Purasrar Qatil | Last Episode 3

519
’’میں بہت سی باتوں سے واقف ہوں ڈاکٹر۔‘‘ انسپکٹر اصغر شاہ نے بھاری آواز میں کہا۔ پھر وہ دونوں ڈاکٹروں کو اسحاق، انیس ریاض، میمونہ صدیقی اور پروفیسر اقبال کے بارے میں بتانے لگا۔ اس نے انہیں عینی سے ملاقات اور اس کے بعد کی کیفیت کا احوال بھی سنا دیا اور پھر شاہ پور میں عمران کی موت کے بارے میں بھی بتایا۔
’’کیا تم سمجھتے ہو کہ سعید خان کو ڈاکٹر عینی نے مارا ہے؟‘‘ ڈاکٹر راشد نے پوچھا۔
’’ہاں! مجھے یقین ہے کہ عینی نے ہی سعید خان کو قتل کیا ہے۔‘‘
’’مگر کیسے؟‘‘
’’میں یہی جاننے کی کوشش کررہا ہوں۔ تم نے کہا تھا کہ یہ ناممکن ہے۔ مجھے اس بات کا یقین ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اس کی قاتل عینی ہی ہے۔ یقین کرو ڈاکٹر، ہمارے درمیان ایک ایسی عورت موجود ہے جو بغیر ہاتھ لگائے آدمی کی گردن توڑ سکتی ہے اور یہ بے حد خوفناک بات ہے۔‘‘ وہ ڈاکٹر کامران کی طرف مڑا۔ ’’کیا تم نے اقبال کے بارے میں کچھ پتا چلایا؟‘‘
’’ہاں! اس کی عمر ستّر سال ہے۔ وہ میڈیکل یونیورسٹی میں نفسیات کا پروفیسر تھا۔ بیس سال قبل وہ پیراسائیکالوجی کے تجربات کررہا تھا اور کسی قدر کامیاب بھی ہوا تھا۔ پھر اچانک اس نے یہ کام چھوڑ دیا اور پیرا کاسماٹکس کی طرف متوجہ ہوگیا۔ اب وہ ریٹائرڈ ہوگیا ہے اور دارالحکومت میں ہے۔ میں نے آج رات اس سے ملاقات کا وقت طے کرلیا ہے۔‘‘
’’ڈاکٹر کامران! تم واقعی ایک ذہین آدمی ہو۔‘‘ اصغر نے اسے تحسین آمیز نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔
پھر تینوں روانہ ہوگئے۔
٭…٭…٭
رات نو بجے اصغر شاہ، پروفیسر اقبال کے دروازے پر دستک دے رہا تھا۔ دروازہ ایک ملازم نے کھولا۔ سامنے انہیں ایک ادھیڑ عمر خاتون دکھائی دیں جو ایک بردبار عورت نظر آتی تھیں۔ اصغر نے اندازہ لگا لیا کہ یہ مسز اقبال کے سوا اور کوئی نہیں ہوسکتیں۔ وہ انہیں لیے اندر نشست گاہ میں آگئیں جہاں پروفیسر اقبال ان کا منتظر تھا۔ اس نے کھڑے ہوکر ان کا استقبال کیا۔
’’ڈاکٹر اقبال!‘‘ اصغر نے کہا۔ ’’میں ایک قتل کی تفتیش کررہا ہوں۔ اس میں ایک خاتون ڈاکٹر عینی انیس ملوث ہیں۔ کیا آپ ان سے واقف ہیں؟‘‘ ڈاکٹر عینی کا نام سن کر پروفیسر اقبال چونک پڑا۔ ’’کیا یہ عورت قتل کے وقت اس کمرے میں موجود تھی؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’ہاں!‘‘ اصغر بولا۔ ’’مقتول، دو آدمیوں کے ساتھ اس کے گھر چوری کرنے کے لیے گیا تھا۔‘‘
’’عینی انیس!‘‘ اقبال نے ایک گہری سانس لی اور کرسی کی پشت سے کمر ٹکا کر آنکھیں بند کرلیں۔ پھر خلا میں گھورتا ہوا بولا۔ ’’میں سمجھا تھا کہ اب مجھے یہ نام کبھی نہیں سننا پڑے گا۔ میں تم لوگوں کو ضرور بتائوں گا کہ کیا ہوا تھا لیکن پہلے میں یہ بتا دوں کہ میں نے اسے روکنے کی پوری کوشش کی تھی۔ میں نے اسے خبردار کیا تھا۔ مگر اس نے میری ایک نہ سنی اس لیے جو کچھ ہوا، میں اس سے بری الذمہ ہوں لیکن اتنے سالوں بعد…‘‘ وہ چپ ہوگیا۔ پھر چند لمحوں بعد بڑبڑایا۔ ’’آہ! خدا مجھے معاف کرے۔‘‘
کمرے میں یکایک سناٹا طاری ہوگیا۔ وہ سب پروفیسر ڈاکٹر اقبال کی صورت دیکھ رہے تھے۔ اقبال کے چہرے سے لگتا تھا جیسے وہ سخت اندرونی کشمکش میں مبتلا ہو۔ بالآخر وہ بولنے لگا۔ وہ بولتا رہا اور وہ سب حیرت سے منہ پھاڑے ساکت بیٹھے اس کی داستان سنتے رہے۔
٭…٭…٭
عینی کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ سعید خان کی فائل کہاں چھپائے۔ اس نے ایک ایکسرے فوٹو نکالا اور بلب کی طرف کرکے دیکھنے اور سوچنے لگی کہ جانے ڈاکٹر راشد ملک نے اس سے کیا نتیجہ نکالا تھا؟ لیکن اسے یقین تھا کہ وہ اس کی موت کا سبب نہیں جان سکا ہوگا اور نہ ہی وہ تفتیشی افسر اصغر شاہ۔
اصغر شاہ! اسے یوں لگا جیسے وہ قریب ہی کھڑا اس کی طرف دیکھ رہا ہو۔ اس نے ایکسرے دوبارہ فائل میں رکھا اور فائل کو اپنی میز کی دراز میں رکھ دیا۔ اسے یہ فائل چُرانے میں عجلت نہیں کرنی چاہیے تھی۔ یہ اس سے حماقت ہوگئی لیکن اس رپورٹ اور ایکسرے کے بغیر وہ کیا کرسکتا تھا؟ اس کے پاس ثبوت تھے یا نہیں لیکن عینی کو یقین تھا کہ وہ اس کے پیچھے پڑ گیا تھا۔ وہ خاصا خوبصورت اور وجیہ آدمی تھا۔ دلفریب نقوش اور خود اعتمادی سے بھرپور آنکھیں۔ لیکن وہ ڈائننگ روم میں بیمار ہوگیا تھا۔ وہ ڈر گیا تھا شاید، اب وہ اس کے بارے میں کیا سوچ رہا تھا اور کیا کررہا تھا؟ وہ نہیں جانتی تھی۔
وہ ایک خطرناک آدمی تھا جبکہ ڈاکٹر راشد بے ضرر تھا جب تک کہ اس کے پاس نعم البدل موجود تھا۔ اس کے ذہن میں پھر برفانی غاروں کے دھانے کھل گئے۔ اسے اس احساس سے نفرت تھی لیکن وہ اس کا پیچھا ہی نہیں چھوڑتا تھا۔ کاش! اصغر شاہ اسے نہ چھیڑتا، اس کے پیچھے نہ پڑتا لیکن وہ جانتی تھی کہ انسپکٹر اصغر شاہ اپنی دھن کا پکا ہے۔ اس کے اندر ٹھنڈ کا احساس کچھ اور گہرا ہوگیا۔ یہ احساس اس رات بھی تھا جب سعید خان مرا تھا اور پھر جمیل۔ مگر وہ ان درد انگیز یادوں کو عرصہ ہوا اپنے ذہن میں دفن کرچکی تھی لیکن یہ ٹھنڈ اس کے ذہن کو تلپٹ کررہی تھی۔ جمیل، وہ اس وقت اس سے بڑا پینتالیس، سینتالیس سال کا ہوتا؟ اگر زندہ ہوتا۔
٭…٭…٭
دوسرے طلبہ کے ساتھ عینی بھی آپریشن ٹیبل کے قریب کھڑی ہوئی تھی جہاں سرجن ایک بندر کا سینہ چیر کر اس کے دل کے بارے میں لیکچر دے رہا تھا۔ عینی کی نظریں بندر کے دھڑکتے ہوئے دل پر جمی ہوئی تھیں۔ وہ اندر ہی اندر رو رہی تھی۔ اسے بندر پر بے حد رحم آرہا تھا۔ سرجن کے لیکچر کا ایک لفظ بھی اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔ پھر جب بندر کا دل ساکت ہوگیا تو اسے احساس ہوا کہ اس کے رخساروں پر آنسو بہہ رہے ہیں۔ وہ چپکے سے باہر آگئی اور سنسان ہال کے ایک ستون سے ٹک کر رونے لگی۔
’’میڈیکل اسٹوڈنٹ!‘‘ اس نے ایک نرم آواز سن کر بھیگی آنکھیں اٹھائیں۔ وہ تیس بتیس سال کا ایک درازقد اور بھاری جسم والا شخص تھا۔ اس کے بھورے بال بکھرے ہوئے تھے اور مونچھیں بھی بے ترتیب تھیں۔
عینی نے اس کی طرف دیکھ کر ہولے سے اپنا سر اثبات میں ہلا دیا۔ پھر کہا۔ ’’وہ… وہ بندر مر گیا نا۔ اس کا دل اچانک بند ہوگیا۔ بے چارہ!‘‘
’’اگر وہ کوئی مریض ہوتا تو تمہاری کیا حالت ہوتی؟‘‘ اس نے ہمدردانہ لہجے میں کہا لیکن فوراً ہی اسے اپنی غلطی کا احساس ہوگیا۔ عینی دونوں ہاتھوں سے منہ چھپا کر رونے لگی۔
’’اوہ مس! معاف کرنا۔‘‘ وہ جلدی سے بولا۔ ’’مجھے ایسی بات نہیں کہنی چاہیے تھی۔‘‘
عینی روتی رہی۔ جب اس نے دوبارہ سر اٹھایا تو وہ ابھی تک وہیں کھڑا تھا۔ ’’اب کیسی طبیعت ہے؟‘‘ اس نے نرمی سے پوچھا۔
’’بہتر ہوں۔ شکریہ۔ مسٹر!‘‘
’’انیس۔ ڈاکٹر انیس ریاض۔‘‘ وہ بولا۔
عینی نے اپنی سوجی ہوئی آنکھوں سے اسے دیکھا۔ انیس چند لمحوں کے بعد آگے بڑھ گیا۔ موڑ پر پہنچ کر اس نے پلٹ کر دیکھا اور عینی کی نگاہوں سے اوجھل ہوگیا۔ عینی کا جی چاہا کہ اس کے پیچھے جائے۔ اس نے ایک قدم اٹھایا بھی مگر اسی وقت تھیٹر کا دروازہ کھلا اور لڑکے، لڑکیاں باتیں کرتے، قہقہے لگاتے باہر آگئے۔
چار بج گئے تھے۔ یہ گھر جانے کا وقت تھا۔ وہ جاکر لباس بدلنے لگی۔ تب اس کا منہ بن گیا جب اس کی ماں ثمن نے اسے بتایا کہ جمشید، ردا اور سہیل آئے ہیں۔ ماں کے بقول وہ ان کے دور کے رشتے دار تھے۔ آج کل اس کے رشتے کی بات چل رہی تھی مگر عینی کو کوئی پسند نہیں آتا تھا۔ وہ اپنی پڑھائی مکمل کرنا چاہتی تھی۔ پھر بھی اس کی ماں گھر میں کسی نہ کسی رشتے دار لڑکے اور لڑکیوں کو گھسائے رکھتی تھی۔ لڑکی اس لیے کہ عینی کا دل بہلا رہے۔ وہ تینوں اکثر آتے جاتے رہتے تھے۔ اس وقت بھی
ان کی آوازیں سن کر اسے کوفت ہونے لگی۔
’’پتا نہیں کیوں یہ لوگ میرے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔‘‘ اس نے ایک دن اپنی ماں ثمن سے شکوہ کیا۔
’’وہ تمہیں پسند کرتے ہیں ڈیئر۔‘‘ ثمن اس سے جھوٹ بولتی۔ اپنی بیٹی سے جھوٹ بولنا اب اس کی عادت بن گئی تھی۔
’’ہونہہ… پسند… اور مجھے۔‘‘ عینی طنزیہ کہتی۔ اسے پتا تھا کہ جمشید کو اس سے نہیں بلکہ اس کے باپ کی دولت سے دلچسپی تھی۔ سہیل کا معاملہ درمیان میں تھا۔
’’جمشید مجھ سے نفرت کرتا ہے ممی۔ اسے صرف پاپا کی دولت سے دلچسپی ہے۔‘‘
’’بری بات، ایسا نہیں کہتے۔ میرا خیال ہے سہیل کے مقابلے میں جمشید تمہیں زیادہ پسند کرتا ہے۔‘‘ ثمن بولی۔
عینی نے اگر جمشید کے بارے میں ماں سے ایسا کہا تھا تو کچھ غلط نہیں تھا۔ ابتدا میں جمشید نے اس کے دل میں کسی حد تک جگہ بنا لی تھی۔ پھر ایک دن تنہائی میں جب دونوں ایک دوسرے سے باتیں کررہے تھے تو اچانک جمشید کو جانے کیا ہوا کہ اس کے چہرے پر ہوائیاں اُڑنے لگیں۔ عینی پریشان ہوگئی۔ جمشید اسے آنکھیں پھاڑے تکتا رہا اور پھر خوف زدہ سی نظروں سے دیکھتا ہوا کمرے سے کیا، گھر سے ہی نکل گیا۔ اس نے گھر پہنچ کر ہی دم لیا۔ وہاں اس کے چھوٹے بھائی نے اس کے دوست جمیل کو بٹھا رکھا تھا۔
’’کیا ہوا دوست! خیریت تو ہے؟ یہ تمہارے چہرے پر بارہ کیوں بج رہے ہیں؟‘‘ اس نے سوال کیا۔
یہ اس کا رازدار دوست تھا۔ اس نے عینی کے بارے میں اسے بتا رکھا تھا۔ بولا۔ ’’میں ابھی عینی سے مل کر آرہا ہوں۔‘‘
’’تو کیا ہوا پھر، کیا اس کے سر پر سینگ نکل آئے ہیں؟‘‘ جمیل مسکرایا۔
’’سینگ ہوتے تو بھی کوئی بات نہ تھی۔‘‘ جمشید نے جواب میں کہا۔
’’تو پھر؟‘‘ جمیل مستفسر ہوا۔
’’وہ بدصورت نہیں ہے مگر یار! میں اس کے ساتھ زیادہ دیر نہیں چل سکتا۔ وہ بڑی پُراسرار سی لڑکی ہے۔ بھاڑ میں جائے اس کی دولت۔‘‘
’’دولت۔‘‘ جمیل چونک پڑا۔
’’ہاں! وہ بہت دولت مند باپ کی بیٹی ہے۔‘‘ جمشید نے بتایا۔
’’اچھا! تو یہ بات ہے۔‘‘ جمیل یہ سن کر کسی سوچ میں گم ہوگیا۔
تھوڑے دن بیتے کہ جمیل نے جمشید کے توسط سے عینی کی جانب قدم بڑھانے شروع کردیئے۔ اس نے سوچا کہ جمشید بے وقوف ہے۔ نجانے اپنے دل میں کس وہم کو جگہ دے بیٹھا ہے۔ عینی اچھی بھلی لڑکی ہے۔ خوبصورت اور دولت مند ہے۔ عینی نے بھی سرسری انداز میں جمشید کے دوست کی حیثیت سے جمیل سے راہ و رسم کرلی تھی۔ ثمن خوش تھی کہ چلو کسی کے ساتھ تو اس کی جان پہچان ہوئی۔ وہ اپنی بیٹی کے سلسلے میں بہت پریشان رہنے لگی تھی۔ کوئی بھی لڑکا زیادہ دیر تک اس کی بیٹی کے ساتھ رہنا پسند نہیں کرتا تھا۔ مجبوری کی بنا پر وہ یہ تک سوچنے لگی تھی کہ دولت کے لالچ میں ہی سہی، کوئی لڑکا پھنس تو جائے۔ اب جمیل کو دیکھ کر اسے کچھ آس بندھی تھی۔
ایک دن ماں کے اصرار پر ناچار عینی نے جمیل کے ساتھ ایک ریسٹورنٹ میں چائے پی۔
’’آج تم بے حد حسین لگ رہی ہو عینی۔‘‘ عینی کی طرف مخمور نظروں سے دیکھتے ہوئے جمیل نے کہا۔ عینی کو حیرت تھی کہ یہ اب تک اسے دیکھ کر بھاگا کیوں نہیں؟ کیا اس کا آسیب اتر چکا تھا جو اسے کسی موذی کی طرح اس کی جان سے چمٹا ہوا تھا۔
’’شکریہ۔‘‘ عینی نے بے تاثر انداز میں جواب دیا۔
’’سچ مچ، تم واقعی بہت حسین ہو۔‘‘ جمیل اس کی جانب دیکھ کر پیار سے بولا۔ اس لڑکی کی صورت میں اسے عینی نہیں بلکہ دولت کا وہ ڈھیر نظر آرہا تھا جو اس کے باپ کے پاس تھا۔ عینی نے اسی لہجے میں دوبارہ اس کا شکریہ ادا کردیا۔ پھر جب وہ کافی دیر تک باتیں کرتے رہے اور کچھ نہیں ہوا تو عینی خوش ہوگئی۔ گویا جمیل وہ واحد لڑکا تھا جو اس کے ساتھ بالآخر سیٹ ہوگیا تھا۔ ماں نے اسے سمجھا دیا تھا کہ زندگی کی بعض مجبوریوں کی تلخیوں کو کڑوا گھونٹ سمجھ کر پی لینا چاہئے۔ ایک دن آتا ہے کہ یہی تلخیاں میٹھی ثابت ہونے لگتی ہیں۔
ادھر جمیل نے جب جمشید کو ساری باتیں بتائیں تو وہ حیران ہوا اور قدرے خوف زدہ بھی۔ اس نے پوچھا۔ ’’لیکن کیا تم نے اس سے ملاقات کے دوران کچھ نہیں محسوس کیا؟ کوئی عجیب سی بات، حیرت انگیز سی یا قابل نفرت بات۔‘‘
’’بہت ساری باتیں محسوس کی تھیں میں نے۔‘‘ جمیل اسرار بھرے انداز میں مسکرا کے بولا۔
’’کیا… کیا…؟ بتائو؟‘‘ جمشید بے قراری سے بولا۔
’’یہ کہ اس نے انتہائی قیمتی سوٹ زیب تن کر رکھا تھا۔ مہنگا پرس تھا۔ بارہ ہزار کی رسٹ واچ اور پچیس لاکھ کی نئی چمچماتی کار میں بیٹھ کر وہ آئی تھی۔ پھر وہ خاصی حسین ہے۔ اس کے ماں باپ نے لگتا ہے بڑی نازو نعم کے ساتھ اس کی پرورش کی ہے۔ وہ ان کی بے حد لاڈلی بیٹی ہے اور یقیناً ان کا ہونے والا داماد بھی خوب عیش میں رہے گا۔‘‘
’’مجھے یقین نہیں آتا کہ تم دونوں میں اس قدر انڈر اسٹینڈنگ ہوگئی ہے اور تم اس سے خوف زدہ ہوکے نہیں بھاگے۔‘‘ جمشید کو ابھی تک یقین نہیں آرہا تھا۔ ’’یا پھر تم نے جبر سے کام لیا ہے۔ دیکھو دولت کے لالچ میں کہیں مارے نہ جانا دوست۔‘‘ پھر وہ کچھ الجھے ہوئے انداز میں بڑبڑایا۔ ’’جبر سے تو میں نے بھی کام لینے کی کوشش کی تھی مگر پتا نہیں کیوں اس کے باوجود میں اس کی پُراسراریت کو برداشت نہیں کر پایا تھا۔ ایک انجانے سے خوف نے مجھے گھیر لیا تھا۔ میرا دل بند ہونے کے قریب ہوگیا تھا۔‘‘
’’تمہیں یقین نہیں آرہا ہے تو پھر کل ہم دونوں کو ساتھ بیٹھے باتیں کرتے دیکھ لینا۔‘‘
’’تت… تو کیا کل تم دونوں پھر ملو گے؟‘‘
’’ہاں! اسی ریسٹورنٹ میں!‘‘
’’اچھا ٹھیک ہے۔ میں ایک گوشے میں بیٹھ کر تم دونوں کو دیکھوں گا مگر میرے بارے میں عینی کو مت بتانا کہ میں آس پاس بیٹھا ہوں۔‘‘
’’بالکل نہیں بتائوں گا۔‘‘ جمیل مسکرایا۔
اس نے محسوس کیا کہ جمشید کچھ پریشان نظر آرہا تھا۔ پوچھنے پر اس نے بتایا۔ ’’تم اس سے محتاط رہنا۔ مجھے یقین ہے کہ تم اس لڑکی میں ضرور کوئی حیرت انگیز بات محسوس کرو گے۔ ایسی بات جو تمہیں اس سے ایک دم خوف زدہ کردے گی اور پھر تم اس سے دور بھاگو گے۔ اس عجیب لڑکی کو دیکھ کر مجھے وہ باز یاد آتا ہے جسے میں نے بچپن میں جنگل سے پکڑا تھا۔ میں اپنے والد کے ساتھ شکار پر گیا تھا اور وہ باز کا بچہ درخت کی جڑ میں پڑا ہوا تھا۔ میں اسے گھر لے آیا اور اس کی بڑے پیار سے پرورش کی۔ پھر جب وہ بڑا ہوگیا تھا، اس نے میرے ہاتھ پر بری طرح کاٹ لیا۔ میں نے اس کی طرف گھور کر دیکھا اور معلوم ہے جمیل! میں نے کیا دیکھا۔ وہ بھی مجھے گھور رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں بڑی اجنبیت تھی جیسے وہ مجھے جانتا نہ تھا۔ اس دن میں نے خود کو بڑا تنہا محسوس کیا۔ مجھے اس کی آنکھوں سے بے حد ڈر لگا، پھر میں نے اسے اُڑا دیا۔‘‘
’’تمہارے خیال میں عینی کی آنکھیں اس باز کی طرح ہیں؟‘‘ جمیل نے پوچھا۔
’’ہاں! وہ بالکل اجنبی لڑکی ہے۔ اپنے آپ سے بھی اجنبی۔ میں جب بھی اس لڑکی کی طرف دیکھتا تو میرے جسم میں سنسنی کی ایک نامعلوم سی لہر دوڑ جاتی تھی اور وہ باز یاد آجاتا تھا لہٰذا میں بھاگ آیا۔ میں ایک اچھے دوست کے ناتے مشورہ دوں گا کہ تم اس سے دور ہوجائو۔ کہیں دولت کے لالچ میں اندھے مت ہوجانا۔ مالدار لڑکیاں بہت پڑی ہیں اس دنیا میں۔‘‘
اس کی بات سن کر جمیل ہنس کر بولا۔ ’’تمہارے خلوص کا شکریہ۔ مگر میں نے اب تک اس میں کوئی عجیب بات نہیں دیکھی۔ سنی سنائی باتوں کی وجہ سے بھی وہم ہونے لگتا ہے انسان کو۔ میں اسے نہیں چھوڑ سکتا۔ تم پہلے تماشا دیکھ لو، کل آنا ضرور۔‘‘
مقررہ وقت پر جمیل اور عینی ریسٹورنٹ میں آکر بیٹھ گئے۔ تھوڑی دیر بعد جمشید بھی وہاں آگیا مگر ان کی نگاہوں سے بچتا ہوا قریب کی میز پر اس طرح بیٹھ گیا کہ ان دونوں پر نظر رکھ سکے۔ جمیل کو تو پتا تھا مگر عینی کو


نہیں معلوم تھا کہ جمشید قریب میں موجود ہے، ان کی طرف بہ غور دیکھ رہا ہے۔
جمیل اور عینی ایک دوسرے سے ہنس ہنس کر باتیں کررہے تھے۔ دونوں میڈیکل کے ایک ہی سال میں تھے۔
’’تم آج کل کیا کررہے ہو؟‘‘
’’ہم سائیکوسومیٹک پر تجربات کررہے ہیں۔‘‘ جمیل نے جواب دیا۔
’’ہم سے کیا مراد ہے؟‘‘
’’آصف اقبال، سائیکالوجی کے پروفیسر ہیں۔ وہی اس پروجیکٹ کے ہیڈ ہیں اور میں ان کا نائب۔ ہم لوگ سائیکوسومیٹک اور ٹیلی پیتھی کے درمیان رابطہ دریافت کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ڈاکٹر اقبال کا خیال ہے جب خیالات انسان کی اندرونی کیفیت کو بدل سکتے ہیں تو انہی خیالات کی لہریں باہر کی چیزوں پر بھی اثرانداز ہوسکتی ہیں۔‘‘
’’تمہارا اس بارے میں کیا خیال ہے؟‘‘ عینی نے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے دریافت کیا۔
’’بکواس!‘‘ جمیل بولا۔ ’’میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی۔‘‘
کوئی چیز عینی کے ذہن سے ٹکرائی۔ وہ جمیل کو خاموش کردینا چاہتی تھی تاکہ اس چیز کو پہچان سکے۔ ’’کیا چیز ہے؟ شیشے کی چمکدار کوئی لمبی سی چیز گلدان جیسی۔‘‘
’’کیا؟‘‘ وہ یکدم چلّائی۔ چمکدار شے اس کے ذہن سے غائب ہوگئی۔ اس کی آنکھوں سے یوں لگ رہا تھا جیسے وہ اچانک نیند سے جاگی ہو۔ اس کی بڑی بڑی ویران آنکھیں جمیل پر جمی ہوئی تھیں۔ جمیل کو اچانک یوں لگا جیسے اس کے بدن کے سارے مسام کھل گئے ہوں، اس کے کان سن ہوگئے۔ چاروں طرف کی آوازیں ایک دم بند ہوگئیں جیسے وہ خلا میں آگیا ہو تو جمشید نے سچ ہی کہا تھا۔ اس نے سوچا مگر اس کیفیت پر وہ قابو پانے کی کوشش کرتا رہا۔ اس کا بایاں گھٹنا لرز رہا تھا۔ اس نے دائیں بائیں گردن گھمائی۔ آدمی آجا رہے تھے مگر آوازیں نہیں تھیں۔ یقیناً ان کے چلنے سے آواز پیدا ہورہی ہوگی۔ پھر سحر ٹوٹ گیا۔ وہ قدموں کی چاپ سن رہا تھا۔ پھر برتنوں کے کھنکنے کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ وہ اپنی اصل حالت پر آچکا تھا۔ اس کے منہ سے اطمینان بھری سانس خارج ہوئی۔
عینی اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں خوف لرز رہا تھا۔ اب سب کچھ ختم ہوجائے گا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ جمیل نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
’’کوئی بات نہیں۔‘‘ وہ مسکراتا ہوا بولا۔ ’’سب ٹھیک ہے۔‘‘ اس نے اپنے تئیں عینی کو تسلی دینی چاہی مگر خود اسے اپنی آواز کہیں دور سے آتی محسوس ہوئی تھی۔
عینی کو یوں لگا جیسے وہ کسی اجنبی زبان میں بات کررہا ہو۔ دو آنسو اس کے رخساروں پر لڑھک آئے۔ پھر وہ مسکرا دی۔ اس کی ویران آنکھوں میں زندگی دوڑ گئی۔ جمیل نے ایسی حسین مسکراہٹ کسی کے ہونٹوں پر نہیں دیکھی تھی۔ اس وقت عینی اسے دنیا کی حسین ترین لڑکی نظر آرہی تھی۔
’’اگلے سنیچر کو ملیں گے۔‘‘ اس نے پیار بھری حلاوت سے کہا۔
’’ہاں ٹھیک ہے، اسی جگہ۔‘‘ عینی بھی دلنشین انداز میں مسکرائی۔
دونوں جدا ہوگئے۔
’’میں نے صاف طور محسوس کیا تھا کہ تم اور عینی…‘‘ جمشید نے جمیل سے کچھ کہنا چاہا مگر جمیل نے اسے مزید کچھ کہنے سے منع کردیا۔ عینی کے جاتے ہی وہ اس کے پاس چلا آیا تھا۔ ’’تم نے دیکھ لیا مجھے کوئی فرق نہیں پڑا۔‘‘ جمیل نے سنجیدہ لہجے میں کہا۔
٭…٭…٭
صبح سو کر اٹھی تو جمیل کا تصور اس کے ذہن پر غالب تھا۔ وہ بہت خوش تھی۔ اسے شاید جمیل سے محبت ہوگئی تھی۔ ماں اس کی خوشی کو تاڑ گئی۔ اس نے ماں کے گلے میں بانہیں ڈال کر کہا۔ ’’ممی! میں بہت خوش ہوں۔ میرا خیال ہے مجھے ایسا ساتھی مل گیا ہے جو میری ہر خامی کے باوجود مجھے چاہنے لگا ہے۔ جمیل بہت اچھا ہے ممی۔‘‘
’’او مائی سوئیٹ ڈاٹر! یہ بہت اچھی بات ہے۔‘‘ ثمن پیار بھرے لہجے میں بولی۔
اگلے دن جمیل نے عینی کو بتایا کہ پروفیسر اقبال کے ساتھ کل شام میٹنگ ہے، اس میں شرکت کرنے کے بارے میں کیا خیال ہے؟ عینی نے کچھ سوچ کر فوراً ہامی بھر لی تھی۔
سوموار کی شام کو وہ دونوں پروفیسر اقبال کے انسٹی ٹیوٹ پہنچے۔ ہال میں دس بارہ لڑکے لڑکیاں بیٹھے تھے۔ جمیل نے عینی کو ایک خالی کرسی پر بٹھایا اور خود پروفیسر اقبال کے پاس چلا گیا۔
پروفیسر بڑی دیر تک انہیں ذہنی قوت، خیالات کی لہروں، توجہ، ارتکاز اور ٹیلی پیتھی پر لیکچر دیتا رہا۔ پھر بولا۔ ’’اب مسٹر جمیل کاغذ کا ایک جہاز اُڑائیں گے۔ ظاہر ہے وہ اُڑتا ہوا سامنے کی دیوار سے ٹکرائے گا۔ آپ سب لوگ اپنی توجہ اس پر مرکوز کریں اور کوشش کریں کہ جہاز دیوار سے ٹکرانے کی بجائے واپس لوٹ جائے۔‘‘
پورا گروپ سنبھل کر بیٹھ گیا۔ عینی دلچسپ نگاہوں سے ان کی طرف دیکھ رہی تھی۔ جمیل نے میز پر سے کاغذ کا بنا ہوا ایک جہاز اٹھایا اور اسے فضا میں دیوار کی طرف اچھالا۔ کاغذی جہاز اڑتا ہوا دیوار سے ٹکرایا اور نیچے گر پڑا۔ اس نے دوسرا جہاز اٹھا کر اڑایا۔ سب لوگوں کی نظریں جہاز پر جمی ہوئی تھیں۔ عینی بھی جہاز کو دیکھ رہی تھی۔ اس جہاز کا بھی وہی حشر ہوا۔ پھر تیسرا اور چوتھا جہاز بھی دیوار سے ٹکرا کر زمین پر گر پڑا۔ عینی بور ہونے لگی۔ نہ جانے یہ سلسلہ کب ختم ہوگا۔ اس نے بیزاری سے سوچا۔ ادھر جمیل نے پانچواں جہاز چھوڑا۔ عینی نے جہاز کی طرف دیکھا۔ اس کا بھی وہی حشر ہونا تھا لیکن جہاز دیوار سے کچھ فٹ ادھر رک گیا۔ وہ مڑا اور اُڑتا ہوا میز پر آگیا۔ پورے ہال کو جیسے سانپ سونگھ گیا۔
پروفیسر اقبال حیرت سے سب کی شکلیں دیکھ رہے تھے۔ انہیں یقین نہیں آرہا تھا کہ جہاز واقعی پلٹ کر اپنی جگہ آگیا ہے۔ انہوں نے دائیں اور بائیں جانب کی دیواروں کی طرف دیکھا۔ خودکار ٹی وی کیمرے کام کررہے تھے۔ اس نے پھر جمیل کو جہاز اڑانے کا اشارہ کیا۔ سب لوگوں کی نظریں ایک بار پھر جہاز کے ساتھ متحرک ہوگئیں۔ عینی بھی جہاز کو گھور رہی تھی۔ جہاز پھر مڑا اور اڑتا ہوا آہستگی سے میز پر آگیا۔
’’آپ نے دیکھا۔‘‘ پروفیسر کی آواز گونجی۔ ’’انسانی ذہن کتنا قوی ہے۔ اب یہ میٹنگ ختم کرتے ہیں۔ اگلے سوموار کو اسی وقت پھر ملیں گے۔‘‘ سب لوگ اٹھ کر چلے گئے۔ عینی بھی اٹھی۔ جمیل اس کے قریب آگیا۔
’’عینی!‘‘ اس نے کچھ کہنا چاہا مگر پروفیسر اس کے قریب آگیا اور بولا۔ ’’ابھی تم یہیں رکنا جمیل!‘‘
’’بہتر سر۔‘‘ اس نے کہا اور پھر عینی سے بولا۔ ’’پھر ملتے ہیں۔ میں فون پر بات کرتا ہوں تم سے… بائی۔‘‘
’’یہ کیا ہوا سر؟‘‘ عینی کے جانے کے بعد جمیل نے پوچھا۔
’’مجھے خود معلوم نہیں ایسا کیسے ہوگیا۔‘‘ پروفیسر نے آہستگی سے کہا۔ ’’لیکن اتنا یقین ضرور ہے کہ یہ معجزہ نہیں، محض انفرادی قوت کا کرشمہ ہے۔ ان لڑکے لڑکیوں میں کوئی ایسی شخصیت ضرور ہے جس نے جہاز کا رخ موڑ دیا تھا۔ اگلے سوموار کو ہم ان کا انفرادی طور پر انٹرویو لے کر اس شخصیت کو تلاش کرنے کی کوشش کریں گے لیکن جمیل! کیا تمہیں اندازہ ہے کہ یہ شخصیت کتنی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے؟‘‘
’’بلاشبہ سر! وہ حیرت انگیز قوت کی مالک ہے۔‘‘ جمیل نے کہا۔
’’اگر تمہیں اس کا علم ہوجائے تو تم کیا کروگے۔ تم اس کے بارے میں کیا محسوس کررہے ہو؟‘‘
’’نفرت… غصہ۔‘‘
’’اس لیے کہ یہ قوت تم میں نہیں ہے؟ وہ تم سے زیادہ قوی ہے؟‘‘ جمیل نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ ’’لیکن جمیل! غور کرو یہ نفرت یا غصہ نہیں ہے، خوف ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ میں خود بھی خوف محسوس کررہا ہوں۔‘‘ جمیل خاموش رہا مگر وہ محسوس کررہا تھا کہ پروفیسر اقبال سچ کہہ رہا ہے۔
جمشید، ردا، جمیل، سہیل اور عینی۔ اب ان کا ایک گروپ بن گیا تھا۔ انہیں معلوم ہوچکا تھا کہ جمیل اور عینی ایک دوسرے کو پسندیدگی کی نگاہوں سے دیکھتے رہے ہیں۔ ردا کو جمیل سے محبت تھی اور وہ جلاپے کا شکار تھی مگر ظاہر نہیں ہونے دیتی تھی۔ اس نے یہ سوچ کر خود کو تسلی
تھی کہ ضروری نہیں جمیل یا عینی ایک دوسرے کو حاصل بھی کرلیں تاہم وہ عینی کے لیے اپنے دل میں حاسدانہ جذبات محسوس کرنے لگی تھی۔ یہ سب ان دوستوں کے درمیان آپس میں ہونے والی ایک چھوٹی سی فرینڈ شپ دعوت کے درمیان ہوا تھا۔ اس دعوت میں ردا اندر ہی اندر ان دونوں کو ایک دوسرے سے ہنس ہنس کر باتیں کرتے ہوئے دیکھ کر تلملاتی رہی تھی لیکن تاڑنے والے بھی بلا کی نظر رکھتے تھے۔ ردا نے بھانپ لیا تھا کہ جمیل اور عینی کے درمیان ابھی کوئی نامعلوم سی جھجک موجود ہے اور جمشید باربار ان دونوں کی طرف فکرمندی سے دیکھ رہا تھا۔ کیوں…؟ تب وہ جمشید کی طرف متوجہ ہوئی تو اسے ٹوہ مل گئی کہ جمیل اور عینی کے بیچ کیا معاملہ ہے۔ جمشید کی زبانی عینی کی پُراسرار شخصیت کے بارے میں سن کر ردا پر کوئی خاص اثر نہ ہوا تاہم اس کے لیے اتنا بہت تھا کہ کوئی مجبوری ان دونوں کو قریب کیے ہوئے تھی اور اس میں محبت کا کوئی دخل نہ تھا۔ ردا نے جمیل کا پیچھا نہ چھوڑا اور ایک دو روز میں ہی اس کے قریب ہو کے دکھا دیا۔ پھر وہ عینی کا اس سے دل خراب کرنے کے بارے میں سوچنے لگی۔
وہ ایک روز عینی سے ملی اور جمیل کی برائیاں کرنے لگی کہ وہ اچھا آدمی نہیں اور اس کے اور بھی کئی لڑکیوں سے تعلقات رہے ہیں۔ مجھ سے بھی وہ پینگیں بڑھانے کی کوشش کرتا ہے۔ تمہیں میں یہ سب اس لیے بتا رہی ہوں تاکہ تم اس کے جھانسے میں نہ آئو۔
’’جمیل ایسا لڑکا نہیں ہے، ردا۔ تمہیں ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔‘‘ عینی نے پُرسکون لہجے میں جواب دیا۔
مگر ردا تو جیسے اپنے اندر کا غبار نکالنے پر تُلی ہوئی تھی۔ وہ ایک کے بعد ایک برائی جمیل کی کیے جارہی تھی۔
’’اب آگے کچھ مت کہنا جمیل کے بارے میں ردا…‘‘ وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر عجیب سے لہجے میں بولی۔ ردا کو یوں لگا جیسے ساری دنیا ایک جگہ ٹھہر گئی ہو۔ آوازیں، حرکتیں، باہر ٹریفک کا شور جیسے سب کچھ رک گیا ہو۔
’’کچھ مت کہنا۔‘‘ اس نے عینی کی سرگوشی سنی۔
پھر جیسے اچانک ردا بیدار ہوگئی۔ عینی نے ابھی تک اس کا ہاتھ پکڑ رکھا تھا۔ اس نے ہاتھ میں درد کی ایک شدید لہر اٹھتی محسوس کی مگر ضبط کرگئی۔
’’اب… میں… چلوں گی عینی!‘‘ وہ اٹھی اور چلی گئی۔
ہاتھ کی تکلیف بڑھتی جارہی تھی۔ وہ ایک کلینک پہنچ گئی۔ ڈاکٹر نے معائنے کے بعد ہاتھ کا ایکسرے لیا اور بتایا کہ اس کی دو انگلیاں اور ہتھیلی کی چار ہڈیاں ٹوٹ گئی ہیں۔
’’یہ سب کیسے ہوا مس ردا؟‘‘ ڈاکٹر نے نرمی سے پوچھا۔
’’وہ… دروازے میں ہاتھ آگیا تھا۔‘‘ اس نے ڈاکٹر کو بتایا اور دوا لے کر گھر آگئی۔ اس کے بعد وہ ان سب سے دور ہوچکی تھی۔
٭…٭…٭
سوموار کی شام عینی، اقبال کے ہاں پہنچ گئی۔ ہال میں پورا گروپ بیٹھا ہوا تھا۔ جمیل نے سر کے اشارے سے اس کی پذیرائی کی اور ایک لڑکے کا نام پکار کر اسے ساتھ لیے اندر کمرے میں چلا گیا، جہاں ڈاکٹر اقبال باری باری ان کا انٹرویو لے رہا تھا۔ پھر عینی کی باری آگئی۔ اقبال نے بڑی محبت سے اس کا استقبال کیا اور کرسی پر بیٹھنے کو کہا۔
’’پچھلے سوموار کی کارروائی ہم نے فلم بند کرلی تھی۔‘‘ وہ نرم لہجے میں بول رہا تھا۔ ’’پہلے میں تمہیں وہ فلم دکھانا چاہتا ہوں۔‘‘ اس نے میز پر رکھے پروجیکٹر کا بٹن دبا دیا۔ سامنے دیوار پر روشنی کی لکیریں لہرائیں، پھر کاغذ کا جہاز اُڑتا ہوا نظر آیا۔ اسکرین والی دیوار کے پیچھے والے کمرے میں جمیل ویسا ہی جہاز لیے تیار کھڑا تھا۔ انہوں نے پورے ہفتے ٹائم سیٹ کرنے کی خاصی مشق کرلی تھی۔ جیسے ہی اسکرین پر جہاز نظر آیا، جمیل نے ٹھیک اسی طرح اپنا جہاز اُڑا دیا اسکرین اور جمیل کا جہاز بیک وقت پلٹے اور میز پر آگئے۔ یہ عمل پانچ بار دہرایا گیا۔ پھر ڈاکٹر اقبال نے پروجیکٹر بند کردیا۔
جمیل حیرت زدہ سا کمرے میں آگیا۔ ’’سر!‘‘ اس نے کچھ کہنا چاہا مگر اقبال نے ہاتھ اٹھا کر اسے روک دیا اور بولا۔ ’’مس عینی! آپ میرے ساتھ دوسرے کمرے میں آجائیں۔ مسٹر جمیل! میں ان سے چند منٹ تنہائی میں گفتگو کرنا چاہتا ہوں۔‘‘
عینی اٹھ کر پروفیسر کے ساتھ دوسرے کمرے میں آگئی۔ دونوں آمنے سامنے کرسیوں پر بیٹھ گئے۔
’’مس عینی!‘‘ اقبال اپنی آواز پر قابو پاتے ہوئے بولا۔ ’’آپ مجھے اپنی زندگی کے بارے میں کچھ بتانا پسند کریں گی۔ کوئی عجیب بات، کوئی حیرت انگیز واقعہ، آپ کے ساتھ لوگوں کے تعلقات وغیرہ؟‘‘
’’کوئی خاص بات نہیں ہے۔‘‘ عینی سوچتے ہوئے بولی۔ ’’لل… لیکن…‘‘ وہ پروفیسر کی طرف دیکھنے لگی۔ اقبال کی آنکھیں اس پر لگی ہوئی تھیں۔ نظریں ملتے ہی اس نے اپنے بدن میں سنسنی سی دوڑتی محسوس کی۔ اس کی پیشانی پر پسینہ آگیا۔ وہ ایک خاصی حسین لڑکی تھی۔ چھوٹے قد کی خوبصورت، صحت مند مگر…!
’’بچپن میں ایک بار ایسا ہوا تھا۔‘‘ وہ بتا رہی تھی۔ ’’کہ ایک لڑکے سے میری لڑائی ہوگئی تھی۔ میں نے اسے دھکا دیا تھا اور وہ مر گیا تھا۔ جانے کیسے… میں خود آج تک نہیں سمجھ سکی۔ اس کے بعد کوئی مجھ سے ملنا نہیں چاہتا تھا، سوائے میرے ماں باپ کے۔ ردا میری اچھی دوست تھی۔ میری گورنس بھی اچھی تھی مگر وہ بھی میری وجہ سے کام چھوڑ کر چلی گئی۔ جمیل سے میری ابھی تک دوستی قائم ہے۔ ان لوگوں کے علاوہ جانے کیوں لوگ مجھ سے دور بھاگتے ہیں۔ میں بڑی تنہائی محسوس کرتی ہوں۔‘‘ اس کی آواز بھرّا گئی۔
’’میں سمجھتا ہوں مس عینی! میں آپ کے جذبات سمجھ رہا ہوں۔ بہرکیف… اس وقت اتنا ہی کافی ہے۔ آیئے باہر چلیں۔‘‘
عینی کے جانے کے بعد اقبال، جمیل کو اپنے کمرے میں لے آیا۔ ’’تم نے ہماری باتیں سنی جمیل؟‘‘ اس نے پوچھا۔ ’’تم نے محسوس کیا کہ یہ لڑکی کیسی خوفناک قوت کی مالک ہے مگر خود سے بے خبر…!‘‘
’’ہاں سر۔‘‘ جمیل بولا۔ ’’یہ ایک حیرت انگیز لڑکی ہے۔‘‘
’’یہ ایک قاتلہ ہے۔ کسی وقت بھی کسی کو مار سکتی ہے۔ یہ بہت طاقتور ہے۔ میرا مشورہ ہے کہ تم اس سے دور رہو۔‘‘
’’لیکن سر! جب اسے علم ہی نہیں تو یہ قاتلہ کیسے ہو سکتی ہے۔ یہ بہت طاقتور شخصیت ہے پروفیسر صاحب! میں اسے حاصل کرنا چاہتا ہوں۔‘‘
’’اس خیال کو اپنے دل سے نکال دو جمیل۔‘‘
جمیل خاموش بیٹھا پروفیسر ڈاکٹر اقبال کی صورت تکتا رہا۔ یقیناً وہ اندر سے خوف زدہ تھا لیکن اس کی رگوں میں گرم خون دوڑ رہا تھا اور ذہن دنیا کو زیر کرنے کے حوصلوں سے بھرا ہوا تھا۔
’’تم خوف زدہ ہو جمیل!‘‘ اقبال بولا۔ ’’اور میں بھی اس سے خوف زدہ ہوں۔ میری خواہش ہے کہ اب میں دوبارہ اسے کبھی نہ دیکھوں۔‘‘ اس کا چہرہ یکایک زرد پڑ گیا تھا۔ ’’میری بات مان لو جمیل، تمہیں بے شمار لڑکیاں مل جائیں گی۔ دولت مند اور حسین۔ یہ لڑکی عفریت ہے، اس سے دور رہو۔‘‘
’’نہیں سر!‘‘ جمیل نے مضبوط لہجے میں کہا۔ ’’میں آپ کی بات نہیں مان سکتا۔‘‘ وہ اٹھا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا کمرے سے باہر نکل گیا۔
لڑکی… دولت… طاقت… جمیل کے ذہن میں بس یہی تین الفاظ گونج رہے تھے۔
وہ دن بھر اپنے کمرے کو سجانے میں لگا رہا۔ اس نے خوب صفائی کی، چادریں اور پردے بدل دیئے۔ بازار جاکر پھول لے آیا اور گلدان میں سجا دیئے۔ وہ عینی کو حاصل کرکے ایک دولت مند شخص اور حیرت انگیز قوت کا مالک بننا چاہتا تھا۔
اس کا قریبی دوست جمشید ان تیاریوں کا مطلب اچھی طرح سمجھ رہا تھا اور جمیل کے ماں باپ بھی۔ ان کی خوشی اپنے اکلوتے بیٹے کی خوشی میں تھی۔ اس نے انہیں یہی بتایا تھا کہ عینی بہت جلد اپنے امی ابو کے ساتھ یہاں آنے والی ہے۔ وہ بھی خوش تھے۔ جمشید متفکر تھا۔ اس نے ایک بار جمیل کو پھر عینی کے سلسلے میں تنبیہ کی اور باز رکھنے کی کوشش کی مگر جمیل اپنی دھن کا پکا تھا۔
’’تم دیکھنا… تم دیکھنا


! میں کیا کرتا ہوں۔‘‘
’’کک… کیا مطلب! کیا تم اس کے ساتھ کچھ کرنے کا عزم رکھتے ہو؟‘‘ جمشید کی آنکھوں سے خوف جھلکنے لگا۔
’’جب عینی اپنے ماں باپ کے ساتھ میرے ہاں آئے تو تم بھی آجانا۔ یار! بڑا مزہ آئے گا۔‘‘ وہ بولا۔ جمشید نے کوئی جواب نہیں دیا مگر اس کے چہرے سے لگتا تھا کہ اس نے جمیل کی بات رد نہیں کی۔
اس روز عینی اپنے والدین کے ساتھ اس کے ہاں آئی۔ جمشید بھی ایک دوست کی حیثیت سے آیا تھا مگر جانے کیوں عینی کی موجودگی کے باعث اس پر گھبراہٹ طاری رہی تھی اور وہ خاموش بیٹھا رہا جبکہ ثمن اور حسیب کن انکھیوں سے عینی اور جمیل کو آپس میں باتیں کرتے دیکھ کر خوش ہورہے تھے۔ وہ جمیل کے ممی، ڈیڈی سے باتیں کررہے تھے۔ اس کے بعد جمیل، عینی کو اپنا کمرہ دکھانے کے لیے لے گیا۔ عینی کو جمیل کا کمرہ بے حد پسند آیا۔ وہ خوش اور مطمئن نظر آرہی تھی۔ جمشید بے چین تھا تاہم ان کے ساتھ تھا۔ تینوں دوست باتیں کرتے رہے۔ جمشید بدستور اپنے اندر بے چینی محسوس کررہا تھا جبکہ عینی اور جمیل ایک دوسرے سے ہنس ہنس کر باتیں کررہے تھے۔ جمشید ان کے درمیان اجنبی سا محسوس کرنے لگا تھا۔ ابھی وہ ان سے معذرت کرکے اٹھ جانا چاہتا تھا کہ اس نے جمیل کو ہنستے ہنستے ایک دم خاموش ہوتے دیکھا۔ وہ اپنے دونوں ہاتھ اپنی کنپٹیوں پر رکھے سر کو باربار جھٹکے دینے لگا۔ ساتھ ہی اس کے حلق سے عجیب و غریب آوازیں نکلنے لگیں۔ جمشید نے عینی کی طرف دیکھا۔ وہ خود حیرت سے آنکھیں پھاڑے جمیل کو دیکھ رہی تھی۔
’’کک… کیا ہوا جمیل؟‘‘ عینی نے کہا اور اپنے ایک ہاتھ سے اسے چھوا تو وہ بیڈ سے نیچے جاگرا۔ وہاں سائیڈ ٹیبل پر شیشے کا ایک بڑا گلدان رکھا تھا۔ وہ دھڑام سے نیچے آگرا اور ٹوٹ گیا۔ شیشوں کی کرچیاں فرش پر بکھر گئیں۔ جمشید خوف زدہ ہوکر دوڑا تو بدحواسی میں عینی سے ٹکرایا اور اسے یوں لگا جیسے وہ کسی نرم و نازک لڑکی سے نہیں بلکہ کسی پہاڑ سے ٹکرا گیا ہو۔ چیخ مار کے وہ گرا۔ جمیل چیخ کر بولا۔ ’’چچ… چلی جائو… نکل جائو میرے کمرے سے… تم ایک قاتلہ ہو… مجھے بھی مار دو گی۔‘‘
عینی رو پڑی۔ اس نے جمیل کو سنبھالنا چاہا تو جمیل کو ایک زوردار دھکا لگا۔ وہ اُڑ کر دیوار سے جا ٹکرایا اور نیچے گرا تو بیڈ کا ایک کونا اس کی کنپٹی پر لگا۔ وہ زمین پر گر کر تڑپنے لگا۔ عینی روئے جارہی تھی۔ اس دوران ان کے ماں باپ بھی وہاں آگئے۔ جمیل بے سدھ پڑا تھا اور اس کی پیشانی سے بھل بھل خون نکلے جارہا تھا۔ وہ دم توڑ چکا تھا۔
٭…٭…٭
پولیس آئی، تفتیش ہوئی۔ جمیل کی لاش کا پوسٹ مارٹم ہوا اور ہمیشہ کی طرح عینی پر کوئی جرم ثابت نہ ہوسکا۔ نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات کی طرح نکلا۔ عینی خود کو دنیا کی تنہا اور بدنصیب ترین لڑکی تصور کرنے لگی۔ ایسے میں ڈاکٹر انیس ریاض نے اسے سہارا دیا۔ وہی ڈاکٹر انیس جو اسے تھیٹر کے باہر ملا تھا اور اس کا دعویٰ تھا کہ وہ اس عجیب و غریب لڑکی کے ساتھ رہ سکتا ہے۔
٭…٭…٭
صبح ہیڈ کوارٹر پہنچ کر اس نے پولیس مین مجید کو بلایا۔ گزشتہ شب عینی کے ماضی سے متعلق بتاتے ہوئے اسے ڈاکٹر اقبال نے بہت سے نام بتائے تھے۔ اس وقت ان میں سے دو نام اس کے ذہن میں کلبلا رہے تھے۔ جمیل اور جمشید… جمیل مرچکا تھا اور جمشید کا علم نہیں تھا۔ اس نے دونوں نام ایک چٹ پر لکھ کر مجید کی طرف بڑھا دیئے اور بولا۔ ’’جمیل دسمبر 1990ء میں مرا تھا۔ مجھے اس کی مکمل رپورٹ چاہئے اور سنو!‘‘
’’یس سر!‘‘ مجید بولا۔
’’جمشید اس زمانے میں ان دونوں کا کلاس فیلو تھا۔ اس کے بارے میں بھی معلوم کرو کہ وہ آج کل کیا کررہا ہے اور کہاں ہے؟‘‘
’’یس سر!‘‘ مجید نے کہا اور چٹ اٹھا کر باہر چلا گیا۔
کیا یہ سب کہانی تھی؟ کتنے لوگ مارے جا چکے تھے۔ کیا یہ سب عینی کا کارنامہ تھا؟ انسپکٹر اصغر شاہ اپنا سر تھامے سوچنے لگا۔ اگر وہ اب بھی اسے نہ پکڑ سکا تو جانے اور کتنے افراد مارے جائیں گے۔ اس کا خون کھولنے لگا۔ اسے اپنا فرض ہر حال میں پورا کرنا تھا مگر کیسے؟ پھر وہ پُرجوش انداز میں اپنا ریوالور سنبھالے، جیپ میں روانہ ہوگیا۔ اس کا رخ ڈاکٹر انیس اور ڈاکٹر عینی کی رہائش کی طرف تھا۔
کال بیل کے جواب میں ان کے ملازم عذیر نے دروازہ کھولا۔
’’کیا بات ہے انسپکٹر! کیا تمہارے پاس وارنٹ ہے؟‘‘ وہ بولا۔ اس نے اصغر شاہ کے تیوروں سے اندازہ لگا لیا تھا کہ وہ کیا کرنے آیا ہے۔
’’فوراً دروازے سے ہٹ جائو گدھے!‘‘ اصغر غرایا اور پستول نکال لیا۔ ’’ورنہ میں تمہارا بھیجا اُڑا دوں گا۔‘‘ عذیر ایک طرف ہٹ گیا۔
’’وہ لوگ کہاں ہیں، جلدی بتائو؟‘‘ اس نے پستول کی نال عذیر کے سر سے لگا دی۔ عذیر اسے لیے ایک کمرے میں آگیا۔ وہاں انسپکٹر اصغر شاہ کو وہ یوں بیٹھے نظر آئے جیسے اسی کے منتظر ہوں۔ ڈاکٹر انیس اور اس کی بیوی عینی اس کی طرف دیکھنے لگے۔ وہ دھیرے دھیرے ان کی طرف بڑھنے لگا۔
’’مجھے سب پتا چل چکا ہے کہ تم ان سب کی قاتلہ ہو عینی!‘‘ اس نے کہا۔
’’اچھی بات ہے انسپکٹر! میں بھی تمہیں آج سب بتا دوں گی اپنے بارے میں۔ بیٹھ جائو اور سنو میری بات غور سے!‘‘ عینی پُراسرار سے لہجے میں بولی۔
’’یہ ٹھیک ہے کہ عمران اور جمیل کو میں نہیں مارنا چاہتی تھی مگر وہ مر گئے۔ میرے اندر چھپی ہوئی تباہ کن اور ہلاکت خیز پُراسرار قوت ان کی موت کا پیام ثابت ہوئی۔ میں انہیں مارنا نہیں چاہتی تھی مگر انہوں نے مجھے غصہ دلایا تو میں نے دل میں سوچا کہ یہ مر جائے۔ عمران مجھے تنگ کیا کرتا تھا۔ میں نے اس کے بارے میں سوچا کہ بری موت مرے تو وہ میرے ذرا سے دھکا دینے پر مر گیا۔ اس کے بعد میں نے جمیل کے بارے میں ایسا سوچا۔ یہ اس وقت ہوا جب جمیل سے میری آخری ملاقات اس کے گھر پر ہوئی تھی اور مجھے اس کا والہانہ پن دیکھ کر خود پر فخر محسوس ہورہا تھا اور تب میں نے ایسا سوچا تھا اور یہ ہوگیا۔ کچھ دن پہلے جب سعید خان اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ چوری کی نیت سے یہاں داخل ہوا تب تک اتنا عرصہ بیت جانے کے بعد میں اپنی اس خفیہ تباہ کن طاقت سے واقف ہوچکی تھی۔ انیس سے میرے کامیاب ساتھ کی یہ وجہ تھی کہ اس نے مجھے ایسا سوچنے سے منع کررکھا تھا۔ خیر! جب سعید خان چوری کی نیت سے اپنے دو ساتھیوں اسحاق اور شعیب کے ساتھ اندر داخل ہوا اور اس نے میرے شوہر انیس پر پستول کے دستے سے وار کیا تو میں نے انیس کو زخمی پا کر نفرت سے سعید خان کے بارے میں سوچا کہ اسے اذیت ناک موت آجائے اور پھر وہ اسی اذیت ناک موت سے دوچار ہوا۔‘‘ وہ اصغر کو اتنا بتا کر خاموش ہوگئی۔
اس کے شوہر ڈاکٹر انیس نے اصغر شاہ سے کہا۔ ’’انسپکٹر! تم نے خود میری بیوی عینی کا اعترافی بیان سن لیا۔ مجھے امید ہے کہ تم اس کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کرو گے کیونکہ اس میں اس کا کوئی قصور نہیں تھا۔‘‘
’’اس کا قصور یہی ہے کہ یہ ایک پُراسرار طاقت کی حامل عورت ہے۔ اسے کوئی بھی اپنے غلط مقاصد کے لیے استعمال کرسکتا ہے۔‘‘ اصغر بولا۔
’’تو پھر تم عینی کے خلاف اس بنیاد پر کوئی قانونی کارروائی نہیں کرسکتے۔ بھلا کون یقین کرے گا تمہاری ان باتوں پر؟‘‘ ڈاکٹر انیس نے کہا۔
’’وہ رپورٹس اور ایکسرے… فائل، اسحاق اور جمشید کے حلفیہ بیان کی روشنی میں یہ سب ہوسکتا ہے۔‘‘ اصغر شاہ بولا۔ مگر اندر سے وہ بھی ڈر رہا تھا۔ اگر ان دونوں میاں بیوی کو غصہ آگیا اور شوہر نے بیوی کے کان میں کچھ کہہ دیا تو عینی کے لیے اسے ہلاک کرنا کیا مشکل ہوگا۔
’’اوکے۔ میں چلتا ہوں۔‘‘ بالآخر اس نے کچھ سوچ کر فیصلہ کیا اور اٹھتے ہوئے بولا۔ ’’ایک بات بتا دوں ڈاکٹر عینی! آپ بہرحال مجرم ہیں۔ قانون سے شاید بچ جائیں مگر تمہارا ضمیر تمہیں
کبھی نہیں جینے دے گا۔ سعید خان بے شک ایک مجرم سہی لیکن اسے قانونی طور پر سزا ملنی چاہیے تھی۔ تم نے اپنی پوشیدہ تباہ کن طاقت کا جانتے بوجھتے استعمال کرکے اسے ہلاک کر ڈالا اور مجھے ڈر ہے کہ تمہیں کوئی بھی مجرم ذہن کا آدمی استعمال کرسکتا ہے۔ میں چلتا ہوں۔‘‘ وہ ان دونوں کو حیران و پریشان چھوڑ کر لوٹ گیا۔
’’بکواس کرتا ہے یہ!‘‘ ڈاکٹر انیس بولا۔
ڈاکٹر انیس کو انسپکٹر شاہ کے یہ الفاظ کھب کر رہ گئے تھے۔ وہ خود کو ملامت کرنے لگا کہ اس نے اپنے کام میں دیر کیوں لگائی لیکن وہ جلد بازی سے بھی کام نہیں لے سکتا تھا۔ ڈاکٹر راشد ایک عرصے سے اس کے لیے وبال جان بنا ہوا تھا اور وہ اس کی سیٹ پر قابض ہونا چاہتا تھا۔ اس نے اسی رات عینی سے کہا۔ ’’ڈارلنگ! تم مجھے ترقی کرتا دیکھ کر خوش ہوتی ہوگی؟‘‘
’’ہاں ڈیئر! کیوں نہیں۔‘‘ عینی محبت پاش لہجے میں بولی۔
’’پھر تمہیں میرا ایک کام کرنا ہوگا۔‘‘
’’کون سا کام؟‘‘
’’ڈاکٹر راشد کو میں اپنے راستے سے ہٹانا چاہتا ہوں۔‘‘
’’کک… کیا مطلب؟‘‘ عینی کی آنکھیں خوف سے پھیلنے لگیں۔
’’ہاں عینی! تمہیں میری خاطر، اپنے محبوب شوہر کی خاطر یہ کام کرنا ہوگا۔ راشد کو ہلاک کر ڈالو۔ ریسرچ سینٹر میں وہ جس پوسٹ پر براجمان ہے، اس پر میں آنا چاہتا ہوں۔‘‘
’’مگر وہ اپنی قابلیت کی بنیاد پر اس سیٹ پر آیا ہے۔ تم بھی…‘‘
’’ہونہہ، قابلیت۔‘‘ ڈاکٹر انیس حقارت سے بولا۔ ’’بس! تمہیں یہ کام میری خاطر کرنا ہوگا۔ تم نے دیکھ لیا کہ یہ انسپکٹرکتنا بے بس نظر آرہا تھا۔ تمہیں کچھ نہیں ہوگا۔ میری خاطر بس یہ آخری قتل۔ سوچو عینی! میں نے تمہارا اس برے وقت میں ساتھ دیا تھا جب کوئی بھی مرد تمہارے قریب نہیں پھٹکتا تھا۔ تم ساری زندگی تنہا گزار دیتیں۔ اب تمہیں میرے اس احسان کا بدلہ اتارنا ہوگا۔‘‘
عینی چپ رہی۔ انیس اس کی خاموشی کو رضامندی سمجھا۔
اس رات عینی تنہا بیٹھی تھی۔ اس کا چہرہ اشکبار تھا۔ وہ اپنی اس تباہ کن مخفی قوت سے پہلے خوف زدہ رہتی تھی، اب اسے نفرت ہوگئی تھی بلکہ خود سے بھی۔ انسپکٹر اصغر شاہ کے الفاظ باربار برچھیوں کی طرح اس کی سماعتوں بلکہ وجود کو چھلنی کیے دے رہے تھے۔ اس کا خدشہ درست ثابت ہوا تھا کہ کوئی بھی مجرم ذہن کا آدمی اسے استعمال کرسکتا ہے۔ عینی کو بالکل امید نہ تھی کہ اس کا اپنا شوہر ایسا کرے گا۔ اس نے احسان بھی جتا دیا تھا اور یہ غلط بھی نہ تھا۔ عینی کو اسی شخص کی وجہ سے خوشیاں ملی تھیں مگر اسے کیا معلوم تھا کہ اسی شخص کی وجہ سے وہ ایک بڑے دکھ کا بھی شکار ہونے لگی تھی۔
’’نن… نہیں۔ میں یہ جرم نہیں کرسکتی… لیکن انیس… اور اس کا وہ احسان جو اس نے مجھ پر کیا، اس کا کیا کیا جائے؟‘‘
وہ عجیب شش و پنج کا شکار ہوگئی تھی۔
٭…٭…٭
انسپکٹر اصغر شاہ اگلے دن پولیس ہیڈ کوارٹر پہنچا تو ایک چونکا دینے والی خبر اس کی منتظر تھی جسے سن کر اس کے ہونٹوں پر بے اختیار طمانیت بھری مسکراہٹ ابھر آئی تھی۔
ڈاکٹر عینی نے خودکشی کرلی تھی…!
(ختم شد)