Thursday, February 22, 2024

Phanda

پروہت کمار ایک کم گو اور بے ضرر آدمی تھا۔ وہ وی کے کارپوریشن میں ایک اکائونٹینٹ کی حیثیت سے ملازم تھا۔ اس کا دشمن کیلاش حال ہی میں آیا تھا بلکہ آیا نہیں، بلایا گیا تھا۔ وہ ایک بہترین سیلزمین تھا۔ اس کی مقناطیسی شخصیت اور بے پناہ صلاحیتوں پر کوئی بھی کمپنی فخر کرسکتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ کارپوریشن کے صدر نے کیلاش کو ایک دوسری کمپنی سے توڑا تھا۔ یہ واقعہ سن سیٹ کلب سے شروع ہوا تھا۔ وی کے کارپوریشن کا تقریباً ہر ملازم اس کا رکن تھا اور باقاعدگی سے ہر ہفتے وہاں جایا کرتا تھا، کیونکہ کارپوریشن کے صدر آنند پال صبح سے دو پہر تک گولف کھیلتے اور دوپہر کا کھانا بھی وہیں کھاتے اور شام کو برج شروع ہو جاتا تھا۔ دوسرے ملازمین عام طور پر شام کے وقت کلب پہنچتے تھے۔ اس واقعے کی ابتدا اس رات کلب سے واپسی پر ہوئی تھی۔ تم اس کی سحر انگیز شخصیت سے مسحور ہو گئی تھیں نا مادھوری ! پروہت کمار نے اپنی پتنی سے کہا۔ میر امطلب کیلاش سے ہے۔ بہت زور کی نیند آرہی ہے ، سو جانا چاہیے۔ اس نے اپنے پتی کے سوال کو نظر انداز کر کے گہری سانس لیتے ہوئے جواب دیا۔ پروہت کمار نے اس کے لہجے سے محسوس کیا کہ اس میں غنودگی کا شائبہ تک نہیں تھا۔ نیند تو مجھے بھی آرہی ہے لیکن پہلے تم میری بات کا جواب دو۔اس نے اصرار کیا۔ میں نہیں، البتہ تم اس کی شخصیت سے نظر آتے ہو جیسے اس نے تم پر جادو کر دیا ہو۔ مادھوری نے بے نیازی سے کہا۔ کیوں تم ہر وقت اس کا ذکر کرتے رہتے ہو ؟ وہ ایک جھٹکے سے بستر سے کھڑا ہو گیا۔ اس نے ایش ٹرے میں سگریٹ کا ٹوٹا مسلا، پھر مڑ کے مادھوری کی طرف دیکھا۔ وہ بدستور منہ پھیرے لیٹی ہوئی تھی۔ وہ اس کو تنقیدی نظروں سے اس طرح دیکھنے لگا جیسے پہلی بار دیکھ رہا ہو۔ وہ میک آپ کی مدد سے عمر بڑھنے کی نشانیاں چھپانے میں ماہر تھی۔ اس کے چہرے کے نقوش کسی کنواری دوشیزہ کی طرح دل فریب تھے۔ تم دیر تک اس سے گھل مل کر باتیں کرتی رہیں۔ پروہت کمار نے اس پر الزام لگانے کے انداز میں کہا۔ واقع .. ! آخر کتنی دیر ؟ تم نے وقت کا اندازہ تو ضرور لگایا ہو گا۔ مادھوری کا لہجہ تلخ اور تند تھا۔ اگر وہ کچھ کہتا تو بات بڑھ جاتی اور فی الحال وہ جھگڑے کے موڈ میں نہیں تھا۔ اس نے خواب گاہ کی روشنی گل کر دی اور خاموشی سے بستر پر دراز ہو گیا۔ خواب گاہ پر عجیب اعصاب شکن خاموشی طاری تھی، ایسی اذیت میں نیند آنے کا تصور نہیں کیا جا سکتا تھا۔ سچ سچ بتاو مادھوری ! بالآخر اس سے رہا نہ گیا۔ اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے لگا تو اس نے سکوت کو توڑتے ہوئے پوچھا۔ کیلاش کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے ؟ اسے مادھوری سے کسی جواب کی کوئی توقع نہیں تھی لیکن خلاف توقع مادھوری خاموش نہیں رہی۔ وہ بولی۔ مجھے تو وہ بالکل بھی پسند نہیں آیا۔ وہ اپنی بیوی کے اس لہجے سے بخوبی واقف تھا۔ وہ جب بھی کبھی کسی کے متعلق کوئی حتمی رائے دیتی تو اس کا لہجہ ایسا ہی ہوتا تھا، لیکن نہ جانے کیوں اسے مادھوری کا جواب مطمئن نہ کر سکا۔ وہ کچھ زیادہ ہی پراعتماد معلوم ہو رہی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ مادھوری نے چند لمحوں کے توقف کے بعد کہا۔ آج کی پوری شام قابل نفرت تھی۔ کیوں…؟ اس لیے کہ ہر شخص کیلاش کے گرد پروانے کی طرح منڈلارہا تھا. آخر تمہارے سامنے کیلاش کی اوقات اور حیثیت ہی کیا … وہ ایک عام قسم کا سیلز مین ہی تو ہے ، جسے ایک کمپنی سے توڑا گیا لیکن حالت یہ تھی کہ کلب میں کوئی اجنبی ہوتا تو یہ سمجھتا تھا کہ کارپوریشن کا صدر کیلاش ہے اور آپ کوئی معمولی کلرک جو باس کو خوش کرنے کے لیے اس کا طواف کر رہے ہیں۔ میں پوچھتی ہوں کہ اس کے پیچھے ہر شخص کتے کی طرح دم کیوں ہلا رہا تھا؟ پتا نہیں پروہت کمار نے بے چینی سے کندھے اچکائے۔ دراصل اس کی شخصیت ہی ایسی ہے۔ واقعی … ؟ وہ طنزیہ ہنسی۔
پروہت کمار کچھ دیر تک خاموشی سے چھت کی طرف گھورتا رہا، پھر بولا۔ مادھوری ڈارلنگ! مجھے خوشی ہے کہ تم نے کیلاش کو پسند نہیں کیا۔ اگر وہ تمہیں پسند آجاتا تو میں شاید خوف زدہ ہو جاتا۔ تمہیں خوف زدہ ہونے کی قطعی ضرورت نہیں ہے میرے پتی دیو ! مادھوری نے اسے مسکرا کے دیکھا، پھر تھوڑی دیر بعد بولی۔ چلو اب سو جاتے ہیں۔ لیکن وہ پل بھر کے لیے بھی سو نہ سکا اور بڑی بے چینی سے بستر پر کروٹیں بدلتا رہا اور غور سے مادھوری کی طرف دیکھتا رہا۔ کئی مرتبہ اس نے مادھوری کے گہرے گہرے سانس سننے کی کوشش کی، جن سے اس کے کان آشنا تھے لیکن ناکام رہا۔ حالانکہ وہ بالکل ساکت پڑی ہوئی تھی۔ مادھوری…! اس نے آہستہ سے سر گوشی کی لیکن اسے کوئی جواب نہ ملا۔ پھر اسے نجانے کب نیند آگئی، سونے سے پہلے تک اسے یقین تھا کہ مادھوری جاگ رہی ہے۔ پیر کے روز صبح صبح کیلاش اس کے کمرے میں آگیا۔ ہیلو مسٹر پروہت! اس نے بے تکلفی سے میز پر بیٹھتے ہوئے کہا۔ پروہت کمار کو اس کی یہ بے تکلفی پسند نہیں آئی۔ وہ عمر میں کیلاش سے بڑا تھا اور ان کے تعلقات رسمی اور دفتری تھے۔ اُسے اس کا پروہت پکارنا بہت ناگوار لگا تھا۔ وہ اسے خاموشی سے دیکھنے لگا۔ اور سُنائو… مادھوری کیسی ہے ؟ کیلاش نے سرسری انداز میں پوچھا۔ اس نے سوچا کہ ناموں کے بارے میں کیلاش کی یادداشت تیز معلوم ہوتی ہے۔ کامیاب سیلز مین کی ایک خوبی یہ تھی کہ وہ ہر شخص کا نام یاد رکھے اور اسے بے تکلفی سے استعمال کر سکے اور اس معاملے میں کیلاش بہت آگے تھا۔ وہ کمپنی کے صدر کو بھی ان کے نام سے پکارتا تھا۔ پروہت اس کی آمد کا مقصد جاننے کے لیے بے تاب تھا۔ بظاہر کیلاش کو کاروبار کے سلسلے میں کوئی کام نہیں ہو سکتا تھا۔ ان دونوں کے شعبے بالکل جدا تھے۔ مادھوری بالکل ٹھیک ہے۔ پروہت کمار نے جواب دیا۔ کیا آپ کو مجھ سے کوئی کام ہے؟ نہیں … بس یوں ہی گپ شپ کرنے آ گیا تھا۔ کیا آپ بہت مصروف ہیں مسٹر پروہت ! نہیں نہیں۔ اس نے انکساری سے جواب دیا۔ پرسوں رات پارٹی نہایت کامیاب اور پُر لطف رہی۔ کیلاش نے تبصرہ کیا۔ ہفتے میں ایک دن کمپنی کے تمام اسٹاف کو جمع کرنے کا طریقہ بہت عمدہ ہے۔ پال اچھا آدمی ہے۔ باس کا پورانام آنند پال تھا۔ پروہت کمار نہ صرف اس کی بڑی عزت کرتا تھا بلکہ اس کا پورا نام بڑے احترام سے لیتا تھا۔ لوگوں کو اکٹھا کرنے کی روایت آنند پال نے ہی ڈالی تھی۔ وہ اس کمپنی کا چیئرمین تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ کیلاش اس کا پورا نام لے لیکن وہ اس طرف کوئی توجہ نہیں دیتا تھا۔ عورتوں کا رویہ بڑا عجیب و غریب اور حیرت انگیز تھا۔ کیلاش نے ناگواری سے کہا۔ وہ اس طرح گھل مل کر باتیں کر رہی تھیں جیسے برسوں سے بچھڑی ہوئی ہوں۔ ہاں پروہت کمار نے تائید کی انداز میں سر ہلایا۔ اور ہاں ایک بات نوٹ کرنے والی یہ تھی کہ ساری عورتیں خوب صورت تھیں۔ مثال کے طور پر اگروال کی بیوی… کیا نام ہے اس کا …؟ نندا… مسٹر نندا اگروال۔ نندا کو فلمی اداکارہ ہو نا چاہیے تھا۔ وہ بڑی بولڈ لگ رہی تھی اور بھی کئی عورتیں نہ صرف خُوب صورت بلکہ ہر لحاظ سے بولڈ بھی تھیں ۔ مادھوری بھی کسی سے کم نہیں تھی۔ پروہت کمار کے ذہن کو ایک زبردست جھٹکا سا لگا کہ کیلاش، نندا اگروال کی بیوی کو ایک خُوب صورت فلمی اداکارہ کی طرح تصور کرتا ہے مگر اس کا نام بھول گیا لیکن اسے مادھوری کا نام اچھی طرح یاد ہے اور وہ اسے بڑی روانی اور بے تکلفی سے یاد کر رہا ہے جیسے وہ اس کی محبوبہ رہی ہو۔ میں نے بھی محسوس کیا ہے۔ پر وہت کمار نے کہا۔ یہ کہنے سے پہلے اس کے ذہن نے اسے تنبیہ کی تھی اور یہ جملہ کہنے سے روکنا چاہتا تھا اور اسے اس کی بے وقوفی کا احساس دلایا تھا لیکن تیر کمان سے نکل چکا تھا۔ تم نے کیا محسوس کیا تھا۔۔۔؟ یہی کہ تم میری حسین بیوی میں کشش محسوس کر رہے …؟ کیلاش میز پر اس طرح سیدھا محسوس ہو گیا جیسے کوئی موٹا بلا سوتے سوتے اچانک بیدار ہو گیا ہو اور اسے بھوک لگ رہی ہو اور شکار بھی نظر آگیا ہو۔ اس وقت کیلاش کی آنکھوں میں ایک عجیب اور وحشیانہ چمک نظر آئی تھی۔ کچھ دیر کے لیے ہم یہ حقیقت نظر انداز کر دیتے ہیں کہ میں نے محض تمہارا دل رکھنے کے لیے مادھوری کا شمار خُوب صورت عورتوں میں کر لیا تھا۔ آخر تم نے یہ کیسے اندازہ کر لیا کہ میں تمہاری بیوی میں کیسے کشش محسوس کرتا ہوں ؟ کیا یہ تمہاری غلط فہمی نہیں ..؟ نہیں، میں نے تمہیں کلب میں صرف مادھوری سے دیر تک گفتگو کرتے دیکھا تھا۔ پروہت کمار نے جواب دیا۔ اچھا! مجھے اندازہ نہ تھا کہ میری نگرانی کی جارہی ہے ؟ کیلاش کے ہونٹوں پر تمسخرانہ مسکراہٹ اُبھر آئی۔ میں نے یہ تو نہیں کہا کہ میں تمہاری نگرانی کر رہا تھا۔ میں نے صرف یہ کہا کہ تمہیں صرف میری بیوی سے گفتگو کرتے دیکھا تھا، جو دیر تک جاری رہی تھی۔ کیلاش بے اختیار مسکرادیا۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ تم ایک حاسد شوہر ہو ۔ میرا خیال تھا اکائونٹنٹ قسم کے لوگوں میں ہر قسم کے جذبات کا فقدان ہوتا ہے۔ ان کی زندگی محض ہندسوں سے تعبیر ہوتی ہے۔ خوف زدہ ہونے کے باوجود پروہت کمار کا غصہ بڑھتا گیا۔ اس کی آواز سانس کا ساتھ نہیں دے رہی تھی۔ اس نے طیش میں آکر کہا۔ میں ہر گز حاسد نہیں ہوں اگر میں حاسد شوہر ہوتا تو شاید کلب ہی میں تمہارے چہرے کا جغرافیہ یکسر بدلا ہوتا۔ اگر ایسی بات ہے تو تم اپنی بیوی کی نگرانی کیوں کر رہے تھے ؟ کیا تم اپنی بیوی پر اعتماد نہیں کرتے ؟ میں اس پر اندھا اعتماد کرتا ہوں۔ پھر تمہیں مجھ پر اعتماد نہیں ہو گا ؟ کیلاش کی معنی خیز مسکراہٹ اور گہری ہوگئی۔ ہم دونوں ایک ہی کمپنی میں ملازمت کر رہے ہیں اور ایک بڑے خاندان کے دو افراد کی طرح ہیں … کیا تم مادھوری کو میرے ساتھ محفوظ نہیں سمجھتے؟ پروہت کمار نشست سے کھڑا ہو گیا اور سخت لہجے میں بولا۔ مسٹر کیلاش ! میں تم پر اعتماد نہیں کرتا۔ غصے کی شدت سے اس کا چہرہ تمتما رہا تھا۔ لیکن مجھے مادھوری پر اعتماد ہے۔ اب تم مہربانی کر کے یہاں سے چلے جائو مجھے کئی ضروری کام کرنے ہیں۔ کیلاش اپنی جگہ سے ہلا نہیں۔ پروہت کمار کھڑا ہوا تھا۔ میز پر بیٹھنے کے باوجود کیلاش، پروہت کمار سے اونچا نظر آرہا تھا۔ اس نے پستہ قد پروہت کمار کو حقارت سے دیکھا۔ اس کے چہرے پر غصے کے ساتھ ساتھ خوف کی پر چھائیاں لرز ہی تھیں۔ کیلاش کی مسکراہٹ اور گہری ہو گئی۔ وہ اس چھوٹے آدمی کے جذباتی اُبال سے بے حد لطف اندوز ہو رہا تھا۔ تو تم مجھ پراعتماد کیوں نہیں کرتے لیکن تمہیں اپنی بیوی پر اعتماد تو ہے نا ! کیوں ؟ بے شک پروہت کمار نے مضبوط لہجے میں کہا۔ اب اسے اپنی بے وقوفی کا احساس ہو رہا تھا۔ اسے یہ الفاظ ادا نہیں کرنا چاہیے تھے لیکن اب وہ کہے ہوئے الفاظ واپس نہیں لے سکتا تھا۔ وہ یہ بھی نہیں بتا سکتا تھا کہ کلب سے واپسی کے بعد سے مادھوری کا طرز عمل بڑا عجیب ہو گیا ہے۔ وہ چپ چاپ اور کھوئی کھوئی سی نظر آتی ہے۔ اس نے اپنی بےقوفی سے مادھوری کی طرف اس کی توجہ مبذول کرا دی تھی۔ کیلاش کسی شکاری کتے کی مانند تھا جو محض اپنے شکار کی بو سونگھ کے اس کی تلاش میں نکل کھڑا ہوتا ہے۔ اسے کیلاش کو روکنا چاہیے۔ اگر وہ مادھوری کے پیچھے لگ گیا تو نہ جانے…! میں تم جیسے مردوں کی خصلت سے خوب واقف ہوں کیلاش ! اس لیے تمہیں تنبیہ کر رہا ہوں کہ تم میری بیوی سے دور رہو۔ تو گویا تم مجھے دھمکی دے رہے ہو؟ تم ۔۔ کیلاش نے بے یقینی سے اس کی طرف دیکھا۔ ہاں… تم جو چاہے سمجھو، بس تم مادھوری کے قریب مت پھٹکنا۔ آخر اس نے وہ سب کچھ کہہ دیا جو اسے کہنا نہیں چاہیے تھا۔ آخر اس شخص میں ایسی کیا بات ہے جس سے وہ نفرت کرتا ہے …؟ کیلاش کی مسکراہٹ پھیکی پڑ گئی لیکن اس کے سکون میں کوئی فرق نہیں آیا۔ وہ کچھ دیر پروہت کمار کو حقارت سے دیکھتا رہا پھر اس نے کہا۔ تم سے بڑا احمق آج تک میری نظر سے نہیں گزرا۔ وہ اعتماد سے قدم اٹھاتا ہوا کمرے سے باہر چلا گیا۔ پروہت کمار اپنی نشست پر گر گیا۔ آہستہ آہستہ اس کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا اور اسے اپنی غلطی کے بھیانک نتائج کا احساس ہونے لگا۔ یہ سب کچھ اتنی تیزی سے پیش آیا تھا کہ اسے سوچنے سمجھنے کا موقع نہیں مل سکا تھا۔ کیلاش کی خصلت کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا تھا کہ پروہت کمار کی یہ تنبیہ بھڑکتی آگ پر پٹرول چھڑکنے کا کام دے گی۔ وہ بہت کمینہ اور مغرور آدمی ہے۔ وہ اپنی تذلیل اور توہین کا بدلہ ضرور لے گا۔

جمعرات کی سہ پر کارپوریشن کے چیئرمین نے ایک باہم میٹنگ بلائی تھی۔ متعلقہ لوگوں کو اس کی اطلاع ایک روز قبل دی جاچکی تھی۔ پروہت کمار اور کیلاش کو بھی اس میں شریک ہونا تھا۔ مسٹر آنندپال وقت کے سخت پابند تھے ،اس لیے تمام لوگ ٹھیک وقت پر اس کے کمرے میں جمع ہو گئے تھے لیکن کیلاش غیرحاضر تھا۔ سب لوگ موجود ہیں؟ مسٹر آنند پال نے ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہوئے دریافت کیا۔ کیلاش کی غیرحاضری کا کسی کو خیال اور احساس نہیں ہوا تھا یا لوگ اس کی غیرحاضری کا احساس دلا کے کمپنی کے چیئرمین کی نظروں میں اس کو گرانا نہیں چاہتے تھے ، اس لیے سب خاموش رہے۔ پروہت کمار نے مسٹر آنندپال کی کیلاش کی غیر حاضری کی توجہ مبذول کرانا چاہی لیکن دوسروں کو خاموش دیکھ کر اس کی ہمت بھی پست ہو گئی۔ کیلاش کہاں ہے ؟ آخر آنند پال نے اس کی غیرحاضری کو محسوس کر لیا۔ معلوم نہیں ، وہ کہاں ہیں ؟ سیلز مینجر نے معاملہ رفع دفع کرنے کی کوشش کی۔ بس آتے ہی ہوں گے۔ کیا اسے میٹنگ میں شرکت کی ہدایت نہیں کی گئی تھی ؟ جی ہاں سر … ! میں نے آج بھی اسے صبح یاد دہانی کرائی تھی۔ اس نے کہا تھا کہ وہ یقیناً شریک ہو گا۔ میں پوچھتا ہوں کہ آخر کیلاش کہاں ہے ؟ انہوں نے میز پر مکا مارتے ہوئے پوچھا۔ اسی وقت پروہت کمار پر اچانک یہ انکشاف ہوا کہ کیلاش اس وقت کہاں ہو سکتا ہے ؟ وہ اس کی طبیعت سے اچھی طرح واقف تھا۔ اس قماش کے لوگ ہر معاملے میں ڈرامائی انداز اختیار کرتے ہیں۔ کیلاش اسے جتانا چاہتا تھا کہ اس نے کس دن، کس وقت اور کب اس سے اپنی توہین و تذلیل کا انتقام لینا ہے۔ کیا بات ہے مسٹر پروہت کمار! تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے؟ کسی نے پوچھا۔ تمام لوگوں کی نظریں اس کے چہرے پر مرکوز ہو گئیں۔ میں تھوڑی دیر پہلے ٹھیک تھا، لیکن یکا یک جانے کیا ہو گیا… ! طبیعت بگڑ گئی۔ اس نے بتایا۔ تم گھر چلے جائو ، تمہیں آرام کی سخت ضرورت ہے۔ مسٹر آنند پال نے فکر مندی سے کہا۔ پر وہت کمار خاموشی سے کھڑا ہو گیا اور لڑکھڑاتا ہوا دروازہ کھول کے باہر نکل گیا اور راہداری کو عبور کر کے اپنے کمرے میں آیا اور بے جان سا ہو کر کرسی پر گر گیا۔ اس کی سیکرٹری سرلا دیوی اسے حیرت سے دیکھنے لگی۔ اس کا سر چکرا رہا تھا اور ہر چیز متحرک لگ رہی تھی۔ وہ کسی خیال پر اپنی توجہ مرکوز نہیں کر پا رہا تھا۔ پہلے کوئی عورت اندر آئی پھر کوئی مرد اندر آیا۔ کسی نے اس کی مدد کرنا چاہی تو کسی نے ڈاکٹر کو بلانے کا مشورہ دیا۔ اس نے انکار کر دیا کہ اسے کسی کی مدد کی کوئی ضرورت نہیں۔ ڈاکٹر کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ وہ چند لمحوں کے بعد خود بخود ٹھیک ہو جائے گا۔ تین بجے کے قریب اس نے اپنے گھر ٹیلی فون کیا۔ تین چار بار مسلسل گھنٹی بجی مگر مادھوری نے ریسیور نہیں اُٹھایا حالانکہ گھنٹی بجتے ہی وہ ریسیور اٹھا لیا کرتی تھی۔ اسے اپنی پشت پر بہت ساری نگاہیں نیزوں کی طرح محسوس ہو رہی تھیں۔ اس نے ریسیور کریڈل پر رکھ دیا، پھر دفتر سے نکل آیا اور سیدھا گھر جانے کے بجائے ایک قریبی بار میں چلا گیا۔ اس نے گاڑی بار کے باہر ہی چھوڑی اور ایک ٹیکسی لے کر گھر کی طرف روانہ ہوا۔ اس کا اندازہ صحیح تھا کہ جب وہ گھر پہنچے گا تو یقینا چھ بج رہے ہوں گے۔ یہ وقت اس کے گھر پہنچنے کا ہوتا تھا۔ گھر میں گھستے ہی اسے مادھوری کی گنگناہٹ سنائی دی۔ وہ بڑے ترنگ اور ایک عجیب سی سرشاری میں تھی۔ اس نے بڑے والہانہ پن اور وارفتگی اور جذباتی انداز سے سواگت کیا، جو حیرت کی بات تھی۔ جب کہ وہ اس کا رسمی انداز سے سواگت کیا کرتی تھی۔ جان … مادھوری نے کہا۔ میری سہیلی نرملا تین بجے آگئی تھی، اس لیے میں رات کا کھانا تیار نہ کر سکی۔ اب رات کا کھانا باہر کھائیں گے ۔ اس وقت وہ اس ٹیلی فون کے بارے میں سوچنے لگا جو اس نے تین بجے کیا تھا۔ کتنی دیر ایک گھنٹی بجتی رہی تھی۔ ہفتے کی رات حسب معمول کمپنی کے تمام ذمہ دار عہدیداران اپنی اپنی بیویوں کے ساتھ سن سیٹ کلب میں موجود تھے۔ کیلاش اس وقت مسٹر آنند پال کے ساتھ برج کی میز پر بیٹھا ہوا تھا۔ پروہت کمار بہت کم کلب آتا تھا لیکن اس روزا سے مادھوری کے شدید اصرار پر کلب آنا پڑا تھا۔ مادھوری ہال میں داخل ہوتے ہی اپنی دوسہیلیوں کی طرف بڑھ گئی۔ وہ ایک کونے میں کھڑی ہوئی، بے تکلفی سے باتیں کر رہی تھیں۔ پروہت کمار کائونٹر کی طرف چلا گیا۔ اس نے اپنے لیے وہسکی کا آرڈر دیا اور سامنے والی دیوار پر لگے ہوئے بڑے بڑے آئینوں میں مادھوری کو دیکھنے لگا۔ چند لمحوں کے بعد مادھوری سہیلیوں کو چھوڑ کر ایک بغلی دروازے میں کھس گئی۔ یہ عورتوں کا میک آپ روم تھا۔ اس کمرے کا ایک دروازہ باہر گولف کورس کی طرف کھلتا تھا۔ مادھوری اس دروازے سے کلب کی عمارت کی طرف نکل گئی۔ اگراس کی نگاہیں آئینے پر جمی ہوئی نہ ہو تیں وہ مادھوری کو باہر جاتے ہرگز نہیں دیکھ سکتا تھا۔ سُورج غروب ہو چکا تھا۔ باہر ہمالیہ کی سرد خشک ہوائیں چل رہی تھیں۔ مادھوری کے گداز بدن پر موسم کے مطابق لباس نہیں تھا۔ پروہت کمار نے آئینے میں کیلاش کو دیکھا۔ وہ مسٹر آنند پال اور اگروال کی بیوی کے ساتھ برج کھیل رہا تھا۔ اس نے فوراً کھیل سے ہاتھ نہیں کھینچا۔ جب کچھ دیر بعد اس کی حیثیت ڈمی جیسی رہ گئی تو وہ معذرت کر کے اُٹھ کھڑا ہوا، پھر وہ بھی اس راستے سے باہر گیا اور دو تین منٹ باہر رہ کر دوبارہ کھیل میں شامل ہو گیا جبکہ مادھوری اب تک واپس نہیں آئی تھی۔ پروہیت کمار کا غصہ آسمان پر پہنچ گیا تھا۔ وہ بے وقوف عورت اس مرد کی چند لمحوں کی قربت کے لیے باہر کھڑی ٹھٹھر رہی تھی۔ وہاں اس کے بیٹھنے کے لیے ایک کرسی بھی نہیں تھی۔ یہ کمبینہ مادھوری کو کس قدر ذلیل کر رہا تھا اور وہ بے وقوف اس کی انگلیوں پر ناچ رہی تھی۔ اس کا گلاس ابھی آدھا ہوا تھا۔ وہ گلاس ہاتھ میں تھامے آنند پال کی میز کی طرف بڑھا۔ کیلاش اس وقت ان کے ساتھ برج کھیل رہا تھا۔ کئی جاننے والوں نے اسے اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کی لیکن وہ انہیں نظر انداز کرتا ہوا آنند پال کی میز کی طرف بڑھتارہا۔ ہیلو مسٹر پروہت کمار آو بیٹھو۔ آنند پال نے خوش اخلاقی سے مسکراتے ہوئے اسے قریب کرسی پر بیٹھنے کی دعوت دی لیکن اس کی نگاہیں کیلاش پر جمی ہوئی تھیں۔ کیلاش نے اس کا غیرمعمولی رویہ محسوس کر کے تاش کے پتے میز پر رکھ دیئے اور الجھی ہوئی نظروں سے اس کی طرف دیکھنے لگا۔ اچانک پروہت کمار نے گلاس میں بچی ہوئی شراب کیلاش کے چہرے پر پھینک دی۔ پورے ہال میں گہرا سکوت طاری ہو گیا، ہر کوئی بھونچکا سا ہو گیا۔ ہر شخص اس کو دیکھ رہا تھا۔ آپ ہوش میں نہیں ہیں ؟ آنند پال نے نروس ہو کے کہا۔ سر میں پوری طرح ہوش و حواس میں ہوں۔ کوئی شخص ان کے سر پر پانی ڈال کے انہیں ہوش میں لائے۔ آنند پال نے اونچی آواز میں کہا۔ ان کی آواز مرتعش تھی۔ کسی نے اپنی جگہ سے حرکت نہیں کی۔ پروہت کمار کا چہرہ قہر و غضب کا مجسمہ بنا ہوا تھا۔ کسی کو اس کے قریب جانے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔ وہ سب اپنی اپنی جگہ بت بنے ہوئے تھے۔ اگر کسی نے یہ حرکت کی تو اسے مجھ سے لڑنا پڑے گا۔ وہ گرجا۔ لیکن کیوں ؟ آنند پال نے بے بسی سے دریافت کیا۔ آپ اس کی وجہ جانتے ہیں کہ یہ شخص یہ کمینہ شخص ہر آدھے گھنٹے کے بعد یہاں سے اٹھ کر میری بیوی سے ملنے باھر جاتا ہے۔ وہ باہر گولف کورس میں کھڑی ہے۔ سب کو معلوم ہے اور ہر شخص جانتا کہ پچھلی جمعرات کو وہ میٹنگ یں شریک نہیں ہوا تھا۔ اس دن یہ میری بیوی سے میرے گھر میں محبت کے عہد و پیمان کر رہا تھا۔ تم پاگل ہو گئے ہو پروہت کمار ! تمہیں خود معلوم نہیں تم کیا کہہ رہے ہو۔ بہتر ہے یہاں سے چلے جائو . ورنہ مجھے بھی غصہ آ سکتا ہے۔ اس الزام پر پہلی بار کیلاش نے زبان کھولی۔ پروہت کمار نے خالی گلاس بڑی احتیاط سے میز پر رکھا، پھر بڑی پھرتی سے اس کے منہ پر تھپڑ دے مارا۔ تھپڑ کی آواز گولی کی طرح ہال میں گونج گئی۔ آیا غصہ کھڑے ہو جائو ، میں تم سے لڑنا چاہتا ہوں۔ کیلاش کوئی جواب دینے سے پہلے جھجکا اس نے پہلے آنند پال کی طرف دیکھا۔ وہ کوئی حتمی فیصلہ نہیں کر پا رہا تھا۔ ہیں تم سے نہیں لڑوں گا پروہت ! اس نے فیصلہ کن انداز سے کہا۔ تم اس وقت ہوش میں نہیں ہو۔ تم نے اس وقت بہت زیادہ شراب پی رکھی ہے۔ آنند پال نے اسے پھر ایک مرتبہ سمجھایا۔ ہوش میں آئو مسٹر پروہت کمار ! خاموش ! پروہت کمار ہذیانی انداز میں چلایا۔ اس کی نظریں اب بھی کیلاش پر جمی ہوئی تھیں۔ اس نے آنند پال اسے کہا۔ آپ بیچ میں دخل مت دیں۔ مسٹر پروہت کمار ! میں تمہیں اسی وقت ملازمت سے نکالتا ہوں۔ آنند پال کی آواز کانپ رہی تھی۔ ٹھیک ہے ، مجھے کوئی اعتراض نہیں۔اس نے آنند پال کی طرف دیکھے بغیر کہا۔ کیلاش اپنی نشست سے کھڑا ہو گیا۔ کیلاش کو دیکھنے کے لیے اسے اپنا چہرہ اوپر اٹھانا پڑا لیکن وہ اب بھی اپنی جگہ دلیری سے سینہ تانے کھڑا تھا۔ دفع ہو جائو چو ہے۔ کیلاش نے نفرت بھری آواز میں کہا۔ چلا جا… یہاں سے ، مجھے تجھ پر ترس آتا ہے. ورنہ ایک گھونسا تیری کھوپڑی کے ٹکڑے کر دے گا۔ پروہت کمار نے اپنے اندر ایک عجیب جذباتی طوفان اٹھتا محسوس کیا۔ یہ تجربہ اس کے لیے نیا تھا۔ یہ مثالی جرات اور حوصلے کا جذبہ ، جو اس کا وجود پتھر کی طرح ٹھوس بنا رہا تھا۔ اس نے اپنی رگوں میں خود اعتمادی کی نئی لہر محسوس کی۔ کیلاش ! تمہیں ہر قیمت پر مجھ سے لڑنا ہو گا۔ پروہت کمار نے غراتے ہوئے کہا۔ تم زندہ رہو گے یا میں .. جملہ مکمل کرنے سے پہلے ہی اس نے پوری قوت سے کیلاش کے منہ کی طرف گھونسا گھمایا۔ اس گھونسے کے پیچھے نفرت غصے اور جوش کی بھر پور قوت موجود تھی لیکن یہ قوت اس کی جسمانی قوت سے کم تھی۔ کیلاش نے کسی ماہر باکسر کی طرح اس کا گھونسا اپنے ہاتھ پر روکا اور اس پر جوابی حملہ کیا۔ اس نے کیلاش کا گھونسا اپنی طرف آتے دیکھا لیکن اسے مخالف کا گھونسا روکنا نہیں آتا تھا۔ اسے اپنے ذہن میں بجلی کوندتی محسوس ہوئی۔ آنکھوں کے سامنے نیلے پیلے شرارے اُڑتے نظر آئے۔ دوسرے ہی لمحے اس کا ذہن تاریکی میں ڈوبنے لگا۔

جب پروہت کمار کو ہوش آیا تو اس نے خود کو اپنی خواب گاہ میں پایا۔ خواب گاہ کی روشنی گل تھی۔ اس کے جبڑوں میں شدید ٹیسیں اٹھ رہی تھیں۔ ہر ٹیس پر اس کا پورا جسم ہل جاتا تھا۔ اس نے اندھیرے میں اپنے چہرے پر انگلیاں پھیریں۔ نچلا حصہ سوجا ہوا تھا۔ اس نے دانتوں کے بارے میں سوچا لیکن وہ اس طرف سے اپنا اطمینان نہیں کر سکتا تھا، کیونکہ اس کی انگلی کا ہلکا لمس ٹیس کی شدت میں اضافہ کر دیتا تھا۔ وہ آنکھیں بند کئے خاموشی سے بستر پر لیٹا ہوا تھا۔ اس کا جسم ساکت تھا، صرف ذہن بیدار تھا اور سارے جسم میں درد کی شدید لہر دوڑتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔ تم احمق ہو… پاگل ہو ۔ تم دنیا کے سب سے بڑے بے وقوف ہو۔ اگر تم میں ذراسی بھی عقل ہوتی تو حالات سے سمجھوتہ کر سکتے تھے۔ آخر دُنیا میں دوسرے مرد بھی تو ہیں۔ دوسروں کی بیویاں بے وفا ہوتی ہیں لیکن وہ تمہاری طرح گدھے نہیں ہوتے ہیں۔ وہ نوکری سے نکالے نہیں جاتے۔ وہ خود کو اور بیویوں کو تماشا نہیں بناتے۔ مادھوری خواب گاہ میں داخل ہو کر تیز لہجے میں بولی۔ ہاں پروہت کمار نے دل ہی دل میں اعتراف کیا۔ دوسرے مرد بھی حالات سے سمجھوتہ کر لتے ہیں کاش ! میں بھی سمجھوتا کر لیتا۔ تم خود نہ صرف بر باد ہوئے بلکہ مجھے بھی برباد کر دیا۔ مادھوری برافروختہ ہو کر بولی۔ کیلاش نے مجھے بعد میں سب کچھ بتا دیا۔ ہر طرف اس کا چرچا ہے… بالکل تمہاری وجہ سے … شاید تمہارا یہی مقصد تھا۔ تم اسے مجھ سے دُور رکھنا چاہتے تھے لیکن تم اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکو گے پروہت…! میں جار ہی ہوں۔ مادھوری چلی گئی۔ وہ اسے الوداع بھی نہ کہہ سکا۔ وہ اس کے پُر شکوہ سراپا کو حسرت سے دیکھتا رہا۔ کلب میں جتنی بھی عورتیں آتی تھیں ، ان میں ایک بھی اس کی ثانی نہیں تھی، اس لیے تو کیلاش نے اس طرف متوجہ ہو کر تعلقات استوار کر لیے تھے۔ اسے مادھوری کو کھو دینے کا کوئی دُکھ ، صدمہ اور پچھتاوا اس لیے نہیں ہوا کہ وہ کیلاش کی زندگی سے بھی نکل گئی تھی۔ کیلاش کو اور بھی حسین صورت مل سکتی تھی لیکن مادھوری جیسی نہیں۔ دو ہفتے بعد جب وہ ہفتے کی رات کلب میں داخل ہوا تو اس کی آمد غیر متوقع تھی، جو کوئی بھی محسوس نہ کر سکا۔ وہ بڑی خاموشی سے اندر داخل ہوا تھا۔ کوئی بھی اس کی طرف متوجہ نہ تھا۔ کیلاش کائونٹر پر اگروال بوڑھے کی نوجوان بیوی نندا کے ساتھ بیٹھا تھا جو نہایت حسین تھی۔ وہ خاموشی سے کیلاش کے قریب جا کھڑا ہوا۔ کیلاش اسے دیکھتے ہی کھڑا ہو گیا اور اس کا چہرہ سفید پڑتا چلا گیا۔ ہیلو پروہت … ! اس نے رسمی انداز سے کہا۔ تم یہاں کیا کر رہے ہو ؟ اب تم اس کلب کے ممبر نہیں رہے۔ میں تمہارا مہمان ہوں۔ پروہت کمار نے بڑے اطمینان سے جواب دیا۔ لوگ غیر محسوس انداز سے ان کے گرد جمع ہو رہے تھے۔ کیلاش کچھ سہما ہوا سا نظر آیا تھا۔ وہ شاید اندر ہی اندر خوف زدہ سا تھا۔ ٹھیک ہے ، ٹھیک ہے پروہت ! تم میرے بھائی ہو ۔ اس نے زبردستی ہنسنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔ بیٹھو، کیا پینا پسند کرو گے ؟ کیلاش ! تم میرے لیے کچھ منگوانے کی کوشش مت کرنا۔ اگر تم نے شراب منگوائی تو میں دوبارہ تمہارے منہ پر پھینک دوں گا۔ کیلاش نے نروس ہوتے چاروں طرف کھڑے ہوئے لوگوں کی طرف دیکھا پھر اطمینان سے پوچھا۔ پھر تم کیا چاہتے ہو ؟ میں تم سے لڑنا چاہتا ہوں۔ تمہاری یہ خواہش گزشتہ ہفتے پوری کر دی تھی۔ تم میرا ایک گھونسا برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ کیا اتنا سبق کافی نہیں ہے ؟ نہیں میں نے پہلے بھی تم سے کہا تھا کیلاش ! ہم دونوں میں سے کوئی ایک زندہ رہے گا۔ تم پاگل ہو ۔ کیلاش نے مجمع کو مخاطب کیا۔ یہ پاگل ہے۔ کیلاش ! ہو سکتا ہے کہ تمہارا خیال درست ہو۔ مادھوری مجھے چھوڑ کے چلی گئی ہے۔ تمہیں نہیں معلوم کہ میں اس سے کتنی محبت کرتا تھا۔ ہم دونوں ایک دوسرے سے شدید محبت کرتے تھے۔ ہم دونوں کی زندگی بڑے سکون اور خواب ناک گزر رہی تھی جسے تم نے برباد کر دیا۔ بہت کم بیویاں اپنے شوہروں سے ایسی جذباتی محبت کرتی ہیں۔ کیلاش نے مسکرانے کی کوشش کی۔ مجھے یہ سُن کر بہت ہی افسوس ہوا پروہت۔ یقین کرو وہ میرے پاس نہیں آئی۔ اس بات کا تو مجھے دکھ ہے۔ پروہت کمار نے کہا۔ اگر تم اس سے شادی کر لیتے تو مجھے کوئی شکایت نہ ہوتی لیکن تم میں اتنی شائستگی کہاں ۔۔۔ کہ جب وہ مجھے چھوڑ رہی تھی تو تم کم از کم اسے اپنا لیتے۔ کم از کم وہ سکھی تو رہتی ۔۔ نہ جانے اب وہ کہاں بھٹک رہی ہو گی ؟ کسی کو نہیں معلوم کہ وہ کہاں گئی ؟ نا معلوم وہ کیا کر بیٹھے۔ پروہت ! مجھے بے حد افسوس ہے۔ کیلاش نے سنجیدگی سے کہا۔ وہ اس سے متاثر نظر آرہا تھا۔ خالی افسوس کے اظہار سے کچھ نہیں ہو گا۔ تم دو زندگیاں تباہ کر کے اپنی جان چھڑا نہیں سکتے۔ تم نے اور بھی زندگیاں تباہ کی ہیں۔ تم تو اگروال کا گھر بھی تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہو … بہرحال تمہیں مجھ سے لڑنا ہی لڑنا ہی ہو گا کیلاش…! کیلاش کا چہرہ زرد پڑنے لگا۔ اسے ایسا لگا جیسے پروہت کمار نے اسے اور نندا کو بے لباس کر دیا ہو۔ پروہت کمار نے جو ان دونوں کے بارے میں بتا یا تھا، وہ غلط نہیں تھا۔ اس نے ارد گرد اس طرح سے نظر ڈالی جیسے کسی مددگار کی تلاش میں ہو۔ میں اب تم سے کسی قیمت پر نہیں لڑوں گا۔ کیلاش نے بڑے مضبوط لہجے میں کہا۔ کاش ! میں نے تمہیں گھونسا نہ مارا ہوتا جس کا مجھے اب تک افسوس ہے۔ اب دوسری دفعہ تم سے مقابلہ ہو گا تو وہ قتل ہو گا۔ میں تمہیں قتل کرنا نہیں چاہتا۔ میں جسامت میں تم سے دگنا ہوں۔ ہماری لڑائی کسی طرح مناسب نہیں ہو گی۔ کوئی مقابلہ نہیں ہے میرا اور تمہارا… پروہت کمار نے سنجیدگی سے اثبات میں سر ہلایا۔ درست کہا۔ واقعی ہمارا کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ پھر یہ خیال دل سے نکال دو پروہت! بھول جائو سب کچھ … میں تم سے لڑ نہیں سکتا۔ لیکن لڑنے اور مقابلہ کرنے کے دوسرے طریقے بھی تو ہیں جن میں جسمانی قوت کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی ہے۔ کیلاش نے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا اچانک اس کا چہرہ زرد پڑنے لگا۔ اس کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔ اسے پروہت کمار کی بات کی تہہ میں پہنچنے کے لیے ذرا دیر لگ گئی تھی۔ اس کی آنکھوں سے خوف جھلکنے لگا۔ تم کیا کہنا چاہتے ہو ؟ اس نے تھوک نگلتے ہوئے پوچھا۔ ہم لڑنے کے لیے کوئی ہتھیار استعمال کر سکتے ہیں۔ کچھ ہتھیار ایسے ہوتے ہیں جن کے استعمال کے لیے جسمانی قوت یا تن توش کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ میں ہتھیاروں کا انتخاب بھی تم پر چھوڑتا ہوں۔ تمہاری مراد ڈوئل سے … جو یورپ امریکہ میں لڑی جاتی ہے ؟ جس میں دو حریف کسی چیز کے حصول کے لیے آپس میں مقابلہ … ہاں ہاں پر وہت کمار نے اسے بات پوری کرنے دی۔ اف … پروہت تم پاگل ہو گئے۔ اب وہاں بھی کون ڈوئل لڑتا ہے ؟ اس کے علاوہ یہ غیر قانونی بھی ہے۔ ایک شادی شدہ عورت کی عزت کو داغ دار کرنا بھی تو غیر قانونی ہے۔ ہو گا۔ مگر میں تمہیں قتل کرنا نہیں چاہتا۔ ہاں بھلا تم مجھے قتل کرنا کیوں چاہو گے ؟ تم تو صرف میرا گھر تباہ کرنا چاہتے تھے ، میری زندگی برباد کرنا چاہتے تھے جو تم نے کر دی۔ نہیں … یہ میرا ارادہ ہر گز نہیں تھا۔ تمہار ارادہ نہیں تھا لیکن تم نے یہ کیا۔ اب تمہیں اس کے نتائج بھی بھگتنا چاہئیں۔اس نے کیلاش کے مُنہ پر تھپڑ جڑ دیا۔ کیلاش کا چہرہ سرخ ہونے لگا۔ اس کی آنکھوں میں خون اتر آیا۔ اس نے کائونٹر کا کنارا پکڑ لیا اورخود پر قابو پانے کی کوشش کرنے لگا۔ لے جائو اسے یہاں سے … لے جائو، ورنہ میں اسے جان سے مار دوں گا۔ کیلاش چیخنے لگا۔ کلب کے ملازموں نے فورا آگے بڑھ کر پروہت کمار کو قابو میں کر لیا اور گھسیٹتے ہوئے باہر لے گئے- میں مسٹر کیلاش سے بات کرنا چاہتا ہوں۔ پروہت کمار نے کہا اور ٹیلی فون کا ریسیور کان سے لگائے کیلاش کی آمد کا انتظار کرنے لگا۔ وہ بہت پُرسکون نظر آیا تھا۔ ہیلو ! میں کیلاش بول رہا ہوں۔ دوسری طرف سے آواز آئی۔ میں پروہت کمار ہوں . پہچان گئے ؟ دوسری طرف سے خاموشی چھا گئی، جیسے وہ سوچ رہا ہو کہ ٹیلی فون بند کر ے یا گفتگو جاری رکھے۔ تم اس وقت ایک تقریب میں شریک ہو کیلاش… اس نے کہا۔ ہاں… میں ایک تقریب میں شریک ہوں۔ کیا تم اس وقت میرے ہاں آنا پسند کرو گے ؟ کس لیے ؟ ہندوستانی ڈوئل لڑنے کے لیے … سنو پروہت ! پہلے میری بات سُن لو۔ تو گویا تم یہ نہیں چاہتے کہ تمہارے مہمانوں کو تمہارے بزدل ہونے کا علم ہو… سنو ! اگر تم لڑنے سے انکار کرتے رہو گے تو دو ایک روز شہر کے بچے بچے کی زبان پر تمہاری بزدلی کے چرچے ہوں گے۔ دوسری طرف ایک بار پھر خاموشی چھا گئی۔ چند لمحوں بعد کیلاش کی تھکی تھکی آواز سنائی دی۔ آخر تم کیا چاہتے ہو ؟ میں تم سے لڑنا چاہتا ہوں بس .. ہتھیاروں کا فیصلہ بھی تمہیں کرنا ہے۔ اچھا ٹھیک ہے ، تم نے مجھے مجبور کر دیا ہے۔ اب میرے سامنے اس کے سوا کوئی راستہ نہیں رہا کہ میں واقعی تم سے مقابلہ کروں۔
ٹھیک ہے۔ یہ بتائو کہ تم کون سا ہتھیار پسند کرتے ہو ؟ کس جگہ مجھ سے مقابلہ کرنا چاہتے ہو؟ پروہت کمار کو ہتھیار کے بارے میں کوئی تجربہ نہیں تھا اور نہ ہی معلومات تھیں۔ اس کے علم میں تھا کہ کیلاش کو شکار شوق تھا۔ وہ دو برس ایک رائفل کلب میں اس کا ممبر رہا تھا اور نشانہ لینے میں ماہر تھا۔ اس کی عین توقع کے مطابق کیلاش نے ریوالور کا انتخاب کیا اور پروہت کمار کو اپنے فلیٹ کی عمارت کی چھت پر آنے کی دعوت دی۔ وہ نویں منزل کے ایک فلیٹ میں رہتا تھا۔ پروہت کمار نے جب دو بدو مقابلے کے لیے جگہ کا نام سنا تو فوراً اس کا مطلب سمجھ گیا۔ کیلاش کی سوچ اس کے لیے کھلی کتاب کی مانند تھی۔ کیلاش نے مقابلے کے لیے اپنے فلیٹ کی چھت کا انتخاب کیا تھا۔ اسے غالباً اپنی جیت کا یقین تھا تا کہ پولیس کو بیان دے سکے کہ پروہت کمارا سے قتل کرنے کے ارادے سے اس کے فلیٹ پر آیا تھا، سو ، اس نے اپنے دفاع میں اس کو قتل کر دیا۔ رات گیارہ بجے جب پروہت کمار نے دروازہ کھول کر چھت پر قدم رکھا تو اس کے دل میں خوف کا شائبہ تک نہ تھا۔ آخر وہ موت سے کیوں ڈرتا… موت سے وہ لوگ ڈرتے ہیں جنہیں کسی عزیز چیز کے چھن جانے کا اندیشہ ہوتا ہے یا کوئی چیز حاصل کرنے کی آرزو ہوتی ہے۔ کھونے کے لیے اس کے پاس کچھ نہ تھا اور نہ پانے کی کوئی آرزو تھی۔ وہ مقابلے کے نتائج سے بے پروا تھا۔ ہار جیت اور زندگی کی اس کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں تھی۔ ہاں کیلاش البتہ مقابلے کے نتائج سے فکر مند تھا۔ اس کے سامنے تابناک مستقبل اور خُوب صورت عورتیں تھیں۔ جیت پر تاریکی تھی۔ اوپر تاروں بھرا آسمان کسی شامیانے کی طرح نظر آتا تھا اور ہر طرف میں گہرا سکوت طاری تھا۔ اس نے غور سے نظریں دوڑائیں اور تاریک گوشوں میں جھانکنے کی کوشش کی لیکن اسے کیلاش کہیں نظر نہ آیا۔ کہیں کیلاش نے آخر وقت میں اپنا ارادہ تو تبدیل نہیں کر دیا؟ وہ احتیاط سے قدم اُٹھاتا ہوا چھت کے بیچوں بیچ آکر رک گیا۔ وہیں انہیں دوبدو مقابلے کے اُصولوں کے مطابق آخری بار مصافحہ کر کے ایک دوسرے کی پشت سے پشت ملا کے اور اپنے اپنے ریوالور فضا میں بلند کر کے مخالف سمتوں میں دس دس قدم آگے بڑھنا تھا۔ آخری قدم رکھتے ہی پھرتی سے گھوم کے ایک دوسرے پر گولی چلانا تھی۔ پروہت کمار نے کان لگا کر آہٹ لینے کی کوشش کی۔ نویں منزل کے نیچے سڑک پر ٹریفک کی دھیمی آوازیں سُنائی دیں۔ چھت پر ہوائوں کی سرسراہٹ تھی۔ اس نے غیر یقینی انداز میں کلائی کی گھڑی آنکھوں کے قریب لا کے وقت دیکھا۔ گیارہ بج کر دو منٹ ہو رہے تھے۔ ٹھیک اس وقت ایک زبردست جھٹکے نے اس کے قدم اکھاڑ دیئے۔ گولی اس کے داہنے کندھے پر لگی تھی۔ دوسری گولی اس کی پسلیوں میں اور تیسری اس کے سر سے گزر گئی، کیونکہ اس وقت وہ فرش پر گر رہا تھا۔ کیلاش کا نشانہ بہت اچھا تھا۔ اتنی تاریکی اور اتنے فاصلے کے باوجود اس کی دونوں گولیاں خطا نہیں گئیں۔ وہ لفٹ کی چھت پر آہنی پنجرے کے اندر بیٹھا گولیاں چلارہا تھا۔ پروہت کمار کا ذہن تاریکیوں میں ڈوبتا چلا گیا۔ ہر طرف تاریکی تھی۔ اس نے گردن اُٹھا کر کیلاش کی طرف دیکھنے کوشش کی ، پھر اس کے لبوں پر ایک آسودہ مسکراہٹ پھیلی اور آتما نکل جانے کے بعد فاتحانہ انداز میں اس کے ہونٹوں پر منجمد ہو گئی۔ وہ مجھے قتل کرنے آیا تھا، انسپکٹر، پرکاش ! وہ انسپکٹر سے مخاطب تھا۔ انسپکٹر چھت پر پروہت کمار کی لاش کے قریب اکڑوں بیٹھا تھا۔ ایک طاقتور ٹارچ کی روشنی میں اس کی جیبوں کی تلاشی لے رہا تھا۔ اس نے مجھے ریوالور د کھا کر چھت پر آنے کا حکم دیا۔ وہ مجھے چھت سے دھکا دے کر ہلاک کر نا چاہتا تھا۔ اس نے کئی بار درجنوں لوگوں کی موجودگی میں مجھے قتل کی دھمکیاں دی تھیں، اس لیے میں ہروقت اپنے پاس ریوالور رکھنے لگا آج خوش قسمتی سے ریوالور میری جیب میں تھا۔ مجھے مجبوراً محض اپنی جان بچانے کے لیے اس پر گولی چلانا پڑی۔ آپ کسی سے بھی پوچھ لیں۔ بیوی کے چلے جانے کی وجہ سے اس کا ذہنی توازن خراب ہو گیا تھا۔ وہ بالکل پاگل ہو گیا تھا- آخر تم کیا کہنا چاہتے ہو مسٹر ! انسپکٹر نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کرخت لہجے میں کہا۔ یہ کم زور سا آدمی … تم نے اسے گولیوں سے چھلنی کر دیا۔ اس کے پاس ریوالور تو درکنار چاقو تک نہیں ہے۔یہ سن کر کیلاش سناٹے میں آگیا۔ وہ پروہت کمار کے لگائے ہوئے پھندے میں پھنس چکا تھا۔

Latest Posts

Related POSTS