Saturday, April 13, 2024

Pakistani Awam

ہوسکتا آپ نے یہ تحریر پہلے پڑھ رکھی ہو مگر دوبارہ پڑھ لیں ضروی ہے۔

‏ملکہ وکٹوریا نے 1857ء کے بعد ایک دور کے عزیز کی ڈیوٹی ھندوستان کے ایک ضلع میں بطور ڈپٹی کمشنر کر دی۔ ‏ اس نے ایک ماہ بعد ہی ملکہ کو لکھا یہ آپ نے مجھے کس جرم کی سزا دی، یہ لوگ تو کام چور ھیں، نا اھل ھیں، ‏ اپنی غلطی پر نادم نھیں ھوتے، سیکھنے کو تیار نھیں ھوتے، لالچی ہیں، ‏ جہالت عروج پر ھے انکو احساس ھی نھیں کہ ایک انسان کے کیا اوصاف ھونا چاھیئں۔ مجھے تو واپس انگلینڈ بلا لیں-

‏جواب آیا کہ احمق اگر ان لوگوں میں یہ سب نہ ھوتا تو کیا دس ھزار میل دور سے آ کر ھم انکو غلام بنا سکتے تھے۔؟ ‏، انکے حاکم بن سکتے تھے؟ ‏ تو نے کیوں ان کو نارمل انسان سمجھ لیا غلام ھیں -اسی طرح برتاو کر –

ھمارے آج کے حاکم بھی ھماری عادتیں جانتے ھیں۔
‏انکو پتا ھے کہ یہ سالے ذلیل ہو لیں گے ‏، جوتے کھا لیں گے ‏،بھوکے رھ لیں گے، ‏انکو صحت اور تعلیم نہ بھی دو حاکموں کی خدمت کرتے رھیں گے۔ ‏کبھی اپنے حقوق کے لیے کھڑے نھیں ھوں گے۔۔۔اگر ھوے بھی تو انکو کسی کہانی میں الجھا دو -‏یہ کہیں بھی کسی بھی معاملے پر نعرہ بازی شروع کر دیں گے۔ ‏آگ وغیرہ بھی لگا دیں گے۔ کچھ کو جان سے بھی مار دیں گے،
‏ لیکن …

کبھی اپنے جمہوری انسانی حقوق مانگنے کا خیال بھی نہ آئے گا –

‏ہم بلکل نہیں بدلے کل بھی انگریز ہمارے بارے میں یہ ہی سوچتا تھا اور آج بھی اسکا یہ ہی خیال ہے –

Latest Posts

Related POSTS