Wednesday, July 17, 2024

Panah Ki Khatir | Teen Auratien Teen Kahaniyan

میں اور ممتاز ایک ہی کمپنی میں کام کرتے تھے۔ وہ بے حد خوبصورت، سمجھدار اور چست و چالاک نوجوان تھا۔ نظرباز بھی نہ تھا۔ میں بھی کوئی ایسی ویسی لڑکی نہ تھی۔ اچھے خاندان سے تھی۔ والد صاحب کی بیماری کے باعث ہم پر برے دن آگئے۔ انہیں کینسر ہوا تو کل جمع پونچی انہی پر صرف ہو گئی۔ علاج تین سال چلا مگر نصیب میں یہی لکھا تھا کہ موذی مرض جان لے کر ہی ٹلے گا۔

والد صاحب کی وفات کے بعد آمدنی کا آسرا نہ رہا۔ ہم چار بہنیں تھیں اور ہمارا کوئی بھائی نہ تھا۔ ماموں، چچا تھے مگر وہ نام کے تھے۔ انہوں نے برے وقت پر ہماری کوئی مدد نہ کی۔ میں نے انہی دنوں بی۔ ایڈ کیا تھا۔ ناچار نوکری کیلئے گھر سے قدم نکالنا پڑا۔ ایک سہیلی کے والد کی سفارش پر نوکری مل گئی۔ معقول تنخواہ تھی۔ اسی کمپنی میں ممتاز بھی کام کرتا تھا۔ وہ ہمارا آفیسر تھا اور میں اس کے ماتحت ملازم ہوئی تھی۔ جلد ہی اندازہ ہو گیا کہ ممتاز ایک متوازن شخصیت کا مالک ہے۔ اپنے ماتحتوں کے ساتھ بھی اس کا رویہ نہایت مشفقانہ اور دوستانہ ہوتا تھا۔ اس کے ساتھ کام کر کے ہم بہت سکون محسوس کرتے۔ بے جا رعب داب کا قائل نہ تھا۔ تاہم محنت سے کام کرنے والوں کی قدر کرتا تھا۔ میں بھی بہت دیانت اور محنت سے اپنی ڈیوٹی دیا کرتی تھی۔ بہت جلد اسے احساس ہو گیا کہ مجھ میں وہ تمام اوصاف ہیں جو اچھی لڑکیوں میں ہوتے ہیں۔ وہ میری قدر کرنے لگا، بہت عزت سے پیش آتا۔ جہاں موقع ہوتا، مجھے اہمیت دیتا کیونکہ میں مناسب لباس پہنتی اور شرم کا دامن تھامے رکھتی۔ اتفاق سے انہی دنوں ممتاز کے والد کا انتقال ہو گیا۔ جب ہم کو علم ہوا، سارے اسٹاف نے صلاح کی کہ ان کے گھر تعزیت کو جانا چاہئے ۔اگلے روز اتوار تھا اور چھٹی تھی۔ ہم چار لڑکیاں آسیہ کے گھر جمع ہو گئیں اور ممتاز صاحب کے گھر تعزیت کو مل کر گئیں جبکہ ہمارے ساتھ کام کرنے والے مرد کو لیگ حضرات اپنے طور پر گئے تھے۔ تیسرا دن تھا ان کے والد کو فوت ہوئے اور گھر پر رسم قل تھی۔ قرآن پاک کی تلاوت ہورہی تھی، میں بھی دوسری خواتین کے ہمراہ ایک طرف بیٹھ کر سپارہ پڑھنے لگی۔

ممتاز صاحب ذرا دیر کو اندر آئے اور اپنی والدہ کو بتایا کہ یہ میری کمپنی میں کام کرتی ہیں۔ ان کی والدہ نے غمزدہ ہونے کے باوجود ہم کو توجہ دی اور پیار سے ملیں۔ جب رخصت ہونے لگے تو سب کے نام دریافت کئے، تبھی میں نے محسوس کر لیا کہ وہ میری طرف خاص توجہ سے دیکھ رہی ہیں۔ اس واقعے کے تین ماہ بعد ایک روز ممتاز صاحب نے مجھے کہا کہ میری والدہ آپ کے گھر آنا چاہتی ہیں اور آپ کی والدہ سے ملنے کی آرزومند ہیں۔ مجھے خوشی ہوئی کہ میرا آفیسر مجھ کو اس قدر اہمیت دے رہا تھا۔ جواب دیا۔ بصد شوق آئیں، میں امی کو بتادوں گی۔ جب آنا ہو فون کر لیں۔ یہ بھی اتوار کا دن تھا، چھٹی تھی۔ ان کا فون آیا کہ وہ لوگ شام کو آنا چاہتے ہیں۔ شام کو امی نے چائے کا ہلکا پھلکا سا انتظام کر دیا اور پھر ممتاز صاحب اپنی بہن اور والدہ کے ہمراہ آگئے۔ ہمارے گھر ان کا سواگت کرنے کو کوئی مرد نہ تھا۔ امی اور اور ہم بہنوں نے ہی سواگت کیا۔ مجبوری تھی ممتاز کو بھی ساتھ ڈرائنگ روم میں بٹھا لیا کہ اکیلے وہ بٹھائے جاتے تو اچھا نہ لگتا۔ امی ان سے اور ان کی والدہ سے باتیں کرتی رہیں۔ آپانے ان کی بہن کو کمپنی دی۔ میں اور فوزیہ اپنے ان مہمانوں کی خاطر تواضع میں جت گئیں۔ دوبارہ آنے کا کہہ کر وہ چلے گئے۔ ہفتہ بعد ممتاز صاحب نے کہا کہ ان کی بہن کی سالگرہ ہے لہٰذا انہوں نے مدعو کیا ہے۔ میری والدہ اور میرے ساتھ ہماری تینوں بہنوں کو بھی آنے کیلئے اصرار کیا۔ ان کے اصرار پر ہم ان کے ہاں گئے اور یہی سمجھا کہ ہمارے افسر نے میری عزت افزائی کی ہے کہ سارے گھر والوں کو بہن کی سالگرہ پر مدعو کر لیا ہے۔ ممتاز صاحب کے گھر جا کر پتا چلا کہ اس سالگرہ کی تقریب میں ہمارے سوا اور کوئی مہمان مدعو نہیں ہے۔ گویا سالگرہ کے ایک بہانہ تھی۔ دراصل انہیں ہم لوگوں کی دعوت مقصود تھی۔ کچھ دنوں بعد ان کی والدہ کا فون امی کو آیا اور انہوں نے بالآخر اپنا مدعا بیان کر دیا۔ وہ ممتاز صاحب کیلئے میرا رشتہ چاہتی تھیں۔ والدہ نے کہا۔ سوچ کر جواب دوں گی۔ امی نے مجھ سے دریافت کیا۔ مجھے وہ پسند تھے۔ اس رشتے کیلئے خود کو ان کے لائق نہ سمجھتی تھی۔ دل میں خوشی کے پھول کھل گئے اور میں نے ہاں کہہ دی۔ پس پھر کیا تھا چٹ منگنی پٹ بیاہ ہو گیا۔ میری شادی اپنے آفیسر سے بہت طریقے کے ساتھ ہوئی اور انہی کی خواہش پر ہوئی لیکن دفتر والوں نے یہی سمجھا کہ ہمارا خفیہ عشق معاشقے کا معاملہ تھا، تبھی شادی کر لی۔ بہر حال شادی کے بعد چہ میگوئیاں ہونے لگیں تو ممتاز نے کہا کہ تم نوکری چھوڑ دو۔ مجھے یہ پسند نہیں کہ میری بیوی کو کوئی ٹیڑھی نظروں سے دیکھے یا پھر باتیں بنیں۔ خدا کا دیا سبھی کچھ ہے۔ تمہارے کمانے کی ضرورت نہیں، کمانے کو میں خود کافی ہوں۔ ان کے کہنے پر میں نے نوکری چھوڑ دی اور گھر داری سنبھال لی۔

میری شادی کے سال بعد ہماری ساس بیمار ہو گئیں۔ ان کو ہڈیوں کی ایسی بیماری لاحق ہوئی کہ اٹھنے بیٹھنے ، چلنے پھرنے سے معذور ہو گئیں۔ اب یہ حال تھا کہ ان کو کھلانا پلانا، نہلانا دھلانا، اٹھانا بٹھانا سبھی کچھ مجھے کرنا پڑتا تھا۔ یہ ایک کڑی ڈیوٹی تھی۔ میں دن بھر ان کی دیکھ بھال اور جی حضوری میں تھک کر چور ہو جاتی اور اپنے سراپے کا ہوش نہ رہتا۔ تب ایک روز میں نے اپنے شوہر سے کہا کہ میں اماں جی کی اتنی زیادہ دیکھ بھال اور تیمار داری نہیں کر سکتی۔ آپ ان کیلئے کوئی نرس رکھ لیں کیونکہ یہ بیماری لاعلاج ہے اور یہ ایک دوروز کی بات نہیں۔ جب تک یہ زندہ ہیں، ان کی ایسے ہی دیکھ بھال کرنی ہے۔ آخر کب تک یہ مجھ سے ہو سکے گا؟ ممتاز کو برا تو لگا لیکن انہوں نے مجھے مجبور نہ کیا اور بہت جلد ایک نرس لڑکی کا انتظام کر لیا جس کی عمر سولہ سترہ برس تھی۔ شکل وصورت دبتی ہوئی تھی، رنگت کالی تھی لیکن نہایت خوش اخلاق، تحمل والی اور مخلص تھی۔ اس نے اماں جی کی جی جان سے دیکھ بھال کی۔ رات، دن ان کی خدمت میں حاضر رہتی اور ذرا بھی غفلت نہ کرتی۔ اس طرح اماں جی ہی نہیں میرے شوہر بھی اس لڑکی نوشین سے ازحد خوش تھے۔ نجانے اس لڑکی میں کیا بات تھی کہ معمولی صورت ہونے کے باوجود وہ خوبصورت لگتی تھی، شاید کہ اپنے اچھے رویئے اور حسن اخلاق کی بدولت گھر بھر کی آنکھوں کا تارا ہو گئی۔ میری دو نندیں شادی شدہ تھیں۔ وہ روز اپنی والدہ کے پاس آتیں، نوشین ان کو خوش دلی سے ملتی اور بھر پور تواضع کرتی۔ میرے شوہر کا بھی خیال رکھتی، یہاں تک کہ ان کو کھانا دینا اور ان کے کپڑے دھو کر استری کرنے کے فرائض بھی اس لڑکی نے اپنے ذمے لے لئے۔ پانچ برس اسی عالم میں میری ساس زندہ رہیں اور نوشین نے رات دن ان کی خدمت میں گزارے۔ کبھی حرف شکایت زبان پر لائی اور نہ ہی تھکن کا اظہار کیا۔ نہ کسی کو شکایت کا موقع دیا۔ میری ساس کی حالت اچانک ایک روز خراب ہو گئی۔ وہ سمجھ گئیں کہ ان کا آخری وقت آچکا ہے تب میرے شوہر کو بلایا اور بولیں۔میری آخری خواہش ہے، اگر تم پوری کر دو گے تو مجھے بہت سکون ملے گا۔ ممتاز نے کہا۔ اماں جی ! حکم کریں۔ جو کہیں گی، حکم بجالائوں گا۔ کہنے لگیں۔ میں نے شاید بہو کے انتخاب میں کچھ غلطی کر دی۔ نوشین غریب بیوہ کی بیٹی ہے لیکن اس میں وہ صفات ہیں کہ اس کو بہو بنانا چاہئے۔ تم میری مانو تو نوشین سے نکاح کر لو۔ دین میں ایک سے زیادہ شادیوں کی اجازت ہے۔ اگر تم ایسا کرو گے تو میں سکون سے مر سکوں گی۔ پس انہوں نے بیٹے کو حکم دیا اور ممتاز نے ماں کی خاطر سر تسلیم خم کر دیا حالانکہ وہ نوشین سے نکاح کا تصور نہ کر سکتے تھے لیکن کر لیا۔

جس روز نکاح تھا، ساس نے مجھے بہانے سے میکے بھجوا دیا اور شربت کے گلاس پر نکاح کرا دیا۔ صبح نکاح ہوا اور شام کو وہ وفات پا گئیں۔ ان کے چہلم تک یہ بات راز رہی۔ مجھے کسی نے نہ بتایا کہ ممتاز نکاح کر چکے ہیں اور نوشین ان کی دوسری بیگم بن چکی ہے۔ جب چہلم ہو چکا تب میری نندوں نے یہ حقیقت مجھ پر واضح کی اور ممتاز نے کہا کہ تمہارے حقوق تم کو ملتے رہیں گے۔ نوشین کے اسے ملیں گے ۔ اماں جی نے وعدہ لیا تھا کہ انصاف کرنا۔ میں انصاف سے کام لوں گا۔ بہر حال مجھے معاف کر دو کہ میں ماں کا حکم نہیں ٹال سکتا تھا۔ دم آخر انہوں نے میر انکاح کرایا۔ مجھ پر جو قیامت ٹوٹنی تھی، ٹوٹ گئی۔ پانچ برس تک ممتاز نے انصاف سے کام لیا۔ خدا کی مرضی کہ مجھے اولاد نہ ہوئی مگر نوشین تین بیٹوں کی ماں بن گئی۔ اس کے بعد ممتاز کا رویہ مجھ سے بدلنے لگا، یہاں تک کہ وہ وقت آگیا کہ وہ تمام تر نوشین کے ہو کر رہ گئے اور میری حیثیت گھر میں ایک فالتو فرد کی طرح ہو گئی۔ آج میرے خاوند کی دوسری شادی کو تیس برس گزر چکے ہیں۔ آدھی کوٹھی میں، میں رہتی ہوں اور آدھی میں ممتاز اور نوشین اپنے چھ بیٹوں کے ساتھ رہتے ہیں۔ وہ میرا خرچا پورا ادا کرتے ہیں لیکن میری طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتے۔ بیمار ہو جائوں تو بھی بہت کم توجہ کرتے ہیں۔ میں خوبصورت ہوں، لمبا قد اور حسن مجھ پر تمام تھا مگر حسن ایک دن ہار گیا اور خدمت گزار بیوی جیت گئی۔ اب وہ ان کے چھ بیٹوں کی ماں ہے۔ سبھی کچھ اس کا شوہر ، جائداد اور شوہر کی رفاقت ، پیار ، توجه ، سماجی حیثیت، خاندان میں اہمیت. لیکن میں بس دکھانے کی بیوی ہوں۔ خالی دامن، میری جھولی میں کوئی خوشی نہیں ہے۔ کاش! اپنی ساس کی خدمت میں ہی کرتی تو شاید نوشین سوتن بن کر مجھ پر نہ آتی یا پھر خدا تعالیٰ مجھے بھی اولاد کی نعمت سے نواز دیتا چاہے ایک بیٹا یا پھر ایک بیٹی ہی دے دیتا تو میں بھی ان کے درمیان خوشیوں کی کچھ تو حقدار ہو جاتی۔ اب تو تمام حق داری نوشی کی ہے کہ وہی ممتاز کے چھ بچوں کی ماں ہے اور میں تمام حقوق سے محروم ہوں، سوائے اس کے کہ ان کے گھر میں پناہ کی خاطر رہتی ہوں۔ یہی میرا نصیب ہے۔

Latest Posts

Related POSTS