Panah Kaha Mile | Teen Auratien Teen Kahaniyan

2836
میری دوستی ڈاکٹر فائزہ سے اس وقت سے تھی جب وہ میری بڑی بہن کے ساتھ پڑھتی تھی۔ میں دبئی اپنے ڈاکٹر شوہر کے ہمراہ آ گئی تھی۔ ان دنوں میرے شوہر کی دبئی میں اچھی ملازمت تھی۔ ایک دن میری طبیعت خراب ہو گئی تو میں فائزہ کے پاس گئی۔ اس نے چیک اَپ کے بعد مجھے مکمل آرام کا مشورہ دیا لیکن مکمل آرام مجھے کیوں کر مل سکتا تھا۔ تینوں بچّے ابھی چھوٹے تھے اور چوتھے کی آمد متوقع تھی۔
فائزہ کی ہدایت سن کر میں پریشان ہو گئی تو وہاں موجود ایک خاتون میری جانب متوجّہ ہوئی۔ وہ بولی۔ آپ بہت پریشان لگ رہی ہیں، کیا پریشانی کی وجہ بتائیں گی۔ میں نے کہا۔ مجھے ایک ایسی خاتون کی اشد ضرورت ہے جو دن، رات میرے ساتھ رہے اور میرا گھر سنبھال سکے۔ بچّے چھوٹے ہیں اور یہاں کسی ملازمہ کا ملنا محال ہے۔
اگر آپ چاہیں تو میں آپ کے پاس رہ سکتی ہوں۔ میرے بارے میںمعلومات آپ ڈاکٹر فائزہ سے لے سکتی ہیں۔ میں نے خاتون کو اپنے شوہر کا کارڈ دیا جس پر پتا لکھا تھا۔ وہ بولی۔ ایسے تو آپ کے گھر پہنچنا مشکل ہے، اگر آپ ساتھ لے چلیں تو گھر دیکھ لوں گی۔ ہاں کیوں نہیں، کچھ دیر بیٹھ کر باتیں بھی کر لیں گے۔ تم فائزہ سے بات کر لو۔
میں کلینک کے باہر گاڑی میں بیٹھ کر اس کا انتظار کرنے لگی۔ پندرہ، بیس منٹ میں وہ بات کر کے آ گئی اور میں اسے اپنے ساتھ گھر لے آئی۔ اس کا نام کلثوم تھا۔ کلثوم کے بارے میں مجھے یوں اطمینان تھا کہ وہ ڈاکٹر فائزہ کے پاس ملازم تھی۔ مجھے اس کے بارے میں ساری معلومات فائزہ سے مل سکتی تھیں۔
جب اس نے میرا گھر دیکھا تو بولی۔ اللہ کا شکر ہے آپ کو جنت جیسا گھر ملا ہوا ہے، مجھے دیکھئے در بدر ہو گئی ہوں، اپنے گھر کو ترستی ہوں۔ وہ بہت دکھی اور ضرورت مند لگ رہی تھی۔ میں نے اسے بٹھا لیا اور اس کی باتیں توجہ سے سننے لگی۔ اس نے بتایا کہ میں شیخوپورہ کی رہنے والی ہوں۔ میرے چچا اور والد اکٹھے رہا کرتے تھے۔ نعیم کے ساتھ میرا بچپن گزرا، وہ میرے چچا کا بیٹا تھا۔ والد کا اپنے بھائی کے ساتھ مشترکہ کاروبار تھا لہٰذا ہم سب ایک کنبے کی طرح رہتے تھے۔
اللہ کی قدرت اس نے چچا کو جوانی میں اپنے پاس بلا لیا، نتیجے میں ان کے کنبے کا بوجھ بھی ابا جان کے کاندھوں پر آ پڑا۔ والد نے ان کے بچوں کو اپنے بچے سمجھا۔ ان کی دونوں بیٹیوں کو میٹرک تک پڑھایا اور برادری میں اچھے رشتے تلاش کر کے ان کی شادی کر دی، جبکہ نعیم کو بی اے تک تعلیم دلوائی۔ نوکری نہ ملی تو اپنے ساتھ کاروبار میں لگا لیا۔
میں اور نعیم شروع سے ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے۔ سب بچوں سے زیادہ میری اسی کے ساتھ بنتی تھی۔ والد نے سوچا کہ اسے گھر داماد بنا لوں، مرحوم بھائی کا لڑکا ہے، ہمارے سوا اس کا کوئی نہیں، کہاں جائے گا۔ چچی کو انہوں نے اپنے گھر کا اوپر والا پورشن دے دیا تھا، دونوں ماں، بیٹا اسی میں رہائش پذیر تھے۔
ہماری منگنی کر دی گئی۔ چچی بے حد خوش تھیں۔ وہ مجھ سے پیار کرتی تھیں۔ انہوں نے تمام برادری میں مٹھائی تقسیم کی۔ سب سے فخریہ کہتی تھیں۔ اعظم بھائی واقعی عظیم ہیں۔ انہوں نے ہم ماں، بیٹے کو اپنی بیٹی دے کر بہت بڑا احسان کیا ہے۔ ہم نے جس شجر کے نیچے پناہ لی، اب اسی کی چھائوں میں عمر بھر رہیں گے، کہیں دور نہ جانا پڑے گا۔
ہماری آپس میں چاہت تو بچپن سے تھی، منگنی ہو گئی تو یہ جذبے مزید خوبصورت ہو گئے۔ جن دنوں شادی کی تاریخ رکھی جانے والی تھی، ایک روز اچانک ابا جان کے کزن کریم انکل جو امریکہ اور دبئی میں ہوتے تھے، آ گئے۔ وہ بہت امیر آدمی تھے۔ ان کی بیوی اور بیٹا بھی ساتھ تھے۔ شرجیل نے جوں ہی مجھے دیکھا اپنی والدہ سے کہا کہ میری شادی نیما سے کرا دیں۔ تب والد صاحب نے سنجیدگی سے سوچا کہ کریم بہت امیر آدمی ہے اور اس کا بیٹا بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے، یہ رشتہ میری بیٹی کے لئے زیادہ بہتر رہے گا۔ انہوں نے فوراً میرا رشتہ اپنے یتیم بھتیجے سے توڑ کر انکل کریم کے بیٹے شرجیل سے کرنے کی ہامی بھر لی۔ چچی کو یہ کہہ کر مطمئن کر دیا کہ میری دوسری بیٹی شازیہ بھی موجود ہے، میں اسے آپ کی بہو بنا دوں گا۔
والد نے بیوہ بھابی کو خوب طفل تسلیاں دیں اور میری شادی کی تاریخ شرجیل سے طے کر دی۔ یہ نہ سوچا کہ چچی اور نعیم کے دل پر کیا بیتے گی۔ انہوں نے میری برسوں سے نعیم کے ساتھ ذہنی وابستگی کا بھی خیال نہ کیا۔ بہت روئی تو میرے آنسوئوں کو والد نے میرا بچپنا خیال کیا۔ نعیم کے دل پر تو ایسی قیامت گزری کہ چند دنوں بعد والد صاحب کی دکان چھوڑ دی اور گھر بھی چھوڑ کر اپنے ماموں کے پاس لاہور چلا گیا۔
ابا جان کا کہنا تھا کہ یہ کہاں جائے گا، آخر واپس آ جائے گا۔ میں نے تو اپنی بیٹی کے بہتر مستقبل کی خاطر یہ فیصلہ کیا ہے۔ شادی کے بعد دبئی آ کر شروع دنوں میں میرا دل نہ لگا، لیکن پھر دنیا کی ہر سہولت اور عیش و عشرت قدموں میں ڈھیر ہوگئی تو میں نے اپنے منگیتر کی یاد کو بھلا دیا۔ سچ ہے کہ خیالی زندگی اور حقیقی زندگی میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ شرجیل کی محبت نے میرے چاروں طرف گلزار کھلا دیئے تھے۔ اب سابقہ منگیتر کو یاد کرنے سے حاصل بھی کیا تھا۔ تقدیر میں جو لکھا تھا وہ مجھے مل چکا تھا۔
وقت گزرتا گیا، دو بچوں کی ماں بن گئی۔ بچوں کی پیدائش پر شرجیل میری والدہ کو بلوا لیتے تھے۔ میں خود چچی کے دکھ کا سوچ کر پاکستان نہیں جاتی تھی۔ شرجیل کو کاروبار کے سلسلے میں دبئی سے امریکہ جانا پڑا۔ جب وہ امریکہ گئے تو زیادہ دن لگا دیئے۔ لوٹے تو کچھ بدلے بدلے سے تھے۔ میں بچوں میں مصروف تھی، مجھے پتا نہ چلا کہ میرے جیون ساتھی کی وفاداری نے رنگ بدلنا شروع کر دیا ہے۔ ان کے بدلتے رویّے کو اہمیت نہ دی کیونکہ میاں، بیوی کی محبت میں اب ہمارے بچے بھی شریک ہو چکے تھے اور یہ سچ ہے کہ عورت کا زیادہ وقت بچے لے لیتے ہیں تو شوہر کو الجھن ہوتی ہے۔ میں شرجیل کو وہ پہلی سی توجہ نہ دے پاتی تھی جس کے وہ حقدار تھے۔
شادی کے بعد سے میں وطن نہیں گئی تھی۔ اب شرجیل نے اصرار شروع کر دیا کہ تم پاکستان کا چکر لگا آئو، تمہارے گھر والے خصوصاً بھائی، بہن اداس ہوں گے۔ بچّے اسکول جانے لگے تھے اور میں نہیں چاہتی تھی کہ ان کی تعلیم متاثر ہو۔ گھر والوں سے بچھڑے مدت ہو گئی تھی بالآخر شوہر کے اصرار پر میں پاکستان آ گئی۔ وہاں یہ جان کر دکھ ہوا کہ نعیم ابھی تک مجھے نہ بھولا تھا۔ اس نے شادی نہیں کی تھی اور گھر بھی لوٹ کر نہ آیا تھا۔ وہ اپنے ننھیال کے گائوں میں رہتا تھا۔ کبھی کبھی والدہ سے ملنے آجاتا تھا۔ یہ حقیقت اب میرے لئے جان لیوا تھی کہ میری جدائی نے اسے سچ مچ اندھیروں میں گم کر دیا تھا۔
ایک دن جب وہ گھر آیا، میں نے اسے دیکھا تو میرا جی بیٹھ گیا۔ اب سمجھی کہ دراصل محبت کیا ہوتی ہے۔ نعیم نے مجھ سے واقعی محبت کی تھی جبکہ میں نے خود اپنی ذات سے پیار کیا تھا۔ میں اپنی زندگی کی پرمسرت رنگینیوں میں کھو گئی تھی اور اسے بالکل بھلا دیا تھا جبکہ وہ مجھے نہ بھلا سکا تھا لیکن میرا اسے اب بھلا دینا ہی اچھا تھا، کیونکہ ایک مشرقی عورت ہونے کے ناتے اپنے شوہر سے بے وفائی کا سوچ بھی نہ سکتی تھی۔
میں نے نعیم کو قسم دی، وعدہ لیا کہ وہ شادی کرکے واپس شہر آ جائے گا اور بن باس والی زندگی ترک کر کے ایک نارمل جیون بتائے گا۔ اپنی ماں کو جدائی کا دکھ دینے کی بجائے ہمہ وقت ان کے قدموں میں رہے گا۔ ان کی خدمت کرے گا۔ اس نے مجھ سے وعدہ کیا کہ وہ ایسا ہی کرے گا اور وعدہ خلافی نہ کرے گا۔
نعیم کی طرف سے مطمئن ہو کر میں دبئی لوٹ آئی۔
گھر آئی تو سسر صاحب نے بتایا کہ شرجیل امریکہ چلا گیا ہے۔ وہ اکثر بیرون ملک آتے جاتے رہتے تھے، کاروبار کے سلسلے میں گئے ہوں گے لیکن ان کا جب ایک فون بھی نہ آیا تو فکرمند ہو گئی، تب انکل کریم نے بتایا کہ اس کے گردوں میں انفیکشن تھا، اب وہ علاج کرا کر ہی لوٹے گا۔
اب مزید فکر لاحق ہوئی۔ اللہ خیر کرے، یہ بات آخر انہوں نے مجھ سے کیوں چھپائی، شاید اس وجہ سے کہ کہیں زیادہ پریشان نہ ہو جائوں۔ اللہ سے دن،رات دعائیں کرتی تھی کہ وہ پوری طرح صحت یاب ہو کر لوٹیں۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ میرے سسر صاحب اور ان کے اہل خانہ کے پاس امریکن نیشنلٹی تھی اور وہ وہاں جب چاہیں جا سکتے ہیں، قیام بھی کر سکتے ہیں۔ بہرحال جب کئی ماہ گزر گئے اور شرجیل واپس نہ لوٹے تو ایک روز میں پریشان ہو کر رونے لگی، تب ان کی والدہ نے بتایا کہ بیٹی تمہیں روتا دیکھ کر سہہ نہیں سکتی۔ جی چاہتا ہے کہ اصل بات بتا دوں۔ انہوں نے بتایا کہ ایک امریکن نیشنل کنبہ تھا جن سے ہم لوگوں کے گھریلو تعلقات ہو گئے تھے۔ ان کی بیٹی سے شرجیل نے نکاح کر لیا ہے اور وہ اب ان لوگوں کے ساتھ امریکہ میں رہنے چلا گیا ہے۔ بہرحال جب مجھے حقیقت کا علم ہوا تو پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ میں نے رو رو کر اپنا برا حال کر ڈالا لیکن اب رونے کا کوئی فائدہ نہ تھا، جو ہونا تھا ہو چکا تھا۔
جب تک سسر حیات تھے ان کے پاس رہتی رہی۔ وہ شرجیل کی دوسری شادی کے چار سال بعد راہی ملک عدم ہو گئے۔ تب شرجیل نے کہا جتنا کہتی ہو روپیہ تمہارے نام جمع کرا دیتا ہوں لیکن تمہیں امریکہ ساتھ نہیں رکھ سکتا۔ جب میں نے ساتھ رہنے پر اصرار کیا تو اس پر کافی جھگڑا ہوا۔ انہوں نے مجھے طلاق دے دی اور بچے میں نے ان کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا تو وہ اپنی والدہ کو ساتھ لے کر چلے گئے۔
اب میرے پاس ایک ہی رستہ تھا کہ واپس میکے چلی جائوں لیکن وہاں جا کر میں نعیم کو ڈسٹرب نہ کرنا چاہتی تھی، تب ہی ڈاکٹر فائزہ کی کلینک میں ملازمت کر لی۔ اب رہتی بھی ان ہی کے ساتھ ہوں لیکن یہ مجھ سے دہری محنت لیتی ہیں۔ کلینک کے علاوہ گھر میں بھی تمام وقت ان کے کام سرانجام دیتی ہوں جس کی وجہ سے بہت تھک جاتی ہوں تاہم یہ سب کچھ اپنے بچوں کی خاطر برداشت کر رہی تھی لیکن اب کچھ دنوں سے یہ میرے بچوں کو اپنے گھر میں بوجھ سمجھنے لگی ہے۔ کہتی ہے اگر چاہو تو بے شک کوئی دوسرا ٹھکانہ ڈھونڈ لو کیونکہ اب تمہارے بچوں کے ہمراہ میرے بچوں کا ایک ساتھ رہنا محال ہے۔
بچے چھوٹے ہیں، کام کی زیادتی کی وجہ سے میں اپنے بچوں پر توجہ نہیں دے پاتی۔ وقت ہی نہیں ہوتا میرے پاس۔ وہ بھی مجھے ہاتھ سے کھونا نہیں چاہتی کہ اس کے لئے فائدہ مند ثابت ہوئی ہوں لیکن میری اولاد سے نالاں ہو رہی ہے ان کا خرچہ نہیں اٹھانا چاہتی۔ کہتی ہے کہ قانون کی مدد لو اور شوہر سے بچوں کا خرچہ وصول کرو جبکہ ان جھنجھٹوں میں پڑ کر میں اپنے لخت جگر نہیں کھو سکتی۔ میں نے کسی قسم کی قانونی کارروائی سے گریز کیا ہے۔ قسم کھائی ہے محنت کرتی رہوں گی اپنے بچوں کی خاطر تاکہ یہ کبھی بھی مجھ سے دور نہ ہوں۔
کیا کبھی تمہارے بچوں کے والد ان سے ملنے آئے؟ ہاں دو، تین بار آئے ہیں لیکن میں نے بچے ان کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا۔ اب وہ انہیں چھوڑ چکے ہیں۔ میں نے سمجھ لیا کہ کلثوم چونکہ بے گھر ہے اس لئے وہ ڈاکٹر کا گھر نہیں چھوڑنا چاہتی۔ پاکستان بھی نہیں جانا چاہتی۔ دبئی میں رہ کر محنت مشقت کر کے بچوں کو پال رہی ہے۔ اس کے شوہر نے ایک عنایت ضرور کی تھی کہ دبئی میں قیام کے لئے اسے قانونی جواز مہیا کر رکھا تھا۔ شاید شرجیل کا خیال تھا جب بچے بڑے ہو جائیں گے تب وہ ان کو اپنے پاس اعلیٰ تعلیم کی خاطر امریکہ بلوا لے گا۔
مجھے اس جیسی خاتون کی اشد ضرورت تھی اور طبی حالات کے پیش نظر کسی معاون خاتون کا میرے ساتھ ہونا ناگزیر ہو چکا تھا۔ میں نے اسے اپنے ساتھ بچوں کے ہمراہ رہنے کی پیشکش کر دی جو اس نے بلاتردد منظور کر لی۔ اس کے بعد ڈاکٹر فائزہ سے بات کی۔ اس نے کہا…اگر کوئی ساتھ رہنا نہ چاہے تو اسے زبردستی نہیں رکھا جا سکتا۔ میرے گھر سے جاتی ہے تو بے شک جائے، مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔
کلثوم کو آئے پندرہ روز ہوئے تھے کہ شرجیل بچوں سے ملنے آ گیا۔ ڈاکٹر نے میرے گھر کا پتا بتا دیا تھا۔ جب وہ ہمارے گھر آیا تو میرے شوہر موجود تھے۔ انہوں نے اس سے کچھ باتیں کیں تب اس نے بچوں کا باقاعدہ خرچ باندھ دیا۔
پانچ ماہ بعد میں نے بیٹے کو جنم دیا۔ کلثوم میرے ساتھ تھی۔ بچوں اور میرے گھر کو اچھی طرح سنبھال رہی تھی تب ہی امریکہ سے میرے جیٹھ آئے۔ وہ بچے کی پیدائش پر مبارکباد دینے آئے تھے۔ کلثوم کو دیکھا تو مجھ سے اس کے بارے دریافت کیا۔ میں نے تمام حالات ان کے گوش گزار کر دیئے۔ کہنے لگے اگر یہ چاہے تو مجھ سے نکاح کر لے۔ اس کے بچوں کو بھی امریکہ لے جائوں گا اور یوں بچے اپنے حقیقی باپ سے قریب ہو جائیں گے، ماں سے کبھی جدا نہ ہوں گے۔
میں نے کلثوم کو اپنے جیٹھ سے نکاح ثانی پر راضی کر لیا کہ ان کی بیوی طلاق لے چکی تھی یوں نکاح کے کچھ عرصے کے بعد وہ ان کے ہمراہ امریکہ چلی گئی۔ اس کے بچے ابھی تک میرے پاس تھے۔ جب میرے جیٹھ نے امریکہ میں شرجیل سے رابطہ کیا تو وہ امریکہ سے دبئی آئے۔ دو دن ہمارے گھر پر قیام کیا۔ بچوں کے ہمراہ ٹھہرے۔ کچھ قانونی کارروائی پوری ہونے تک یہ بچے ہمارے پاس رہے، بعد میں امریکہ چلے گئے۔
اب کلثوم میرے شوہرکی بھاوج ہے۔ وہ اپنے شوہر کے ساتھ خوش و خرم زندگی گزار رہی ہے۔ بچے اسی کے ساتھ رہتے ہیں لیکن مقررہ وقت اپنے حقیقی باپ کے پاس گزارتے ہیں۔
میرے جیٹھ کی پہلی بیوی فرنگن تھی۔ وہ کلثوم سے شادی کر کے خوش ہیں، کہتے ہیں۔ کاش… میری پہلے ہی اس خاتون سے شادی ہو جاتی تو زندگی میں جو ایک خلا آیا وہ نہ برداشت کرنا پڑتا۔ کلثوم سے ان کے دو بچے ہیں۔ جب یہ لوگ ہمارے پاس پاکستان آتے ہیں تو ہم انہیں دیکھ کر بہت خوش ہوتے ہیں۔
(ن…گوجرانوالہ)