Qasoor Dil Ka Thaa | Teen Auratien Teen Kahaniyan

1933
جن دنوں میری منگنی خرم سے ہوئی، ساتویں میں پڑھتی تھی۔ وہ میری خالہ کا بیٹا تھا۔ اس کے والد، زمیندار عالم خان کے منشی تھے۔ زمینوں کا سارا حساب کتاب خالو، امجد کے پاس تھا۔
خالو دیانت دار شخص تھے۔ تب ہی زمیندار کی نظروں میں معتبر ہوئے۔ عالم خان ان پر بہت اعتبار کرتا تھا۔کہتا تھا مجھے امجد پر اپنی ذات سے بڑھ کر اعتبار ہے۔
جب کوئی اہم یا گمبھیر مسئلہ ہوتا تو میرے خالو کو بلا کر ان سے مشورہ ضرور کرتے۔ ایک روز ایسے ہی کسی معاملے میں خالو، زمیندار کے پاس جا رہے تھے کہ خرم کو بھی ہمراہ لے گئے۔
زمیندار نے مسئلہ بتا کر رائے مانگی۔ مسئلہ کچھ ایسا ٹیڑھا تھا کہ خالو ذرا دیر کو سوچ میں پڑ گئے، تبھی خرم نے کہا۔ چھوٹا منہ بڑی بات ہے لیکن اگر مالک اجازت دیں تو میں ناچیز اپنی تجویز پیش کروں ۔
ہاں۔ بیٹے کہو۔
خرم نے جو تجویز بتائی اس سے زمیندار کی ساری پریشانی جاتی رہی۔ اس نے کہا کہ بھئی۔ باپ سیر تو بیٹا سوا سیر… تم نے تو کمال تدبیر بتا دی ہے۔ یہ بات ہماری عقل میں کیوں نہ آئی؟ واقعی جوان ذہن کی بات ہی کچھ اور ہوتی ہے۔ تم بہت ذہین ہو۔ چاہتا ہوں کہ تم کھیتوں میں مشقت سے وقت نکال کر کچھ پڑھائی کو بھی ٹائم دو۔ تم جیسے ہونہار بچوں کو ضرور تعلیم حاصل کرنی چاہیے۔
آج عالم خان بہت اچھے موڈ میں تھا۔ اس نے جوش میں آ کر خرم کے لئے تعلیمی وظیفہ مقرر کردیا۔ خرم نے آٹھویں کے بعد تعلیم چھوڑ دی تھی۔ اس وظیفے کی بدولت دوبارہ پڑھائی شروع کر دی۔
جب کھیت کھلیان کی چاکری سے فرصت ملتی وہ کتابیں لے کر بیٹھ جاتا۔ تب ماں خوش ہو کر کہتی۔ ہائے میں نے یہی خواب اس کے لئے دیکھے تھے۔ آج اللہ نے رحم کیا اور میرا بچہ دوبارہ اسکول جانے لگا ہے۔ میرا رب اسے نظربد سے بچائے۔
خرم کا شوق دیکھ کر اسکول کے ہیڈ ماسٹر صاحب نے استاد شفقت کو ہدایت کردی کہ خرم دو سال تک اسکول نہیں گیا ہے، پیچھے رہ گیا ہے۔ تم اسے اسکول کے بعد ایک گھنٹہ پڑھا دیا کرو۔ استاد شفقت کا گھر خرم کے گھر سے دور نہ تھا اور ماسٹر صاحب ہمارے پڑوس میں رہتے تھے۔ ان کی بیٹی سدّو ہمارے ساتھ دو جماعتوں تک پڑھی تھی۔ وہ اور میں بچپن سے اکٹھا اسکول آتے جاتے تھے، تب سے دوستی تھی۔
سدّو نے تیسری میں اسکول چھوڑ دیا۔ لیکن ہماری دوستی باقی رہی، جب موقع ملتا میرے گھر آ دھمکتی۔ ہم دیر تک باتیں کرتے۔ تبھی اماں کہتی یہ سدّو نہ آیا کرے تو اچھا ہے۔ آجاتی ہے وقت خراب کرنے اور تم بھی سارے کام چھوڑ کر اس کے ساتھ باتیں کرنے بیٹھ جاتی ہو۔ مجھے یہ لڑکی ایک آنکھ نہیں بھاتی۔
اماں کے بار بار ٹوکنے سے اس نے آنا کم کر دیا۔ لیکن جب ملتی پہلے جیسی محبت سے۔ گائوں کے لوگ دوستی اور دشمنی میں واضح اور کھرے ہوتے ہیں۔ برا مان جائیں تو پھر منہ نہیں لگاتے لیکن منافقت نہیں رکھتے، یہی حال سدّو کا تھا۔ اس بار جب میں نے عید پر اسے لفٹ نہیں کرائی تو وہ برا مان گئی اور کئی دنوں تک مجھ سے بات نہ کی۔
ہوا یہ کہ عید کے دوسرے روز میں نے اپنی اسکول کی ہم جماعت لڑکیوں کی دعوت کی اور سدّو کو نہ بلایا ۔ اسے پتا چلا تو اپنے بھائی کو بھیج کر کہلوا دیا۔ میں تمہاری سویّوں کی بھوکی نہ تھی۔ لیکن مجھے پتا چل گیا ہے کہ تم نے مجھے ان لڑکیوں سے کم تر سمجھ کر نہیں بلایا ہے۔ آج سے میری تمہاری سنگت ختم ہو گئی۔
مجھے دکھ ہوا… جانے کیونکر اس کا خیال نہ آیا۔ ایسا جان کر نہ کیا تھا بھول ہو گئی اور سدّو کو منانا مشکل تھا۔ وہ خود آنے والی نہ تھی اور میں اس کے گھر جاتی نہ تھی۔ ابا سہیلیوں کے گھر جانے کی اجازت نہ دیتے تھے۔
یہ شہر نہ تھا ،گائوں تھا اور گائوں کے اپنے کچھ اصول ہوتے ہیں۔ پاس داری کرنا پڑتی ہے جو نہ کرے سارا گائوں تھو تھو کرتا ہے اور دشمنیاں ہو جاتی ہیں۔ بعض دفعہ تو محض شک کی بنیاد پر مجرم بنا دیا جاتا ہے تبھی سب ریت روایات کی پابندی کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔
ہمارے گائوں میں غیر مردوں کو گھر کے اندر بلانے کی ریت نہ تھی خواہ کتنا ہی قریبی رشتے دار یا دوست کیوں نہ ہو۔ بیٹھک میں بٹھاتے۔ گھر کے مرد ان کی تواضع اور مہمان داری کرتے، خواتین کو بیٹھک میں جانے کی اجازت نہ تھی۔
زمیندار کے گھر کے تو اور بھی سخت اصول تھے۔ مرد ملازم کا بیٹھک
اور ڈیرے تک آنا جانا رہتا۔ گھر کے اندر خادمائیں عورتیں ہی ہوتی تھیں۔
ایک روز کسی کام سے عالم خان نے جب خرم کو گھر کے اندر بلایا تو سب حیران رہ گئے۔ خرم میں ایسے کون سے سرخاب کے پر لگے تھے۔ وہ منشی کا بیٹا … اور مزارعے کا پوتا کہ اسے مالک نے گھر کے اندر بلایا تھا۔
زمیندار کے اہل خانہ پردہ کرتے تھے لیکن خرم سے ان کا پردہ بھی نہیں رہا۔ وہ اب خواتین خانہ کے کام بھی سرانجام دینے لگا۔
عالم خان کے بھائیوں کے گھر قریب تھے۔ انہوں نے خرم کو بڑے بھائی کے گھر میں آتے جاتے دیکھا تو چیں بہ جبیں ہو گئے۔ عالم خان بڑا بھائی تھا وہی رشتے داروں اور گائوں کے دیگر لوگوں کے جھگڑے نمٹاتا تھا۔ کسی کی جرأت نہ تھی کہ اسے روکتے ٹوکتے۔ عالم خان کے بھائی خون کا گھونٹ پی کر خاموش ہو گئے لیکن زمیندار کا بھتیجا عارف جواں سال لڑکا تھا۔ وہ خرم کو تایا کی نظروں میں معتبر پا کر سخت برہم تھا۔ اس کا بس نہ چلتا تھا کہ اس منشی زادے پر فائر کھول دے۔
جب غصہ باہر نہیں نکلتا اور دوزخ کی آگ کی طرح اندر ہی اندر لپٹیں مارنے لگتا ہے تو انسان کے وجود کو جلا کر خاکستر کر دیتا ہے۔ یہی حال عارف کا تھا۔ وہ ہر دم غصے سے کھولتا رہتا۔ اس نے خرم کے لئے اپنے دل میں دشمنی کا ایسا روگ پال لیا جس کا کوئی انت… کوئی کنارہ نہ تھا۔
ایک روز جب خرم، عالم خان کی زمین پر ٹیوب ویل چلانے گیا تو وہاں سدّو آ گئی، وہ ٹیوب ویل کے قریب بیری کے درخت سے بیر توڑنے لگی۔ اس نے دوچار چھوٹے چھوٹے پتھر بیری پر مارے مگر اس کی نظریں جن پکے سرخ بیروں پر تھیں پتھران کو نہ لگے۔ دوسرے بیر جو ابھی ٹھیک طرح پکے نہ تھے، پتوں کے ساتھ نیچے آ رہے۔ یہ منظر دیکھ کر خرم مسکرائے بغیر نہ رہ سکا۔ وہ نزدیک آ گیا اور بولا۔ سدّو ایسے تو تو بیری کے سارے پتے پتھر مار مار کر توڑ ڈالے گی، بیچارا درخت گنجا ہو جائے گا۔ اس نے ایک بڑا پتھر بیری کے نیچے رکھا اور اس پر چڑھ کر ہاتھ سے بہت سارے پکے پکے بیر توڑ کر سدّو کے پلو میں ڈالنے لگا یہاں تک کہ اس کا پلو بھر گیا۔ کافی ہیں یا اور توڑوں، بس بہت ہیں۔ کل آئوں گی پھر اور توڑ کر دینا۔
ٹھیک ہے تو اب جا، مجھے بھی کام کرنا ہے۔
خرم کو خبر نہ تھی کہ کچھ دوری پر نیم کے درخت کی اوٹ سے کوئی یہ سارا منظر دیکھ رہا ہے اور یہ اس کے ساتھ اللہ واسطے کا بیر رکھنے والا عارف تھا۔ وہ ایک تنگ ذہن لڑکا تھا۔ وہ ہر بات میں منفی پہلو نکال لیتا تھا۔ ہر بات کو غلط رنگ دیتا تھا۔ یہ اس کی شخصی کمزوری تھی لیکن یہاں تو معاملہ تھا خرم کا جس کو وہ گائوں میں جیتا جاگتا، چلتا پھرتا سانس لیتا دیکھنا نہ چاہتا تھا۔
اس نے جا کر زمیندار عالم خان کو بتایا کہ خرم اور سدّو کو اس نے نہایت واہیات انداز میں ٹیوب ویل کے پاس دیکھا ہے۔ اس نے اس بات کو ایسے غلط رنگ میں بیان کیا کہ لمحے بھر کو عالم خان کا چہرہ بھی غصے سے دہک اٹھا۔
اس نے خرم کو بلوایا، اور پوچھا۔ کیا تم فلاں وقت ٹیوب ویل پر تھے اور کیا وہاں ماسٹر کی لڑکی سدّو آئی تھی ؟
جی ہاں… خرم نے اثبات میں جواب دیا۔
وہ وہاں کیا کرنے آئی تھی؟
بیری سے بیر لینے آئی تھی۔ میںنے کچھ بیر توڑ کر اسے دے دیئے اور وہ چلی گئی۔
ٹھیک ہے… آئندہ احتیاط کرنا۔ گائوں کی لڑکیوں سے اکیلے میں ملاقات اور ان کے ساتھ ہنسنا، بولنا ٹھیک نہیں۔ خرم سر جھکائے سن رہا تھا۔ آئندہ کھیتوں میں گائوں کی لڑکی سے نہ ملنا اور نہ بات کرنا، اس طرح ہماری عزت پر حرف آتا ہے۔
آج عالم خان کے تیور پہلی بار اس نے تیکھے دیکھے تو سہم گیا۔ آئندہ کبھی آپ کو شکایت نہ ہو گی۔ وہ الٹے قدموں واپس آ گیا تو ماتھا پسینے سے شرابور تھا۔ سوچ رہا تھا ضرور کسی نے نمک مرچ لگا کر زمیندار سے یہ بات جڑی ہے ورنہ وہ تو ہمیشہ اس سے پیار سے بات کرتے تھے۔ پُتر اور بیٹا کہہ کر مخاطب کرتے تھے۔
تنبیہ تو خرم کو ہوئی تھی، سدّو بے خبر تھی۔ وہ اگلے دن پھر آ گئی اور خرم سے مُصر ہو گئی مجھے بیر توڑ کر دو۔ خرم کی جان جا رہی تھی پھر بھی اس نے لڑکی کا دل نہیں توڑا اور اسے بیری سے چند بیر توڑ کر دے دیئے۔
سدّو کے دل میں خرم کے حسن سلوک نے گھر کر لیا تھا۔ یہ ایسی عمر ہوتی ہے کہ محبت کرنے والے کو آنکھیں تلاش کرنے لگتی ہیں۔ سدّو کے دل میں خرم کی محبت نے وہ جادو جگا دیا تھا جس کا کوئی توڑ نہ تھا۔
وہ بہانے بہانے سے خرم کے تعاقب


گھر سے نکلنے لگی۔ جس قدر… خرم اس سے کتراتا وہ اسی قدر اس کی دیوانی ہوئی جاتی تھی۔ جہاں پابندیاں عشق کی آگ کو تیز کرتی ہیں، وہاں بے رخی بھی پیار کرنے والوں کوچیلنج کرتی ہے۔
خرم کی بے رخی نے سدّو کو یکطرفہ جنون میں مبتلا کر دیا اور یہ یکطرفہ عشق خطرناک حد تک بے خوف تھا۔ سدّو نڈر لڑکی نہ ہوتی تو مایوس ہو کر بیٹھ جاتی، لیکن آنسو بہانے کی بجائے اس نے خرم کو اپنی محبت کے واسطے دینے شروع کر دیئے۔ جہاں موقع ملتا، اسکول کے باہر، کھیل کے میدان میں یا پھر کھیتوں میں وہ اسے جا لیتی۔ اور کہتی مجھ سے کیا گناہ ہوا ہے۔ کیوں بات نہیں کرتے۔ دیکھو میں عورت ہو کر نہیں ڈرتی اور تم مرد ہو کر ڈرتے ہو۔ کیوںخوف زدہ ہو جاتے ہو۔
تمہاری عزت کے لئے خوف زدہ ہو جاتا ہوں، تم کہیں بدنام نہ ہو جائو۔ کسی مشکل میں نہ پڑ جائو۔ خدارا… میرے پیچھے مت آیا کرو۔ مجھے کام کرنے دو سکون سے۔ مجھے ابھی اور پڑھنا ہے، پڑھنے میں دھیان لگا رہنے دو میرا… وہ التجا کرتا۔
عارف جیسی فطرت رکھنے والوں کو تو جیسے ایک بہانہ چاہیے ہوتا ہے۔ اسے ٹارگٹ مل گیا تھا، عہد کر لیا جب تک خرم کو ذلیل نہ کروا دوں گا چین سے نہ بیٹھوں گا۔
اب زمیندار کے پاس روز ہی خرم کی شکایتیں پہنچنے لگیں۔ آخر اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ ایک دن جب وہ اپنی گاڑی میں گھر کی طرف آ رہا تھا اس نے سدّو کواس طرف دوڑ لگاتے دیکھا، جدھر ٹیوب ویل تھا۔ وہاں خرم ٹیوب ویل چلانے میں مصروف تھا۔ وہ گھر واپس لوٹ آیا اور خرم کو بلا بھیجا۔ اس کی بہت بے عزتی کی، یہی نہیں کھڑے کھڑے نوکری سے نکال دیا۔ اپنی زمینوں سے بھی نکل جانے کا حکم صادر کر دیا۔
اس بات سے خرم کی ہی نہیں خالو کی بھی بے عزتی ہو گئی کیونکہ گائوں کے لوگ خالو کی عزت اسی سبب کرتے تھے کہ زمیندار ان کی عزت کرتا تھا، وہ سارے گائوں کی نظروں میں گر گئے۔
خرم سے زیادہ خالو کو صدمہ تھا۔ انہیں یقین تھا کہ ان کا بیٹا ایسا نہیں ہے لیکن سارے گائوں میں عارف نے ایسا جھوٹ کا سحر پھونکا کہ ہر ایک کی زبان پر خرم کے لئے لعنت ملامت کے الفاظ تھے۔
زبانِ خلق کو نقارۂ خدا سمجھنے کے مصداق آخر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ سدّو کے چار جوان بھائی تھے۔ جب انہوں نے ہر ایک کی زبان پر سدّو اور خرم کا نام سنا تو وہ غصے میں آپے سے باہر ہو گئے۔ اپنے قریبی رشتے دار لڑکوں کو جمع کر کے ان نوجوانوں نے فیصلہ کیا کہ خرم کا کام تمام کر دیا جائے۔
رات کو جب خالو نے خرم کو گائوں سے کچھ دور پڑوسی زمیندار کے ڈیرے پر بھجوایا تھا، ان نوجوانوں نے اس کا پیچھا کیا، پڑوسی زمیندار نے اپنے کارندے سے کہا اس نوجوان کو تم کھیت میں بنے خالی کمرے میں چھپا دو۔ اس کمرے میں سردیوں میں بھینسوں کو، رات کے وقت ٹھنڈ سے بچائو کی خاطر باندھ دیا جاتا تھا اور گرمیوں میں کھل بنولے کی بوریاں رکھ دی جاتی تھیں۔ ایک طرف رکھوالے کی چارپائی پڑی ہوئی تھی۔ کاردار نے خرم کو اس کمرے میں ٹھہرا دیا اور کہا کہ صبح ہمارے مالک تمہارے زمیندار عالم خان سے بات کریں گے۔ فی الحال تم ادھر رات گزارو۔ کمرے میں چارپائی پر بستر موجود تھا۔
خرم چارپائی پر لیٹ گیا۔ اندر گرمی تھی۔ اس نے گرمی سے بچنے کے لئے دروازہ کھلا رہنے دیا، کیونکہ اس کے خیال میں اس کے والد نے پڑوسی زمیندار سے اس کے لئے پناہ کی درخواست کی تھی اور شہاب خان نے پناہ دے دی تھی تو اب اسے یہاں کوئی خطرہ نہ تھا۔
خرم نہ جانتا تھا کہ شیطانوں کی ایک ٹولی جن کو عارف نے بھڑکایا تھا، رات کے دوسرے پہر اس کے پاس آ پہنچے گی ورنہ وہ دروازہ بند کر لیتا۔ رات کے کسی پہر اچانک شور ہوا۔ بھینسوں کی رکھوالی کے لئے ملازم قریب ہی سو رہا تھا۔ شور سے اس کی آنکھ کھل گئی اور وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔ شور اس جانب سے آ رہا تھا جہاں اس نے کمرے میں خرم کو ٹھہرایا تھا۔ اس نے کلہاڑی اٹھا لی اور بجلی کی تیزی سے اس طرف بھاگا… کمرے کو انہوں نے اندر سے بند کر لیا تھا۔ اور وہ خرم کو لاٹھیوں سے مار رہے تھے۔ ملازم نے کلہاڑی سے دروازے پر بھرپور وار کر کے اسے آناً فاناً توڑ ڈالا۔
لالٹین کی مدہم روشنی میں اندر جو سماں تھا وہ ناقابل دید تھا۔ خرم اوندھا فرش پر پڑا ہوا تھا اور اس پر چار بندے تابڑ توڑ لاٹھیاں برسا رہے تھے جن چیخوں کو سن کر وہ ادھر آیا تھا وہ چیخیں بھی مدہم پڑتی جا رہی
تھیں۔
ملازم بہت تگڑا اور دلیر آدمی تھا۔ اس نے للکار کر ان وحشیوں کو روکا کہ شرم کرو یہ ہمارے مالک کا مہمان ہے۔ اسے پناہ دی گئی ہے۔ یہ امانت ہے۔ باز رہو، دور ہو جائو ورنہ کلہاڑی سے سب کے ٹکڑے کر دوں گا۔ شور سن کر دوسرے ملازمین بھی جاگ پڑے جو صحن میں نزدیک ہی چارپائیاں ڈالے سو رہے تھے۔ انہوں نے لوگوں سے خرم کو چھڑا لیا۔
صبح زمیندار کو اطلاع دی گئی اور زخمی خرم کو شہر کے اسپتال لے گئے۔ وہ وہاں ایک ماہ زیر علاج رہا۔ شہاب خان نے عالم خان سے بات کر کے اس مسئلے کو ختم کرا دیا۔ عالم خان نے سدّو کے بھائیوں کی سرزنش کی کہ تم لوگوں نے معاملہ اپنے ہاتھ میں کیوں لیا۔ کیا میں مر گیا تھا، اب میں تم کو تھانے میں گھسیٹوں گا، اپنی لڑکی کو نہیں سنبھال سکتے جو خود خرم کے پیچھے کھیتوں میں بھاگتی پھرتی ہے۔
عالم خان نے بالآخر خرم کو معافی دے دی کیونکہ خالو کی خدمات بہت زیادہ تھیں۔ گائوں والے بھی میرے خالو کی قدر کرتے تھے، ان کی حمایت میںتھے۔
اس واقعہ کے بعد میری شادی خرم سے ہو گئی اور ہم شہر آ بسے۔ میرے شریک زندگی بہت اچھے ہیں۔ وہ مجھے یقین دلاتے ہیں کہ میمونہ …سچ جانو، اس سارے معاملے میں میرا کوئی قصور نہیں تھا۔ قصور سدّو یا اس کے دل کا تھا مگر مجھے بہت دکھ اٹھانا پڑا۔
اب گائوں جانے کو جی نہیں چاہتا جہاں ایسے واقعات رونما ہو جاتے ہیں جو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیںہوتے۔
(م۔ ملتان)