Pursaraar Raatien – Episode 1

433

رات بہت سرد اور تاریک تھی۔ بارش ہو رہی تھی اور اس کے ساتھ، رگوں میں لہو سرد کردینے والی ہوا بھی چل رہی تھی۔ وہ علاقہ بھی کچھ ایسا تھا کہ وہاں سردی کچھ زیادہ ہی محسوس ہوتی تھی۔ سامنے ہی سمندر تھا اور اس کے کنارے کئی سال میں صرف چند ہی مکانات تعمیر ہو پائے تھے۔ وہ کراچی کے ساحل سمندر پر واقع سی ویو ٹائون شپ سے بھی بہت آگے کا علاقہ تھا جہاں کئی کمپنیوں نے گزشتہ کئی سال کے دوران فلیٹوں اور بنگلوں پر مشتمل بہت سی ہائوسنگ اسکیموں کا اعلان کیا تھا لیکن ان میں سے کسی پر بھی صحیح طور پر عملدرآمد نہیں ہو پایا تھا۔ بعض تو نقشے کی حد سے آگے نہیں بڑھ سکی تھیں۔ کہیں صرف بنیادوں کی کھدائی کا کام ہوا تھا۔ بہت مہنگے قسم کے فلیٹوں پر مشتمل ایک آدھ پروجیکٹ مکمل ہوا تھا اور وہ آباد بھی ہو گیا تھا لیکن اتنے طویل و عریض ویرانے میں اس کا وجود، نہ ہونے کے برابر محسوس ہوتا تھا۔

کچھ ’’باہمت‘‘ لوگوں نے یہاں چند بنگلے تعمیر کر لیے تھے لیکن وہ بھی ایک دوسرے سے دور دور ہی تھے۔ چنانچہ میلوں دور تک پھیلا ہوا یہ علاقہ اب بھی ایک ویرانے کا ہی منظر پیش کرتا تھا۔ اسٹریٹ لائٹس نہ ہونے کی وجہ سے دور دور تک تاریکی ہی پھیلی دکھائی دیتی تھی۔ اس لیے موسم سرما میں یہاں کراچی کے دیگر علاقوں کی نسبت بہت زیادہ سردی محسوس ہوتی تھی۔ یہاں تعمیر ہونے والے اکّا دکّا بنگلے، سمندر نہایت قریب ہونے کی وجہ سے، یہاں کی آب و ہوا میں دو چار سالوں میں ہی کافی پرانے اور شکستہ حال سے دکھائی دینے لگے تھے۔ اس وقت تو موسلادھار بارش اور تیز و تند برفیلی ہوا کی وجہ سے علاقے کی ویرانی کا احساس اور بھی بڑھ گیا تھا۔ کبھی کبھی بادلوں کی گرج کے ساتھ بجلی کڑک اٹھتی تو یوں لگتا جیسے چاروں طرف جنّاتی سے سائے لہرا اٹھے ہوں۔

اس سارے ماحول کے برعکس، وہاں موجود ایک بنگلے ’’عباسی ہائوس‘‘ کے کشادہ ڈرائنگ روم میں روشنی بھی تھی اور حرارت بھی… ڈرائنگ روم کی کھڑکیاں بند تھیں اور ان پر دبیز پردے پھیلے ہوئے تھے۔ کمرے کی ایک دیوار میں بنے ہوئے مصنوعی آتشدان میں گیس کا ایک ہیٹر بھی روشن تھا۔ کراچی میں موسم سرما کی برسات میں بھی شاذ و نادر ہی کسی گھر میں ہیٹر دکھائی دیتا تھا اور اس کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی جاتی تھی لیکن اس کمرے میں ہیٹر کی موجودگی کم از کم اس وقت نہایت موزوں محسوس ہو رہی تھی اور اس کی حیات بخش حرارت وہاں موجود افراد کے جسموں کو گرما رہی تھی۔

کمرے میں تین افراد موجود تھے۔ کمال عباسی، ان کا بیٹا جمال عباسی اور کمال عباسی کی بیگم سائرہ عباسی۔ باپ بیٹا آمنے سامنے دو صوفوں پر بیٹھے تھے۔ ان کے درمیان شیشے کی تپائی پر شطرنج کی بساط بچھی ہوئی تھی اور وہ دونوں بڑے انہماک سے شطرنج کھیل رہے تھے۔ سائرہ عباسی قریب ہی ایک نشست پر بیٹھی اون اور سلائیوں سے بُنائی کر رہی تھیں۔ انہیں اون سے سویٹر بُن کر نہ تو خود پہننا تھا اور نہ ہی کسی کو پہنانا تھا۔ اب تو ہاتھوں سے بُنائی کا رواج بھی نہیں رہا تھا۔ کوئی عمررسیدہ عورت بھی مشکل سے ہی، بُنائی کرتی دکھائی دیتی تھی۔ مسز عباسی بھی محض ایک مشغلے کے طور پر، وقت گزاری کے لیے بُنائی کر رہی تھیں۔ وقت گزاری کے لیے انہیں یہی مشغلہ سب سے آسان اور پُرلطف محسوس ہوتا تھا۔

ویسے تو انہیں شطرنج کھیلنا بھی آتا تھا لیکن وہ شوہر یا بیٹے کے ساتھ اس کھیل میں سر نہیں کھپاتی تھیں۔ البتہ اگر باپ بیٹا کھیل رہے ہوتے تھے اور وہ قریب بیٹھی ہوتی تھیں تو غیرارادی طور پر کن انکھیوں سے کبھی کبھی ان کی چالوں کا جائزہ لیتی رہتی تھیں۔ اس وقت بھی وہ وقفے وقفے سے بساط پر نظر ڈال رہی تھیں اور انہیں اندازہ ہو رہا تھا کہ ان کا نوجوان اور ناتجربہ کار بیٹا جلد بازی اور اناڑی پن میں کیسی غلط چالیں چل رہا تھا۔ باپ اپنے بیٹے کی ان غلطیوں سے فائدہ اٹھانے میں ذرا بھی ہچکچاہٹ نہیں دکھا رہا تھا۔

جمال عباسی کو احساس تھا کہ وہ دھیرے دھیرے شکست کی طرف بڑھ رہا تھا۔ شاید اسی لیے وہ دبی دبی سی جھنجلاہٹ کا شکار تھا۔ اس کے والدین گویا اس کی معصومانہ جھنجلاہٹ سے محظوظ ہو رہے تھے۔ کھیل کے دوران ان تینوں کو کسی کا انتظار بھی تھا۔ اپنی اگلی چال کے بارے میں بات کرتے کرتے اچانک کمال عباسی بول اٹھا۔ ’’مجھے امید نہیں ہے کہ اس بارش اور ٹھنڈ میں آغا ہمارے ہاں آئے گا۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے اپنا مہرہ آگے کھسکا دیا۔

ان کے بیٹے جمال نے جوابی چال چلی لیکن باپ کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا۔ کمال ٹھوڑی کھجاتے ہوئے خود ہی بول اٹھا۔ ’’ایسے بے ہودہ اور غیرآباد علاقے میں رہنے کا یہی نقصان ہے۔ یہاں تو لوگ خوشگوار موسم میں… اور دن کے وقت بھی آنے سے کتراتے ہیں۔ ایسے خراب موسم میں بھلا کون آنے کی ہمت کرے گا؟‘‘

ماں بیٹے نے گویا اس کی تائید میں آہستگی سے سر ہلایا۔ ایک لمحے کی خاموشی کے بعد کمال عباسی خود کلامی کے سے انداز میں بڑبڑا اٹھا۔ ’’مجھے بھی نہ جانے کیا سوجھی تھی کہ ساری جمع پونجی لگا کر اس ویرانے میں مکان بنا لیا۔‘‘

پچھتاوے کے اظہار کے بعد وہ گویا خود ہی اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے بولے۔ ’’میں دراصل اس ٹھیکیدار کی باتوں میں آگیا تھا جس نے کہا تھا کہ دو چار سال میں یہ علاقہ اتنی ترقی کر جائے گا کہ دبئی کا کوئی علاقہ دکھائی دے گا اور آج کوڑیوں میں بنائی ہوئی جائداد دیکھتے ہی دیکھتے کروڑوں کی ہو جائے گی… کیا شیشے میں اُتارا تھا اس کمینے نے… کروڑوں کی تو کیا، شاید اس جائداد کو اب کوڑیوں کے بھائو بیچنا بھی مشکل ہو۔ دو چار سال میں مشکل سے یہاں ایک آدھ بنگلے کا ہی اضافہ ہوتا ہے اور یہاں کی آب و ہوا کی وجہ سے وہ تھوڑے ہی دنوں میں برسوں پرانا معلوم ہونے لگتا ہے…‘‘

انہوں نے شطرنج کی بساط سے نظر ہٹا کر اِدھر اُدھر دیکھا اور بولے۔ ’’اب اس بنگلے کو ہی دیکھ لو… یہ تو ویسے بھی بارش کے پہلے قطرے کی طرح اس علاقے کا پہلا بنگلا ہے۔ اتنے کم عرصے میں ہم اسے دو تین بار رنگ و روغن کرا چکے ہیں لیکن یہ اب بھی بھوت بنگلا دکھائی دیتا ہے۔ خاص طور پر ایسے موسم میں تو لوگ اسے دور سے دیکھ کر ڈر جاتے ہوں گے۔‘‘

’’بے چارے ٹھیکیدار کا شاید اتنا قصور نہیں…‘‘ مسز عباسی نے ٹھیکیدار کا دفاع کیا حالانکہ وہ اسے جانتی نہیں تھیں، صرف اس کی صورت سے واقف تھیں اور بنگلے کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد انہوں نے اسے نہیں دیکھا تھا۔ وہ بات جاری رکھتے ہوئے بولیں۔ ’’ملکی حالات اور خاص طور پر اس شہر کے حالات نے ایسا رخ اختیار کیا کہ بڑے بڑوں کے اندازے غلط ہوگئے۔ نہ جانے کس کس شعبے میں ترقی کا عمل رک گیا اور نہ جانے کب تک یہی حال رہے…‘‘ انہوں نے ایک گہری سانس لے کر شکر گزارانہ انداز میں سلسلۂ کلام جوڑا۔ ’’خیر… یہ سب قسمت کی باتیں ہیں… جو ہوا سو اچھا ہوا۔ کم از کم ایک باعزت علاقے میں سر چھپانے کا ایک معقول ٹھکانہ تو بن گیا، ورنہ شاید آپ یہ رقم بھی اپنے الٹے سیدھے کاروباری منصوبوں میں اجاڑ دیتے اور آج ہم خالی ہاتھ ہونے کے ساتھ ساتھ بے گھر بھی ہوتے۔‘‘

کمال عباسی اپنی بیگم کی طرف دیکھ کر دھیرے سے مسکرا دیئے۔ ’’آپ کی یہی بات ہمیں سب سے زیادہ پسند ہے۔ آپ ہر بات کے روشن پہلو کی طرف زیادہ توجہ دیتی ہیں۔ اگر خداناخواستہ آپ کی جگہ کوئی اور عورت ہماری بیگم ہوتی تو خواہ ہم اپنی زبان سے اپنی غلطی کا اعتراف نہ کرتے، تب بھی وہ ہمارے اس فیصلے پر نہ جانے کتنی مرتبہ ہمیں ملامت کر چکی ہوتی۔‘‘

’’تقدیر کے فیصلوں پر شاکر رہنے سے زندگی اطمینان سے گزرتی ہے۔‘‘ مسز عباسی مسکراتے ہوئے بولیں۔ ان کے ہونٹوں پر اکثر ہی ایک طمانیت بھری مسکراہٹ کھیلتی رہتی تھی جس کی وجہ سے وہ بڑھاپے میں بھی ایک دلکش شخصیت کی مالک دکھائی دیتی تھیں۔

اچانک کال بیل بج اٹھی اور وہ تینوں ہی بری طرح چونک اٹھے۔

’’میرا خیال ہے آغا آگیا…!‘‘ کمال عباسی نے پُراشتیاق انداز میں دروازے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ دوسرے ہی لمحے وہ پھرتی سے اٹھ کھڑے ہوئے اور دروازے کی طرف بڑھے۔ ان کی عمر کو دیکھتے ہوئے ان کی یہ پھرتی حیرت انگیز تھی۔

مسز عباسی نے عقب سے انہیں پکارا۔ ’’سنیں… چھتری لے کر جائیں۔ لان سے گیٹ تک پہنچنے میں آپ بھیگ جائیں گے۔‘‘

’’اور اس بے چارے کے بارے میں بھی تو سوچو جو گیٹ پر کھڑا بھیگ رہا ہوگا۔‘‘ عباسی صاحب نے پلٹ کر کہا۔ ’’تھوڑا سا میں بھی بھیگ جائوں گا تو کوئی حرج نہیں۔‘‘

انہوں نے دروازہ کھولا اور باہر چلے گئے۔ مسز عباسی نے ان کے لیے چھتری پہلے سے نکال کر صوفے کے سہارے کھڑی کی ہوئی تھی لیکن عباسی صاحب اسے وہیں چھوڑ گئے۔ باہر جا کر انہوں نے گیٹ کھولا تو آغا وحید کو سامنے کھڑے پایا۔ اس وقت بارش ہلکی ہوچکی تھی اور آغا وحید بھیگا نہیں تھا۔ اس کی پرانی سی کار بنگلے کی دیوار کے قریب کھڑی تھی۔ دونوں گرم جوشی سے بغلگیر ہوئے۔ پھر عباسی صاحب نے آغا کا ہاتھ تھاما اور اسے اندر لاتے ہوئے بولے۔ ’’مجھے امید نہیں تھی کہ اس موسم میں تم اتنی دور آنے کی ہمت کرو گے۔‘‘

’’میں نے وعدہ کیا تھا کہ میں آئوں گا اور تمہیں معلوم ہے، میں ہر قیمت پر اپنا وعدہ پورا کرنے کا عادی ہوں۔‘‘ آغا اس کے ساتھ ڈرائنگ روم کی طرف بڑھتے ہوئے بولا۔ ’’میں نے گھر سے نکلنے سے پہلے تمہیں فون بھی کردیا تھا کہ میں روانہ ہو رہا ہوں۔‘‘

’’پھر بھی… میں سوچ رہا تھا کہ شاید باہر نکل کر تم نے دیکھا ہو کہ بارش کتنی تیز ہے اور ٹھنڈ کتنی زیادہ ہے، تو ارادہ ملتوی کردیا ہو۔‘‘ عباسی صاحب مسکراتے ہوئے بولے۔ ’’تم تھوڑی دیر اور نہ پہنچتے تو میں تمہیں فون کرتا۔‘‘

وہ دونوں اندر پہنچے تو مسز عباسی اور جمال، مہمان کے استقبال کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔ آغا وحید نے جمال سے ہاتھ ملایا اور مسز عباسی کو جھک کر سلام کیا۔ پھر وہ کمال عباسی سے مخاطب ہوا۔ ’’یار زندہ، صحبت باقی… زندگی رہے تو کبھی نہ کبھی ملاقات ہو ہی جاتی ہے۔ ہم جوانی میں بچھڑے تھے۔ اب بڑھاپے میں مل رہے ہیں۔ میں جب ملک سے باہر گیا تھا تو تمہاری شادی بھی نہیں ہوئی تھی اور آج میں تمہارے گھر آیا ہوں تو صرف بھابی سے ہی نہیں، بلکہ تمہارے جوان بیٹے سے بھی ملاقات ہو رہی ہے۔‘‘ اس نے ایک نظر مسز عباسی اور جمال کی طرف دیکھا پھر سلسلۂ کلام جوڑتے ہوئے بولا۔ ’’مجھے معلوم ہے تم نے شادی کافی تاخیر سے کی تھی ورنہ شاید اب تک تم پوتے پوتیوں اور نواسے نواسیوں والے بھی ہوتے۔‘‘

’’دیر سے ہی سہی… لیکن میں نے شادی کر تو لی۔ تم نے تو سرے شادی کی ہی نہیں… ساری زندگی چھڑے چھانٹ رہ کر آوارہ گردی میں گزار دی…!‘‘ کمال عباسی مسکراتے ہوئے بولے۔

’’ہاں… یہ بات تو ہے۔‘‘ آغا وحید نے تسلیم کیا۔ پھر گہری سانس لے کر بولا۔ ’’لیکن میں خوش ہوں کہ میں نے جس طرح زندگی گزارنا چاہی، اسی طرح گزاری۔ مجھے سیر و سیاحت اور آوارہ گردی کے علاوہ زندگی میں کسی چیز سے دلچسپی نہیں تھی… اور میں اس اعتبار سے اپنے آپ کو خوش نصیب سمجھتا ہوں کہ مجھے جی بھر کے اپنا شوق پورا کرنے کا موقع ملا۔‘‘

اس لمحے مسز عباسی نے شیریں لہجے میں گفتگو میں مداخلت کی۔ ’’آپ لوگ بیٹھ جایئے نا… کیا ساری رات کھڑے کھڑے ہی باتیں کرتے رہیں گے؟‘‘ پھر وہ جواب کا انتظار کئے بغیر بولیں۔ ’’آغا صاحب! میں آپ کے لیے کھانا لگاتی ہوں۔‘‘

’’ارے نہیں… ہرگز نہیں۔‘‘ آغا ہاتھ ہلاتے ہوئے جلدی سے بولا۔ ’’میں نے فون پر کمال کو بتا دیا تھا کہ میں گھر سے کھانا کھا کر روانہ ہو رہا ہوں۔ بس… اچھی سی کافی پلوا دیجئے۔‘‘

تینوں مرد بیٹھ گئے اور مسز عباسی کافی بنانے چلی گئیں۔ ان کے گھر میں کوئی ملازم یا ملازمہ نہیں تھی۔ کچھ دیر بعد جب کافی کا دور چل چکا اور بارش تھم چکی تو کمال عباسی نے اپنی بیگم اور بیٹے کو مخاطب کیا۔ ’’میں آغا کے بارے میں مختصراً تو تمہیں بتا چکا ہوں، اب ذرا تفصیل سے بتا دوں۔ یہ میرا لڑکپن کا دوست ہے۔ اسکول میں ہم ساتھ پڑھتے تھے۔ کالج تک ساتھ رہے۔ یہ اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا تھا بلکہ یوں کہو کہ اکلوتی اولاد تھا جیسے ہمارا جمال ہے۔‘‘ کمال نے مشفقانہ انداز میں مسکراتے ہوئے اپنے بیٹے کی طرف دیکھا۔

ایک لمحے کے توقف کے بعد انہوں نے دوبارہ سلسلۂ کلام جوڑا۔ ’’اس کی والدہ کا انتقال تو اس کے لڑکپن میں ہی ہوچکا تھا۔ یہ جوان ہوا تو اس کے والد کا بھی انتقال ہوگیا۔ بیٹے کی وجہ سے انہوں نے دوسری شادی نہیں کی تھی۔ وہ خاصے خوشحال آدمی تھے۔ وحید کو ورثے میں کافی روپیہ پیسہ اور جائداد ملی۔ اس نے والد کے انتقال کے بعد زیادہ عرصہ وطن میں نہیں گزارا۔ جلد ہی اس نے جائداد بیچی، روپیہ پیسہ سمیٹا اور ملک سے باہر چلا گیا۔ معلوم نہیں یہ کہاں کہاں گھوما پھرا ہے۔ کون کون سی جگہیں اس نے دیکھی ہیں۔ شاید اس نے پوری دنیا ہی کی خاک چھانی ہے۔ کبھی اس کا کہیں سے فون آ جاتا۔ کبھی کسی اور ملک میں اس کی موجودگی کی اطلاع ملتی۔ دو چار سال بعد اس سے مختصر سی بات چیت ہو جاتی، لیکن پھر یہ کبھی کبھار کا رابطہ بھی ٹوٹ گیا۔ تقریباً پندرہ سال سے ہمیں ایک دوسرے کا کچھ اتا پتا نہیں تھا۔‘‘

کمال عباسی ایک لمحے کے لیے خاموش ہوئے تو ان کی بیگم مسکراتے ہوئے بولیں۔ ’’اور پھر کل یہ اچانک آپ کو طارق روڈ کے ایک شاپنگ سینٹر میں مل گئے۔‘‘

’’ہاں۔‘‘ کمال عباسی نے اثبات میں سر ہلایا۔ ’’اس اچانک ملاقات پر ہمیں حیرت بھی ہوئی اور خوشی بھی۔ اتنے سال سیاحت اور آوارہ گردی میں گزارنے کے باوجود عمر اس پر زیادہ اثرانداز نہیں ہوئی۔ یہ میرا ہم عمر ہے لیکن دیکھنے میں مجھ سے کئی سال چھوٹا لگتا ہے۔‘‘

’’اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ میں نوکری، کاروبار یا گھربار کی فکروں میں نہیں پڑا۔‘‘ آغا وحید مسکراتے ہوئے بولا۔

’’ہاں۔‘‘ کمال عباسی نے استہزائیہ سے انداز میں سر ہلایا اور اپنی بیوی بیٹے کو بتانے لگے۔ ’’موصوف کو چونکہ ہاتھ پائوں ہلائے بغیر بیٹھے بٹھائے اچھی خاصی وراثت مل گئی تھی، اس لیے اطمینان سے سیاحت اور آوارہ گردی میں اسے ٹھکانے لگا دیا۔ وطن واپس آئے چند ہی ماہ ہوئے ہیں۔ ایک چھوٹے سے کاروبار میں تھوڑی سی انویسٹمنٹ کر کے دال روٹی کا بندوبست کر لیا ہے اور طارق روڈ پر ہی کرائے کے ایک چھوٹے سے فلیٹ میں رہ رہے ہیں۔ کل ملاقات ہوئی تو بہت سی باتیں ہوئیں لیکن ظاہر ہے، پھر بھی تشنگی رہ گئی۔ چنانچہ یہ طے پایا تھا کہ آج رات یہ ہماری طرف آئیں گے، پھر اطمینان سے باتیں ہوں گی بلکہ اب تو اکثر ہی ملاقاتیں اور باتیں ہوتی رہیں گی کیونکہ ان کے پاس بھی فرصت ہے اور ہمارے پاس بھی۔‘‘

وہ گہری سانس لے کر خاموش ہوئے تو آغا وحید پہلو بدلتے ہوئے بولے۔ ’’جہاں تک میری سیاحت اور آوارہ گردی کا تعلق ہے، تو میں کوئی عام سیاح نہیں تھا جسے دنیا کے مشہور اور قابلِ دید مقامات دیکھنے کا شوق ہوتا ہے۔ مجھے ایسے مقامات دیکھنے کا قطعی شوق نہیں تھا۔ میں اگر ایسی جگہوں کی طرف گیا بھی تو محض اتفاقاً چلا گیا تھا۔ میرا اصل شوق ایسی جگہوں پر جانے کا تھا جن کے بارے میں عجیب و غریب اور پُراسرار داستانیں مشہور تھیں۔ جن سے ناقابلِ یقین روایتیں منسوب تھیں۔ میں دنیا کے بہت سے ایسے عجیب اور دُورافتادہ گوشوں میں بھی گیا جہاں طرح طرح کے پُراسرار کرداروں سے میری ملاقاتیں ہوئیں۔ میرے پاس عجیب و غریب کرداروں اور پُراسرار یا خوفناک داستانوں کا ایک ذخیرہ جمع ہوگیا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اگر وہ ساری داستانیں اور واقعات میں کسی کو نہ سنا سکوں تو ان میں سے کچھ تو اپنے کسی ایسے شناسا یا دوست کو ضرور سنائوں جسے اس قسم کی باتوں سے دلچسپی ہو اور جو میری باتوں پر یقین بھی کرسکے۔‘‘

’’مجھے تو خود اس قسم کی کہانیاں اور واقعات سننے کا بہت شوق ہے۔‘‘ کمال عباسی جلدی سے بول اٹھے۔ ’’بلکہ مجھے تو خود بھی اس طرح کی سیر و سیاحت کا بہت شوق تھا، جیسی تم اتنے برسوں میں کر کے آئے ہو… لیکن میرے حالات نے اس کی اجازت نہیں دی۔‘‘

’’چلیے… اب آغا انکل سے ان کی زندگی کے واقعات سن کر ہم شاید یہی محسوس کریں کہ ہم بھی ان کے ساتھ ساتھ تھے۔‘‘ نوجوان جمال عباسی پُراشتیاق لہجے میں بولا۔ ’’ہم روزانہ رات کو کھانے کے بعد دو تین گھنٹے کے لیے بیٹھ کر ان سے قصے سنا کریں گے۔‘‘

’’ہم تینوں کو ایسی کہانیاں اور واقعات سننے کا بہت شوق ہے۔‘‘ مسز عباسی نے بھی بیٹے اور شوہر کی تائید کی۔ ’’اور آج کل ہمارے پاس فرصت ہی فرصت ہے۔ یہ تو بہت اچھا ہوا کہ عباسی صاحب کو آپ جیسا بچھڑا ہوا دوست مل گیا۔‘‘

’’میرے پاس واقعی ایسی کہانیوں کی کوئی کمی نہیں۔‘‘ آغا وحید صوفے کے پشتے سے ٹیک لگاتے ہوئے بولا۔ ’’میں بہت سے مندروں، خانقاہوں اور دوسری عبادت گاہوں میں گیا ہوں جہاں ایسے پُراسرار جوگی، سنیاسی اور راہب رہتے تھے جن کے بارے میں مجھے معتبر ذرائع سے پتا چلا تھا کہ وہ جادوگر ہیں۔ ترقی یافتہ ملکوں میں بھی ایسے بے شمار گوشے موجود ہیں جن تک ان ملکوں میں رہنے والوں کی نظر بھی نہیں جاتی۔ ایسی بہت سی پُراسرار جگہیں موجود ہیں جہاں مافوق الفطرت اور طلسماتی سے کردار پائے جاتے ہیں جو ناقابل یقین طاقتوں کے مالک ہیں لیکن وہ لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہتے ہیں یا پھر عام سے آدمیوں کی طرح ان کے سامنے آتے ہیں۔‘‘

کمال عباسی کو جیسے کچھ یاد آیا اور وہ پُراشتیاق لہجے میں بولے۔ ’’کل تم مجھے کسی بندر کے پنجے کے بارے میں بتانے لگے تھے۔ وہ بات بیچ میں ہی رہ گئی تھی اور دوسری باتیں شروع ہوگئی تھیں۔ وہ کیا قصہ تھا؟‘‘

’’وہ کوئی خاص بات نہیں تھی۔‘‘ آغا وحید نظر چُراتے ہوئے بولا۔ انداز ٹالنے والا تھا۔

’’بندر کا پنجا…؟‘‘ مسز عباسی بھی تجسس بھرے لہجے میں بول اٹھیں۔ ’’بھئی ہمیں اس کے بارے میں ضرور بتائیں اور اگر اس کے پیچھے کوئی کہانی ہے تو وہ ہمیں سنائیں۔‘‘

’’جی ہاں انکل… بتائیں نا… یہ بندر کے پنجے کا کیا قصہ ہے؟‘‘ جمال بھی بول اٹھا۔ اس کے لہجے میں بھی اصرار تھا۔ کمال عباسی تو پہلے ہی منتظر سی نظروں سے آغا وحید کی طرف دیکھ رہے تھے۔

آغا وحید ایک لمحے کے لیے تذبذب آمیز انداز میں خاموش رہے، گویا کسی فیصلے پر پہنچنے کی کوشش کر رہے ہوں۔ جب وہ بولے تو ان کے لہجے میں قدرے ہچکچاہٹ تھی۔ ’’آج کی ترقی یافتہ دنیا میں زیادہ تر لوگ جادو وغیرہ پر یقین نہیں رکھتے لیکن بندر کے اس پنجے کو ایک قسم کی طلسماتی چیز ہی کہا جا سکتا ہے۔ تاہم اس کے بارے میں کوئی توجیہ یا وضاحت ممکن نہیں ہے۔‘‘

آغا وحید کی اس بات نے گویا اس کے تینوں سامعین کا تجسس اور اشتیاق کچھ اور بڑھا دیا۔ وہ اصرار کرنے لگے کہ آغا انہیں بندر کے اس پنجے کے بارے میں بتائے۔ آخرکار آغا نے گویا ہتھیار ڈال دیئے اور کوٹ کی جیب میں ہاتھ ڈال کر کچھ ٹٹولتے ہوئے بولا۔ ’’بظاہر تو یہ بندر کا ایک عام سا پنجا ہے جسے خشک کر کے حنوط کردیا گیا ہے۔ اس لیے برسوں سے اس کا کچھ نہیں بگڑا۔‘‘

ایک لمحے بعد اس نے جیب سے ایک سوکھی ہوئی سی چیز نکال کر ان لوگوں کی طرف بڑھائی۔ مسز عباسی تو گویا کراہت محسوس کرتے ہوئے فوراً ذرا پیچھے کو ہوگئیں لیکن نوجوان جمال عباسی نے شاید تجسس محسوس کرتے ہوئے اس چیز کو ہاتھ میں لے لیا۔ وہ واقعی بندر کا ایک سوکھا ہوا سا پنجا تھا۔ جمال پُراشتیاق انداز میں اس کا معائنہ کرنے لگا۔

چند لمحے بعد مسز عباسی نے بھی گویا ہمت کر کے وہ پنجا بیٹے کے ہاتھ سے لے لیا۔ انہوں نے بھی کچھ دیر بڑے غور سے اس کا معائنہ کیا، پھر اسے تپائی پر رکھتے ہوئے بولیں۔ ’’یہ تو واقعی کسی بندر کا پنجا ہے… لیکن اس میں خاص بات کیا ہے؟‘‘

’’اس پر کسی جادوگر یا پراسرار علوم کے ماہر نے کوئی خاص عمل کیا ہوا ہے۔‘‘ آغا وحید نے بتایا۔ ’’ویسے مجھے زیادہ شہادتیں تو اسی بات کی ملی ہیں کہ اس پر عمل کرنے والا کوئی ایسا ہی آدمی تھا۔ وہ بتانا چاہتا تھا کہ انسانوں کی زندگیاں ان کی تقدیر کے مطابق گزرتی ہیں جو پہلے ہی لکھی جا چکی ہوتی ہے لیکن بہت سے لوگ اپنی تقدیر سے مطمئن نہیں ہوتے اور اس میں دخل اندازی کی کوئی نہ کوئی تدبیر کرتے رہتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے حیلے وسیلے تلاش کرتے رہتے ہیں۔ ایسے لوگ دکھ اٹھاتے ہیں۔ وہ کبھی خوش نہیں رہ سکتے۔‘‘

آغا وحید گویا ان کے چہروں پر اپنی بات کا ردّعمل تلاش کرنے کے لیے ایک لمحے کو خاموش ہوا۔ وہ تینوں حیرت اور انہماک سے اس کی بات سن رہے تھے۔ آغا وحید سلسلۂ کلام جوڑتے ہوئے بولا۔ ’’اس نامعلوم بزرگ نے اس پنجے پر کوئی ایسا عمل کیا تھا کہ اس کے ذریعے مختلف آدمی اپنی تین مختلف خواہشات پوری کرسکتے تھے۔‘‘

’’تو پھر تم نے اس کے ذریعے اپنی کوئی تین خواہشات کیوں پوری نہیں کیں؟‘‘ کمال عباسی نے دریافت کیا۔

آغا وحید نے کچھ اس انداز میں اس کی طرف دیکھا جیسے عام طور پر بڑی عمر کے لوگ ناسمجھ نوجوانوں کی طرف دیکھتے ہیں حالانکہ وہ دیکھنے میں کمال عباسی سے کئی سال چھوٹا لگ رہا تھا۔ ایک لمحے کے توقف کے بعد وہ دھیمے لہجے میں بولا۔ ’’میں نے خواہشات کی تھیں…!‘‘ وہ صرف اتنا کہہ کر ایک بار پھر خاموش ہوگیا۔ اس کی رنگت متغیر ہوگئی۔

’’کیا وہ خواہشات پوری ہوگئی تھیں؟‘‘ مسز عباسی نے گہری نظروں سے اس کے چہرے کا جائزہ لیتے ہوئے پوچھا۔

’’جی ہاں۔‘‘ آغا وحید نے جواب دیا اور ہاتھ بڑھا کر پانی کا گلاس اٹھا لیا۔ گلاس ہونٹوں سے لگاتے وقت نہ جانے کیوں اس کا ہاتھ ذرا لرز گیا اور کمرے کے گہرے سکوت میں گلاس دانتوں سے ٹکرانے کی خفیف سی آواز بھی سنائی دے گئی۔

’’کیا کسی اور نے بھی اپنی تین خواہشات پوری کرنے کی کوشش کی؟‘‘ مسز عباسی نے دریافت کیا۔

’’جی ہاں… ایک اور شخص نے بھی تین خواہشات کی تھیں۔‘‘ آغا وحید نے جواب دیا۔ ’’مجھے یہ تو معلوم نہیں ہو سکا کہ اس کی پہلی دو خواہشات کیا تھیں لیکن یہ پتا چل گیا کہ اس کی تیسری خواہش کیا تھی۔‘‘ اتنا کہہ کر وہ خاموش ہوگیا۔ اس کی خاموشی کچھ ڈرامائی سی محسوس ہوئی۔

’’کیا تھی تیسری خواہش؟‘‘ آخر جمال عباسی بے تابانہ لہجے میں بول اٹھا۔

’’اس کی تیسری خواہش یہ تھی کہ اسے موت آ جائے اور اسے واقعی موت آگئی۔ اس کے مرنے کی وجہ سے ہی یہ پنجا میرے پاس آگیا۔‘‘ آغا وحید نے گہری سانس لے کر جواب دیا۔

کمرے میں ایک بار پھر بوجھل سا سکوت طاری ہوگیا۔ آخر کمال عباسی نے یہ سکوت توڑا۔ وہ ہچکچاہٹ آمیز سے لہجے میں بولا۔ ’’تمہاری تین خواہشیں تو پوری ہوچکی ہیں۔ اب یہ پنجا تمہارے لیے بے کار ہو چکا ہے۔ پھر تم اسے کیوں لیے پھر رہے ہو؟‘‘

’’شاید میں اس کے سحر میں گرفتار ہوگیا ہوں۔‘‘ آغا وحید نے کھوئے کھوئے سے لہجے میں کہا۔ ’’ایک بار مجھے یہ خیال بھی آیا کہ میں اسے فروخت کردوں۔ اُس وقت میں ایک مالی مسئلے میں پھنس گیا تھا۔ اگر میں کسی صاحب حیثیت آدمی کو اس پنجے کی کہانی سناتا اور وہ اس کہانی پر یقین کرلیتا تو شاید مجھے اس کی بھاری قیمت مل سکتی تھی… لیکن میں پھر بھی اسے فروخت نہیں کرسکا۔ میرا خیال ہے، میں اسے فروخت کر ہی نہیں سکتا۔ میں یہ سوچ کر اسے فروخت کرنے سے باز رہتا ہوں کہ اس کی وجہ سے بہت سے لوگ پہلے ہی بہت دُکھ اٹھا چکے ہیں۔‘‘

’’اگر اس پنجے کے ذریعے تمہاری مزید تین خواہشیں پوری ہو سکتیں تو تم کیا خواہش کرتے؟‘‘ کمال عباسی نے تجسس سے پوچھا۔

’’میں… میں یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتا۔‘‘ آغا وحید جیسے کچھ گڑبڑا سا گیا۔ اس نے شاید اس پہلو پر سوچا ہی نہیں تھا۔

وہ چند لمحے خاموشی سے پنجے کو گھورتا رہا جو تپائی پر پڑا تھا۔ اس کے ذہن میں اس وقت نہ جانے کن خیالات کی یلغار تھی۔ اس کے تینوں میزبان بھی اس وقت اپنی اپنی جگہ کچھ سوچ رہے تھے۔ پھر آغا وحید نے ایک ایسی حرکت کی جو ان تینوں کے لیے شاید قطعی غیر متوقع تھی۔ اس نے پنجے کو چٹکی میں اٹھایا اور اچانک ہی گیس کے ہیٹر میں پھینک دیا۔ کمال عباسی کے حلق سے بے اختیار ہلکی سی چیخ نکل گئی۔ وہ پھرتی سے پنجے کو اٹھانے کے لیے لپکا۔ غنیمت تھا کہ پنجا شعلوں میں جا کر نہیں گرا تھا بلکہ ہیٹر کی حفاظتی جالی

میں ہی اٹک گیا تھا جہاں سے کمال نے ایک جھٹکے سے اسے نکال لیا۔ وہ جلنے سے بچ گیا تھا۔

’’یہ تم کیا حماقت کرنے لگے تھے؟‘‘ کمال عباسی نے آغا وحید کو گھورتے ہوئے ذرا خفگی سے کہا۔

’’اسے جل جانے دو… یہی بہتر ہے۔‘‘ آغا وحید نے کہا۔ اس کے لہجے میں ایک عجیب سا دکھ تھا۔

کمال عباسی نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولا۔ ’’تم کیوں اسے جلانے پر تُلے ہوئے ہو؟ اس سے بہتر ہے کہ تم یہ مجھے دے دو۔ تمہیں اگر اس کی ضرورت نہیں ہے تو میں رکھ لیتا ہوں۔‘‘

’’مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے… لیکن نتائج کے ذمے دار تم خود ہوگے۔ مجھے ملامت نہ کرنا… اور نہ ہی کوئی الزام دینا۔‘‘ آغا وحید نے خبردار کرنے کے سے انداز میں کہا۔

کمال عباسی نے آمادگی سے سر ہلا دیا۔ انہوں نے گویا آغا وحید کے الفاظ کو کوئی خاص اہمیت نہیں دی تھی۔ انہوں نے پُراشتیاق لہجے میں کہا۔ ’’تو گویا اب یہ پنجا میرا ہوا؟‘‘

’’بے شک۔‘‘ آغا وحید نے بلا تامل جواب دیا۔

کمال عباسی کو گویا اطمینان ہوگیا کہ اب وہ پنجے کا مالک بن چکا تھا۔ یہ طمانیت حاصل ہونے کے بعد وہ پنجے کو پہلے سے بھی زیادہ غور سے دیکھتے ہوئے بولا۔ ’’اس کے ذریعے خواہش پوری کرنے کا طریقہ کیا ہے؟‘‘

’’طریقہ بہت سیدھا سادا اور آسان ہے۔ بس اسے دائیں ہاتھ میں پکڑ کر ذرا اونچا کرو اور قدرے بلند آواز میں اپنی خواہش بیان کرو۔‘‘ آغا وحید نے جواب دیا۔ پھر اس کے لہجے میں ہلکی سی ہچکچاہٹ آگئی۔ ’’لیکن اس پنجے کے ذریعے خواہش پوری کرنے کے سلسلے میں کچھ خطرات بھی لاحق ہوسکتے ہیں۔ میں تمہیں ممکنہ نتائج سے خبردار کردینا چاہتا ہوں۔‘‘

’’باقی باتیں بعد میں کرنا… پہلے میں آپ لوگوں کے لیے اور کافی بنا کر لاتی ہوں۔‘‘ مسز عباسی نے اٹھتے ہوئے کہا۔ پھر وہ تپائی سے برتنوں کی ٹرے اٹھاتے ہوئے بولیں۔ ’’آپ نے اس پنجے کے بارے میں جو کچھ بتایا ہے، اس کی روشنی میں تو یہ اس قسم کی چیزوں میں سے کوئی چیز لگ رہا ہے جن کے تذکرے ہم جادوئی قصے کہانیوں میں پڑھتے آ رہے ہیں۔ اگر کوئی مجھے اس پنجے کے ذریعے خواہش پوری کرنے موقع دے تو میں کہوں گی کہ میری جوانی کی طاقت لوٹ آئے اور میرے چار ہاتھ ہو جائیں تاکہ میں آسانی سے گھر کے کام کاج کرسکوں اور لوگوں کو حیران بھی کرسکوں۔‘‘

کمال عباسی اس دوران بندر کے پنجے کو اٹھا کر اپنی جیب میں ڈال چکے تھے لیکن بیگم کی بات سن کر انہوں نے اسے نکال لیا اور مسکراتے ہوئے بولے۔ ’’چلو… تمہاری یہ خواہش پوری کردیتے ہیں۔ تم بھی کیا یاد کرو گی۔ چار کے بجائے تم چاہو تو آٹھ ہاتھ مانگ لو۔ بندر کا پنجا… بلکہ یوں کہو کہ جادو کا پنجا تو اب ہمارے پاس ہے۔‘‘

ماں بیٹا ہنس دیئے لیکن کمال عباسی نے پنجا یوں ہاتھ میں بلند کیا جیسے وہ واقعی اپنی بیوی کی خواہش پوری کرنے لگا ہو۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتا، آغا وحید نے قدرے تشویش اور پریشانی کے عالم میں اس کی کلائی پکڑ لی اور اس کا ہاتھ نیچے کرتے ہوئے گہری سنجیدگی سے بولا۔ ’’اگر کچھ مانگنا ہے تو سوچ سمجھ کر سنجیدگی سے مانگو۔ غیر سنجیدگی یا مذاق میں الٹی سیدھی خواہشیں نہ کرو۔ یہ مت سمجھو کہ میں نے پنجے کے بارے میں جو کچھ کہا ہے وہ سچ نہیں ہے۔‘‘

کمال عباسی کے دل میں اگر کوئی شک شبہ تھا تو وہ آغا وحید کی سنجیدگی دیکھ کر دور ہوگیا۔ انہوں نے پنجا دوبارہ جیب میں رکھ لیا اور اپنے مہمان کے سامنے تپائی پر رکھے فالتو برتن اٹھا کر ڈائننگ ٹیبل پر رکھنے کے لیے جانے لگے لیکن جمال نے باپ کے ہاتھ سے ٹرے لے لی اور اسے خود جا کر ڈائننگ ٹیبل پر رکھ آیا۔ کمال نے دوبارہ صوفے پر بیٹھتے ہوئے شکوہ آمیز سے لہجے میں آغا وحید سے کہا۔ ’’میں نے تو تم سے کہا تھا کہ کھانا یہیں کھانا… لیکن تم بضد رہے کہ کھانا کھا کر ہی آئو گے۔ اگر کھانا ہمارے ساتھ کھاتے تو بات چیت میں اور بھی زیادہ لطف آتا۔‘‘

’’بھئی اب تو تمہارے ہاں آنا جانا لگا ہی رہے گا، اس لیے کھانوں کا سلسلہ بھی چلتا رہے گا۔ تمہیں شکوہ شکایت یا افسوس کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ آغا وحید بولا۔ ’’اس موسم میں تو کافی ہی زیادہ لطف دے رہی ہے۔‘‘

وہ اِدھر اُدھر کی باتیں کرتے رہے اور مسز عباسی چند منٹ میں دوبارہ کافی بنا کر لے آئیں۔ کافی کے دوسرے دور میں دوسری باتیں شروع ہوگئیں اور وہ لوگ وقتی طور پر گویا پنجے کو بھول گئے۔ آغا وحید نے اپنی زندگی کے کچھ دوسرے واقعات سنانے شروع کر دیئے جن میں سے زیادہ تر کا تعلق انڈیا کی سرزمین سے تھا۔

انہیں کافی ختم کئے بھی خاصی دیر گزر گئی تو آغا وحید چونک کر گھڑی دیکھتے ہوئے بولا۔ ’’ارے… بہت رات گزر گئی۔ باتوں باتوں میں پتا ہی نہیں چلا۔ بارش بھی کافی دیر پہلے تھم چکی ہے۔ اب تو سڑکوں پر پانی بھی کم ہوگیا ہوگا۔ مجھے چلنا چاہئے۔‘‘

’’پھر کب ملاقات ہوگی؟‘‘ کمال عباسی نے دریافت کیا۔ اس نے آغا وحید کو روکنے کے لیے اصرار نہیں کیا۔ رات واقعی کافی بیت چکی تھی۔ انہیں اندازہ تھا کہ ان کے علاقے میں تو ویرانی اور سناٹے کا احساس کچھ زیادہ ہی ہوگا۔

’’آج کل میری تھوڑی بہت مصروفیت چل رہی ہے۔ بیچ میں جیسے ہی وقت ملا، میں تمہیں فون کر لوں گا اور ہم مل بیٹھنے کا کوئی پروگرام بنا لیں گے۔‘‘ آغا نے جواب دیا۔

’’میرے بارے میں تو تمہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں… ہم میاں بیوی کی کوئی مصروفیت ہوتی ہی نہیں ہے۔ ہمیں تو وقت گزارنا محال ہوتا ہے۔ تم جب چاہو، ہمارے ہاں آ سکتے ہو۔‘‘ کمال عباسی نے اسے رخصت کرنے کے لیے اٹھتے ہوئے کہا۔ وہ آغا وحید کو گیٹ تک چھوڑنے گئے۔

چند لمحے بعد وہ واپس آئے اور ڈرائنگ روم کا دروازہ بند کرنے کے بعد دوبارہ اپنی جگہ پر بیٹھتے ہوئے اپنی بیوی اور بیٹے کی طرف دیکھ کر الجھن آمیز لہجے میں بولے۔ ’’اس شخص نے جو باتیں کیں، ان کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟‘‘

ماں بیٹے نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا پھر مسز عباسی ہچکچاتے ہوئے بولیں۔ ’’میں یقین سے نہیں کہہ سکتی… اس کی باتیں سچ بھی ہوسکتی ہیں اور جھوٹ بھی… یہ بھی ممکن ہے کہ ان میں کچھ سچ ہو اور کچھ جھوٹ۔‘‘

تب عباسی صاحب نے بیٹے کی طرف دیکھا۔ وہ بھی ہچکچاہٹ آمیز لہجے میں بولا۔ ’’میں امی کی رائے سے متفق ہوں۔ ویسے آپ کا اپنا خیال کیا ہے؟‘‘

’’مجھے تو اس کے سنائے ہوئے قصے محض قصے کہانیاں ہی لگتے ہیں۔ معلوم نہیں، کیوں مجھے ان میں حقیقت کا عنصر کم ہی محسوس ہو رہا ہے۔ میرے لیے ان پر یقین کرنا بہت مشکل ہے کیونکہ میں جادو ٹونے اور پُراسرار قسم کی کہانیوں پر کم ہی یقین رکھتا ہوں۔ خاص طور پر اس نے بندر کے اس پنجے کے بارے میں جو کچھ کہا ہے، اس پر یقین کرنا میرے لیے بہت ہی مشکل ہے۔ وہ تو رسالوں، کتابوں میں چھپی ہوئی پُراسرار… مگر فرضی کہانیوں کا کوئی حصہ معلوم ہوتا ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ اس پنجے کے ذریعے کسی کی تین تو کیا، کوئی ایک خواہش بھی پوری ہوسکتی ہے۔‘‘

’’تو پھر آپ نے آغا انکل سے پنجا لیا ہی کیوں؟‘‘ بیٹے نے سوال کردیا۔

کمال عباسی تحمل سے مسکرائے اور اپنے مخصوص دھیمے انداز میں بولے۔ ’’بھئی… ہر انسان کی فطرت میں تھوڑا بہت لالچ تو ضرور ہوتا ہے۔ اس طرح کی بات سن کر انسان دلچسپی لیے بغیر نہیں رہ سکتا، چاہے اسے دل ہی دل میں اس بات پر یقین نہ آ رہا ہو۔ اس نے تو ویسے بھی اس پنجے کو آگ میں پھینک دیا تھا۔ میں نے غیرارادی طور پر اسے بچایا اور پھر غیرارادی طور پر ہی مانگ بھی لیا۔‘‘

’’خیر… یہ تو اچھا ہی ہوا۔‘‘ مسز عباسی پہلو بدلتے ہوئے بولیں۔ ’’پنجا اب آپ کے پاس ہے۔ سچ جھوٹ کا آسانی سے فیصلہ ہوسکتا ہے۔ آپ کوئی خواہش کر کے دیکھ لیں۔‘‘

’’ہاں… یہ بات تو ہے۔‘‘ کمال عباسی نے اثبات میں سر ہلایا۔ ’’پنجا میں نے آغا وحید سے لیا تو اسی خیال سے تھا کہ آزما کر دیکھنے میں کیا حرج ہے۔‘‘

انہوں نے جیب میں ہاتھ ڈال کر پنجا نکال لیا اور چند لمحے الجھن کے سے عالم میں اسے دیکھتے رہے۔ پھر بیوی اور بیٹے کی طرف دیکھ کر بولے۔ ’’میری تو یہ بھی سمجھ میں نہیں آ رہا کہ خواہش کروں تو کیا کروں؟ انسان کا معاملہ تو وہی ہے کہ… ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے… اور پھر ہمارے تو آج کل حالات بھی اچھے نہیں… میرا خیال ہے ہماری مختصر سی فیملی میں لالچی تو کوئی بھی نہیں ہے لیکن ضروریات ہمیں نہ جانے کون کون سی خواہش کرنے پر مجبور کرتی ہیں۔‘‘

ان کا بیٹا جمال قدرے مضطربانہ سے انداز میں ہاتھ ملتے ہوئے بولا۔ ’’ابھی تو اس مکان پر بھی بیس لاکھ روپے کا قرضہ باقی ہے۔ اپنے تمام بچے کھچے وسائل اس مکان میں لگا دینے کے باوجود ہم لوگ بیس لاکھ کے قرض تلے بھی دبے ہوئے ہیں۔ آپ زیادہ لالچ نہ کریں تب بھی اس پنجے کے ذریعے کم از کم بیس لاکھ روپے تو مانگ لیں۔ پنجے کی آزمائش بھی ہو جائے گی۔ اگر رقم مل گئی تو ہمارے سر سے بہت بڑا بوجھ اتر جائے گا۔ قرض کی ادائیگی کے سلسلے میں ویسے بھی ہم ڈیفالٹ ہو چکے ہیں۔ اگر آپ زیادہ عرصے نادہندہ رہے تو مکان قرق ہو جائے گا۔ بینک اسے نیلام کردے گا۔ سر چھپانے کے اس ٹھکانے سے بھی ہم محروم ہو جائیں گے۔ رقم نہ ملی تو ہمیں صبر آ جائے گا اور یہ یقین ہو جائے گا کہ پنجا ایک بے کار سی چیز ہے۔‘‘

جمال نے یہ سب باتیں نہایت سمجھدارانہ لہجے میں کی تھیں۔ کمال عباسی نے اس کی تائید میں سر ہلایا۔ پھر گویا ذرا شرماتے ہوئے اس پنجے کو ہاتھ میں ذرا اونچا کیا۔ اس کے تاثرات کچھ ایسے تھے جیسے وہ بہت سے لوگوں کے سامنے کوئی بچکانہ سا کام کرنے جا رہا ہو۔ بیٹے نے ذرا شریر سے انداز میں مسکراتے ہوئے ماں کی طرف دیکھا۔ پھر تپائی کو دونوں ہاتھوں سے طبلے کی طرح بجاتے ہوئے منہ سے کچھ ایسی آوازیں نکالنے لگا جیسے کسی فلم کے منظر میں ڈرامائی تاثر کو بڑھانے کے لیے پس پردہ موسیقی دی جا رہی ہو۔ اس کی اس حرکت پر اس کے والد گویا کچھ اور شرما گئے تاہم انہوں نے اپنا بلند کیا ہوا ہاتھ نیچے نہیں کیا۔

چند لمحوں کی ہچکچاہٹ کے بعد انہوں نے ٹھہر ٹھہر کر، اور ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا۔ ’’میری خواہش ہے کہ مجھے کسی طرح بیس لاکھ روپے مل جائیں۔‘‘

ان الفاظ کے ساتھ ساتھ جمال عباسی نے اپنی ’’پس پردہ موسیقی‘‘ کچھ اور تیز کردی۔ اچانک کمال عباسی کے حلق سے ہلکی سی چیخ نکل گئی اور انہوں نے بندر کا پنجا خوفزدہ سے انداز میں کچھ دور پھینک دیا۔ ماں بیٹا جلدی سے اٹھ کر ان کے قریب آگئے۔

’’کیا ہوا؟‘‘ مسز عباسی نے تشویش زدہ لہجے میں پوچھا۔ کمال عباسی کا وہ ہاتھ ہولے ہولے کانپ رہا تھا جس میں اس نے ایک لمحہ پہلے بندر کا پنجا تھاما ہوا تھا۔

’’اس پنجے میں حرکت پیدا ہوئی تھی۔‘‘ کمال عباسی نے قالین پر پڑے پنجے کی طرف اشارہ کیا۔ ’’جب میں نے اپنی خواہش بیان کی تو پنجا میرے ہاتھ میں سانپ کی طرح کلبلایا تھا۔‘‘

’’لیکن رقم بہرحال کہیں نظر نہیں آ رہی۔‘‘ جمال نے اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے استہزائیہ سے لہجے میں کہا۔ پھر اس نے پنجا قالین سے اٹھا لیا اور اسے الٹ پلٹ کر دیکھنے کے بعد اپنے والد کے سامنے تپائی پر رکھتے ہوئے بولا۔ ’’اس کا کمال شاید یہیں تک محدود ہو… جب اسے ہاتھ میں پکڑ کر خواہش بیان کی جاتی ہوگی تو یہ ایک لمحے کے لیے کلبلا اٹھتا ہوگا۔ اب تو یہ بالکل پہلے ہی کی طرح بے جان معلوم ہو رہا ہے۔‘‘

’’تمہیں وہم ہوا ہوگا کہ یہ کلبلایا ہے۔‘‘ مسز عباسی نے گویا شوہر کو تسلی دی۔ تمہارے ذہن میں چونکہ پہلے ہی آغا وحید کی باتوں کی وجہ سے عجیب سا تاثر بیٹھا ہوا ہوگا۔ اس لیے تمہارا تخیل تمہیں اس قسم کا تماشا دکھا رہا ہوگا۔‘‘ وہ غور سے اپنے شوہر کا چہرہ دیکھ رہی تھیں۔ شاید جائزہ لے رہی تھیں کہ شوہر کو ان کی بات سے کچھ حوصلہ ملا ہے یا نہیں؟

اس کے بعد کمرے میں بوجھل سا سکوت چھا گیا۔ اس سکوت نے گویا ان کے دلوں کو بھی بوجھل کردیا تھا۔ یہ سکوت اس وقت تک برقرار رہا جب تک وہ اپنے اپنے بیڈ روم میں جانے کے لیے نہیں اٹھ گئے۔ اس وقت جمال نے گویا ماحول کے بوجھل پن کو کم کرنے کی کوشش کی اور کافی حد تک شگفتہ لہجے میں باپ سے مخاطب ہوا۔ ’’ابو… دل چھوٹا نہ کریں۔ مایوس نہ ہوں۔ شاید صبح آپ کو بیس لاکھ کی رقم کسی بڑے سے لفافے یا بریف کیس میں اپنے سرہانے رکھی مل جائے… اور مجھے یقین ہے جب آپ وہ رقم اٹھا رہے ہوں گے تو الماری پر بیٹھی ہوئی کوئی کالی بلی یا بھورا بندر اپنی چمکیلی آنکھوں سے آپ کو گھور رہا ہوگا۔‘‘

اس کے والدین نے کوئی جواب نہ دیا۔ جمال نے یہ بات ماحول کا بوجھل پن کم کرنے اور اپنے والدین کو ہنسانے کے لیے کی تھی لیکن ان کی سنجیدگی میں کوئی فرق نہ آیا۔ وہ اسے شب بہ خیر کہہ کر اپنے بیڈ روم میں چلے گئے۔ جمال نے ان کے جانے کے بعد بھی اپنے بیڈ روم کا رخ نہیں کیا اور دوبارہ وہیں بیٹھ گیا۔ کمرے میں روشنی کم تھی البتہ وہ حصہ ذرا زیادہ روشن نظر آ رہا تھا جس میں گیس کا ہیٹر نصب تھا۔ ہیٹر کے شعلے دھیرے دھیرے لرز رہے تھے اور ان کی نیلگوں حصوں میں ایک عجیب سی چمک محسوس ہو رہی تھی۔

وہ ایک ٹک ان شعلوں کو تک رہا تھا۔ کمرے میں گہری خاموشی تھی۔ رفتہ رفتہ جمال کو یوں لگنے لگا جیسے شعلوں کے درمیان چھوٹی چھوٹی، عجیب اور ڈرائونی سی شکلیں ناچ رہی تھیں۔ پھر اسے کچھ یوں لگا جیسے وہ ننھے ننھے بندر تھے جو شعلوں کے درمیان اچھل کود رہے تھے اور اس کی طرف دیکھ کر خوخیا رہے تھے۔ جمال کافی دیر تک انہیں اس طرح دیکھتا رہا جیسے کسی نے اسے ہپناٹائز کردیا ہو۔ پھر اچانک اسے جھرجھری سی آگئی اور وہ چونک اٹھا۔ اسی لمحے گویا سارا منظر اس کی آنکھوں کے سامنے بکھر گیا۔ تب اسے یقین ہوگیا کہ یہ سب کچھ اس کے تخیل کی پیداوار تھا۔

اس کا گلا خشک ہو رہا تھا اور اسے کچھ یوں لگ رہا تھا جیسے موسم اچانک ہی بہت گرم ہوگیا ہو۔ گیس کا ہیٹر گویا اس کی طرف بے تحاشا تپش پھینک رہا تھا۔ اس نے پانی کا گلاس اٹھانے کے لیے تپائی کی طرف ہاتھ بڑھایا تو اس کا ہاتھ بندر کے پنجے سے جا ٹکرایا۔ اس نے جلدی سے ہاتھ پیچھے کھینچ لیا اور اسے یوں اپنی شرٹ سے صاف کرنے لگا جیسے وہ کسی غلیظ چیز سے چھو گیا ہو۔ کمرے کی حرارت اس کے لیے ناقابل برداشت ہوئی جا رہی تھی۔ آخر وہ بھی اپنے بیڈروم میں جانے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا۔ اس نے ہیٹر اور لائٹس بند کردیں۔

دوسرے روز وہ ناشتے کی میز پر لائونج میں جمع ہوئے تو کھڑکیوں کے پردے ہٹے ہوئے تھے اور سردیوں کے سورج کی چمکیلی دھوپ ڈائننگ ٹیبل تک پہنچ رہی تھی۔ اس وقت ڈرائنگ روم اور اس سے ملحق لائونج کا ماحول، گزری ہوئی رات سے یکسر مختلف محسوس ہو رہا تھا۔ جمال کو یہ یاد کر کے ہنسی آتے آتے رہ گئی کہ گزشتہ رات وہ تقریباً اسی جگہ بیٹھے بیٹھے کیا محسوس کر رہا تھا اور اس کا تصور اسے کیا کیا چیزیں دکھا رہا تھا۔

گزشتہ رات کے برعکس اب وہاں تپش تھی اور نہ ہی کسی قسم کا خوف یا اجنبیت محسوس ہو رہی تھی۔ بندر کا وہ سوکھا کراہت انگیز پنجا ذرا ہی دور، اسی طرح تپائی پر پڑا تھا جس طرح جمال نے پچھلی رات اسے چھوڑا تھا۔ اس کے بعد سے اسے کسی نے شاید ہاتھ بھی نہیں لگایا تھا۔ اس کے والدین کو یقیناً اس کی پُراسرار قوتوں پر یقین نہیں رہا تھا اور اسی لیے شاید انہیں اس کی پروا بھی نہیں رہی تھی۔ ناشتے کے بعد جمال میز سے اٹھتے ہوئے اپنے والد سے مخاطب ہوا۔ ’’ابو! میں فیکٹری جا رہا ہوں۔ اگر میری غیر موجودگی میں کسی طرح بیس لاکھ روپے آپ کو مل جائیں تو میرے آنے سے پہلے سارے کے سارے خرچ مت کردیجئے گا۔ مجھے پتا ہے آپ بہت فضول خرچ ہیں… لیکن اب میں آپ کو فضول خرچی نہیں کرنے دوں گا۔‘‘ اس کے لہجے میں شرارت پنہاں تھی۔ اس کے مذاق پر اس کے والدین خوش دلی سے ہنس دیئے اور وہ مسکراتا ہوا دروازے کی طرف چل دیا۔ اس کی والدہ اسے رخصت کرنے اس کے پیچھے پیچھے گیٹ تک آئیں۔ یہ ان کا معمول تھا۔ بیٹا گھر سے نکل جاتا، تب بھی وہ کچھ دیر تک گیٹ کھولے کھڑی رہتیں اور اسے سڑک پر جاتے دیکھتی رہتیں۔ ان کے گھر میں کوئی گاڑی نہیں تھی۔ جمال کچھ دور پیدل چل کر اسٹاپ تک پہنچتا تھا اور دو بسیں بدل کر کورنگی کے انڈسٹریل ایریا کی ایک بہت بڑی فیکٹری میں جاتا تھا۔ اس نے میکینکل انجینئرنگ میں ڈپلوما لیا ہوا تھا لیکن اسے کوئی معقول ملازمت نہیں مل سکی تھی۔ وہ ایک بڑی فیکٹری میں مشینوں کی دیکھ بھال اور چھوٹی موٹی مرمت پر مامور تھا۔ اس کی حیثیت ایک قسم کے میکینک کی تھی۔ اس نے مجبوراً یہ ملازمت کرلی تھی کیونکہ گھر چلانے کے لیے بہرحال کسی نہ کسی ذریعۂ معاش کی ضرورت تھی۔ انہوں نے اچھا وقت بھی دیکھا تھا لیکن اب ان کے پاس اس دورافتادہ علاقے میں چار سو گز کے اس مکان کے سوا کچھ نہیں تھا۔ فی الحال اس مکان کی ویلیو بھی کچھ زیادہ نہیں تھی۔ اس کے باوجود کمال عباسی نے کئی بار سوچا تھا کہ وہ اسے بیچ کر کسی چھوٹے موٹے فلیٹ میں چلے جائیں اور باقی رقم سے کوئی کاروبار کرلیں لیکن انہوں نے مختلف کاروباروں میں اتنے نقصان اٹھائے تھے کہ مسز عباسی اب انہیں کاروبار کا نام بھی لینے نہیں دیتی تھیں۔ چنانچہ اب اس گھر کے وہ تینوں افراد صبر شکر سے، حالات سے سمجھوتہ کر کے گزر بسر کر رہے تھے اور اچھے وقت کا انتظار کر رہے تھے۔ جمال نظروں سے اوجھل ہوگیا تو مسز عباسی لائونج میں لوٹ آئیں۔ انہوں نے دیکھا کہ ان کے شوہر بندر کے پنجے کو ہاتھ میں لیے بیٹھے ہیں۔ ان کا چہرہ زرد تھا اور آنکھیں پتھرائی ہوئی سی لگ رہی تھیں۔ اپنے شوہر کو اس طرح بیٹھے دیکھ کر مسز عباسی کے دل کی دھڑکنیں تیز ہوگئیں۔ انہوں نے تشویش زدہ لہجے میں پوچھا۔ ’’کیا ہوا… اس طرح کیوں بیٹھے ہو… اور اس پنجے کو اس طرح کیوں گھورے جا رہے ہو؟‘‘ عباسی صاحب گویا کسی خواب سے چونکے اور حقیقت کی دنیا میں واپس آگئے۔ انہوں نے پنجے کو تپائی پر واپس رکھ دیا اور گہری سانس لے کر بولے۔ ’’کوئی خاص بات نہیں ہے۔ بس مجھے یاد آگیا تھا کہ پچھلی رات جب میں نے اس پنجے کو ہاتھ میں لے کر اپنی خواہش بیان کی تھی تو یہ کس طرح میرے ہاتھ میں کلبلایا تھا۔ میں سوچ رہا تھا کہ شاید ایک بار پھر اس میں زندگی کے آثار محسوس ہونے لگیں۔‘‘ ’’تو کیا تم نے پھر کوئی خواہش کی تھی؟‘‘ مسز عباسی نے پوچھا۔ ’’نہیں… کوئی خواہش بیان کرنے کا تو مجھے خیال ہی نہیں آیا۔‘‘ کمال عباسی نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولے۔ ’’اس سلسلے میں تو اس پنجے پر سے میرا اعتقاد اٹھ گیا ہے۔‘‘ ’’تو پھر اسے کوڑے میں پھینک دیتے ہیں۔‘‘ مسز عباسی بولیں۔ کمال عباسی نے ایک لمحے کچھ سوچا۔ پھر نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولے۔ ’’نہیں… میرے خیال میں یہ مناسب نہیں ہے۔ اسے کہیں دراز میں رکھ دو۔ کچھ بعید نہیں کہ آغا وحید کبھی اسے واپس مانگ لے۔ گوکہ اس نے پنجا ہمیں دے دیا ہے لیکن یہ مجھے اب بھی اس کی امانت محسوس ہو رہا ہے۔‘‘ مسز عباسی نے شوہر کی بات کی تردید نہیں کی۔ ایک لمحے کی خاموشی کے بعد بولیں۔ ’’میرے خیال میں تو آغا وحید نے ہمیں کوئی کہانی ہی سنائی ہے۔ حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ آج کل کے زمانے میں ایسی باتیں بھلا کہاں ہوتی ہیں؟ وہ مجھے نئے زمانے کا داستان گو لگتا ہے۔ شاید اسے قصے کہانیاں گھڑ کر سنانے اور محفل جمانے کا شوق ہے۔‘‘ ’’لیکن یہ بات میں یقین سے ایک بار پھر کہوں گا کہ پنجے نے میرے ہاتھ میں کلبلانے کے سے انداز میں حرکت کی تھی۔‘‘ کمال عباسی بولے۔ ’’اور میں ایک بار پھر یہ کہوں گی کہ یہ سب تمہارے تخیل کی کارستانی تھی۔‘‘ مسز عباسی نرم لہجے میں بولیں۔ کمال عباسی نے شکوہ آمیز نظروں سے ان کی طرف دیکھا گویا بہ زمان خاموشی کہہ رہے ہوں ’کتنے سالوں سے تم میری زندگی کی ساتھی ہو۔ کیا تم بھی میرے مزاج سے واقف نہیں ہو؟ مجھے اگر پورا یقین نہ ہوتا تو میں کبھی اس انداز میں… اور اتنے اصرار سے یہ بات نہ کرتا۔‘ ان کے اس خاموش احتجاج کے جواب میں مسز عباسی نے کچھ نہیں کہا تاہم وہ مضطربانہ سے انداز میں پہلو بدل کر رہ گئیں۔ دوپہر کے کھانے کا وقت ہوا تو انہوں نے کھانا میز پر لگا دیا اور دونوں میاں بیوی کھانے کے لیے بیٹھ گئے۔ مسز عباسی کچھ سوچ رہی تھیں۔ ایک لمحے کی خاموشی کے بعد وہ بولیں۔ ’’جمال فیکٹری سے واپس آئے گا تو اس سلسلے میں مزید جملے بازی کرے گا۔ وہ بہت سی باتیں باہر سے سوچ کر آئے گا۔ مجھے اس کی عادت کا پتا ہے۔ اسے ہم سے چھیڑ چھاڑ کرنے کے لیے ایک اچھا موضوع مل گیا ہے۔ عین ممکن ہے اس نے فیکٹری میں اپنے دوستوں اور ساتھیوں کو بھی یہ سارا قصہ سنا دیا ہو۔‘‘ ’’فیکٹری میں تو اس بے چارے کو سر کھجانے کی فرصت نہیں ملتی۔ وہاں اس کی کسی سے بے تکلفی بھی نہیں ہے۔ وہ گھر میں فیکٹری کے بارے میں جو باتیں کرتا رہتا ہے، ان سے تمہیں اندازہ ہونا چاہیے۔‘‘ کمال عباسی بولے لیکن پھر انہیں اندازہ ہوا کہ ان کی بیوی ان کی بات نہیں سن رہی تھی۔ وہ کان لگا کر گویا باہر کی کوئی آواز سننے کی کوشش کر رہی تھی۔ ایک لمحے کی خاموشی کے بعد مسز عباسی بولیں۔ ’’باہر کوئی گاڑی آ کر رکی ہے۔ میں جا کر دیکھتی ہوں۔‘‘ وہ اٹھ کھڑی ہوئیں۔ اس دوران وہ دونوں کھانا کھا کر ہاتھ دھو چکے تھے اور مسز عباسی چائے بنانے کا ارادہ کر رہی تھیں لیکن اب وہ کچن میں جانے کے بجائے باہر کا رخ کرنے لگیں تو کمال عباسی بول اٹھے۔ ’’ارے بھئی… ایسی بھی کیا بے تابی ہے۔ ضروری نہیں کہ ہمارے ہاں کوئی آیا ہو۔ اس وقت بھلا ہمارے ہاں کون آسکتا ہے؟ تم جا کر چائے بنائو۔ اگر کوئی ہمارے ہاں آیا ہوگا تو وہ بیل ضرور بجائے گا۔‘‘ مسز عباسی چند لمحے ہچکچاہٹ آمیز انداز میں وہیں کھڑی رہیں۔ پھر شاید انہوں نے شوہر کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے کچن کی طرف جانے کا ارادہ ہی کیا تھا کہ کال بیل بج اٹھی۔ کمال عباسی گہری سانس لے کر رہ گئے۔ پھر مسکرا کر بیگم کی طرف دیکھتے ہوئے بولے۔ ’’تمہارا اندازہ ٹھیک نکلا۔ تمہارے کان مجھ سے زیادہ تیز ہیں۔ مجھے تو گاڑی کی آواز سنائی ہی نہیں دی تھی۔‘‘ پھر وہ ذرا غور سے بیوی کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے بولے۔ ’’یہ تم یکایک اتنی پریشان کیوں نظر آنے لگی ہو؟‘‘ ’’معلوم نہیں کیوں میرا دل ہول رہا ہے۔‘‘ مسز عباسی قدرے متوحش لہجے میں بولیں۔ ’’میری گیٹ پر جانے کی ہمت نہیں پڑ رہی… بہتر ہے آپ چلے جائیں۔‘‘ ’’بھئی… مانا کہ شہر کے حالات بہت خراب ہیں، دن دہاڑے گنجان آباد علاقوں میں ڈاکے پڑ رہے ہیں۔ ہم تو پھر بھی گویا ویرانے میں رہ رہے ہیں، ہمیں تو واقعی زیادہ ڈرنا چاہیے۔ بیل بجانے والے ڈاکو بھی ہوسکتے ہیں لیکن مسئلہ ہے کہ ڈر کر کسی کونے کھدرے میں دبک کر بھی کب تک بیٹھ سکتے ہیں؟ اس طرح زندگی تو نہیں گزر سکتی۔‘‘ یہ کہہ کر کمال عباسی گہری سانس لیتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے۔ اس وقت تک بیل دوبارہ بج چکی تھی۔ تاہم بیل بجانے والے کا انداز جارحانہ نہیں تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ کوئی ہچکچاتے ہوئے بیل بجا رہا ہے۔ کمال عباسی نے گیٹ پر پہنچ کر پہلے ایک جھری سے باہر جھکانکا۔ باہر ایک ادھیڑ عمر شخص کھڑا مضطربانہ سے انداز میں اِدھر اُدھر دیکھ رہا تھا۔ حلیے سے وہ ایک معزز آدمی دکھائی دیتا تھا۔ تھری پیس سوٹ میں تھا۔ چہرے سے شرافت عیاں تھی۔ قریب ہی ایک کار کھڑی تھی جس میں غالباً وہ آیا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک بریف کیس تھا۔ اس پر چور ڈاکو ہونے کا شبہ ہرگز نہیں کیا جاسکتا تھا۔ کمال صاحب نے آہستگی سے گیٹ کھول دیا۔ اجنبی نے شائستگی سے انہیں سلام کیا۔ وہ بہت سنجیدہ نظر آ رہا تھا۔ اس کے چہر ے پر مسکراہٹ کا شائبہ تک نہیں تھا۔ کمال نے اس کے سلام کا جواب دے دیا، تب بھی وہ خاموش ہی کھڑا رہا۔ اس کی گویا سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ بات کس طرح شروع کی جائے۔ آخر کمال صاحب کو ہی کہنا پڑا۔ ’’جی… فرمایئے؟‘‘ ’’وہ… دراصل میں ’نذیر انڈسٹریز‘ سے آیا ہوں… جنرل منیجر ہوں وہاں۔‘‘ اجنبی نے کھنکار کر گلا صاف کرنے کے بعد ہچکچاہٹ آمیز لہجے میں کہا۔ ’’رئیس احمد میرا نام ہے۔‘‘ ’’اوہ!‘‘ کمال چونکے اور نہ جانے کیوں ان کے دل کی دھڑکن کچھ تیز ہوگئی۔ ان کا بیٹا جمال، نذیر انڈسٹریز میں ملازم تھا لیکن کمال نے آج تک ان کی کوئی فیکٹری دیکھی تھی اور نہ ہی وہ ان کے کسی آدمی سے ملے تھے۔ ان کی سمجھ میں نہ آیا کہ نذیر انڈسٹریز کا جنرل منیجر ان کے دروازے پر کیوں آیا تھا۔ وہ تو اپنے بیٹے کا انتظار کر رہے تھے۔ ’’آیئے… آپ اندر آیئے نا۔‘‘ کمال نے رئیس احمد کے لیے راستہ چھوڑ دیا۔ پھر اسے ساتھ لے کر ڈرائنگ روم میں آگئے۔ ان کی بیگم بھی ڈرائنگ روم میں پہنچ چکی تھیں۔ کمال عباسی نے ان دونوں کو ایک دوسرے سے متعارف کرایا۔ مسز عباسی کے چہرے پر بھی تشویش اور وحشت نمایاں ہوگئی۔ رئیس احمد نے بریف کیس تپائی پر رکھ دیا تھا اور مضطربانہ انداز میں ہاتھ مل رہا تھا۔ ’’بیٹھئے نا۔‘‘ آخر مسز عباسی نے مرتعش سی آواز میں کہا۔ ’’کہیے… کیسے آنا ہوا؟ کیا آپ کوئی پیغام لے کر آئے ہیں؟‘‘ ’’جی… جی ہاں۔ میں آپ سے ایک ضروری بات کرنے آیا ہوں۔‘‘ اتنا کہہ کر رئیس احمد ایک بار پھر خاموش ہوگیا۔ وہ گویا ابھی تک بات کرنے کا حوصلہ اپنے اندر نہیں پا رہا تھا۔ اس کی ہچکچاہٹ سے مسز عباسی اور بھی زیادہ پریشان ہوگئیں۔ ان کی آنکھیں کچھ اور پھیل گئیں۔ وہ وحشت زدہ لہجے میں بولیں۔ ’’بات کیا ہے؟ جمال خیریت سے تو ہے؟ آپ کیا بات کرنے آئے ہیں؟ کچھ بولیں تو سہی۔‘‘ ’’وہ… دراصل بات یہ ہے۔ مجھے افسوس ہے۔‘‘ رئیس کی آواز ایک بار پھر گلے میں اٹک گئی۔ مسز عباسی نے اس کے انداز سے گویا خود ہی نتیجہ اخذ کرتے ہوئے کہا۔ ’’کیا جمال زخمی ہوگیا ہے؟ اسے کوئی حادثہ پیش آگیا ہے؟ وہ زیادہ زخمی تو نہیں ہے؟‘‘ ان کی آواز کانپ رہی تھی۔ ’’زخمی تو وہ بہت زیادہ ہوگیا تھا لیکن وہ اب تکلیف میں نہیں ہے۔‘‘ رئیس نے بیٹھی بیٹھی سی آواز میں جواب دیا۔ ’’شکر ہے… خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے۔‘‘ مسز عباسی ہاتھ ملتے ہوئے بولیں لیکن پھر شاید انہیں احساس ہوا کہ رئیس احمد کا جواب کچھ عجیب سا تھا۔ اس کے معنی کچھ اور بھی ہوسکتے تھے۔ انہوں نے بری طرح چونک کر رئیس احمد کی طرف دیکھا۔ اس کا چہرہ گویا مسز عباسی کے بدترین خدشات کی تصدیق کررہا تھا۔ انہوں نے یوں سینے پر ہاتھ رکھ لیا جیسے ان کی سانس سینے میں اٹک رہی ہو۔ پھر وہ نہایت آہستگی سے صوفے پر بیٹھ گئیں۔ کمال عباسی گویا ابھی خوش گمانی کے سہارے اپنے آپ پر قابو رکھے ہوئے تھے۔ انہوں نے حوصلہ دینے کے انداز میں بیگم کا ہاتھ تھام لیا اور کچھ دیر کے لیے کمرے میں گہری خاموشی چھا گئی۔ کسی میں بھی گویا کچھ بولنے یا کوئی آواز نکالنے کی سکت نہیں رہی تھی۔ آخرکار رئیس نے ہی بولنے کی ہمت کی۔ اس نے نہایت مدھم آواز میں کہا۔ ’’وہ جھک کر ایک مشین میں کام کر رہا تھا… معلوم نہیں، اس کی اپنی غلطی سے یا کسی اور وجہ سے مشین اچانک چل پڑی۔ اس کا سر مشین میں آگیا۔ چہرے سمیت پورا سر کچلا گیا۔ ایک کارکن نے اسے فوراً پیچھے کھینچ لیا ورنہ وہ نہ جانے کہاں تک مشین میں کچلا جاتا… لیکن بہرحال وہ مر چکا ہے…!‘‘ ’’مر چکا ہے… مشین میں پھنس گیا تھا…!‘‘ مسز عباسی نے سرگوشی کے سے انداز میں دہرایا۔ ان کا چہرہ سفید پڑ چکا تھا۔ کمال عباسی خالی خالی سی نظروں سے ہوا میں کسی انجانی چیز کو گھور رہے تھے۔ ان کے ہاتھ کی گرفت غیر ارادی انداز میں بیگم کے ہاتھ پر مضبوط ہوگئی تھی۔ دوسرے ہی لمحے مسز عباسی ان کے کندھے پر سر رکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں۔ رئیس احمد نے متاسفانہ سے انداز میں سر جھکا لیا۔ کمال عباسی اپنی جگہ بیٹھے دھیرے دھیرے کانپ رہے تھے۔ وہ گویا اپنے اندر اٹھنے والے کسی طوفان کو روکنے کی کوشش کر رہے تھے۔ کمرے کی فضا یک لخت بے پناہ سوگوار ہوگئی تھی۔ کچھ دیر میں جب مسز عباسی کی سسکیاں مدھم پڑ گئیں تو رئیس احمد نے کھنکار کر گلا صاف کیا اور میاں بیوی کی طرف دیکھے بغیر بولا۔ ’’کمپنی کے مالکان نے میری زبانی آپ کے لیے پیغام بھیجا ہے کہ انہیں اس حادثے پر گہرا دکھ پہنچا ہے اور انہیں احساس ہے کہ آپ کے لیے یہ صدمہ کتنا بڑا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ آپ کے دُکھ میں برابر کے شریک ہیں۔‘‘ وہ خاموش ہو کر گویا انتظار کرنے لگا کہ شاید میاں بیوی میں سے کوئی جواب میں کچھ بولے۔ لیکن وہ دونوں خاموش ہی رہے۔ مسز عباسی کا چہرہ آنسوئوں سے بھیگ چکا تھا اور وہ اب بھی ہولے ہولے سسک رہی تھیں۔ کمال عباسی ایک ٹک ہوا میں کسی نادیدہ چیز کو گھورے جا رہے تھے۔ ان کی آنکھیں پتھرائی ہوئی سی لگ رہی تھیں۔ رئیس احمد نے گویا ایک بار پھر اپنا حوصلہ مجتمع کیا اور نپے تلے لہجے میں بولا۔ ’’اس حادثے کے سلسلے میں کمپنی پر کسی کی کوئی ذمے داری عائد نہیں ہوتی اور کمپنی کو یہ بھی احساس ہے کہ کسی بھی طرح آپ کے نقصان کی تلافی نہیں کی جا سکتی کیونکہ کوئی بھی چیز اولاد کا نعم البدل نہیں ہوسکتی اور نہ ہی کوئی اولاد کی کمی پوری کرسکتا ہے لیکن کمپنی نے آپ کے بیٹے کی خدمات کا خیال رکھتے ہوئے صرف اظہارِہمدردی کے طور پر کچھ رقم بھیجی ہے۔ امید ہے آپ قبول فرمائیں گے۔‘‘ ’’رقم…؟‘‘ کمال عباسی نے گویا کسی اور ہی دنیا سے واپس آتے ہوئے ذرا چونک کر کہا۔ پھر وہ خوفزدہ سے انداز میں بیوی کو ایک طرف ہٹاتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے۔ ان کے خشک ہونٹ دھیرے دھیرے کانپ رہے تھے۔ پھر انہوں نے گویا ہمت کر کے پوچھا۔ ’’کتنی رقم ہے؟‘‘ ’’بیس لاکھ روپے۔‘‘ رئیس احمد نے جواب دیا اور تپائی پر رکھے ہوئے اپنے بریف کیس کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ کمال عباسی نے یوں ہوا میں ہاتھ چلائے جیسے گرنے سے بچنے کے لیے کوئی سہارا تلاش کر رہے ہوں لیکن انہیں کچھ نظر نہ آرہا ہو۔ پھر وہ لڑکھڑا کر گرے اور ساکت ہوگئے۔ وہ بے ہوش ہوچکے تھے۔ مسز عباسی چیخ مار کر ان کی طرف لپکیں اور انہی کے اوپر ڈھیر ہوگئیں۔ ٭ … ٭ … ٭ جمال عباسی کو دنیا سے رخصت ہوئے دس دن گزر چکے تھے۔ کمال عباسی اور ان کی بیگم نے گنتی کے چند لوگوں کی موجودگی میں، گھر سے ایک میل دور اپنے علاقے کے نئے قبرستان میں اسے دفن کیا تھا اور اس گھر میں لوٹ آئے تھے جس میں اب زیادہ تر تاریکی اور سناٹے کا راج رہتا تھا۔ کمپنی نے جمال کی لاش غسل اور تکفین کے بعد ایمبولینس میں گھر بھیجی تھی اور والدین کو مشورہ دیا گیا تھا کہ وہ شکل دیکھنے کی کوشش نہ کریں، کیونکہ شکل وہاں رہی ہی نہیں تھی۔ چہرے اور سر کی جگہ محض ایک ملغوبہ سا رہ گیا تھا۔ وہ ایک طرح سے بغیر سر کی لاش تھی۔ میاں بیوی میں اس کا آخری دیدار کرنے کی ہمت بھی نہیں تھی۔ وہ دونوں اب آپس میں بہت کم بات کرتے تھے۔ بات کرنے کے لیے گویا کچھ رہ ہی نہیں گیا تھا۔ وقت کاٹے نہیں کٹتا تھا۔ شب و روز گزرنے میں نہیں آتے تھے۔ قرقی سے بچنے کے لیے مکان کا قرضہ ادا کیا جا چکا تھا لیکن وہ مکان اب انہیں اپنے اوپر ایک بہت بڑا بوجھ محسوس ہوتا تھا۔ وہ گویا مکان نہیں، ایک مقبرہ تھا جس میں ان دونوں کو قید کردیا گیا تھا۔ آغا وحید ان کے بیٹے کی تدفین میں شرکت کے لیے آیا تھا لیکن وہ گویا اپنی جگہ شرمندہ سا تھا۔ ان کے درمیان اظہارِ تعزیت کے سوا کوئی گفتگو نہیں ہوئی تھی۔ حادثہ کس طرح پیش آیا تھا اور کس طرح انہیں بیس لاکھ روپے ملے تھے، یہ باتیں اسے بعد میں فون پر معلوم ہوئی تھیں۔ تاہم تدفین کے بعد وہ دوبارہ ان کے ہاں نہیں آیا تھا۔ اس رات اچانک کمال عباسی کی آنکھ کھلی تو انہیں احساس ہوا کہ بیڈ پر ان کے قریب جگہ خالی تھی۔ انہوں نے برابر میں ہاتھ مار کر دیکھا۔ ان کی بیگم بیڈ پر نہیں تھیں۔ کہنی کا سہارا لے کر انہوں نے کچھ اونچا ہوتے ہوئے اِدھر اُدھر دیکھا۔ ملگجے اندھیرے میں بیگم عباسی کھڑکی کے قریب بیٹھی چپکے چپکے رو رہی تھیں۔ ’’یہاں آ جائو سائرہ…!‘‘ کمال عباسی نے بیڈ کے گدے کو تھپکتے ہوئے کہا۔ ’’تمہیں ٹھنڈ لگ جائے گی۔‘‘ ’’وہاں… میرا بیٹا بھی تو قبرستان میں… اس سے زیادہ سردی میں پڑا ہے۔‘‘ مسز عباسی نے کھڑکی سے باہر اشارہ کرتے ہوئے آنسوئوں سے بھیگی آواز میں کہا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں۔ کمال عباسی بیڈ سے اُتر آئے۔ ان کے جسم پر خفیف سی کپکپی طاری ہوگئی لیکن یہ کپکپی سردی کی وجہ سے نہیں تھی۔ وہ کسی طرح سمجھا بجھا کر مسز عباسی کو بیڈ پر لے آئے۔ اس دوران ان کی اپنی آواز بھی گلوگیر ہوگئی تھی۔ انہوں نے کمبل کی حرارت میں پناہ لے لی۔ دھیرے دھیرے مسز عباسی کی سسکیاں تھم گئیں۔ کمال عباسی کی پلکیں بوجھل ہونے لگیں اور کچھ دیر بعد وہ دوبارہ نیند کی آغوش

(جاری ہے)