ جو سلوک منال کے ساتھ ہوتا، وہی آپ ان کی بیٹی کے ساتھ کرتیں… حساب برابر ۔ “ اس نے بظاہر شرارت آمیز لہجے میں کہتے ہوئے کن اکھیوں سے باپ کی طرف دیکھا۔ یہی تو سارا مسئلہ ہے۔ رب نے مومی باجی کو بیٹی دی ہوتی تو ان کے دل میں نرم گوشہ ہوتا… بیٹی کے دکھ درد کا کچھ احساس ہوتا۔ بیٹیوں والوں کے دل بہت نرم ہوتے ہیں۔ فرزانہ تاسف سے سر ہلا رہی تھی۔ تم بھی تو بیٹی والی ہو ! تمہار ادل پتھر کیوں ہے؟ نرمی تمہارے دل میں جگہ کیوں نہ بناسکی… انور میاں فرزانہ کی صورت بغور دیکھتے ہوئے دل ہی دل میں سوچ رہے تھے۔

”ولی ! یہاں رکھ دو یہ مٹھائی اور باقی سامان بھی لے آؤ۔ مومنہ نے صحن میں رکھے تخت کی طرف اشارہ کیا اور ڈرائیور نے مٹھائی کا تھال رکھ کر مومی کی ہدایت کے مطابق باہر کا رخ کیا۔ ”یہ کیا ہے مومی باجی ؟ انور میاں نے لعاب نگل کر حلق تر کرتے ہوئے پوچھا۔ اندر چلو، بتاتی ہوں۔ “مومی نے بھائی کا ہاتھ تھاما اور اندر کا رخ کیا۔ اس سے پہلے کہ یہ عورت بہلا پھسلا کر تیرے باپ سے ہاں کر والے، مجھے اندر چلنا چاہیے۔ تیرے باپ سے بات سنبھالی نہ جائے گی، میر ا موقع پر موجود ہونا بہت ضروری ہے۔ تم شربت وغیرہ بنا کر لے آؤ۔ فرزانہ عجبلت میں کہتی لمبے لمبے ڈگ بھرتی اندر بڑھی۔ میں نے آپ کی دعا سے ارحم کا رشتہ طے کر دیا ہے۔ مٹھائی اسی خوشی میں لائی ہوں۔ “مومی کے الفاظ فرزانہ کی سماعتوں سے ٹکرائے تو اس پر گھڑوں پانی پڑ گیا۔ ساری خوش فہمیاں ہوا ہو گئیں۔ وہ مریل چال چلتی کمرے میں داخل ہوئی اور ایک طرف رکھے صوفے پر براجمان ہو گئی۔ ”بھا بھی گرمی کا زور کم ہوتے ہی ارحم کی شادی کی تاریخ پکی کر دوں گی۔ یہ مٹھائی اسی خوشی میں لائی ہوں، ساتھ میں آپ سب کے لیے جوڑے بھی ہیں۔ “مومی، فرزانہ کی جانب مڑی۔

ماشاءاللہ ! بہت مبارک ہو آپ کو اللہ پاک بچے کے نصیب اچھے کرے آمین۔“ دعائیہ کلمات کی ادائیگی پر حلق کڑوا ہوا تھا اور یہ کڑواہٹ چہرے کے نقوش پر بھی نمایاں تھی، جسے مومی نے ہمیشہ کی طرح خندہ پیشانی سے نظر انداز کر دیا تھا۔ ”منال بیٹا ! تیاری کر لو۔ ارحم کی شادی پر ڈھولکی تم نے ہی بجانی ہے۔ کم از کم ایک ہفتہ پہلے چلے آناسب ، خوب ہلہ گلہ کریں گے۔ “ منال ٹرے تھامے کمرے میں داخل ہوئی تو مومی اس کی طرف متوجہ ہو گئی۔ منال نے نافہم انداز میں فرزانہ کی طرف دیکھا۔ فرزانہ ہتک کے احساس سے پہلو بدلنے پر مجبور ہو گئی۔ میں اپنی بیٹی کے لئے بھی جوڑا لائی ہوں۔ گوٹے کا بہت نفیس کام ہے، پسند آئے تو مہندی کے لیے تیار کر والینا۔“ محبت سے چور لہجے میں کہتے ہوئے ٹرے میں سے گلاس اٹھالیا۔ جی پھپھو منال بمشکل مسکرائی۔

”میرے سر میں شدید درد ہے، میرا تو جانے کا بالکل من نہیں کر رہا۔ اس موئے درد سے جان نکلی جارہی ہے اور یہاں سب کو موج مستی کی پڑی ہے۔ ڈھولکی کی آواز تو رہی سہی کسر بھی پوری کر دے گی۔ فرزانہ بستر پر لیٹی مسلسل بولے جارہی تھی۔ منال منہ لٹکائے بے دلی سے ماں کا سر د بار ہی تھی۔ اس کا دل نہ جانے کے خیال سے ہی ہول رہا تھا۔ مومی باجی کا صبح سے کئی بار فون آچکا ہے، ہمارا پرو گرام پوچھ رہی تھیں۔ میں نے کہہ دیا ہے کہ تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں، اس لئے ہم کل مہندی کے فنکشن میں شرکت کریں گے ۔ “ ”ہائے ! مجھ سے نہیں جایا جائے گا ۔ انور میاں کی بات سنتے ہی فرزانہ نے ایک بار پھر دہائی دی۔ چلو ٹھیک ہے۔ تم گھر پر رہ لینا، میں منال کو لے کر چلا جاؤں گا۔ جانا بھی ضروری ہے۔“ انور میاں کہہ کر ر کے نہیں تھے۔ منال سن کر چہک اٹھی اور فرزانہ سر اٹھائے کتنی ہی دیر بے یقینی سے خالی دروازے کو گھورتی رہی۔ ” زور لگا کر دبالر کی ! جان ہی نہیں ہے تجھ میں فرزانہ نے اس کے ہاتھ پر زور سے دھپ رسید کی ، گویا انور میاں کا غصہ اس پر اتارا۔ یہ بلال کدھر رہ گیا ؟“ پارلر گیا ہے۔ کہہ رہا تھا کہ تھوڑا تیار شیار ہو کر جاؤں گا، شاید کسی لڑکی کو پسند آ جاؤں ۔ منال نے جنسی دباتے ہوئے اس کی کہی بات کو بڑھاوا دیا۔ تو کیا کھی کھی کر رہی ہے یہاں بیٹھی ۔ ان ٹوٹے ہاتھوں سے دبانے سے بہتر ہے میرے لئے چائے بنالا۔ فرزانہ نے تپ کر اس کے ہاتھ جھٹک دیئے۔ ساتھ میں دوا بھی دے دوں ؟ اس نے پاؤں میں جو تا اڑتے ہوئے پوچھا۔ زہر دے دے ایک ہی بار ، کام ختم ہو جائے۔ فرزانہ نے جل کر کہتے کروٹ بدلی اور منال شانے اچکاتی باہر نکل گئی-

مہندی کی تقریب گھر پر رکھی گئی تھی۔ کشادہ صحن کو خوبصورت شامیانوں سے سجایا گیا تھا۔ شامیانے تلے ایک طرف دیوار کے ساتھ گیندے کے پھولوں سے سجا سٹیج لگایا گیا تھا۔ اسٹیج کے سامنے لال قالین بچھا کر لڑکیوں کے لیے ڈھولکی کا انتظام کیا گیا تھا، باقی صحن کو مہمانوں کے بیٹھنے کے لئے کرسیوں اور میزوں سے آراستہ کر دیا گیا تھا اور برقی قمقموں سے سارا گھر جگمگارہا تھا۔ منال بہت اہتمام سے تیار ہوئی تھی۔ گلابی شرارے پر نارنجی دوپٹہ اوڑھے ، جدید میک آپ نے اس کا حسن دوبالا کر دیا تھا۔ وہ شرارہ سنبھالے باہر نکلی اور آتے ہی مناڈھولکی سنبھال لی۔ ” ہے میرے یار کی شادی مگر میں خوش نہیں ہوں “ بلال لہک کر کہتا قریب چلا آیا تھا۔ کیوں بھئی ! تمہارے ساتھ کیا مسئلہ در پیش ہے ؟“ مومی نے چہرے پر آئی مسکراتے چھپاتے ہوئے بظاہر سپاٹ لہجے میں پوچھا۔ پھپھو! اس کی شادی نہیں ہو رہی۔ بس یہی غم کھائے جارہا ہے۔ “ منال نے بھائی کو چھیڑ ا۔ آئے ہائے لڑکے … شرم نہیں آتی اپنی شادی کا ذکر کرتے ہوئے ابھی تو بڑی بہن کنواری بیٹھی ہے۔ زریں نے لقمہ دیا۔ ”میری بیٹی کے لیے تو بڑے بڑے لوگ رشتہ لے کر آئے مگر میں نے نہ کر دی۔ جب تک میری بیٹی کے معیار کا رشتہ نہ ہوا، میں ہاں نہیں کرنے والی مجھے بٹی یا ہنی ہے ، کسی کھائی میں نہیں پھینکنی۔ فرزانہ نے معنی خیزی سے مومی کی طرف دیکھا۔ انہوں نے حسب عادت مسکرانے پر اکتفا کیا۔ ”بلال ! کھانے کی کیا صورت حال ہے ؟ پیٹ میں چوہے دوڑنے لگے ہیں۔ میر ابیٹا کب سے بھوک کی رٹ لگائے ہوئے ہے۔ کومل نے اپنے تین سالہ بیٹے کو گود میں لیتے ہوئے پوچھا۔ وو. آپ لوگوں کی باتوں میں بھول ہی گیا۔ میں یہی کہنے آیا تھا کہ حارث بھائی کہہ رہے ہیں کہ کھانا لگنے لگا ہے، مہندی کی رسم کھانے کے بعد ہو گی۔“ بلال واپس پلٹ گیا اور عور تیں کھانے کی غرض سے اٹھ کھڑی ہوئیں، چھوٹے بچوں والیاں اپنے بچوں کو پکڑ پکڑ کر اپنے قریب بٹھانے لگیں۔

واہ! مومی باجی نے تو بڑی سخاوت دکھائی دل کھول کر پیسہ خرچ کیا ہے۔ “ پر تکلف کھانے پر ہاتھ صاف کرتے ہوئے فرزانہ نے داد دی۔ ”ہاں واقعی زریں نے اس کی تائید میں زور سے سر ہلایا۔ کھانے کے بعد دولہا کو اسٹیج پر لانے کا شور بلند ہوا۔ ارحم دوستوں کے جھرمٹ میں لال دوپٹے تلے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا اسٹیج تک آیا تو مومی اپنی بڑی بہو سحر کا ہاتھ تھامے اسٹیج کی طرف بڑھیں اور ارحم کو مہندی لگا کر وہیں اس کے برابر براجمان ہو گئیں۔ سحر چھوٹے روہان کے رونے کی وجہ سے اسٹیج سے ہٹ گئی۔ یوں باری باری سب نے مہندی لگائی۔ ”چلو آؤ، ہم دونوں بھی اسٹیج پر چلتے ہیں۔ کومل نے منال کا ہاتھ تھام کر اٹھنا چاہا۔ نہیں آپی ! مجھے نہیں جانا منال لجاگئی۔ لو بھلا! شرما کیوں رہی ہو ؟ چھوٹا بھائی ہے تمہارا ، جاؤ شاباش لگا آؤ مہندی زریں نے تھپکی دیتے ہوئے کہا تو وہ مدد طلب نگاہوں سے ماں کی طرف دیکھنے لگی۔ فرزانہ دانستہ منہ پھیر کر بیٹھ گئی تو وہ آنکھوں میں اترقی نمی کو پیتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی۔ مہندی کی رسم سے فراغت کے بعد لڑکیاں ڈھولکی لے کر بیٹھ گئیں، لڑکے بھی وہیں آموجود ہوئے۔ گانوں اور ٹیوں کی مقابلہ بازی رات گئے تک جاری رہی۔ آخر مومی کو زبر دستی محفل برخاست کروانی پڑی کہ صبح بارات کی روانگی کی تیاری بھی کرنی تھی۔

خلاف توقع سب ہی وقت پر تیار کھڑے تھے۔ گاڑیوں کی اک لمبی قطار بصورت بارات روانہ ہوئی۔ شہر کے اچھے ہال میں انتظام کیا گیا تھا۔ راہداری کے اطراف میں نک سک سے تیار خواتین تازہ پھولوں کی پلیٹیں لئے کھڑی تھیں۔ سب کا اہتمام دیکھنے لائق تھا۔ رزق برق جوڑے، نفیس جیولری، شاندار میک آپ… واہ کمال است ! ہر لڑکی مثل حور دکھ رہی ہے ۔ “ بلال نے منال کو کہنی مارتے ہوئے سرگوشی کی۔ یہ آپ امی سے جا کر کہیں، شاید آپ کی دال گل جائے۔ یقین کیجیے اس معاملے میں ، میں آپ کی کوئی مدد نہیں کر سکتی۔ “ منال نے ہنسی دباتے ہوئے بظاہر سنجیدگی سے کہا۔ تمہارے مشورے پر عمل کیا تو دال گلے گی نہیں، گل سڑ جائے گی اور امید ہے میرا بھی شاندار قیمہ تیار ہو جائے۔“ بلال نے منہ بسورا۔ نکاح کی مبارک ساعتوں کے بعد کچھ دیر تک مبارک باد کا سلسلہ چلتا رہا، پھر یک دم ”دلہن آرہی ہے … کا شور بلند ہوا۔ گولڈن اور مہرون امتزاج کے نفیس کا مدار لہنگے میں ملبوس دلہن جب ہال میں داخل ہوئی تو ساری روشنیاں مانند پڑ گئیں۔ یوں لگا جیسے ستاروں کے جھرمٹ سے چاند نکل آیا ہو۔ نور کی دودھیار نگت، غیر معمولی تاب ناک اور کھنی لمبی پلکیں رخساروں پر جھالر کی مانند دکھائی دے رہی تھیں۔ آنکھیں شرم و حیا سے جھکی ہوئی تھیں۔ ہر کوئی اس کے حسن و سنگھار سے متاثر ہو رہا تھا۔ وہ سچ سچ کر قدم اٹھاتی اسٹیج کی طرف بڑھ رہی تھی۔ اس کے حسن سے مبہوت ارحم ، میکانکی انداز میں اٹھا اور اسٹیج کے زینے سے اوپر چڑھتی نور کے آگے اک ادائے ناز سے اپنا ہاتھ کر دیا۔ گویا تھام لینے کی فرمائش کر رہا ہو ۔ ہال میں سیٹیوں کی آواز اور ہوٹنگ کا شور بلند ہونے لگا۔ لوجی ! مومی باجی کا لڑکا تو ہا تھ سے گیا۔ فرزانہ نے ہاتھ ایسے نچایا جیسے مکھی اڑار ہی ہو ۔ اس پیش گوئی نے زریں کے چہرے پر بھی مسکراہٹ بکھیر دی۔ نور لجاتی شرماتی ارحم کا ہاتھ تھام کر اسٹیج پر چڑھی تو مومی نے آگے بڑھ کر فرط محبت سے اس کی پیشانی چوم لی۔

یہ محبتیں بھی بس چند دن کا ڈھونگ ہوتی ہیں۔ ارحہ کی ساس بھی واری صدقے جایا کرتی تھی، اب جلاد بنی بیٹھی ہے۔ شادی پر بھی نہیں آنے دیا بیچاری کو کو مل کے لہجے میں کڑواہٹ ہی کڑواہٹ تھی۔ یہ مومی باجی بھی جلد گرگٹ کی طرح رنگ بدلیں گی، دیکھنا تم۔ تمہیں یاد ہے ہماری ساس کیا کہا کرتی تھیں مومی باجی کے بارے میں … ؟ فرزانہ نے سوالیہ انداز میں ابرو نچائے۔ ”ہاں ہاں … سب یاد ہے۔ زریں نے بھی آنکھیں مٹکاتے ہوئے کہا۔ یہ تو سحر کی قسمت اچھی نکلی جو حارث اسے اپنے ساتھ دبئی لے گیا۔ شاید ماں کی خصلت سے واقف تھا، اپنا دامن بچا لیا اس نے لیکن ارحم بیچارہ کیا کرے گا ! اس کی بیوی پیسے گی مومی باجی کی چکی میں ۔ فرزانہ کی تائید میں سب نے تاسف سے سر ہلایا تھا۔ خیر سے تقریب اپنے اختتام پر پہنچی۔ روتی بلکتی دلہن کو مومی اپنے پہلو سے لگائے تسلیاں دیتی گھر لائی تھی۔ اس محبت کے زیر اثر گھر آنے تک دلہن کی حالت سنبھل چکی تھی۔ اب وہ بات بے بات مسکرارہی تھی۔ فرزانہ کے ٹولے میں حسب عادت مسلسل چہ میگوئیاں ہوتی رہیں، جبکہ مومی ادائے بے نیازی سے اپنے کام نمٹاتی رہی۔ ویسے کی تقریب بھی اہتمام و انصرام سے انجام پائی۔ ولیمے کے بعد سب مہمان ایک ایک کر کے رخصت ہونے لگے۔ مومی باجی! پہلی فرصت میں بہوؤں کو ہماری طرف لے کر آئیے گا۔ فرزانہ نے الوداعی بغل گیر ہوتے ہوئے دعوت دے ڈالی۔

یہ محبتیں بھی بس چند دن کا ڈھونگ ہوتی ہیں۔ ارحہ کی ساس بھی واری صدقے جایا کرتی تھی، اب جلاد بنی بیٹھی ہے۔ شادی پر بھی نہیں آنے دیا بیچاری کو کو مل کے لہجے میں کڑواہٹ ہی کڑواہٹ تھی۔ یہ مومی باجی بھی جلد گرگٹ کی طرح رنگ بدلیں گی، دیکھنا تم۔ تمہیں یاد ہے ہماری ساس کیا کہا کرتی تھیں مومی باجی کے بارے میں … ؟ فرزانہ نے سوالیہ انداز میں ابرو نچائے۔ ”ہاں ہاں … سب یاد ہے۔ زریں نے بھی آنکھیں مٹکاتے ہوئے کہا۔ یہ تو سحر کی قسمت اچھی نکلی جو حارث اسے اپنے ساتھ دبئی لے گیا۔ شاید ماں کی خصلت سے واقف تھا، اپنا دامن بچا لیا اس نے لیکن ارحم بیچارہ کیا کرے گا ! اس کی بیوی پیسے گی مومی باجی کی چکی میں ۔ فرزانہ کی تائید میں سب نے تاسف سے سر ہلایا تھا۔ خیر سے تقریب اپنے اختتام پر پہنچی۔ روتی بلکتی دلہن کو مومی اپنے پہلو سے لگائے تسلیاں دیتی گھر لائی تھی۔ اس محبت کے زیر اثر گھر آنے تک دلہن کی حالت سنبھل چکی تھی۔ اب وہ بات بے بات مسکرارہی تھی۔ فرزانہ کے ٹولے میں حسب عادت مسلسل چہ میگوئیاں ہوتی رہیں، جبکہ مومی ادائے بے نیازی سے اپنے کام نمٹاتی رہی۔ ویسے کی تقریب بھی اہتمام و انصرام سے انجام پائی۔ ولیمے کے بعد سب مہمان ایک ایک کر کے رخصت ہونے لگے۔ مومی باجی! پہلی فرصت میں بہوؤں کو ہماری طرف لے کر آئیے گا۔ فرزانہ نے الوداعی بغل گیر ہوتے ہوئے دعوت دے ڈالی۔

”بلال امتحان سے فارغ ہو کر اگلے ہفتے آرہا ہے۔ کہہ رہا تھا کہ کہیں گھومنے پھرنے کا من کر رہا ہے ،اس بار گھر بیٹھ کر چھٹیاں نہیں گزارے گا۔ “استری شدہ کپڑے الماری میں رکھتے ہوئے فرزانہ نے اطلاع دی۔ ”آپ سن رہے ہیں نا !“ انور میاں کی طرف سے کوئی جواب نہ پا کر اس نے پلٹ کر قدرے بلند آواز میں پوچھا۔ ہم انہوں نے اخبار پر سے نظر ہٹائے بنا ہنکار ابھرا۔ تو پھر جواب کیوں نہیں دیتے ؟ پاٹ دار آواز میں پوچھا گیا۔ میں نے کیا کہنا ہے…! بنالو پر وگرام “لحظہ بھر کو سر اٹھا کر نحیف لہجے میں کہا اور پھر سے اخبار کے مطالعہ میں مگن ہو گئے۔ ” میں نے سوچا ہے مومی باجی کی طرف چلتے ہیں۔ دو چار دن رہنے کا ارادہ ہے میرا فرزانہ کی بات پر انہوں نے اک جھٹکے سے سر اٹھایا اور بے یقینی سے بیوی کا چہرہ تکنے بلکہ پڑھنے کی سعی کرنے لگے کہ اب اس کے دماغ میں کیا چل رہا ہے ؟ ” ایسے کیا دیکھ رہے ہیں ؟“ نہ نہیں، کچھ نہیں۔ انور میاں ہکلا گئے۔ میں نے سوچا اتنا عرصہ ہو گیا، باجی نے چکر نہیں لگایا۔ کتنی بار فون کر کے پوچھا مگر ہر بار ان کا وہی مصروفیت کا گھسا پھٹا بہانہ سنا ہے حارث بھی آیا ہوا ہے۔ چلو، وہ نہیں آسکتیں تو ہم ہی چکر لگا آتے ہیں۔ بہورانیوں کے ساتھ ان کی محبتیں بھی دیکھنے کا شرف حاصل ہو جائے گا۔ آخری جملے کی ادائیگی پر اس کے چہرے پر استہزائیہ مسکراہٹ تھی۔ آخر اصل مدعازبان پر آہی گیا۔ انور میاں نے سوچتے ہوئے تاسف سے سر ہلایا۔

اطلاعی گھنٹی مسلسل بجے جارہی تھی۔ ”ارے بھئی صبر کرو، اندر سے آنے والا پیدل آرہا ہوتا ہے، ہوائی جہاز پر نہیں۔“ حارث بآواز بلند بڑبڑاتا چلا آرہا تھا۔ ”ارے ماموں جان ! آپ …؟ دروازے پر میاں صاحب کو کھڑے پا کر وہ حیران رہ گیا۔ برخوردار ! آپ نے آنا گوارا نہ کیا تو ہم خود چلے آئے. جواب فرزانہ بیگم نے دیا تھا۔ و نہیں ممانی جان ایسی کوئی بات نہیں۔ میں امی کے ساتھ پروگرام بنانے کا سوچ ہی رہا تھا۔ “ حارث نے ایک طرف ہوتے ہوئے انہیں اندر آنے کا رستہ دیا اور دروازہ بند کر کے تینوں نفوس کو لئے ماں کے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔ ” امی ! دیکھیں تو سہی، کون آیا ہے ؟“ اس نے دور سے ہی ہانک لگائی۔ کون ہے بھئی …؟ مومی نے جائے نماز تہہ کر کے ایک طرف رکھی۔ واہ جی واہ ! ماشاء اللہ بچے بھی آئے ہیں۔“ جب منال اور بلال پر نظر پڑی تو وہ چہک ہی اٹھی۔ باری باری سب سے ملنے کے بعد انہیں اپنے کمرے میں بٹھا کر اس نے کچن کا رخ کیا، جہاں دونوں بہوئیں دوپہر کے کھانے کا انتظام کر رہی تھیں۔ ”بیٹا ! چھوٹے ماموں آئے ہیں، آکر سلام کرو اور پانی وغیرہ بھی لیتی آنا اور ہاں، ایسا کر و سالن تو بن چکا، ساتھ میں ہیں، اگر کرو اور آن اور ایسا کروسان بنچ کا ساتھ میں چکن پلاؤ بنالو۔ میٹھے میں آئس کریم منگوالیتے ہیں، گرمی بہت ہے، کہاں میٹھا بناتے رہو گے آپ لوگ مومی نے محبت بھری نگاہ دونوں پر ڈالی اور دونوں نے سعادت مندی سے سر ہلا دیا۔ اور بھائی صاحب ، بھا بھی ! سنائیے کیسی گزر رہی ہے ؟ اس نے واپس آکر فرزانہ کے روبرو بیٹھتے ہوئے پوچھا۔ اللہ کا شکر ہے باجی ، سب ٹھیک ٹھاک۔ راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔ فرزانہ نے ٹانگ پر ٹانگ چڑھاتے ہوئے ادائے بے نیازی سے کہا. الحمد اللہ اللہ پاک سب کو دلی سکون سے نوازے، آمین۔ بٹیا رانی کیسی ہے ؟ مومی اب منال سے مخاطب تھی۔ ! میں ٹھیک ہوں، پھیپھو۔ “ منال کے لب ہلے تھے مگر آواز سنائی نہ دی تھی۔ مومی کو لجاتی شرماتی منال پر ڈھیروں پیار آیا۔

اور بلال میاں آپ کیسے آگئے آج پھپھو کے گھر پیار بھرے انداز میں استفسار کرتی وہ بلال کی طرف مڑی تھی۔ چھٹی پر آیا ہوا تھا پھپھو۔“ بلال نے مختصر جواب دیا۔ ”آخری سمسٹر چل رہا ہے پھپھوجی ! دعا کیجیے گا۔“ ” میری دعائیں ہمیشہ آپ کے ساتھ ہیں، میرے بچے۔ فرط محبت سے مومی کی آنکھوں میں نمی اتر آئی۔ فرزانہ نے ابروا چکا کر اس کی طرف دیکھا۔ السلام علیکم ! اسی لمحے نور ٹرے تھامے کمرے میں داخل ہوئی، سحر بھی اس کے ہمراہ تھی۔ و علیکم السلام !“ سب نے مشترکہ جواب دیا۔ سحر سب سے ملنے کے بعد کھانا بنانے کے لیے چلی گئی اور نور سب کو جوس پیش کرنے لگی۔ ”خوشخبری کب سنار ہی ہو بہورانی ! فرزانہ نے آنکھیں گھماتے ہوئے پوچھا تو نور نے مدد طلب نگاہوں سے ساس کی طرف دیکھا۔ ابھی تو بچوں کے ہنسنے کھیلنے کے دن ہیں … مومی نے اس کا بچاؤ کیا۔ خیر سے آٹھ ماہ ہو گئے ہیں۔ اب تو خو شخبری مل جانی چاہیے ، بہت ہنس کھیل لیا۔ فرزانہ نے آنکھیں مٹکاتے ہوئے وار کیا۔ ”خوشخبری آئے گی ، ضرور آئے گی۔ میری دعائیں میرے بچوں کے ساتھ ہیں۔ “نور کے ہاتھ سے جوس کا گلاس لیتے ہوئے مومی نے اس کا بڑھا ہوا ہاتھ تھام کر محبت سے چوم لیا تو آنکھوں میں اتری نمی کو اندر اتار کر جوابا نور نے بھی اسی محبت سے ساس کی پیشانی پر بوسہ دیا۔ ساس بہو کی اس محبت نے فرزانہ کو پہلو بدلنے پر مجبور کر دیا۔ ”باجی ! اپنی ساس کا زمانہ یاد ہے آپ کو دودن کی دلہن سے کہہ دیا گیا تھا کہ ہمیں جلد از جلد اولاد چاہیے نہیں تو ہمارے بیٹے کے لئے رشتے بہت اور ایک آپ ہیں ! آٹھ ماہ گزر چکے اور ابھی تک کوئی خیر خبر نہیں ایک بار چیک آپ ہی کر والیا ہوتا، کہیں بعد میں پتا چلے کہ بہو بانجھ ہے۔ نور کے کمرے سے نکلتے ہی فرزانہ نے اگلا تیر چلایا۔ اللہ نہ کرے بھا بھی ! اچھی بات منہ سے نکالیں۔ اللہ پاک ان بچوں کو ہر خوشی ہر نعمت سے نوازے، آمین۔ ماضی بیت چکا، وہ دور جیسا بھی تھا، گزر گیا۔ اب اس کی تلخیاں یاد کر کے خود کو اذیت کیوں دوں… میں نے سب بھلادیا، سب کو معاف کر دیا۔ “مومی نے متانت بھری مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا۔

فرزانہ رات پانی پینے کی غرض سے کچن کی طرف آئی تھی۔ سامنے مومی بیکن ہاتھ میں لئے دونوں بہوؤں کی کلاس لے رہی تھیں ، وہ دونوں سر جھکائے کھڑی تھیں۔ ”اوئے ہوئے … اصلیت سامنے آہی گئی۔ کیسی مومن بنی پھرتی ہے یہ مومی باجی ! رنگے ہاتھوں پکڑوں گی انہیں۔“ فرزانہ نے باتیں سننے کے لیے دیوار کی اوٹ میں پناہ لی۔ ” مجھے پتا چل گیا ہے کہ تم دونوں دودھ کا گلاس پیٹ میں اتارنے کی بجائے سنگ میں بہا دیتی ہو۔ آج سے بیلن لے کر پاس کھڑی ہوا کروں گی۔ اٹھاؤ گلاس .. مومی قدرے ہلکی آواز میں سرزنش کر رہی تھیں۔ دونوں نے بائیں ہاتھ سے ناک بند کر کے ایک ہی سانس میں دودھ کا گلاس حلق میں انڈیل لیا۔ سحر نے جھر جھری لیتے ہوئے دہائی دی تو وہ بولیں۔ ” خبر دار ! جو رب کی نعمت کی ناشکری کی۔ اللہ پاک نے سب کچھ دیا ہے، کھایا پیا کرو۔ تم دونوں نے میراگھر ، میری نسل سنبھالتی ہے۔ مومی نے مصنوعی خفگی سے گھورتے ہوئے دونوں کو بیلکن دکھایا تو دونوں منہ پر ہاتھ رکھ کر کھی کھی کرنے لگیں۔ یونہی ہنستی کھیلتی رہا کرو۔ اللہ میرے آنگن کی رونق کو سلامت رکھے۔“ انہوں نے دونوں کو پچکارتے ہوئے خود سے لپٹا لیا۔ تینوں مسکرا رہی تھیں مگر آنکھوں کے گوشے تم ہو چکے تھے اور اس نبی میں ایک دوسرے کے لیے محبت کی چمک واضح دکھائی دے رہی تھی۔ فرزانہ جو مومی باجی کا بھانڈا پھوٹنے کی منتظر تھی، دانت پیس کر رہ گئی۔ وہ پیاس بجھانے کے لئے پانی لینے آئی تھی لیکن اب کلیجے میں لگی آگ بجھانے کی اشد ضرورت تھی، سو بآواز بلند سلام جھاڑتی اندر داخل ہو گئی۔ کون سی میٹنگ چل رہی ہے ؟ مومی باجی ! ذرا بہورانیوں کو یہ بھی بتادیجیے کہ مہمان کے کمرے میں پانی بھی رکھا جاتا ہے۔ فرزانہ نے جلن کم کرنے کو خاصے تیکھے انداز میں کہہ کر آگ لگانا چاہی۔ بجھا بھی یہ جاہی رہی تھی۔ غلطی میری ہے۔ میں ہی کل کا مینیو بتانے کھڑی ہو گئی۔ جاؤ بیٹا ! ممانی کے کمرے میں پانی کا جگ اور دو گلاس رکھ آؤ۔ مومی نے بڑی سہولت سے بہوؤں کا دفاع کیا۔ شکریہ ، میں خود ہی لے جاتی ہوں۔ فرزانہ ، سحر کے ہاتھ سے ٹرے لے کر سرعت سے باہر نکل گئی۔

نور بھابھی ! اتنی گرمی میں آپ اکیلی کام کر رہی ہیں ۔ یہ سحر بھا بھی کہاں غائب ہیں ؟“ منال نے کچن میں داخل ہوتے ہی حیرانی سے پوچھا۔ یہیں تھیں ، روہان رونے لگا تو اسے سلانے گئیں ہیں۔ “نور نے سلاد کاٹتے ہوئے جواب دیا۔ ” یہ بچوں کو سلانے کا بہانہ بھی اچھا ہے۔ “ منال پر بھی ماں کار نگ چڑھنے لگا تھا۔ نہیں نہیں، ایسی بات نہیں ہے . بھابھی تو میرے اٹھنے سے پہلے ہی کچن میں موجود ہوتی ہیں۔ کھانا انہوں نے ہی بنایا ہے ، میں تو بس اوپر کے کام کر رہی ہوں۔ نور نے فور اسحر کا دفاع کیا۔ ”ویسے آپ کی تربیت بہت اچھی ہوئی ہے۔ ساس جیٹھانی جیسی بھی ہیں، آپ ان کی طرفداری ہی کرتی ہیں۔ “ منال نے دوسرے انداز میں جال پھینکا۔ اچھی میں نہیں، وہ ہیں۔ میں اس محبت کے قابل نہ تھی مگر اللہ تعالی نے نوازا۔ اللہ اس محبت کو قائم رکھے ، آمین۔“ دعائیہ کلمات کہتے ہوئے نور سلاد کی ٹرے فریج میں رکھنے کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی۔ اس کا محبت سے معمور انداز منال کے رگ وپے میں اضطراب برپا کر گیا تھا۔

ممی جی ! امی کی طرف نیلیم آپی پر سوں کی آئی ہوئی ہیں اور مجھے آج پتا چلا ہے۔ میں دو تین گھنٹے کے لئے جانا چاہ رہی ہوں مگر ار تم کہہ رہے ہیں ، نہیں جانا گھر میں مہمان آئے ہوئے ہیں۔ نور نے کن انکھیوں سے مہمانوں کی طرف دیکھتے ہوئے آخری جملہ قدرے ہلکی آواز میں ادا کیا۔ کدھر ہے ارحم ! اسے میرے پاس بھیجو، میں اس کے کان کھینچوں۔ بہن آئی ہے تو ملنے تو جانا چاہئے۔ دوبارہ جانے کب ملاقات ہو ۔ جاؤ تم تیاری کرو۔ “مومی کے ہر ہر لفظ سے احساس اور محبت پھوٹ رہی تھی۔ نور فرط محبت سے اس کے ہاتھ چوم کر باہر بھاگ گئی۔ یہ کیا بات ہوئی باجی ! اب بہو کے لیے بیٹے کو ڈانٹیں گی ! ایہ ان میاں بیوی کا معاملہ ہے۔ فرزانہ یہاں بھی چپ نہ رہ سکی۔ ہ لڑ کی صرف شوہر کے ساتھ بیاہ کر نہیں آتی بلکہ پوری بارات جاتی ہے اسے لینے ، اس کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کا خیال رکھنا اور غم بانٹنا سبھی کی ذمہ داری ہے۔ مومی نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں بات مکمل کر کے دروازے کی طرف دیکھا، جہاں ارحم سر جھکائے نادم کھڑا تھا۔ ”جاؤ ، اسے میکے چھوڑ کر آؤ بلکہ خود بھی گھنٹہ دو گھنٹہ بیٹھ جانا۔“اس نے اپنی مسکراہٹ دباتے ہوئے بظاہر سپاٹ لہجے میں کہا۔ وہ یو نہی سر جھکائے واپس پلٹ گیا تھا جبکہ فرزانہ منہ بسور کر رہ گئی۔

اپنا وقت بھول گئیں آپ ! آپ کی ساس چھ چھ آٹھ آٹھ ماہ آپ کو میکے کی شکل نہیں دیکھنے دیتی تھیں۔ جب آپ میکے آنے کی بات کرتیں، ان کے مزاج بگڑ جایا کرتے تھے۔ اور یاد ہے … جب آپ بچے کو دودھ پلانے کمرے میں جاتی تھیں تو وہ تھوڑی دیر بعد ہی پیچھے چلی آتی تھیں کہ سارے کام نمٹ جائیں گے تب باہر نکلو گی کیا فرزانہ کے کہنے پر مومی تکلیف کے باوجود زبر دستی مسکرادی۔ وہ جب سے آئی تھی، ان کا ماضی دہرا کر زخم ہرے کئے جارہی تھی۔ اب تو ان زخموں سے خون رستا محسوس ہونے لگا تھا۔ ”باجی! مجھے آپ کی سمجھ نہیں آتی۔ خود اتنی تکالیف جھیلیں اور ان مہارانیوں کو اتنی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں، ان کے اتنے نخرے کیوں اٹھاتی پھر رہی ہیں آپ؟ فرزانہ کو ان کے گھر کا سکون برداشت نہیں ہو رہا تھا۔ دیکھیے بھا بھی ! جو رویے میں نے سہے. میری کوشش ہے کہ میرے بچے اس تکلیف سے نہ گزریں۔ میں جب اس مشکل دور سے گزر رہی تھی، تب ہی عہد کر لیا تھا کہ یہ سلوک اپنی بہوؤں کے ساتھ ہر گز نہیں کروں گی ، نہ ہونے دوں گی۔ میں اچھی ساس بننے کی پوری کوشش کروں گی۔ میں نے سنا تھا کہ ساس بہو کارشتہ ہی ایسا ہے ، اختلافات کبھی ختم ہو ہی نہیں سکتے۔ ساس سونے کی بھی بن جائے تو اچھی نہیں لگ سکتی ، تب مجھے خیال آیا کہ نیت اچھی ہو تو سب اچھا ہو جاتا ہے۔ میری نیت بھی اچھی تھی۔ میں نے اس فضول سی چپقلش کا صفایا کرنے کی مقدور بھر سعی کی ہے۔ میں تنہا سارے معاشرے کو تو نہیں سنوار سکتی لیکن کم از کم میری نسل تو سنور سکتی ہے۔ میرے اپنوں نے مجھے سمجھنے میں غلطی کی، مجھے خوشی ہے کہ یہ غیر بچیاں صحیح معنوں میں میری اپنی بن گئی ہیں۔ مجھے سمجھتی ہیں، مجھ سے پیار کرتی ہیں تو پھر اس محبت کا جواب محبت سے کیسے نہ دوں. دو آنسو پلکوں کی باڑ توڑتے ہوئے اس کے رخسار پر ڈھلک گئے، جنہیں مسکر اکر اس نے صاف کر ڈالا۔ ” میں ذرا کچن میں کھانے وغیرہ کا انتظام دیکھ لوں۔“ کہہ کر وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ دروازے میں ایستادہ منال سب باتیں سن چکی تھی اور اب شکوہ کناں نگاہوں سے ماں کو دیکھ رہی تھی جس کی تنگ نظری اور روایتی سوچ نے اک بہت غلط فیصلہ کروادیا تھا۔ دوسری طرف فرزانہ کی حالت بھی کچھ مختلف نہ تھی، پچھتاوے کی آگ اس کے من میں بھی بھڑک اٹھی تھی۔

Latest Posts

Related POSTS