Pursaraar Raatien – last Episode 4

321
میں تفہیمی انداز میں سر ہلا کر رہ گیا۔ جاپانی معاشرہ مغربی اور مشرقی روایات کا امتزاج ہے بلکہ یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ وہاں زیادہ تر مقامات پر مشرقی روایات کا پلّہ بھاری نظر آتا ہے۔ یوکو ہارا بولتے بولتے یوں خاموش ہوگیا تھا جیسے اس میں مزید بولنے کی طاقت نہ رہی ہو۔ وہ ایک لمحے یوں سر جھکائے بیٹھا رہا گویا کوئی تھکا ہارا مسافر نئے سرے سے اپنی توانائی مجتمع کر رہا ہو۔
پھر اس نے سلسلۂ کلام جوڑا۔ ’’میکی میری بہن فیومی سے زیادہ ذہین اور لائق تھی۔ کلاس کے ہر ٹیسٹ میں فیومی سے زیادہ مارکس لیتی تھی۔ وہ دیگر ممالک کی ہر چیز میں گہری دلچسپی لیتی تھی۔ انگریزی بولنا، لکھنا پڑھنا جانتی تھی۔ مغربی معاشرے کے آداب اور طور طریقوں سے اچھی طرح واقف تھی۔ پیانو بجانا جانتی تھی۔ اس کے انداز و اطوار اور خوداعتمادی دیکھ کر کوئی یقین نہیں کرسکتا تھا کہ اس نے اس دورافتادہ مقام پر پرورش پائی تھی۔‘‘ اس نے اپنے گرد و پیش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بات جاری رکھی۔ ’’جب اتفاق سے میری تعطیلات بھی میکی اور میری بہن فیومی کے ساتھ ہو جاتیں تو ہم تینوں کے گھر میں یکجا ہونے کی وجہ سے وہ دن ہمارے لیے یادگار ہو کر رہ جاتے۔ ہمارا وقت مختلف تفریحات میں ہنسی خوشی گزرتا۔ میکی یہ جاننے کی پوری کوشش کرتی کہ گزرے ہوئے دنوں میں میری معلومات میں کیا اضافہ ہوا ہے اور ٹوکیو میں رہ کر میں نے کیا سیکھا ہے۔ وہ چھوٹی سے چھوٹی بات مجھ سے پوچھ کر دم لیتی۔‘‘
میں اس ذہین اور زندہ دل لڑکی کا ذکر سن کر اپنے دل میں ایک عجیب سا رنج محسوس کر رہا تھا کیونکہ یوکو ہارا کی گفتگو سے مجھے اندازہ ہو رہا تھا کہ میکی اب اس دنیا میں نہیں ہے۔
میرے شاگرد نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا۔ ’’میکی سے میری آخری ملاقات گزشتہ ستمبر میں ہوئی تھی۔ چند دنوں کی تعطیلات کے لیے ہم اتفاق سے گھر میں اکٹھا ہوگئے تھے۔ ایک روز پکنک منانے کے لیے میں، فیومی اور میکی تینوں صبح کے وقت گھر سے نکلے۔ ہم نے اپنے ساتھ کھانے پینے کا سامان بھی لے لیا تھا۔ بڑی پگڈنڈی کو چھوڑ کر ہم ایک پہاڑی نالے کے کنارے کنارے چل دیئے۔ ہم ایک آبشار دیکھنا چاہتے تھے جسے بہت کم لوگوں نے دیکھا تھا۔ زیادہ تر لوگ اس کے وجود سے واقف ہی نہیں تھے۔
ہم کچھ دیر بھٹکنے کے بعد اس آبشار کو تلاش کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ آبشار اور اس کے گرد و پیش کا نظارہ واقعی بے پناہ خوبصورت تھا لیکن آثار بتاتے تھے کہ بہت کم انسانی قدم وہاں تک پہنچے تھے۔ وہ ان ویرانوں کا ایک عجیب ہی گوشہ تھا۔ دوپہر تک کا وقت ہم نے وہاں دھوپ میں بیٹھ کر گزارا۔ دونوں لڑکیاں کبھی کبھی سرد، نیم پتھریلی اور سبزے سے ڈھکی زمین پر ننگے پائوں چلنے کا لطف اٹھانے کے لیے اِدھر اُدھر ٹہلنے لگتیں۔ دوپہر کا کھانا ہم نے وہیں آبشار کے پاس بیٹھ کر کھایا۔
جب سورج پہاڑوں کے پیچھے چھپنے لگا تو ہم نے گھر واپس جانے کا ارادہ کیا۔ ہم پہاڑی نالے کے کنارے کنارے کچھ ہی دور آئے تھے کہ میکی کو یاد آیا، وہ اپنے پکچر کارڈز کا ایک البم آبشار کے پاس بھول آئی ہے۔ وہ اپنا البم لانے کے لیے دوڑتی ہوئی واپس چلی گئی اور ہم اس کے انتظار میں ایک درخت کے نیچے بیٹھ گئے۔ سورج چونکہ اس وقت ڈوب رہا تھا، اس لیے اس کی کندنی دھوپ میں چاروں طرف کا منظر اور بھی خوبصورت دکھائی دے رہا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے قدرت نے ہر چیز کو سیّال سونے میں نہلا دیا ہو۔
اچانک ہمیں میکی کی دہشت زدہ چیخ سنائی دی۔ آواز کافی دور سے آئی تھی۔ میں اور فیومی اسے سن کر بوکھلا گئے لیکن ہم نے ایک دوسرے کو تسلی دی کہ شاید میکی کسی پہاڑی جانور سے ڈر گئی ہے۔ ہم دونوں میکی کو تلاش کرتے ہوئے واپس اسی طرف بھاگے جہاں سے آئے تھے۔ ہم دوبارہ آبشار تک پہنچ گئے لیکن وہ ہمیں کہیں دکھائی نہ دی البتہ اس کے پکچر کارڈز کا البم ہمیں ایک کھائی میں پڑا دکھائی دیا جہاں تک پہنچنا بہت مشکل تھا۔ اس میں سے دنیا کے مختلف مناظر کی تصویروں پر مشتمل چند کارڈز نکل کر اِدھر اُدھر بکھر گئے تھے۔ ایسا لگتا تھا کہ کسی نے اس البم کو بہت زور سے وہاں پٹخا تھا۔
وہاں ہمیں اس البم اور بکھرے ہوئے کارڈز کے علاوہ میکی کی کوئی دوسری نشانی دکھائی نہ دی۔ وہ ایک عجیب سی جگہ تھی۔ وہاں سے اتنی جلدی، زیادہ دور نکل جانا بھی انسان کے بس کی بات نہیں تھی۔ جس راستے سے ہم آئے تھے، اس کے سوا کسی طرف کوئی ایسا راستہ نہیں تھا جس پر انسان چل سکتا۔ البتہ درندوں اور جنگلی جانوروں کی بات اور تھی۔ تین طرف بلند اور دشوار گزار چٹانیں دیواروں کی طرح کھڑی تھیں۔
ہم میکی کو جہاں تک ڈھونڈ سکتے تھے، وہاں تک ہم نے ڈھونڈا لیکن کہیں اس کا نشان تک نہ ملا۔ ہم نے اسے زور زور سے آوازیں بھی دیں لیکن گرتے ہوئے آبشار کی آواز کے سوا، جواب میں کوئی آواز سنائی نہ دی۔ صرف ایک بار ایک عجیب اور مدھم سی آواز سنائی دی جو ریل کے اس پرانے انجن کی سیٹی جیسی تھی جو کوئلے سے چلا کرتے تھے لیکن ظاہر ہے، اس علاقے میں تو کیا، اب ہمارے پورے ملک میں کہیں اس انجن کا نام و نشان تک نہیں ہے۔ میں نے ایسی آواز پہلے کبھی نہیں سنی تھی۔ عین ممکن ہے وہ کسی درندے کی آواز ہو، جسے ہم نے کبھی نہ دیکھا ہو۔
تاریکی لمحہ بہ لمحہ بڑھ رہی تھی اور ہماری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا کریں۔ فیومی نے گھبرا کر رونا شروع کردیا تھا۔ میں اسے وہاں تنہا چھوڑ سکتا تھا اور نہ ہی تنہا گھر واپس بھیج سکتا تھا۔ اگر وہ ساتھ نہ ہوتی تو شاید میں رات کا اندھیرا گہرا ہونے تک میکی کی تلاش جاری رکھتا۔ میکی کی اس طرح پُراسرار انداز میں گمشدگی کا سانحہ ہمارے لیے بے حد ہولناک تھا۔ آخرکار میکی کی تلاش کے معاملے میں خود کو بے بس اور مجبور محسوس کرتے ہوئے ہم گھر واپس روانہ ہوگئے۔
ہماری والدہ بہت بے چینی سے ہمارا انتظار کر رہی تھیں۔ میں نے انہیں واقعے سے آگاہ کیا اور فیومی کو گھر چھوڑ کر فوراً قریبی گائوں کی طرف بھاگا۔ میں نے وہاں لوگوں کو میکی کی پُراسرار گمشدگی کے بارے میں بتایا تو کئی لوگ لالٹینیں، دوسری لائٹس اور چند ایک ہتھیار لے کر میری مدد کے لیے ساتھ ہو لیے۔ ہم تمام رات اور اس سے اگلے دن بھی پہاڑوں اور ان پر پھیلے ہوئے جنگلات میں میکی کو تلاش کرتے رہے لیکن اس کا کوئی سراغ نہیں ملا۔
دوسرے روز پولیس بھی ہماری مدد کے لیے پہنچ گئی۔ حتیٰ کہ محکمہ جنگلات سے تعلق رکھنے والے اور کوہ پیمائی کے کلبوں کے کچھ ممبر بھی آگئے۔ سب نے مل کر اپنی سی کوششیں کرلیں لیکن میکی کا کچھ پتا نہ چلا۔ خدا جانے اسے پہاڑوں نے چھپا لیا یا وہ فضا میں تحلیل ہوگئی تھی۔ مجھے آخرکار کالج واپس جانا تھا۔ فیومی کی چھٹیاں بھی ختم ہو گئی تھیں اور میکی کی بازیابی کی کوئی امید نظر نہیں آرہی تھی۔ چنانچہ ہم دونوں بہن بھائی روتے دھوتے اپنے اپنے تعلیمی اداروں کی طرف روانہ ہوگئے لیکن روانگی سے پہلے میں نے گائوں کے لوگوں سے درخواست کی کہ ان میں سے جس کسی کو بھی وقت میسر آئے، وہ میکی کی تلاش جاری رکھے۔ کئی لوگوں نے مجھ سے وعدہ تو کرلیا لیکن ان کی آنکھیں مجھے بتا رہی تھیں کہ وہ شاید ہی اس وعدے کو پورا کرنے کی کوشش کریں۔ میرے خیال میں اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ وہ میکی کی طرف سے مایوس ہوچکے تھے۔ کوئی یہ تو نہیں بتا سکتا تھا کہ آخر وہ کہاں گئی لیکن انہیں اب اس کے ملنے کی کوئی امید نہیں رہی تھی۔
میری بہن مجھے ہوسٹل کے پتے پر خط لکھتی رہتی ہے اور کبھی کبھار ہم ایک دوسرے کو فون بھی کرتے رہتے ہیں لیکن اب ہمارے پاس لکھنے اور بات کرنے کے لیے بس ایک ہی موضوع رہ گیا تھا، اور وہ تھا میکی کی گمشدگی…! ہم اس کے بارے میں باتیں کرتے، ایک دوسرے کو تسلی دیتے اور امید بندھاتے۔
پھر نومبر کے آخر میں مجھے والدین کی طرف سے پیغام ملا کہ میں فوراً گھر پہنچوں۔ رات کو جب میں گھر پہنچا تو میرے والدین نے مجھے کاغذ کا یہ بوسیدہ ٹکڑا دیا جو میں نے ابھی آپ کو دکھایا ہے۔ یہ کاغذ ایک شکاری کو پہاڑ کی بلندی پر، اس مقام سے تقریباً دس میل دور، جہاں سے میکی غائب ہوئی تھی، صنوبر کے ایک درخت کی شاخ میں اٹکا ہوا ملا تھا۔‘‘
میرے شاگرد کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے۔ اب مجھے اندازہ ہوا تھا کہ وہ گزشتہ رات کے بارے میں میری بات سن کر حد سے زیادہ پریشان کیوں ہوگیا تھا۔
’’میکی کے بارے میں ہمیں جو آخری اطلاع ملی وہ یہی کاغذ کا ٹکڑا تھا۔ البتہ اگر وہ زندہ ہو…‘‘ اس کی آواز بھرّا گئی اور وہ جملہ مکمل نہ کرسکا۔
مجھے اب صورت حال کی نزاکت کا احساس ہوا تھا۔ یقیناً وہ معصوم لڑکی کسی عفریت کی گرفت میں اب تک زندہ موجود تھی۔ گزشتہ رات شاید وہ کسی طرح اس عفریت کے چنگل سے نکل کر اپنے گھر تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی تھی لیکن اس کے لیے اس گھر کے دروازے کھلنے کی نوبت نہیں آسکی۔ سرد رات کے سناٹے میں اس بلا نے ایک بار پھر اسے آن دبوچا۔ میں جس آواز کو اپنا واہمہ یا خواب سمجھ رہا تھا، وہ دراصل مدد کے لیے اس کی درد بھری پکار تھی جو فوراً ہی معدوم ہوگئی تھی۔ وہ مدھم سی آواز کسی اور کے کانوں تک نہ پہنچ سکی۔
میں اور یوکوہارا خوفزدہ سی نظروں سے ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے تھے۔ میری رگوں میں لہو سرد ہوگیا تھا۔ آخر میں نے بیٹھی بیٹھی سی آواز میں پوچھا۔ ’’پولیس نے میکی کی تلاش کی کوششیں اتنی جلدی کیوں ترک کردیں؟‘‘
’’انہوں نے اپنی سی کوشش کی۔‘‘ یوکو ہارا کمزور سی آواز میں بولا۔ ’’ہیلی کاپٹر سے بھی علاقے کا جائزہ لیا گیا لیکن کہیں میکی کی موجودگی کا کوئی نشان نظر نہیں آیا۔ اس سے زیادہ کوشش پولیس نہیں کرسکتی تھی۔ آپ ان پہاڑوں سے واقف نہیں ہیں۔ پولیس اور فوج کے دستے ان میں غائب ہوسکتے ہیں۔ یہ موت کی بھول بھلیاں ہیں۔ وہاں وہی لوگ کوشش کرسکتے ہیں جو ان پہاڑی سلسلوں سے اچھی طرح واقف ہوں۔ وہ بھی اپنی سی کوشش کر چکے ہیں۔ انہیں بھی کوئی کامیابی نہیں ہوئی… لیکن اب جو کچھ آپ نے بتایا ہے، اس سے لگتا ہے کہ میکی ابھی تک زندہ ہے۔‘‘
’’چنانچہ ہمیں کچھ نہ کچھ کرنا چاہیے۔‘‘ میں نے اپنے دل میں امید کی ہلکی سی لہر محسوس کرتے ہوئے کہا۔
وہ چند لمحے پُرخیال انداز میں خاموش رہا گویا فیصلہ کرنے کی کوشش کر رہا ہو کہ کیا کرنا چاہیے۔ آخر وہ بولا۔ ’’میں آج ہی گائوں جاتا ہوں اور لوگوں کو یہ بات بتاتا ہوں جو آپ نے مجھے بتائی ہے۔ وہاں جو لوگ مجھے اور میرے خاندان کو جانتے ہیں، وہ ہماری بڑی عزت کرتے ہیں۔ انہوں نے پہلے بھی ہماری مدد کی تھی اور امید ہے کہ وہ ایک بار پھر ہماری مدد کے لیے تیار ہو جائیں گے۔ ان میں چند لوگ ایسے بھی ہیں جو ان پہاڑی سلسلوں سے بہت اچھی طرح واقف ہیں۔ ورنہ زیادہ تر ایسے ہیں جو خود بھی ان بھول بھلیوں میں گم ہوسکتے ہیں اور کچھ ایسے ہیں جو ان بھول بھلیوں سے تو واقف ہیں لیکن اتنے توانا نہیں کہ ہم اس مشکل مہم پر انہیں ساتھ لے جا سکیں۔‘‘
’’میں خود بھی تمہارے ساتھ گائوں چلوں گا اور مہم پر لے جانے کے لیے ساتھیوں کا انتخاب کرنے میں تمہاری مدد کروں گا۔‘‘ میں نے حوصلے اور عزم سے کہا۔ ’’میں ان علاقوں میں مکمل اجنبی سہی لیکن میں کوئی ایسا طریقہ وضع کرلوں گا کہ ان پہاڑی سلسلوں میں گم ہونے کے بجائے تم لوگوں کے لیے ایک کارآمد سا تھی ثابت ہوسکوں۔‘‘
’’اس سے اچھی تو کوئی بات ہی نہیں ہے۔‘‘ یوکو ہارا کے پژمردہ چہرے پر امید کی روشنی جھلک آئی۔ ’’آپ ایک جہاندیدہ اور تجربہ کار آدمی ہیں اور میرے لیے اپنے دل میں خلوص اور ہمدردی بھی رکھتے ہیں۔ آپ کی موجودگی سب کے لیے حوصلے اور تقویت کا باعث ہوگی۔‘‘
ہم نے جب یوکوہارا کے والدین کو ساری بات بتائی تو ان کی حالت عجیب سی ہوگئی لیکن پھر ہمارے ارادے کے بارے میں جان کر انہیں گویا حوصلہ ملا۔ انہیں بہت تسلی دینے کے بعد میں اور یوکو ہارا گائوں کی طرف روانہ ہوگئے۔
گائوں پہنچ کر ہم بہت سے لوگوں سے ملے اور انہیں میکی کے بارے میں تازہ ترین صورت حال سے آگاہ کیا۔ پھر ہم نے انہیں بتایا کہ ہم میکی کی تلاش کے سلسلے میں ایک نئی مہم شروع کرنا چاہتے تھے اور ہمیں کچھ لوگوں کی مدد درکار تھی۔ تقریباً سبھی لوگ ہماری مدد کے لیے تیار ہوگئے لیکن میں نے تفصیلی بات چیت کے بعد ان میں سے دو نوجوانوں کو اپنے خاص ساتھی کے طور پر منتخب کیا جبکہ دس افراد کو ہم نے اشیائے خورونوش اور ضرورت کی کچھ دوسری چیزیں اٹھا کر چلنے اور خیمے وغیرہ لگانے کے لیے ساتھ لے جانے کا فیصلہ کیا۔
دو نوجوان، جنہیں ہم نے خاص طور پر منتخب کیا تھا، مضبوط جسم کے مالک تھے اور ہر قسم کی مشقت اٹھانے کے اہل نظر آتے تھے۔ ہماری نظر میں ان کی سب سے خاص خوبی یہ تھی کہ وہ پہاڑوں کے پورے سلسلے سے اچھی طرح واقف تھے۔ ان میں سے ایک تو ایک ماہر نباتیات کا بیٹا تھا اور اس نے خود بھی نباتیات، یعنی باٹنی کی تعلیم حاصل کی تھی۔ اس نے ہمیں بتایا کہ ان پہاڑوں میں دنیا کی کچھ نایاب جڑی بوٹیاں پائی جاتی تھیں اور وہ ان کی تلاش میں، پہلے ہی ذاتی طور پر ایک مہم پر روانہ ہونے کا پروگرام بنائے بیٹھا تھا۔ اس کے خیال میں ہمارے ساتھ جانا اس کے لیے ’’ایک پنتھ دو کاج‘‘ والا معاملہ ہوسکتا تھا۔ وہ ہماری مدد کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے لیے جڑی بوٹیاں بھی تلاش کرسکتا تھا۔ اس نوجوان کا نام کاموری تھا۔
دوسرے نوجوان کا نام راکو تھا۔ وہ اس لیے اس پہاڑی سلسلے سے واقف تھا کہ پہلے اس کا خاندان بھی ایک پہاڑ پر ہی آباد تھا اور اس کی زیادہ عمر پہاڑوں پر ہی گزری تھی۔ اس کے خاندان کو گائوں منتقل ہوئے زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا۔ وہ لوگ جس خلوص اور بے غرضی سے ہماری مدد کے لیے تیار ہوگئے، ان کا یہ جذبہ قابل تحسین تھا۔ ہم نے کم سے کم وقت میں اپنی تیاریاں مکمل کیں اور دوسرے ہی روز اپنی مہم پر روانہ ہوگئے۔
ہمیں کئی بلند و بالا پہاڑوں پر مشتمل ایک بہت بڑے سلسلے کے چپّے چپّے کو کھنگالنا تھا اور یہ کوئی آسان کام نہیں تھا۔ ہمیں خاص طور پر ان حصوں تک پہنچنا تھا اور ان کا جائزہ لینا تھا جو مسافروں، سیاحوں اور مہم جوئوں کی نظروں سے بھی اوجھل رہتے ہیں اور جن کا ہیلی کاپٹر کے ذریعے فضائی جائزہ لینا بھی ممکن نہیں ہوتا۔ یہ بلاشبہ ایک مشکل اور خطرناک مہم تھی۔ خاص طور پر مجھ جیسے آدمی کے لیے جس نے اس سے پہلے ایسی کوئی مہم سر کرنا تو درکنار، ایسے کسی علاقے میں کچھ عرصہ بھی نہیں گزارا تھا لیکن واقعات کی دردانگیزی نے میرے دل میں ایک ایسا جذبہ پیدا کردیا تھا کہ میں اپنے شاگرد کی کزن کی تلاش کے سلسلے میں اپنی جان کی بازی لگانے کے لیے بھی تیار تھا۔
ہم نے پہاڑوں، کھائیوں، گھاٹیوں، غاروں اور عجیب و غریب، پوشیدہ گوشوں کو کھنگالنا شروع کیا تو ہماری زندگی کا گویا ایک الگ ہی دور شروع ہوگیا۔ اس مہم کی تفصیلات بیان کرنے کے لیے دفتر کے دفتر یا پھر کافی عرصہ درکار ہوگا۔ چنانچہ میں اختصار سے کام لوں گا اور صرف اصل موضوع تک محدود رہوں گا۔ کاموری اس مہم کے دوران پہاڑی جڑی بوٹیوں میں بھی دلچسپی لیتا رہا اور بہت سی جڑی بوٹیاں اپنے پاس جمع کرتا رہا۔ جب کبھی وہ پہاڑوں کے درمیان کہیں غائب ہوجاتا اور ہم اسے تلاش نہ کر پاتے تو وہ اپنی شاٹ گن سے فائر کر کے ہمیں اپنے بارے میں خبردار کردیتا اور ہم اپنی شاٹ گن سے اس کے اشارے کا جواب دیتے۔ یوں ہم ایک دوسرے کو تلاش کرنے میں کامیاب ہو جاتے۔
ایک دن سہ پہر کے وقت کاموری کسی وجہ سے خیمے میں رک گیا۔ میں اور راکو ایک سمت میں بہت دور نکل گئے۔ ہمارے خیمے سے دو میل کے فاصلے پر جاپان کا سب سے بڑا آبشار تھا جو دو ہزار فٹ کی بلندی سے گرتا تھا۔ ہم نے سوچا تھا کہ اس کے آس پاس کا علاقہ بھی دیکھ لیا جائے۔ راستے میں ہم ایک نہایت خوبصورت مقام پر پہنچے۔ شفاف پانی کے ایک چشمے کے کنارے صاف ستھری جگہ دیکھ کر ہم نے سوچا کہ وہاں بیٹھ کر کھانا کھا لیا جائے۔ میں کھانے کی باسکٹ کھولنے لگا۔ اس دوران راکو گھوم پھر کر سراغ رسانوں والے انداز میں زمین کا جائزہ لینے لگا۔ وہ اکثر اسی طرح کرتا تھا اور بعض جگہوں پر تو وہ زمین بھی کریدنے لگتا تھا۔ اس وقت بھی وہ ایک جگہ زمین پر بیٹھ کر کچھ ایسا ہی کر رہا تھا۔
اچانک اس نے میری طرف سر گھما کر مضطربانہ لہجے میں کہا۔ ’’سر… ذرا یہ دیکھئے۔‘‘
میں فوراً کھانا چھوڑ کر اٹھا اور لپک کر اس کے قریب پہنچا۔ اس کے ہاتھ میں سرخ فلالین کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا تھا جو مٹی میں لتھڑا ہوا تھا۔
میں نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا تو وہ بولا۔ ’’یہ کسی عورت کے اسکرٹ کا حصہ ہے۔‘‘
میں نے حیرت سے کپڑے کے اس ٹکڑے کی طرف دیکھا اور تصدیق چاہی۔ ’’کیا تمہیں پورا یقین ہے؟‘‘
’’ہاں… میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ کسی عورت یا لڑکی کے اسکرٹ کا ٹکڑا ہے اور پھٹ کر اس سے الگ ہوا ہے۔ میکی کی پُراسرار گمشدگی کی جو تفصیلات مجھے یاد ہیں، ان کے مطابق وہ غائب ہونے سے پہلے سرخ فلالین کا اسکرٹ پہنے ہوئے تھی۔‘‘
ایک عجیب سی امید کے احساس سے میرے دل کی دھڑکنیں کچھ تیز ہوگئیں لیکن اس امید میں ایک بے عنوان سے خوف کی آمیزش بھی تھی۔ راکو ایک بار پھر زمین پر جھک گیا تھا۔ پھر اس نے چشمے کے کنارے زمین پر موجود کچھ دھندلے سے نشانات کی طرف اشارہ کیا۔ غور سے دیکھنے پر وہ انسانی پیروں کے نشانات ہی معلوم ہوتے تھے لیکن ایک عام انسان کے نقش قدم سے بہت بڑے تھے۔ میں نے کھانے کا خیال چھوڑ دیا۔ جلدی سے باسکٹ بند کی اور ہم دونوں احتیاط سے گرد و پیش کا جائزہ لیتے ہوئے آگے بڑھے۔ پیروں کے نشانات جدھر جاتے دکھائی دے رہے تھے، ہم اسی طرف بڑھ رہے تھے مگر کچھ آگے جانے کے بعد یہ نشانات غائب ہوگئے۔
اب ہم الجھن میں پڑ گئے کہ کیا کریں، کدھر جائیں؟ چند لمحے رکے رہنے کے بعد ہم اندازاً ایک بار پھر آگے بڑھے۔ اس ویرانے میں بلا کا سکوت طاری تھا۔ کبھی کبھار کوئی خفیہ سی آواز سنائی دے جاتی تھی جو کسی چھوٹے موٹے پہاڑی جانور کے اِدھر اُدھر بھاگنے کی ہوتی تھی۔
آخرکار ہم ایک اور کھلی جگہ پر پہنچے۔ یہاں دستِ قدرت کی کاریگری کا ایک عجیب نمونہ موجود تھا۔ پہاڑ کے اندر سے مزید کچھ پہاڑیاں نکلی ہوئی تھیں اور ایک دائرے کی صورت میں کھڑی تھیں۔ یہ قدِ آدم پہاڑیاں مخروطی ستونوں جیسی تھیں۔ ایسا لگتا تھا جیسے کسی بہت بڑے ہاتھ کی انگلیاں کھڑی کر کے پیالا سا بنایا گیا ہو۔ ابھی ہم اس مقام پر کھڑے سوچ ہی رہے تھے کہ کس طرف آگے بڑھیں، کہ اچانک ہوا میں ایک تیز سیٹی کی سی آواز گونجی۔ یہ آواز کسی حد تک، پرانے ریلوے انجن کی سیٹی جیسی تھی جو کوئلے سے چلا کرتے تھے۔
ہم ابھی یہ فیصلہ بھی نہ کرپائے تھے کہ آواز کس طرف سے آئی تھی، اچانک ایک بہت بڑا پتھر آ کر ایک عمودی چٹان سے اتنی طاقت سے ٹکرایا کہ ہوا میں چنگاریاں بکھر کر معدوم ہوگئیں۔ پتھر ہم سے ذرا ہی دور گرا تھا۔ اگر ہم میں سے کوئی اس کی زد میں آیا ہوتا تو شاید اس کی کھوپڑی پاش پاش ہو جاتی یا جسم کی ہڈیاں ٹوٹ پھوٹ جاتیں۔
میں نے خوفزدہ ہو کر سر اٹھا کر دیکھا تو تقریباً پچاس فٹ کی بلندی پر مجھے ایک چٹان کسی چھجے کی طرح جھکی ہوئی نظر آئی۔ اس چٹان کے نیچے ایک آڑا ترچھا اور بے ہنگم سا جھونپڑا موجود تھا۔ جھونپڑے سے زیادہ وہ کسی بڑے سے جانور کا بھٹ یا کھوہ معلوم ہو رہی تھی۔ خشک ٹہنیوں اور گھاس پھونس سے بنے ہوئے اس جھونپڑے میں دروازے کی جگہ بڑا سا ایک شگاف تھا۔ اس کے قریب ہی بڑا سا ایک پتھر رکھا ہوا تھا جو شاید اس شگاف کے آگے رکاوٹ کے طور پر رکھنے کے کام آتا ہوگا۔ وہ پتھر اتنا وزنی معلوم ہوتا تھا کہ اسے کھسکانا یقینا اکیلے آدمی کا کام نہیں تھا۔
اس جھونپڑے کے اوپر جھکی ہوئی مسطح چٹان کی وجہ سے اسے گویا ایک قدرتی، پتھریلی چھت کا تحفظ حاصل تھا۔ اس کے علاوہ اردگرد موجود درختوں اور جھاڑ جھنکاڑ کی وجہ سے بھی وہ اوٹ میں تھا۔ اس کا محل وقوع کچھ ایسا تھا کہ ایک خاص زاویے کے علاوہ اسے کسی بھی طرف سے دیکھنا ممکن نہیں تھا اور ہم اس وقت اسی زاویے پر کھڑے تھے۔ خوفزدہ کردینے والی بات یہ تھی کہ مسطح چٹان پر ایک دیوپیکر مخلوق کھڑی دکھائی دے رہی تھی جو کسی حد تک انسان سے مشابہ تھی۔ اسے شاید بن مانس کہا جاسکتا تھا لیکن جسامت میں وہ بن مانس سے بھی بڑا تھا اور اس وقت غیظ و غضب کی حالت میں ہونے کی وجہ سے وہ بن مانس سے بھی کہیں زیادہ خوفناک دکھائی دے رہا تھا۔
اس کے بڑے بڑے اور گندے اعضاء نہایت مکروہ اور گھنائونے تھے۔ اس کا ڈرائونا چہرہ جو اس وقت دیوانگی اور غضب ناکی کی تصویر معلوم ہو رہا تھا، اس پر لمبے لمبے مٹیالے بال لٹک رہے تھے۔ اس کی کمر کے گرد ریچھ کی کھال لپٹی ہوئی تھی اور اس کی بن مانس جیسی چھاتی کے بال، ریچھ کی کھال سے بالکل ملتے جلتے دکھائی دے رہے تھے۔ وہ دانت پیس کر بھیڑیوں کی طرح غرّا رہا تھا۔ شاید وہ اس بات پر غضب ناک تھا کہ دو انسان اس کے محفوظ ٹھکانے کے قریب پہنچ گئے تھے۔
اس کی غراہٹ سن کر مجھے یاد آیا کہ یہی وہ خوفناک آواز تھی جسے سن کر ایک رات یوکو ہارا کے گھر میں، میری نیند سے آنکھ کھلی تھی یا پھر شاید میں نیم غنودگی سے چونکا تھا۔ اس خیال سے اس وقت، ڈھلتے سورج کی سنہری دھوپ میں بھی میرا جسم دہشت سے لرز گیا۔ اسی وقت ہمیں جھونپڑے کے شگاف سے ہمیں ایک انسانی چہرہ جھانکتا دکھائی دیا۔ سنہری دھوپ اس چہرے پر پڑ رہی تھی جس کی وجہ سے اس کی آنکھیں کچھ چندھیائی ہوئی سی لگ رہی تھیں لیکن اسی دھوپ کی وجہ سے وہ چہرہ تمام تر جزئیات کے ساتھ، بالکل صاف دکھائی دے رہا تھا۔
وہ ایک مصیبت زدہ اور تباہ حال لڑکی کا زرد چہرہ تھا جس کے رخساروں کی ہڈیاں ابھری ہوئی تھیں اور آنکھوں میں کھنڈرات کی سی ویرانی تھی۔ چہرے پر میل کچیل کے دھبے تھے اور ہونٹ سوجے ہوئے معلوم ہوتے تھے۔ اس کی نظریں ایک لمحے کے لیے اِدھر اُدھر پہاڑوں پر بھٹکیں۔ پھر اس نے ہمیں دیکھا اور بے اختیار اس کے منہ سے ایک چیخ نکل گئی لیکن اسی لمحے، عین اس کے اوپر چھجا نما چٹان پر کھڑا ہوا وحشی اور عفریت نما انسان غضبناک انداز میں کسی درندے کی طرح غرّایا اور لڑکی سہم کر یکدم اندر چلی گئی۔
اس کے بعد وہ عفریت نما انسان غرّاتا ہوا نیچے اترنے لگا۔ وہ کسی بن مانس کی طرح بڑے پتھروں پر چھلانگیں لگاتا ہوا پھرتی سے نیچے آ رہا تھا۔ درحقیقت وہ انسان سے اپنی تھوڑی بہت مشابہت کی وجہ سے مزید خوفناک دکھائی دے رہا تھا۔ اگر وہ مکمل طور پر کوئی درندہ یا جنگلی جانور ہوتا تو شاید اتنا بھیانک معلوم نہ ہوتا۔ چند لمحوں کے اندر اندر وہ ہمارے قریب آن پہنچا تھا۔
اب میرے لیے فائر کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ شاٹ گن میرے کندھے سے لٹکی ہوئی تھی۔ میں نے پھرتی سے اسے کندھے سے اتارا اور صحیح طور پر نشانہ لیے بغیر اس عفریت پر گولی چلا دی۔ گولی اس کے کندھے پر لگی لیکن وہ گرا اور نہ ہی ایک لمحے کے لیے رکا۔ تاہم آخری پتھر پر چھلانگ لگاتے ہوئے اس کا پائوں پھسل گیا اور وہ ہم سے چند فٹ کے فاصلے پر اوندھے منہ آن گرا۔ وہ اس بری طرح پھنکار رہا تھا کہ اس کی ناک کے قریب سے مٹی ہوا میں اُڑ رہی تھی۔ اس کی پھنکار، جو میں پہلے بھی سن چکا تھا، پرانے ریلوے انجن کی سیٹی جیسی تھی۔
وہ دوبارہ کھڑا نہ ہوسکا اور جہاں گرا تھا، وہیں پڑا رہا۔ ایک لمحے کے لیے میں نے سوچا کہ اسے ایک دو گولیاں اور مار کر اس کا کام تمام کردوں لیکن پھر نہ جانے کیوں میں نے اپنے اس ارادے پر عملدرآمد نہیں کیا۔ شاید میرے ذہن کے کسی گوشے میں یہ خواش رینگ آئی تھی کہ میں اس عجیب و غریب اور ڈرائونی مخلوق کو زندہ حالت میں لوگوں کے سامنے لے جا سکوں۔
میں نے چلاّ کر راکو سے کہا۔ ’’اگر یہ اپنی جگہ سے ذرا بھی ہلے تو اسے ایک گولی اور مار دینا۔‘‘ یہ کہہ کر میں خود پتھروں پر چڑھ کر اوپر جھونپڑے کی طرف جانے لگا جس کے شگاف نما دروازے سے میں نے ایک تباہ حال لڑکی کو جھانکتے دیکھا تھا۔ مجھے یقین ہو چکا تھا کہ وہ میکی ہی تھی۔
میرے لیے ان پتھروں پر چڑھ کر جھونپڑے تک جانا کوئی آسان کام نہیں تھا لیکن اس وقت کسی نامعلوم جذبے نے میری رگ و پے میں ایک نئی توانائی بھر دی تھی۔ اس لیے میں کوئی زیادہ دشواری محسوس کئے
بغیر اوپر پہنچ گیا۔ اس دوران وہ تباہ حال چہرہ ایک بار پھر مجھے اس جھونپڑے سے جھانکتا دکھائی دیا۔
’’میکی… باہر آ جائو… اب تم بالکل محفوظ ہو۔‘‘ میں نے چلاّ کر آدھی انگریزی اور آدھی جاپانی میں کہا۔
وہ جھونپڑے سے تو نکل آئی لیکن میری طرف آنے کے بجائے ہراساں اور دیوانگی آمیز نظروں سے مجھے دیکھتی ہوئی دوسری طرف دوڑ پڑی۔ اس کے نحیف و نزار جسم پر چیتھڑے جھول رہے تھے۔ اس کی حالت دیکھ کر اس گھبراہٹ اور ہیجان کی کیفیت میں بھی میرا دل خون کے آنسو رو دیا۔ وہ اس خوفزدہ جانور کی طرح ایک چٹان کی اوٹ میں چھپ گئی جس کے پیچھے کوئی درندہ لگ گیا ہو۔
’’راکو… تم اس کے پاس آئو… اور اس سے بات کرو۔ یہ مجھ سے ڈر رہی ہے۔‘‘ میں نے چلّا کر راکو سے کہا۔
راکو میری ہدایت پر عمل کرتے ہوئے فوراً اوپر آنے لگا جبکہ میں نیچے کی طرف چل دیا۔ میں اس جگہ پہنچا جہاں وہ عفریت ڈھیر تھا۔ میں اس سے کچھ دور رہتے ہوئے اس کا جائزہ لینے لگا۔ گن میرے ہاتھوں میں تھی اور میں کسی بھی لمحے فائر کرنے کے لیے تیار تھا۔ اب ذرا اچھی طرح اس مخلوق کا جائزہ لیتے ہوئے مجھے احساس ہوا کہ اعضاء کی بناوٹ اور ترتیب کے اعتبار سے وہ انسان ہی تھا لیکن اس کی جسامت، اس کے اعضاء کی حیوانی نشو و نما، جس کے بیشتر حصوں پر گھنے بال اور سانڈ جیسی گردن دیکھ کر بے اختیار گھِن آتی تھی۔ ایسی کراہت محسوس ہوتی تھی جسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل تھا۔
وہ اب بھی غرّا رہا تھا اور دانت پیس رہا تھا۔ اس کے کندھے سے بھل بھل خون بہ کر نیم پتھریلی زمین میں جذب ہو رہا تھا۔ پھر اس نے سر اٹھا کر میری طرف دیکھا۔ وہ کسی درندے کی طرف دانت نکوس رہا تھا۔ اس کے پیلے پیلے مہیب دانت، خوفناک آنکھیں اور ناک کی جگہ محض ایک ڈرائونا سا گڑھا دیکھ کر مجھے جھرجھری آگئی لیکن اس کے بعد میں مزید چوکنا ہو کر کھڑا ہوگیا۔
ایسا لگتا تھا کہ وہ وقتی طور پر چکرا گیا تھا یا چند لمحوں کے لیے حواس کھو بیٹھا تھا اور اب دوبارہ حواس میں آ رہا تھا۔ گولی نے شاید اسے زیادہ نقصان نہیں پہنچایا تھا۔ اس کے کندھے سے خون کافی بہہ چکا تھا لیکن شاید اس پر اس کا کوئی خاص اثر نہیں ہوا تھا البتہ گرنے کی وجہ سے اس کے حواس کچھ دیر کے لیے معطل ہوگئے تھے۔ اس نے ہاتھوں کے بل اٹھنا چاہا لیکن شاید زخمی کندھے کی وجہ سے کامیاب نہیں ہوسکا۔ میں نے احتیاطاً ایک ہوائی فائر بھی کردیا۔ گولی اس کے سر کے اوپر سے گزرتی ہوئی ایک چٹان میں پیوست ہوگئی۔ وہ جلدی سے، پہلے ہی کی طرح لیٹ گیا۔
گولی کے دھماکے نے یقینا اسے خوفزدہ کیا تھا۔ اس کا یہ خوف میرے لیے اطمینان کا باعث تھا لیکن میرا یہ اطمینان چند لمحوں سے زیادہ برقرار نہ رہ سکا۔ میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ وہ وحشی اپنی جگہ پڑے پڑے اچانک کنگرو کی طرح اچھلے گا اور کسی بہت بڑی چیل کی طرح مجھ پر جھپٹے گا۔ مجھے اس کو اچھلتے دیکھ کر گولی چلا دینی چاہیے تھی لیکن سچی بات یہ ہے کہ اس زخمی حالت میں بھی اس کی یہ پھرتی دیکھ میرے ہاتھ پائوں پھول گئے۔
دوسرے ہی لمحے وہ توپ کے گولے کی طرح مجھ سے آن ٹکرایا۔ میں شاید بہت بری طرح پیچھے جا گرتا اور میرا سر کسی پتھر سے ٹکرا کر پاش پاش ہو جاتا لیکن درحقیقت اس نے مجھے دبوچنے کے لیے چھلانگ لگائی تھی۔ اس کے بالوں سے بھرے بازوئوں نے مجھے اپنی گرفت میں لے لیا اور میرا دم گھٹنے لگا۔ وہ قد میں مجھ سے کافی اونچا تھا لیکن اس کی متعفن سانسیں میں اپنے چہرے پر محسوس کر رہا تھا۔ اس کے جسم سے بھی ایسی بو آ رہی تھی جیسی چڑیا گھر میں جانوروں کے پنجروں کے قریب جانے پر محسوس ہوتی ہے۔
اس کے جسم اور سانسوں کی بدبو کے بھپکوں سے میرے حواس مختل ہو رہے تھے۔ گن میرے ہاتھوں سے چھوٹ کر نہ جانے کہاں جا گری تھی اور میں اس وحشی کی گرفت میں کسی بچے کی طرح مچل رہا تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ میں کسی بھی لمحے بے ہوش ہو جائوں گا۔ شاید وہ درندہ بے ہوشی کے عالم میں ہی مجھے زندگی سے محروم کردے گا۔ میرے حواس میرا ساتھ چھوڑ رہے تھے۔ مجھے اس وقت میکی یاد رہ گئی تھی اور نہ ہی میرے ذہن میں راکو کا خیال تھا۔ کاموری اور یوکو ہارا کا تصور بھی میرے ذہن سے نکل چکا تھا۔
اچانک مجھے اپنی گردن پر اس وحشی کے بالوں اور ہونٹوں کا لمس محسوس ہوا۔ میرے ذہن میں فوراً خیال آیا کہ شاید وہ درندہ نما انسان میرا خون پینے لگا تھا۔ کسی بھی لمحے اس کے دانت میری گردن میں پیوست ہونے والے تھے۔ اس بھیانک موت کے تصور سے میری روح لرز اٹھی اور میری مزاحمت بالکل ہی دم توڑ گئی۔ میں اس کی جنّاتی گرفت سے نکلنے کے لیے جو زورآزمائی کر رہا تھا، وہ یکدم ہی ختم ہوگئی مگر اسی لمحے مجھے اپنے کانوں کے قریب ایک دھماکا سنائی دیا۔
وہ رائفل کا دھماکا تھا۔ اس دھماکے کے ساتھ ہی، میرے کانوں کے عین قریب اس وحشی کی ایسی چیخ بلند ہوئی کہ مجھے اپنے کانوں کے پردے پھٹتے محسوس ہوئے۔ اسی لمحے، میں اس وحشی کی گرفت سے بھی آزاد ہوگیا لیکن اپنے قدموں پر کھڑا نہ رہ سکا۔ میں بے دم سا ہو کر وہیں گر گیا۔ تاہم میری آنکھیں کھلی تھیں اور میرے حواس کسی حد تک کام کر رہے تھے۔ اب میں نے دیکھا کہ فائر کرنے والا یوکوہارا تھا۔ اس کی رائفل اس کے ہاتھوں میں تھی۔ وہ نہ جانے کب وہاں پہنچ گیا تھا۔ میں اس سے پہلے اسے نہیں دیکھ سکا تھا۔
گولی اس وحشی کے دوسرے کندھے میں لگی تھی اور اس کندھے سے بھی خون نکلنے لگا تھا۔ اس کے باوجود وہ گرا نہیں بلکہ حیرت انگیز پھرتی سے ایک طرف دوڑ پڑا۔ یوکوہارا نے اس پر دو فائر اور کیے مگر ان میں سے کوئی گولی اسے نہ لگ سکی۔ وہ چند سیکنڈ میں ہی چٹانوں کی بھول بھلیوں میں کہیں غائب ہوگیا۔ مجھے اس وقت یہ بھی غنیمت لگا کہ وہ خطرناک حد تک زخمی ہوچکا تھا اور اس نے خوفزدہ ہو کر راہ فرار اختیار کی تھی۔
میرے حواس بحال ہوئے تو میں اٹھ کھڑا ہوا۔ اس وقت راکو مجھے ایک پگڈنڈی نما راستے سے، بلندی سے اترتا دکھائی دیا۔ اس نے بازوئوں پر گویا ہڈیوں کے ایک ڈھانچے کو اٹھا رکھا تھا جس پر چیتھڑے جھول رہے تھے۔ وہ میکی تھی جو بے ہوش ہوچکی تھی۔ اس کے لاغر جسم پر جا بہ جا خراشوں اور زخموں کے نشان نظر آ رہے تھے۔ راکو اپنے بارے میں باتیں کرتے ہوئے خود یہ رائے ظاہر کر چکا تھا کہ اس نے چونکہ پہاڑوں میں پرورش پائی ہے، شاید اس لیے اس کا دل پتھر کی طرح سخت ہے لیکن اس وقت میکی کی حالت دیکھ کر وہ بھی اپنی سنگدلی کا دعویٰ بھول کر رو رہا تھا۔
اپنی منگیتر کی حالت دیکھ کر یوکو ہارا کو چند لمحوں کے لیے سکتہ ہوگیا۔ راکو نے میکی کو ایک جگہ زمین پر لٹا دیا جہاں کچھ سبزہ موجود تھا۔ وہ اور یوکوہارا مل کر اس کی حالت بہتر بنانے کی تدبیریں کرنے لگے۔ میں صورت حال کی دردانگیزی سے بچنے کے لیے جھونپڑے کا اندر سے جائزہ لینے بلندی کی طرف چل دیا۔ میں نے وہاں پہنچ کر جھونپڑے میں جھانکا تو بھیانک بدبو نے میرا استقبال کیا۔ اندر پرندوں کے پروں اور جانوروں کی ہڈیوں کے ایک انبار کے سوا کچھ نہیں تھا۔ میں فوراً وہاں سے لوٹ آیا۔
راکو اور یوکو ہارا، میکی کو اٹھا کر چشمے کے کنارے لے آئے تھے۔ انہوں نے اس کے جسم سے چیتھڑے ہٹا کر اسے ایک چادر میں لپیٹ لیا تھا۔ پھر انہوں نے اس کا چہرہ چشمے کے سرد اور شفاف پانی سے دھویا۔ تب اس نے صرف ایک لمحے کے لیے آنکھیں کھولیں اور دوبارہ بند کرلیں۔ البتہ اس کے ہونٹ ہلنے لگے تھے۔ میں نے کان لگا کر سنا۔ وہ زیر لب کہہ رہی تھی۔ ’’انچن ہیاکو… کروشی آئی…‘‘ (بھائی… جلدی آئو… میں یہ برداشت نہیں کرسکتی)
شاید اسے ان الفاظ کے سوا کچھ یاد ہی نہیں رہا تھا!
وہاں سے روانہ ہو کر ہم سورج ڈوبنے سے کچھ پہلے خیمے میں واپس پہنچ گئے۔ میکی کو نیم بے ہوشی کی حالت میں ہمارے ساتھ دیکھ کر کاموری کو اس قدر حیرت ہوئی کہ وہ کئی لمحوں تک اسے اپنی آنکھوں کا فریب سمجھتا رہا۔ پھر وہ دوڑتا ہوا باہر گیا اور گن سے فائر کر کے اس نے دوسرے مددگاروں اور ساتھیوں کو واپس آنے کا سگنل دیا۔ غروب آفتاب کے وقت وہ لوگ ہم سے آن ملے۔ میکی کی بازیابی کی تفصیل سن کر وہ بھی دم بہ خود رہ گئے۔
ہم نے میکی کو چمچوں کے ذریعے تھوڑا سا گرم سوپ اور کچھ طاقت بخش دوائیں پلائیں، جس کے بعد وہ گہری نیند سو گئی۔ کم از کم بظاہر ایسا ہی لگ رہا تھا جیسے وہ گہری نیند سو گئی ہے تاہم یہ بھی ممکن تھا کہ اس پر ایک بار پھر غشی طاری ہوگئی ہو۔ رات بھر کاموری، یوکوہارا اور میں اس کی دیکھ بھال کرتے رہے۔ خیمے کے باہر، آگ کے الائو کے گرد بیٹھے ہوئے ہمارے ساتھی اس دیوقامت، حیوان نما انسان کی باتیں کر رہے تھے۔
آخر سب نے راکو کے اس خیال سے اتفاق کیا کہ اس کا تعلق لکڑہاروں کی اس قدر عجیب اور قدیم نسل سے تھا جو پہاڑوں کے اس پار بعض جنگلی علاقوں میں رہتی تھی اور اب تقریباً معدوم ہو چکی تھی۔ اس نسل کے زیادہ تر لوگ عظیم الجثہ اور عادات و اطوار کے لحاظ سے وحشی ہوتے تھے لیکن بعض اوقات ان میں سے کوئی فرد اپنے جنگلی پن اور تندخوئی میں اتنا آگے بڑھ جاتا تھا کہ باقی لوگ اسے اپنی بستی میں رہنے کے قابل نہیں سمجھتے تھے۔ ایسے فرد کو قید میں ڈالنے یا ہلاک کرنے کی کوشش کی جاتی تھی۔ اس بات کا احساس ہوتے ہی وہ شخص فرار ہو کر پہاڑوں کی طرف نکل جاتا تھا۔ اس کی خونخواری کی وجہ سے ان کی نسل کا کوئی فرد اس کا ساتھ نہیں دیتا تھا۔ عین ممکن تھا کہ اس قدیم قبیلے کے کچھ افراد اب بھی ان علاقوں میں کہیں موجود ہوں۔ انہوں نے کبھی کسی مہذب شہری علاقے کا تو کیا، کسی گائوں دیہات کا رخ بھی نہیں کیا تھا۔ وہ اپنی تقریباً جانوروں جیسی زندگی سے ہی خوش اور مطمئن تھے۔
صبح کے آثار نمودار ہونے تک سب لوگ سو چکے تھے۔ مجھ پر بھی غنودگی طاری تھی لیکن میرے سامنے میکی موجود تھی۔ اس کی موجودگی کی وجہ سے میری نفسیاتی کیفیت کچھ ایسی تھی کہ میں چاہنے کے باوجود سو نہیں پا رہا تھا۔ اچانک ہی میکی ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی جیسے اس نے کوئی ڈرائونا خواب دیکھا ہو۔ وہ عجیب، وحشت زدہ سی نظروں سے میری طرف دیکھنے لگی۔ اس کی آنکھوں میں دہشت کے سائے تھے۔ اسے گویا اب تک یقین نہیں آیا تھا کہ وہ اپنے ہمدردوں کے درمیان پہنچ چکی ہے۔
اچانک مجھ پر ایک خوفناک انکشاف ہوا۔ میکی کا پیٹ کچھ پھولا ہوا تھا۔ وہ اُمید سے تھی۔ اس خیال سے میری رگوں میں لہو سرد ہوگیا کہ ہونے والا بچہ نہ جانے کیسا ہو؟ شاید اس میں وہ تمام خصلتیں موجود ہوں جو اس کے باپ میں تھیں۔ اس جملے کا صحیح مطلب بھی اب میری سمجھ میں آیا۔ ’’انچن ہیاکو… کروشی آئی…‘‘
میکی وحشت زدہ نظروں سے میری طرف دیکھے جا رہی تھی۔ وہ پلک بھی نہیں جھپک رہی تھی۔ اچانک اسے زور کی کھانسی آئی اور منہ سے خون ابل پڑا۔ وہ دوبارہ بستر پر گر کر بے حس و حرکت ہوگئی۔ میں نے اس کی نبض چیک کی، اسے ہلا جلا کر دیکھا۔ وہ اس دنیا سے رخصت ہو چکی تھی۔ اس کی موت کا یقین آنے پر یوکوہارا جس طرح بلک بلک کر رویا تھا، اسے میں کبھی نہیں بھول سکوں گا۔ خود میری آنکھوں سے بھی آنسوئوں کی جھڑی لگ گئی تھی۔
دن کا اجالا پھیلنے کے بعد ہم نے میکی کی ارتھی بنائی اور اسے اٹھا کر دو دن تک خطرناک، اونچے نیچے پہاڑی راستوں پر چلتے رہے۔ یوموٹو کے گرم چشموں کے پاس ٹھہر کر ہم نے ایک دن آرام کیا اور دوبارہ ارتھی کو اٹھا کر اس قدیم مندر کے کھنڈرات میں لے گئے جو یوکوہارا کے گھر سے کچھ فاصلے پر تھے۔ یوکوہارا کی خواہش تھی کہ میکی کی تدفین وہاں کی جائے۔ اس کی تدفین کے وقت مجھے وہ رات ایک بار پھر بڑی شدت سے یاد آئی جب میں نے یوکو ہارا کے مکان میں سونے کے دوران اس کی دردانگیز پکار سنی تھی اور اسے اپنا واہمہ یا خواب سمجھا تھا۔
مندر کے قریب ایک بڑے درخت کے نیچے میکی کی قبر بنا دی گئی۔ یوکو ہارا کے والدین اور اس کی بہن میری بھی اس موقعے پر موجود تھی اور صدمے سے اس کا برا حال تھا۔ قبر پر ایک کتبہ بھی نصب کردیا گیا جس پر صرف میکی کا نام کندہ تھا۔ وہ قبر شاید آج بھی اُسی حالت میں موجود ہو۔ اب بھی کبھی کبھار سرد اور تاریک راتوں میں نیم غنودگی کے دوران میکی کی، درد اور اذیت سے بھری آواز کی بازگشت میرے کانوں میں گونجنے لگتی ہے اور بے اختیار میری آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔‘‘
آغا وحید نے جب اپنی یہ کہانی ختم کی تو اس وقت بھی ان کی آنکھیں بھیگی ہوئی تھیں۔ صرف انہی کی نہیں، بلکہ کمال عباسی اور ان کی بیگم جو نہایت انہماک سے ان کی آپ بیتی سن رہے تھے، ان کی آنکھوں میں بھی نمی چھلک آئی تھی۔ ان تینوں کو اس کیفیت سے باہر آنے میں کئی لمحے لگ گئے جو بے حد طویل محسوس ہوئے۔
آخرکار آغا وحید نے آنکھیں پونچھیں اور جھرجھری سی لے کر اٹھتے ہوئے بولے۔ ’’اب میں چلتا ہوں۔ شاید جلد ہی میں کسی نئے سفر پر جائوں۔ اگر وہاں سے واپسی پر کوئی نئی کہانی میرے پاس ہوئی تو آپ لوگوں کو ضرور سنائوں گا۔‘‘ (ختم شد)