Pursaraar Raatien – Episode 2

380
ایک روز جب آغا وحید ان کے ہاں آئے ہوئے تھے اور وہ تینوں رات کا کھانا کھانے کے بعد چائے پی رہے تھے تو کمال عباسی نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔ ’’آغا… وہ… بندر کے پنجے والا افسوسناک واقعہ پیش آنے سے پہلے تم بتا رہے تھے کہ تم نے دنیا کے نہ جانے کون سے دوردراز گوشوں کا سفر کیا ہے اور نہ جانے کیسے کیسے کرداروں سے تمہاری ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ عجیب و غریب، پُراسرار اور ناقابلِ یقین کہانیوں کا ایک ذخیرہ تمہارے پاس ہے۔ یہی کہہ رہے تھے نا تم؟‘‘
’’ہاں… یہی کہا تھا میں نے۔‘‘ آغا وحید ذرا چونکتے ہوئے بولے۔ ’’عجیب و غریب، پُراسرار، دہشت ناک اور ناقابلِ یقین کہانیوں کا واقعی خزانہ میرے پاس ہے… یوں سمجھو، وہ آج کے دور کی، ایک الگ ہی قسم کی الف لیلہ ہے۔ کبھی کبھی تو میرا دل چاہتا ہے کہ میں اسے لکھنا شروع کردوں لیکن افسوس کہ مجھے ڈھنگ سے لکھنا نہیں آتا۔ کئی بار میں نے اپنی یادداشتیں لکھنے کا ارادہ کیا اور کاغذ قلم لے کر بھی بیٹھا، لیکن ایک آدھ صفحہ لکھنے کے بعد اسے پھاڑ دیا۔‘‘ آغا وحید ایک لمحے کے لیے خاموش ہوئے پھر گہری سانس لے کر بولے۔ ’’لیکن تم کیوں پوچھ رہے ہو؟ کیا تمہیں اس قسم کے واقعات سے کچھ دلچسپی ہے؟‘‘
’’دلچسپی تو بہت ہے۔ اگر ہم بندر کے پنجے کے چکر میں عملی طور پر نہ الجھے ہوتے تو شاید اب تک تمہاری وہ ساری کہانیاں سن چکے ہوتے۔‘‘ کمال عباسی نے ٹھنڈی سانس لے کر کہا۔ ’’لیکن اب، جبکہ ہم اپنے صدمے سے کافی حد تک سنبھل چکے ہیں، تو مجھے ایک بار پھر تمہاری بات یاد آئی ہے۔ زندگی میں بڑی یکسانیت، بے کیفی اور اداسی ہے۔ ان کیفیات سے دھیان ہٹانے کے لیے اگر ہم تمہاری زبانی یہ کہانیاں سننا شروع کردیں تو شاید وقت کچھ بہتر انداز میں گزرنے لگے۔‘‘
انہوں نے تائید طلب سے انداز میں اپنی بیگم کی طرف دیکھا۔ انہوں نے اثبات میں سر ہلا دیا اور دھیمے لہجے میں بولیں۔ ’’ہاں… سوچوں کو کوئی اور رخ دینے کے لیے ہمارے پاس کوئی موضوع ہونا چاہیے۔ کوئی مختلف سی بات ہونی چاہیے۔ ہم تینوں اکثر نہایت رسمی اور بے کار سی باتیں کرتے رہتے ہیں جن میں دلچسپی کا کوئی سامان نہیں ہوتا… دھیان بٹانے والی کوئی بات نہیں ہوتی۔‘‘
آغا وحید چند لمحے پُرخیال سے انداز میں خاموش رہے۔ پھر چائے کا کپ تپائی پر رکھتے ہوئے بولے۔ ’’تم نے یہ موضوع چھیڑا ہے تو میرے ذہن میں خیالات اور واقعات کا ایک سیلاب سا امڈ پڑا ہے۔ بہت سے کردار ہیں جو دھندلی پرچھائیوں کی سی صورت میں میری نظروں کے سامنے آن کھڑے ہوئے ہیں۔ سمجھ میں نہیں آتا، بات کہاں سے شروع کروں۔ کچھ کہانیوں کا میں خود ایک کردار رہا ہوں… کچھ واقعات میرے چشم دید ہیں اور زندگی کے سفر میں ملنے والے کچھ لوگوں نے مستند حوالوں کے ساتھ اپنی کہانیاں مجھے سنائی ہیں۔ ان آپ بیتیوں میں جو زیادہ دلچسپ یا حیران کن تھیں، صرف وہی مجھے یاد رہ گئی ہیں۔ غیر دلچسپ اور عام سی آپ بیتیاں میرے ذہن سے محو ہوگئی ہیں۔‘‘
’’ان میں سے زیادہ تر ایسی ہیں کہ اگر کوئی اور مجھے سناتا تو میں ہرگز ان پر یقین نہ کرتا لیکن یہ واقعات کیونکہ خود مجھ پر گزرے ہیں، اس لیے اُنہیں فرضی یا اپنے تخیل کی پیداوار تو ہرگز نہیں کہہ سکتا۔‘‘
وہ ایک لمحے خاموش رہے گویا فیصلہ کرنے کی کوشش کر رہے ہوں کہ بات کہاں سے شروع کریں۔ کمال عباسی اور ان کی بیگم قدرے اشتیاق سے ان کی طرف دیکھ رہے تھے۔ کئی ماہ بعد ان کے چہروں پر ایسا تاثر ابھرا تھا جیسے انہیں زندگی اور زندگی کے معاملات سے کچھ دلچسپی ہے ورنہ ان کے چہرے دیکھ کر کچھ ایسا لگتا تھا جیسے زندگی ان کے لیے بے معنی ہو کر رہ گئی ہے۔
ظاہر ہے، جوان بیٹے کی موت کوئی ایسا سانحہ نہیں تھا جس کے نقوش ان کے ذہنوں سے آسانی سے محو ہوجاتے لیکن زندگی کا معاملہ بھی عجیب ہے، بڑے بڑے صدمے انسان پر گزرتے ہیں لیکن زندگی آخرکار ایک بار پھر انسان کو اپنے آپ میں اُلجھا لیتی ہے۔ وقت کا مرہم دھیرے دھیرے ہر زخم کو مندمل کردیتا ہے۔ آغا وحید کو احساس تھا کہ کمال عباسی اور ان کی بیگم کے دلوں پر صدمے کے جو اثرات باقی رہ گئے ہیں، ان کی خفیف سی اذیت کو وقتی طور پر بھلانے کے لیے وہ ایک طرح سے ان کی مدد کے طالب ہیں۔ وہ درحقیقت ان کی داستان گوئی میں پناہ ڈھونڈنا چاہتے ہیں۔
آخر آغا وحید نے صوفے کے پشتے سے ٹیک لگا کر بیٹھتے ہوئے بات شروع کی۔ ’’سب سے پہلے میں آپ کو ایک ایسے کردار کی کہانی سنانا چاہتا ہوں جس سے میری ملاقات انڈیا کے سب سے بڑے شہر ممبئی میں ہوئی تھی لیکن اس زمانے میں اسے ممبئی نہیں، بلکہ بمبئی کہا جاتا تھا۔ میں جو واقعات آپ کو سنانے جا رہا ہوں، ان میں جہاں کہیں اس شہر کا نام لینے کی ضرورت پڑے گی، میں اسے بمبئی ہی کہوں گا۔ مجھے ذاتی طور پر ویسے بھی یہ نام زیادہ اچھا لگتا تھا اور میری زبان ابھی تک اسی نام سے زیادہ مانوس ہے۔ خیر… میں نہیں چاہتا کہ تمہید زیادہ طویل ہو جائے۔ میں اصل واقعے کی طرف آتا ہوں۔
بمبئی میں میرا قیام خاصا طویل ہونے کی توقع تھی اور اس کے لیے میں نے اپنے اثر و رسوخ کی بنا پر ویزا بھی لے لیا تھا جس میں، بوقتِ ضرورت میں توسیع بھی کرا سکتا تھا لیکن ہوٹل میں زیادہ دن قیام کرنا چونکہ کافی مہنگا پڑتا، اس لیے میں نے متوسط سے ایک علاقے میں، ایک بلڈنگ میں ایک کمرے کا فلیٹ ماہانہ بنیاد پر کرائے پر لے لیا تھا۔ چونکہ میری سیاحت اور آوارہ گردی کا مقصد ہی زندگی کو قریب سے دیکھنا اور طرح طرح کے کرداروں کا مشاہدہ کرنا تھا، اس لیے میں جہاں جاتا تھا، اپنے اردگرد نظر آنے والے لوگوں سے بہت جلد بے تکلف ہو جاتا تھا۔
اس گلی میں بھی جلد ہی بہت سے لوگ مجھے جاننے لگے تھے۔ انہی میں سے ایک حامد صاحب تھے جن کی اس گلی میں کریانے کی دکان تھی۔ میں ان سے سودا سلف لیتا تھا اور اگر وہ ذرا فارغ نظر آتے تھے تو ان کے پاس بیٹھ جاتا تھا۔ وہ بہت سے لوگوں کو اچھی طرح جانتے تھے اور لوگ ان کی عزت بھی کرتے تھے۔ وہ ایک دلچسپ اور باتونی آدمی تھے۔ کسی زمانے میں فلم اسٹوڈیو میں بھی کام کرچکے تھے۔ ان کے پاس پرانے اداکاروں اور اداکاراؤں کے ایسے ایسے قصے اور کہانیاں تھیں جنہیں لوگ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر سنا کرتے تھے۔ وہ مجلسی آدمی تھے لیکن دکانداری کے دوران ماضی کے قصے چھیڑنے سے گریز کرتے تھے کیونکہ ان کی باتیں سن کر لوگ سودا سلف خریدنا بھول جاتے تھے اور دکان پر گاہکوں کا ہجوم بڑھنے لگتا تھا۔ ان میں سے بہت سے تو گاہک بھی نہیں ہوتے تھے۔ وہ دوسروں کو کھڑے دیکھ کر آجاتے تھے اور حامد صاحب کی داستان گوئی میں منہمک ہوکر رہ جاتے تھے۔
ایک روز انہوں نے تقریباً چالیس کی عمر کے ایک درازقد، وجیہ اور گورے چٹے آدمی سے میرا تعارف کراتے ہوئے کہا۔ ’’یہ ظفر قاضی ہیں… ایک بہت بڑی ٹیکسٹائل مل میں مشین آپریٹر ہیں۔‘‘
وہ صاحب اس وقت اپنا دایاں ہاتھ پتلون کی جیب میں ٹھونسے کھڑے تھے۔ میں نے ان سے مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھایا، تب بھی انہوں نے دایاں ہاتھ جیب سے نہیں نکالا اور بائیں ہاتھ سے ہی مجھ سے مصافحہ کیا۔ یہ بات مجھے کچھ عجیب سی لگی اور ذرا خفّت بھی محسوس ہوئی۔
انڈیا میں درازقد اور گورے چٹے مرد ذرا کم ہی نظر آتے ہیں۔ اس اعتبار سے تو ظفر قاضی کی شخصیت جاذب نظر تھی لیکن جس طرح وہ دایاں ہاتھ پتلون کی جیب میں ٹھونسے کھڑا تھا، اس کا وہ انداز مجھے کچھ متکبرانہ محسوس ہوا حالانکہ چہرے مہرے سے وہ کوئی متکبر آدمی معلوم نہیں ہوتا تھا۔ اس کے چہرے پر تکبر کی سختی کے بجائے ایک طرح کی تھکن سی تھی اور جب میں نے قریب سے اس کی آنکھوں کی طرف دیکھا تو ان سے مجھے عجیب سی فکرمندی جھلکتی محسوس ہوئی۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ شخص کھڑا تو وہاں تھا لیکن اس کا ذہن کہیں اور تھا۔
ایسا لگتا تھا جیسے اس کے پاس بھی کوئی کہانی ہے جو اس کے سینے پر بوجھ بن چکی ہے لیکن وہ اسے سینے سے لگائے پھر رہا تھا۔ اسے کسی اور کو سنانے اور کسی کو اپنے دُکھ درد میں شریک کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ مجھے تو حالانکہ کہانیوں کی تلاش رہتی تھی لیکن مجھے کسی غیبی قوت نے خبردار کیا کہ مجھے پہلی ہی ملاقات میں اسے کریدنے کی کوشش ہرگز نہیں کرنی چاہیے بلکہ اس کے لیے مناسب وقت کا انتظار کرنا چاہیے۔
اس روز اس سے ملاقات صرف سلام دعا اور حال چال پوچھنے تک محدود رہی لیکن اس کے بعد بھی کئی مرتبہ سامنا ہونے کے باوجود ہمارے درمیان زیادہ بات چیت ہونے کی نوبت نہیں آئی۔ اسے دیکھتا تو کچھ دور سے ہی ہاتھ ہلا کر اشارے سے سلام کر کے گزر جاتا کیونکہ وہ ہمیشہ دایاں ہاتھ پتلون کی جیب میں ڈالے کھڑا ہوتا تھا۔ مجھے اس کا یہ انداز ناگوار گزرتا اور میں اس کے قریب نہ رکتا۔ مجھے اندازہ ہوتا کہ اگر میں اس کے پاس رک بھی گیا تو وہ دایاں ہاتھ جیب سے نکال کر مجھ سے مصافحہ نہیں کرے گا۔
پھر ایک روز اس نے گلی کے کونے پر مجھے روک لیا اور ذرا افسردہ سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا۔ ’’کیا بات ہے جناب… آپ ہمیشہ مجھ سے کترا کر گزر جاتے ہیں۔ ہم تو آپ کو اپنا مہمان سمجھتے ہیں اور آپ سے پاکستان کے بارے میں بات کرنے کے لیے ترستے رہتے ہیں لیکن آپ کے انداز سے کچھ ایسا لگتا ہے جیسے آپ ہم سے ناراض ہیں۔‘‘
’’میں بھلا آپ سے کیوں ناراض ہونے لگا؟ آپ نے میرا کیا بگاڑا ہے یا میرے ساتھ کون سی برائی کی ہے جو میں آپ سے ناراض ہوں گا؟‘‘ میں نے مسکراتے ہوئے حتی الامکان خوش خلقی سے کہا۔ ’’دراصل میں انڈیا کی بہت سی چیزوں کے بارے میں ریسرچ کا کام کر رہا ہوں۔ اس سلسلے میں لوگوں سے ملنے ان کے پاس جاتا رہتا ہوں اور گھر پر ہوتا ہوں تو یہی سب کچھ لکھنے پڑھنے میں لگا رہتا ہوں۔ یوں کافی مصروفیت رہتی ہے۔‘‘
’’اب ایسی بھی کیا مصروفیت… آیئے، کہیں بیٹھ کر چائے پیتے ہیں۔‘‘
اس کے اصرار پر مجھے اس کے ساتھ، قریبی سڑک پر واقع اوسط درجے کے ایک ریسٹورنٹ میں جانا پڑا جہاں دیوار کے ساتھ چھوٹے چھوٹے کیبن بھی بنے ہوئے تھے۔ ہم ایک کیبن میں جا بیٹھے اور ظفر قاضی نے چائے کے ساتھ کچھ لوازمات کا بھی آرڈر دے دیا۔ ہم ابھی رسمی باتیں ہی کر رہے تھے کہ چائے آگئی۔ میں نے چائے بنانے کے لیے ہاتھ نہیں بڑھایا اور منتظر رہا کہ وہ میزبانی کے فرائض انجام دے۔ آخرکار اسے دایاں ہاتھ جیب سے نکالنا ہی پڑا۔ تب میں نے دیکھا کہ وہ اس ہاتھ پر سبز رنگ کا دستانہ پہنے ہوئے تھا۔ دستانہ سوتی معلوم ہوتا تھا لیکن خاصا موٹا لگ رہا تھا۔
’’عجیب سنکی آدمی ہے…!‘‘ میں نے دل ہی دل میں سوچا۔ ’’گرمیوں میں خاصا موٹا دستانہ پہنے ہوئے ہے… اور وہ بھی صرف ایک ہاتھ پر…؟‘‘
میں نے اس سے فوری طور پر اس کی وجہ نہیں پوچھی۔ کئی جواز خود ہی میرے ذہن میں آگئے اور میں نے دل ہی دل میں اپنے آپ کو سمجھایا کہ ضروری نہیں، اس کے دستانہ پہننے کی وجہ اس کا سنکی پن ہو، عین ممکن ہے اس کا ہاتھ بدصورت ہو، اس پر برص کے دھبے ہوں یا پھر کوئی اور مرض ہو جس کی وجہ سے اسے دستانہ پہننا پڑتا ہو۔ پھر مجھے یاد آیا کہ میں نے اسے کبھی کسی اور کے ساتھ بھی دائیں ہاتھ سے مصافحہ کرتے نہیں دیکھا تھا۔
کچھ دیر ہمارے درمیان اِدھر اُدھر کی باتیں ہوتی رہیں۔ وہ قدرے اشتیاق سے مجھ سے پاکستان کے بارے میں بہت سی باتیں پوچھتا رہا۔ کچھ ناخوشگوار سیاسی پہلوئوں پر بھی باتیں ہوئیں۔ وہ نسلاً کشمیری تھا لیکن بمبئی کے مضافات میں پیدا ہوا اور پلا بڑھا تھا۔ پاکستان کے بارے میں اس کی معلومات کا ذریعہ صرف بھارتی اخبارات، ریڈیو اور ٹی وی تھا۔ اس کے والدین اس کے لڑکپن کے زمانے میں ہی یکے بعد دیگرے اس دنیا سے رخصت ہوگئے تھے اور عجیب اتفاق تھا کہ دونوں کا انتقال ٹریفک حادثات میں ہوا تھا۔
کافی دیر کی باتوں کے درمیان ذرا خاموشی کا وقفہ آیا تو غیر ارادی سے انداز میں میرے منہ سے نکل گیا۔ ’’ظفر قاضی صاحب! آپ شاید ہر وقت ہی اپنے دائیں ہاتھ میں دستانہ پہنے رہتے ہیں اور زیادہ تر اس ہاتھ کو جیب میں رکھتے ہیں۔ آپ اس ہاتھ سے کسی سے مصافحہ بھی نہیں کرتے۔ یہ کچھ عجیب سی بات نہیں ہے؟ اگر آپ برا نہ مانیں تو کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ آپ ایسا کیوں کرتے ہیں؟‘‘
اس کے کوئی جواب دینے سے پہلے میں نے یہ وضاحت بھی کردی۔ ’’آپ سے اب تک میرے کترانے کی وجہ بھی محض یہی تھی۔ حالانکہ یہ کوئی اہم بات نہیں ہے… لیکن… بس کبھی کبھی کوئی معمولی سی بات بھی انسان کو ذرا زیادہ ناگوار گزرتی ہے اور چاہنے کے باوجود اسے نظرانداز نہیں کر پاتا۔‘‘
اس کی کھوئی کھوئی سی نظروں میں اداسی شامل ہوگئی۔ وہ بوجھل لہجے میں بولا۔ ’’میں سمجھ گیا تھا کہ آپ میری اس بداخلاقی کی وجہ سے مجھ سے کتراتے ہیں لیکن میں مجبور ہوں۔ اگر میں دستانے سمیت آپ سے مصافحہ کرتا تو آپ کو عجیب سا محسوس ہوتا اور آپ سوال کیے بغیر نہ رہتے اور اگر میں دستانے کے بغیر آپ سے مصافحہ کرتا تو آپ اتنی کراہیت محسوس کرتے کہ شاید آپ کو میری صورت سے بھی نفرت ہو جاتی۔ میرا خیال ہے مجھے اب حقیقت آپ سے چھپانی نہیں چاہیے۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے دستانہ اتار کر اپنا دایاں ہاتھ میرے سامنے کردیا۔
’’اُف خدایا…!‘‘ میرے منہ سے بے اختیار نکلا اور مجھے جھرجھری سی آگئی۔ اس کا ہاتھ بہت ہی بھیانک تھا۔ اس ہاتھ کی کھال بالکل سیاہ، خشک اور جھریوں بھری تھی۔ انگلیاں سوکھی سوکھی اور ناخن کسی درندے کے ناخنوں کی طرح نوکیلے اور لمبے تھے۔ مجموعی طور پر وہ کسی بہت بڑی چیل یا دیوہیکل کوے کا پنجا معلوم ہوتا تھا۔ اسے کسی انسان کا ہاتھ ہرگز نہیں کہا جاسکتا تھا اور بات صرف اس کے ظاہری ڈرائونے پن کی نہیں تھی۔ میں نے واضح طور پر محسوس کیا، جیسے اس پنجے کے ناخنوں سے خون کی بوندیں ٹپک رہی ہوں۔
خون کی بوندوں کا ٹپکنا مجھے اس حد تک حقیقی محسوس ہوا کہ میں نے بے اختیار میز کی سطح کی طرف دیکھا۔ مجھے یہی لگا تھا کہ خون کے قطرے میز پر ہی ٹپک رہے ہوں گے لیکن جب میں نے میز کو دیکھا تو وہ پہلے کی طرح صاف تھی۔ میں نے دوبارہ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر میز کو دیکھا لیکن اس پر خون کا ذرا سا بھی دھبہ نہیں تھا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے اس پنجے کے ناخنوں سے خون کے قطرے تو ٹپک رہے تھے لیکن وہ میز تک پہنچنے سے پہلے ہی ہوا میں تحلیل ہوجاتے تھے اور یہ عمل مسلسل جاری تھا۔ بلاشبہ ظفر قاضی کی اچھی خاصی پُرکشش شخصیت کے ساتھ اس قسم کے بھیانک اور غیر انسانی سے ہاتھ کی موجودگی بے حد کراہیت انگیز تھی۔
میں نے اپنے آپ کو یہ یقین دلانے کی بھی کوشش کی کہ یہ میری نظر کا دھوکا تھا یا پھر ظفرقاضی کسی قسم کی شعبدے بازی میں ماہر تھا۔
’’دیکھ لیا آپ نے میرا ہاتھ؟‘‘ وہ دوبارہ دستانہ پہنتے ہوئے اداس سے لہجے میں بولا۔
میں بس حیرت سے اس کی طرف دیکھتا ہی رہ گیا۔ کوئی جواب نہ دے سکا۔
ایک لمحے کی خاموشی کے بعد اس نے یہ کہہ کر مجھے اور زیادہ حیران کردیا۔ ’’ایک سال پہلے تک یہ ہاتھ ایسا نہیں تھا۔ یہ بالکل ایسا ہی تھا جیسا میرا بایاں ہاتھ ہے۔‘‘ اس نے اپنا بایاں ہاتھ میز پر ٹکا دیا جو بالکل ٹھیک تھا۔ اس کی ساخت ویسی ہی تھی جیسی اس جیسے صحت مند اور وجیہ آدمی کے ہاتھ کی ہونی چاہیے تھی۔
’’کیا واقعی… صرف ایک سال پہلے تک آپ کا دوسرا ہاتھ ایسا ہی تھا؟‘‘ میں بے یقینی سے پوچھے بغیر نہ رہ سکا۔
اس نے آہستگی سے اثبات میں سر ہلا دیا۔
’’تو پھر یہ ایسا کیسے ہوگیا؟‘‘ بے پناہ تجسس کے باعث میرے لہجے میں بے تابی آگئی۔
’’یہ بڑی عجیب اور ناقابل یقین سی کہانی ہے۔ شاید آپ سننا پسند نہ کریں۔‘‘ اس نے دھیمے لہجے میں جواب دیا۔
’’میں تو پُراسرار کہانیوں کی تلاش میں رہتا ہوں۔‘‘ میں نے جلدی سے کہا۔ ’’اور جہاں تک یقین کرنے کی بات ہے تو جب تک ہمارے پاس کسی کی بات کو جھٹلانے کے لیے ٹھوس ثبوت نہ ہو، تب تک اس کی بات کو سچ ہی سمجھنا چاہیے۔ ویسے بھی آپ مجھے ایسے آدمی معلوم نہیں ہوتے جو خواہ مخواہ کسی کو کوئی جھوٹا قصہ سنانے بیٹھ جائے۔‘‘
ایک لمحے کے لیے وہ پُرخیال سے انداز میں خاموش رہا، گویا سوچ رہا ہو کہ بات کہاں سے شروع کرے۔ پھر کہنے لگا۔ ’’ان دنوں میں نیا نیا بمبئی آیا تھا اور میرے مالی حالات خاصے خراب تھے۔ مشین آپریٹر بننے کے لیے میں ٹریننگ لے رہا تھا جس کے دوران مجھے تھوڑا سا وظیفہ ملتا تھا جس میں گزر بسر بڑی مشکل سے ہوتی تھی۔ کسی کی مہربانی سے مجھے ایک کھولی میں رہنے کو جگہ ملی ہوئی تھی۔ کھینچ تان کر گزر بسر ہو رہی تھی۔ غریبانہ سی بستی کی اس گلی میں شبیر نامی ایک شخص نے اپنی کھولی کے قریب ہی تھوڑی سی جگہ گھیر کر ایک کیبن سا بنایا ہوا تھا۔ یہ ایک طرح کی کریانے کی دکان تھی جس سے گلی کے لوگ چھوٹا موٹا سودا سلف خریدتے تھے۔ شبیر عمر میں مجھ سے کچھ بڑا تھا لیکن اس سے میرے دوستوں جیسے تعلقات تھے۔ جب مجھے فاضل وقت میسر ہوتا تھا تو میں اس کے کیبن کے قریب پڑے ایک اسٹول پر جا بیٹھتا تھا اور ہم گپ شپ کرتے تھے۔‘‘
ایک لمحے کے لیے خاموش ہو کر اس نے سلسلۂ کلام جوڑنے سے پہلے ایک گہری سانس لی۔ پھر بولا۔ ’’شبیر کی وجہ سے میرا اس بستی کے بہت سے لوگوں سے تعارف ہوا لیکن میرا خیال ہے وہ میری زندگی کا بدترین دن تھا جب اس نے میرا تعارف ولسن سے کرایا۔ اس شام میں شبیر کے کیبن کے قریب اسٹول پر بیٹھا تھا تو اس نے ایک طرف دیکھتے ہوئے نیچی آواز میں کہا۔ ’’لو بھئی… آج میں تمہیں ایک زبردست… مگر عجیب و غریب آرٹسٹ سے ملواتا ہوں۔ پینٹر ہے مگر اس کا آرٹ بس اس کی کھولی تک محدود ہے۔‘‘ میں نے بھی اس طرف دیکھا، جدھر وہ دیکھ رہا تھا۔ ایک لمبا تڑنگا سیاہ فام آدمی ہاتھ میں کپڑے کا تھیلا لٹکائے چلا آ رہا تھا۔ شبیر نیچی آواز میں بات جاری رکھتے ہوئے بولا۔ ’’عجیب اتفاق ہے… جب بھی یہ آتا ہے، تم موجود نہیں ہوتے۔ اس لیے میں آج تک تمہیں اس سے نہیں ملوا سکا تھا۔‘‘
میں آپ کو ایک دلچسپ بات بتاتا چلوں۔ میرا پیشہ تو مشینوں سے الجھنا تھا اور آگے چل کر مجھے ایک مشین آپریٹر کے طور پر ہی کام کرنا تھا لیکن مجھے مصوری سے بہت دلچسپی تھی۔ میرے ذہن کے کسی گوشے میں یہ حسرت ہمیشہ موجود رہی تھی کہ کاش میں مصور بن سکتا لیکن حالات نے اجازت نہیں دی۔ مصوری کا تو سامان ہی خاصا مہنگا آتا ہے۔ کبھی اچھا سامان خریدنے کی توفیق نہیں ہوسکی تھی۔ البتہ جو چیزیں سستی ملتی تھیں، ان سے تصویریں بنانے کی میں کافی مشق کرتا رہتا تھا۔ چنانچہ جب میں نے کسی مصور کی آمد کا سنا تو میرا دل اشتیاق سے دھڑک اٹھا۔
چند لمحے بعد وہ شخص کیبن کے سامنے آن کھڑا ہوا اور شبیر سے ہیلو ہائے کے بعد شاید اپنی مطلوبہ چیزیں مانگنے لگا تھا لیکن شبیر نے اس کی بات کاٹتے ہوئے میری طرف اشارہ کر کے کہا۔ ’’سودا سلف تو بعد میں لینا… پہلے ان سے ملو۔ یہ ظفر قاضی ہیں۔ آرٹ کے بہت بڑے قدردان۔ پینٹنگ کے بارے میں یہ بھی بہت کچھ جانتے ہیں۔‘‘ پھر شبیر مجھ سے مخاطب ہوا۔ ’’یہ مسٹر ولسن ہیں۔ شاید یہ قسمت کا کھیل ہے کہ یہ غریبوں کی اس بستی میں گمنامی کی زندگی گزار رہے ہیں ورنہ شاید بہت دولت مند اور مشہور ہوتے۔ بڑے زبردست آرٹسٹ ہیں۔‘‘
’’آپ سے مل کر بہت خوشی ہوا مسٹر ظفر کازی۔‘‘ وہ مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھاتے ہوئے خاصی صاف اردو میں بولا۔ تلفظ اور مذکر مؤنث کی بات اپنی جگہ تھی لیکن پھر بھی اس کا لہجہ غنیمت تھا۔ اس سے مصافحہ کرتے ہوئے مجھے احساس ہوا کہ وہ ایک مضبوط آدمی تھا۔ اس کی آنکھیں چھوٹی چھوٹی اور چمکیلی تھیں۔ رخساروں کی ہڈیاں ابھری ہوئی تھیں۔
وہ دوستانہ مسکراہٹ کے ساتھ بات جاری رکھتے ہوئے بولا۔ ’’ہم چھوٹا موٹا تصویر بناتا… لیکن یہ شبیر ہمارا پینٹنگ کو بہت پسند کرتا… ہم کوئی بڑا آرٹسٹ نہیں ہے لیکن یہ ہم کو گریٹ سمجھتا۔ اس کی مہربانی ہے۔ بہت اچھا آدمی ہے۔‘‘
میں نے اس سے مصوری کے بارے میں تھوڑی بہت باتیں کیں۔ پھر وہ اپنی ضرورت کا سامان لے کر چلا گیا۔ اس کے جانے کے بعد میں نے اس کے بارے میں مز ید پوچھا تو شبیر نے بتایا۔ ’’یہ برسوں پہلے کسی افریقی ملک سے یہاں آیا تھا۔ یہاں اس نے کسی انڈین بنگالی عورت سے شادی کرلی۔ اس کی وجہ سے اسے یہاں کی شہریت بھی مل گئی اور یہ مستقل طور پر یہیں رہ گیا۔‘‘
’’کیا یہ واقعی بہت بڑا آرٹسٹ ہے؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’بھئی میں تو اس سلسلے میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔‘‘ شبیر معذرت خواہانہ لہجے میں بولا۔ ’’اخباروں رسالوں میں، میں نے پڑھا ہے کہ زیادہ تر بڑے آرٹسٹ کافی خوشحال ہوتے ہیں۔ ان کی پینٹنگز بڑی مہنگی بِکتی ہیں۔ ولسن کے بارے میں مجھے کچھ پتا نہیں کہ اس کی تصویریں بِکتی ہیں یا نہیں اور اگر بِکتی ہیں تو سستی بکتی ہیں یا مہنگی…؟ لیکن اس کے مالی حالات کا اندازہ تم اس بات سے لگا سکتے ہو کہ یہ اس بستی میں رہتا ہے جس میں مجھ جیسے اور تم جیسے لوگ رہتے ہیں۔ اتنا بھی غنیمت ہے کہ یہ مجھ سے ادھار سودا سلف نہیں لیتا۔‘‘
’’اس کا اسٹوڈیو کہاں ہے؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’ارے… اسٹوڈیو کہاں سے ہونا تھا۔‘‘ شبیر ہاتھ ہلاتے ہوئے بولا۔ ’’پچھلی گلی میں اس کی کھولی ہے۔ بس وہ میری یا تمہاری کھولی سے ذرا بڑی ہے۔ اس میں ہارڈ بورڈ کا پارٹیشن لگا کر اس نے دو حصے کئے ہوئے ہیں۔ زیادہ بڑے حصے میں وہ کام کرتا ہے۔ اسی کو تم اس کا اسٹوڈیو کہہ سکتے ہو۔ مجھے تو وہ کباڑ خانہ لگتا ہے۔‘‘
’’اس کا مطلب ہے، تم نے اس کی تصویریں دیکھ رکھی ہیں۔ کیسی لگتی ہیں وہ تمہیں؟‘‘ میں نے اشتیاق سے پوچھا۔
’’مجھے مصوری کے بارے میں کچھ زیادہ پتا نہیں… اس لیے میں تمہیں جو رائے دوں، اس کی نہ جانے کوئی اہمیت ہو یا نہیں لیکن ایک عام آدمی کے طور پر صرف میں ہی نہیں، بلکہ دوسرے لوگ بھی ان میں ایک عجیب سی بات ضرور محسوس کرتے ہیں۔‘‘
’’عجیب سی بات۔ وہ کیا؟‘‘ میں نے چونک کر پوچھا۔ میرا تجسس کچھ اور بڑھ گیا۔
وہ ایک لمحے الجھن آمیز سے انداز میں خاموش رہا گویا فیصلہ نہ کر پا رہا ہو کہ کن الفاظ میں اپنا مقصد بیان کرے۔ آخر وہ سر جھٹک کر بولا۔ ’’تم خود ہی دیکھ کر فیصلہ کرنا۔ میری سمجھ میں نہیں آ رہا کہ میں وہ بات تمہیں کیسے سمجھائوں۔ وہ الفاظ میں بتانے کے بجائے، محسوس کرنے والی بات ہے۔‘‘
اتوار کو شبیر چند گھنٹوں کے لیے دکان بند رکھتا تھا اور میری بھی چھٹی ہوتی تھی۔ چنانچہ طے پایا کہ آئندہ اتوار کو وہ مجھے اس کے ہاں لے کر چلے گا۔
اتوار آیا تو شبیر مجھے ساتھ لے کر ولسن کے ٹھکانے کی طرف روانہ ہوا۔ پچھلی گلی میں پہنچ کر وہ جس کھولی کے دروازے پر رکا، اس پر چق لٹکی ہوئی تھی۔ شبیر نے مجھے بتایا کہ ولسن کی بنگالی بیوی مر چکی تھی اور اب وہ اپنی کھولی میں تنہا ہی رہتا تھا۔ شاید اسی لیے شبیر نے فوراً ہی چق اٹھا کر بے تکلفی سے اندر جھانک لیا۔ میں نے دیکھا، اس کھولی کا دروازہ دوسری کھولیوں سے بھی نیچا تھا۔
ہمارے سامنے ایک مستطیل سی کوٹھری تھی جس میں ایک پارٹیشن بھی نظر آ رہا تھا۔ اس کوٹھری میں مٹی سے اَٹے ہوئے دو زرد بلب بھی روشن تھے لیکن ان کی روشنی لالٹینوں سے زیادہ نہیں تھی۔ دیواروں کے ساتھ بہت سی فریم شدہ پینٹنگز رکھی ہوئی تھیں۔ چاروں طرف نہ جانے کیا کیا کاٹھ کباڑ بکھرا ہوا تھا۔ اس کاٹھ کباڑ کے وسط میں ایک اسٹول پر ولسن دروازے کی طرف پشت کئے بیٹھا تھا اور اس کے سامنے اونچا سا ایزل تھا جس پر کینوس لگائے وہ کچھ پینٹ کر رہا تھا۔ میں اپنی زندگی میں یہ پہلا مصور دیکھ رہا تھا جو ایسے علاقے میں، اس قسم کے ماحول میں اور اتنی کم روشنی میں بیٹھا پینٹ کر رہا تھا۔
حالانکہ ہمارے وہاں پہنچنے کی کوئی آہٹ ہوئی تھی اور نہ ہی چق اٹھانے سے کوئی آواز پیدا ہوئی تھی، اس کے باوجود ولسن نے بہ آواز بلند کہا۔ ’’آئو… آئو… اند ر آ جائو مسٹر شبیر… اور مسٹر ظفر کازی!‘‘
حیرت کی بات یہ تھی کہ ولسن نے گردن گھما کر ہماری طرف دیکھا بھی نہیں تھا۔ اس کے باوجود اس نے نام لے کر ہمیں مخاطب کیا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے اس کے سر کے پچھلی طرف بھی آنکھیں تھیں۔
ہم کاٹھ کباڑ کے درمیان پائوں رکھتے اندر پہنچ گئے، تب اس نے ذرا گردن گھما کر ہماری طرف دیکھا اور برش کو
رنگوں کی پلیٹ پر رکھتے ہوئے بولا۔ ’’ابھی… تھوڑا دیر پہلے ہی میں تم دونوں کے بارے میں سوچ رہا تھا اور مجھ کو پورا امید تھا کہ تم میری طرف آئے گا۔‘‘
’’آپ کو کیوں امید تھی؟‘‘ میں نے حیرت سے پوچھا۔ ’’ہم نے تو آپ کے سامنے ایسا کوئی ارادہ ظاہر نہیں کیا تھا۔‘‘
’’ضروری تو نہیں ہے کہ ہر آدمی جو بات میرے سامنے کرے، مجھ کو صرف اسی کا خبر ہو۔‘‘ اس کے موٹے موٹے، سیاہی مائل ہونٹوں پر عجیب سی مسکراہٹ ابھر آئی۔ ’’کبھی کبھی مجھ کو ایسی باتوں کا بھی خبر ہو جاتا ہے جو میرے سامنے نہیں کیا جاتا۔‘‘
’’اوہ… یہ تو بڑی خطرناک بات ہے۔‘‘ شبیر مصنوعی تشویش سے بولا۔ ’’تم جیسے آدمی سے تو ہوشیار رہنا چاہیے۔‘‘
’’ارے… نہیں بھئی۔‘‘ ولسن نے ہنستے ہوئے دھیرے سے اس کا کندھا تھپک کر گویا اسے تسلی دی۔ ’’ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا… اور ہر آدمی کے بارے میں ایسا نہیں ہوتا۔‘‘
’’آپ ہماری وجہ سے ڈسٹرب تو نہیں ہوئے؟‘‘ میں نے پوچھا۔ ’’آپ کو کام روکنا پڑا ہے۔‘‘
’’کام کا کوئی مسئلہ نہیں ہے… میں جب چاہوں، کام کرسکتا ہوں… جب چاہوں، آرام کرسکتا ہوں۔‘‘ وہ مسکراتے ہوئے بولا۔ ’’میں کسی کا ملازم ہوں، نہ میں نے کسی خاص ٹائم پر کسی سے کوئی کام کرنے کا پرامز کیا ہے… تم لوگ یہ بتائو کہ چائے پیئے گا یا ٹھنڈا؟ جو بھی بولو، ملباری کے ہوٹل سے ابھی آ جائے گا۔‘‘
’’نہیں… نہیں… چائے، ٹھنڈے کی ضرورت نہیں، ہم صرف آپ کی پینٹنگز دیکھنے آئے ہیں۔‘‘ میں نے جلدی سے کہا۔
’’ضرور دیکھو… لیکن یہ تو تم لوگوں کو خبر ہوگا کہ آج کل آرٹ کا کوئی وہ نہیں ہے۔ وہ… کیا بولتا ہے اس کو۔‘‘ وہ اپنے چھدرے اور گھنگریالے بالوں والے سر کو کھجانے لگا۔ شاید اس وقت اسے اردو میں اپنا مطلوبہ لفظ یاد نہیں آ رہا تھا۔
’’قدردان۔‘‘ میں نے جلدی سے کہا۔
’’ہاں… وہی۔‘‘ اس نے سر ہلایا۔ ’’بڑی مشکل سے کبھی کبھی، ہمارا کوئی پینٹنگ سیل ہوتا ہے اور وہ بھی کوئی خاص آدمی ہی خریدنے آتا ہے۔‘‘
وہ ہمیں دیواروں کے سہارے کھڑی پینٹنگز سیدھی کر کے دکھانے لگا۔ وہ سب اُلٹی تھیں۔ یعنی ان کا رخ دیواروں کی طرف تھا۔ ایک ایک کر کے ہم نے سب تصویریں دیکھیں اور اس دوران ہر لمحے میرے ذہن میں شبیر کے الفاظ گونجتے رہے۔ اس نے کہا تھا کہ ولسن کی پینٹنگز دیکھ کر کچھ عجیب سا محسوس ہوتا ہے۔ وہ عجیب سی بات یہ تھی کہ اس کی ہر تصویر کو دیکھ کر ایک عجیب سا خوف محسوس ہوتا تھا۔ ایک انجانی دہشت کے باعث جسم میں پھریری سی دوڑتی محسوس ہوتی تھی حالانکہ ان میں بظاہر کوئی بہت زیادہ خوفناک چیز نظر نہیں آ رہی تھی۔ اس کے باوجود، ہر تصویر کو دیکھ کر جسم میں خوف کی سرد لہر دوڑ گئی تھی۔
میں نے غور کیا تو احساس ہوا کہ اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ ہر تصویر میں خون ضرور موجود تھا۔ خون تو ہم بہت سی تصویروں بلکہ فلموں میں بھی دیکھتے ہیں۔ بعض فلموں میں تو خونریزی کے مناظر بہت زیادہ خوفناک اور لرزہ خیز انداز میں فلمائے جاتے ہیں۔ انہیں دیکھ کر ہم خوفزدہ ضرور ہوتے ہیں اور جسم میں سنسنی کی لہر بھی دوڑتی ہے۔ اس کے باوجود کوئی غیر معمولی خوف محسوس نہیں ہوتا۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ ہمارے تحت الشعور میں یہ احساس ضرور موجود رہتا ہے کہ ہم محض ایک فلم دیکھ رہے ہیں، کوئی حقیقی منظر نہیں۔
ہم جو پینٹنگز دیکھ رہے تھے، وہ محض ساکت تصویریں تھیں۔ ان کے ساتھ فلموں والے لوازمات کام نہیں کر رہے تھے۔ اس کے باوجود ہر تصویر کا تاثر کسی فلمی منظر سے زیادہ خوفناک اور گہرا تھا۔ ہر تصویر کو دیکھ کر دل کی گہرائیوں میں کہیں سے خوف پھوٹتا سا محسوس ہوتا تھا۔ دل ہی دل میں تجزیہ کرنے پر مجھے احساس ہوا کہ ہر تصویر میں نظر آنے والا خون بالکل اصلی معلوم ہو رہا تھا۔
ایک تصویر میں ایک بھیڑیا دکھایا گیا تھا جس نے ایک بڑا سا جنگلی خرگوش شکار کیا ہوا تھا۔ وہ مُردہ خرگوش کو ایک پنجے تلے دبائے، گردن ترچھی کئے ایک درخت کی طرف دیکھ رہا تھا۔ اس کا منہ تھوڑا سا کھلا تھا اور اس کی باچھوں سے خون ٹپک رہا تھا۔ یہ خون سچ مچ ٹپکتا محسوس ہو رہا تھا۔ یعنی مجھے محسوس ہوا کہ خون کی بوندیں واقعی ’ٹپ ٹپ‘ کی ہلکی سی آواز کے ساتھ زمین پر گر رہی تھیں۔ میری سماعت نے ’ٹپ ٹپ‘ کی خفیف سی آواز بھی کہیں دور سے آتی محسوس کی۔ اس پر میں نے آنکھیں مل کر اور سر جھٹک کر دوبارہ تصویر کی طرف دیکھا تو خون کی بوندیں ٹپکنے کا تاثر ختم ہوگیا۔ تصویر ایک بار پھر پہلے جیسی ہی دکھائی دی۔ اس میں نظر آنے والا منظر ساکت تھا۔
دوسری تصویر میں ایک رومن اکھاڑہ دکھایا گیا تھا جس کے وسط میں ایک انتہائی حسین عورت موٹی موٹی کھردری رسیوں کے ذریعے ایک ستون سے بندھی ہوئی تھی۔ لباس کے نام پر اس کے جسم پر صرف چند چیتھڑے تھے۔ ایک جلّاد اس کے سرخ و سفید جسم پر کوڑے برسا رہا تھا۔ وہ نیم بے ہوشی کی حالت میں تھی۔ اس کی گردن ڈھیلے ڈھالے انداز میں ایک طرف کو جھکی ہوئی تھی اور آنکھیں ادھ کھلی تھیں۔
اس کے جسم پر جہاں جہاں کوڑے برس چکے تھے، وہاں موٹی سرخ دھاریاں نظر آ رہی تھیں جن سے خون رس رہا تھا۔ یہ خون بھی پہلی نظر میں مجھے حقیقی محسوس ہوا اور عورت کی جلد پر پھسلتا دکھائی دیا لیکن جب میں نے ذرا چونک کر آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھا تو وہ مجھے ساکت نظر آنے لگا۔ اسی طرح دوسری تمام تصویروں میں بھی خون موجود تھا۔ ہر پینٹنگ میں جو بھی منظر دکھایا گیا تھا، خون اس کا لازمی حصہ تھا۔ ساکت حالت میں بھی وہ خون بالکل تازہ اور حقیقی معلوم ہو رہا تھا۔
میں نے محسوس کیا کہ خوف کا جو تاثر مجھے بار بار جھرجھری لینے پر مجبور کر رہا تھا، اس کی بڑی وجہ پینٹنگز میں نظر آنے والا خون ہی تھا۔ پھر بات صرف خون تک محدود نہیں رہی۔ ہم نے مزید کچھ پینٹنگز دیکھیں۔
وہ عجیب الخلقت اور نہایت خوفناک قسم کے جانوروں کی تھیں۔ ان میں سے کوئی بھی جانور ہم نے حقیقت میں تو کیا، تصویروں یا فلموں میں بھی نہیں دیکھا۔ اگر یہ سب جانور یا درندے ولسن نے اپنے تخیل کے سہارے پینٹ کئے تھے تو اس کے تخیل کی پرواز یقیناً بہت عجیب اور انوکھی تھی۔ وہ سب جانور بہت ہی عجیب اور انوکھے تھے۔ صرف یہی نہیں، بلکہ وہ تصویروں میں بھی بالکل حقیقی محسوس ہو رہے تھے۔ ایسا لگتا تھا کہ وہ ساکت ضرور ہیں لیکن ان میں زندگی موجود ہے اور وہ کسی بھی لمحے فریم سے نکل کر ہم پر جھپٹ پڑیں گے۔ اپنے خوفناک پنجوں اور نوکیلے دانتوں سے ہمارے جسموں کا ریشہ ریشہ الگ کردیں گے۔
کمزور سے، زرد بلبوں کی روشنی میں یہ تصویریں کچھ اور خوفناک لگ رہی تھیں۔ ولسن اپنی ہی دھن میں ہمیں ان تصویروں کا پس منظر بتا رہا تھا کہ فلاں تصویر کا خیال اس نے فلاں جگہ سے حاصل کیا اور فلاں تصویر اس نے فلاں واقعے سے انسپائر ہو کر بنائی۔ مجھے اس کی آواز دور سے آتی محسوس ہو رہی تھی اور میں اس کی بات کم ہی سن رہا تھا۔ اسی دوران اس نے گلی میں کھیلتے ہوئے ایک بچے کو بھیج کر ملباری کے ہوٹل سے چائے بھی منگوا لی تھی حالانکہ ہم نے ایک بار پھر اسے روکنے کی کوشش کی تھی۔
ہم اس وقت تقریباً تمام تصویریں دیکھ چکے تھے جب چائے آگئی۔ اس نے پرانی اور نیم شکستہ کرسیوں کے درمیان ایک اسٹول رکھ کر اس پر چائے کی ٹرے رکھی اور ہم تینوں چائے پینے بیٹھ گئے۔ چائے کے دوران بھی ہم مصوری کے بارے میں باتیں کرتے رہے۔ میں نے اس کی پینٹنگز کی بہت تعریف کی، جس پر اس نے خوش ہو کر میری پسند کی کوئی ایک تصویر مجھے تحفے کے طور پر دینے کی پیشکش کی۔ سچی بات یہ تھی کہ اس کی تصویریں فنی نقطۂ نظر سے تو مجھے اچھی لگی تھیں لیکن ان میں سے کسی کو بھی اپنی کوٹھری میں آویزاں کرنے کی مجھ میں ہمت نہیں تھی۔ میری کوٹھری ویسے ہی تنگ و تاریک سی تھی اور دن رات کے کسی حصے میں بعض اوقات بلاوجہ ہی مجھے واہمے سے ستانے لگتے تھے۔ ایسی کسی تصویر کی موجودگی میں تو عین ممکن تھا کہ بات واہموں سے آگے بڑھ جاتی۔
چائے پی کر ہم نے اس کا بہت شکریہ ادا کیا اور اس سے اجازت طلب کی۔ جب ہم اس سے ہاتھ ملا کر رخصت ہونے لگے تو نہ جانے کیسے میرا پائوں اسٹول میں ایک لمحے کے لیے پھنس گیا۔ ایک لمحے کی اس حادثاتی سی غلطی سے اس چھوٹے سے کمرے میں گویا بھونچال آگیا۔ اسٹول گر پڑا۔ اس پر رکھی ٹرے اور چائے کے کپ وغیرہ زوردار چھناکے کے ساتھ اِدھر اُدھر بکھر گئے۔ صرف یہی نہیں، بلکہ میں خود بھی اوندھے منہ گر پڑا۔
شاید میری قسمت اچھی تھی کہ مجھے زیادہ چوٹ نہیں لگی لیکن ہوا یہ کہ میرا ہاتھ دوسرے اسٹول سے جا ٹکرایا۔ وہ اسٹول ایزل کے قریب رکھا تھا جس پر لگے ہوئے کینوس پر ولسن ہمارے آنے سے پہلے کچھ پینٹ کر رہا تھا۔ اس اسٹول پر مٹی کا ایک بڑا سا پیالا رکھا تھا جس میں گاڑھا سرخ سیّال بھرا ہوا تھا۔ جب ہم کمرے میں آئے تھے اور ولسن پینٹ کر رہا تھا تو اس کے ہاتھ میں رنگوں کی پلیٹ بھی موجود تھی۔ وہ پینٹ کرنے کے لیے اسی پلیٹ میں سے رنگ استعمال کر رہا تھا لیکن اسے اپنی پینٹنگ میں شاید جہاں خون دکھانا تھا وہاں وہ اس پیالے میں برش ڈبو کر استعمال کر رہا تھا۔ میرے خیال میں وہ بھی رنگ ہی تھا۔ شاید دوسرے رنگ کچھ عام سے تھے اور یہ سرخ رنگ کچھ خاص قسم کا تھا۔
وہ کمرا چونکہ زیادہ بڑا نہیں تھا اور اس میں نہ جانے کیا کچھ بھرا ہوا تھا، شاید اسی لیے میرا ہاتھ دوسرے اسٹول سے ٹکرا گیا تھا، جس کے نتیجے میں وہ اسٹول بھی گر گیا اور اس پر رکھا پیالا بھی کلر پلیٹ سمیت نیچے گر گیا۔ پیالا پہلے میرے ہاتھ پر گرا۔ میرا ہاتھ گاڑھے سرخ سیّال میں لتھڑ گیا۔ پھر پیالا لڑھکتا ہوا، اوندھا ہو کر میرے قریب ہی ساکت ہوگیا۔ صاف ظاہر تھا کہ اس میں گاڑھا اور سرخ سیّال جتنا بھی موجود تھا، وہ ضائع ہوگیا تھا۔
اوندھے منہ گرنے کی وجہ سے میں ایک لمحے کے لیے حواس باختہ ہوگیا۔ مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ ولسن مجھے سہارا دینے یا اٹھانے کے بجائے تیزی سے پیالے کی طرف لپکا۔ مجھے شبیر نے سہارا دے کر اٹھایا۔ ولسن اس دوران پیالے کو سیدھا کر چکا تھا۔ پیالا خالی ہو چکا تھا۔ وہ گاڑھے سرخ سیّال سے بھرا ہوا نہیں تھا۔ کمرے میں آنے کے بعد میں دیکھ چکا تھا کہ وہ آدھے سے بھی کچھ کم بھرا ہوا تھا۔ بہرحال اب وہ خالی ہو چکا تھا۔ گاڑھا سرخ سیال صرف اس کی اندر کی سطح پر لتھڑا رہ گیا تھا۔
میں اس وقت تک کھڑا ہو چکا تھا اور بے ربط سے الفاظ میں ولسن سے معذرت کر رہا تھا لیکن میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ ولسن خونخوار نظروں سے مجھے گھور رہا تھا۔ اس کی ساری خوش خلقی یکدم ہی رخصت ہوگئی اور وہ میرے معذرت خواہانہ الفاظ گویا سن ہی نہیں رہا تھا۔ اس کا سیاہی مائل چہرہ تمتماتا محسوس ہو رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں میرے لیے صرف غصہ ہی نہیں، نفرت بھی تھی۔ ایک منٹ پہلے وہ ہمارا نہایت خوش اخلاق اور مخلص میزبان تھا۔ ہمارے سامنے بچھا جا رہا تھا لیکن اب گویا اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ مجھے کچا ہی چبا جائے۔ اگر میں یہ کہوں تو بے جا نہ ہوگا کہ اس کی آنکھوں میں خون اُتر آیا تھا۔
’’یُو فول… ایڈیٹ… تم نے ہولی ولچر… ہزار سال کی عمر پانے والے مقدس گِدھ کا خون ضائع کر دیا۔ پوری دنیا میں یہ خون صرف میرے پاس تھا۔‘‘ وہ خود کلامی کے سے انداز میں بڑبڑایا۔ یہ الفاظ گویا غیرارادی طور پر اس کی زبان سے نکل گئے تھے۔
میں نے یہ الفاظ سن تو لیے، لیکن فوری طور پر ان کا مطلب میری سمجھ میں نہیں آیا۔ میں نے ہکلاتے ہوئے کہا۔ ’’آئی ایم ویری سوری… مسٹر ولسن… اگر میری غلطی سے آپ کا کوئی بہت اچھا اور بہت قیمتی رنگ گر گیا ہے تو میں آپ سے معافی چاہتا ہوں۔ میں کوئی خوشحال آدمی نہیں ہوں لیکن اگر آپ چاہیں… تو میں… کسی نہ کسی طرح اس کی قیمت ادا کردوں گا۔‘‘
ولسن نے گویا میری بات سنی ہی نہیں… اور اگر سنی، تو شاید اسے کوئی اہمیت نہیں دی۔ وہ غرّانے کے سے انداز میں نہایت غصے سے بولا۔ ’’گیٹ آئوٹ… دفع ہو جائو یہاں سے… دور ہو جائو میری نظروں سے۔‘‘ (جاری ہے)