Pakistani Actress Saboor Ali Exclusive

426
صبور علی کا برج سنبلہ (Virgo) ہے اور وہ اس کے اوصاف پر پورا اُترتی ہیں۔ وہ محنتی ہیں، لوگوں سے مہربانی کا سلوک کرتی ہیں، شرمیلی ہیں، لوگوں کی توجہ کا مرکز بننا انہیں پسند نہیں۔ تاہم ان میں کچھ ایسی خصوصیات بھی ہیں، جو اس برج سے تعلق رکھنے والوں کی خصوصیات کے بالکل برعکس ہیں۔ وہ ناقابلِ یقین حد تک جذباتی ہیں اور بہت آسانی سے دوسروں پر اعتبار کرلیتی ہیں۔ تاہم اس کے ساتھ ہی وہ ناقابلِ یقین حد تک مضبوط بھی ہیں۔ ان کی والدہ کا ایک سال پہلے ہی کینسر کے باعث انتقال ہوا ہے۔ وہ بلاشبہ ان کے لئے بے حد کٹھن وقت تھا لیکن وہ اس صدمے سے گزر کر کچھ اور مضبوط ہوگئی ہیں۔ انہوں نے اپنے کام اور زندگی کے دیگر معاملات پر توجہ مرتکز کرکے اپنے آپ کو سنبھالا ہے۔ 27؍سالہ صبور علی ایک خالص پاکستانی لڑکی کے تصور پر پورا اُترتی ہیں۔ ایک نوجوان اداکارہ کے طور پر وہ بہت سی کامیابیاں سمیٹ رہی ہیں لیکن اپنی معاشرتی روایات انہیں آج بھی عزیز ہیں، جس کی وجہ سے ان کی شخصیت زیادہ دلکش نظر آتی ہے۔ وہ اپنی ذمے داریوں کا احساس رکھتی ہیں، سنجیدہ اور بردبار ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ بھولی بھالی بھی دکھائی دیتی ہیں۔
صبور علی نے ٹی وی پر اپنے کیریئر کا آغاز2011ء میں ’’چھوٹی سی کہانی‘‘ سے کیا۔ پھر اسی سال وہ اپنی چھوٹی بہن سجل علی کے ساتھ ’’محمود آباد کی ملکائیں‘‘ میں نمودار ہوئیں۔ مزاحیہ ڈراما سیریز ’’مسٹر شمیم‘‘ (2015ء) بھی ان کی ایک پہچان ہے۔ بڑے پردے پر، یعنی فلموں میں اداکاری کا آغاز انہوں نے ’’ایکٹر اِن لاء‘‘ سے کیا ہے، جس میں فہد مصطفیٰ، مہوش حیات اور آنجہانی اوم پوری جیسے بڑے بڑے نام ان کے ساتھ تھے۔ اس فلم میں وہ اپنی اداکاری پر بہترین معاون اداکارہ کے لکس اسٹائل ایوارڈ کے لئے نامزد بھی ہوئیں۔ ان کے ڈراموں کی فہرست میں ’’کتنی گرہیں باقی ہیں‘‘، ’’بنٹی آئی لو یو‘‘، ’’رنگ لاگا‘‘، ’’تیری چاہ میں‘‘ اور ’’وعدہ‘‘ بھی شامل ہیں۔ ان دنوں ان کے مداح ان کی آنے والی مختصر فلم ’’نانو اور میں‘‘ کا بے تابی سے انتظار کررہے ہیں، جس کے پوسٹرز اور ٹریلرز ریلیز ہوچکے ہیں۔ اس میں وہ کہنہ مشق اور نامور اداکار قوی خان کی نواسی کے رول میں نظر آئیں گی۔ آئیے، اب صبور علی سے کچھ سوال جواب ہوجائیں:
’’آپ کس وقت اپنے آپ کو ہلکا پھلکا محسوس کرتی ہیں؟‘‘
’’جب میں اپنی قریبی دوستوں کے ساتھ ہوتی ہوں۔ اس وقت مجھے اداکاری نہیں کرنی پڑتی۔‘‘
’’سب سے پہلے کون سی سیلبرٹی اچھی لگی، جسے دیکھ کر دل کی دھڑکنیں تیز ہوئی ہوں؟‘‘
’’پہلی تو یاد نہیں… البتہ حالیہ اچھی لگنے والی شخصیت فواد خان ہیں۔‘‘ (ہنسی)
’’پسندیدہ رنگ؟‘‘
’’سیاہ۔‘‘
’’دیوانوں جیسے کسی پرستار سے سامنا ہوا؟‘‘
’’ایسے پرستار تو بے شمار ہیں۔ ان میں سے بعض کو تو میرا فون نمبر بھی نہ جانے کہاں سے مل جاتا ہے۔ میں نمبر بدل بھی لیتی ہوں، تب بھی انہیں نئے نمبر کا پتا چل جاتا ہے۔ مسلسل فون کرکے، لمبے لمبے میسج کرکے ناک میں دَم کردیتے ہیں۔‘‘
’’اگر آپ کو کسی صبح آنکھ کھلنے پر ایک دن کیلئے کوئی اور شخصیت اختیار کرنے کا موقع ملے تو آپ کیا اور کون بننا پسند کریں گی؟‘‘
’’میں کوئی مخصوص شخصیت تو بننا نہیں چاہوں گی البتہ ایک دن کیلئے لڑکا بن کر جینا چاہوں گی۔‘‘
’’اداکارہ نہ ہوتیں تو کیا ہوتیں؟‘‘
’’اداکارہ تو میں بننا ہی نہیں چاہتی تھی۔ میں تو ایروناٹیکل انجینئر بننا چاہتی تھی۔‘‘
’’اگر اختیار مل جائے تو اپنے سراپا میں کیا تبدیلی لانا چاہیں گی؟‘‘
’’ویسے تو وقت کے ساتھ ساتھ انسان کی شخصیت میں تبدیلیاں آتی ہی ہیں، وہ نکھرتا چلا جاتا ہے لیکن اگر اختیار ملتا تو میں اپنا قد تھوڑا سا بڑھانا چاہتی۔‘‘
’’اگر ماضی میں جانے کا موقع مل جائے تو کیا چیز پہلے سے مختلف کرنا چاہیں گی؟‘‘
’’اپنی والدہ کے ساتھ پہلے سے زیادہ وقت گزاروں گی۔‘‘
’’آپ کا دل جیتنے کا یقینی طریقہ؟‘‘
’’میرا دل جیتنا کچھ زیادہ مشکل نہیں۔ بس میرے سامنے بہت اچھے انداز میں گفتگو کیجئے۔‘‘
’’آئیڈیل مرد؟‘‘
’’ابھی تک تو ملا نہیں۔ اگر ملا ہوتا تو شادی کرچکی ہوتی۔‘‘ (ہنسی)
’’آئیڈیل خاتون؟‘‘
’’میری والدہ۔‘‘
’’آپ کس کے بغیر نہیں رہ سکتیں؟‘‘
’’اپنی فیملی کے بغیر۔‘‘
’’کون سی بات کبھی معاف نہیں کریں گی؟‘‘
’’اگر کوئی اپنا مقصد حاصل کرنے کیلئے مجھے ذریعہ بنائے، مجھے استعمال کرے تو شاید میں اسے کبھی معاف نہ کروں۔‘‘
’’ورزش کا کیا معمول ہے؟‘‘
’’کچھ بھی نہیں۔ میں تو خوب کھاتی ہوں مگر مجھے لگتا نہیں ہے۔‘‘
’’تھکا دینے والے دن کے بعد سکون کیسے حاصل کرتی ہیں؟‘‘
’’شاور لینے کے بعد کوئی فلم دیکھنے بیٹھ جاتی ہوں۔‘‘
’’غصہ کس بات پر آتا ہے؟‘‘
’’ جب کوئی غلطی کرنے کے بعد، اسے ماننے کے بجائے میرے سامنے جھوٹ بولے۔‘‘
’’زندگی میں اب تک سب سے اہم سبق کیا سیکھا؟‘‘
’’کسی پر اعتبار نہ کریں اور آپ جو ہیں، وہی رہیں… لیکن میں خود اس پر عمل نہیں کرپاتی۔ لوگوں پر جلد بھروسا کرلیتی ہوں۔‘‘
’’سب سے ناپسندیدہ لباس؟‘‘
’’جمپ سوٹ۔‘‘
’’کتنی دیر میں تیار ہوتی ہیں؟‘‘
’’20 سے 30 منٹ میں۔‘‘
’’آپ کی سب سے اچھی عادت؟‘‘
’’صرف ایک کال پر ہر ایک کی مدد کیلئے پہنچ جاتی ہوں۔‘‘
’’سجل کی سب سے ناپسندیدہ عادت؟‘‘
’’وہ اکثر فون نہیں سنتی۔ پھر لوگ اس سے بات کرنے کے لیے مجھے فون کرتے ہیں۔‘‘
’’شادی کیلئے آئیڈیل عمر؟‘‘
’’جب بھی کوئی اچھا انسان مل جائے، جو دل کو بھاجائے۔ ویسے لڑکیوں کیلئے شادی کی 22 سال عمر مناسب ہے۔‘‘
’’آپ کا دس سالہ منصوبہ؟‘‘
’’میں منصوبہ بناکر کوئی کام نہیں کرتی۔‘‘