Thursday, February 22, 2024

Pas-e-Ayina

اف کیا بتاؤں تمہیں گھر کی شفٹنگ کتنا مشکل کام ہے اور وہ بھی جب سب کچھ آپ کو خود ہی کرنا ہو دو عدد بچوں کے ساتھ۔ سارہ  نے کارڈلیس کو دوسرے کان پر منتقل کرتے ہوئے کندھے اور سر کے درمیان دبایا اور ہاتھوں میں موٹی موٹی کتابوں کا ڈھیر اٹھا کر الماری کی طرف بڑھی۔ ہاں اب تو شکر ہے۔ تقریباً  کام مکمل ہے۔ بس کتابوں کی الماری کا کام کر رہی ہوں تمہیں تو پتا ہے میری کتابوں کی تعداد کا اور اب تو بچوں کی بھی کتابیں آنے لگی ہیں گھر میں تو سمجھو یک نہ شد تین شد سارے بال اکٹھے کر کے اونچی پونی بناتے, کبھی کتابیں اٹھاتی رکھتی اور کبھی فون کو دوسرے کان پر منتقل کرتی ہوئی بار بار لمبے سے لاؤنج کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک کا چکر لگا رہی تھی ارے تم سے باتیں کرتے کرتے اچھا خاصا کام تو ہو ہی گیا۔ اس نے جائزہ لیتی ہوئی نظروں سے الماری کو دیکھا اور وہیں رکھی آرام کرسی پر ٹیک لگا کر تسلی سے بیٹھ گئی ماں جناب اب تو لکھنا لکھانا ایک خواب ہی بن گیا۔ اس کے خوب صورت چہرے پر ایک دم سے شکن عیاں ہوئی تھی۔ نہیں نہیں پابندی کیوں ہوتی ہے عامر تو کہتے رہتے ہیں مجھ سے لکھنے کو بار بار لیکن گھر اور بچوں کی مصروفیات میں ہی اتنا وقت گزر جاتا ہے۔ اب زندگی میں وہ سکون کہاں۔ اچھا چلو۔ اب مجھے اجازت دو۔ بہت سارا کام باقی ہے ابھی ۔ وہ جو اس انداز سے بیٹھی تھی جیسے کہ اب فرصت سے بات کرنے کے موڈ میں ہو ایک دم سے بیزار  ہوئی تھی۔ کارڈلیس بند کر کے اس نے میز پر رکھا اور ایک ٹرانس کی کیفیت میں اٹھ کر الماری کی طرف بڑھی اور اس کے بعد کتنی ہی دیر تک وہیں قالین پر بیٹھی اپنی پرانی تحریروں کی فائل دیکھتی رہی۔ اطلاعی گھنٹی کی تیز آواز پر اس نے ہڑبڑا کر فائل سے سر اٹھایا۔ اف اتنا وقت گزر گیا۔ اس نے حیرت سے گھڑی کی طرف دیکھا اور دروازے کی جانب بڑھی – کیا حال ہیں بھئی ہماری بیگم صاحبہ کے۔ سلام کا جواب دیتے ہوئے محبت بھرے لہجے میں حال دریافت کرنا عامر کی عادت تھی۔ آفس کی ساری تھکن وہ گھر کی دہلیز سے باہر ہی چھوڑ کے آنے کی کوشش کیا کرتا تھا جس میں اکثر کامیاب بھی رہتا تھا۔ حال تو بہت اچھے ہیں لیکن گھر کے, میرا حلیہ اور حالت دونوں ہی توجہ طلب ہیں- وہ جانتی تھی کہ عامر گھر واپسی پر اس کا ہنستا مسکراتا اور تھوڑا سا سجا بنتا چہرہ دیکھنا پسند کرتا تھا۔   کوئی بات نہیں جناب حلیہ درست کرنے کے لیے مابدولت آپ کو دس منٹ دیتے ہیں اور حالت درست کرنے کی ترکیب یہ ہے کہ بس اب آپ باورچی خانے کا رخ نہ کریں ہم چلیں گے آپ کی امی کی طرف آپ کی تھکن بھی اتر جائے گی اور ہم بچوں کو بھی لیتے آئیں گے عامر مسکراتے ہوئے لاؤنج کی طرف بڑھا تو اس نے بھی کمرے کا رخ کیا۔

اور سارہ گھر کی ترتیب ہو گئی-  ان دنوں میری بھی طبیعت کچھ ٹھیک نہ رہی ورنہ کچھ تو مدد کروا دیتی تمہاری۔ کھانے سے فراغت کے بعد چائے کا کپ اس کے ہاتھ میں پکڑاتی ہوئی بھابھی پاس ہی بیٹھ گئیں۔   شکر ہے ہو گیا سب کام اور یہ آپ نے خوب کہی۔ ایک ہفتے سے پورا پورا دن جو بچوں کو آپ نے سنبھالا ہوا ہے اس سے بڑھ کر کوئی مدد ہو سکتی ہے بھلا؟ ویسے چائے بے حد مزیدار بنائی ہے آپ نے اس نے تشکر کا اظہار کرتے ہوئے بات بدل دی تھی۔ پھپھو! آپ کیا رسالوں میں کہانیاں لکھتی تھیں ؟ اریشہ جو کافی دیر سے کسی رسالے میں سر دیے ہوئے تھی  – ہاں لکھا کرتی تھی، آج تمہیں کس طرح  یہ خیال آ گیا ؟ اس نے اریشہ کی طرف رخ موڑا ۔ ارے بھئی۔ آج کسی کتاب سے تمہاری  کسی کہانی کا مسودہ برآمد ہو گیا تھا۔ اریشہ کی جگہ بھابھی نے جواب دیا تو وہ بس مسکرا کر رہ گئی۔ فجر کی نماز سے فارغ ہو کر اس نے چائے کا پانی چولہے پر رکھا، عامر کے مسجد سے واپس آنے تک چائے تیار رکھنا اس کا روز کا معمول تھا۔ چائے دم پر رکھ کر اس نے پیالیوں میں چینی ڈالی اور باورچی خانے سے ملحقہ گیلری میں چلی آئی۔ ہلکی ہلکی ٹھنڈی ہوا نے موڈ پر خاطر خواہ اثر ڈالا اور وہ عامر کے آنے تک وہیں کھڑی اوپر نیچے دائیں بائیں فلیٹس کا جائزہ لیتی رہی۔ بیگم! یہ فائل کل سے  یہیں پڑی ہے بےچاری, چائے کا گھونٹ بھرتے ہوئے عامر نے اس کی توجہ قالین پر پڑی فائل کی طرف مبذول کروائی۔ اوہ ہاں! کل تو ایک دم سے نکل گئے تھے اور رات آکر اس طرف آنا ہی نہیں ہوا۔ اس نے پیشانی کو ایک دم سے چھوتے ہوئے کہا اور فائل اٹھا کر الماری میں رکھ دی۔   ایک بات تو بتاؤ! عامر نے چائے کا خالی کپ میز پر رکھتے ہوئے اس کی طرف گہری نظروں سے دیکھا۔ میں نے تمہیں کبھی لکھنے سے منع نہیں کیا۔ تم خود لکھنا چاہتی ہی نہیں ہو لیکن پھر بھی جب ایسا کوئی ذکر ہوتا ہے ایک اداسی تمہارے چہرے کا احاطہ کیوں کر لیتی ہے ؟ پتا نہیں عامر کیا ہوا ہے مجھے پہلے تو مجھے لگتا تھا کہ اتنی ذمہ داریوں کے باعث میں نہیں لکھ پاؤں گی لیکن اب مجھے لگتا ہے جیسے میں لکھ ہی نہیں سکتی اندر سے کوئی تحریک ہی نہیں پیدا ہوتی۔ اس  نے بے چارگی سے عامر کی طرف دیکھا تھا۔ عامر کے ساتھ ہی بچے اسکول کے لیے روانہ ہو چکے تھے دروازہ بند کرکے بالوں کا جوڑا بناتے ہوئے اس نے باورچی خانے کا رخ کیا۔ سمینہ ! تمہیں پتا ہے کیا ہوا علیزے کے ساتھ ؟ برتن سمیٹ کر دھونے کے لیے رکھتی ہوئی  سارہ کے ہاتھ اس آواز پر لمحہ بھر کو رکے- ہاں ںسچ میں اسماء بھابھی بہت افسوس ہوا۔  دل دکھ رہا ہے میرا تو ؟  سارہ کو اندازہ ہوا کہ یہ آوازیں اس کے برابر اور سامنے والی گیلری میں کھڑی خواتین کی ہیں۔ اللہ کتنی چھوٹی عمر میں طلاق ہو گئی چھوٹے چھوٹے بچے تو رل جائیں گے نا اس کے- سارہ کا دل ہول گیا اور اس نے آوازوں پر توجہ دینے کے لیے نل ہلکا کر دیا۔ اصل میں تو سب کیا دھرا اس کی ماں کا ہے اس نے ہی بہت الٹی سیدھی پٹیاں پڑھائی تھیں علیزے کو لیکن  اسے خود بھی عقل سے کام لینا تھا ناں! ایک گیلر ی سے آئے ہمدردی کے بیان کو دوسری گیلری سے فوری طور پر مسترد کر دیا گیا تھا،  سارہ کے تجسس میں اچھا خاصا اضافہ ہو چکا تھا۔ برتنوں کو ایک طرف کر کے اس نے ہاتھ دھوئے اور گیلری کے قریب آگئی ذرا سی دعا سلام ہو چکی ہوتی تو کھل کے ہی پوچھ لیتی اس نے اپنے آپ سے کہا اور پھر سے سماعتوں کو باہر کی طرف مرتکز کردیا۔ ہاں ویسے بات تو آپ کی بھی ٹھیک ہے اسماء بھابھی آج کل لڑکیوں کو اپنے گھر بچانے کی فکر ہی کم ہوگئی ہے شاید اوپر سے ماؤں کے رویے اور شہ دیتے ہیں۔ بس اللہ ہی بچائے سب کو محفوظ رکھے۔ برابر والی گیلر ی سے صدق دل سے دعا کی آواز آئی آمین ! سامنے والی اسماء بھابھی نے زور و شور سے آمین کہا تو اس نے بھی ہلکی آواز میں آمین کہہ کر ساتھ دیا۔ اب دیکھو اگلی قسط میں کیا ہوتا ہے۔ برتنوں کی طرف پلٹی تھی چونک کر رک گئی اگلی قسط؟ ہاں مجھے تو بڑی شدت سے انتظار ہے، میں تو رسالہ آتے ہی سب سے پہلے یہی ناول پڑھوں گی۔ برابر والی گیلری سے پرعزم ارادہ ظاہر کیا گیا۔ اچھا پتا ہے کیا؟ اس بار میں نے الماری ٹھیک کی ! تو وہی رابعہ والا فارمولا اپنایا جو تم نے بتایا تھا! سامنے والی اسما بھابھی کے پاس شاید فرصت ہی فرصت تھی اس وقت۔ اچھا؟ زبردست کتنا اچھا رہتا ہے نا! مجھے تو بہت فائدہ ہوا اس ایک سال والے فارمولے سے فیصلہ کرنے میں ذرا بھی تامل نہیں ہوا بس سوچ لیا تھا کہ وہ سارے کپڑے جن کو ایک سال سے ہاتھ بھی نہیں لگایا بنا پس و پیش نکال دیتے ہیں۔ برابر والی گیلری سے آواز آئی۔ یقین مانو بڑا کامیاب طریقہ ہے۔ میں نے اپنی بہن کو بھی بتایا۔ اس بار وہ بھی یہی کرے گی۔ ان شاءاللہ ” اسما بھابھی نے جوش و خروش سے اعلان کیا۔ ان شاء اللہ  اس کا ثواب تو مجھے بھی ملے گا، آخر میں نے بتایا تھا آپ کو اور آپ نے اپنی بہن کو برابر والی گیلری سے اٹھلاتی ہوئی آواز آئی۔ سارہ نے جلدی جلدی پر تن دھو کر ہاتھ خشک کیے اور لاؤنج میں کاغذ اور قلم کی تلاش میں سرگرداں ہو گئی اس کے اندر تحریک پیدا ہو چکی تھی۔

Latest Posts

Related POSTS